Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 3)
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 3)
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
عنایہ اور زینب کیفے ٹیریا میں بیٹھے آج ہونے والے واقعے کو ڈسکس کررہے تھے۔
” ویسے اس نے تمہارے ساتھ ہی کیوں کی یہ حرکت؟” زینب نے کافی کا کپ لبوں سے ہٹا کر سامنے بیٹھی عنایہ سے پوچھا۔
” ظاہر سی بات ہے میں اس کے آگے بیٹھی تھی میرا بیگ کھلا تھا اور وہ فون سائلنٹ کرنا بھول گیا تو اس نے میرے سر ڈال دیا خود کو بچانے کیلئے ” عنایہ نے آنکھیں گھما کر کہا۔
” ویسے یار کیف ہے تو بہت ڈیشنگ ” زینب نے دوسری ٹیبل پر بیٹھے کیف کو دیکھ کر کہا جس کی ٹیبل پر دو تین لڑکیاں بیٹھیں اس سے باتیں کر رہی تھیں اور وہ مسکرا مسکرا کر ان کو سن رہا تھا۔
” کیف کون ؟ ” عنایہ نے نا سمجھی سے پوچھا۔
” کیا مطلب تمھے اسکا نام بھی نہیں پتا ؟ ” زینب نے حیرانگی سے پوچھا۔
” اسکا کسکا ؟ “
” وہ ہی بہن جسکی وجہ سے کلاس سے نکلی تھی، اسکا نام کیف ہے۔۔۔۔کلاس میں جب وہ اپنا انٹرو کروا رہا تھا تب پتا چلا مجھے لیکن تمھے ہوش ہی نہیں تھی اس وقت لگتا ہے “
” اچھا !!! تو اب اتنے زیادہ سٹوڈنٹس تھے میں سب کے نام یاد کرتی پھرتی “
” سب کے چھوڑو اسکا نام تو یاد رکھے جانے کے قابل ہے بالکل اسکی طرح ” زینب نے ایک بار پھر دوسری طرف کیف کو پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ اسکی نظروں کے تعاقب میں عنایہ نے دیکھا تو وہ سامنے مسکراتا نظر آیا۔ عنایہ کا حلق تک کڑوا ہوگیا۔ اس نے اپنی نظریں ہٹا کر سامنے بیٹھی زینب کو گھورا۔
” میں جارہی ہوں۔۔۔تم بیٹھ کے بلائیں لو اس بدتمیز کی ” عنایہ نے اپنا بیگ اٹھایا اور باہر نکل گئی۔
” رکو میں بھی آئی ” زینب بھی تیزی سے اس کے پیچھے ہو لی۔
******************
یونیورسٹی آف ہونے کے بعد عنایہ اکرام بھائی کا انتظار کرنے لگی۔ وہ باہر انھیں دیکھنے کیلئے ہی آئی تھی جب اس کے پاس سے ایک ہیوی بائیک تیزی سے گزری جس سے کیچڑ والے پانی کی چھینٹیں عنایہ کے سارے کپڑے خراب کرگئے۔
” اندھے ہو کیا ؟ ” عنایہ نے تیز آواز میں چلا کر کہا۔ تھوڑے فاصلے پر وہ بائیک رکی تھی اور اس پر سوار کیف نے اپنا ہیلمٹ اتار کر پیچھے مڑ کر عنایہ کو دیکھا۔ اسکے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔ عنایہ نے اسے دیکھا تو اسے آگ ہی لگ گئی۔ اس سے پہلے کے وہ نیچے جھک کر کوئی چیز اٹھا کر اسے مارتی کیف وہاں سے نکل چکا تھا۔
” تمھے تو میں چھوڑوں گی نہیں ” عنایہ نے دانت پیسے تھے۔
********************
اگلے دن یونیورسٹی میں عنایہ اور زینب کاریڈور میں اپنی کلاس کی ہمنا اور سدرہ سے کھڑی باتیں کررہی تھیں۔ جب سامنے سے کیف عمر اور نتاشہ چلتے ہوئے کلاس کی جانب آرہے تھے۔ عنایہ کی نظر جب کیف پر پڑی تو اسے کل والا واقع یاد آیا۔ وہ تینوں ان کے پاس سے گزرتے تو کیف بالکل عنایہ کے سامنے سے گزرتا اور عنایہ کے دماغ نے فوراً کام کیا اور جیسے ہی کیف اس کے پاس سے گزر کر جانے لگا عنایہ نے اپنا پاؤں آگے کردیا تو کیف سیدھا منہ کے بل گرا لیکن بر وقت اپنے ہاتھ زمین پر رکھ کر اس نے اپنا چہرہ نیچے لگنے سے بچا لیا۔ کاریڈور میں موجود سبھی سٹوڈنٹس دبی دبی ہنسی ہنسنے لگے تھے۔ عمر نے جلدی سے کیف کی مدد کیلئے اس سہارا دیا تھا۔ کیف جب اٹھا تو پلٹ کر عنایہ کو گھورا جو اپنی مسکراہٹ ضبط کررہی تھی۔
” تم !!!! تم اپنی حرکتوں سے باز نہیں آؤ گی نا ؟ کل میرا فون گرا دیا اور آج مجھے۔۔۔۔۔ مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ ؟ ” کیف سرد لہجے میں غرایا۔
” اپنی حرکتوں کے بارے میں کیا خیال ہیں جناب کے؟ ” عنایہ نے سینے پر ہاتھ باندھے اور اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” یو !!!! اپنی حد میں رہو ورنہ بہت پچھتاؤ گی ” کیف نے انگلی اٹھا کر اسکو وران کیا۔
” تم بھی اپنی حد میں رہو۔۔۔۔۔اور ڈرتی نہیں ہوں تم سے”
” کیف بس کر یار جانے دے ” عمر نے اسے وہاں سے لے جانا چاہا۔ لیکن کیف ویسے ہی کھڑا عنایہ کو گھورتا رہا۔
” کیف لیٹز گو سر کلاس کی طرف آرہے ہیں ” نتاشہ نے اسے بازو سے تھام کر عنایہ کے سامنے سے ہٹایا اور اپنے ساتھ لیے آگے بڑھ گئی۔
********************
” تم دونوں کا اب کچھ زیادہ ہی ہورہا ہے کیف ” کلاس کے بعد وہ تینوں گراؤنڈ میں موجود گھاس پر ایک درخت کے نیچے بیٹھے تھے جب عمر نے کیف کو کہا جو اپنے فون میں گیم کھیل رہا تھا۔
” میرا نہیں اسکا کچھ زیادہ ہورہا ہے ” کیف نے فون پر سے نظریں ہٹائے بنا کہا۔
” گائز تم دونوں میں سے مجھے بتانا پسند کرے گا کہ یہ کیا معاملہ ہے ” پاس ہی بیٹھی نتاشہ نے استفسار کیا جو کہ بالکل بے خبر تھی۔ اسکے پوچھنے پر عمر نے اسے سارہ واقع بتایا۔
” ہاں تو کیف کی کوئی غلطی نہیں یونیورسٹی میں تو اس طرح کے پرینک ہوتے ہی ہیں وہ لڑکی کچھ زیادہ ہی اوور ریایکٹ کررہی ہے ” نتاشہ نے کیف کی سائڈ لی۔
” ایکزیکٹلی مائے پوائنٹ۔۔۔۔۔تھینک یو نتاشہ۔۔سنا تو نے؟” کیف نے نتاشہ کو کہہ کر جتانے والے انداز میں عمر کی طرف دیکھا۔
” ہاں تو میرے بھائی تو نے پرینک کیا اس نے اسکا جواب دیا۔۔۔پھر تو نے اس جواب کا بدلہ لیا اور پھر اس نے اسکا بدلا۔۔۔۔تو اب تمھے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کہ وہ جواب کیوں دیتی ہے۔۔۔۔۔سو لائیک آئی سیڈ بی فور(جیسا کہ میں نے پہلے کہا) تجھے بھی کوئی ٹکر دینے آگیا ہے ” عمر نے بھی مزے سے کہا۔
” واٹ ایور ” کیف نے آنکھیں گھمائیں اور دوبارہ اپنے فون پر مصروف ہوگیا۔
” اوکے بس کرو تم دونوں مجھے تو بہت بھوک لگی ہے میں کینٹن سے کچھ کھانے کو لاتی ہوں ” نتاشہ کہتے ہوئے وہاں سے اٹھی اور کینٹن کی طرف چل دی۔
*******************
ایک ہفتہ یونیورسٹی میں ایسے ہی گزرا تھا۔ کیف اور عنایہ کے چھوٹے چھوٹے پنگے جاری تھے۔ وہ دونوں ایک جیسے ہی تھے بالکل نا ہار ماننے والے۔ اس لیے اگر کیف کوئی شرارت کرتا تو عنایہ پر اسکا جواب دینا جیسے فرض تھا۔ لیکن اب وہ دونوں اس چیز کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بناتے تھے بلکہ اس چیز کو انجوائے کرنے لگے تھے۔
آج یونیورسٹی میں ہر طرف دو دن بعد ہونے والی ویلکم پارٹی کے چرچے تھے۔ عنایہ ذینب اور انہی کی کلاس کی سدرہ سیڑھیوں میں بیٹھی تھیں۔ عنایہ کتاب پڑھنے میں مصروف تھی اور وہ دونوں ویلکم پارٹی کے بارے میں گفتگو کر رہی تھیں۔
” یار میں نے سنا ہے کیف اور نتاشہ کا کوئی افیر ہے ؟ ” یہ زینب نے سدرہ سے پوچھا تھا۔
” نہیں یار ایسا کچھ نہیں دوست ہیں وہ ” سدرہ نے جواب دیا۔
” اچھا !! نتاشہ جیسے ہر وقت کیف کے آگے پیچھے رہتی ہے مجھے بھی لگا تھا کہ شاید۔۔۔۔۔” زینب نے کندھے جھٹک کر کہا۔
” آپس کی بات ہے نتاشہ کیف کو پسند کرتی ہے لیکن کیف کی طرف سے ایسا کچھ نہیں ” سدرہ نے خوشی سے بتایا تھا۔
” ہاں ہر وقت تو وہ ایک نئی لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے تو اسکی طرف سے ایسا کچھ نہیں ” یہ بات عنایہ نے طنزیہ کہی تھی جو ابھی بھی کتاب کی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔ دونوں نے بے ساختہ عنایہ کو دیکھا انھیں نہیں تھا پتا وہ انکی گفتگو کو سن رہی ہے۔ عنایہ نے کتاب سے نظر ہٹا کر انکو دیکھا اور پھر نیچے کی طرف اشارہ کیا جہاں کیف ایک لڑکی کے ساتھ کھڑا ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا۔ بلیک جینز پر بلیو ڈریس شرٹ پہننے آنکھوں پر سن گلاسس لگائے وہ لڑکیوں کا دل ڈھڑکا گیا تھا۔
” ہائے یار کتنا پیارا لگ رہا ہے ” وہ دونوں عنایہ کی بات کو اگنور کیے اب کیف کو دیکھنے میں مگن تھیں۔ جبکہ عنایہ نے نفی میں سر ہلایا ( ان دونوں کا کچھ نہیں ہوسکتا)۔
********************
اگلے دن عنایہ کو لائبریری میں اتنا وقت لگ گیا کہ اسے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ یونیورسٹی کا آف ہو چکا ہے۔ کیونکہ انکا لاسٹ لیکچر آج فری تھا تو اس نے یہ ٹائم ضائع کرنے کی بجائے نوٹس بنانا بہتر سمجھا جبکہ زینب نے صاف ہری جھنڈی دکھائی تھی کہ وہ سدرہ وغیرہ کے ساتھ کیفے ٹیریا میں رہے گی۔ وہ تیزی سے سیڑھیاں اتر رہی تھی جب سامنے سے اوپر آتے کیف کے ساتھ بری طرح ٹکرائی۔
” افف اندھے ہو کیا؟ دیکھ کر نہیں چل سکتے ” عنایہ نے اپنا سر سہلاتے ہوئے کہا تھا۔
” او گاڈ ! تم پھر سے باسکٹ۔۔۔۔۔ تم میرے پیچھے کیوں پڑی ہو ؟ ” کیف نے اسے جان بوجھ کر زچ کرنا چاہا۔
” کیا کہا ؟ میں تمہارے پیچھے پڑی ہوں شکل نہیں دیکھی کیا تم نے اپنی ” عنایہ کلس کر بولی۔
” آہ ! روز دیکھتا ہوں اور قسم سے خود پر پیار آتا ہے ” کیف نے مسکرا کر فخریہ کہا۔ اسکی بات سن کر عنایہ نے برا سا منہ بنایا تھا۔
” ہٹو بھی سامنے سے ” عنایہ نے تنگ آکر کہا۔ کیف نے اسے راستہ دیا تو وہ جلدی سے سیڑھیاں اتر گئی۔ کیف بھی سیڑھیاں عبور کرتا اوپر لائبریری کی طرف چل دیا۔
********************
