Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 27)
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 27)
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
” نتاشہ! عنایہ کو اس بارے میں کچھ پتا نہیں چلنا چاہیے ” کیف نے سنجیدگی سے کہا۔
” کیوں ؟ “
” یہ بات تمہارے اور میرے درمیان ہے، میں نہیں چاہتا وہ یہ جانے وہ ہرٹ ہوگی یہ ٹھیک نہیں ہے ” نتاشہ کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیوں انکار کررہا ہے۔ اسے کیا فرق پڑتا تھا وہ ہرٹ ہو۔
” دیکھو نتاشہ ہم نے ایک شرط لگائی وہ میں نے جیت لی جیسے ہمارے بیچ آگے بھی ہوتا رہا ہے and that’s normal لیکن یہ بات الگ ہے جو کہ صحیح نہیں ” کیف نے اسے سمجھانا چاہا۔
” لیکن کیف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
” نتاشہ میں کیا کہہ رہا ہوں ؟” کیف نے اسکی بات کاٹ کر تھوڑا سختی سے کہا تھا۔ نتاشہ حیران ہوئی تھی۔
” اوکے! “
” آئی ہوپ میں تم پر بھروسہ کرسکتا ہوں ؟ اور تم نہیں چاہو گی کہ میں تم سے اپ سیٹ ہوں ” کیف نے تائید چاہی۔ اس نے سر کو خم دیا۔
” تھینکس! ” کیف کہہ کر وہاں سے جاچکا تھا۔ پیچھے نتاشہ سوچتی نگاہوں سے اسکی پشت کر دیکھتی رہی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوا۔
***********************
کیف نے رات کا کھانا آج گھر ہی کھایا تھا کیونکہ رابعہ بیگم نے عمر کو آج رات گھر پر بلایا تھا۔ وہ کافی دن سے اس سے ملنا بھی چاہ رہی تھیں۔ انھوں نے موقع ملتے ہی جب کیف اپنے کمرے میں گیا تھا عمر کی کلاس لے ڈالی تھی۔ اس سے پوچھا کہ وہ اور کیف دیر رات تک کہاں ہوتے ہیں۔
” خالہ آپ ہم پر شک کر کررہی ہیں ؟ عمر ڈرامائی انداز میں بولا تو رابعہ بیگم نے اسے ایک تھپڑ رسید کیا۔
” ارے مطمئن رہیں ایسا ویسا کچھ نہیں کرتے ہم بس ساتھ گھومتے پھیرتے ہیں کھانا کھاتے ہیں پھر گھر ” اس نے گویا انھیں تسلی دی۔ رابعہ بیگم تھوڑی پرسکون ہوئیں دل میں جتنے وسوسے تھے وہ مٹ گئے۔
” لیکن جو بھی ہو مجھے یوں دیر رات تک تم دونوں کا گھر سے باہر رہنا پسند نہیں۔۔۔۔۔آ لینے دو تمہاری ماں کو اسے بھی بتاؤں بیٹے کے کرتوت ” انہوں نے منصوعی سنجیدگی سے ڈپٹا تھا۔
” جی جی ضرور بتائیں میں نے کب روکا ہے لیکن وہ آ کب رہی ہیں ؟ دیکھا میرا برتھڈے ہے لیکن بابا کو بس ہلکا سا زکام ہوگیا تو انہوں نے پلان کینسل کرکے اگلے ماہ کی ٹکٹس کروادیں، ایسا بھی کوئی کرتا ہے اپنے بیٹے کے ساتھ؟ ” اس نے خفگی سے کہا تھا۔
” تو کیا ہوا ؟ ہم ہیں ناں ہم منائیں گے تمہارا برتھڈے “
” آپکا لاڈ دلارا آلریڈی پارٹی کا پلان بنا چکا ہے، یقین مانے اسے تو بہانہ چاہیے ہوتا پارٹیز تھرو کرنے کا ” عمر نے آنکھیں گھما کر بتایا تو رابعہ بیگم مسکرا دیں۔ کچن سے منال ٹرالی گھسیٹ کے لائی۔ جس پر چائے اور براؤنیز رکھیں تھیں۔
” عمر بھائی! ذرا یہ ٹرائے کریں اور بتائیں کیسی بنی ہیں ؟ ” منال نے ایک پلیٹ میں براونی نکال کر اسے سرو کی۔
” کس نے بنائیں ہیں یہ ؟ ” عمر نے پوچھا۔
” میں نے ” وہ مسکرائی تھی۔
” ارے واہ خالہ ہماری مانو تو بہت سگھڑ ہوگئی ہے ” اس نے ایک بائٹ کھاتے ہوئے کہا تھا۔
” ہمممم امیزنگ بھئ بہت مزے کی ” عمر نے تعریف کی تو وہ فخریہ مسکرائی۔
” کیا کھایا جا رہا ہے بھئی مجھے بھی پوچھ لو ” مرتضیٰ صاحب باہر لاونج میں آئے تو منال نے جلدی سے انہیں بھی سرو کی۔
” ارے یہ کیف کدھر رہ گیا ؟ آیا نہیں اب تک ؟ ” مرتضیٰ صاحب نے پوچھا۔
” خالو وہ اپنے کمرے میں گیا ہے مشکل ہے اب آئے مجھے ہی جانے سے پہلے اسے بتا کر جانا ہوگا کہ بھائی میں واپس جارہا ہوں کیونکہ وہ تو سی آف کرنے سے رہا ” عمر نے چائے کا کپ لبوں سے ہٹا کر مذاق اڑانے والے لہجے میں کہا تو سب ہی مسکرا دیے۔
**********************
وہ اپنے بیڈروم کے ٹیرس پر رکھی چیئر پر بیٹھا پاؤں سامنے رکھی شیشے کی چھوٹی میز پر رکھے تھے۔
اسکا ذہن نتاشہ کی اس ہی بات کو سوچے چلا جارہا تھا۔ عنایہ کو پتا چل گیا تو کیا ہوگا ؟ اس نے یہ شرط لگا کر کہیں غلطی تو نہیں کردی تھی،لیکن اسے بتائے گا کون ؟ نتاشہ کو تو وہ تنبیہہ کر چکا تھا اور ان دونوں کے علاوہ کوئی یہ بات جانتا نہیں۔
” لیکن اسکا کوئی اور حل تو ضرور نکالنا ہوگا ” کیف نے خود سے کہا۔ پھر بہت دیر سوچنے کے بعد وہ اٹھ کر واشروم میں فریش ہونے چلا گیا۔ دسمبر کی ٹھٹھرتی سردی کی رات وہ نہا کر نکلا تو کالے ٹراؤزر پر سفید بنیان میں زیب تن تھا۔ اپنے بال اچھی طرح خشک کرکے اپنا فون اٹھا کر عنایہ کو کال کرنے کا سوچا۔ وہ بے وجہ ہی اس سے ناراض ہوگئی تھی۔ اس نے کال ملائی تو دوسری طرف عنایہ کا نمبر مصروف جارہا تھا۔ کیف نے کاٹ کر ایک بار پھر سے ٹرائے کیا ابھی بھی مصروف تھا۔ کیف کے ماتھے پر بل پڑے۔ ٹائم دیکھا تو رات کے بارہ بج چکے تھے۔
” اس وقت کس سے باتیں کررہی ہے؟ ” ایک دم آنکھوں میں غصے کا عنصر نمایاں ہوا۔ دوسری طرف عنایہ جو حیدر سے بات کررہی تھی بیچ میں آتی کیف کی مسلسل کال سے تنگ آ چکی تھی۔ اس نے بھی ٹھان لی تھی کہ بات نہیں کرے گی جب تک اپنی زبان سے نا کہہ دے کہ وہ بھی محبت کرتا ہے اس سے۔ کیف نے اب کی بار عمر کو کال کی تو دوسری بیل پر اٹھا لی گئی تھی۔
” یار ابھی گھنٹہ بھر پہلے ہی تیرے گھر سے گیا ہوں کیا تکلیف ہوگئی تجھے اس وقت ؟ ” عمر نے کال اٹھاتے ہی عاجز آکر کہا تھا۔
” ہو گئی تیری بکواس ؟ تو زینب کو کال کر اور دیکھ اسکا نمبر اینگیج ہے یا نہیں “
” یار کیا بکواس ہے یہ کیف ؟ کیا مطلب اسے کال کرکے دیکھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
” میں عنایہ کو کال کررہا ہوں اسکا نمبر اینگیج جارہا ہے بس یہ دیکھنا چاہتا تھا وہ کیا زینب سے بات تو نہیں کررہی ” کیف نے اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وجہ بتائی۔ دوسری طرف عمر کا دل کررہا تھا فون کے بیچ میں سے ایک مکہ اسکے منہ پر دے مارے۔ اس نے کال بند کی تو پھر سے عنایہ کا نمبر ملایا اور وہ ابھی بھی مصروف جارہا تھا۔ کیف نے دوبارہ عمر کو کال کی تو اس نے بتایا زینب کا فون رنگ کررہا ہے لیکن وہ اٹھا نہیں رہی یقیناً وہ سو چکی تھی۔ اب کی بار کیف کو صحیح معنوں میں غصہ آرہا تھا۔ اس وقت وہ کس سے باتیں کررہی ہے۔
***********************
کیف بے چینی سے عنایہ کا انتظار کررہا تھا وہ یونیورسٹی آتے ہی سر ہمدانی کے آفس میں چلی گئی تھی اور کیف آفس کے باہر یہاں سے وہاں سے ٹہل رہا تھا۔ کچھ ٹائم بعد وہ ہاتھوں میں ایک فائل لے کر نکلی جو جاتے وقت نہیں تھی شاید سر سے نوٹس لینے گئی تھی۔ وہ کیف کو نظر انداز کرتے ہوئے گزر کر جانے لگی جس پر کیف کو طیش آیا تھا۔ کیف تیزی سے آگے بڑھ کر اسکا راستہ روک چکا تھا۔
” کیا پوچھ سکتا ہوں اس برتاؤ کی وجہ ” کیف نے بہت حد تک خود کو نارمل کرتے ہوئے پوچھا تھا۔
” نہیں! ” وہ ایک لفظ میں انکار کرتی پھر سے پاس سے گزر کر جانے لگی تھی کہ کیف پھر سے آگے آگیا۔
” عنایہ تم بتاؤ گی نہیں تو مجھے کیسے سمجھ آئے گا ؟ ” کیف نے ضبط کرتے ہوئے پوچھا تھا۔ پتا نہیں کیا تھا کہ اسکا اگنور کرنا کیف کو تکلیف بھی دے رہا تھا اور غصہ بھی دلا رہا تھا۔
” او ہو کیف کچھ بھی نہیں ہے ” عنایہ نے ایک دم جھلا کر کہا تھا۔ اب وہ کیا خود سے اسے بتائے سب وہ خود کیوں نہیں سمجھ لیتا۔
” اوکے! بس اتنا بتا دو کل تم رات کس سے بات کررہی تھی ؟ ” وہ اب اپنے مطلب کی بات پر آیا۔
” کیا مطلب میں سمجھی نہیں ؟ “
” کل رات میں تمھے کال کررہا تھا لیکن تمہارا نمبر مسلسل اینگیج جارہا تھا ” کیف نے دھیمے سے کہا۔
” اوہ! کل رات تم مجھے کال رہے تھے ؟ ” عنایہ نے ایسے ظاہر کیا جیسے اسے پتا نہیں ہو۔ کیف نے سر اثبات میں ہلایا۔
” میں اپنے کزن سے بات کررہی تھی “
” کون کزن ؟ ” کیف نے شکن آلود پیشانی سے پوچھا۔
” میرے ماموں کا بیٹا ہے آرمی میں ہے وہ دوسرے شہر ہوتا ہے تو اکثر ہم رات کو بات کرتے ہیں ” وہ اب اسکے راستے سے ہٹ چکا تھا اور عنایہ چلنے لگی۔
” اچھا تو یہ وہ فوجی جس کی تم نے مجھے ایک بار دھمکی دی تھی ؟ ” کیف اس کے ساتھ چلتا ہوا طنزیہ کہہ رہا تھا۔
” واٹ ایور ” رک کر وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی اور پھر وہاں سے چلی گئی۔
*********************
آج پورا دن انکا یونیورسٹی میں مصروف گزرا تھا۔ کوئی بھی لیکچر فری نہیں ملا تھا۔ آف ٹائم پر کیف اور عمر باہر گاڑی کی طرف جارہے تھے جب کیف نے اسے مخاطب کیا۔
” عمر تم نے برتھڈے پر عنایہ کو لازمی انوائیٹ کرنا ہے “
” کیوں بھئی پارٹی تو دے رہا ہے خود انوائیٹ کر “
” میں کیسے کروں تمہاری برتھڈے ہے تو زینب تو آئے گی ہی نا تو بس اس بات کا دھیان رکھنا کہ عنایہ لازمی آئے ” وہ گاڑی کے قریب پہنچ کر اس میں بیٹھ چکے تھے۔
” کیوں اب کیا کرنا ہے ؟ ” عمر نے مشکوک نظروں سے اسکا چہرہ دیکھا تھا۔
” میں اسے بتا دینا چاہتا ہوں کہ how much i love her وہ مجھ پر شاید ٹرسٹ نہیں کرتی کیونکہ میں نے اس سے سیدھی طرح بات نہیں کی اور وہ بھی یہ چاہتی ہے کہ میں اسے اپنی محبت کا یقین دلاؤں ” وہ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے رسانیت سے کہہ رہا تھا۔ جبکہ اظہار کرنے کی ایک اور وجہ تھی جو وہ عمر کو نہیں بتا سکتا تھا۔
” واہ واہ کیا بات ہے ؟ آخر عقل آہی گئی تجھے ” عمر نے استہزایہ کہا۔ کیف نے اسکے طنز کو اگنور کیا اور یوں ہی ڈرائیو کرتا رہا۔
*********************
ایک خوبصورت شام کیف کے فارم ہاؤس میں اتری تھی۔ آج عمر کا برتھڈے تھا جس کی پارٹی کیف نے دی تھی۔ کیف اور عمر کے مشترکہ دوست اور ان کے کلاس فیلوز سبھی یہاں اس پارٹی میں موجود تھے۔ کیف نے وائٹ شرٹ پر بلیک جیکٹ اور بلیک ہی جینز پہنی تھی۔ کلین شیو چہرہ، بال جیل سے سیٹ کیے وہ ہمیشہ کی طرح ہر لڑکی کا دل ڈھڑکا دیتا۔ اس کی نسبت عمر نے براؤن جیکٹ بلیو جینز کے ساتھ پہنی تھی اور وہ بھی کافی گڈ لکنگ دکھ رہا تھا۔ پارٹی کا انتظام کیف نے فارم ہاؤس کے اندر بڑے ہال میں کیا تھا۔ وہ ساری تیاری چیک کرتا بار بار اینٹری ڈور کی طرف دیکھتا کیونکہ اسے عنایہ کا بے صبری سے انتظار تھا۔ عمر نے اسے بار بار وہاں دیکھتے پایا تو مسکرا کر اسکی جانب بڑھا۔
” آجائے گی آجائے گی ” عمر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔
” جانتا ہوں لیکن مجھ سے مزید انتظار نہیں ہورہا”
” یار میں سوچ رہا ہوں لگے ہاتھوں میں بھی زینب کو پرپوز کر ہی دوں “
” مطلب تو نے اب تک اسے کچھ نہیں کہا ؟ ” کیف نے چونک کر عمر کو دیکھا تھا۔
” ارے نہیں نہیں! وہ جانتی ہے میں اس سے محبت کرتا ہوں اور وہ مجھ سے لیکن جب بھی میں کوئی پیار بھری رومینٹک بات کرنے لگوں وہ شرما جاتی ہے ” اس نے آہ بھر کر کہا تھا۔ کیف نے اسکے آہ بھرنے پر قہقہ لگایا۔
” ہیلو برتھڈے بوائے!” نتاشہ مسکرا کر چلتی ان دونوں کی طرف آئی۔ اس نے نیلے رنگ کا فل سلیوز بند گلے والا گاؤن زیب تن کیا ہوا تھا۔ وہ کمال کی حسین لگ رہی تھی۔ دو دونوں سے وہیں کھڑی باتیں کرنے لگی۔
*********************
” زینب! عنایہ! میں ٹھیک تو لگی رہی ہوں ؟ ” دونوں نے ایک ساتھ کہا تو دونوں ہی کھلکھلا کر ہنس دیں۔ وہ دونوں فارم ہاؤس آ چکی تھیں۔
عنایہ نے کالے رنگ کا ویلوٹ کا گھٹنوں سے تھوڑا نیچے تک فراک پہنا ہوا تھا جس کا گلا کامدار تھا جبکہ باقی پورے فراک پر وائٹ سٹون لگے تھے۔ ڈوپٹہ ایک کندھے پر ڈال رکھا تھا اور دوسرے کندھے پر کھلے بال رکھے تھے۔ کانوں میں چھوٹے جھمکے اور گلے میں خوبصورت سا چوکر پہنا ہوا تھا۔ ہلکا میک اپ کیے وہ دلکش لگ رہی تھی اس کے برعکس زینب نے پریل رنگ کھدر کا کامدار کرتا نیچے کھلے پانچوں والا ٹراؤزر پہنا تھا۔ اس نے دوپٹے کی بجائے ایک پیاری سی شال اپنے پیچھے کمر سے گزار بازوؤں میں ڈالی تھی بالوں کو کرل کیے کھلا چھوڑا ہوا تھا اور لائٹ میک اپ کیے وہ بھی بے حد پیاری لگ رہی تھی۔ اس سے پہلے دونوں کچھ کہتیں اندر سے عمر باہر ان کے پاس آیا۔ عمر کی نظریں زینب کے چہرے کا طواف کررہی تھیں اور وہ ہمیشہ کی طرح اسے دیکھتے ہوئے کھو چکا تھا۔ عنایہ نے اپنی مسکراہٹ ضبط کی اور گلا کھنکھار کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ عمر ہوش میں آیا تو خجل سا ہوا۔ زینب بھی اس کے یوں دیکھنے پر بلش کرگئی۔
” کم! ” عمر سامنے سے ہٹا اور انہیں اندر جانے کا راستہ دیا۔ وہ دونوں اندر داخل ہوئیں تو ایک خوبصورت سا ماحول بنا ہوا تھا۔ دھیما چلتا انگلش میوزک اور چاروں جانب باتیں کرتے لوگوں کی آوازیں۔ عنایہ کی نگاہیں کیف کو ڈھونڈنے لگیں۔ وہ دونوں آگے بڑھتی ایک کونے میں کھڑی ہوئیں تو ایک ویٹر ان کے پاس ڈرنکس لے آیا۔ عنایہ نے تو انکار کردیا لیکن زینب نے ایک گلاس کوک کا اٹھا لیا اور اسے پینے لگی۔ عنایہ نے ہر جگہ دیکھ لیا وہ کہیں نا تھا۔ اس کی آنکھوں میں اداسی اتر آئی۔ عمر ان کے پاس آیا تو دونوں نے اسے برتھڈے وش کیا۔ دفعتاً عنایہ نے نظریں اٹھائیں تو وہ نتاشہ کے ساتھ ہنستا ہوا سیڑھیاں اترتا ہوا نظر آیا۔ عنایہ جو پہلے اداس تھی اب کی بار دل میں کچھ عجیب محسوس ہوا۔ حلانکہ وہ جانتی تھی وہ دونوں دوست ہیں لیکن اسے کسی اور لڑکی کے ساتھ یوں ہنستا دیکھ نا جانے کیوں اسے بالکل اچھا نہیں لگتا تھا۔ کیف نیچے آیا تو ایک طرف کھڑی عنایہ پر نظر پڑی تو نظریں تھم گئیں۔ اداس آنکھوں سے دیکھتی وہ اسے کتنی حسین لگ رہی تھی۔ کیف نے مسکرا کر نظریں پھیر لیں۔ اور یہیں عنایہ کا دل ٹوٹا تھا۔ وہ چلتا ہوا کچھ لڑکوں کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ عنایہ نے بھی غصے میں اپنی نظریں کیف پر سے ہٹا لیں۔ زینب ساتھ کھڑی انعم سے باتیں کررہی تھی۔
” بدتمیز کہیں کا، مجھے لگا تھا مجھے دیکھتے ہی میری طرف آئے گا لیکن کیسے مجھے اگنور کر کر چلا گیا۔۔۔میں نے غلطی کردی یہاں آ کر ” ہاتھ باندھے یہاں وہاں دیکھتی اس نے بے اختیار سوچا۔ لیکن دوبارہ اس نے سامنے دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی جہاں کیف کھڑا تھا۔ کیف اچھے سے دور کھڑا عنایہ کی ایک ایک حرکت دیکھ رہا تھا جو اب جان بوجھ کر اسے نہیں دیکھ رہی تھی۔ کیف آسودگی سے مسکرایا۔ دل تو کررہا تھا سب چھوڑ کر اسے یہاں سے لے جائے جہاں ان دونوں کے علاوہ کوئی نا ہو۔ لیکن وہ سب کہنے سے پہلے یوں ہی تھوڑا ستانا چاہتا تھا۔
*********************
عنایہ ہال سے نکل کر باہر آگئی آدھی پارٹی گزر گئی تھی لیکن وہ ایک بار بھی اس کے پاس نہیں آیا تھا۔ وہ ایسے کیوں کرتا تھا۔ اس نے سوچا۔
” میں ہی اس کے پیچھے پاگل ہوئی پڑی ہوں اس مغرور انسان کو کوئی پروا نہیں میری ” وہ گلوگیر لہجے میں بڑبڑائی۔
” اچھا ؟ ” کیف کی آواز پر وہ پلٹی تھی۔ وہ دونوں ہاتھ جینز کی پاکٹ میں پھنسائے مسکراہٹ دبائے کھڑا تھا۔ وہ سب سن چکا تھا۔ عنایہ کی آنکھوں میں غصہ عود آیا وہ اس کے پاس سے گزر کر جانے لگی تو کیف اس کی کلائی تھام گیا۔
” چھوڑو میرا ہاتھ ” غصے کی زیادتی سے اسکی آواز تھوڑی اونچی ہوئی تھی۔
” نہیں چھوڑوں گا کیا کر لو گی؟ ” وہ یوں ہی اس کا ہاتھ تھامے بولا۔ عنایہ کو رونا آیا۔ کیوں کرتا تھا وہ اس کے ساتھ ایسا۔ وہ اپنا ہاتھ چھوڑواتی رہی لیکن کیف نے کھینچ کر اسے اپنے قریب کرلیا وہ سیدھا اس سے ٹکرائی تھی۔ اس نے ڈبڈبی نظریں اٹھا کر کیف کو دیکھا تو کیف ششدر رہ گیا۔ کیا اسکی زرا سی بے اعتنائی سے وہ رو رہی تھی۔
” عنایہ! ” کیف نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھاما۔ وہ یوں ہی خفا آنکھوں سے اسے دیکھتی گئی۔
” میری جان” کیف نے محبت بھرے لہجے میں کہا تھا تو بے اختیار عنایہ اپنی آنکھیں موند گئی۔ آنسوؤں آنکھوں سے بہہ نکلے جو کیف نے اپنے انگھوٹے سے صاف کیے۔ کچھ پل یوں ہی بیت گئے تو عنایہ نے اپنی بند آنکھیں کھولیں۔ اس کے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹائے اور اس سے دور ہوئی۔
” آئی ہیٹ یو ” وہ اپنے قدم پیچھے لیتے ہوئے بولی۔ کیف نے آگے بڑھ کر اسکے دونوں بازوؤں سے اسے پکڑا۔
” یار میں تمہیں تنگ کررہا تھا ” کیف نے جلدی سے صفائی دی۔ عنایہ نے دونوں ہاتھ اسکے سینے پر رکھے اسے دھکا دیا۔ وہ اسکے دھکا دینے پر ہنسا تھا۔
” افف اتنی محبت مجھ سے؟ ” اس نے مسکراہٹ دبائے اسے چھیڑا۔
” یو۔۔۔۔۔۔۔” وہ اب کی بار طیش میں آتی اس کی اور بڑھ کر ایک بار پھر سے اسے دھکا دیا۔ وہ لڑکھڑایا تھا۔ وہ پھر دھکا دیتی اسے سے پہلے کیف اس کے دونوں ہاتھ تھام چکا تھا۔
” انف! اب بس بھی کر دو کتنا مارو گی مجھ بیچارے کو” اس نے مسکین شکل بنا کر کہا۔
” تمہارا حال بگاڑ دوں گی ” اپنے ہاتھ چھوڑواتے ہوئے اس نے جواب دیا۔
” اچھا ؟ میں حاضر ہوں لیکن پہلے وہ کہنے دو جو میں کب سے کہنا چاہتا ہوں اور تم کب سے سننا چاہتی ہوں ” اب کی بار وہ دھیرے سے گھمبیر لہجے میں بولا تو عنایہ کی دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔ عنایہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا تو کیف اسکا ایک ہاتھ چھوڑ دوسرا ہاتھ تھامے اس لیے چلنے لگا اور وہ کسی بے جان وجود کی طرح اس کے ساتھ کھینچی چلی گئی۔ سارا غصہ دکھ ایک دم کہیں غائب ہوگیا۔
***********************
کیف اسے فارم ہاؤس کے پچھلے حصے میں لے آیا جہاں ایک بڑا سا سوئمنگ پول تھا۔ یہاں کافی اندھیرا تھا لیکن بڑے گلاس ڈور سے اندر جلتی لائٹ کی روشنی باہر آرہی تھی۔ کیف نے یہ جگہ مناسب سمجھی تھی کیونکہ یہاں کوئی انہیں دیکھ نہیں سکے گا۔ کیف نے اسکا ہاتھ چھوڑا اور بالکل اس کے مقابل کھڑا ہو کر عنایہ کے چہرے کو دیکھنے لگا۔ عنایہ اسکی نظروں سے پزل ہوئی۔
” کیا بات ہے ؟ ” اس نے پول کو دیکھتے ہوئے اب کی بار نرمی سے پوچھا۔ کیف نے اپنی شہادت کی انگلی سے اس کے چہرے کو چومتی لٹ کو ہٹایا تو عنایہ کی دھڑکنوں کی آواز تیز ترین ہوئی تھی۔
” پہلے مجھے لگتا تھا یہ صرف اٹرایکشن ہے تم خوبصورت ہو دوسری لڑکیوں سے ہٹ کر ہو اسے لیے مجھے پسند آنے لگی ہو لیکن میں غلط تھا ” وہ رکا تو عنایہ کی دل کی دھڑکن بھی جیسے رکی تھی۔
” تمھے جب جب دیکھتا ہوں خود کو بھولنے لگتا ہوں اور یہ جو تمہاری آنکھیں ہیں نا ان میں خود کو ڈوبتا محسوس کرتا ہوں ” عنایہ دھیمے سے مسکرائی اور آنکھیں جھکا گئی۔ اس کی آنکھوں سے جھلکتے جزبات اسے آنکھیں جھکانے پر مجبور کرگئے۔
” اچھا تو اب وہ تھری میجیکل ورڑڈ ” کیف نے مسکرا کر کہا تو عنایہ کو شرارت سوجھی۔
” مجھے پسند نہیں آیا ” اس نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا۔
” کیوں ؟ “
” پتا نہیں سب فیک لگا ” اس نے کندھے جھٹکے۔
” واٹ ؟ ” کیف نے شاک سا کہا۔ مطلب اس کی محبت بھری باتیں اسے فیک لگیں۔
” ہاں کچھ اور ٹرائے کرو ” عنایہ نے سینے پر ہاتھ باندھے اترا کر کہا( وہ بھی اب اسے تنگ کرے گی جیسے وہ کرتا تھا)۔
” اور کیا کروں یار ؟ “
” مجھے کیا معلوم یہ تو تمھے پتا ہونا چاہیے “
” میں کہہ تو رہا ہوں نا ڈیٹ آئی۔۔۔۔۔۔”
” نہیں! عنایہ نے اسکی بات کاٹی۔ ایسے نہیں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر “
” کیا ؟ “
” ہاں! “
” پاگل ہوگئی ہو ؟ “
” نہیں کرنا تو ٹھیک ہے میں جارہی ہوں ” وہ جانے لگی۔
” یار کیا طریقہ ہے یہ عنایہ؟ ” کیف جھنجھلا کر اس کے پیچھے گیا۔
” اوکے فائن! ” اس نے کہا تھا تو وہ رکی۔ کیف جلدی سے اس کے سامنے آیا۔ ایک خفگی سے بھر پور نظر اس پر ڈالی اور ایک گھنٹہ موڑ کر اس کے سامنے جھک کر بیٹھا۔ عنایہ نے اپنی مسکراہٹ ضبط کی۔ کیف نے جینز کی پاکٹ سے ایک سمپل سی ڈائمنڈ کی رنگ نکالی تو عنایہ دھنگ رہ گئی۔ کیا وہ اسے ایسے پرپوز کرنے والا تھا؟ اس احساس سے اسکا دل گدگدانے لگا۔ کیف نے انگھوٹھی اس کے سامنے کی۔
” آئی لو یو عنایہ آئی رئیلی ڈو ” وہ آنکھوں میں بے انتہا چاہت لیے کہتا عنایہ کو دنیا کا سب سے خوبصورت مرد لگا۔
” ڈو یو لو می ؟ ” اس نے اپنے لیے اظہار مانگا تو عنایہ نے ہاں میں سر ہلایا۔
” ایسے نہیں بول کر ” کیف نے ویسے ہی بیٹھے کہا تو عنایہ مسکرائی۔
” آئی لو یو ٹو کیف ” وہ دھیرے سے بولی تو کیف نے مسکرا کر اس کو رنگ پہنائی۔ پھر کھڑا ہوا، اب دونوں دوسرے کے قریب تر کھڑے تھے۔
” مجھے کیا ملے گا اب ؟ ” اس نے معنی خیز سا کہا تو عنایہ نے اپنا ہاتھ اس کے سینے پر مارا۔ کیف کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
***********************
