222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 14)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

یہ منظر ایک کلاس روم کا تھا جہاں صرف زینب اور عمر موجود تھے باقی کلاس روم خالی تھا۔ دونوں بیٹھے اپنی اسائنمنٹ پر کام کررہے تھے۔ عمر کافی دیر سے لکھ رہا تھا اسے تھکان محسوس ہوئی تو پیپر پین چھوڑ کر اپنا جھکا چہرہ اٹھایا تو نظر سامنے ہی بیٹھی زینب پر گئی جو ہاتھ کی ہتھیلی پر چہرہ ٹکائے دوسرے ہاتھ سے لکھ رہی تھی۔ اسے دیکھ کر عمر مسکرایا۔ اسے ناجانے کب سے وہ اتنی اچھی لگنے لگی تھی۔ شاید پہلی نظر کی محبت تھی وہ پہلے دن جب اسے عنایہ کے ساتھ دیکھا تھا۔ اس معصوم چہرے پر نظر پڑتے ہی وہ اس سے محبت کر بیٹھا تھا۔ پھر یونیورسٹی میں جب بھی وہ اسے دکھتی عمر کیلئے اسے سے نظریں ہٹانا مشکل ہو جاتا تھا۔ پھر کیف نے جب کہا کہ وہ دونوں پر نظر رکھے اور انکی باتیں سن کر یہ جاننے کی کوشش کرے وہ پارٹی میں آئیں گی یا نہیں۔ تو وہ کھلے دل سے راضی ہوا تھا ورنہ وہ کیف کو کہتا رہتا کہ عنایہ کے ساتھ یہ سب نا کرے کیونکہ یہ تو وہ جان چکا تھا دونوں بہت گہری دوستیں ہیں تو وہ نہیں چاہتا تھا زینب کے سامنے کیف کی وجہ سے اسکا کوئی غلط تاثر پڑے۔ وہ یوں ہی اس پر نظریں جمائے سوچوں میں غلطاں تھا جب زینب کو خود پر نظروں کا ارتکا محسوس ہوا۔ اس نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا تو عمر کو یوں دیکھتا پا کر وہ حیران ہوئی۔

” کیا ہوا ؟ ” زینب نے پوچھا لیکن عمر ایسے ہی رہا۔ زینب نے ادھر ادھر دیکھا پھر تھوڑا آگے کو ہوئی۔

” ہیلو مسٹر ! ” زینب نے اسکی آنکھوں کے سامنے اپنا ہاتھ لہرایا تو عمر ایک دم گڑبڑا کر ہوش میں آیا۔

” کونسے خیالوں میں گم ہو ؟ ” زینب واپس پیچھے کو ہوکر بیٹھی۔

” کہیں بھی تو نہیں۔۔۔۔۔تم بتاؤ ہوگیا ؟ “

” ہاں بس تھوڑا سا رہ گیا اور تمہارا ؟ “

” ہاں میرا بھی بس۔۔۔۔۔۔یہ آج کرلیتے ہیں تو کل پر اسے ڈسکس کرلیں گے ” عمر نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے تائید چاہی۔

” اوکے ! ” زینب نے کندھے اچکائے کہا۔

*******************

عنایہ بیڈ پر کتابیں پیپر پین پھیلائے بیٹھی مصروف سی اپنی اسائنمنٹ بنا رہی تھی۔ آج جو ہوا تھا اس کے بعد اس نے سوچ لیا تو وہ گھر ہی میں اپنا کام مکمل کرلے گی اور پھر بس کیف کے ساتھ اسے ڈسکس کرلے گی لیکن اب مزید اسکے ساتھ ایک جگہ بیٹھ کر وہ کام نہیں کرسکتی تھی۔ اپنی اس حرکت پر وہ خود سے نالاں تھی۔

” کیا ضرورت تھی بھلا ایسے بےوقفوں کی طرح اسے دیکھنے کی ؟ کیا سوچتا ہوگا وہ میرے بارے میں ؟ ایسے مسکرا مسکرا کر اپنے ڈمپلز کی نمائش کرتا پھرتا ہے تو ظاہر ہے لڑکیاں تو پاگل ہوں گی نا۔۔۔۔۔۔باقی لڑکیاں ہوتی ہوں گی پاگل لیکن میں نہیں ہونہہ ۔۔۔۔۔۔۔ ” اکیلے کمرے میں بڑبڑاتی وہ خود سے مخاطب تھی جب کمرے کا دروازہ کھلا اور آفت کی پرکلہ اندر آئی۔ منہ پھلائے نور نے ایک نظر عنایہ پر ڈالی اور کاؤچ پر ڈھیر ہوگئی۔

” تمھے کیا ہوا ؟ ” عنایہ نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” ماما بابا کے کمرے سے آرہی ہوں۔۔۔۔بھائی کا فون آیا تھا” نور نے اداس لہجے میں جواب دیا۔

” ہاں تو ؟ “

” بھائی کہہ رہے تھے وہ اس بار چھٹی پر گھر نہیں آ پائیں گے، انھیں ایک مشن کیلئے کراچی جانا پڑے گا”

” تو کوئی بات نہیں پہلے بھی تو ہوتا ہے نا ایسا اس میں اداس ہونے کی کیا ضرورت ہے ؟ اگلی چھٹی پر جب آئے گا تو زیادہ دیر کیلئے ہی آئے گا ” عنایہ نے اسکا موڈ صحیح کرنے کیلئے تسلی دی۔ جس پر نور نے فقط سر ہلانے میں اکتفا کیا۔

” اچھا چلو تم اور میں کچھ مزے کا کرتے ہیں ” عنایہ نے اپنے سامنے پڑی کتابیں وغیرہ سمیٹی تھیں۔

” کیا ؟ ” نور نے چہرہ مڑ کر سوالیہ نظروں سے عنایہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔ عنایہ نے مسکراہٹ ضبط کی اور پاس پڑا کشن اٹھا کر نور پر اچھال دیا جو سیدھا اسکے منہ پر جا لگا۔

” آہ۔۔۔۔۔۔۔پلو فائٹ؟ ” نور چیخی تھی۔ عنایہ نے قہقہہ لگایا۔ نور نے پاس کاؤچ پر پڑے کشن اٹھا کر عنایہ پر پھینکنے شروع کردیے۔ دونوں کی ہنسی کی قہلقار پورے کمرے میں گونجنے لگی۔

********************

آج سب نے سر ہمدانی کی دی ہوئی اسائنمنٹ کی پریزینٹیشن دینی تھی۔ سب کی باری کے بعد جب عنایہ اور کیف کی باری آئی تو کیف نے ڈائس پر جا کر اپنے ٹاپک کے ساتھ ساتھ عنایہ کے حصے کی بھی پریزینٹیشن دی جس پر عنایہ پریشان سے بیٹھی کیف کی اس حرکت کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔

” آپ نے دونوں ٹاپک پر پریزینٹیشن کیوں دی کیف؟ ایک پر تو عنایہ نے دینی تھی ۔۔۔۔۔” سر ہمدانی نے پریزینٹیشن ختم ہونے کے بعد استفسار کیا۔

” سر ! کیونکہ عنایہ نے اسائنمنٹ بنائی ہی نہیں تھی اس نے مجھ سے کہا تھا وہ پوری کلاس کے سامنے یوں پریزینٹیشن نہیں دے پائی گی تو پلیز میں اس کی مدد کر دوں ۔۔۔۔۔۔اس لیے مجھے ہی ساری اسائنمنٹ بنانی پڑی اور اگر اسائنمنٹ میں نے بنائی تھی تو پریزیڈنٹ بھی تو میں نے ہی دینی تھی ” وہ بہت آرام سے یہ جھوٹ بول رہا تھا اور وہاں عنایہ کھلے منہ اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسکی بات سن رہی تھی۔ سر ہمدانی نے عنایہ کی طرف دیکھا اور اس سے پوچھا۔ عنایہ ابھی بھی ایسے ہی کیف کو دیکھ رہی تھی۔

” سر ! میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” عنایہ کو ایک دم سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کہے وہ بالکل شاک سی کیفیت میں تھی۔ سر ہمدانی نے اسے اچھا خاصا ڈانٹا تھا اور یہ بھی کہا تھا وہ اسے ایک کانفیڈینٹ اور برائٹ سٹودنٹ سمجھتے تھے۔ ان کی کلاس ختم ہونے کے بعد سبھی کلاس روم سے نکلنے لگے۔ زینب نے عنایہ کی طرف دیکھا تھا جو بالکل چپ سی بیٹھی تھی۔ زینب کو عنایہ کیلئے بے حد برا لگ رہا تھا اور کیف پر غصہ آرہا تھا۔

” عنایہ ! تم نے سر کے سامنے کچھ کہا کیوں نہیں ؟ ” عنایہ نے نظریں اٹھا کر زینب کو دیکھا۔

” کیا کہتی ؟ اس وقت میں بالکل بلینک ہوگئ تھی مجھے سمجھ نہیں آیا کیا کہوں ؟ “

” چلو ہم سر کے پاس جاتے ہیں ان سے کیف کی شکایت کریں گے انھیں بتائیں گے کیف نے جھوٹ کہا ہے سب “

” ہاں اور سر جیسے مان لیں گے۔۔۔۔۔کہیں گے تب کیوں نہیں بولی تو کیا جواب دوں گی ؟”

” اچھا ! ابھی آؤ باہر چلیں پھر سوچتے ہیں کیا کرنا ہے “

” تم چلو میں آتی ہوں تھوڑی دیر میں ” عنایہ نے دھیمے سے کہا تھا۔ وہ بہت ہرٹ ہوئی تھی کیونکہ سر ہمدانی نے پوری کلاس کے سامنے اسکی انسلٹ کی تھی۔

” اوکے ! جلدی آنا میں تمہارا انتظار کررہی ہوں ” زینب کہہ کر وہاں سے اٹھ گئی۔

******************

” ویلڈن ہیرو ! ” کیف کلاس روم سے نکلا تھا جب پیچھے سے نتاشہ نے کہا اور مسکراتی ہوئی اس کے مقابل جا کھڑی ہوئی۔ کیف بھی جواباً فخریہ مسکرایا تھا۔

” کیف یہ کیا حرکت تھی ؟ ” عمر ان کی جانب آتے ہوئے بولا۔

” کونسی حرکت ؟ ” کیف انجان بنا۔

” ویسے یہ ٹھیک نہیں کیا تو نے ” عمر نے تاسف سے کہا تھا جبکہ نتاشہ نے آنکھیں گھمائیں تھیں اس بات پر۔

” واٹ ایور ! ” کیف نے اسکی بات ہوا میں اڑائی تھی۔ زینب کلاس روم سے نکلی تھی جب عمر نے اس کی طرف مسکرا کر دیکھا لیکن وہ بنا کسی تاثر کے ان تینوں کو گھور کر وہاں سے گزر گئی۔ عمر کو اس ریایکشن کی توقع نہیں تھی۔

” ہم کیفے میں ملتے ہیں وہاں بات ہوگی۔۔۔۔۔مجھے ایک کام ہے ” عمر کہہ کر زینب کے پیچھے گیا تھا۔

” سو کافی ؟ ” نتاشہ نے کیف کو کافی پینے کی آفر کی۔

” شیور تم چلو میں آتا ہوں ” نتاشہ کے جانے کے بعد کیف کلاس رومز کے باہر راہداری میں ایک پلر کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا اور ہونٹوں کو گول کیے اپنے مخصوص انداز میں سیٹی بجانے لگا۔ اسے پتا تھا عنایہ ابھی کلاس روم میں ہی ہے اور وہ اسی کا انتظار کررہا تھا جب عنایہ کلاس روم سے نکلی وہ چہرہ نیچے کیے گزر رہی تھی۔ جب کیف ایک دم اسکے سامنے آرکا۔ عنایہ نے نظریں اٹھا کر سامنے کھڑے شخص کو دیکھا اور کیف کی اس پر نظر پڑی تو وہ تھم سا گیا۔ عنایہ کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی۔ وہ تیزی سے اسکے پاس سے گزر کر آگے بڑھ گئی اور کیف وہیں کھڑا رہا۔

کیف پیشمان ہوا تھا۔ اس نے اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرا اور مڑ کر اس جگہ کو دیکھا جہاں سے وہ گزر کر گئی تھی۔ وہ جلدی سے اسکے پیچھے بھاگا تھا۔ پتا نہیں کیوں لیکن اسے برا لگ رہا تھا اسکی آنکھوں میں نمی دیکھ کر۔ کیف باہر گراؤنڈ کی طرف آیا اور نظر گھما کر اس نے چاروں جانب دیکھا وہ اوپر لائبریری کی طرف جاتی نظر آئی۔ کیف تیزی سے زینے چڑھتا اوپر اس کے پیچھے گیا۔

” عنایہ عنایہ رکو ! ” کیف اسے پیچھے سے پکار رہا تھا لیکن عنایہ سنی ان سنی کرتی آگے بڑھتی رہی۔ کیف نے آگے ہو کر اسکی کلائی تھام کر اسے روکا تھا۔ عنایہ اسکی حرکت پر طیش میں آکر پلٹی تھی۔

” کیا بدتمیزی ہے یہ ؟ ” عنایہ نے اپنا ہاتھ چھوڑواتے ہوئے تیز لہجے میں کہا تھا۔ کیف نے فوراً اسکا ہاتھ چھوڑا تھا۔

” مجھے تم سے بات کرنی ہے “

” اب کیا کہنا ہے ؟ سکون نہیں ملا ابھی تک ؟ چاہتے کیا ہو ہاں ؟ کہا تھا نا اس اسائنمنٹ کیلئے اپنی انا کو ایک سائڈ پر رکھ کام کریں گے لیکن تم ٹھہرے ںے حس انسان۔۔۔۔۔جسے صرف دوسروں کا سکون برباد کرنا آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔کتنی محنت کی تھی میں نے اس اسائنمنٹ پر۔۔۔۔۔رات بھر جاگتی رہی۔۔۔لیکن تمھے ہر چیز مذاق لگتی ہے۔۔۔۔۔ ” وہ بولنے پر آئی تو بولتی چلی گئی۔

” اوکے۔۔۔۔۔۔اوکے ریلکیس ! ” کیف نے مصالحانہ انداز میں ہاتھ اٹھائے تھے۔ عنایہ واپس مڑ کر وہاں سے جانے لگی۔

” بات تو سنو یار باسکٹ ” کیف اسکے پیچھے چلتا ہوا بولا تھا اس کے یار اور باسکٹ کہنے پر عنایہ ایک بار پھر غصے سے پلٹی تھی اور انگشت انگلی کیف کے سامنے اکڑا کر گویا ہوئی۔

” خبر دار ! آئندہ مجھے کسی بھی فضول نام سے پکارا۔۔۔۔۔۔بلکہ مجھے بلانے کی بھی ضرورت نہیں ہے ” اور پھر وہ وہاں رکی نہیں تھی۔ کیف بس اسے جاتے دیکھتا رہا۔

*******************

” زینب بات تو سنو میری ” یہ عمر تھا جو زینب سے کب سے بات کرنے کی کوشش کررہا تھا لیکن وہ اسے اگنور کرتی جا رہی تھی۔ کبھی کہیں رکتی تو عمر کو دیکھ دوسری طرف چلی جاتی اور جب عمر وہاں بھی آجاتا تو وہ کسی اور جگہ چلی جاتی۔ عمر اب بالکل اسکے سامنے راستہ روک کر کھڑا ہوگیا۔

” کیا تم مجھے بتاؤ گی کہ کیا ہوا ہے ؟ ” عمر نے تحمل سے پوچھا۔

” ہاں تمھے تو جیسے پتا نہیں کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔” ذینب نے منہ بنا کر جواب دیا تھا۔

” یار کیف کا تمھے پتا ہے وہ ایسا ہی ہے لیکن میرا کیا قصور ہے ؟ تم میرے ساتھ ایسے کیوں کررہی ہو ؟ “

” تمہارا قصور یہ ہے کہ تم کیف کے دوست ہو ” زینب تیکھے سے لہجے میں بول کر اسکے پاس سے گزر گئی۔

” اس کمینے کیف کی وجہ سے میری محبت کی ریل گاڑی کبھی آگے نہیں بڑھ پائے گی ” عمر نے دانت پیستے ہوئے کہا تھا۔

*******************

عنایہ بینچ پر بیٹھی تھی جب عمر اسکے پاس آکر بیٹھا۔ عنایہ نے اسکی اور دیکھ کر وہاں سے جانا چاہا لیکن عمر کی بات سن کر وہیں بیٹھی رہی۔

” عنایہ آئی ایم سوری جو کیف نے کیا۔۔۔۔۔۔لیکن میرا یقین جانو مجھے اس بارے میں کچھ پتا نہیں تھا۔۔۔۔۔کیف میرا کزن ہے میرا بہت اچھا دوست ہے۔۔۔۔۔وہ اس طرح کی شراتیں مذاق کرتا ہے لیکن وہ دل کا برا نہیں ہے “

” اگر تم اس شخص کی صفائی دینے آئے ہو تو میں جارہی ہوں “

” اوکے اوکے نہیں کرتا ” اسے دوبارہ سے اُٹھتے دیکھ عمر نے تیزی سے کہا تھا۔

” اس نے آج جو کیا وہ واقعی میں غلط تھا لیکن تم اور زینب میرے سے تو مت ناراض ہو۔۔۔۔۔۔وہ بھی صرف اس بنا پر کے کیف میرا دوست ہے ” اس نے مظلومیت سے کہا تھا۔

” زینب ؟ ” عنایہ نے چہرہ موڑ کر سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا تھا۔

” ہاں زینب۔۔۔۔۔۔۔اب دیکھو نا ابھی نئی نئی دوستی ہوئی تھی ہماری۔۔۔۔۔۔لیکن وہ مجھ سے اس بات پر ناراض ہے کہ میں کیف کا دوست ہوں ” جس انداز میں عمر نے کہا تھا عنایہ نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔

” ہممممم دوستی یا کچھ اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” عنایہ کی بات پر عمر گڑبڑا گیا اور عنایہ کو دیکھا جو اب معنی خیز نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی جیسے سب سمجھ گئی ہو۔

” میں وہ۔۔۔۔۔۔۔۔پسند کرتا ہوں اسے ” عمر نے سر کھجاتے ہوئے کہا تھا۔

” اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” عنایہ نے خاصا کھینچ کر کہا تھا۔

” لیکن پلیز تم زینب کو اس بارے میں نہیں بتانا ” عمر نے ریکویسٹ کی۔

” ڈونٹ وری نہیں بتاؤں گی اور زینب وہ تو ناسمجھ ہے۔۔۔۔۔۔واقعی اس میں تمہاری تو کوئی غلطی نہیں “

” ناسمجھ نہیں پاگل ہے بالکل ” اسکی بات پر عنایہ ہنسی تھی۔ عمر بھی اب مسکرا رہا تھا۔ اور دور کھڑا کیف ماتھے پر بل لئے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ عمر کی نظر جب اس پر پڑی تو عنایہ سے بائے کہہ کر وہاں سے اٹھ گیا اور چلتا ہوا کیف کی طرف آیا۔ اپنی جینز کی پاکٹ میں ہاتھ پھنسائے وہ مسکراتا ہوا کیف کے مقابل آ کھڑا ہوا۔

” کیا ہو رہا تھا وہاں ؟ اور اتنا مسکرا کس خوشی میں رہے ہو ؟ ” کیف نے آنکھیں چھوٹے کیے عمر سے استفسار کیا۔

” کچھ بھی نہیں اور مسکرا بھی یوں ہی رہا تھا ” عمر نے کندھے جھٹک کر ویسے ہی مسکرا کر جواب دیا۔ کیف نے ایک نظر اس پر ڈالی اور پھر وہاں دیکھا جہاں کچھ پل پہلے عمر اور عنایہ بیٹھے تھے۔ عنایہ بھی وہاں سے جاچکی تھی۔ کیف نے دوبارہ عمر کی طرف دیکھا۔

” سنبھل جا یہ نا ہو بعد میں پچھتانا پڑے ” کیف نے اسکے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔ عمر نے اپنے کندھے پر دھرے کیف کے ہاتھ کو دیکھا اور پھر سامنے کھڑے کیف کو۔

********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *