Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 30)
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 30)
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
عنایہ اور حیدر فوڈ کورٹ میں بیٹھے تھے۔ انہوں نے پیزا آرڈر کیا ہوا تھا جسے 15 منٹ لگنے تھے۔ نور تو یہ کہہ کر کہ وہ یہاں اتنی دیر انتظار نہیں کرسکتی اس لیے بک شاپ پر چلی گئی۔ کیف عنایہ اور حیدر کے سر پہنچا تو عنایہ جو حیدر سے کچھ کہنے والی تھی ایک دم حیدر کے پیچھے کیف کو دیکھ کر اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ حیدر نے عنایہ کو یوں دیکھا تو گردن موڑ کر پیچھے دیکھا۔
” ہیلو عنایہ! It’s nice to see you here ” بنا کسی تاثر کے اس نے سرد نگاہوں سے عنایہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔ حیدر نے واپس عنایہ کو سوالیہ نظروں سے دیکھا تو عنایہ نے جلدی سے خود کو کمپوز کیا۔
” ہیلو کیف! تم یہاں ؟ ” عنایہ نے سرسری سا انداز اپنائے کہا۔
” حیدر یہ میرے کلاس فیلو ہیں۔۔۔۔۔۔اور کیف یہ میرے کزن ہیں ” اس نے مزید بولتے ہوئے انکا تعارف کروایا۔
” بس کلاس فیلو ؟ ” کیف نے سوال کیا۔ عنایہ تو اس سوال پر اسے دیکھے گئی۔
” ہاں۔۔۔۔۔۔۔یہ وہ میری دوست ہے نا زینب یہ اس کے فیانسی کے کزن بھی ہیں ” وہ رکی نظریں اٹھا کر کیف کو دیکھا جو ہنوز اسے سرد مہری سے دیکھا رہا تھا۔ عنایہ نے تھوک نگلا۔
” او۔۔۔۔۔اور یہ نور کی دوست منال کے بھائی بھی ہیں ” اب کی بار اس نے ناممکن سی کوشش کی مسکرانے کی۔ حیدر اٹھا تھا اور پلٹ کر کیف سے ہاتھ ملایا۔
” ہیلو آئی ایم میجر حیدر ” وہ مسکرا کر بولا تو کیف نے عنایہ پر سے نظریں ہٹائیں اور حیدر کے بڑھے ہاتھ کو تھام لیا۔ دونوں میں رسمی علیک سلیک ہوئی۔ اس دوران کیف بار بار عنایہ کی جانب دیکھتا جو یہاں وہاں دیکھنے لگتی۔ کیف کو عمر کی کال آنے لگی تو وہ حیدر کو خدا خافظ کہتا وہاں سے رخصت ہوا لیکن جانے سے پہلے عنایہ پر کڑی نگاہ ڈالنا نہیں بھولا تھا۔ اس کے جاتے ہی عنایہ نے سکھ کا سانس لیا تھا۔ کیف کو یوں اچانک دیکھ کو وہ صحیح معنوں میں پریشان ہوئی تھی اوپر سے اسکا انداز۔ ویٹر نے پیزا لا کر رکھا تو عنایہ نے تمام سوچوں کو جھٹکا۔ حیدر نے نور کو کال ملائی اور اسے آنے کا کہا۔
*********************
کیف جب سے گھر آیا تھا تب سے عنایہ کو کال پر کال کرتا جارہا تھا لیکن دوسری طرف عنایہ کال ریسیو ہی نہیں کررہی تھی۔
” پک اپ مائے کال ڈیم اٹ ” کیف دانت پیستے ہوئے بڑبڑایا۔ دوسری طرف عنایہ روم میں آئی تو اپنا فون جلدی سے چیک کیا کیونکہ اسے یقین تھا کیف کال کرے گا اسی لیے اس نے گھر آتے ہی اپنا فون سائلنٹ پر لگا دیا تھا اور وہ ہی ہوا فون جب اس نے دیکھا کیف کی بائیس میسڈ کالز تھیں۔ عنایہ نے جلدی سے ڈور لاک کیا اور کیف کو کال بیک کی۔ کیف پھر سے کال کرنے والا تھا لیکن عنایہ کی کال آتی دیکھ اس نے فوراً کال ریسیو کی۔
” کہاں تھی ہاں ؟ ” فون اٹھاتے ہی وہ چلایا تھا۔ غصے کی زیادتی سے اس کی آواز کافی بلند تھی۔
” آرام سے کیا ہو گیا ہے ؟ ” عنایہ تو اس کی تیز آواز پر شاک ہوئی تھی۔
” کیا کررہی تھی تم وہاں اس آدمی کے ساتھ ؟ ” اس کی بات کو پوری طرح اگنور کرتا وہ اپنا سوال پوچھ رہا تھا۔
” کیا مطلب آدمی ؟ کزن ہے وہ میرا ” عنایہ چلتے ہوئے بیڈ تک آئی تھی۔
” یا رائٹ تمہارا کزن “۔۔۔۔کیف نے دانت پسے تھے جیسے اس کزن کو اپنے دانتوں تلے چبایا ہو۔
” اوفف کیف کیا ہو گیا اور تم وہاں کیوں آئے تھے ؟ ایسے ہی حیدر کچھ اور سمجھ لیتا تو “
” آئی ڈونٹ کئیر وہ جو مرضی سمجھے اور تم مجھے بتاؤ گی اب کہ وہاں کیا ہو رہا تھا ؟ “
” کیا ہو رہا تھا وہاں ؟ نظر نہیں آیا ہم باقی لوگوں کی طرح کھانے ہی بیٹھے تھے اور نور بھی ہمارے ساتھ تھی کیف وہ بس بک شاپ تک گئی تھی ” عنایہ نے اپنی گود میں تکیہ رکھتے ہوئے اسے وضاحت دی تھی۔
” اچھا مجھے تو کچھ اور ہی نظر آرہا تھا۔۔۔۔بہت مسکرایا جارہا تھا ذرا مجھے بھی وہ لطیفہ سنانا پسند کرو گی جو وہ تمہے سنا رہا تھا ” کیف نے طنزیہ کہا۔ عنایہ نے لبوں پر امڈ آنے والی مسکان بر وقت دبائی۔ اسے کیف کا جیلس ہونا بہت مزہ دے رہا تھا۔
” لطیفہ تو نہیں تھا ہم اپنے بچپن کی ایک یاد تازہ کررہے تھے اور وہ بہت مزے کا واقع تھا۔۔۔۔پتا کیا ہوا تھا میں اور حیدر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
” جسٹ سٹاپ اٹ! ” وہ بات جاری رکھتی اسے سے پہلے ہی کیف نے اسے ٹوک دیا۔ اسکا میں اور حیدر کہنا ہی کیف کو آگ لگا گیا تھا۔
” مجھے بالکل پسند نہیں ہے یہ سب سمجھی ؟ اس لیے آج کے بعد تم اس کے ساتھ کہیں نہیں جاؤ گی ” کیف نے تنبیہ کی جبکہ عنایہ کو یہ بات بری لگی تھی۔
” کیف! حیدر صرف میرا کزن ہی نہیں میرا دوست بھی ہے اوکے ؟ تم مجھے ایسا کچھ بھی نہیں کرنے کا کہہ سکتے ” اب کی بار عنایہ سنجیدگی سے بولی تھی۔
” اوہ۔۔۔۔۔۔۔پہلے تو صرف کزن تھا آج دوست ہوگیا ہے اور کل کو تم مجھے کہو گی وہ تمہارا منگیتر بھی ہے گڈ۔۔۔ویری گڈ ” کیف ضبط کرتے ہوئے بولا۔
” کیف! ” عنایہ کو تو اس بات پر صدمہ ہوا تھا۔
” کیف نہیں حیدر۔۔۔۔دونوں ساتھ اچھے لگتے ہو ” وہ مزید بولا۔
” تم پاگل ہوگئے ہو ؟ ” عنایہ تو حیران ہورہی تھی۔
” ہاں پاگل ہوں لیکن تم سے کم ” عنایہ کا تو منہ ہی کھل گیا۔
” تم۔۔۔۔۔۔۔انتہائی جاہل انسان ہو ” وہ ایک دم غصے سے غرائی تھی۔
” اوکے! پھر اس جاہل انسان سے بات کیوں کررہی ہو؟ آئندہ نا کرنا مجھ سے بات “
” تو میں کونسا مرے جارہی ہوں تم سے بات کرنے کیلئے؟”
” جانتا ہوں اچھے سے۔۔۔تمہارے پاس وہ فوجی ہے نا بات کرنے کیلئے اس لیے کیا فرق پڑتا ہے میں بات کروں یا نا کروں “
” جسٹ شٹ یور ماوتھ ایڈیٹ ” عنایہ نے غصے سے پھنکار کر کال کاٹ دی۔
” آہ۔۔۔۔۔ ایک نمبر کا گدھا ہے ” وہ فون بیڈ پر پٹخ چکی تھی۔ دوسری طرف کیف نے فون کو گھورا۔
” بڑی آئی چڑیل کہیں کی ” کیف نے بھی فون کو بیڈ پر پھینکا اور خود کمرے سے نکل گیا۔
**********************
اگلے دن یونیورسٹی میں کیف کے رنگ ڈھنگ ہی بدلے ہوئے تھے۔ عنایہ کو ایسے اگنور کررہا تھا جیسے جانتا تک نا ہو اسے۔ ابھی بھی وہ لائبریری کو جاتی سیڑھیوں کے پاس کھڑا تھا اور دو لڑکیاں بھی اس کے ساتھ تھیں۔ ان لڑکیوں کے چہروں سے پھوٹتی خوشی یہ بتانے کیلئے کافی تھی کہ یونیورسٹی کا ہارٹ تھروب کیف مرتضیٰ ان سے بات کررہا ہے۔ کیف نے ذرا کو نظر گھمائی تو عنایہ کیفے سے نکلتی نظر آئی۔ وہ اب مزید ہنس ہنس کر ان لڑکیوں سے بات کرنے لگا۔ عنایہ لائبریری جانے کیلئے اس طرف آئی تو کیف کو ان لڑکیوں کیساتھ یوں ہنستا دیکھ اسے ایک دم غصہ عود آیا۔ ان لوگوں کو ایک گھوری سے نوازتی وہ پاس سے گزر کر جا ہی رہی تھی جب کیف کی آواز اس کے سماعتوں سے ٹکرائی۔
” سویٹ ہارٹ تم جب چاہو میرے پاس آسکتی ہو میں تمھے سمجھا دوں گا یہ ٹاپک ” عنایہ نے دانت پر دانت جمائے اور تیزی سے سیڑھیاں عبور کرگئی۔ کیف نے ترچھی نظر سے دیکھا تو وہ جا چکی تھی۔
**********************
وہ لائیبری میں آئی تو پڑھنے کیلئے تھی لیکن اب کہاں اسکا دھیان ان کتابوں میں لگنا تھا۔ ساری توجہ کیف کی جانب جا چکی تھی۔
” کمینہ! مجھے لگا تھا صرف مجھے سویٹ ہارٹ کہہ کر بلاتا ہے لیکن یہاں ہر دوسری کو ایسے ہی بلاتا ہے ” وہ روہانسی ہوئی۔ خود کو اس وقت کتنا بے بس محسوس کررہی تھی ورنہ دل چاہ رہا تھا نیچے جائے اور ان لڑکیوں سمیت اس کا بھی سر پھاڑ دے۔
***********************
کیف عمر اور زینب کے ہمراہ کیفے ٹیریا آیا تھا۔ جس ٹیبل پر وہ بیٹھنے لگے تھے اس کے ساتھ والے ٹیبل پر نتاشہ اکیلی بیٹھی کافی پی رہی تھی اور ساتھ ساتھ اپنی آج کی پیکچرز انسٹاگرام پر پوسٹ کررہی تھی۔ کیف نے اسے اکیلے دیکھا تو اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔
” ہے بیوٹیفل اکیلے اکیلے کافی پی رہی ہو ؟ ” کیف نے مسکرا کر کہا تھا جبکہ نتاشہ کیلئے یہ خوشگوار خیرت تھی کہ کیف آج کتنے عرصے بعد یوں خود اس کے پاس آیا تھا۔
” ہاں جب سے میرے دوستوں کیلئے میرے پاس ٹائم نہیں رہا تب سے اکیلے ہی بس ” نتاشہ نے ناراضگی بھرے لہجے میں کہا تھا۔
” ارے پاگل ہو کیوں نہیں ہے ٹائم ؟ تم جب چاہو مجھے بتا دیا کرو ہم تینوں پہلے کی طرح ہینگ آؤٹ کریں گے “
” لیکن وہ عمر جب سے اس کی منگنی اس زینب سے ہوئی ہے وہ تو اس کے پلو سے بندھ کر رہ گیا ہے ” نتاشہ نے ناک چڑھا کر کہا تھا اور اس کے پیچھے بیٹھے زینب اور عمر تک یہ آواز صاف گئی تھی جس پر عمر کے تاثرات کچھ حیرانگی لیے ہوئے تھے اور زینب کا رنگ بدلا تھا۔ عمر نے اس کی اور دیکھا تھا وہ غصے میں لگتی تھی۔ کیف نے نتاشہ کی بات پر قہقہ لگایا تھا۔ نتاشہ اس بات سے انجان تھی کہ اس کے پیچھے والی ٹیبل پر عمر اور زینب موجود تھے۔ وہ یوں بیٹھی تھی کہ اس کی پشت تھی ان کی جانب، کیف بالکل اس کے سامنے والی چیئر پر بیٹھا تھا۔ دفعتاً کیفے ٹیریا کا ڈور کھلا اور عنایہ اندر آئی۔ اس نے نظر گھما کر زینب اور عمر کو دیکھنا چاہا۔ ان پر نظر پڑی تو وہ مسکرا کر ان کی جانب آنے لگی لیکن ان کے قریب آتے ہی کیف پر نظر پڑی تو چہرہ ایک دم سپاٹ ہوا۔ وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ چکی تھی۔ وہ نتاشہ کے ساتھ بیٹھا تھا وہ دیکھ چکی تھی۔ کیف بھی اسے آتے دیکھ چکا تھا لیکن نظر اٹھا کر ایک بار بھی نہیں دیکھا تھا۔ نتاشہ اس سے باتیں کرنے لگی اور کیف بھی اس کی باتوں کا جواب دے رہا تھا۔
” نتاشہ پھر آج رات ڈنر کرتے ہیں ساتھ ” کیف نے تھوڑا اونچی آواز میں کہا تھا تاکہ ساتھ والی ٹیبل پر موجود ہستی یہ ٹھیک سے سن لے۔
” شیور ” نتاشہ بھر پور مسکراہٹ لیے بولی۔
” سن رہے ہو اپنے آوارہ دوست کی باتیں ” عنایہ نے عمر سے کہا تھا۔
” او ہو عنایہ نتاشہ ہماری بہت اچھی فرینڈ ہے ہم تینوں اکثر ڈنر کرتے ہیں ساتھ ” اس نے جواباً کہا۔ زینب اس کی بات پر گھوری سے نوازا تھا اسے۔
” تمہاری جو فرینڈ ہے نا اسے کہو اپنا منہ بند رکھا کرے ورنہ میں کسی دن اسکا خون کردوں گی بڑی آئی پلو سے بندھا رہتا ہے ” زینب نے آخر میں نتاشہ کی نقل اتارتے ہوئے کہا تھا۔ عمر نے اپنی مسکراہٹ ضبط کی۔ جبکہ عنایہ کرسی سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ ترچھی نظروں سے وہ کیف کو بھی دیکھ رہی تھی۔
**********************
یونیورسٹی میں سپورٹس گالا شروع ہو چکا تھا۔ سبھی سٹوڈنٹس کافی ایکسائیٹد تھے۔ کیف نے کسی بھی کھیل میں حصہ لینے سے اس بار انکار کردیا تھا ورنہ وہ ہمیشہ حصہ لیتا تھا۔ دو دن سے اس نے عنایہ سے بالکل بات چیت بند کر رکھی تھی۔ یونیورسٹی میں اس کے سامنے وہ کوئی موقع نہیں چھوڑتا تھا اسے جلانے میں۔ ہر دن کسی نا کسی لڑکی کیساتھ وہ نظر آتا تھا اور عنایہ یہ دیکھ کر جل بھن جاتی تھی۔ آج یونیورسٹی کی آف پر کیف عنایہ کے پیچھے ہی باہر نکلا تھا۔ حیدر باہر گاڑی کے پاس کھڑا عنایہ کا انتظار کررہا تھا۔ وہ جب سے آیا تھا روز عنایہ کو لینے خود ہی یونیورسٹی آتا تھا۔
” اتنی گرمی تھی اندر بیٹھے رہتے ” عنایہ نے اسے کہا تھا جو اتنی گرمی میں بھی ہمیشہ کی طرح گاڑی کے باہر کھڑا تھا۔
” میم آپ کی سروس میں خادم حاظر ہے آپ فکر نہیں کریں مجھے عادت ہے اس کڑک دھوپ کی ” وہ اس کے سامنے سر جھکا کر شوخی سے بولا۔ عنایہ مسکرا دی۔ دور کھڑے کیف نے چبھتی نظروں سے یہ منظر دیکھا تھا۔
**********************
منال آج نور کے بہت کہنے پر اس کے گھر گئی ہوئی تھی۔ دونوں نے مل کر ڈھیروں باتیں کی تھیں۔ کالج کیونکہ آف تھا اس لیے وہ کبھی کہیں باہر مل لیتیں اور کبھی ایک دوسرے کے گھر چلی جایا کرتیں۔ منال نے کیف کو کال کرکے کہا تھا کہ وہ اسے نور کے گھر سے لے جائے کیونکہ ان کا ڈرائیور رابعہ بیگم کے کسی کام سے روالپنڈی گیا ہوا تھا۔ کیف وہاں پہنچا تو منال کو کال کرکے باہر آنے کا کہا۔ خود وہ گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ سوچتی نگاہیں سامنے گھر پر مرکوز تھیں۔ جب ہی حیدر آیا جو کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا۔ کیف کی گاڑی کے پیچھے ہی اس نے گاڑی لگائی اور باہر نکلا۔ کیف کے تاثرات ایک دم سنجیدہ ہوئے تھے۔ وہ چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور اس سے ملا۔ کیف نے بھی مروت دیکھاتے ہوئے ہیلو ہائے کرلی۔
” آپ یہاں ؟ ” حیدر نے پوچھا۔
” اپنی بہن کو لینے آیا تھا ” کیف نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
” اوہ تو آپ باہر کیوں کھڑے ہیں اندر آئیں ؟ ” حیدر نے خوشدلی سے کہا۔
” نہیں! لیٹ ہورہے ہیں ہمیں کہیں جانا ہے ” کیف نے انکار کیا۔
” اچھا ؟ اور سنائیں کیسی جارہی سٹڈیز آپ کی ؟ “
” بہت اچھی۔۔۔۔۔ میرے اور عنایہ کا اکثر کامپیڈیشن رہتا ہے ” اس نے جان بوجھ کر عنایہ کا ذکر کیا۔
” رئیلی ؟ ” حیدر نے پوچھا۔
” ہاں پہلے ہماری بالکل نہیں بنتی تھی لیکن اب۔۔۔۔ وہ رکا۔ حیدر کی آنکھوں میں دیکھا۔ اب ہم بہت اچھے دوست ہیں ” کیف نے جیسے کچھ باور کروانا چاہا۔ حیدر چونکا تھا۔ اسکا انداز کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا۔
” عنایہ نے مجھے کبھی تمہارا بتایا نہیں ” حیدر آپ سے تم پر آیا تھا۔
” لیکن مجھے وہ اکثر تمہارا بتاتی ہے ” کیف نے بھی یہ آپ والا تکلف بھاڑ میں بھیجا۔ حیدر نے اب کی بار کچھ نہیں کہا صرف ایک ناپسندیدہ سی نظر اس پر ڈالی اور اندر چلا گیا۔ پیچھے کیف کے چہرے پر ایک کمینی سی مسکان تھی۔
*********************
پورا لاونج اندھیرے میں ڈوبا تھا۔ سامنے ایل سی ڈی پر ہارر مووی لگی ہوئی تھی۔ ون سیٹر صوفے پر نور ہاتھوں میں چپس لیے بیٹھی تھی۔ اس کی پھیلی آنکھیں ٹی وی پر جمیں تھیں۔ سامنے تھری سیٹر صوفے پر عنایہ اور حیدر بیٹھے تھے۔ عنایہ پاؤں اوپر کیے ہوئے تھی جبکہ حیدر ٹانگ پر ٹانگ جمائے ایک ہاتھ صوفے پر پھیلائے اور دوسرے ہاتھ سے اپنی تھوڑی کھجا رہا تھا۔ گاہے بگاہے نظر وہ اپنے سے کچھ فاصلے پر بیٹھی عنایہ ہر ڈال رہا تھا۔ اس سے مزید رہا نا گیا تھا تو دھیمی آواز میں عنایہ کو مخاطب کیا۔
” وہ لڑکا منال کا بھائی جو تمہارے ساتھ پڑھتا ہے کیا تم دونوں دوست ہو ؟ ” حیدر کی بات پر عنایہ چونکی تھی اور فوراً سے پیشتر گردن اس کی اور موڑی۔
” نن۔۔۔۔۔۔نہیں ہم تو بس کلاس فیلو ہیں بس کام ہو تو بات کرتے ہیں، اس سے زیادہ تو کچھ نہیں ” وہ بروقت بولی۔
” اچھا ؟ لیکن وہ تو مجھے کچھ بتا رہا تھا۔۔۔۔۔خیر جو بھی ہو۔۔۔۔مجھے وہ لڑکا کچھ خاص پسند نہیں آیا تم بس کام سے زیادہ اس سے بات مت کرنا اوکے ؟ ” اس نے تاکید کی تو عنایہ نے فقط سر ہلانے میں اکتفا کیا۔ وہ اب دوبارہ سے سامنے سکرین کی طرف دیکھ رہی تھی مگر غائب دماغی سے۔
*********************
نور سو گئی تو عنایہ نے کیف کو کال کی۔ وہ آج چار دن بعد اسے کال کررہی تھی۔ دوسری طرف کیف دونوں ہاتھ سر کے پیچھے باندھے چیت لیٹا تھا۔ فون بجا تو اس نے اٹھایا۔ سکرین پر نمودار ہونے والا نام دیکھ کر مسکرایا۔ آخر کار اس نے کال کر ہی لی۔ وہ جانتا تھا آج حیدر سے ہوئی ملاقات کے بعد وہ ضرور رابطہ کرے گی۔
” ہاں کہو ؟ ” کیف نے کال ریسیو کرتے ہی کہا تھا۔ انداز ایسا تھا جیسے بہت مصروف ہو۔
” کیف ؟ تم نے کیا کہا ہے حیدر سے ؟ “
” واہ۔۔۔۔۔آج اتنے دن بعد میرا خیال آیا تو بھی اسی کا ذکر” کیف نے طنزیہ کہا۔
” کیف! پلیز ابھی مجھے میری بات کا جواب دو جھگڑ بعد میں لینا “
” کیوں دوں جواب ؟ “
” کیف تم کیوں کررہے ہو ایسا ؟ تمھے پتا نہیں جب حیدر نے کہا اسے تم اچھے نہیں لگتے کتنا برا لگا مجھے ” وہ اب افسردہ سا کہنے لگی۔
” کچھ نہیں کہا میں نے ایسا ” اسے کے لہجے میں مایوسی محسوس کی تو وہ اب ٹھیک سے بولا۔
” ہم کیوں بنا بات کے جھگڑ رہے ہیں ؟ ” وہ ایک دم پوچھنے لگی۔ آج کتنے دنوں بعد دونوں بات کررہے تھے۔ اسکی آواز سنتے ہی وہ سب انا غصہ چھوڑ اپنے دل کی سنتے ہوئے اس سے بات کرنے لگی۔
” یہ تو تم خود سے پوچھو “
” کیف تم جیلس کیوں ہو حیدر سے ؟ ” وہ ایک دم کہہ گئی لیکن پھر احساس ہوا تو زبان دانتوں تلے دبائی۔
” کیا کہا میں اور جیلس اس سے ؟ ہونہہ کیوں اس میں ہے کیا ؟ ایک ٹھیک ٹھاک سی شکل اور آرمی کا روعب ” کیف لیٹا اٹھ بیٹھا تھا۔ عنایہ کو ہنسی آئی ۔ وہ جیلس ہوتا کتنا پیارا لگتا تھا۔
” اچھا تم جیلس نہیں ہو ؟ ” عنایہ اب شرارت سے مسکراتے ہوئے بولی۔
” بالکل! کوئی وجہ نہیں کیونکہ تم تو میری ہو ” اس بات پر عنایہ جھنپ گئی۔ دل کو اسکا یہ کہنا بے حد اچھا لگا تھا۔
” میں تم سے ناراض ہوں ” وہ ایک دم سے بچوں کی طرح بولی۔
” کیوں ؟ “
” تم نتاشہ کے ساتھ ڈنر پر گئے ؟ ” اس نے شکوہ کیا۔
” ہاں گیا تھا ” کیف نے سچ کہا۔ عنایہ کو امید نہیں تھی۔ وہ ایک دم خفا ہوئی اور چپ رہی۔ کیف نے اسکی خاموشی محسوس کی تو کہنے لگا۔
” میں اکیلا نہیں تھا عمر بھی ساتھ تھا ” اس بات پر وہ ایک دم خوش ہوئی۔
” اور تم نے اس لڑکی کو سویٹ ہارٹ بھی کہا تھا جبکہ مجھے لگا تم صرف مجھے کہتے ہو ” ایک اور شکوہ حاظر تھا۔ اب کی بار کیف بھر پور طریقے سے مسکرایا۔
” اب بتاؤ جیلس کون ہے ؟ ” عنایہ ہنس دی۔
*********************
آج کیف کا کانسرٹ تھا جو اسلامآباد کے پریڈ گراؤنڈ میں منعقد تھا۔ عنایہ نور اور حیدر بھی جارہے تھے۔ حیدر نے تو جانے سے انکار کیا تھا لیکن نور نے بہت ضد کی تھی۔ گراؤنڈ کھچا کھچ بڑا تھا۔ شو کے سارے ٹکٹس ہاتھوں ہاتھ بک گئے تھے جو یونیورسٹی کی طرف سے ایک فاؤنڈیشن کو عطیہ کیے جانے تھے جو کینسر سے لڑنے والے بچوں کی امداد کیلئے استعمال ہونے تھے۔ اسکا گانا شروع ہوا تھا تو سب ہی جیسے پاگل ہوگئے تھے۔ ہر کوئی اسکا نام پکار رہا تھا۔ سب ہی اس کے دیوانے ہوئے تھے۔ اسکی آواز کے سحر میں کھو گئے تھے جیسے محسور کن اسکی شخصیت تھی ویسے ہی اسکی آواز بھی محسور کن تھی۔ عنایہ تو سب کی کیف کیلئے اس قدر دیوانگی پر مسکرائے جارہی تھی۔ حیدر بھی کافی ایمپریسڈ ہوا تھا۔ شو ختم ہوا تو کیف لوگوں کے جھنڈ سے بچ بچا کر نکلا تھا۔ وہ سٹیج کی بیک سائیڈ پر اپنی گاڑی کیساتھ ٹیک لگائے سگریٹ پینے لگا۔ حیدر بھی اسکے پیچھے باہر آیا تھا۔ کیف نے اسے دیکھا ایک ہاتھ جیب میں پھنسائے وہ مسکرا کر چلتا ہوا اس ہی کی طرف آرہا تھا۔
” ویل ڈن مین بہت اچھا گاتے ہو آئی ایم ایمپریسڈ ” اس نے خوشدلی سے کہا تھا۔ وہ ایسا ہی تھا جب کوئی چیز اچھی لگے اس کی تعریف ضرور کرتا تھا۔
” تھینکس! ” کیف نے ایک لفظ میں کہا تھا اور واپس سے اپنے شغل میں مصروف ہوگیا۔ وہ بھی اسکے ساتھ ہی کھڑا ہوگیا۔ ہاتھ سینے پر باندھے۔
” تمہارے بول دل کو لگے۔۔۔۔۔ہر محبت کرنے والا جو یہاں موجود تھا یقیناً اس کے بعد اپنے دل کی بات کہہ دے گا ” وہ کھوئے کھوئے انداز میں کہہ رہا تھا۔ اسے خود نہیں پتا تھا وہ کیوں اس سے یوں بات کررہا تھا۔ کیف اس کے لفظ محبت میں ٹھٹکا تھا۔ اس نے گردن موڑ کر اسے دیکھا اور اسکے چہرے سے صاف پتا چل رہا تھا وہ بھی کسی کی محبت میں مبتلا ہے۔
” اچھا تو تم بھی اس مرض میں مبتلا ہو ” کیف نے کہا۔ حیدر نے مسکرا کر سر ہلایا۔
” اور تم ؟ ” حیدر نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ کیف کو ناجانے کیوں لگ رہا تھا کہ اسکے سامنے کھڑا یہ شخص کہیں عنایہ کو نا چاہتا ہو۔ لیکن یہ اسکا وہم بھی ہوسکتا ہے وہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔ اس نے گردن ہاں میں ہلائی۔
” تبھی تو اتنا اثر ہے تمہاری آواز میں ” حیدر نے تبصرہ کیا۔
” ویسے who is the lucky girl ؟ “
” عنایہ! ” اپنی سوچوں کی دنیا میں گم اس کے منہ سے نکلا یا شاید اس نے جان کر کہا۔ وہ خود نہیں جانتا تھا۔ حیدر کی آنکھیں پھیلی پھر ماتھے پر بل پڑے وہ غصے میں اس کی طرف پلٹا۔
” کیا کہا تم نے ؟ ” وہ ایک بار پھر سے کنفرم کرنا چاہ رہا تھا کہ آیاں اس نے عنایہ کا نام سنا تھا یا اسے سننے میں غلطی لگی تھی۔
” وہ ہی جو تم نے سنا ہے ” کیف بالکل آرام سے کھڑا تھا۔ جیسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ ابھی کس کے سامنے کیا کہہ گیا اور اس سے عنایہ کو کتنی مشکل ہوسکتی ہے۔ حیدر ایک دم آگے اس کے مقابل کھڑا ہوا۔
” کیا تم عنایہ میری کزن کا کہہ رہے ہو ؟ ” حیدر نے سرد لہجے میں استفسار کیا۔
” ہاں اسی کا کہہ رہا ہوں۔۔۔۔کیوں وہ تمہاری کزن ہے تو کوئی اس سے محبت نہیں کرسکتا ؟ ” کیف نے بھنویں اچکائی تھیں۔
” تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی عنایہ کے بارے میں ایسا سوچنے کی ؟ ” حیدر غصے سے آگے بڑھ کر اسکا گریبان پکڑ چکا تھا۔ کیف نے اسے دھکا دے کر خود سے دور کیا تھا۔ وہ گرتا گرتا سنبھلا تھا۔
” آئندہ اس کے آس پاس بھی نظر آئے تو جان لے لوں گا تمہاری ” حیدر نے انگلی اٹھا کر سرخ آنکھوں سے تنبیہ کی تھی۔
” تم کون ہوتے ہو یہ فیصلہ کرنے والے ہاں؟ ” کیف بھی اب طیش میں آیا تھا۔
” اس کا سب کچھ ہوں، محبت ہے وہ میری ” حیدر نے جیسے ہی یہ الفاظ کہے کیف نے آگے بڑھ کر اسے پے در پے مکے مارنے شروع کیے تھے۔ جس کیلئے حیدر تیار نا تھا لیکن پھر وہ سنبھالا اور اپنا دفاع کرتے ہوئے ایک زور دار مکا کیف کی ناک پر رسید کیا جس سے کیف پیچھے کو گرا حیدر آرمی میں تھا اسکی خاصی ٹریننگ تھی۔ کیف غصے سے اٹھا تھا اور ایک ٹانگ زور سے حیدر کی ٹانگ پر مار کر اب کی بار اسے نیچے گرا چکا تھا۔ کیف نے ناک سے بہتا خون اپنے انگھوٹے سے صاف کیا اور سرخ انگارہ نظریں ابھی بھی حیدر پر جمی تھیں جو اب سیدھا کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ اس سے پہلے کیف آگے بڑھ کر مزید اس پر حملہ آور ہوتا پیچھے سے عمر اسے تھام کر روک چکا تھا۔ دوسری طرف سے عنایہ بھی بھاگ کر اس طرف آئی تھی۔ اس کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا۔
” چھوڑ عمر آج یہ میرے ہاتھوں سے بچے گا نہیں ” کیف غصے کی زیادتی سے چیخا تھا۔
” تجھے تو میں ” حیدر بھی اب غصے میں اس کی اور بڑھا تھا لیکن عنایہ اسی وقت ان کے بیچ آگئی تھی۔ عنایہ نے حیدر کا بازو زورو سے تھام رکھا تھا۔
” حیدر پلیز ” اس نے حیدر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے التجا کی تو وہ رک کر اسے دیکھنے لگا۔
” عنایہ تم نہیں جانتی اس نے کیا بکواس کی ہے ” حیدر کی یہ کہنے کی دیر تھی عنایہ کو لگا اسکی روح فنا ہو جائے گی کیا کیف اسے سب بتا چکا تھا۔ عنایہ کو اسکا بازو تھام دیکھ کر کیف کا بس نہیں چل رہا تھا کچھ کر ڈالے وہ ایک دم عمر سے اپنا آپ چھوڑواتا ان کی طرف بڑھا تھا۔ حیدر نے کیف کو دیکھا تو عنایہ کو اپنے سامنے سے ہٹا کر اسے مارنے کو لپکا تھا۔ اس سے پہلے کے وہ اس ہر ہاتھ اٹھاتا عنایہ اسکا بازو تھام گئی۔
” حیدر سٹاپ اٹ پلیز ” عنایہ چیخی تھی۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہوئی تھی۔ حیدر نے اس کے آنسو دیکھے تو رک گیا۔ عمر بھی کیف کو دوبارہ سے قابو کرچکا تھا۔
” چلو یہاں سے حیدر مجھے گھر جانا ہے ” وہ اپنی روئی آواز میں اس سے التجا کرنے لگی۔ وہ جانتی تھی وہ حیدر سے کہے گی تو ضرور اس کی سنے گا اور وہی ہوا تھا وہ اسے اپنے ساتھ لیے وہاں سے جانے لگا۔ عنایہ نے ایک بار بھی کیف کی طرف نہیں دیکھا تھا۔ وہ وہاں سے جا چکے تھے اور کیف بے بسی سے یہ سب دیکھتا رہا۔ کیف نے عمر کو دھکا دے کر خود سے دور کیا۔
” کیف پاگل ہوگیا ہے تو ؟ ” عمر بھی اب غصے میں چلایا تھا۔
” ہاں ہوگیا ہوں پاگل۔۔۔۔۔۔تو نے دیکھا ؟؟ دیکھا کیسے اسے یہاں سے لے کر گئی ہے ؟ میرے سامنے سے اسے مجھ سے بچا کر لے گئی۔۔۔۔۔۔بہت پروا ہے اس کی۔۔۔۔۔۔اچھا ہے لے گئی ورنہ چار کندھوں پر جاتا ” وہ غصے میں بولتا جارہا تھا۔
” کیف ہوا کیا ہے ؟ کیوں ایسے بات کررہا ہے ؟ ” عمر نے اب کے اسے ریلیکس کرنے کیلئے دھیرے سے پوچھا تھا۔
” جا جا کر اسی سے پوچھ لے جسکو بچا رہا تھا ” کیف نے غصے میں اسکا بھی لحاظ نہیں کیا تھا۔ عمر نے کچھ نہیں کہا تھا جانتا تھا وہ غصے میں کسی کی نہیں سنتا۔ کیف اپنی گاڑی کی طرف گیا۔ عمر وہیں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔
” منال کو گھر چھوڑ دینا ” وہ جاتے ہوئے اس سے کہہ کر تیزی سے گاڑی لیے وہاں سے نکل گیا۔
***********************
