Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 8)
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 8)
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
حیدر اپنی ڈیوٹی پر واپس جا چکا تھا۔ حیدر کو کوئٹہ میں تعینات کیا گیا تھا۔ پہلے وہ اسلامآباد میں ہی اپنی خدمات سر انجام دے رہا تھا لیکن پچھلے سال اسے کوئٹہ میں تعینات کردیا گیا تھا۔ اب اسے جب چھٹی ملتی تو وہ اسلامآباد آجایا کرتا۔
عنایہ اور نور دونوں بیٹھی پڑھائی کررہی تھیں۔ آج حیدر کو گئے دو دن ہو چکے تھے۔ یہ دو دن عنایہ نے یونیورسٹی میں بہت پرسکون گزارے تھے۔ لاشعوری طور پر وہ کیف کے اگلے حملے کا انتظار بھی کررہی تھی۔ لیکن اس بار دو دن گزر گئے اس نے اب تک کچھ نہیں کیا تھا۔
” کہیں یہ خاموشی کسی آنے والے طوفان کا پیش خیمہ تو نہیں ” عنایہ کتابیں سامنے پھیلائے ہوئی بیٹھی جب دھیان کیف کی طرف گیا اور وہ اتنی اونچی آواز میں بڑبڑائی کہ نور نے بھی سنا اور پھر فوراً سے پوچھا۔
” کونسا طوفان آنے والا ہے آپی ؟ ” وہ بیڈ کے سامنے رکھے کاوچ پر بیٹھی گود میں رجسٹر رکھے میتھ کے سوال حل کررہی تھی۔
” آ۔۔۔۔۔ کچھ نہیں، تم نے حل کرلیے سوال سارے ؟ ” عنایہ اسکے پوچھنے پر چونکی تھی۔
” بس دو رہ گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچھا کل شاپنگ پر چلیں گے اوکے ؟ “
” ہاں ٹھیک ہے مجھے بھی کچھ چیزیں لینی تھیں ” عنایہ نے اپنی کتابیں بند کیں اور بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔ وہ کافی دیر سے پڑھ رہی تھی۔
*****************
زینب اور عنایہ لائبریری میں موجود تھیں۔ آج انھیں دو لیکچر فری ملے تھے کیونکہ اکاؤنٹس کے سر آج آئے نہیں تھے۔ دونوں نے سوچا اس ٹائم کو ضائع کرنے کی بجائے نوٹس بنا لیے جائیں۔ دونوں میز پر کتابیں پھیلائے نوٹس بنانے میں مصروف تھیں ساتھ ساتھ دونوں کی ہلکی پھلکی باتیں بھی جاری تھیں۔
” زینب ! آج کل خیر ہے نا تمہارا دی ہینڈسم کیف بڑا شریف بنتا پھر رہا ہے ” عنایہ نے قلم کاغذ پر چلاتے ہوئے بنا اسکی طرف دیکھے پوچھا۔
” کیوں کیا ہوا اب ؟ “
” ہوا تو کچھ نہیں لیکن میں حیران ہوں آج تیسرا دن ہے اور اس نے کوئی شرارت نہیں کی اور نا مجھے تنگ کیا “
” او۔۔۔۔۔۔۔ تو تم اسے مس کررہی ہو؟ ” ذینب نے شرارتی انداز میں کہا۔
” ہونہہ مس کرتی ہے میری جوتی۔۔۔۔میں تو ویسے ہی حیران تھی میری وجہ سے اسے پندرہ دفعا اسائنمنٹ بنانی پڑی اور اس نے اب تک کچھ کہا نہیں۔۔۔ویسے ہو سکتا ہے وہ مجھ سے ڈر گیا ہو ” عنایہ نے جتانے والے انداز میں کہتے ہوئے اسے دیکھا۔
” تمہاری غلط فہمی ہے کہ وہ تم سے ڈر گیا۔۔۔وہ اپنا بدلہ ضرور لے گا اور دیکھنا اس بار تمہاری خیر نہیں ” زینب نے اسے ڈرایا۔ عنایہ نے پاس پڑی پانی کی بوتل اٹھا کر اس کی طرف پھینکی تھی جو زینب کی گود میں گری تو وہ ہنس دی۔
” تم بدتمیز میری دوست ہو یا اس خبیث کی ” ؟ عنایہ کو تو غصہ ہی آگیا تھا۔
” ظاہر ہے تمہاری دوست ہوں لیکن میں تمھے حقیقت سے آگاہ کررہی ہوں میری جان کیونکہ جہاں تک میں اسے اتنے عرصے میں سمجھی ہوں نا وہ چپ رہنے والوں میں سے بالکل نہیں “
” اچھا !!! بہت اچھے سے نہیں سمجھنے لگی ہو اسے ” عنایہ نے طنز کیا۔
” ہائے۔۔۔۔۔زیادہ تو نہیں لیکن جیسے سب سے سنا ہے اور دیکھا ہے نا اتنا تو جان گئی ہوں اس جیسا کوئی نہیں ” زینب اشتیاق بھرے لہجے میں بولتے ہوئے کسی اور یہ دنیا میں پہنچی ہوئی تھی۔
عنایہ نے تاسف سے سر نفی میں ہلایا تھا۔
” میرا کام ختم ہوگیا میں کیفے جا رہی ہوں ” عنایہ نے اپنی چیزیں سمیٹی۔
” ہاں تم چلو میں یہ تھوڑا سا ہے کمپلیٹ کرکے آتی ہوں “
زینب جلدی سے لکھنے لگی۔عنایہ کے جانے کے بعد ابھی کچھ پل ہی گزرے تھے جب زینب کو خود پر نظروں کا ارتکا محسوس ہوا اس نے اپنی نگاہیں اٹھا کر سامنے دیکھا تو سامنے دوسری طرف عمر بیٹھا تھا اسکے دیکھنے پر وہ گڑبڑا گیا اور فوراً سامنے پڑی کتاب پر اپنا چہرہ جھکا لیا۔ زینب نے اپنے کندھے جھٹکے اور دوبارہ نوٹس بنانے لگی۔
********************
سورج کے سرکنے سے شام ڈھلنے لگی تھی جس کے باعث نارنجی آسمان سیاہ پڑنے لگا۔ عنایہ اور نور اسلامآباد کے مشہور سینٹورس مال میں موجود تھیں۔ دونوں تقریباً ایک گھنٹے سے یہاں شاپنگ کررہی تھیں۔
” نور اب بس کر دو سب کچھ لے تو لیا ہے ” عنایہ ہاتھ میں شاپنگ بیگ تھامے ہوئی تھی۔
” جی بس ہوگیا چلے کچھ کھاتیں ہیں مجھے بھوک لگ گئی۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد مجھے ایک بک شاپ سے ایک ناول بھی لینا ہے “
” میں پھر اکرام بھائی کو کال کرکے اندر بلاتی ہوں کہ یہ بیگ وہ گاڑی میں رکھیں کیونکہ میں انھے لے کر مزید نہیں چل سکتی ” عنایہ نے جلدی سے فون نکال کر ڈرائیور کو اندر سیکنڈ فلور میں آنے کا کہا تھا۔ شاپنگ بیگ اکرام بھائی کے حوالے کرنے کے بعد دونوں تھرڈ فلور پر آ گئیں تھیں۔
دونوں ابھی آگے ہی بڑھ رہے تھے کہ سامنے سے آتے کیف کو دیکھ کر عنایہ وہیں رکی تھی۔ جبکہ نور کیف کے ساتھ آئی منال سے مل رہی تھی۔
” واٹ آ پلیسینٹ سرپرائز تم بھی یہاں آئی ہو ” نور منال کے گلے لگتے ہوئے بولی۔
” تم ؟؟؟؟ او کم ان باسکٹ تم میرا پیچھا کر رہی ہو ؟ ” کیف نے ڈرامائی انداز میں کہا۔ اسکی بات پر عنایہ ہوش میں آئی تھی جو اسے یوں اچانک سامنے دیکھ کر شاک ہوئی تھی۔
” ہا ہا ویری فنی ” عنایہ نے اسکی بات پر آنکھیں گھمائیں تھیں۔
” آپ لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں ؟ ” نور نے دونوں سے پوچھا تھا۔
” بدقسمتی سے ” عنایہ بولتی اس سے پہلے ہی کیف نے جواب دیا جس پر عنایہ نے اسے گھورا تھا۔
” یہ میرے بھائی ہیں کیف اور بھائی یہ میری بہت اچھی دوست نور” منال نے مسکراتے ہوئے تعارف کروایا تھا۔
” آپ سے مل کر خوشی ہوئی ” نور نے کیف کو دیکھ کر مسکرا کر کہا تھا۔
” لیکن مجھے بالکل نہیں ہوئی ” عنایہ بڑابڑائی تھی۔ کیف اور نور دونوں ہی اس کی بڑبڑاہٹ سن چکے تھے۔ جس پر نور نے اسے اپنی کہنی ماری کر آنکھوں سے یہ کیا بول رہی ہیں کا اشارہ کیا تھا۔
” یہ میری عنایہ آپی ہیں ” نور نے منال اور کیف کو دیکھتے ہوئے کہا۔
” ہاؤ کم ؟ ” کیف شاک ہونے والے انداز میں بولا ارادہ بس عنایہ کو چڑانے کا تھا جس پر منال اور نور دونوں نے بے ساختہ کیف کی طرف دیکھا تھا۔
” آئی مین آپ اتنی سویٹ ہیں پیاری ہیں اور آپکی آپی۔۔۔۔۔۔۔۔” آپی لفظ کو کیف کھینچتے ہوئے چپ ہوگیا تھا۔ نور اس بات پر قہقہہ لگا کر ہنسی تھی جبکہ عنایہ نے دانت پر دانت جما کر غصے سے کیف کو دیکھا جو اپنی مسکراہٹ ضبط کرنے کی ناکام کوشش کررہا تھا۔
” بھائی !!!! ” منال نے کیف کو آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے منع کیا۔
” نور تم اپنی دوست سے باتیں کرو میں وہاں جارہی ہوں جب فری ہو جاؤ تو آجانا ” عنایہ کہہ کر کیف کے پاس سے گزر کر چلی گئی۔ نور اور منال ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگیں تو کیف اپنے فون پر مصروف ہو گیا لیکن گاہے بگاہے وہ نظریں اٹھا کر سامنے فوڈ کورٹ میں بیٹھی عنایہ کو بھی دیکھ رہا تھا۔ تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد منال اور کیف چلے گئے تو نور بھی عنایہ کی طرف بڑھی جو بڑے مزے سے بیٹھی منٹ مارگریٹا منگوا کر پی رہی تھی۔
******************
