222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 2)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

عنایہ یونیورسٹی سے واپس آنے کے بعد سے کچن میں موجود کیک بیک کرنے میں مصروف تھی جب نور کچن میں آئی۔

” اچھا تو پھر کیسا رہا آپکا پہلا دن ؟” نور نے کچن کاونٹر پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔

” ٹھیک تھا بس ” عنایہ نے باؤل میں چمچ چلاتے ہوئے جواب دیا۔

” بس ٹھیک تھا ؟ ارے کچھ تو بتائیں وہاں کا ماحول ؟ اور ہاں کسی نے آپکی ریگنگ ویگنگ کی کیا ؟ “

” میری ریگنگ کوئی کر سکتا ہے بھلا ؟ ” عنایہ نے فخریہ انداز اپنائے کہا۔

” ہاں بھئی یہ بھی ہے آپ سے کون پنگا لے سکتا ؟ چلیں پھر آپ سے کچھ پوچھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔۔۔ مجھے لگا تھا کوئی انٹرسٹنگ سا قصہ سنائیں گی کہ آج یہ ہوا وہ ہوا۔۔۔۔کسی ہینڈسم سے لڑکے نے آپکی ریگنگ کی ہوگی اور آپ نے بھی بھر پور جوابی کارروائی کی ہوگی۔۔۔۔لیکن نہیں ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔۔ہونہہ ” ساری بات کہہ کر نور نے منہ بسورا۔ اسکی بات سن کر عنایہ ہنسی تھی۔

” توبہ ہے نور کیا کیا سوچتی ہو تم۔۔۔۔۔ چلو اب تنگ نہیں کرو مجھے جلدی سے کیک بنانا ہے “

” ہاں بھئ بنائیں اپنا کیک۔۔۔۔ لیکن آپی آپکے ساتھ اس گھر میں کافی بوریت محسوس ہونے لگی ہے اب مجھے۔۔۔۔ہائے کاش حیدر بھائی آجائیں تو ان کے ساتھ مل کر کچھ ایکسائٹنگ سا کرنے کو ملے”۔

” ہاں ہاں میرے ساتھ تو اب تم بور ہی ہوگی نا۔۔۔میری پڑھائی جو شروع ہوگئی، ابھی تھوڑے دنوں پہلے تک تم اپنے ساتھ مجھے کہاں کہاں لے کر گئی ہو اور کیا کیا نہیں کروایا اور ہاں اب سے کوئی مووی نہیں لگے گی رات کو سمجھی۔۔۔۔ “

” او ہو مطلب فل بورنگ لائف ہونے جارہی میری اب ” نور نے تاسف سے کہا۔

” بالکل اب تم بھی اپنی سٹڈیز پر دھیان دو کچھ ہی ماہ میں تمہارے بھی امتحان ہونے والے ہیں، اب سے یہ ایڈوینچر سب ختم ” عنایہ نے آمیزہ پین میں انڈیلا اور اسے اون میں رکھتے ہوئے نور کو تاکید کی۔

” ہائے !!!! ایسا تو نا کہیں۔۔۔۔تھوڑا بہت تو چلتا ہے “

” بالکل بھی نہیں چلے گا اور آجاؤ باہر چلیں کیک بیک ہونے میں وقت لگے گا ابھی” عنایہ کہتے ہوئے کچن سے نکل گئی اور نور بھی اسکے پیچھے منہ لٹکائے چل دی۔

********************

یونیورسٹی کے بعد کیف عمر اور نتاشہ کے ساتھ لنچ پر چلا گیا تھا۔ پھر وہاں سے وہ کہیں اور گھومنے گئے۔ شام کے سائے ڈھلے تو نتاشہ بھی اپنے گھر روانہ ہوگئی۔ اس کے بعد کیف اور عمر لانگ ڈرائیو پر نکل گئے۔ کیف اور عمر کی دوستی تب سے تھی جب انھیں دوستی کا صحیح سے معنی بھی نہیں پتا تھا۔ یعنی دونوں بچپن کے دوست تھے اور ساتھ ہی ساتھ عمر کیف کا خالہ ذاد بھائی بھی تھا۔ عمر کی فیملی حال ہی میں انگلینڈ سیٹل ہوئی تھی۔ جانا تو عمر نے بھی تھا لیکن وہ کیف کی وجہ سے نہیں گیا۔ کیونکہ اس نے کیف سے وعدہ کیا تھا کہ وہ دونوں اپنی ڈگری ایک ساتھ ہی ایک ہی یونیورسٹی سے مکمل کریں گے۔ اور یوں عمر اب اپنی ڈگری مکمل ہونے تک پاکستان میں ہی تھا۔ رات کے ایک بجے کے قریب کیف مرتضیٰ مینشن میں داخل ہوا تھا۔ اس سے پہلے کے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھتا۔ رابعہ مرتضیٰ کی آواز سے اس کے قدم وہیں تھمے تھے۔

” یہ وقت ہے گھر آنے کا ؟ ” سلک کے نائٹ گاؤن میں ملبوس ہاتھوں میں پانی کا جگ تھامے وہ اس سے سوال کررہی تھیں۔ یقیناً وہ اس وقت پانی پینے کیلئے جاگی تھیں۔

” آپکو کب سے پروا ہونے لگی میرے دیر سے گھر آنے کی ؟ ” کیف نے انکی طرف پلٹ کر الٹا سوال پوچھا تھا۔

” کیف بات کو گھماؤ مت جو پوچھا ہے سیدھے سے جواب دو “

” آلرائٹ ! سیدھے سے ہی دیتے ہیں۔۔۔۔ ” کیف کہتے ہوئے انکی طرف بڑھا تھا۔

” آپ مجھ سے کسی بھی قسم کے سوال جواب کا حق نہیں رکھتیں۔۔۔۔۔۔۔ ” کیف نے ایک ایک لفظ ٹھہر ٹھہر کر انکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا اور وہ وہاں سے جانے لگا کہ ایک بار پھر سے انکی کہی بات پر وہ رکا تھا۔

” سارے حق میں ہی رکھتی ہوں کیونکہ ماں ہوں میں تمہاری “

” ماں۔۔۔۔۔۔۔ جی اچھے سے جانتا ہوں کہ آپ ماں ہیں میری لیکن آپ بھول چکی ہیں کہ کوئی بیٹا بھی ہے آپ کا۔۔۔۔۔۔۔” یہ کہہ کر وہ تیزی سے سیڑھیاں عبور کرتا اپنے کمرے میں بند ہو گیا تھا۔ پیچھے رابعہ مرتضیٰ تنہا کھڑی رہ گئیں۔

*********************

مرتضیٰ صاحب شہر کے جانے مانے انڈسٹریلز تھے۔ انکی رابعہ بیگم سے پسند کی شادی ہوئی تھی۔ شادی کے شروع کے چند سال ان کے بھی آئیڈیل کپل کی طرح گزرے تھے۔ شادی کے دو سال بعد ان کے ہاں کیف کی پیدائش ہوئی تو انھیں اپنی زندگی مکمل لگنے لگی تھی۔ لیکن کیف کے بعد سے ہی رابعہ بیگم کو اپنی زندگی بہت عام گھریلو خواتین جیسی لگنے لگی جو بس گھر بار اور بچے سنبھالتی ہیں۔ رابعہ بیگم کو اپنی اتنی ہائی ایجوکیشن بے کار لگی۔ مرتضیٰ سے ملنے سے پہلے تک تو انکا پلان اپنی ڈگری مکمل کرکے جاب کرنے کا تھا لیکن پھر یونیورسٹی کے دنوں میں انھیں مرتضیٰ سے محبت ہوگئی۔ اور یوں وہ انکی اہلیہ کے درجے ہر فائز ہوگئیں۔ انھوں نے اپنا میل ملاپ ہائی سوسائٹی کی خواتین کے ساتھ بڑھا دیا اور اس طرح وہ پارٹیز سیمینار اور سوشل گیدرنگز پر جانے لگیں۔ وہ مختلف این جی اوز اور فلاحی اداروں کیلئے بھی کام کرنے لگیں۔ اس وجہ سے گھر اور کیف کو ملازموں کے حال ہر چھوڑ دیا۔ مرتضیٰ صاحب نے یہ سب دیکھ کر ان کو سمجھانا چاہا لیکن وہ سمجھنے کیلئے تیار نا تھیں۔ کیف جب چار سال کا ہوا تو انھیں پھر سے ماں بننے کی خوشخبری ملی۔ مرتضیٰ صاحب کو لگا شاید اب کی بار رابعہ سنبھل جائیں لیکن ایسا نا ہوا تھا۔ منال کی پیدائش کے شروع کہ چند ماہ تو وہ گھر پر رہتی تھیں لیکن پھر سے وہ اپنے مامعول پر آگئیں۔ ایسا نا تھا کہ انھیں اپنے گھر یا بچوں سے محبت نا تھی صرف وہ ان کو وہ وقت نہیں دیتی تھیں جس کی ضرورت بچوں کو اس عمر میں ہوتی ہے۔ کیونکہ بچوں کی تربیت ایک ماں سے بہتر کوئی نہیں کرسکتا۔ مرتضیٰ صاحب نے تو ان سے شکوے شکایت کرنا بھی ترک کردیا تھا اور انکو اسی حال پر چھوڑ دیا اور بچوں کیلئے ایک رضائی ماں کا بندوست کردیا جن کی شفقت کی چھاؤں تلے کیف اور منال پروان چڑھے تھے۔ کیف جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا تھا اپنی ماں کی محبت سے محرومی اسے تکلیف دیتی گئی۔ وہ خود بھی ان سے دور ہوتا گیا۔ کیف اور منال دونوں ہی ماں کی محبت کے روپ سے آشنا نہ تھے۔ آمنہ بی(رضائی ماں) نے تو کافی حد تک وہ کمی پوری کردی تھی لیکن کیف کافی سمجھدار اور حساس بچہ تھا وہ رابعہ بیگم کی توجہ نا دینا اچھے سے محسوس کرتا تھا۔ اسی وجہ سے اس کی شخصیت میں ایک خلا سا بڑھتا گیا۔

********************

اگلے روز ایک خوبصورت اور نکھری سی صبح اسلامآباد میں اتری تھی۔ جو ماحول میں ایک سکون طاری کیے ہوئے تھی۔ کیف صاحب اوندھے منہ لیٹے سو رہے تھے جب منال اس کے کمرے میں داخل ہوئی اور کھڑکھی پر سے پردے ہٹا دیے۔ دھوپ کی کرنیں پھوٹتی سامنے مزے سے سوئے کیف کے چہرے پر پڑی تو اس نے برا سا منہ بنا کر اپنا چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔

” بھائی جاگ جائیں صبح ہو چکی ہے ” منال نے آگے بڑھ کر اسکے کندھے سے ہلایا۔

کیف کسما کر سیدھا ہوا اور نیم وا آنکھوں سے اپنے سرہانے کھڑی اپنی چھوٹی بہن کو دیکھا جو خو بہو اسکے جیسے دیکھتی تھی۔ پونی میں بندھے بال کالج یونیفارم پہنے وہ بالکل تیار کھڑی تھی۔

” دیکھیں میں آپ سے ناراض تھی پھر بھی آپکو جگانے آگئی ہوں تو اسے میرا احسان سمجھیں اور اٹھ جائیں نیچے ڈیڈ بھی آپکا ناشتے پر انتطار کر رہے ہیں ” وہ منہ پھلائے کہہ کر جانے لگی تھی جب کیف نے اسکا ہاتھ تھام کر جانے سے روکا اور خود بھی اٹھ بیٹھا۔

” میری پیاری سی چھوٹی سی جان ناراض ہے اپنے بھائی سے ؟ ” کیف نے پیار سے اسکے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” تو اور نا ہوں ناراض کل رات کتنی دیر آپکا انتظار کرتی رہی اور آپ آئے نہیں اوپر سے آپکا فون بھی آف تھا “

” سوری یار میں آ نہیں سکا دوستوں کے ساتھ تھا اس لیے وقت کا پتا نہیں چلا، لیکن آج پکا پرامس میں ٹائم پر گھر آؤں گا اور اپنی پرنسس کو اپنے ساتھ شاپنگ کروانے لے جاؤں گا “

” پکا والا پرامس؟؟” منال نے مسکرا کر اپنا ہاتھ آگے کیا تھا۔ ویسے بھی وہ اپنے بھائی سے زیادہ دیر ناراض رہ ہی نہیں سکتی تھی اس لیے اسکی ایک ہی بار کی وضاحت پر مان گئی۔

” پکا والا پرامس ۔۔۔۔۔” کیف نے بھی مسکرا کر اسکا ہاتھ تھام لیا۔ دونوں دل کھل کر مسکرائے تھے۔

********************

ایم بی اے کی ایک کلاس میں کافی شور سا مچا تھا۔ سب سٹوڈنٹ بیٹھے گپیں لگا رہے تھے۔ کیف بھی ایک چیئر پر بیٹھا اپنے پاؤں سامنے پڑی چیئر پر رکھے ہوئے تھا۔ وہ اور عمر اپنے کلاس فیلو سے کل ہونے والی ریگنگ پر بات کرتے ہوئے ہنس رہے تھے جب عنایہ اور زینب کلاس میں داخل ہوئیں۔

” ارے یار عنایہ کہاں بیٹھیں یہاں تو پوری کلاس ہی بھری پڑی ہے ” زینب نے اردگرد نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔

” ہے بھئی وہ دیکھ نہیں رہی وہ لڑکے ایکسٹرا چیئر لیے بیٹھیں ہیں، چلو آؤ میرے پیچھے ” عنایہ نے اپنے قدم اس طرف بڑھائے جہاں کیف اور باقی لڑکے ایک گروپ کی صورت بیٹھے تھے۔ کیف نے عنایہ کو دیکھا تھا جو آنکھوں سے اسکے پاؤں کی طرف دیکھتے ہوئے وہاں سے پاؤں ہٹانے کا کہہ رہی تھی لیکن کیف ہونز ویسے ہی رہا۔

” اپنے پاؤں ہٹانے کی زحمت کرو گے ” عنایہ نے اسے ایسے ہی بیٹھے دیکھا تو مجبوراً کہنا پڑا۔ کیف کے کانوں میں جوں تک نا رینگی وہ ایسے ظاہر کرنے لگا جیسے کچھ سنا ہی نا ہو جبکہ پاس بیٹھے دوسرے لڑکے اٹھ چکے تھے۔

” میرے خیال سے تمھے سنائی نہیں دیتا ” عنایہ نے دانت پیستے ہوئے کہا۔

کیف نے چیئر سے پاؤں ہٹائے اور اٹھ کر بالکل عنایہ کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ اس سے پہلے وہ اسے کچھ کہتا کلاس میں ٹیچر داخل ہوچکے تھے جس کی وجہ سے مجبوراً کیف کو چپ رہنا پڑا لیکن اس نے عنایہ کو تیکھی نظروں سے گھورا ضرور تھا۔ سب سٹوڈنٹس اپنی اپنی سیٹ ہر بیٹھ چکے تھے۔ ٹیچر نے اپنا تعارف کروایا اور پھر باری باری سب سٹوڈنٹس سے اپنا اپنا تعارف کروانے کا کہا۔

اسی طرح آج صرف ٹیچرز نےسب سے ہلکی پھلکی باتیں ہی کی تھیں اور پڑھائی کا باقاعدہ آغاز کل کا کہہ کر چلے گئے۔

تھوڑی دیر بعد سر اقبال کی کلاس شروع ہوئی تھی جو ایچ آر مینجمنٹ کے لیکچرار تھے وہ سخت طبیعت کے مالک تھے اس لیے آتے ہی انھوں نے اپنا تعارف دے کر بورڈ پر پڑھانا شروع کردیا۔ سب سٹوڈنٹس سے انھوں کوئی تعارف نا لیا تھا اس سے سب کو معلوم ہوگیا تھا کہ وہ کافی سٹریکٹ ہیں۔ ابھی سر اقبال نے بورڈ پر مارکر سے ٹاپک لکھا ہی تھا کہ پوری کلاس میں فون کی رنگ ٹون گونجی تھی۔ سب ہی سٹوڈنٹس ایک دم ادھر ادھر دیکھنے لگے تھے۔ جبکہ کیف نے اپنی آنکھیں میچ لی وہ اپنا فون سئلنٹ پر لگانا بھول گیا تھا۔ اس نے جلدی سے فون نکال کر سامنے بیٹھی عنایہ کے کھلے بیگ میں رکھ دیا۔ فون ایک بار پھر سے بجنے لگا۔ عنایہ کو اپنے پاس سے آواز آئی تو وہ سوالیہ انداز میں ساتھ بیٹھی زینب کی طرف دیکھنے لگی۔ عنایہ کو لگا شاید زینب کا فون بج رہا ہے کیونکہ وہ تو فون آج ساتھ لائی ہی نہیں تھی۔

” کون ہے جسے کلاس کے رولز کا نہیں پتا ؟ ” سر اقبال نے مڑ کر سامنے بیٹھی کلاس سے استفسار کیا۔ ایک بار پھر سے رنگ ٹون بجی تو سر اقبال کو غصہ آگیا(یعنی ابھی بھی کسی نے اپنا فون بند نہیں کیا تھا)۔ سر اقبال نے اپنے قدم کلاس میں بیٹھے سٹوڈنٹس کی طرف بڑھائے۔ عنایہ نے ذینب کے اشارے سے جلدی سے اپنے بیگ سے فون نکالا۔ وہ فون دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھی کیونکہ فون اسکا نہیں تھا۔ سر اقبال اب عنایہ کے سر پر کھڑے جلال لیے اسے دیکھ رہے تھے۔ پیچھے بیٹھا کیف اس منظر سے خوب لطف اندوز ہورہا تھا۔

” سٹینڈ اپ ! ” سر اقبال نے عنایہ سے کہا تو فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔

” سر یہ میرا۔۔۔۔۔۔۔ ” اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتی سر اقبال نے اسے کلاس سے نکل جانے کو کہا۔

” گیٹ آوٹ فرام مائے کلاس “

” بٹ سر یہ میرا نہیں ہے ” عنایہ نے انھیں قائل کرنا چاہا۔ وہ ایک دم ایسی صورتحال کیلئے تیار نا تھی اسے کیا پتا تھا سر اسے کلاس سے ہی نکال دیں گے اس لیے وہ ایک پل کیلئے پریشان سی ہوگئی۔

سر اقبال کو اسکا یہ جھوٹ بولنا کہ فون اسکا نہیں ہے مزید غصہ دلا گیا۔

” آپ جائیں گی یا میں چلا جاؤں ” عنایہ کو انکی بات سن کر لگا کہ سر اسکو سننے کیلئے تیار نہیں تو کوئی وضاحت دینے کا فائدہ نہیں۔

” جی سر ایم سوری ” عنایہ نے کہہ کر جھک کر اپنا بیگ اٹھایا۔ سر اقبال واپس ڈائس کی جانب جا چکے تھے۔ عنایہ کی نظر بیگ اٹھاتے ہوئے پیچھے بیٹھے کیف کی طرف پڑی جو اسے ہاتھ ہلا کر مسکراتے ہوئے بائے کر رہا تھا۔ عنایہ نے غصے سے اسے دیکھا اور جلدی سے کلاس سے باہر نکل گئی۔

کاریڈور میں آکر عنایہ نے اپنے ہاتھ میں پکڑے آئی فون کو دیکھا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا یہ فون کسکا ہے اور کہاں سے اسکے بیگ میں آیا۔ اس نے فون ان لاک کرنا چاہا لیکن اس پر پاسورڈ لگا تھا۔ وہ مایوسی سے ایک بینچ پر بیٹھ گئی۔

کلاس ختم ہونے کے بعد کیف عمر کے ساتھ ہنستے ہوئے نکلا تھا جب تھوڑی ہی دور اسے بینچ پر بیٹھی عنایہ نظر آئی۔ وہ اسکی طرف بڑھا تھا۔

” ہائے باسکٹ ! یار وہ میرا فون تو دینا ذرا ” کیف نے شرارتی انداز لیے کہا۔ اسکا میرا فون کہنے پر عنایہ کو ساری بات سمجھ آگئی۔ وہ فوراً سے طیش میں بینچ سے اٹھی تھی۔

” تو یہ تمہارا کیا دھرہ تھا ہاں؟ ” عنایہ نے ضبط کرتے ہوئے پوچھا تھا۔

” ظاہر ہے میرے علاوہ کون ہوسکتا ہے ؟ ” کیف نے اکڑ کر کہا۔

” خود کو بہت سمارٹ سمجھتے ہو ” عنایہ نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔

” نو نو ! سویٹ ہارٹ سمجھتا نہیں۔۔۔۔۔ہوں ” کیف نے بھی اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جواب دیا۔

” اچھا تو لو اپنا فون واپس لے لو ” عنایہ نے ہاتھ اٹھا کر فون دینا چاہا۔ کیف نے اپنا فون پکڑنے کیلئے ہاتھ آگے بڑھایا تو عنایہ نے ہاتھ پیچھے کرکے اسے چھوڑ دیا۔ فون ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر جا گرا۔ دونوں منہ کھولے زمین پر پڑے فون کو دیکھ رہے تھے۔ کیف کو اس حرکت کی امید نہیں تھی۔ پاس کھڑا عمر بھی حیران ہوا۔

” پاگل ہو تم ؟؟؟ ” کیف نے غصے سے چلا کر کہا۔

” آئندہ اس طرح کی حرکت میرے ساتھ کرو گے تو انجام کیلئے بھی تیار رہنا ” عنایہ کہہ کر وہاں سے جا چکی تھی۔ کیف غصے سے اسکی پیچھے جانے لگے تھا جب عمر نے اسے کندھے سے تھام کر روکا تھا۔

” چھوڑ عمر اس لڑکی کو ابھی بتاتا ہوں اسکی ہمت بھی کیسے ہوئی ” اس نے لال چہرے سے خود کو عمر سے چھوڑواتے ہوئے کہا۔

” کیف بڈی ریلکیس چھوڑ جانے دے۔۔۔۔۔ لڑکی ہے یار ” عمر نے اسے سمجھایا۔

” لڑکی ہے تو ؟؟ تو نے دیکھا نہیں اسے نے میرا فون توڑ دیا “

” ہاں دیکھا ہے لیکن شروع بھی تم نے ہی کیا تھا نا۔۔۔۔اب ہر کوئی تو تمہاری کی شرارتوں کو مذاق نہیں سمجھتا اور ویسے بھی اسے برا لگا ہوگا ظاہر ہے سر نے بہت بری طرح سے اسے ڈانٹ کر کلاس سے جانے کو کہا تھا “

عمر کی بات سے کیف تھوڑا ریلکیس ہو گیا۔

” اور بیٹا تیار ہو جا کوئی تجھے بھی یونیورسٹی میں ٹکر دینے آگیا ہے ” عمر نے مسکراتے ہوئے اسکا موڈ ٹھیک کرنے کو بولا۔ کیف نے اسے گھورا تھا اور پھر دونوں چلتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔

*********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *