Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 44)
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 44)
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
اپنے فلیٹ میں داخل ہوتے ہی اس نے ساری لائٹس آن کی تھیں۔ پورا لاونج روشنی سے جگمگا گیا۔ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی وہ صوفے تک گئی اور اپنا دوپٹہ اور بیگ اتار کر وہیں رکھا۔ وہ غائب دماغی اور خالی خالی نظروں سے یہاں وہاں دیکھنے لگی۔ یہ دو کمروں کا چھوٹا سا فلیٹ تھا جہاں وہ نادیہ کیساتھ تین سال پہلے شفٹ ہوئی تھی۔ عنایہ نے جب جاب شروع کی تھی اس کے پانچ ماہ بعد ہی اس نے وہ محلہ چھوڑ دیا تھا۔ وہ آنٹی کو اپنے ساتھ لیے اس پوش علاقے میں آگئی تھی جہاں اس تین منزلہ بلڈنگ میں ایک چھوٹا مگر خوبصورت سا فلیٹ اس نے رینٹ پر لیا تھا۔ اس کی ماہانہ تنخواہ تو اتنی تھی ہی کہ وہ آرام سے اسکا کرایہ ادا کرسکے۔ ایکدم سے بیتے دن اس کے ذہن میں بازگشت کرنے لگے۔ آنٹی کیساتھ گزارے آخری دن۔
وہ اور آنٹی ایک دن یوں ہی رات کا کھانا کھانے کے بعد ٹی وی پر کوئی ڈرامہ دیکھ رہے تھے جب عنایہ نے کسی خیال کے تحت ٹی وی کی آواز آہستہ کی اور اپنی توجہ ان کی جانب مبذول کی۔
” آنٹی زندگی کتنی عجیب ہے نا ؟ ” وہ ان سے استفسار کرنے لگی۔
” اور تمھے کیوں ایسا لگا ؟ ” وہ بھی اس کی جانب متوجہ ہوچکی تھیں۔ جھریوں زدہ چہرے پر نظر کی عینک لگائے، اپنے گرد شال اوڑھے وہ بہت کمزور رہنے لگی تھیں۔
” آپ کی اور میری زندگی ایک جیسے ہی تو ہے نا ؟ آپ کے والدین بھی نہیں تھے اور میرے بھی، آپ نے اپنی پسند سے شادی کی اور میں نے بھی ایسے ہی ایک غلطی کی۔۔۔۔۔۔ آپ نے بھی تنہا عمر گزاری اور اب میں بھی تنہا ہی ہوں۔۔۔۔۔۔آپ کی زندگی میں ماموں جیسے بھائی تھے اور میری ذندگی میں ماں جیسی خالہ یعنی آپ ہیں۔ آپ کو بھی محبت میں دھوکہ ملا اور۔۔۔۔۔” وہ ذرا توقف بھر رکی تھی۔
” اور مجھے بھی۔ کتنا عجیب ہے نا یہ سب ؟ اور آپ نے میرے بچپن میں خواہش کی تھی کہ میں آپ کے پاس رہ جاؤں لیکن یہ نہیں ہو سکا اور اب قسمت کا کھیل دیکھیں میں آپ کے پاس آگئی ہوں ہمیشہ کیلئے۔ کیا آپ نے سوچا تھا کہ آپ کی یہ خواہش اس عمر میں جا کر کہیں نا کہیں پوری ہو جائے گی ؟ ” وہ اب ان سے پوچھ رہی تھی۔ اس کی ساری بات توجہ سے سنتی نادیہ اس کے پوچھنے پر جواباً مسکرائی تھیں۔
” اس کا مطلب تو یہ ہوا نا کہ میری تم سے محبت اتنی گہری تھی جو تمھے میرے پاس کھینچ لائی ” ان کی بات پر وہ دل کھول کر مسکرائی تھی۔
” بالکل اس میں تو کوئی شک نہیں اور میں آپ کو کبھی کھونا نہیں چاہتی آنٹی ” وہ ان کے قریب ہوئی اور اپنا سر ان کے کندھے پر رکھ کر بولی تو وہ اس کی بات پر افسردہ سا مسکائی لیکن اس کی باتوں سے کہیں اندر ہی اندر وہ پریشان تھیں۔
یہ اس رات کا واقع تھا جب وہ سونے کیلئے لیٹنے ہی لگی تھی کہ نادیہ اچانک سے اس کے کمرے میں آئیں تھی۔ انہیں نیند نہیں آرہی تھی تو وہ اس کے پاس آگئیں۔ دونوں بہت دیر تک باتیں کرتی رہی تھیں۔
” عنایہ ! میں کچھ کہوں گی اسے دھیان سے سننا میرے بچے اور سمجھنا ” اچانک سے وہ اس کے ہاتھ تھام کر گویا ہوئی۔
” دیکھو زندگی ہر وقت ایک جیسے نہیں رہتی ضروری نہیں کہ میں نے جیسے تنہا عمر کاٹی ہے تم بھی ایسے ہی گزارو اور بیٹا عورت کیلئے اس معاشرے میں تنہا زندگی گزارنا بہت کٹھن ہوتا ہے۔ وہ تو میری خوش قسمتی تھی کہ فیصل بھائی نے مجھے سہارا دیا اور میں جس محلے میں رہتی تھی مجھے وہاں اچھے ہمسائے مل گئے جنہوں نے میرا بہت ساتھ دیا۔ مجھے نوکری کیلئے گھر سے نکلنا نہیں پڑا۔ میں وہیں لوگوں کے کپڑے سلائی کرتی تھی اور محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر گزارا کرتی تھی لیکن تم باہر نکلتی ہو نوکری کیلئے تمھے سو طرح کی دشواریاں پیش آسکتی ہیں۔ اور میں نہیں چاہتی کہ تم کسی بھی مشکل میں پڑو۔ اور اب میں تو ساری زندگی تمہارے ساتھ نہیں رہوں گی نا مجھے ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہے ” وہ رسانیت سے کہہ رہی تھی کہ ان کی آخری بات پر عنایہ کا دل لرزہ تھا۔
” آنٹی ایسے کیوں کہہ رہی ہیں ؟ اللّٰہ نا کرے کہ آپ کو کچھ ہو ” عنایہ تو ان کے بنا اپنی زندگی تصور بھی نہیں کرسکتی تھی۔ ان کے پیار نے اور ممتا بھرے احساس نے عنایہ کو اپنا بنا لیا تھا۔
” یہ حقیقت ہے تمھے اسے تسلیم کرنا ہوگا۔ میں نہیں چاہتی کہ تم تنہا زندگی بسر کرو۔ اس لیے کہہ رہی ہوں چھوڑ دو اپنی ضد اور اپنے گھر واپس چلی جاؤ “
” نہیں! میں واپس نہیں جاؤں گی کیونکہ میرا اب وہاں کوئی منتظر نہیں۔۔۔ میرا تعلق صرف میرے ماموں سے تھا وہ نہیں رہے تو میرا اس گھر سے کوئی تعلق نہیں رہا کیونکہ مجھے اگر اپنا سمجھا جاتا تو مجھے کبھی اس گھر سے نکلا نا جاتا ” وہ ضدی لہجے میں بولی۔
” اور کیف؟ اس سے تو تمہارا تعلق ہے نا ” اس کے ذکر پر عنایہ اپنے لب بھینچ گئی۔
” اگر وہ تمہارے پاس واپس آئے تو اسے ایک موقع ضرور دینا بیٹا کیونکہ میں جانتی ہوں جیسے تم سمجھ رہی ہو ویسا نہیں ہے۔ اکثر تو آنکھوں دیکھا بھی سچ نہیں ہوتا اور یہ تو پھر تم سے کسی نا آکر کہہ دیا اور تم نے مان لیا “
” آپ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہیں ؟ میں نے اسے کال کی تھی اور اسکا فون نتاشہ نے سنا تھا۔ وہ اتنی دیر رات کیا کررہی تھی اس کیساتھ ؟ اس کا اور کیا مطلب ہوسکتا ہے آنٹی ؟ “
” یہ سب تو نہیں جانتی لیکن اتنا ضرور کہوں گی اسے اس کے حصے کا سچ کہنے کا موقع ضرور دینا ” انہوں نے اسے تلقین کی تھی۔
” اور میری بات پر غور ضرور کرنا اور یہ میری آخری خواہش سمجھو کہ میں چاہتی ہوں تم واپس چلی جاؤ” انھوں نے دھیمے سے کہا۔
” آنٹی آپ اچانک یہ سب باتیں کیوں کررہی ہیں ؟ ” ان کی باتوں سے صحیح معنوں میں اسکا دل گھبرایا تھا۔
” بس آج دل چاہا کہ کہہ دوں پھر ناجانے موقع ملے یا نا ملے ” وہ اداس سا بولیں تو عنایہ فوراً سے ان کے سینے لگ گئی۔ اور اس رات ان کے کمرے سے جانے کے بعد سے وہ سو نا سکی تھی۔ دل میں عجیب وسوسے اور اندیشے سر اٹھانے لگے۔ صبح فجر کی نماز کے بعد بھی جب اس کے دل کو سکون نا ملا تو وہ ان کے کمرے میں ان کے پاس چلی گئی تو وہ وسوسے اور اندیشے حقیقت بنے اس کے سامنے تھے۔ آنٹی اسے تنہا چھوڑ کر اس دنیا سے جا چکی تھیں۔ عنایہ کو اتنا گہرا صدمہ ہوا تھا کہ ان کے جانے کے بعد کتنے ہی دن وہ بیمار رہی تھی۔
اس رات کا سوچ کر اس کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں۔ وہ صوفوں کے درمیان رکھے سینٹر ٹیبل کیساتھ نیچے فرش پر بیٹھی تھی۔ دماغ نے اب کام کرنا شروع کیا تھا۔
اسے کیا کرنا چاہیے؟ کیا وہ جاب چھوڑ دے ؟ کیا وہ پھر سے کہیں چلی جائے جہاں وہ اسے ڈھونڈ نا سکے۔ ان گنت سوال اس کے ذہن میں اٹھنے لگے۔ اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا تو وہ اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام گئی۔
” میں یہ کیسے کروں گی ؟ کہاں جاؤں گی کب تک بھاگوں گی ؟ میں نہیں کرسکتی یہ سب۔ میں اتنی بہادر اتنی مضبوط نہیں ہوں ” وہ خود سے بڑبڑا رہی تھی۔ ناجانے کتنے لمحے وہ وہیں بیٹھی مختلف سوچوں میں گھری رہی تھی۔
*********************
ایک کشادہ صاف سڑک پر سٹریٹ لائٹس جل رہی تھیں۔ وہ اپنی گاڑی کر اندر بیٹھا سامنے بلڈنگ کی سمت دیکھ رہا تھا جہاں عنایہ رہتی تھی۔ اس کی سی وی پر یہیں کا ایڈریس لکھا تھا اور اسکا نیا فون نمبر بھی کیف حاصل کر چکا تھا۔ باقی تفصیل کے مطابق اس کے مینیجر نے بتایا تھا کہ یہاں وہ اپنی خالہ کیساتھ رہتی تھی جو عموماً اس کی محروم والدہ کی دوست تھیں۔ اور انکا انتقال ایک مہینہ پہلے ہوا تھا اسی وجہ سے وہ ایک مہینے سے لیو پر تھی۔ سامنے نگاہیں مرکوز کیے وہ مسلسل کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ دل تو چاہ رہا تھا ابھی گاڑی سے نکلے اور اس کے پاس جا کر اسے اپنے سینے سے لگا لے لیکن پانچ سال ان کے درمیان حائل تھے۔ دل بے قرار تھا اسے ایک بار پھر دیکھنے کیلئے مگر چاہ کر بھی وہ یہ نہیں کرسکتا تھا کیونکہ بہت ساری باتیں تھیں جو کہنی تھیں بہت شکوے تھے جو کرنے تھے۔ کیف نے گہری سانس ہوا کے سپرد کی اور گاڑی سٹارٹ کرتا اب واپس اسلامآباد جارہا تھا۔
********************
یہ منظر صائمہ بیگم کے کمرے کا تھا جہاں وہ جائے نماز پر کھڑی عشاء کی نماز پڑھ رہی تھیں۔ حیدر چند پل پہلے ہی ان کے کمرے میں آیا تھا اور اب دیوان پر بیٹھا ان کی نماز ختم ہونے کا انتظار کررہا تھا۔ صائمہ بیگم جیسے ہی وتر پڑھ کر اٹھیں تو حیدر کو دیکھ کر مسکرائی تھیں۔ جواباً حیدر نے بھی مسکرا کر ان کو دیکھا۔
” آپ نے اپنی میڈیسن کھائی ؟ ” وہ روز رات کو خود اس چیز کا خیال کرتا تھا کہ وہ ٹائم پر اپنی میڈیسن لے رہی ہیں کہ نہیں اور دن کے وقت جب وہ اپنی ڈیوٹی پر ہوتا تھا تو نور ان کی میڈیسن وغیرہ کا خیال کرتی تھی۔ فیصل صاحب کے جانے کے بعد سے وہ اپنا بالکل خیال نہیں کرتی تھیں کھانا پینا بھی بہت کم کردیا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ بیمار رہنے لگیں۔ اور ان کو اب بلڈ پریشر اور شوگر کا مسئلہ رہنے لگا تھا۔
” تم لوگ تو بالکل بچوں کی طرح دیکھ بال کرتے ہو میرا اور خیر سے کوئی اتنی بھی بیمار نہیں میں ” وہ خفیف سا بولیں۔
” آپ اگر خود سے ٹائم پر دوا لے لیں تو ہم بالکل بے فکر ہو جائیں ” وہ کہتے ہوئے اٹھا تھا اور سائیڈ ٹیبل کے ڈرا میں رکھی ان کی میڈیسن نکالی اور جگ سے گلاس میں پانی انڈیلا۔ صائمہ نے میڈیسن نکال کر کھائی اور پھر حیدر کے ہاتھ سے پانی کا گلاس پکڑ کر لبوں سے لگایا۔ وہ ان کے قریب ہی پہلو میں بیٹھا انھیں دیکھ رہا تھا۔ صائمہ نے گلاس سائیڈ ٹیبل پر واپس رکھا اور گھوم کر حیدر کی جانب متوجہ ہوئیں۔
” تم ٹھیک ہو ؟ ” اس کے چہرے پر نگاہیں مرکوز کیے صائمہ نے استفسار کیا۔ کچھ دنوں سے وہ بہت تھکا تھکا سا لگ رہا تھا۔
” جی میں بالکل ٹھیک ہوں مجھے کیا ہونا ہے ؟ ” اس نے عام سے لہجے میں کہا۔
” نہیں ویسے ہی تم پر کام کا اتنا بوجھ ہے اس لیے پوچھ لیا “
” نہیں! اب تو کافی بہتر ہوگیا شروع شروع میں مینیج کرنا مشکل تھا اب تو اکبر صاحب (مینیجر) نے کافی سنبھال لیا ہے “
” حیدر! میں جب بھی تم سے یہ بات کرتی ہوں تم ٹال دیتے ہو بیٹے۔ شادی کیوں نہیں کرلیتے اب ؟ “
” ماں پلیز پھر سے وہ ہی ٹاپک، مجھے نہیں کرنی شادی”
” تو کیا یوں ہی عنایہ کا انتظار کرتے رہو گے؟” اپنے گود میں دھرے ہاتھوں پر نظریں جھکائے آخر آج انھوں نے وجہ پوچھ ہی لی۔
” تو کیا نہیں کروں انتظار ؟ “
” لیکن وہ کسی اور کے نکاح میں ہے حیدر”
” میں نہیں مانتا اس نکاح کو۔۔۔۔۔۔۔اس نے عنایہ کو بلیک میل کیا تھا اس نکاح کیلئے “
” تو پھر وہ گھر کیوں نہیں آتی ؟ تم مجھے اس کے پاس لے جاؤ۔۔۔۔میں اپنے کیے کی معافی مانگ کر اسے منا کر لے آؤں گی ” وہ جذباتی ہوئیں۔
” ماں وہ نہیں آنا چاہتی واپس۔۔۔۔میں بہت کوشش کر چکا ہوں ” وہ مایوسی سے بولا۔
” میری وجہ سے نہیں آرہی۔۔۔۔۔۔میں نے اس کیساتھ بہت غلط کیا ہے حیدر مجھے یہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ وہ ہم سے دور ہے، اس گھر کی بیٹی ہے وہ اور پھر بھی اسے یوں تنہا زندگی گزارنی پڑ گئی میری وجہ سے۔۔۔۔فیصل مجھ سے ناراض ہی چلے گئے اور تمہاری اس حالت کی بھی میں ہی زمہدار ہوں ” وہ ایک دم آبدیدہ ہوگئیں۔
” ماں پلیز وہ آپ سے بالکل ناراض نہیں ہے آپ خود کو ہلکان مت کریں۔ وہ خود سے خفا ہے بس ” حیدر نے ان کے ہاتھ تھام کر انھیں وضاحت دی۔
” نہیں وہ مجھ سے ناراض ہے اور اسے ہونا بھی چاہیے اس لیے وہ واپس گھر نہیں آتی کیونکہ میں نے اس ذلیل کرکے نکلا تھا پھر وہ کیوں یہاں واپس آئے گی ؟ میری غلطی تھی اس وقت میں خود غرض بن گئی تھی مجھے اس سمے صرف تمہارا گھر چھوڑ کر جانا اور تمہارے دل ٹوٹنے کا غم زیادہ تھا ” وہ آنسو بہاتی پیشمان نظر آرہی تھیں۔
” پلیز ماں سنبھالیں خود کو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا نا میں اسے واپس لاؤں گا تو ایسا ہی ہوگا ” حیدر پرعظم سا کہتا انھیں یقین دلانے لگا۔
***********************
گھر پہنچتے ہی کیف نے عمر کو فون پر عنایہ کے ملنے کی اطلاع دی تھی جسے سن کر وہ ایک پل کو حیران ہوا تھا اور پھر بے حد خوش۔ ناجانے کس کی دعائیں قبول ہوئی تھیں اور اس کے جگری یار کا انتظار ختم ہوا تھا۔
” عمر مجھے کیسے پتا نہیں چلا یار۔۔۔۔۔ وہ یہیں اتنے قریب تھی اور میں پاگلوں کی طرح کہاں کہاں اسے تلاش کرتا رہا ” وہ اداسی سے بولا۔
” یار ہمیں کیا معلوم تھا ؟ ہمیں تو نور نے جو بتایا تھا ہم نے اس حساب سے ان کے ہر رشتدار سے پتہ کروایا تھا۔ یہاں تک کہ زینب اور اس کی مشترکہ دوستوں کے ہاں بھی وہ نہیں ملی تھی۔ اور جب خود اسکا کزن آرمی میں ہونے کے باوجود اسے ڈھونڈ نہیں سکا تھا تو تو کس کھیت کی مولی تھا ” وہ آخر میں مزاحیہ بولا تھا۔ جبکہ حیدر کے ذکر سے کیف کا حلق کڑوا ہوا تھا۔
” اس کمینے کا ذکر میرے سامنے مت کیا کر ” کیف حیدر اور اپنی آخری ملاقات کے بعد سے اسے مزید ناپسند کرنے لگا تھا۔
” اچھا چھوڑ اسے تو نے بات کی عنایہ سے ؟ ” عمر موضوع تبدیل کرتے ہوئے بولا۔
” نہیں”
” تو اب کس چیز کا انتظار ہے ؟ خالہ انکل کو بتایا ؟ “
” نہیں! ان کو ابھی نہیں بتایا ویسے بھی پرسوں ان کی فلائٹ ہے۔۔۔۔تمہارے ہاں سے واپس آجائیں گے تب بات کروں گا اور ابھی مجھے وقت چائیے ” اس نے اپنی آنکھیں مسلتے ہوئے بتایا۔
” اب کس چیز کیلئے وقت چائیے ؟ پانچ سال کافی نہیں تھے ” عمر تو حیران ہو رہا تھا۔
” یہ پانچ سال ہی تو بیچ میں آچکے ہیں ہم دونوں کے “
” پتا نہیں کیا بول رہا ہے۔۔۔۔۔۔ ” عمر کو تو کبھی زندگی میں اس بندے کی منطق سمجھ نہیں آئی تھی۔
” عمر ! آسان نہیں ہے یہ سب “
” اچھا بھئی جو کرنا ہے کر لیکن یہ بتا میں زینب کو بتا دوں عنایہ کے بارے میں کہ نہیں ؟ ویسے بتا دوں گا تو کہے گی ابھی اسی وقت مجھے پاکستان جانا ہے عنایہ سے ملنے” اپنے سوال کا جواب وہ خودی دیتے ہوئے بولا۔ کیف دھیمے سے مسکرا دیا۔
” بس پھر پتا ہے نا۔۔۔۔۔ تو ابھی نا بتا اسے کچھ وقت تک بتانا تب تک میں دیکھوں میڈم کا موڈ کیا ہے “
” چل ٹھیک ” عمر نے کہہ کر فون بند کردیا تو کیف نے کانٹیکٹ لسٹ کھول کر عنایہ کا نیا نمبر نکالا جو اس نے A لکھ کر سیو کیا تھا۔ اب وہ اسکا واٹس ایپ چیک کرنے لگا۔ جوں ہی اس نے چیٹ کھولی تو وہاں لاسٹ سین دوپہر چار بجے کا تھا یعنی اس کے بعد سے وہ آنلائن نہیں آئی تھی۔ کیف نے اس کی ڈی پی کھولی جو ایک رینڈم فوٹو تھی۔ اپنی خود کی ڈی پی تو وہ پہلے بھی نہیں لگاتی تھی۔ کیف نے فون بند کیا اور اسے بیڈ پر اچھالتا باتھ روم کی جانب بڑھ گیا۔
**********************
اگلی صبح جب وہ آفس پہنچی تو اپنے کیبن میں بیٹھے ہوئے وہ خود کو اس سب کیلئے تیار کر چکی تھی۔ جو بھی ہو اسے اس سب کا سامنا کرنا ہوگا۔ نا وہ یہ جاب چھوڑ سکتی تھی نا وہ کہیں جا سکتی تھی اگر آنٹی آج زندہ ہوتیں تو شاید وہ یہ جاب چھوڑ دیتی اور یہاں سے کہیں چلی جاتی لیکن اب وہ تنہا تھی۔ اپنے تمام خیالوں کو جھٹک کر وہ سامنے رکھے لیپٹاپ پر وہ اپنا کام کرنے لگی۔ جب روبینہ اسے بلانے کی غرض سے اس کی کیبن میں آئی تھی۔
” ارے ابھی تک یہیں ہو چلو کانفرنس روم میں باس نے میٹنگ کیلئے بلایا ہے ” وہ اسے کہتی اسکا ہاتھ تھام کر اٹھا چکی تھی۔
” ارے ارے لیکن کیوں کونسی میٹنگ اور اچانک سے کہاں سے آگئی؟ “
” ہااااا کیا مطلب اچانک سے میٹنگ ؟ ایسے ہی ہوتی ہے اور ویسے بھی اس دن تو بس ہمارا انٹروڈکشن ہوا تھا آج ظاہر ہے ہمیں ساری تفصیل سے آگاہ کیا جائے گا اور ہوسکتا ہے یار کسی کو نکال بھی دیں یا ہم سے کہہ دیں کہ آپ سب لوگ فارغ ہیں یہاں نیا سٹاف آئے گا ” وہ اپنا خدشہ ظاہر کرنے لگی تو عنایہ نے ناک چڑھائی تھی۔
” ایسی نوبت آئے گی تو اس کے نکالنے سے پہلے ہی میں خود ریزائن کردوں گی ” کیف ایسا کچھ کرے اور اس کی انا نا آئے بیچ میں ایسا کیسے ہوسکتا تھا۔
” ارے واہ واہ تم تو تیار بیٹھی ہو لیکن بھئی میں کہیں نہیں جاؤں گی اور ویسے بھی اتنے ہینڈسم بندے کے انڈر کام کرنے کا موقع کون کمبخت گھوانا چاہے گا ” وہ پھر سے اس کے الاپ جھپنے لگی۔
” اب میٹنگ کیلئے دیر نہیں ہورہی ؟ ” عنایہ نے اسے گھور کر کہا تھا۔
” ہاں ہاں چلو چلو ” وہ جلدی سے سنبھل کر کہتی باہر نکل گئی تو عنایہ بھی اس کی تقلید کرتے ہوئے باہر نکلی۔
**********************
سارا سٹاف اس وقت کانفرنس روم میں جمع تھا۔ کیف ہیڈ چیئر پر بیٹھا تھا۔ اس کی بائیں جانب تیسری کرسی پر عنایہ پراجمان تھی۔ وہ تو سب سے آخر میں بیٹھنا چاہتی تھی لیکن روبینہ زبردستی اسے اپنے ساتھ بٹھا گئی کہ یہاں سے باس کو زیادہ قریب سے دیکھ سکے گی۔ عنایہ تو ضبط کرتے ہوئے بیٹھ گئی تھی لیکن اپنی نظریں وہ جھکائے ہوئی تھی۔ کیف کی دائیں جانب اس کی سیکرٹری کھڑی انہیں بریف کررہی تھی۔ کیف ایک ہاتھ تھوڑی پر جمائے پرسوچ نگاہوں سے سب کو دیکھ رہا تھا لیکن یہ سب مصنوعی تھا اصل میں اس کی نظریں صرف عنایہ پر تھیں۔ جو گلابی رنگ کے لباس میں نظریں جھکائے اس کے دل کو راحت بخش رہی تھی۔ وہ ہی من موہنی سی صورت جھیل جیسی گہری آنکھیں چھوٹی سی ناک اور باریک گلابی لب۔ آج بھی وہ اتنی ہی پرکشش تھی۔ عنایہ کو اپنے چہرے پر نظروں کی تپش محسوس ہوئی تو اس کے دل کی دھڑکن بڑھی تھی۔ بنا دیکھے بھی وہ جانتی تھی کہ وہ کس کی نظروں کے حصار میں ہے۔ جیسے ہی اس کی سیکرٹری چپ ہوئی تو کیف اٹھ کھڑا ہوا۔ ٹیبل پر دونوں ہاتھ رکھے وہ تھوڑا سا جھکے کہنا شروع ہوا۔
” سارے رولز اینڈ ریگولیشن تو آپ سب سمجھ گئے ہوں گے۔ آپ سب اب میرے انڈر کام کریں گے تو ایک چیز خود بتا دینا چاہتا ہوں۔ میرا کام کرنے کا طریقہ تھوڑا مختلف ہے اس لیے مجھے آپ سب سے ایک ہی چیز چاہئے اور وہ ہے آپ کی آپ کے کام کیساتھ وفاداری ” وہ بھاری گھمبیر لہجے میں بول رہا تھا۔ سب ہی اس کی آواز کے زیرِ اثر تھے کیونکہ اس کی آواز تھی ہی ایسی۔ عنایہ کی نظریں ابھی بھی جھکی ہوئی تھیں۔ ناجانے کیسا احساس تھا کہ وہ اس کی جانب نہیں دیکھ پاہ رہی تھی لیکن اس کی آواز سن کر دل کو کیسا سکون ملا تھا جس پر وہ حیران تھی۔
” آپ سب کیساتھ کام کرنے میں مزہ آئے گا آل دا بیسٹ” وہ کہہ کر وہاں سے جاچکا تھا۔ اس کے جانے کے بعد عنایہ نے گہری سانس خارج کی۔ وہاں موجود سٹاف میں تو ہلچل سی مچی تھی۔ سب ہی کیف سے انسپائر نظر آرہے تھے۔
************************
کل جن پیپرز پر وہ سائن نہیں لے سکی تھی مینجر کی ڈانٹ پر اسے یاد آیا تھا۔ اور انہوں نے فوراً سے اسے باس سے سائن کروا کر انھیں آگے بھجوانے کا آڈر دیا تھا۔ اور اب وہ اس کے کیبن کے سامنے کھڑی خود سے جنگ لڑ رہی تھی۔ اب جب فیصلہ کرلیا تھا تو اسے ہمت بھی کرنی تھی۔ کیا وہ اس سے ڈر رہی تھی۔ خود ساختہ سوال تھا۔ اس نے ہاتھوں میں تھامی فائل پر اپنی گرفت مضبوط کی اور اندر جانے کیلئے قدم بڑھائے ہی تھے کہ سامنے سے کیف اپنے کیبن سے اچانک سے نکلا تھا۔ دونوں آپس میں ٹکراتے ٹکراتے بچے تھے۔ عنایہ اپنی سانس روک گئی تھی جبکہ کیف کو اندازہ نا تھا کہ وہ اس کے کیبن کے باہر ہوگی۔ دونوں کتنے لمحے ایک دوسرے کے چہرے کو اتنے قریب سے دیکھتے رہے تھے۔ لیکن کیف بروقت خود کو سنبھال کر اس کے پاس سے گزر کر جانے لگا تو عنایہ اس کی پشت کو غائب دماغی سے دیکھتی رہی پھر ایک دم خیال آیا کہ وہ اس سے پیپرز سائن کروانے آئی تھی وہ تیزی سے اس کے پیچھے گئی تھی۔
” سر کچھ پیپرز پر آپ کے ارجنٹ سائن چاہیے تھے آپ پلیز ان کو ایک بار پڑھ کر سائن کردیں” وہ اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ کیف کے قدم رکے تو عنایہ نے بھی اپنے پیروں کو بریک لگائی۔ وہ اس کی طرف پلٹا تھا۔
” مس !! جو بھی آپ کا نام ہے۔۔۔۔۔ یہ کیا طریقہ ہے کام کروانے کا ؟ آپ کو نظر نہیں آرہا میں کہیں جارہا ہوں اور آپ مجھے یوں راستے میں روک کر چاہ رہی ہیں کہ میں یہاں کھڑا کھڑا ان پیپرز کو پڑھوں اور پھر سائن بھی کروں ؟ ” وہ سختی سے بولا۔ جبکہ عنایہ تو اس بات پر حیرت زدہ تھی کہ اسے اسکا نام نہیں یاد یا جان بوجھ کر کررہا ہے۔
” وہ میں۔۔۔۔۔۔میں آپ کے کیبن ہی آرہی تھی لیکن آپ وہاں سے چلے آئے “
” تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں نہیں ہوں تو آپ بعد میں آئیں یہ نہیں کہ ایسے ill mannered طریقے سے بیچ راستے میں مجھے روک کر شروع ہو جائیں ” عنایہ تو ایسے ہی چپ چاپ کھڑی سنتی رہی۔
” ناؤ ایکسکیوز می ! ” وہ کہے وہاں سے چلا گیا تو عنایہ شاک سی وہاں کھڑی رہی۔ اسکا رویہ عجیب تھا۔
**********************
جیسے ہی وہ واپس آیا تو عنایہ اس کے کیبن میں جاپہنچی۔ اور اب وہ سامنے رکھی فائل پڑھنے میں مصروف تھا۔
” اونہوں! یہ آپ نے تیار کی ہے ؟ ” وہ فائل کے صفحے پلٹتا بنا اس کی سمت دیکھ پوچھ رہا تھا۔
” جی ! ” عنایہ نے جواب دیا۔
” بکواس! ایسے لگ رہا جا جیسے کالج میں پڑھنے والی کسی سٹوڈنٹ کی اسائمنٹ ہو ” اس نے فائل بند کی اور اپنے سامنے سے اٹھا کر اس کے سامنے رکھی دی۔ وہ اس کی ٹیبل کے دوسری جانب ہی کھڑی تھی۔ اس کی بات پر عنایہ کا منہ ہی کھل گیا تھا۔
” اسے لے جائیں اور دوبارہ سے اس پر کام کریں ” وہ تحکم بھرے لہجے میں بولا۔
” لیکن سر میں ہمیشہ سے ایسے ہی کام کرتی آئی ہوں آپ ایک بار پھر سے۔۔۔۔۔۔۔” اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اس نے ٹوک دیا تھا۔
” پہلے آپ کیسے کام کرتی تھیں that’s not my concern۔۔۔۔۔ لیکن میرے انڈر ایسے کام نہیں ہوتا جیسا کہا ہے ویسے کریں ” وہ دو ٹوک انداز میں بولا تھا۔ عنایہ نے اپنے ہاتھ کی مٹھی بھنچ کر غصہ کنٹرول کیا تھا ورنہ دل چاہ رہا تھا کہ دو تین سنا دے اسے۔ وہ جان بوجھ کر ایسا کررہا تھا۔ وہ سب سمجھ رہی تھی۔ وہ ایسے ہی کھڑی رہی تو کیف جو اب فون میں مصروف ہوچکا تھا۔ اس نے اپنی نگاہیں اٹھا کر سوالیہ انداز میں اس کی اور دیکھا تھا۔ انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہا ہو کیوں کھڑی ہو نکلو اب۔ عنایہ پیر پٹخ کر واپس مڑی اور اس کے کیبن سے باہر نکل گئی۔ اس کے جاتے ہی کیف کے چہرے پر ایک دلفریب مسکراہٹ در آئی۔
” ابھی تو بس شروعات ہے سویٹ ہارٹ آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا ” کیف مسکراتے ہوئے سوچ رہا تھا۔
************************
