Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 11) Part - 1
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 11) Part - 1
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
آج اسلامآباد کے اس پوش علاقے میں رات کافی خوبصورت اتری تھی۔ آسمان پر گہرے بادل چھائے تھے۔ہلکی ہلکی ہوائیں چل رہی تھی۔ عنایہ چھت پر کافی پیتے ہوئے اس حسین موسم سے لطف اندوز ہورہی تھی۔ عنایہ کا فون بجا تو وہ کال کرنے والے کا نام دیکھ کر مسکرائی۔
” کیسے ہو ؟ ” عنایہ نے کال ریسیو کرتے ہی پوچھا۔
” بالکل ٹھیک ! تم کیسی ہو ؟ اور گھر میںں سب کیسے ہیں ؟ ” حیدر نے دوسری طرف سے کہا۔
” میں بھی ٹھیک ہوں اور گھر میں بھی سب ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔تمھے بہت یاد کرتے ہیں “
” میں بھی ! چھت پر آئی ہو ؟ ” حیدر جانتا تھا وہ اس وقت چھت پر ہی ہوگی۔ جب وہ گھر ہوتا تو دونوں ساتھ کافی پیتے اور ڈھیروں باتیں کرتے۔
” ہاں آج یہاں موسم بھی بہت اچھا ہو رہا۔۔۔۔میرے خیال میں رات بارش ہوگی ” عنایہ نے آسمان کر طرف دیکھتے ہوئے تبصرہ کیا۔
” یونیورسٹی کیسی جا رہی ؟ “
” بہت اچھی ! تم بتاؤ اس بار جب آؤ گے تو ذیادہ دنوں کیلئے آو گے نا ؟ “
” کیوں تم مجھے مس کررہی ہو ؟ ” حیدر نے دھیمے سے پوچھا۔ عنایہ کو اسکے لہجے میں کچھ الگ محسوس ہوا۔
” نہیں ! ہم سب کرتے ہیں ” عنایہ نے اپنا خیال جھٹکا۔
” تم نہیں کرتی ؟ ” حیدر اسکے نہیں کہنے پر تھوڑا مایوس سا ہوا۔
” او ہو حیدر ! میں نے ایسے تو نہیں کہا۔۔۔ہم سب کرتے ہیں کا مطلب میں بھی ” عنایہ کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا سننا چاہتا تھا۔
” ہمممم ” حیدر محض اتنا ہی کہہ سکا۔ اور پھر اس نے مزید کچھ پل بات کرکے کال بند کر دی۔
*****************
اگلے دن یونیورسٹی میں کیف عمر اور نتاشہ کے ساتھ کیفے میں بیٹھا تھا۔ آج وہ یونیورسٹی لیٹ آیا تھا جسکی وجہ سے اسکی پہلی کلاس بھی مس ہوگئی تھی اور اب فری ٹائم ملا تو وہ سینڈوچ اور کافی پی رہا تھا کیونکہ صبح وہ ناشتہ بھی نہیں کر پایا تھا۔
” میں ایک پارٹی تھرو کررہا ہوں ” کیف نے کافی کا سپ لینے کے بعد کہا تھا۔
” واؤ ! That’s great ” نتاشہ ابھی سے پرجوش نظر آنے لگی۔
” کس خوشی میں ؟ ” یہ بات عمر نے پوچھی تھی۔ کیف نے اسے آنکھیں دکھائی تھیں۔
” پہلے جب کرتا تھا تو کونسی خوشی دیکھتا تھا ؟۔۔۔۔ویسے ہی موڈ ہورہا تھا سب مل کر کچھ انجوائے کرتے ہیں ” کیف نے کہہ کر ادھر ادھر نظر دوڑائی تھی۔
” اوہ !!!!!!! تو کون کون آرہا ہے ؟ ” عمر نے شکی نظروں سے کیف کو دیکھا۔
” سب ! جتنے بھی دوست اور کلاس فیلوز ہیں ” کیف نے جواب دیا۔
” عنایہ اور زینب بھی ؟ ” عمر کو کیف کی اس اچانک پارٹی کی بات کچھ ہضم نہیں ہوئی تھی۔
” ہاں ! obviously “
” اسے بلانے کی کیا ضرورت ہے ؟ تم بھول گئے what she have done with you ” نتاشہ کو تو بالکل پسند نہیں آیا کیف کا عنایہ کو بھی بلانا۔
” او کم اون نتاشہ ! اتنی بڑی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔میں نے بھی بہت کچھ کیا ہے اسکے ساتھ اور اب تو ہماری دوستی بھی ہو چکی ہے ” کیف بول کر مسکرایا۔ نتاشہ نے آنکھیں گھمائیں تھیں انداز ایسا تھا جیسے کیف کی اس وضاحت سے وہ مطمئن نا تھی لیکن وہ چپ رہی کیونکہ جانتی تھی وہ کیف کو کبھی کسی بات پر راضی نہیں کر سکتی۔وہ اپنی مرضی کا مالک تھا جو دل میں آتا تھا وہ ہی کرتا تھا۔
******************
” ہاں زرا اب بتا یہ اچانک پارٹی کہاں سے آگئی ؟ ” عمر اور کیف کیفے ٹیریا سے باہر گراؤنڈ کی طرف جا رہے تھے جب عمر نے اسے پوچھا۔ وہ یہ بات نتاشہ کے سامنے نہیں پوچھ سکتا تھا۔
” باسکٹ کیلئے کیا ہے سب۔۔۔۔۔۔ اب سبق تو سیکھانا تھا کیونکہ ابھی تک وہ پندرہ بار کی گئی اسائنمنٹ کا درد میرے ہاتھوں سے گیا نہیں ” کیف نے اپنے ہاتھ کی مٹھی بند اور کھولتے ہوئے کہا۔ اور یہ سچ تھا اس دن سے اکثر کیف کے ہاتھ میں ہلکا سا درد رہتا تھا اور جب جب اسے درد ہوتا اسے عنایہ سے اپنا بدلہ یاد آتا۔
” سالے اندر تو بڑی بکواس کر رہا تھا نتاشہ کے سامنے اتنی بڑی بات نہیں ہے اور اب تو ہم دوست ہیں ” عمر نے اسکی نقل اتارتے ہوئے کہا۔ جبکہ کیف اسے نظر انداز کرتا ہوا آگے بڑھ گیا کیونکہ سامنے عنایہ اور زینب کچھ لڑکیوں کے ساتھ کھڑی باتیں کررہی تھیں۔ اور عمر نے اسکی اس حرکت پر اپنے دانتوں پر دانت جمائے تھے۔
” ہائے گرلز ! ” اپنے دلبر انداز میں اس نے ان کے پاس آکر کہا۔ ہما اور سدرہ تو اسے دیکھ کر اپنے دل تھام کر رہ
گئیں تھیں۔
” میں تم سب کو انوائیٹ کرنے آیا تھا ” کیف نے کہا۔
” کس لیے ؟ ” زینب نے تجسس سے فوراً پوچھا۔
” ایکچولی کمنگ سنڈے کو میں ایک پارٹی تھرو کررہا ہوں ہماری پوری کلاس کیلئے تو میں چاہتا ہوں تم سب بھی آؤ “
” رئیلی ؟ ” زینب دانت دکھاتے ہوئے چہک کر بولی۔ عنایہ کتاب سینے سے لگائے انکی باتیں سن رہی تھی۔
” شیور وائے ناٹ ” ہما اور سدرہ نے تو فوراً حامی بھر لی۔ کیف مسکرایا اور پھر زینب اور عنایہ کی طرف دیکھا۔
” میں بھی آؤں گی ” زینب نے مثبت جواب دیا تو کیف اب عنایہ کے جواب کا منتظر تھا۔
” سوری ! مجھے پارٹیز پسند نہیں ” عنایہ نے انکار کیا۔ کیف کو اندازہ تھا وہ انکار کرے گی۔ اس نے پہلے ہی اسکا حل سوچا ہوا تھا۔
” مجھے پتا تھا تم انکار ہی کرو گی۔۔۔۔ کیونکہ تم ابھی بھی مجھے دوست نہیں مانتی اور مجھ سے کہیں نا کہیں ناراض بھی ہو ” کیف نے مصنوعی افسردگی سے کہا۔
” نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔مجھے ۔۔۔۔۔۔” وہ بات مکمل کرتی اس سے پہلے ہی زینب بول پڑی۔
” ڈونٹ یو وری کیف ہم دونوں آئیں گے ” زینب بول کر مسکرائی تھی۔ عنایہ چہرہ موڑ کر زینب کو آنکھیں دکھا رہی تھی اور کیف اپنا پلان کامیاب ہونے پر خوش ہوا۔
” تھینک یو ! اب میں چلتا ہوں اور آنا ضرور ” کیف کہہ کر آگے بڑھ گیا۔ عنایہ پیچھے غصے میں زینب کو بازہ سے تھام کر دوسری طرف لے گئی۔ ہما اور سدرہ ہنسی زینب کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر۔
” کیا تھا یہ ہاں ؟ ” عنایہ نے غرا کر پوچھا۔
” اوفف پاگل ہو ۔۔۔۔۔ میرا بازہ توڑ دیا “
” زینب ! تم اسے میری طرف سے ہاں کیسے کہہ سکتی ہو میں نے انکار کردیا تھا نا ؟ ویسے بھی مجھے کوئی شوق نہیں اس کی کسی بھی پارٹی پر جانے کا “
” تم جو ہو نا پاگل ہو۔۔۔۔۔ پیچارہ سب صحیح کرنے کی کوشش کررہا ہے اور تم آگے سے ایٹیٹیوڈ دکھا رہی ہو۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی میں تو جاؤں گی اور تمھے میرے ساتھ جانا ہے بس “
” ہونہہ ! تم ہی جاؤ اکیلی میں تو نہیں جاؤں گی ” عنایہ کہہ کر لائبریری کی جانب بڑھ گئی۔
” عنایہ ! پلیز یار تمھے پتا تو ہے میں وہاں اکیلے کیا کروں گی ؟ اسی لیے تو تمھے ساتھ چلنے کا کہہ رہی۔۔۔۔۔پلیز میری بہن مان جاؤ ” زینب اسکے پیچھے جاتے ہوئے اسکی منتے کرنے لگی۔
” ہاں تو تم کیوں جارہی ہو ؟ نا جاؤ۔۔۔۔۔”
” یار تم سمجھ نہیں رہی وہ کیف کی پارٹی ہے کیف کی ۔۔۔۔۔ وہاں جانے سے کون کمبخت انکار کر سکتا ہے ” اسکی بات پر عنایہ پلٹی تھی۔
” تو مجھ سے ملو میں ہوں وہ کمبخت جس نے کیف کی پارٹی پر جانے سے صاف صاف انکار کیا ہے ” عنایہ نے اسے گھورا تھا۔
” یار عنایہ کیا ہے تمھے ؟ چھوڑو نا یہ سب۔۔۔۔۔پلیز میرے لیے مان جاؤ ” زینب نے ڈھیروں معصومیت منہ پر سجا کر التجا کی۔
” تم بہت بڑی بلیک میلر ہو ” عنایہ لائبریری کے اندر چلی گئی تو زینب نے سکھ کا سانس خارج کیا۔
” تھینک گاڈ مان گئی ” زینب نے خود سے کہا اور یہاں سے تھوڑے فاصلے پر کھڑا عمر مسکرایا تھا۔
*******************
سامنے ایل ای ڈی پر مووی لگی تھی۔ نور بیڈ کی پائنی والی سائڈ پر اوندھے منہ لیٹی سامنے مووی میں مگن تھی اور عنایہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ بظاہر تو اسکی نظریں سامنے لگی مووی پر جمی تھیں لیکن سوچ کے سارے دھاگے کیف کی طرف تھے۔ اسے کیف کا یہ رویہ بالکل سمجھ نہیں آرہا تھا۔
” نور !!! ” عنایہ نے نور کو آواز دے کر اپنی طرف متوجہ کیا۔
” جی ؟؟ ” نور نے مووی دیکھتے ہوئے ہی جواب دیا۔
” ادھر میری طرف دیکھو مجھے ایک بات پوچھنی ہے “
نور نے ریموٹ اٹھا کر مووی سٹاپ کی اور اٹھ کر عنایہ کے سامنے جا کر بیٹھ گئی۔
” ایک بات تو بتاؤ اگر ہم نے کسی کے ساتھ کچھ ایسا کیا ہو جس پر وہ بہت غصہ ہو۔۔۔۔ لیکن وہ بندہ سب بھول کر اس حرکت کو نظر انداز کردے۔۔۔۔۔اور آپ سے صلح کرلے حالانکہ اسکی فطرت بالکل ایسی نہیں کہ کوئی اسے کچھ کہے اور وہ اسے ایسے ہی جانے دے۔۔۔۔۔تو تمھے کیا لگتا ہے وہ سچ میں سب بھول کر آگے بڑھنا چاہتا ہے یا یہ اسکا بدلہ لینے کا کوئی دوسرا طریقہ ہوگا ؟ “
عنایہ نے ساری بات نور کو تفصیل سے بتائی کیونکہ خود سے وہ کوئی اندازہ لگا نہیں پارہی تھی اور کیف اسے اتنی آسانی سے جانے دے رہا ہے یہ بات اسے کٹھک رہی تھی۔ اس لئے اسے کسی سے مشورہ چائیے تھا۔
” ہمممم ! بات تو سمجھ آگئی مجھے لیکن اب آپ یہ تو بتائیں یہ دو افراد ہیں کون ؟ ” نور نے سیدھا سیدھا پوچھا۔
” اوکے ! میں اپنی اور کیف کی بات کررہی ہوں ” عنایہ نے بھی صاف صاف بتا دیا کیونکہ جانتی تھی نور کو جب تک اسکے مطلب کی بات نا بتائی جائے وہ جان نہیں چھوڑے گی۔
” او مائے گاڈ ! وہ ہینڈسم۔۔۔۔۔منال کا بھائی ” نور چلائی تھی۔
” ایک تو میں تم لڑکیوں سے تنگ آ چکی ہوں جسے دیکھو اسکے پیچھے پاگل ہے ” عنایہ نے آنکھیں گھمائی تھیں۔
” آپ دونوں کے درمیان کیا چل رہا ہے ؟ ” نور نے تجسس سے پوچھا۔
” دشمنی ! نور جو پوچھا ہے اسکا جواب دو “
” اچھا !! تو آپ نے انکے ساتھ کچھ کیا ہے نا ؟ اور وہ سب بھول کر آپ سے دوستی کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ لیکن آپ جانتی ہیں وہ اتنی آسانی سے آپ سے بدلہ لیے بنا نہیں رہ سکتے۔۔۔۔۔۔ اس لیے آپکو ان پر یقین نہیں آرہا۔۔۔ہے نا؟ “
” ہممم بہت دماغ چلایا ہے واہ ” عنایہ نے اسکے بالکل صحیح اندازے پر سراہا۔ نور نے آنکھیں بند کر کے کھولیں اور فحریہ مسکراتے ہوئے داد وصول کی۔
” اب اوور نا ہو زیادہ اور بتاؤ تمھے کیا لگتا ہے ؟ “
” ہممم ! جیسے کہ آپ نے کہا ہے کہ انکی نیچر سے لگتا نہیں ہے کہ اپنے ساتھ برا کرنے والے کو وہ اتنی آسانی سے جانے دیں تو مجھے لگتا ہے آپ صحیح سوچ رہی ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” نور بیڈ سے اٹھ کر باقاعدہ پر سوچ انداز میں یہاں سے وہاں مارچ کرتے ہوئے بول رہی تھی اور پھر وہ رکی۔
” لیکن ؟؟؟؟ ” عنایہ نے جلدی سے پوچھا۔
” لیکن ہوسکتا ہے انھوں نے اپنا ارادہ بدل دیا ہو کیونکہ جو بھی ہے آپ ایک لڑکی ہیں۔۔۔۔ اور وہ لڑکیوں کی عزت کرنے والے لگتے ہیں تو انھوں نے سوچا ہوگا کہ کیا میں ایک نازک سی لڑکی سے بدلہ لوں ” نور نے کندھے جھٹک کر کہا۔
” یا رائٹ ! اتنا وہ اچھا۔۔۔۔۔ ” عنایہ نے منہ بنایا تھا۔
” اچھا تو بہت ہے ” نور دوبارہ بیڈ پر آئی اور مووی وہیں سے پلے کی جہاں سے چھوڑی تھی۔ عنایہ نے تکیہ درست کیا اور لیٹ گئی۔
” ہوسکتا ہے نور ٹھیک کہہ رہی ہو اس نے واقعی میں اپنا ارادہ بدل دیا ہو۔۔۔۔۔۔۔مجھے پارٹی پر جانا چاہیے یا نہیں ؟ ۔۔۔۔۔جو بھی ہوگا دیکھا جائے گا ” وہ سوچتے ہوئے آخر میں ہار مان کر آنکھیں موند گئی۔
*******************
