Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 50) Last Episode (Part - 2)
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 50) Last Episode (Part - 2)
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
وہ اپنے بھیگے بالوں کو ٹاول میں لپیٹے باتھ روم سے نکلی تھی۔ جلدی سے اپنے اوپر سویٹر پہنا اور ہیٹر کے آگے بیٹھ گئی۔ کیف کے گھر سے نکلتے وقت وہ اپنا بیگ بھی اٹھا لائی تھی اور اس نے وہاں سے نکل کر سب سے پہلے روبینہ کو کال کرکے اپنی خیریت کا بتایا تھا جو کل رات سے اس کی کال کی منتظر تھی اور ساتھ ہی وہ اس اپنے آج نا آنے کی وجہ بھی بتا چکی تھی۔ وہیں بیٹھے وہ سر سے ٹاول اتار کر اپنے بال خشک کرنے لگی اور ساتھ ساتھ کل رات سے لے کر آج شام تک کے خیال دماغ میں کسی فلم کی طرح چلنے لگے۔ وہ سب کتنا خوبصورت تھا لیکن وہ یہ نہیں چاہتی تھی۔ دل میں عجیب وسوسے سے اٹھ رہے تھے۔ ناجانے اب کیا ہوگا ؟ زندگی اب کونسا رخ لے گی۔ انھی سوچوں میں گم تھی جب باہر سے دروازہ کھلنے اور پھر بند ہونے کی آواز آئی۔ ایک پل کو وہ گھبرائی تھی لیکن پھر کیف کا خیال ہی دماغ میں آیا تھا کہ اس کے علاوہ اور کون ہوسکتا ہے۔ وہ اس کے کمرے میں داخل ہوا تو دونوں کی نظریں ملی تھیں۔ کیف کے چہرے پر غصے کے تاثرات تھے۔ وہ آگے بڑھا تھا اور اسے شانوں سے تھام کر اپنے سامنے کھڑا کیا تھا۔
” ہاؤ ڈیر یو ہاں ؟ منع کیا تھا نا کہ تم کہیں نہیں جاؤ گی ” وہ غصے سے اس پر چلایا تھا۔
” اتنی رات اکیلی چلی آئی اتنی دور۔۔۔۔اگر کچھ ہو جاتا ڈیم اٹ ” کیف کا غصہ کسی صورت کم نہیں ہورہا تھا۔ اس کی گرفت عنایہ کے بازوؤں ہر سخت ہوتی جارہی تھی۔
” پہلی بار نہیں آئی اس سے پہلے بھی ایک رات ایسے ہی آئی تھی ” وہ اس سے اپنا آپ چھوڑواتے ہوئے بولی تھی۔ اس کی بات پر کیف کی گرفت میں کچھ نرمی آئی تھی لیکن چہرے پر غصہ ہنوز برقرار تھا۔
” آئندہ ایسی حرکت کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا” کیف نے تنبیہ کرنے والے انداز میں باور کروایا تھا۔
” تم سے برا کوئی ہو بھی نہیں سکتا ” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی تھی اس کی بات پر کیف مسکرایا تھا۔
” اگر یہ شکوہ آج اور کل رات کے حوالے سے ہے تو۔۔۔۔۔۔۔” کیف نے بات اُدھوری چھوڑ دی۔ عنایہ کے چہرے کا رنگ شرم سے سرخ پڑا تھا۔
” تم انتہائی فضول انسان ہو ” اپنی خفت مٹانے کیلئے وہ اس کے پاس سے گزر کر الماری کھول کر کھڑی ہوگئی تھی۔
” چلو میں تمھے لے جانے آیا ہوں ” وہ اس کی پشت پر بکھرے بالوں کو دیکھتے ہوئے بولا تھا۔
” اور میں کہیں نہیں جاؤں گی ” وہ پلٹ کر غرائی تھی۔
” ٹھیک ہے پھر میں یہاں شفٹ ہو جاتا ہوں ” وہ آرام سے کہتا ہوا اس کے بیڈ پر بیٹھ چکا تھا اور اس کی بات پر عنایہ کا رنگ اڑا تھا۔
” تم۔۔۔۔۔۔۔۔پاگل ہوگئے ہو تم یہاں کیسے ؟ ” وہ اس کے سامنے آتے ہوئے بولی۔
” اگر تم نہیں چلو گی میرے ساتھ تو میں یہیں رہوں گا”
” تمہارا دماغ ٹھیک ہے ؟ اس رات بھی کسی نے اگر تمھے یہاں دیکھ لیا ہوا تو اور آج بھی تم یوں منہ اٹھا کر آگئے۔۔۔۔۔اس بلڈنگ میں میرے علاؤہ بھی لوگ رہتے ہیں تمھے زرا پروا نہیں وہ کیا سوچیں گے میرے بارے میں “
” یہ تو تم خود سوچو یہ میرا مسئلہ نہیں ” کیف نے لاپرواہی سے کندھے جھٹکے تھے۔
” تم ایک نمبر کے خود غرض اور فضول انسان ہو ” وہ اس کے لاپرواہی میں تلملا کر رہ گئی تھی۔
” اسی لیے کہا ہے میرے ساتھ چلو ورنہ ہر روز مجھے یہاں آتے جاتے دیکھیں گے تو تم سے سوال کریں گے تو کیا کہو گی ؟ ” کیف کو وہ خود یہ کمزوری دے چکی تھی جس کا وہ بھر پور فائدہ اٹھا رہا تھا۔
” یہاں سے جاتی ہے میری جوتی ” زور سے پیر پٹختی وہ کمرے سے نکل گئی تھی۔ پیچھے کیف ہنستا ہوا بیڈ پر لیٹ چکا تھا۔ عنایہ کا ڈوپٹہ اس کے ہاتھ کے نیچے تھا جسے اٹھا کر کیف نے اپنے چہرے پر ڈال لیا۔ اپنی آنکھیں موند کر اس کی خوشبو اپنے اندر اتاری تھی۔ باہر عنایہ کچن میں کھڑی یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہی تھی۔ دونوں ہاتھوں کو آپس میں مسلتی وہ کوئی طریقہ سوچ رہی تھی کہ کیسے اس بلا سے اپنی جان چھوڑوائے کیونکہ وہ جانتی تھی وہ یہاں سے اسے لیے بنا تو کبھی نہیں جائے گا۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہ اندر سے آتی کیف کی آواز پر وہ کچن سے نکلی تھی۔ وہ گانا گنگنا رہا تھا۔
” تیرے گھر آیا میں آیا تجھ کو لینے
دل کے بدلے میں دل کا نظرانہ دینے
میری ہر دھڑکن کیا بولے ہے
سن سن سن سن
ساجن جی گھر آئے
ساجن جی گھر آئے
دلہن کیوں شرمائے
ساجن جی گھر آئے “
” ہوگیا تمہارا؟ ” اس کے سامنے سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑی استفسار کیا۔
” ہاں ! پھر تم چل رہی ہو ؟ “
” نہیں! اب چپ کرکے یہاں سے نکلو ” عنایہ نے ہاتھ کے اشارے سے باہر کی جانب اشارہ کیا تھا۔ کیف اٹھ کھڑا ہوا تھا اور اس کے مقابل آیا۔
” نا جاؤں تو کیا کرلو گی ؟ ” کیف نے چیلنچ کرنے والے میں انداز میں کہا تھا۔ عنایہ نے تھوک نگلا تھا۔
” مم۔۔۔۔۔۔۔میں ” اس کی بات کیف نے مکمل کی تھی۔
” شور مچا کر لوگوں کو اکٹھا کرو گی۔۔۔۔۔۔۔۔تو مچاؤ شور ” وہ کہتا ہوا واپس سے بیٹھ چکا تھا۔ عنایہ ایک بار پھر بے بس ہوئی تھی اور اسے رونا بھی آیا تھا۔
” میں چل رہی ہوں ” کچھ سوچتے ہوئے اس نے حامی بھری۔ وہ مجبور تھی اس کے ساتھ جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا کم سے کم اس طرح لوگوں کے سوالوں سے تو بچ جائے گی۔ اس بلڈنگ میں موجود ہر کسی کو پتہ تھا کہ اس کی آنٹی کے جانے کے بعد سے وہ یہاں اکیلی رہتی ہے۔ یہ تو شکر تھا کہ سبھی فیملی والے لوگ تھے ورنہ وہ یہاں شاید نا رہتی۔
” گڈ ! ایسا کرو اپنا ضروری سامان پیک کرلو۔۔۔۔باقی بعد میں لے جائیں گے جب فلیٹ خالی کرنا ہوگا اوکے ” عنایہ سر ہلا کر الماری کی طرف بڑھ گئی۔
************************
رات بارہ بجے کے قریب وہ واپس مینشن پہنچے تھے۔ کیف اس کا سوٹ کیس لیے اوپر بیڈ روم میں رکھنے چلا گیا تھا جبکہ وہ ایک بار پھر سے لاؤنج میں کھڑی یہاں وہاں آنکھیں گھما کر دیکھ رہی تھی۔ کتنی مشکل سے یہاں سے نکل کر گئی تھی اور پھر سے وہیں آگئی تھی۔ واپسی پر کیف اسے ایک ریسٹورنٹ لے گیا تھا جہاں دونوں نے کھانا کھایا تھا۔ وہ چپ چاپ اس کی ساری باتیں مان رہی تھی اور کیف کو اب یہ بات کھٹک رہی تھی۔ اس لیے عنایہ کو اندر بھیج کر اس نے گارڈ کو سختی سے تاکید کی تھی اس بار۔
” یہیں کھڑے رہنے کا ارادہ ہے کیا ؟ ” کیف سیڑھیوں کے پاس کھڑا بولا۔ عنایہ نے اسے دیکھا اور پھر چلتی ہوئی اس کے پاس سے گزر کر اوپر جانے لگی۔ کیف بھی اس کے پیچھے ہو لیا تھا۔
*********************
عنایہ چینج کرنے واشروم میں گئی تو کیف اپنا سگریٹ اور لائٹر لیے باہر ٹیرس پر آگیا لیکن آتے ہوئے اس نے سلائیڈنگ ڈور اچھے سے بند کردیا تھا۔ سگریٹ سلگاتا وہ عنایہ کے اتنے جلدی مان جانے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ کچھ تو گڑبڑ تھی۔ اس کے دماغ میں ضرور کچھ تھا جس طرح سے وہ چپ چپ تھی کیف کو دال میں کچھ کالا لگ رہا تھا۔
” اس بار نہیں عنایہ۔۔۔۔۔۔۔۔اگر تم نے خود کو مجھ سے دور کرنے کی کوشش بھی کی تو آئی سویر تم میرا وہ روپ دیکھو گی جو آج تک کسی نے نہیں دیکھا ” ایک گہرا کش لیتا وہ بڑبڑایا تھا اور تبھی اس کی جیب میں رکھا فون بجا تھا۔ اس نے فون نکالا تو عمر کا نام سکرین پر دیکھ کر مسکرا کر اس نے کال پک کی اور فون اپنے کان سے لگایا۔
**********************
عمر جیسے کیف سے بات ختم کرتا فون بند کرکے پلٹا تو نظر صدمے میں کھڑی اپنی بیوی پر پڑی۔ بڑھے وزن اور پھولی پھولی جسامت کیساتھ وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے اسے بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔ چہرہ غصے کی وجہ سے سرخ ہورہا تھا۔ عمر نے وضاحت دینی چاہی لیکن وہ پلٹ کر سامنے بیڈ پر جا بیٹھی۔ اب سین کچھ یوں تھا وہ سامنے ٹیشو پیپر کا باکس رکھے آنسو بہا رہی تھی اور ساتھ ساتھ ٹیشو پیپر سے اپنا ناک صاف کررہی تھی۔ جبکہ عمر مجرم بنا کاؤچ پر بیٹھا تھا۔ وہ جب بھی کچھ وضاحت دینے کیلئے منہ کھولتا لیکن زینب اسے بولنے ہی نا دیتی۔
” تم شادی کے بعد سے کتنا بدل گئے ہو ہاں۔۔۔ مجھ سے باتیں چھپانی شروع کردیں ” وہ سوں سوں کرتی شکوہ کرنے لگی۔
” میری دوست جس کے مل جانے کی میں نے اتنی دعائیں کیں اور جب وہ مل گئی تو میرے ہی شوہر نے مجھ سے چھپایا “
” ارے یار کہاں پھنس گیا ” عمر ہلکے سے بڑبڑایا تھا لیکن زینب سن چکی تھی۔ اس نے وہیں سے ٹشو والا ڈبہ اٹھا کر اس پر پھینکا تھا۔ جو بروقت عمر نے کیچ کیا تھا۔
” میں انکل آنٹی کے ساتھ پاکستان جارہی ہوں سمجھے تم ” اس نے کیف کے پیرنٹس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کیونکہ آج رات ان کی واپسی کی فلائٹ تھی۔
” پاگل ہوگئی ہو ؟ تم ٹریول نہیں کرسکتی ” عمر تو اس کی بات پر ہتھے سے اکھڑا تھا۔
” کروں گی۔۔۔۔۔۔۔۔ ” زینب جان بوجھ کر بولی تھی صرف عمر سے بدلہ لینے کی غرض سے ورنہ جانتی تھی کہ ٹریول تو وہ اب بے بی کے آنے کے بعد ہی کر پائے گی۔
” زینب کیا طریقہ ہے یہ ؟ تمہاری اسی بات کی وجہ سے نہیں بتایا تھا تمھے، مجھے پتا تھا تم واپس جانے کی ضد کرو گی اور پھر کیف پہلے خود اسے ہینڈل کرنا چاہتا تھا” اس کی بات پر وہ کھڑا ہوتا بولا تھا۔
” ہاں تو میں نہیں جاتی۔۔۔۔۔۔لیکن مجھے بتا تو سکتے تھے نا ؟ “
” یار۔۔۔۔۔۔۔۔اب پتہ چل گیا نا پلیز اب یہ رونا بند کرو ” عمر اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا تھا۔
” اور کیا کیا چھپایا ہے مجھ سے ؟ ” وہ اب مشکوک نظروں سے عمر کو گھورتے ہوئے بولی تھی۔
” افف کیا چیز ہو تم ” عمر مسکرایا تھا۔
” چیز ہوگے تم۔۔۔۔۔” وہ اب رونا بھولے واپس سے اپنی ٹون میں آ چکی تھی۔
” تو پھر تم کیا ہو ؟ ” عمر اس کی طرف جھکتا اب رومانوی انداز میں گویا ہوا۔
” زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ” زینب نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کرنا چاہا۔
” ویسے زینب چیز تو نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن ” وہ کہہ کر اس کے پاس سے اٹھ چکا تھا جبکہ وہ اس کی طرف دیکھ رہی تھی کہ وہ کیا کہنے والا ہے۔
” کیوٹ لگتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اس کی بات پر وہ مسکرائی تھی۔
” میری موٹو ” عمر کہہ کر تیزی سے دروازے کی طرف بھاگا تھا۔ پیچھے سے زینب نے بیڈ سے کشن اٹھا کر دروازے کی جانب پھینکے تھے لیکن تب تک وہ جا چکا تھا۔
**********************
” پتا نہیں کہاں گیا ہے ؟ ” وہ چینج کرکے واپس آئی تو کیف کمرے میں نہیں تھا۔ وہ بیڈ پر بیٹھی اس کا انتظار کرنے لگی اور پھر اس نے دیکھا کہ سلائڈنگ ڈور کھلا تھا اور وہ اس کے پیچھے سے نکل کر کمرے میں آیا۔
” تم سوئی نہیں ابھی تک ؟ ” کیف کو لگا وہ اب تک سو چکی ہوگی۔ عنایہ یوں ہی بیٹھے اسے گھورتی رہی تھی۔ کیف نے سگریٹ اور لائٹر سائڈ ٹیبل ڈرا میں رکھا تو عنایہ اپنے دانت پیستے ہوئے رخ موڑ گئی۔ وہ چلتا ہوا اس کے پاس بیٹھ گیا۔
” کیا ہوا ؟ ” کیف نے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا تھا لیکن عنایہ اس کے پاس سے ہی اٹھ گئی تھی۔
” تم کہاں سو گئے ؟ ” عنایہ نے پوچھا۔
” یہیں اور کہاں ؟ ” کیف نے جواب دیا۔
” نہیں! ” وہ پلٹ کر بولی تھی۔ کیف اٹھ کر اس کے پاس آیا تھا۔
” تم کسی دوسرے روم میں چلے جاؤ ” عنایہ نے فوراً کہا تھا۔
” اب کیا فائدہ ؟ ” کیف نے شرارت بھرے انداز میں کہا تو عنایہ نے خود کو کوسا تھا۔ اس قدر بے شرم انسان اس نے آج تک نہیں دیکھا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر بیڈ پر رکھے دو کشن اٹھا کر انھیں درمیان میں رکھا اور خود پر کمبل اچھے سے اوڑھ کر لیٹ چکی تھی۔ کیف اس کی حرکت پر مسکرایا تھا پھر لائٹ آف کرتا دوسری سائڈ پر جا کر لیٹ گیا۔ تھوڑی دیر ہی گزری تھی جب کیف نے درمیان میں رکھے کشن اٹھا کر اندھیرے میں نیچے فرش پر پھینکے تھے اود پھر عنایہ کی ایک چیخ گونجی تھی اور اس کے بعد سے کمرے میں مکمل خاموشی چھائی تھی۔
**********************
صبح کیف آفس جانے کیلئے نک سک سا تیار کھڑا تھا۔ آج اس کی ایک اہم میٹنگ تھی۔ آگے ہی وہ ایک دن چھٹی کر چکا تھا جو کہ اتنے عرصے بعد پہلی بار ہوا تھا۔ کیف صوفیا سے کال پر بات کررہا تھا جب عنایہ اس کی آواز سے اٹھ گئی۔
” گڈ مارننگ! ” کال بند کرتا وہ عنایہ کو نظروں کے حصار میں لیے بولا تھا۔
” تم کہاں جا رہے ہو ؟ ” عنایہ پوچھے بنا نا رہ سکی۔
” آفس جارہا ہوں۔ میری ایک میٹنگ ہے لیٹ ہورہا ہوں شام کو ملتے ہیں” کیف کہہ کر روم سے نکل گیا تو عنایہ جلدی سے اس کے پیچھے گئی تھی۔
” مجھے دو منٹ دو میں تیار ہو کر آتی ہوں” اس نے پیچھے سے آواز دی تھی۔ اس کی آواز پر کیف رکا تھا اور پلٹ کر اس تک آیا تھا۔
” تم کیا کرو گی جا کر ؟ تم ریزائن دے چکی ہو اور آج ہم کسی کو ہائر کر لیں گے تمہاری جگہ “
” لیکن آج میرا لاسٹ ڈے تو ہے نا اور مجھے سب سے ملنا ہے اور اپنی کچھ چیزیں بھی اٹھانی تھیں “
” میں لے آؤں گا جو بھی چیز ہے اور ملنے کی ضرورت نہیں سب کو کال کرکے خیر باد کہہ دینا ” کیف کہہ کر واپس پلٹا تو عنایہ نے منہ بگاڑا کر اس کی پشت کو گھورا تھا اور اسی وقت کیف واپس اس کی جانب مڑا تو وہ گڑبڑا گئی۔
” اور ہاں مینشن سے نکلنے کی کوشش بھی مت کرنا کیونکہ اب تمہاری کوئی بھی ترکیب گارڈ کے سامنے نہیں چلے گی اور میں جاتے ہوئے ملازمہ اور کک کو بھیج دوں گا وہ تمھے ناشتہ بنا دے گا اور ملازمہ سے ذرا صفائی وغیرہ کروا لینا اوکے ” وہ اسے اچھے سے تاکید کرتا جا چکا تھا۔
**********************
حیدر کی امی اور بہن کو یوں اچانک اپنے گھر دیکھ کر وہ حیران تھی۔ وہ اپنے بابا سے چائے کا پوچھنے آئی تھی لیکن انھیں اندر آتے دیکھ وہ جلدی سے واپس کچن میں آئی تھی۔ اپنے حلیے پر نظر ڈالی تو زبان دانتوں تلے دبائی وہ اب تک اپنے نائٹ سوٹ میں ملبوس تھی۔ یہ تو شکر تھا کہ کسی کی نظر اس پر نہیں پڑی تھی لیکن فلحال سوال یہ من میں آرہا تھا کہ وہ لوگ ہمارے گھر کیسے ؟
” کیا وہ بھی آیا ہوگا ؟ ” حیدر کے بارے میں سوچتے ہوئے اس کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی۔ وہ اپنے خیالوں میں گم تھی جب اس کی امی کچن میں آئی۔
” حورین جلدی سے جوس نکالو باہر مہمان آئے ہیں ” وہ کہہ کر کیبنٹ سے گلاس نکال رہی تھیں۔ حورین ان کی بات پر عمل کرنے کی بجائے ان کی طرف آئی۔
” لیکن امی وہ ہمارے گھر کیوں آئے ہیں ؟ ” اس نے سادگی سے پوچھا۔
” گھر آئے مہمان کے بارے میں ایسے کہتے ہیں اور تمھے جوس نکالنے کیلئے بولا تھا ” انہوں نے ڈپٹ کر کہا اور خود ہی جوس نکالنے لگیں۔
” ارے نہیں میرا مطلب تھا کہ کوئی بات ہے کیا؟ آج سے پہلے تو نہیں آئے اور نا ہم انھیں جانتے ہیں کہ وہ یوں ہمارے گھر آجائیں”
” یہ تو مجھے بھی نہیں پتہ ” وہ گلاس ٹرے میں رکھ کر جیسے ہی پلٹی تھیں اسے ویسے ہی دیکھ کر ان کا پارہ ہائی ہوا تھا۔
” یہ تم کیا بن کر گھوم رہی ہو گھر پر افف حور باہر وہ بچی دیکھو کتنی ڈیسنٹ ہے اور ایک تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ اسے نور کا حوالہ دیتیں تاسف سے بولیں اور پھر اس کے پاس سے گزر کر کچن سے نکل گئیں جبکہ حورین نے منہ بنایا تھا۔ وہ بھی جلدی سے باہر گئی تھی تاکہ چھپ کر ان کی باتیں سن سکے۔ اور پانچ منٹ بعد ہی وہ لال ہوتا چہرہ اور منتشر دھڑکنوں کیساتھ واپس آئی تھی اور اب کچن کی دیوار کے ساتھ لگی کھڑی تھی۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا جو وہ سن کہ آئی تھی وہ سچ ہے۔ اس کی امی مسکراتی ہوئی ایک بار پھر سے کچن میں آئی تھیں۔
” حورین میری بچی ” انہوں نے آگے بڑھ کر حورین کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا تھا۔
” مجھے یقین نہیں آرہا ” ان کی خوشی دیدنی تھی۔ حورین کے لبوں پر شرمگیں مسکان سجی تھی۔
” تم نے ابھی تک چینج بھی نہیں کیا جاؤ جلدی سے چینج کرکے آؤ اور ہاں اچھے سے تیار ہو کر آنا ” وہ اسے تاکید کرتیں واپس باہر نکل گئیں۔ وہ بھی جلدی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔
**********************
شام کو کیف تھکا ہارا واپس آیا تو عنایہ کو لاونج میں بیٹھے دیکھ اس کی ساری تھکن جاتی رہی تھی۔ وہ ایل ای ڈی پر کوئی ڈرامہ دیکھنے میں اتنا مگن تھی کہ اس کے آنے کا اسے پتہ ہی نہیں چلا تھا۔ وہ اس وقت اس کے گھر پر یوں حق سے بیٹھی کیف کے دل کو ایک انوکھا سا احساس بخش رہی تھی۔ کیف چلتا ہوا اس کے پاس بیٹھا تو وہ ہوش میں آئی تھی۔ لیکن ایک نظر اسے دیکھ کر واپس سے ڈرامے کی طرف متوجہ ہوگئی۔
” میں ذرا فریش ہو کر آتا ہوں ” تھوڑی دیر اس کے پاس بیٹھے رہنے نے بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
**********************
رات کا کھانا دونوں نے ساتھ کھایا تھا۔ کھانا کھاتے وقت کیف مسلسل عنایہ پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔
” ایک بات تو بتاؤ تمہارے اس خرافاتی دماغ میں کیا چل رہا ہے ؟ کیونکہ تم بنا مجھ سے جھگڑے یہاں چپ چاپ تو رہ نہیں سکتی ضرور کچھ سوچ رہی ہو ہے نا ؟ ” کیف نے اپنے ذہن میں پلتا سوال آخر پوچھ ہی لیا تھا۔
” بالکل صحیح سمجھے ہو میں سوچ رہی ہوں کہ کیسے تم سے جان چھڑائی جائے ” عنایہ نے منہ بنا کر کہا تھا۔ کیف کا قہقہ بے ساختہ تھا۔
” یہ تو نا ممکن ہے سویٹ ہارٹ ” کیف نے فورک سے چکن کھاتے ہوئے مزے سے کہا تھا۔ عنایہ اپنا کھانا ختم کرتی اس کے پاس سے اٹھ گئی تھی۔ کیف بھی پانی پیتا اٹھ کھڑا ہوا۔
” اچھا سنو ” کیف نے پیچھے سے آواز دی تھی۔
” کل مام ڈیڈ آرہے ہیں ” کیف نے اس کے سر پر بم پھوڑا تھا۔
” کیوں ؟؟؟ ” عنایہ نے گھبرا کر پوچھا تھا۔
” کیا مطلب کیوں ؟ ان کا گھر ہے یہ۔۔۔۔۔ یہاں نہیں آئیں گے تو کہاں جائیں گے ؟ “
” تو پھر تم مجھے واپس چھوڑ کر آؤ” عنایہ نے جلدی سے کہا۔ کیف کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔
” عنایہ ! یہ کیا ہے ہاں ؟ کیوں فضول میں بار بار ایک بات دہراتی ہو ؟ جب میں نے کہہ دیا کہ تم اب سے یہیں رہو گی تو پھر کیوں کرتی ہو ایسے ؟ ” کیف اب تنگ آچکا تھا۔
” تم سمجھتے کیوں نہیں ؟ میں کیسے فیس کروں گی انھیں کیف ؟ وہ کیا سوچیں گے میرے بارے میں ؟ ” عنایہ نے اپنا خدشہ اس کے سامنے رکھا تھا۔
” وہ سب جانتے ہیں۔۔۔۔میں سب بتا چکا ہوں۔۔۔۔۔یہ بھی کہ میں نے تمہیں کیسے اس نکاح کیلئے راضی کیا تھا “
” مجھے پھر بھی یہاں سے جانا ہے کیف۔۔۔۔۔۔۔تم پاگل ہو۔۔۔۔۔۔میں نہیں چاہتی کہ وہ میرے بارے میں کچھ بھی غلط سوچیں افف۔۔۔۔۔۔۔کیا سوچتے ہوں گے کہ میں پانچ سال غائب رہی کہاں تھی کس کے پاس تھی ” اس کی بات پر کیف غصے سے اس کے قریب ہوا تھا۔
” عنایہ۔۔۔۔۔۔۔کوئی بھی بکواس کرکے مجھے مزید غصہ مت دلانا۔۔۔۔۔سب جانتے ہیں جو بھی ہوا میری وجہ سے ہوا تھا۔۔۔۔۔۔انفیکٹ ڈیڈ مجھ سے بے حد غصہ تھے اور وہ تمہارے گھر بھی جانا چاہتے تھے اور تمہیں ڈھونڈنے کیلئے ڈیڈ نے مجھے بہت کہا کہ ان کا دوست اس میں ہماری مدد کرسکتا ہے لیکن میں نے انکار کردیا تھا کیونکہ تمہاری کزن نے بتایا تھا کہ تم اپنی کسی آنٹی کے پاس سہی سلامت ہو ” وہ رسانیت سے کہہ رہا تھا۔ عنایہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی۔ ابھی کچھ ہی پل گزرے تھے جب وہ دوبارہ سے اس کے روبرو ہوئی چلائی تھی۔
” مجھے سمجھ نہیں آتا تم کیا چاہتے ہو اب مجھ سے؟ جو چاہتے تھے وہ ہوچکا نا تو اب مجھے جانے دو”
” کیا کہا ؟ ” اس نے بے یقینی سے عنایہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔
” کیوں یہ نہیں چاہتے تھے تم ہمیشہ سے ؟ اس شام جب میں اور زینب تمہارے فارم ہاؤس پر آئے تھے یہ ہی ارادہ تھا تمہارا تب بھی اور اس رات جب تم میرے فلیٹ پر آئے تھے تب بھی ” وہ اس سے کہہ رہی تھی۔
کیف کی آنکھوں میں تو گویا خون اتر آیا ۔ وہ کیسے اس کے محبت کی اتنی تذلیل کرسکتی تھی۔ اس نے ضبط سے اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ لیں۔ عنایہ سے نظریں ہٹا کر وہ اپنی آنکھیں بند کرتا اپنا غصہ دبانے کی کوشش کرنے لگا۔ کچھ پل خاموشی کے نظر ہوئے پھر کیف نے اپنی بند آنکھیں کھول کر واپس عنایہ کی جانب دیکھا تھا۔ عنایہ اسے یوں دیکھ کر ایک پل کو سہم گئی تھی۔ کیف نے آگے بڑھ کر سختی سے اس کے بازوؤں سے تھاما تھا۔
” ہاں صحیح کہا تم نے میں یہ ہی چاہتا تھا اور میں ایسا ہی ہوں صرف تم نہیں اور بھی بہت سی لڑکیوں کیساتھ میرے تعلقات ہیں اور ہاں اس رات میں نتاشہ کیساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ اپنی بات مکمل نہیں کر پایا تھا کیونکہ عنایہ اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے آزاد کرتی اس کے منہ پر تھپڑ لگا چکی تھی۔ کیف نے شعلہ بار نظروں سے عنایہ کو گھورا تھا۔ اس کی رنگت میں طیش کی سرخی گھلی ہوئی تھی۔ جبکہ عنایہ کانپ رہی تھی۔ اسے کیف سے ڈر لگنے لگا تھا۔ ناجانے کیسے اس نے اس پر ہاتھ اٹھا دیا تھا۔ اس کی بات نے اسے تکلیف دی تھی شاید اس لیے۔ کیف اسے چھوڑتا وہاں سے جاچکا تھا اور عنایہ وہیں بت بنی کھڑی رہی۔
************************
رات بھر عنایہ آنسو بہاتی رہی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے ؟ ایک طرف دل چاہتا تھا سب بھول کے کیف کو معاف کردے دوسری طرف اس کا دیا دھوکہ یاد آ جاتا تھا۔ ایک طرف دل چاہتا تھا اس کے سینے سے لگ کر سارے غم بھول جائے دوسری طرف گھر سے نکالے جانا اور اپنے ماموں کا غم تازہ ہو جاتا تھا۔ ہر دکھ اسی شخص کا دیا ہوا تھا جس سے اس نے دنیا میں سب سے زیادہ محبت کی تھی۔ اب عنایہ کو لگ رہا تھا اس کی کوئی عزت نفس ہی نہیں ہے کوئی ایگو نہیں ہے۔ وہ کیسے ایسے شخص سے محبت کر سکتی تھی۔ انہی سوچوں میں کیف کی فیملی کا خیال آیا۔ وہ لوگ اچانک کہاں سے آگئے۔ اسے لگا تھا وہ کیف کیساتھ یہاں آئے گی اور پھر موقع ملتے ہی یہاں سے نکل جائے گی لیکن اب اس کی فیملی۔
” پتا نہیں وہ میرے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے کہیں جو کچھ ممانی نے کہا تھا ویسا سب کچھ یہاں بھی۔۔۔۔۔۔۔ظاہر ہے سب ایسا ہی سوچیں گے، لوگ تو لڑکی کو ہی قصوروار سمجھتے ہیں ” وہ بدگماں ہی بدگماں نظر آرہی تھی۔ پوری رات انہی سوچوں میں اور رونے بیت گئی تھی۔ کیف رات بھر کمرے میں نہیں آیا تھا اور عنایہ کو اس کی پروا بھی نہیں تھی۔
***********************
اگلے روز وہ دس بجے کے قریب جاگ گئی تھی۔ فریش ہوتی وہ نیچے آئی تو ملازمین کی ڈور لگی ہوئی تھی۔ عنایہ کو لگا سب آچکے ہیں اور اسے نیچے نہیں آنا چاہیے تھا۔ اس کے پاس سے ایک ملازمہ گزر کر جانے لگی جب عنایہ نے اس سے کیف کا پوچھا تھا جس پر اس نے بتایا کہ وہ ایئرپورٹ گیا ہوا ہے۔ عنایہ کو لگا یہ صحیح موقع ہے وہ یہاں سے بھاگ سکتی ہے۔ جلدی سے فلیٹ پہنچ کر اپنا سارا ضروری سامان لے کر وہ کہیں دور چلی جائے گی جہاں کیف کبھی اسے ڈھونڈ نہیں پائے گا۔ یہ ہی سوچتے ہوئے وہ برق رفتاری سے واپس بیڈروم میں گئی تھی اور اپنا ہینڈ بیگ اور فون لے کر آئی تھی لیکن جیسے ہی وہ نیچے آئی کیف کی فیملی اسے لاونج میں اینٹر ہوتی نظر آئی۔ عنایہ وہیں فریز کھڑی رہ گئی۔
***********************
