Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 28) Part - 2
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 28) Part - 2
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
” تھینک گاڈ پیپر ختم ہوئے ” زینب اور عنایہ دونوں کلاس سے باہر آرہی تھیں جب زینب نے کہا۔
“ہاں! اس بار تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے ” عنایہ نے بھی تبصرہ کیا۔
” بس اب ایک سال مزید اس کے بعد پڑھائی کو بائے بائے” زینب نے مزے سے کہا تھا۔
” دو سمیسٹر ” عنایہ نے اس کی اور مڑ کر دیکھا۔
” ہائے ہائے ایک کم لگتا ہے کیوں دو بول کر میرا دل جلا رہی ہو ” عنایہ اس کی بات پر ہنسی دی۔
” تمہیں بہت جلدی ہے نا شادی جو کرنی ہے ” عنایہ نے اسے چھیڑا۔
” دفعہ ہو جاؤ۔۔۔۔اس وجہ سے نہیں کہا میں نے ” زینب نے منہ بنایا۔
” ہائے میری پیاری بنو شرما رہی ہے ” عنایہ نے پھر سے چھیڑا تو زینب نے اسکے بازو پر تھپڑ رسید کیا۔ دونوں اب باہر گراؤنڈ کی طرف آچکی تھیں۔
” تمہاری ہوگی نا تو دیکھنا کیسے چن چن کر بدلا لوں گی” عنایہ مسکرائی تو وہیں نظر سامنے کیف پر گئی جو کچھ لڑکوں کے ساتھ باسکٹ بال کھیل رہا تھا۔
کیف جو بال کو باؤنس کررہا تھا ایک دم رکا، کسی احساس کے تحت اس نے نگاہیں اٹھا کر یہاں وہاں دیکھا تو تھوڑے ہی فاصلے پر عنایہ کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ زینب کی بات کے زیر اثر وہ ایک ٹرانس سی کیفیت میں اسے تک رہی تھی۔ دونوں کی نظریں ملیں تو کیف نے آنکھ ماری جس پر عنایہ ایک دم ہوش میں آئی تھی۔ وہ اپنی اس کیفیت پر خجل سی ہوئی اور زینب کو چلنے کا کہا۔
*********************
صائمہ بیگم دوپہر کے کھانے کیلئے نہاری بنا رہی تھیں۔ نور بھی ان کے ساتھ کچن میں موجود تھی۔ نور کے ہاتھ میں ایک نوٹ بک اور پنسل تھی۔ صائمہ بیگم ساتھ ساتھ اسے گروسری کرنے والی چیزیں نوٹ کروا رہی تھیں۔ نور اور منال کے فائنل ہونے والے تھے اس لیے ان کا کالج سے آف ہوچکا تھا۔
” ماما میں سوچ رہی تھی ہمارے گھر میں بھی کوئی شادی ہو ” نور نے لکھتے لکھتے ایک دم کہا تھا۔
” اچھا! تو تمہارے بھائی کی شادی کر دیتے ہیں ” صائمہ بیگم نے ہانڈی پر چمچ چلاتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا۔
” کیا بھائی کی ؟ ” نور نے ایک دم رک کر اپنی ماں کی پشت کو دیکھا۔
” ہاں حیدر کی ” نور تو عنایہ کی وجہ سے کہہ رہی تھی لیکن اپنے بھائی کی شادی کا سوچ کر اس کی آنکھیں چمکیں۔
” میں تو بھول ہی گئی بھائی کی شادی بھی تو کرنی ہے “
” کیوں تم اپنی شادی کا سوچ رہی تھی ” اپنی ماں کی بات پر وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔
” نہیں! میں تو آپی کی شادی کا کہہ رہی تھی ” نور ہنستے ہنستے بولی۔
” تو عنایہ کی بھی تو کر رہے ہیں۔۔۔۔۔حیدر اور عنایہ کی ” ان کی بات پر نور کی ہنسی کو بریک لگی۔
” کک۔۔۔کیا کس کی شادی ؟ ” نور نے پوچھا۔ اس لگا اسے سننے میں کوئی غلطی لگی ہے۔
” ارے پاگل لڑکی تمہارے بھائی حیدر کی شادی عنایہ سے ہی تو ہوگی “
” کیا ؟؟؟ آپی اور بھائی کی شادی ” نور ایک دم شاک میں چلائی تھی اور کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ صائمہ بیگم نے مڑ کر غصے سے بھری نظر اس پر ڈالی۔ اس کے ایک دم چیخنے پر انہیں غصہ آیا تھا۔
*********************
نور پریشانی میں گیٹ کے پاس ہی یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہی تھی۔ وہ بے صبری سے عنایہ کا یونیورسٹی سے واپسی کا انتظار کر رہی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا یہ ایک دم سے بھائی اور آپی کی شادی کہاں سے آگئی۔ تبھی گیٹ پر ہارن بجنے کی آواز پر چوکیدار نے گیٹ کھولا تو عنایہ اندر آتی اسے نظر آئی۔ نور جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئی۔
” آپی مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے اندر چلیں ” وہ عنایہ کا ہاتھ تھام کر اسے اندر لے جانے لگی اور عنایہ ارے ارے کہتی رہ گئی۔
**********************
نور عنایہ کو سب بتا چکی تھی جسے سن کر عنایہ کچھ بول ہی نہیں پائی۔ یہ بات اس کیلئے بالکل غیر متوقع تھی۔ اس کا دماغ اسے بارے میں سوچ سوچ کر تھک چکا تھا۔ دفعتاً اس کا فون بجا تو اس نے کال پک کی۔
” عنایہ تم ریڈی ہوگئ؟ کتنی دیر میں نکلو گی ؟ ” زینب نے اس کے کال ریسیو کرتے ہی کہا۔ جبکہ عنایہ بھول چکی تھی انہوں نے آج شام باہر گھومنے کا پلان بنایا تھا۔
” زینب! بہت بڑی پرابلم ہوگئی ہے ” عنایہ کی پریشان آواز پر دوسری طرف زینب جو کان میں ائیرنگ پہن رہی تھی چونکی تھی۔
” کیا ہوا عنایہ سب ٹھیک تو ہے ” زینب نے پوچھا۔
” میں کال پر نہیں بتا سکتی۔۔۔۔۔تم گھر سے نکلو میں بھی تھوڑی میں نکل رہی ہوں وہیں آکر بتاتی ہوں ” عنایہ نے کہہ کر فون بند کیا اور واشروم میں فریش ہونے چلی گئی۔
*********************
یہ منظر اسلام آباد کے ایک خوبصورت سے ریستوران کا تھا۔ اوپن ائیریا میں ڈائینگ یہ ریستوران وہ ہی تھا جہاں کیف اور عمر اکثر آتے تھے۔ ایک ٹیبل پر نظر ڈالیں تو وہاں کیف عمر اور عنایہ زینب موجود تھے۔ عنایہ بالکل غیر آرام دہ بیٹھی تھی۔ اس نے سوچا تھا وہ یہاں آئے گی اور زینب سے بات کرے گی لیکن یہاں وہ جب پہنچی تو کیف اور عمر پہلے ہی آچکے تھے۔ وہ عجیب کشمکش کا شکار تھی۔ عمر کوئی قصہ سنا رہا تھا جس ہر سب ہنسے تھے سوائے عنایہ کے کیونکہ اسکا دھیان کہیں اور تھا۔ کیف با خوبی عنایہ کے رویے کو نوٹ کررہا تھا۔ وہ کسی گہری سوچ میں گم تھی۔ اور پریشانی اس کے چہرے پر صاف عیاں تھی۔
” اوہ میرا فون گاڑی میں رہ گیا میں ذرا لے کر آتی ہوں ” زینب کو اچانک یاد آیا تو اٹھ کر جانے لگی جب عنایہ بھی بول پڑی۔
” ہاں چلو میں تمہارے ساتھ چلتی ہوں ” اسے تو موقع مل گیا تھا۔ کیف نے سرسری سی نظر دونوں پر ڈالی جو دونوں باہر پارکنگ کی طرف جا رہی تھیں۔
***********************
باہر زینب کی گاڑی کے پاس عنایہ اور زینب کھڑے تھے۔ عنایہ زینب کو سب بتا چکی تھی۔
” تو پھر اب کیا کرو گی عنایہ؟ ” زینب نے پوچھا۔
” زینب مجھے خود سمجھ نہیں آرہا۔۔۔جب سے مجھے یہ بات پتہ چلی ہے میرا دماغ ماؤف ہوچکا ہے۔۔۔۔یہ بات یوں اچانک کہاں سے آگئی ؟ ” وہ صحیح معنوں میں پریشان تھی۔ زینب نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
” تم پریشان مت ہو کوئی نا کوئی حل ضرور نکل آئے گا ” زینب نے اسے تسلی دی تھی۔
” یہ اتنا آسان ہے ؟ میں بے بس ہوں زینب! جب ماموں ممانی اتنی آس سے مجھ سے پوچھیں گے تمہے لگتا ہے میں انہیں انکار کر پاوں گی ؟ کیا میں کہہ پاؤں گی کہ میں کسی اور سے محبت کرتی ہوں ؟ میں انہیں کبھی کوئی دکھ دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی “
” تو کیا تم چپ چاپ حیدر سے شادی کیلئے ہاں کر دو گی؟ ” زینب کے پوچھنے پر عنایہ چند ثانیے اسے دیکھے گئی۔ اس کی خاموشی پیچھے کھڑے کیف کو بہت کچھ باور کرا گئی تھی۔ وہ ان دونوں کے پیچھے ہی باہر آیا تھا اور سب سن چکا تھا۔ کیف ایک دم غصے سے بھرا آگے بڑھا اور عنایہ کا بازو تھام کر اسے اپنی طرف موڑا۔ زینب نے کیف کو دیکھا تو دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیے جبکہ عنایہ کے چہرے کا رنگ اڑا۔ اس کے دونوں بازو سختی سے تھام کر اس کا چہرہ اپنے قریب کرتے وہ خطرناک تیوروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” چپ کیوں ہو ہاں ؟ ذرا میں بھی سنوں کیا کرو گی تم ؟ ویسے تمہاری یہ چپ ہی کافی ہے مجھے یہ بتانے کیلئے کہ تم غالباً ہاں کرنے کا ارادہ رکھتی ہو۔۔۔ہے نا ؟ “
کیف میری بات سنو ” عنایہ نے دھیمے سے کہا۔
” جو سن چکا ہوں وہ کافی ہے ” اس نے سرد لہجے میں جواب دیا۔
” تم غلط سمجھ رہے ہو ” عنایہ نے وضاحت دینی چاہی۔
” اگر تم نے مجھ سے بے وفائی کرنے کا سوچا تو جان سے ماڑ ڈالوں گا تمہیں ” عنایہ کو کسی بھی وضاحت کا موقع دینے کی بجائے وہ شعلہ بار آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ کرخت لہجے کے ساتھ اس کی گرفت بھی عنایہ کے بازوؤں پر سخت ہوئی۔
” ایسا کچھ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔” اس سے پہلے وہ بات مکمل کرتی کیف بول پڑا۔
” تم میرے علاوہ کسی کی بھی نہیں ہو سکتی۔۔۔۔۔تم صرف میری ہو صرف میری۔۔۔ہمارے درمیان اگر کوئی بھی آیا تو اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا ” کیف کے اس قدر جنون پر عنایہ بے یقینی سے اسے تکے گئی۔ کیف نے اسے جھٹک کر چھوڑا جس سے وہ گرتے گرتے بچی تھی لیکن کیف بنا پرواہ کیے وہاں سے جاچکا تھا۔ زینب نے جلدی سے آگے بڑھ کر عنایہ کو سنبھالا تھا۔
**********************
” یہ تو بہت بڑا مسئلہ ہے کیف ” عمر نے نے ساری بات جان کر تبصرہ کیا۔
” جانتا ہوں ” کیف نے کہا۔
” تو پھر کیا کرنے کا سوچا ہے؟ ” عمر نے پوچھا۔ کیف نے ایک نظر عمر کو دیکھا اور پھر پرسوچ نگاہیں سنسان سڑک پر جما لیں۔ جہاں گاڑی روکے دونوں کھڑے تھے۔
” جو بھی میں کروں گا مجھے تیری مدد چاہیے ہوگی “وہ گاڑی سے ٹیک لگائے بولا۔ عمر بھی اس کے پاس ہی ٹیک لگائے کھڑا تھا۔
” تو فکر نا کر میں تیرے ساتھ ہوں ” عمر نے اپنا ہاتھ اسکے کندھے پر رکھا۔
**********************
کیف عنایہ کو اپنے ساتھ لیے یونیورسٹی سے نکلا تھا۔ وہ گاڑی ڈرائیو کررہا تھا اور عنایہ اس کا چہرہ دیکھ کر اندازہ لگا رہی تھی کہ وہ کل والی بات پر ابھی بھی غصہ تھا یا نہیں۔ اپنے ساتھ تو یہ ہی کہہ کر لایا تھا کہ کوئی بات کرنی ہے۔ عنایہ نے اپنی نظریں اس کے چہرے سے ہٹا کر باہر دیکھنا شروع کردیا۔
” ہم کہاں جارہے ہیں ؟ ” بالا آخر اتنی دیر کے بعد اس نے پوچھ ہی لیا۔
” نکاح کرنے ” یہ دو لفظ کہنے کی دیر تھی عنایہ واپس سے اس کی اور پلٹی تھی۔
” فضول میں مذاق مت کرو کیف “
” یہ مذاق نہیں ہے۔۔۔ہم نکاح کررہے ہیں ” کیف ایسے ہی سنجیدگی سے ڈرائیو کرتا بولا تو عنایہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی۔
” گاڑی روکو ” عنایہ ایک دم سپاٹ سے لہجے میں بولی۔
” یہ تو اپنی منزل پر ہی جا کر رکے گی “
” کیف گاڑی روکو ورنہ میں کود جاؤں گی ” عنایہ نے دھمکی دی جو کاردار ثابت ہوئی اور کیف نے گاڑی روک دی لیکن جیسے ہی عنایہ گاڑی سے نکلنے لگی کیف اسکا ہاتھ پکڑ گیا۔
” ہاتھ چھوڑو میرا ” وہ روہانسی ہوئی۔
” میری بات سنو عنایہ ” کیف نے کہا۔
” نہیں سنوں گی۔۔۔تم میرے ساتھ ایسا کیسا کرسکتے ہو ؟ یہ سب کیا ہے کیف ؟ ” وہ اس کی اور دیکھتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔
” یہ ہی سمجھانا چاہتا ہوں ناؤ پلیز میری بات دھیان سے سنو ” عنایہ اب چپ بیٹھی تھی۔
” دیکھو عنایہ تمارے گھر والے تم سے اس شادی کے متعلق پوچھیں گے تو یقیناً تم انہیں انکار نہیں کر پاؤ گی کیونکہ وہ تمہارے ماموں ممانی ہیں تمہارے سگے ماں باپ نہیں جن سے تم یہ کہہ سکو کہ تم اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتی ہو۔۔۔۔۔ان کے بہت سارے احسانات ہیں تم پر ” وہ اپنی بات جاری رکھتا اس سے پہلے ہی عنایہ بول پڑی۔
” میں بات کروں گی کیف مجھے یقین ہے کوئی نا کوئی حل نکل آئے گا لیکن یہ میں بالکل نہیں کروں گی ” وہ قطعیت سے بولی۔
” اچھا! اوکے مان لیتا ہوں کہ وہ مان جائیں گے لیکن میں پھر بھی کوئی رسک نہیں لے سکتا۔۔۔۔۔دیکھو ہم یہ نکاح کریں گے لیکن اس بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتائیں گے “
” میں یہ نہیں کروں گی ” اس نے کیف کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سختی سے کہا تھا۔ کیف کو غصہ آیا لیکن ضبط کرگیا کیونکہ اس وقت عنایہ کو صرف پیار سے ہی قائل کیا جاسکتا تھا۔
” عنایہ! دیکھو جیسے ہی ہماری سٹڈیز کمپلیٹ ہوں گی میں اپنے پیرنٹس کو تمہارے گھر بھیجوں گا تب تک تمہارے پاس بھی وقت ہوگا تم کسی سے بھی اس بارے میں بات کرکے انہیں منا لو “
” لیکن اس کیلئے ضروری نہیں ہے کہ ہم نکاح کریں ” وہ بضد تھی۔
” ڈونٹ یو ٹرسٹ می ؟ ” کیف نے اس سے پوچھا۔ عنایہ اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
” آئی ڈو! لیکن کیف میں کیسے یہ کرسکتی ہوں اگر ماموں یا حیدر کو پتہ چل گیا وہ کیا سوچیں گے میرے بارے میں ؟ “
” میں نے کہا نا اس بارے میں کسی کو نہیں پتہ چلے گا “
” لیکن نکاح ہی کیوں ؟ ” وہ سخت پریشان نظر آرہی تھی۔
” اس لیے کہ اگر انہوں نے تم پر دباؤ ڈال کر زبردستی تمہاری شادی اپنے بیٹے سے کروانی چاہی تو وہ نہیں کرپائیں گے کیونکہ تم میرے نکاح میں ہوگی “
” تم پاگل ہوگئے ہو کیف وہ میرے ماموں ہیں وہ ایسا کبھی نہیں کریں گے “
” اوکے وہ نہیں کریں گے کیونکہ وہ تمہارے ماموں ہیں لیکن میرے کچھ نہیں اس لیے میں تمھے کبھی بھی کسی کے بھروسے نہیں چھوڑ سکتا اور اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے تو میری بات ماننی پڑے گی ” کیف نے دو ٹوک کہا جبکہ عنایہ اسے دیکھے گئی۔
” کیف پلیز مجھے کسی امتحان میں مت ڈالو ” عنایہ کا دل بھر آیا تھا۔ وہ یہ کس مسئلے میں پھنس چکی تھی۔
” آئی نو یہ مشکل ہے لیکن میرے لیے پلیز عنایہ ” کیف اس کے دونوں بازوؤں سے تھام کر التجا کی تھی۔
********************
کیف اسے اس کمرے میں چھوڑ خود جا چکا تھا اور تب سے لے کر اب تک وہ روئے جارہی تھی۔ دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں سے اپنا دوپٹہ دوبوچے آنسو بہا رہی تھی جب کمرے کا دروازہ کھلا اور زینب اندر آئی۔ عنایہ نے زینب کو دیکھا تو جلدی سے اٹھ کر اسکے پاس گئی۔
” زینب میری پیاری بہن تم آگئی ” وہ روتے ہوئے بولی۔
” عنایہ تم رو کیوں رہی ہو ؟ ” زینب پریشان ہوئی اسے دیکھ کر۔
” زینب پلیز کیف کو سمجھاؤ اسے کہو میرے ساتھ ایسا نہیں کرے۔۔۔۔۔میں بات کروں گی حیدر سے مجھے یقین ہے وہ مان جائے گا۔۔۔۔۔لیکن میں یہ نہیں کرسکتی زینب۔۔۔۔میں کیسے اپنے جان سے پیارے رشتوں کو یہ دھوکا دے سکتی ہوں۔۔۔۔۔پلیز تم کیف سے بات کرو ” وہ ہزیانی انداز میں کہہ رہی تھی۔ زینب کو اسکی حالت پر رحم آیا تو اسکے گلے لگ گئی۔
” عنایہ تم کیف کو جانتی تو ہو نا وہ کبھی نہیں مانے گا ” عنایہ نے کچھ نہیں کہا تو زینب مزید بولی۔
” عنایہ تم لوگ کوئی گناہ نہیں کررہے نکاح ہی تو ہے اور کیف نے وعدہ کیا کے وہ کسی کو نہیں پتا چلنے دے گا تو یقین کرو اس پر ” عنایہ واپس صوفے پر جا بیٹھی۔ یہ گھر عمر کا تھا جہاں کیف اسے لایا تھا۔ وہ یہ سب عمر کے ساتھ رات کو ہی پلان کر چکا تھا۔ دفعتاً کمرے کا دروازا کھلا اور اس بار اندر آنے والا عمر تھا۔ اس نے زینب کو اشارہ کیا تو زینب نے آگے بڑھ کر عنایہ کے سر پر اسکا ڈوپٹہ اوڑھا۔ عمر نکاح کے کاغذات لیے اس کی جانب گیا۔ عنایہ نے آنسوؤں سے بھری آنکھیں اٹھا کر عمر کو دیکھا جیسے کوئی آخری آس۔۔۔۔۔شاید وہ کچھ کردے اس کیلئے۔ عمر کو بہت دکھ ہوا اسے یوں دیکھ کر اس نے پیپر اسکی گود میں رکھے اور اس کے ہاتھوں میں پین دیا۔ عنایہ نے کانپتے ہاتھوں سے پین تھاما تو عمر نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے حوصلہ دیا جیسے کسی اپنے کے ہونے کا احساس دلایا۔ عنایہ نے ایک پل کیلئے آنکھیں میچ لیں پھر آنکھیں کھول کر کانپتے ہاتھوں سے سائن کردیے۔
***********************
نکاح ہو چکا تھا۔ عنایہ کیف کی ہو چکی تھی۔ زینب عنایہ کو سنبھال رہی تھی جس نے رو رو کر خود کو ہلکان کرلیا تھا۔ کیف کمرے میں آیا تو عنایہ کو دیکھا جو زینب کے کندھے پر سر رکھے ہوئے تھی۔ زینب نے عنایہ کو کیف کا آنے کا کہا اور خود اٹھ کر کمرے سے نکل گئی۔ کیف آگے بڑھ کر گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا۔ عنایہ نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا تو متورم روتی آنکھیں کیف کو لب بھینچنے پر مجبور کرگئیں۔
” آئی ہیٹ یو ” عنایہ نے بھاری روئی آواز میں کہا تو کیف ہنس دیا۔
” بٹ آئی لو یو ” کیف نے جواباً مسکرا کر کہا تھا۔
” مجھے گھر جانا ہے ” عنایہ نے کہا تو کیف نے سر کو اثابت میں ہلایا۔
***********************
