Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 10)
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 10)
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
رات کے کھانے کی میز پر فیصل صاحب آئے تو وہاں صائمہ بیگم ڈائننگ پر برتن لگا رہی تھیں۔ ملازمہ کچن سے برتن لا کر انھیں پکڑاتی اور وہ ترتیب سے ڈائننگ پر رکھتیں۔
” بچیاں کہاں ہیں ؟ ” انھوں نے صائمہ سے پوچھا۔
” کچن میں !!! آپکی بیٹی پہ بھوت سوار ہے کہ آج کھانے میں وہ کچھ بنا کر ہم سب کو کھلائے گی ” صائمہ بیگم نے تاسف سے کہا تھا۔ وہ نور کی حرکتوں سے بہت تنگ تھیں۔ کیونکہ وہ کچھ نا کچھ ایکٹیوی کرتی رہتی تھی کبھی اسے پورے گھر کو انٹیرر ڈیزائن کرنے کا شوق چڑھ جاتا کبھی اسے بیکنگ کا کریز ہوتا اور کبھی کپڑے ڈیزائن کرنے کا۔ عنایہ اور اپنے مشترکہ کمرے کی سیٹنگ وہ ہر چھ ماہ بعد بدلتی رہتی۔ اسے ہر چیز میں ایڈوینچر چاہیے ہوتا۔ وہ اسے ڈانٹ کر آئیں تھیں کہ کچھ بنانا آتا نہیں خامخواہ کچن کو بکھیرو گی لیکن وہ کہاں باز آئی تھی۔ یہ تو شکر تھا عنایہ ساتھ تھی ورنہ انھیں فکر تھی کہ کچھ الٹا سیدھا بنا کر نا کھلا دے۔
” ارے واہ یعنی آج ہمیں اپنی پیاری بیٹی کے ہاتھوں کا کھانا ملے گا ” فیصل صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” جی ! اگر بن گیا تو۔۔۔۔۔” صائمہ بیگم کرسی کھینچ کر بیٹھ گئیں۔ عنایہ کچن سے فرائیڈ رائس کی ڈش لے کر نکلی اور لا کر ڈائنگ پر رکھی۔
” ہمممم دکھنے میں تو اچھے لگ رہے ہیں ” فیصل صاحب نے رائس دیکھ کر تجزیہ کیا۔ عنایہ بھی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی اور پھر نور ہاتھوں میں گرما گرم چکن منچورین لے کر آئی جس میں سے نکلتا دھواں یہ بتانے کیلئے کافی تھا کہ وہ ابھی ابھی تیار ہوئی ہے۔
” ٹن ٹنا۔۔۔۔۔پیش خدمت ہے فرائیڈ رائس اور چکن منچورین بائے شیف نور ” اس نے کہتے ہوئے ڈش ڈائنگ ٹیبل پر رکھی۔ سبھی اسکے انداز پر مسکرائے تھے۔
“ارے واہ بھئی میری بیٹی تو بہت ذمہدار ہوگئی ہے ” فیصل صاحب نے رائس اپنی پلیٹ میں نکالتے ہوئے مسکرا کر کہا۔ نور بے چینی سے ان کے کھانے کا انتظار کرنے لگی۔ فیصل صاحب نے ایک چمچ رائس کا کھایا اور پھر نور کی طرف دیکھا۔ نور نے سوالیہ انداز میں انھیں دیکھا اور پھر اپنی ماں اور عنایہ کو۔۔۔۔سب ہی ایک پل کیلئے خاموش ہوئے۔
” بہت شاندار بنے ہیں ” فیصل صاحب نے سراہا۔ نور تو جیسے کھل اٹھی۔ اس نے اپنی ماں کی طرف دیکھا تو وہ بھی ہلکا سا مسکرا دیں۔ صائمہ بیگم کو پتا تھا اس میں سارا کمال عنایہ کا ہے اس لیے اتنا اچھا کھانا بن گیا ورنہ وہ جانتی تھیں نور پہلی بار میں کبھی اتنا اچھا نہیں بنا سکتی تھی۔
” شکر ہے تم پاس تھی ورنہ مجھے لگا آج رات کا کھانا باہر سے ہی آئے گا ” صائمہ بیگم نے پاس بیٹھی عنایہ کی طرف جھک کر آہستہ سے کہا۔ عنایہ نے سر ہلا کر اپنی مسکراہٹ ضبط کی۔
******************
یہ منظر مرتضیٰ مینشن کا تھا۔ کیف سامنے رکھے چاکلیٹ کیک پر جھک کر کینڈلز لگا رہا تھا۔ پھر اس نے اپنی جینز کی پاکٹ سے فون نکالا اور کال ملائی۔
” آپ اب تک روم میں ہیں ؟ میں کیک لے آیا ہوں ” دوسری جانب فون اٹھایا گیا تو کیف نے فوراً کہا۔
” ہاں ہاں آرہا ہوں ” انھوں نے فون بند کیا اور نظر پاس لیٹی اپنی زوجہ کو دیکھا جو سو چکی تھیں۔ وہ دھیرے سے اٹھے اور کمرے سے باہر نکل گئے۔ ان کے جاتے ہی رابعہ بیگم نے اپنی آنکھیں کھول دیں اور سامنے اپنے کمرے کہ بند دروازے کو دیکھتی رہیں۔
مرتضیٰ صاحب لاونج میں آئے تو کیف کو اپنا منتظر پایا۔کیف نے انکے آتے ہی اپنی جینز کی پاکٹ میں ایک بار پھر ہاتھ ڈالا اور لائٹر نکالا اور جھک کر کیک پر لگی کینڈلز جلائیں۔ اس جلدی میں وہ یہ بھول چکا تھا کہ وہ کس کے سامنے لائٹر نکالنے کی غلطی کر چکا ہے۔ کینڈلز جلا کر کیف نے لائٹر واپس رکھا اور کیک اٹھا کر جیسے ہی وہ مڑا مرتضیٰ صاحب غصے سے اسے گھور رہے تھے۔
” واٹ ؟ ” کیف نے انکے ایسے دیکھنے پر پوچھا۔
” یہ لائٹر کیا کررہا یے تمہارے پاس ؟ ” تھوڑا سخت لہجے میں پوچھا گیا۔ کیف گڑبڑا گیا لیکن پھر سنبھل کر بولا۔
” سموکنگ کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ظاہر ہے ڈیڈ کینڈلز جلانے کیلئے لایا ہوں ” جہاں کیف کے سموکنث کا نام لینے پر مرتضیٰ صاحب کے ماتھے پر بل آئے تھے وہیں فوراً اسکی وضاحت پر ان کے بل غائب ہوئے اور پھر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئے۔
” بال بال بچ گیا ” کیف انکے پیچھے جاتے ہوئے بڑبڑایا۔
******************
رات کے بارہ بجنے میں کچھ ہی پل باقی تھی۔ منال اپنے بیڈروم میں موجود کھڑکی کے پاس کھڑی آسمان پر نکلے چاند تاروں کو دیکھ رہی تھی۔ وہ آج پورے انیس سال کی ہونے والی تھی۔ ویسے تو وہ گیارہ بجے تک سو جایا کرتی تھی لیکن آج اپنی سالگرہ کیلئے وہ جاگ رہی تھی۔ اس کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا جہاں سے مرتضیٰ صاحب اور کیف ہیپی برتھڈے کہتے ہوئے اندر آئے۔ منال انکو دیکھ کر بے اختیار مسکرائی۔ کیف نے کیک اسکے سٹڈی ٹیبل پر رکھا۔ مرتضیٰ صاحب نے منال کو اپنے سینے سے لگا کر برتھڈے وش کیا۔
” چلو بھئی کیک کاٹو اب ” کیف نے اسکے کندھے پر بازو پھیلایا۔
” ڈیڈ ! مام ؟ ” ایک لفظ میں منال نے اپنی ماں کی غیر موجودگی کا پوچھا تھا۔ مرتضیٰ صاحب کی مسکراہٹ پھیکی پڑی۔ جبکہ کیف ایک دم سنجیدہ ہوا تھا۔ کمرے میں موجود تینوں فرد جس عورت سے سب سے زیادہ محبت کرتے تھے وہ انکی زندگی میں ہوتے ہوئے بھی کہیں نا تھی۔ اور کمرے کے باہر کھڑی رابعہ بیگم بے بسی کا شکار تھیں وہ اندر جانا چاہتی تھیں۔۔۔۔۔ اپنی پھول جیسی بیٹی کو سینے سے لگانا چاہتی تھیں لیکن ان کے درمیان دوریاں اتنی بڑھ گئی تھیں کہ وہ چاہ کر بھی ہمت نہیں کر پائیں اور یوں ہی کمرے کے بند دروازے کو دیکھتیں وہ واپس پلٹ گئیں۔
********************
عنایہ اور زینب یونیورسٹی کے گراؤنڈ پر نیچے گھاس پر بیٹھیں کلاس میں ہونے والے آج کے لیکچر کو ڈسکس کر رہی تھیں۔ تھوڑے ہی فاصلے پر دو تین لڑکیاں کیف کو گھیرے کھڑی تھیں۔ اور کیف اپنے محصوص انداز میں ہی ان سے مسکرا مسکرا کر باتیں کررہا تھا۔ کیف کی نظر عنایہ پر پڑی تو عنایہ نے بھی اسی وقت نگاہیں اٹھا کر دیکھا تھا۔ کیف نے ہاتھ کے اشارے سے اسے ہیلو کیا تھا۔ عنایہ نے سرے سے اسے نظر انداز کیا اور اپنا چہرہ واپس موڑ لیا۔ کیف اسکی حرکت پر صبر کے گھونٹ پیتا رہ گیا۔ وہ واحد لڑکی تھی جو اسے بالکل لفٹ نہیں کرواتی تھی۔ ورنہ ایسا ہو یہ نہیں سکتا تھا کہ کیف کسی کو مسکرا کر دیکھے اور اگلا شحض ایسی بے رخی دکھائے۔ اسکی ایک مسکراہٹ پر لڑکیاں اپنا دل ہار جاتی تھیں اور ایک یہ لڑکی تھی۔ کیف نے بے اختیار سوچا اور پھر پاس کھڑی لڑکیوں سے ایکسکیوز کرتا ہوا عنایہ کی جانب بڑھ گیا۔ کیف انکے پاس ہی نیچے گھاس پر بیٹھ گیا۔
” ہائے گرلز ! کیف نے مسکرا کر دونوں سے کہا۔ زینب نے اسی کے انداز میں خوش ہوتے ہوئے اسے ہائے کہا تھا۔ جبکہ عنایہ خاموش ہی رہی تھی۔ کیف نے اسکے نا جواب دینے ہر اسکی طرف دیکھا تھا۔ وہ بنا کسی تاثر کے ادھر ادھر دیکھتی رہی۔
” لگتا ہے تم اب تک خفا ہو مجھ سے ؟ ” کیف نے پوچھا۔
” نہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔” عنایہ نے دو لفظوں میں جواب دیا۔
” تو پھر اسطرح کے برتاؤ کی وجہ جان سکتا ہوں ؟ ” اگلا سوال پوچھا گیا۔
” کیسا برتاؤ ؟ ” جواب پھر دو لفظوں میں آیا۔ پاس بیٹھی زینب کا دل کیا عنایہ کا گلا ہی دبا دے۔
” میں نے کہا تھا let’s be friends “
” اور میں نے انکار کردیا تھا “
” تم نے کہا تھا میں سوچوں گی ” کیف نے یاد دہانی کروائی۔
” یہ ایسے ہی کہہ رہی ہے۔۔۔۔ ہم اب دوست ہیں ” زینب نے اس گفتگو میں مداخلت کی۔ عنایہ نے اسکی طرف دیکھا تو زینب نے آنکھیں دکھائیں۔ عنایہ نے پھر ہتیار ڈالنا ہی بہتر سمجھا۔
” اوکے ہم دوست ہیں ” عنایہ نے کیف کو دیکھ کر کہا۔
” اوکے گڈ ! امید ہے یہ دوستی اچھے سے نبھے گی بنا کسی جھگڑے کے ” کیف نے مسکرا کر کہا اور وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔ سامنے سے عمر اسی جانب آرہا تھا۔ کیف انھیں پھر ملتے ہیں کا کہہ کر عمر کی طرف بڑھا۔
” کیا بنا ؟ ” عمر نے کیف کے قریب آتے ہی پوچھا۔
” مشکل سے مانی ہے لیکن مان گئی ” کیف نے پلٹ کر واپس دیکھا جہاں عنایہ زینب سے باتیں کررہی تھی۔
” مجھے پتا تھا ! So what’s the plan ؟ ” عمر بھی اسی جانب دیکھ رہا تھا۔
” فلحال تو سوچا نہیں لیکن دیکھتے ہیں ” کیف چلنے لگا تو عمر بھی اسکے ہمراہ ہوا۔
” کیف ! کچھ الٹا سیدھا نہیں کرو گے تم نے وعدہ کیا تھا”
” تجھے لگتا ہے میں کچھ الٹا کروں گا ؟ یار تھوڑا سا فن ہی تو ہے۔۔۔۔ اور ویسے بھی وہ سوچ رہی ہوگی میں نے ہار مان لی لیکن اسے پتا نہیں میں کبھی ہار نہیں مانتا اور اس بار کے بعد مجھے یقین ہے وہ مجھے سے الجھنے کا سوچے گی بھی نہیں ” دونوں چلتے چلتے اب رک گئے تھے۔
” ہممممم ” عمر نے ہنکار بھرا۔ وہ ابھی بھی اسی طرف دیکھ رہا تھا جہاں وہ دونوں کسی بات پر اب ہنس رہی تھیں۔ کیف نے عمر کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو پوچھے بنا نہیں رہ پایا۔
” تجھے پسند ہے وہ ؟
” ہاں ” عمر نے کھوئے کھوئے کہا۔ لیکن جیسے ہی اسے اندازہ ہوا وہ کس کے سامنے کیا کہہ گیا ہے۔۔۔۔۔ وہ فوری سنبھلا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کیف نے اسکا بہت مذاق بنانا تھا اور اسکے ہاتھوں درگت الگ۔
” ایسا کیا ہے اس میں ؟ اتنا تو اکڑتی ہے اور نک چڑی بھی ” کیف نے عنایہ کی طرف دیکھا۔
” نہیں !!! ایسا کچھ نہیں ہے میں کچھ اور کہہ رہا تھا ” عمر نے جلدی سے بات سنبھالنی چاہی۔
” بیٹا یہ سب ڈرامے میرے سامنے نہیں چلیں گے تیرے “
” کچھ نہیں ہے ایسا یار ” عمر نے یقین دلایا۔
” دیکھتے ہیں ” کیف نے شانے اچکائے۔
*******************
