Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 33)
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 33)
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
” تو چاہتا کیا ہے آخر کیف ؟ ” عمر نے آنکھیں سکیڑے استفسار کیا۔ کیف نے اسکی اور دیکھا۔
” بس یہ کہ وہ اپنے کزن سے دور رہے۔۔۔۔۔۔مجھے سے برداشت نہیں ہوتا جب وہ اس کے ساتھ ہوتی ہے، صرف وہ ہی کیوں وہ کسی کے بھی ساتھ ہو تو مجھے ناجانے کیا ہو جاتا۔۔۔ ” وہ بے بس سا کہہ رہا تھا۔
” دل تو کرتا ہے تیرے دانت توڑ دوں کمینے انسان۔۔۔۔۔اپنی بات منوانے کا کوئی اور طریقہ نہیں تھا تیرے پاس ؟ جو فضول کی بکواس کی ہے۔۔۔تیری وجہ سے زینب میرے بارے میں کیا سوچتی ہوگی؟ ” عمر کا غصہ تھا کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
” اس نے کیوں کچھ سوچنا ؟ ” کیف نے ناسمجھی سے اسکی اور دیکھا۔
” ظاہر ہے کزن تو تیرا ہوں نا میں وہ سمجھے گی جیسا تو ہے ویسا ہی میں ” عمر نے سر جھٹکا اور اندر کی جانب چل دیا۔ کیف نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ختم ہوتی سگریٹ کا انگارہ پھینکا اور اسی کے پیچھے اندر جانے لگا۔ اسے عمر کو منانا تھا وہ آج سے پہلے کبھی اس کے ساتھ اتنا سنجیدہ نہیں ہوا تھا۔
*******************
اگلا پورا ہفتہ ایسے ہی گزر گیا۔ عنایہ نے کیف سے بات کرنا بالکل چھوڑ دیا تھا۔ کیف نے بھی بات کرنے کی کوشش نہیں کی وہ جانتا تھا کہ وہ یہ ہی کرے گی۔ اس لیے خود کو پہلے سے تیار رکھا تھا۔ نتاشہ کچھ دنوں کیلئے ملک سے باہر گئی ہوئی تھی۔ اس کے پیرنٹس اس کے انگلینڈ میں مقیم اس کے چچا زاد سے اسکی شادی کرنا چاہتے تھے۔ اس نے صاف انکار کردیا تھا۔ اب وہ کیف کو کسی نا کسی طریقے سے قائل کرنا چاہتی تھی۔ جب وہ واپس آئی تو یونیورسٹی میں اب ہر جگہ کیف کے ساتھ پائی جاتی تھی کیونکہ اسے لگتا تھا اس کیلئے کیف کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا بہت ضروری ہے۔ دوسری طرف عمر اور زینب کے درمیان چھوٹی موٹی نوک جوک جاری رہتی تھی۔ زینب کے گھر والوں نے شادی کی تیاریاں ابھی سے شروع کردیں تھیں۔ کیونکہ دیکھا جاتا تو وقت کم ہی رہ گیا تھا اور لڑکی کی شادی کیلئے جتنا بھی وقت ہو اتنا ہی کم ہوتا ہے۔
********************
یہ ایک ہفتہ تو کیف نے جیسے تیسے کرکے گزار لیا تھا لیکن آج اس کا صبر جواب دے چکا تھا۔ عنایہ کلاس لے کر نکلی تھی جب کیف پیچھے سے آکر اس کے سامنے کھڑا اسکا راستہ روک چکا تھا۔
” مجھے تم سے بات کرنی ہے ” کیف نے کہا۔
” لیکن مجھے کوئی بات نہیں کرنی ” عنایہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سرد مہری سے کہتی اس کے پاس سے گزر کر جانے لگی لیکن کیف پھر سے اس کے سامنے آگیا۔
” کیف میں یہاں کوئی تماشہ نہیں چاہتی ” اس نے آس پاس گزرتے سٹوڈنٹس کی طرف اشارہ کیا۔
” اسی لیے کہا ہے کے چپ چاپ چلو ورنہ ہاتھ پکڑ کر لے جاؤں گا ” وہ ہٹ دھرمی سے کہہ رہا تھا۔ عنایہ کو اسکا یہ ہی انداز زہر لگتا تھا۔
” ٹھیک ہے لیکن بات وہاں ہوگی جہاں میں چاہوں گی ” وہ اس کے ساتھ ہرگز اس کلاسروم میں اکیلے نہیں جانا چاہتی تھی اسی لیے اس یہ شرط رکھی۔ کیف نے حامی بھرلی اور عنایہ کے پیچھے چلنے لگا۔
*********************
وہ دونوں یونیورسٹی کی بیک سائیڈ پر آگئے تھے اور وہاں رکھے بینچ پراجمان تھے۔ عنایہ اس سے فاصلہ رکھے بیٹھی تھی۔ جو بات کیف نے اچھے سے نوٹ کی تھی۔
” تم اتنی ضدی کیوں ہو آخر میری بات مان کیوں نہیں لیتی ؟ ” کیف پورا اس کی اور گھوم کر کہہ رہا تھا۔
” کونسی بات مانوں تمہاری ؟ ساتھ رات گزارنے والی ؟ ” وہ تلخی سے اس رات والی بات دہرا رہی تھی۔ وہ غصے میں کہہ گئی ورنہ اتنے کھلے الفاظ کبھی نا استعمال کرتی۔
” جسٹ شٹ اپ! ” وہ غصے سے غرایا تھا۔ اسکا چہرہ سرخ ہوا تھا۔
” کیوں شٹ اپ یہ ہی کہا تھا نا تم نے مجھ سے ؟ ” وہ بھی غرائی تھی۔
” مائنڈ یور لینگویج مس عنایہ اپنے الفاظوں پر غور کرو” وہ اس کی بات کو کیسے کوئی اور رنگ دے رہی تھی۔
” الفاظوں سے کیا ہوتا ہے ؟ مطلب تو وہی تھا نا ” وہ اب اسکی اور دیکھ نہیں رہی تھی۔
” اوہ مجھے نہیں تھا علم۔۔۔۔۔تھینکس! تم نے میری ناقص معلومات میں اضافہ کردیا ” وہ استہزایہ ہوا۔
” مجھے لائبریری کیلئے لیٹ ہورہا ہے ” وہ اٹھ کر جانے لگی تو کیف نے تیزی سے اسکی کلائی اپنی مضبوط گرفت میں لی۔
” چپ چاپ یہاں بیٹھ جاؤ جب تک میری بات مکمل نہیں ہوگی کہیں نہیں جاؤ گی ” اس کے چہرے اور لہجے سے کرختگی چھلک رہی تھی۔ عنایہ کو ناچار بیٹھنا پڑا۔
” پہلی بات۔۔۔۔۔ میں نے کہا تھا میں اس رشتے کو آگے بڑھاؤں گا اگر میری بات نہیں مانو گی تو۔۔۔۔۔۔۔” اس نے آخری جملے پر خاصا زور دیتے ہوئے کہا۔
” جبکہ میرا ایسا کوئی ارادہ نا تھا۔۔۔۔۔۔اور دوسری بات مس عنایہ میں کوئی بلا وجہ تمھے تمہارے کزن سے دور ہونے کو نہیں کہا تھا۔۔۔وہ تم سے محبت کرتا ہے ” وہ اسے یہ بات کبھی نہیں بتاتا لیکن اب اس کے پاس اپنی صفائی کیلئے یہ ایک دلیل بچی تھی۔ عنایہ پھٹی آنکھوں سے اسکا چہرہ دیکھ رہی تھی۔
” اس رات میرا جھگڑا اسی وجہ سے ہوا تھا۔۔۔۔۔۔اور آئندہ اسطرح کی بکواس مت کرنا یہ مت بھولو تم میرے نکاح میں ہو، میں جب چاہے جو مرضی چاہے کرسکتا ہوں تم مجھے نہیں روک سکتی ” اس نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنی بات مکمل کی تھی۔ عنایہ جو حیدر والی بات پر بے یقین سی تھی اس کی آخری بات پر اسے شدید دکھ ہوا تھا۔ کیا اس لیے اس نے اس سے نکاح کیا تھا کہ وہ اسطرح اس پر دھونس جماتا۔
” کیف!۔۔۔۔۔۔۔وہ لمحہ بھر کو رکی۔ میں نے تم سے محبت تو کرلی لیکن تمھے سمجھ نہیں سکی ؟ کون ہو تم کیف ؟ ” وہ اب دھیمے سے کھوئے لہجے میں گویا ہوئی۔ کیف طنزیہ ہنسا تھا۔
” محبت اگر سوچ سمجھ کر ہوتی تو کتنا ہی اچھا ہوتا ہے نا ؟ اگر ایسا ہوتا تو تم مجھ جیسے برے انسان سے کبھی نا کرتی بلکہ اپنے اس کزن سے کرتی ” اسکا لہجہ اب کی بار عجیب ہوا۔ عنایہ نے چہرہ گھما کر کیف کی طرف دیکھا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیوں ایسا سوچتا ہے۔ عنایہ کو مایوسی نے ان گھیرا تو وہ ایک بار پھر سے اٹھ کر جانے لگی۔ کیف نے اب کی بار اسے روکا نہیں تھا اس کی پشت کو دیکھتا رہا لیکن پھر اسے احساس ہوا وہ کچھ زیادہ بول گیا ہے۔ وہ اسے منانے لایا تھا ناکہ مزید بات بگاڑنے۔ وہ تیزی سے اٹھ کر اسکے پیچھے گیا اور ایک بار اسکا راستہ روک چکا تھا۔
” عنایہ یہ جھگڑا ختم کرتے ہیں میری غلطی ہے آئی ایم سوری ” کیف مرتضیٰ جھک رہا تھا پہلی بار وہ بھی اپنی محبت کیلئے ورنہ آج تک وہ کبھی نہیں جھکا تھا اور معافی تو دور کی بات ہے۔
” نہیں کیف اب نہیں، تم ہر بار ایسا کرتے ہو۔۔۔۔۔۔پہلے تم نے مجھ سے نکاح کیا غلط کیا میں نے کچھ نہیں کہا۔۔۔پھر تم نے حیدر کو سب بتا دیا غلط کیا میں نے تب بھی کچھ نہیں کہا اور اس رات تم نے جو کہا اور آج یہ سب۔۔۔۔۔۔ ” وہ رسان سے بولے جارہی تھی جب کیف نے بیچ میں ہی اسے ٹوکا تھا۔
” تم بار بار یہ بات کیوں کررہی ہو ڈیم اٹ ؟ اگر میرا ایسا ارادہ ہوتا تو کیا عمر اور زینب وہاں ہوتے ؟ میں تمہیں اکیلے ہی آنے کو کہتا ” وہ دبا دبا سے غرایا۔ عنایہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور بنا کچھ کہے وہاں سے جانے لگی۔ کیف کو یہ حرکت مزید غصہ دلا گئی۔ وہ پلٹا تھا اور چلتے ہوئے بینچ تک آیا اور زور سے بینچ پر لات ماری۔
*******************
وہ یونیورسٹی کی بیک سائیڈ سے لائبریری کی طرف جارہی تھی جب سامنے سے آتی نتاشہ سے ٹکرا گئی۔
” یو۔۔۔۔۔اندھی ہو کیا دیکھ کر نہیں چل سکتی؟ ” نتاشہ کی بکس نیچے گر گئی تھیں۔ وہ عنایہ پر چلائی تھی۔ عنایہ کو اسکا یوں چھوٹی سی بات پر ایسا ردعمل ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔
” اندھی ہوگی تم۔۔۔۔۔دیکھ کر تم بھی چل سکتی تھی ” عنایہ نے بھی کراکرا جواب دیا تھا۔ نتاشہ نے دانت کچکچائے۔
” ہممم یہ جو ہوا میں اڑ رہی ہو نا سنبھل جاؤ” عنایہ اس کے پاس سے گزر کر جانے لگی تھی جب نتاشہ پھر سے گویا ہوئی۔ عنایہ نے پلٹ کر سوالیہ نظروں سے اسکی سمت دیکھا۔ نتاشہ طنزیہ مسکرائی۔
” وہ کیا ہے نا کیف کو عادت ہے لڑکیوں سے دل بہلانے کی ” عنایہ نے اپنی مٹھی بھنچ لی۔
” تم بھی کسی خوش فہمی میں مت رہنا وہ میرا ہے صرف ” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ اب کی بار عنایہ مسکرائی۔
” لگتا ہے تم بھی باقی لڑکیوں کی طرح بہت سے خواب سجائے بیٹھی ہو ” عنایہ نے اپنے ہاتھ سینے پر باندھے۔
” چچ چچ ہمدردی ہے مجھے تم سے ” وہ مصنوعی دکھ کے تاثرات لیے بولی۔
” کیا مطلب ؟ ” نتاشہ کو اس جواب کی توقع نا تھی۔
” یہ تو تم اپنے پیارے دوست کیف سے پوچھنا ” وہ استہزایہ مسکراتے ہوئے وہاں سے جاچکی تھی۔ نتاشہ نا سمجھی سے وہیں کھڑی رہی۔
******************
عنایہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنا سر دبا رہی تھی۔ وہ کیفے ٹیریا میں زینب کے سامنے بیٹھی تھی۔ اسے آج ہونے والی ساری باتیں بتا چکی تھی۔ اسکا تو اپنا سر درد کرنے لگا تھا ان سب سے۔
” یار عنایہ لو ٹرائے اینگل تو سنا تھا لیکن لو سکوائر پہلی بار دیکھ سن رہی ہوں ” زینب نے مزے سے تبصرہ کیا۔
” مطلب تم اور کیف ایک دوسرے سے محبت کرتے ہو، حیدر تم سے محبت کرتا ہے اور نتاشہ کیف سے ” وہ جوڑ توڑ کر رہی تھی جیسے کوئی بہت انوکھی پہیلی ہاتھوں لگی تھی۔
” افف زینب میں کہاں پھنس گئی ہوں ؟ “
” یار تم کیوں پریشان ہوتی ہو ٹھیک ہو جائے گا سب ” زینب نے اسے تسلی دی۔
” زینب! میں حیدر کیلئے پریشان ہوں، اس نے مجھ کبھی کچھ کہا کیوں نہیں ؟ وہ کب سے ایسا سوچ رہا تھا میرے بارے میں مجھے پتا کیوں نہیں چلا ؟ ” وہ اضطراب میں نظر آرہی تھی۔
” ارے ہوسکتا ہے حیدر کے کہنے پر ہی تمہارے ماموں ممانی نے تمہاری اور اسکی شادی کا سوچا ہو ” زینب نے ایک دم کہا۔
” ہاں ہوسکتا ہے لیکن زینب میں حیدر کو اچھے سے جانتی ہوں وہ پہلے مجھ سے بات ضرور کرتا “
” اچھا! ہوسکتا ہے وہ بات کرنا چاہ رہا موقع نا ملا ہو “
” اسکا دل ٹوٹ جائے گا اسے کتنا دکھ ہوگا میں کیسے کہوں گی سب ؟ ” وہ پریشان تھی۔
” یار اب ہر کسی کو تو اسکی محبت نہیں ملتی نا اور ویسے بھی حیدر کافی میچور سمجھدار انسان ہے وہ ضرور تمھے سمجھے گا۔۔۔۔۔مجھے لگتا ہے وہ تم سے بات کرے اس سے پہلے تم اسے سب بتا دو ” زینب نے اسے تجویز دی تو عنایہ کو یہ ٹھیک لگا اور اس نے کچھ سوچتے ہوئے سر ہلایا۔
*******************
عنایہ اور کیف کے درمیان ایک سرد سی جنگ چل رہی تھی۔ کیف نے بھی اس دن کے بعد سے عنایہ سے کوئی بات نا کی اور نا اس کے سامنے آیا۔ عنایہ بظاہر تو اس سے سخت نالاں تھی لیکن کیف کا رویہ اچھے سے نوٹ کررہی تھی۔ وہ اسے کلاسروم کے علاؤہ کہیں نا نظر آتا تھا۔ دونوں میں ایک دیوار آگئی تھی۔ ایک عرصہ دونوں کا نا کوئی سامنا ہوا تھا نا کوئی مکالمہ۔ اس عرصے میں نتاشہ نے کیف سے اپنی محبت کا ایک بار پھر اظہار کیا تو کیف نے پھر سے انکار کردیا۔
” دیکھو نتاشہ تم میری بہت اچھی دوست ہو میں پہلے بھی بتا چکا ہوں مجھے ان سب میں دلچسپی نہیں “
” اوکے فائن! تمہیں محبت پر یقین نا ہو لیکن شادی تو کرو گے نا کسی نا کسی سے تو وہ میں کیوں نہیں؟ “
” نتاشہ پلیز میں تمہارا دل نہیں توڑنا چاہتا لیکن میں کسی اور سے محبت کرتا ہوں “
” کیا ؟ ” نتاشہ کیلئے یہ کسی جھٹکے سے کم نا تھا۔
” ہاں! اس لیے تمہیں سمجھا رہا ہوں بھول جاؤ مجھے اور موو اون کر جاؤ ” وہ کہہ کر جانے لگا تھا جب نتاشہ کی چبھتی ہوئی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
” کیا وہ عنایہ ہے ؟ ” شک تو اسے تھا لیکن اس نے تصدیق کرنی چاہی۔ کیف نے کوئی جواب نہیں دیا اور وہاں سے چلا گیا۔ اسکی خاموش نتاشہ کو واضح کر چکی تھی ہاں وہ عنایہ ہی ہے۔
********************
لاسٹ سمیسٹر کے ایگزامس کی ڈیٹ اناؤنس ہوچکی تھی۔ سبھی سٹوڈنٹس میں ایگزامس کی تیاری زور وشور سے جاری تھی۔ عنایہ اپنے کمرے میں موجود بیڈ پر کتابیں پھیلائے پڑھنے میں مصروف تھی۔ اس نے سامنے وال کلاک دیکھا جو رات کے بارہ بجا چکی تھی۔ اس نے پاس ہی پڑا اپنا فون اٹھایا اور واٹس ایپ پر کیف کی چیٹ کھولی جہاں لاسٹ میسج ایک ماہ پہلے کا تھا۔
“Happy birthday
“
اس نے لکھ کر کیف کے نمبر پر سینڈ کیا۔ آج کیف کا برتھڈے تھا۔ دونوں بات نہیں کررہے تھے لیکن عنایہ نے پھر بھی اسے وش کرنا ضروری سمجھا۔ دوسری طرف ایک منٹ کے بعد میسج سین ہوگیا تھا لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ اسے مایوسی ہوئی۔
” Kaif ?”
عنایہ نے پھر سے میسج کیا اور اس بار بھی سین ہوا تھا پر دوسری طرف وہ ہی خاموشی۔ اب کی بار عنایہ سے رہا نا گیا تو اس نے کال کی۔ بیل جارہی تھی لیکن اس نے کال ریسیو نہیں کی۔ عنایہ کا منہ بنا۔ اس نے دوبارہ کال کی تو اس دفع وہ جناب اپنا نمبر ہی آف کر چکے تھے۔ عنایہ کا دل پڑھائی سے اچاٹ ہوا۔ اس نے کتابیں بند کردیں اور سونے کیلئے لیٹ گئی۔ لیکن نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
*********************
صبح عنایہ یونیورسٹی آئی تو اس نے کیف کو ڈھونڈا۔ وہ کلاس سے پہلے ہی اس سے بات کرنا چاہتی تھی لیکن وہ نہیں ملا۔ پتا نہیں وہ کہاں جاتا تھا۔ اس نے خود کو عنایہ کی پہنچ سے دور کردیا تھا۔ لیکچر کے دوران جب وہ کلاس میں آیا تو عنایہ کا دل بے قرار ہوا۔ بلیو جینز پر براؤن شرٹ پہنے ماتھے پر بال بکھرے سنجیدہ چہرہ لیے وہ دوسری رو میں بیٹھا تھا۔ عنایہ کی ساری توجہ اس کی طرف تھی لیکن اس نے ایک نظر بھی نا دیکھا تھا اسے۔ عنایہ نے اس وقت شدت سے خواہش کی تھی کہ کاش یہاں اس کے اور کیف کے علاؤہ کوئی نا ہوتا۔ جیسے تیسے لیکچر ختم ہوا عنایہ جلدی سے اپنی سیٹ سے اٹھتی کیف کے پیچھے گئی جو کلاس سے باہر نکل رہا تھا۔
” کیف ! ” عنایہ نے اسے آواز دی لیکن وہ چلتا رہا۔ عنایہ تیزی سے آگے بڑھ کر بالکل اس کے سامنے آکر راستہ روک چکی تھی۔
” مجھے تم سے بات کرنی ہے ” اس نے دھیمے سے کہا۔
” لیکن مجھے نہیں کرنی ” کیف کہہ کر پاس سے گزرنے لگا۔
” کیف پلیز” وہ دوبارہ اسکے راستے میں حائل ہوئی۔
” میں یہاں کوئی تماشہ نہیں چاہتا ” کیف بولا تو عنایہ کو لگا وہ اس دن والی بات اسے واپس لٹا رہا ہے۔ عنایہ کا منہ لٹکا۔
” تم مجھ سے ایسے بی ہیو کیوں کررہے ہو ؟ ” وہ پھر سے جانے لگا تو عنایہ اس کے پیچھے سے کہنے لگی لیکن وہ سنی ان سنی کرتا چلا گیا۔
********************
کیف کے رویے سے وہ اتنا ہرٹ تھی کہ اس کا دل درد سے پھٹ رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا ابھی وہ یونیورسٹی نا ہوتی تو ضرور رو دیتی۔
” زینب یہ خوبصورت لوگ کتنے مغرور ہوتے ہیں نا ؟ ” وہ شدید دکھ میں ساتھ بیٹھی زینب سے کہہ رہی تھی۔
” ہاں یار بلکل صحیح کہا ” زینب سہمت ہوئی۔
” ایسے لوگوں سے محبت بھی نہیں ہونی چاہیے ” وہ منہ بنا کر بولی۔
” ہاں ! ” زینب اسکی ہاں میں ہاں ملانے لگی۔
” مجھے سمجھ نہیں آتی وہ خود سب بگاڑتا ہے اور خفا بھی خود ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔مطلب میری ناراضگی کی کوئی پروا نہیں ” اب وہ شکوے کرنے لگی۔
” بہت غلط بات ہے یہ ” زینب نے کہا تو عنایہ نے چونک کر اسے دیکھا۔
” زینب! تم کتنی خوش قسمت ہو نا۔۔۔۔۔۔ تم اور عمر کتنی آسانی سے بنا کسی مسئلے کہ ایک ہوگئے، کاش میرے ماما بابا بھی ہوتے تو آج میری زندگی میں یہ سب نا ہوتا۔۔۔۔کیف میرے گھر رشتہ بھیجتا میرے بابا میری خوشی کیلئے ہاں کر دیتے۔۔۔۔کم سے کم میں کسی احسان کے بوجھ تلے نا ہوتی۔۔۔۔مجھے لگتا تھا جب ماموں مجھ سے حیدر سے شادی کا کہیں گے میں کس منہ سے انکار کروں گی ؟ کیا کہوں گی کے مجھے اپنی پسند سے شادی کرنی ہے بے شک آپ نے مجھے پروان چڑھایا ہے بچپن سے لے کر اب تک میری ہر ضرورت کا خیال رکھا ہے پھر بھی میں آپ کے منہ پہ انکار کرتی ہوں ” وہ کرب سے کہہ رہی تھی۔ زینب خاموش سے اسے سن رہی تھی۔
” اتنا آسان تھا یہ کرنا ؟ میں کبھی نا کر پاتی یہ زینب میں شاید انہیں ہاں کہہ دیتی۔۔۔۔۔اگر کیف یہ بات نا سنتا تو وہ مجھ سے نکاح بھی نا کرتا۔۔۔۔۔سب ٹھیک ہوتا بس ایک کمی ہوتی ہم دونوں مل نا پاتے ” اس نے رک کر گہری سانس لی۔ اس کا دل بھر آیا تھا۔ زینب نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اسکا ہاتھ تھام کر نرمی سے دبایا جیسے تسلی دی ہو۔
” آج سب سوچتی ہوں تو میرا دماغ ماؤف ہو جاتا ہے۔۔۔۔جہاں سے شروع کیا تھا وہیں آکر رک گئی ہوں کوئی راستہ کوئی حل نظر نہیں آتا “
” عنایہ تم نے حیدر سے بات کی ؟ ” زینب نے پوچھا۔ عنایہ نا میں سر ہلایا۔
” اس کی پوسٹنگ بلوچستان میں ہوگئی ہے پچھلے دنوں بس ایک دن کیلئے گھر آیا تھا جو اس کی کزن کی شادی میں بیت گیا مجھے موقع ہی نہیں ملا بات کرنے کا “
” تو پھر کیا سوچا ہے ؟ ” زینب نے پوچھا۔
” اگلی بار جب آئے گا تو لمبے عرصے کیلئے آئے گا تب پہلی فرصت میں بات کروں گی ” اس نے کہا تو زینب نے سر ہلایا۔
********************
