222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 21)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

تھک ہار کر عنایہ کیفے ٹیریا میں آگئی جہاں زینب کچھ لڑکیوں کے ساتھ بیٹھی دکھی۔ عنایہ الگ ٹیبل پر اکیلے جا کر بیٹھ گئی۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی اور زینب بھی اس کے پاس آکر بیٹھ چکی تھی۔

” کیا ہوا تمہارا منہ کیوں اترا ہوا ہے ؟ ” زینب نے اسکی اور دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” یار وہ کیف کا بچا کہاں غائب ہے ؟ ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئی ہوں۔۔۔۔۔۔ورنہ ہمیشہ تو لڑکیوں میں گھیرا دیکھ جاتا تھا اور آج نظر ہی نہیں آرہا ” عنایہ نے منہ بنا کر بتایا۔

” ارے میں نے عمر اور اسے لائبریری کے باہر دیکھا تھا ابھی پانچ منٹ پہلے تک ” زینب نے بتایا۔

” آ ہاں ! میں ذرا اسے دیکھ کر آتی ہوں تب تک تم کچھ کھانے کیلئے منگواؤ بھوک لگ رہی ہے ساری انرجی تو اس کیف کے بچے کو ڈھونڈنے میں لگ گئی میری آج ” زینب کو ہدایت دیتی وہ تیزی سے اٹھ کر کیفے سے باہر نکلی تھی۔

*******************

” کیا مسئلہ ہے یہاں کیوں بلایا ہے کیفے نہیں تھا جانا ؟ نتاشہ کب سے انتظار کررہی ہے وہاں ” عمر نے کیف سے پوچھا۔ جو بینچ پر بیٹھا فون پر لگا تھا۔ وہ اس وقت یونیورسٹی کی بیک سائیڈ پر موجود تھے۔

” اس کو بول دو ایک کام میں مصروف ہیں کیفے نہیں آسکتے فلحال ” کیف نے فون سے نظریں ہٹائے بنا ہی کہا تھا۔

” کیوں ؟ تھوڑی دیر پہلے تک تو خود تم نے کہا تھا کیفے چل کے کافی پیتے ہیں اور اب ” عمر نے اس کے پاس بینچ پر بیٹھتے ہوئے استفسار کیا۔

” بس موڈ بدل گیا ” کیف نے جواب دے کر نظریں فون سے اٹھائیں تو سامنے سے وہ چلی آرہی تھی جو آجکل اسکی جان کی دشمن بنی ہوئی تھی۔

” یہ یہاں کیسے آگئی؟ ” کیف کے منہ سے نکلا۔

” کون ؟ ” عمر نے اس کے نظروں کے تعاقب میں دیکھا۔

” بات سن میں جارہا ہوں میرا پوچھے گی تو کہنا سر اقبال نے بلایا تھا اس لیے جلدی میں چلا گیا ” کیف کہہ کر تیزی سے وہاں سے جانے لگا۔

” لیکن ہوا کیا ہے ؟ ” عمر اسکے یوں جانے پر پوچھتا رہ لیکن کیف ان سنی کرتا نکل گیا۔

عنایہ نے دور سے اسے یوں بھاگتے دیکھا تو وہیں منہ کھولے کھڑی اسے دیکھتی رہی۔ عمر بینچ سے اٹھ کر چلتا ہوا اس کے پاس آیا۔

” کیا ہوا ؟ ” عمر نے پوچھا۔

” وہ کہاں گیا ہے ؟ ” عنایہ نے الٹا سوال کیا۔

” سر اقبال نے بلایا تھا اسے، لیکن تم بتاؤ کیا بات ہوئی ہے ؟ “

” تمہارا دوست شرط ہارا ہے مجھ سے لیکن اب جب شرط پوری کرنے کا ٹائم آیا تو ہاتھ نہیں آرہا میرے “

” اوہ تو یہ معاملہ ہے “

” بالکل ! “

” یہ تو مشکل ہے ” عمر نے کان کھجاتے ہوئے کہا۔ اس کی بات پر عنایہ نے بس ایک نظر اسے دیکھا تھا۔

*******************

سر ہمدانی کا لیکچر تھا۔ عنایہ کیف کا ہی انتظار کررہی تھی جب وہ اسے کسی لڑکے کے ساتھ بات کرتا کلاس روم میں داخل ہوتا دکھا۔ وہ جا کر دوسری رو میں بیٹھ چکا تھا۔ عنایہ نے پورے لیکچر کے دوران اس پر نظر رکھی تھی۔ وہ انتظار میں تھی کب لیکچر ختم ہو سر جائیں اور وہ جلدی سے کیف کے پاس جا کر بات کرسکے۔ لیکن بار بار اس کی طرف دیکھتے ہوئے وہ ایک پل کو اسے بنا پلک جھپک دیکھے گئی۔

” یار کیا مسئلہ ہے میرے ساتھ ” عنایہ جلدی سے نظریں ہٹا کر بڑبڑائی۔ سامنے سر کی طرف دیکھتے ہوئے اسے اپنا خواب یاد آیا جب وہ اس کے اتنے قریب کھڑا تھا۔ اپنی سوچوں پر ایک دم اس نے جھرجھری لی۔

” اوفف کیا سوچنے لگی ہوں میں ؟ لگتا ہے ان سب لڑکیوں کی طرح میرا دماغ بھی خراب ہوتا جا رہا ہے ” وہ دھیمے سے بولی تھی جب پاس بیٹھی زینب نے سنتے ہوئے اس کی اور سوالیہ انداز میں دیکھا ( کیا کہہ رہی ہو) عنایہ نفی میں سر ہلا کر دوبارہ سے سامنے دیکھنے لگی۔

********************

وہ کیف کا پیچھا کرتے یہاں دوسرے ڈپارٹمنٹ آئی تھی۔ کلاس کے بعد جب عنایہ جلدی سے اپنی نشت سے اٹھ کر اس کے پاس جانے لگی تھی وہ اسے دیکھتا ایسے پھرتی سے کلاس سے نکلا تھا کہ عنایہ ہکا بکا رہ گئی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیف کو ہوا کیا ہے۔ اس کے بعد وہ اسے گراؤنڈ میں دکھا تھا تو عنایہ نے اسے آواز دے کر رک جانے کو کہا تھا لیکن وہ ان سنی کرتا وہاں سے بھی جا چکا تھا۔

” کیف رکو ! ” عنایہ نے اسے پیچھے سے آواز دی تھی۔

” ارے یار یہ کیوں میرے پیچھے پڑی ہے ؟ ” کہاں پھنس گیا ہوں ؟ ” کیف چلتے چلتے بے بسی سے بولا تھا اور پھر بھاگتے ہوئے ایک خالی کلاس روم کے اندر گھس گیا۔ عنایہ بھی جلدی سے کلاس روم کے اندر گئی لیکن وہ اسے کہیں نظر نہیں آیا۔ پوری کلاس خالی تھی۔

” کہاں گیا ؟ یہیں تو آیا تھا ” عنایہ اپنا پھولا سانس درست کرتی بڑبڑائی۔ عنایہ نے پورے روم میں نظر دوڑائی پھر باہر نکل گئی۔ کیف جو دروازے کے پیچھے چھپا تھا اسے نکلتے دیکھ سکھ کا سانس لیا تھا اور پھر دروازے کے پیچھے سے نکلا اور کلاس روم کے باہر اپنا سر نکال کر پورے کاریڈور میں دیکھا۔ وہ نہیں تھی شاید جا چکی تھی کیف نے سوچا اور پھر کلاس روم سے باہر نکلا۔ کاریڈور کے اینڈ پر بس ایک دو سٹوڈنٹس کھڑے تھے۔

” الو بنا دیا باسکٹ کو ” کمر پر دونوں ہاتھ رکھے وہ تمسخر اڑانے والے انداز میں مسکرایا تھا جب کسی نے پیچھے سے اس کے کندھے پر ہاتھ مار کر اسے متوجہ کیا تھا۔

” کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” کیف بولتا پلٹا تھا جب پیچھے کھڑی ہستی کو دیکھ اسکی آنکھیں پھیلی تھیں اور بولتی بند ہوئی تھی۔

” ہوگئی تمہاری میراتھن ریس؟ بنا لیا مجھے الو ؟ ” عنایہ سینے پر ہاتھ باندھے طنزیہ گویا ہوئی۔ اسے پتا تھا وہ اسی کلاس روم میں تھا اسی لیے عنایہ جان بوجھ کر وہاں سے نکل کر ساتھ والی کلاسروم میں چھپ گئی تھی۔

” وہ۔۔۔۔۔۔میں ” کیف سے ایک دم کوئی جواب نا بن پایا تھا۔

” ساری بات سمجھ گئی ہوں میں تم شرط ہار گئے اور اب اس لیے مجھ سے بھاگ رہے ہو نا کہ شرط پوری نا کرنی پڑ جائے۔۔۔۔۔۔۔۔ڈرپوک ” اس کی بات پر کیف ایک دم اکڑ کر کھڑا ہوا تھا۔

” او ہیلو ! میں کوئی بھاگ واگ نہیں رہا تھا ” کیف صاف مکرا تھا۔

” اچھا ؟ ٹھیک ہے ! چلو پھر تمھے یاد تو ہوگا نا کہ میں تم سے جیتی تھی اور ہمارے درمیان شرط لگی تھی تو میں وہ ہی کام کروانا چاہتی ہوں تم سے “

” ہاں ؟ کیسی شرط ؟ کونسی شرط ؟ ” کیف شانے اچکاتا انجان بنا۔ عنایہ کا تو منہ ہی کھل گیا تھا۔

” کیا مطلب کونسی شرط ؟ بھول گئے تم نے کہا تھا کہ جیتنے والے کو کیا ملے گا ؟ اور میں آگے سے کہا تھا جیتنے والا ہارنے والے سے کوئی بھی ایک کام کروا سکتا ہے “

” نہیں تو مجھے تو ایسی کوئی بات یاد نہیں ” کیف مصنوعی سنجیدگی سے بولا۔

” ہاہ ! (خیرت کی زیادتی اس کے منہ سے نکلا) اچھا ؟؟ نہیں یاد ؟ ” عنایہ کو اس کے انداز سے ہی پتہ لگ گیا تھا وہ جان بوجھ کر یہ کررہا ہے۔

” نا ” کیف مزے سے کہتا صاف انکاری ہوا۔

” ایک نمبر کے جھوٹے اور مکار انسان ہو ” وہ غصے سے بولی۔

” لو بھلا میں کیسے جھوٹا بن گیا ؟ تم بتاؤ کوئی گواہ ہے جو بتا سکے کہ ایسی کوئی شرط لگی تھی ” اس کی بات پر عنایہ نے تیز نظروں سے اسے گھورا تھا۔

” تمھے تو میں دیکھ لوں گی ” انگلی اٹھا کر وہ اسے وران کرتے ہوئے بولی۔

” لو دیکھ لو تمہارے سامنے ہی ہوں ” کیف اسے تنگ کرتے ہوئے ہاتھ پھیلا کر بولا تھا۔

” آہ ! جہنم میں جاؤ ” عنایہ پیر پٹختے وہاں سے جانے لگی جب کیف نے پیچھے سے ہانک لگائی۔

” راستہ تو بتاتی جاؤ ” وہ جا چکی تو کیف طنزیہ مسکرایا(بڑی آئی میرے سے کام کروانے والی)۔

*******************

” یار یہ کیا طریقہ ہوا ؟ ” زینب نے کہا۔

” ہاں ہم ویسے ہی تھکے ہوتے ہیں اور اتنی دیر تک اب یونیورسٹی رکنا پڑے گا ” یہ بات عنایہ نے کہی۔

” پتا ہے پچھلی بار بھی پانچ بجے کی ٹائمنگ تھی اور یہ لوگ چھ بجے یونیورسٹی پہنچے تھے اور پھر اس کے آدھے گھنٹے بعد جا کر ایونٹ شروع ہوا تھا ” یہ عمر تھا جو ان کو بتا رہا تھا۔ یہ سب کل یونیورسٹی میں ہونے والے ایک فنڈ ریزنگ ایونٹ کے بارے میں بات کررہے تھے جسکا تھوڑی دیر پہلے ہی پروفیسر نے ان سب کو بتایا تھا۔ کل انھیں شام تک یونیورسٹی رکنا تھا۔ پہلے باقاعدہ ان کی کلاسز ہونی تھی پھر مل کر ایونٹ کی تیاری کرنی تھی اور پھر وہ ایونٹ اٹینڈ بھی کرنا تھا۔ اس کا سوچ کر ہی ان کا منہ لٹکا ہوا تھا۔

” اچھا اور کیا کیا ہوگا ؟ ” زینب نے عمر سے پوچھا۔

” ہونا کیا ہے ؟ کوئی ایک سلیبرٹی ہوگا ایک کوئی سیاستدان ہوگا، پہلے تو لمبی لمبی تقریریں ہوں گی پھر کوئی ایک پرفارمینس اور پھر سموسے اور چائے پر ہمیں ٹرخا دیں گے ” عمر نے بدمزہ ہو کر کہا تھا۔ اس کے انداز پر دونوں ہی ہنسنا شروع ہو گئیں۔

” میں تو نہیں آرہی کل ” زینب نے مزے سے کہا۔

” او نہیں ایسا سوچنا بھی مت سر اقبال کو پتا چلا کہ اس نیک کام کیلئے کسی نے چھٹی کی ہے تو تمھے نہیں پتا وہ کیا سزا دیں گے ” عمر نے اسے خبردار کیا۔

” ہاں تو میں آج ہی جا کر اپنے حصے کا فنڈ دے کر نیک کام میں حصہ ڈال لوں گی لیکن کل تو نہیں آؤں گی “

” اچھا ؟ جاؤ پھر تمھے اس نیک کام کا اجر بھی دے کر بھیجیں گے ” عمر نے جس انداز میں کہا۔ زینب کو لگا واقعی میں اگر وہ گئی تو وہ پہلی بندی ہوگی جو نیک کام کرنے پر بھی رسوا ہوگی۔ وہ منہ بنائے چپ ہی رہی تھی۔ عنایہ بس ان کی گفتگو کو انجوائے کررہی تھی جب عمر نے اسے مخاطب کیا۔

” تمہاری شرط کا کیا بنا ؟ “

” ارے ہاں عنایہ تم نے بتایا نہیں ” زینب نے بھی عمر کی بات پر عنایہ کی جانب دیکھا۔

” ہونا کیا ہے وہ بدتمیز تو مان ہی نہیں رہا کہتا کوئی شرط لگائی کب تھی ” عنایہ نے منہ بگاڑ کر بتایا تو عمر نے اپنی مسکراہٹ دبائی تھی جبکہ زینب تو کیف کی چلاکی پر عش کرتی رہ گئی۔

********************

اگلے روز یونیورسٹی میں ایونٹ کی تیاری زور وشور سے جاری تھیں۔ ساری کلاسز باقاعدہ ہوئی تھیں۔ زینب عنایہ کو تو لگا تھا شاید کوئی چھوٹ مل جائے گی کوئی ایک لیکچر نا ہو لیکن سارے پروفیسرز نے اپنی کلاسز لی تھیں۔ اور اب سٹوڈنٹس مل کر آڈیٹوریم میں ایونٹ کی تیاری میں مصروف تھے۔

” ہائے میں تو تھک گئی ہوں ” زینب نے پاس بیٹھی عنایہ سے کہا۔

” ہاں مجھے تو بھوک لگ گئی “

” آؤ تھوڑا بریک لیتے ہیں اور کیفے چلتے ہیں ” زینب جلدی سے اٹھتے ہوئے بولی۔

” اور یہ کام کون کرے گا ؟ “

” یار سب ہی نے باری باری بریک لی ہے دیکھو وہ لوگ کیسے مزے سے پیزا منگوا کر کھا رہے ہیں ” زینب نے تھوڑے فاصلے پر بیٹھے ایک گروپ کی جانب اشارہ کیا۔ عنایہ نے انھیں دیکھا تو پیزا دیکھ اسکی بھوک مزید چمکی تھی۔

” چلو چلتے ہیں ” عنایہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔

” ہاں نا پہلے پیٹ پوجا پھر کام دوجا ” زینب کے کہنے پر دونوں ہنستے ہوئے کیفے ٹیریا کی طرف چل دیں۔

*********************

کیفے میں ان دونوں کے ساتھ والے ٹیبل پر کیف اور نتاشہ بیٹھے باتیں کررہے تھے۔ عنایہ کھا کم رہی تھی ان دونوں کو زیادہ دیکھ رہی تھی۔ کیف نے اسے آتے دیکھا تو ایک نظر ڈال کر دوبارہ دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی۔

” کھا کیوں نہیں رہی ؟ کھاؤ نا ٹائم کم ہے ” زینب نے اسے نا کھاتے دیکھا تو فوراً ٹہوکا۔

” ہاں کھاتی ہوں(اس نے کہہ کر سینڈوچ کی ایک بائٹ لی اور پھر سے سامنے بیٹھے کیف کو دیکھا) زینب یہ نتاشہ اور کیف کی بیچ میں کچھ ہے کیا ؟ ” اپنی بائٹ ختم کرکے اس نے دھیمے سے پوچھا۔

” ارے ان کا ذکر کہاں سے آگیا ؟ ” زینب نے چونک کر پوچھا پھر ساتھ والے ٹیبل پر ایک نظر دیکھ کر دوبارہ عنایہ کی طرف متوجہ ہوئی۔

” کیوں پوچھ رہی ہو ؟ “

” ایسے ہی۔۔۔۔۔۔لگتا ہے نا ایسا کچھ ہے جیسے وہ ہر وقت اس کے پاس ہوتی ہے بازو بھی تھام لیتی ہے اسکا اور ابھی دیکھو کیسے مسکرا کر باتیں کررہے جبکہ مجھے کہتا ہے میں تو کسی لڑکی کے ساتھ سیریس نہیں ہوں ” عنایہ رسانیت سے بولتے آخری بات پر منہ بگاڑا تھا۔

” ہیں کب کس نے بتایا؟ ” زینب حیران ہوئی۔

” او ہو کیف نے مجھے پی سی میں تھے جب ہم تب بتایا تھا “

” ہیں؟ اس نے اتنی پرسنل بات تمھے اتنے آرام سے بتا دی” زینب جتنا حیران ہوتی کم تھا۔

” ہاں تو کیا ہے اگر بتا دیا۔۔۔۔۔ویسے بھی جھوٹ ہی بول رہا تھا بس میرے سامنے بات نا آجائے کوئی اس لیے “

” ارے نہیں پاگل صحیح بات ہے۔۔۔۔مجھے عمر بھی بتا چکا ہے کہ وہ تینوں بہت اچھے دوست ہیں۔۔۔۔۔۔اور نتاشہ اپنے امیر ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہے اس لیے تھوڑی آزاد خیال ہے “

” چھوڑو جو بھی ہو ہمیں کیا ؟ ” عنایہ نے ٹشو سے ہاتھ صاف کیے۔

” ہاں نا ہمیں کیا ویسے مجھے بھی نہیں لگتا کیف کی طرف سے ایسا کچھ ہوگا ” اس کی بات پر عنایہ نے فقط سر ہلانے پر اکتفا کیا۔

********************

ایونٹ رات ساڑھے سات بجے کے قریب ختم ہوا تھا۔ اس وقت زیادہ تر سٹوڈنٹس باہر کھڑے تھے۔ سب باری باری روانہ ہو رہے تھے۔ کچھ لڑکیاں گیٹ کے باہر تھوڑے فاصلے پر کھڑی خوشگپوں میں لگیں تھیں۔ سب اپنی اپنی کنویس کا انتظار کررہی تھیں۔ ان میں عنایہ بھی شامل تھی۔ زینب اپنے بھائی کے ساتھ جا چکی تھی۔ کیف بھی عمر کا انتظار کررہا تھا جسے پرنسپل نے کسی کام کے لیے اندر ہی روک رکھا تھا۔

اپنی گاڑی کے بونٹ پر وہ ایک ہاتھ گردن کے تلے باندھے نیم دراز تھا۔ تھوڑے ہی فاصلے پر کھڑی لڑکیاں باتیں کررہی تھیں۔ کیف کی نظریں عنایہ پر فوکس تھیں۔ آسمانی نیلے رنگ کا جوڑا پہننے وہ بے حد دلکش لگ رہی تھی۔ کیف گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کسی سوچ میں گم تھا۔

” کیف بیٹا سنبھل جا ورنہ یہ لڑکی تجھے کہیں کا نہیں چھوڑے گی ” اپنی سوچوں کو جھٹک کر کیف خود سے بڑبڑایا تھا۔

کسی بات پر ہنستے ہنستے عنایہ کی نظر کیف پر پڑی تھی جو اپنی تمام تر وجاہت کے ساتھ گاڑی پر نیم دراز تھا۔ رات کے اس پہر چاند کی روشنی میں نہایا وہ وائٹ شرٹ بلیو جینز پہننے ہوئے عنایہ کو سب سے خوبرو لگ رہا تھا۔

” میں اسے اتنا دیکھتی کیوں رہتی ہوں ؟ اس میں ایسا کیا ہے ؟۔۔۔۔۔۔۔ اسکی آنکھیں زیادہ پرکشش ہیں یا اسکے گال پر پڑتے ڈمپل ؟ آنکھیں پیاری ہیں۔۔۔۔نہیں ڈمپل۔۔۔۔۔ایکچیولی پتا نہیں۔۔۔۔۔” عنایہ کیف کو دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی جب حرا کی آواز پر چونک کر اس کی اور دیکھا جو اسے بلا رہی تھی۔

*******************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *