Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 1)
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 1)
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
” آپی !!! آپی !! عنایہ آپی یار اٹھ بھی جائیں ” آئینے کے سامنے کھڑی کالج یونیفارم میں ملبوس وہ انیس سالہ نور تھی جو عنایہ کو جگا رہی تھی۔ اسکے پیچھے ہی بڑے کنگ سائز بیڈ پر عنایہ اوندھے منہ لیٹی سو رہی تھی۔
” اففف ! خود تو یونیورسٹی کے پہلے ہی دن لیٹ ہوں گی ہی ساتھ مجھے بھی کالج سے لیٹ کروائیں گی ” وہ بالوں کو پونی ٹیل میں باندھتے ہوئے بڑبڑائی اور پھر مڑ کر بیڈ تک آئی اور عنایہ کو کندھے سے ہلا کر جگانے لگی۔
” اٹھ جائیں یار اب ” اسکے ایسے جھنجھوڑنے پر عنایہ ایک دم گہری نیند سے جاگی۔
” کیا ہوا ہے ؟ ” عنایہ نے نیند سے بھری بوجھل آواز میں سامنے کھڑی نور سے پوچھا۔
” کیا مطلب کیا ہوا ہے یار یونیورسٹی نہیں جانا آپ نے کب سے جگا رہی ہوں ” نور کے یہ کہنے کی دیر تھی عنایہ کے حواس بیدار ہوئے اور وہ فوراً سے پہلے اٹھی۔
” نور کی بچی پہلے کیوں نہیں جاگایا مجھے ” وہ کہتے ہوئے باتھ روم کے اندر گھس گئی۔
” لو کر لو بات ! کب سے تو جگا رہی ہوں آپ ہی نہیں اٹھ رہی تھیں ” نور نے چلا کر کہا تاکہ عنایہ کو اندر آواز جا سکے۔ تھوڑی دیر بعد وہ باتھ روم سے نکلی اور جلدی سے الماری سے ہینگ کیا ہوا سوٹ نکالنے لگی۔
” ہاں قصور تمہارا ہے اس میں بھی۔۔۔ نا تم رات کو فضول مووی لگاتی نا ہم دیر سے سوتے اور نا اب مجھے یونی سے دیری ہوتی ” عنایہ نے نور کو کہا جو تیار کھڑی کالج بیگ تھامے کمرے سے نکلنے والی تھی۔
” اوفف آپی اتنی رومنٹک مووی کو فضول تو نا کہیں ” نور نے برا سا منہ کر کہا اور کمرے سے نکل گئی۔ پیچھے عنایہ اب جلدی جلدی تیار ہونے لگی تھی۔
**********************
بڑے سے خوبصورت سے لاونج میں ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے سب ناشتہ کر رہے تھے جب عنایہ جینز کے اوپر نیلے رنگ کا کرتا پہنے، ہم رنگ سکارف کو مفلر کی طرح گلے میں لپیٹے، سلیقے سے بندھے بال، کلائی پر گھڑی پہننے بالکل تیار وہاں آئی۔
” اسلام وعلیکم ! ” اس نے سب پر سلامتی بھیجی۔
” وعلیکم السلام ! ” سربراہ کرسی پر اجمان فیصل صاحب نے چہرے کے آگے سے اخبار ہٹا کر مسکرا کر اپنی بھانجی کو دیکھ کر جواب دیا۔
” بیٹھو عنایہ ناشتہ شروع کرو ” فیصل صاحب کے پاس والی کرسی پر بیٹھیں صائمہ ممانی نے کہا۔ ان کے پاس ہی بیٹھی نور ناشتے میں مگن تھی۔
” نہیں ممانی لیٹ ہوگئے ہیں ہم بہت۔۔۔۔۔ نور اٹھ جاؤ اب دیر نہیں ہورہی ” صائمہ ممانی کو نرمی سے انکار کیا اور پھر نور کو تھوڑا گھور کر کہا۔
” ارے کچھ تو کھا کے جاؤ ایسے خالی پیٹ جاؤ گی اب ” صائمہ ممانی نے فیصل صاحب کی چائے میں چینی ڈالتے ہوئے فکر مند لہجے میں کہا۔
” میں یونی سے ہی کچھ لے کر کھا لوں گی آپ فکر نہیں کریں ” مسکرا کر جلدی سے کہتی اس نے نور کا بازو پکڑ کر اٹھایا اور اسے لیے باہر آگئی۔ جانتی تھی وہ پورا ناشتہ کیے بنا نہیں اٹھے گی۔ باہر اکرام (ڈرائیور) گاڑی صاف کر رہا تھا جب دونوں گاڑی کے قریب آئیں۔
” اکرام بھائی آج جتنی تیزی سے آپ گاڑی چلا سکتے ہیں چلائیں اور مجھے پانچ منٹ کے اندر یونیورسٹی پہنچائیں ” عنایہ نے گاڑی میں بیٹھتے ہی ان سے سے کہا۔
” ہائے آپ کہیں تو میں خود ڈرائیو کروں یقین کریں تین منٹ میں پہنچا دوں گی ” ڈرائیونگ کی شوقین نور نے چہکتے ہوئے پوچھا۔
” مجھے یونیورسٹی پہنچنا ہے اوپر نہیں ” اسکی بات سن کر نور نے منہ بنایا اور عنایہ سے رخ مڑ کر باہر دوڑتے منظر دیکھنے لگی۔ نور کو ڈرائیونگ کا بہت کریز تھا اور اس نے اپنے بھائی حیدر سے سیکھی بھی تھی لیکن اسے گاڑی چلانے کی اجازت ہرگز نہیں تھی۔ وہ حیدر کے ساتھ جب کہیں جاتی تھی تب ہی حیدر سے ضد کرکے گاڑی ڈرائیو کر پاتی اور اپنا شوق پورا کر لیتی لیکن اتنے کم میں اسکا دل کہاں بھرتا تھا۔
**********************
عنایہ احمد صاحب اور عائشہ بیگم کی اکلوتی اولاد تھی جو بہت منتوں مرادوں کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ عنایہ چار سال کی تھی جب احمد صاحب اور عائشہ بیگم اسے اس کے ماموں کے پاس چھوڑ کر حج ادا کرنے کیلئے جا رہے تھے اور ایک پلین کریش میں وہ جاں بحق ہوگئے۔ یوں عنایہ اپنے ماموں فیصل اور ممانی صائمہ کے ہی آنگن میں پلی بڑی تھی۔ ددھیال میں اسکا کوئی قریبی رشتہ دار نا تھا جو اسکی ذمہداری اٹھا سکتا۔ اگر ہوتا بھی تو فیصل صاحب اپنی بہن کی نشانی کو خود سے کبھی جدا نا کرتے۔
فیصل صاحب اور صائمہ بیگم کے دو بچے تھے۔ بڑا بیٹا حیدر جو عنایہ سے دو سال بڑا تھا اور ایک بیٹی نور تھی جو عنایہ سے چھوٹی تھی۔ فیصل صاحب کا گاڑیوں کا شو روم تھا جبکہ حیدر اپنے شوق کی وجہ سے آرمی میں کیپٹن تھا۔ عنایہ کو اپنے ماموں ممانی دونوں سے ماں باپ والی محبت ملی تھی، اسے اس گھر میں کبھی بھی کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ اور عنایہ کیلئے بھی اسکے ماموں ممانی اسکے سگے ماں باپ سے بڑھ کر تھے۔
**********************
عنایہ یونیورسٹی کے اندر داخل ہوئی تو ہر سو سٹوڈنٹس کا رش لگا تھا۔ وہ چلتی جا رہی تھی اور اسکی آنکھیں اطراف کا جائزہ لے رہی تھیں۔ عنایہ نے اپنا بی کام ایک پرائیویٹ کالج سے کیا تھا اور اب ایم بی اے کیلئے اسلامآباد کی اس نامور پرائیویٹ یونیورسٹی کو چنا تھا۔ اسے ہمیشہ سے بزنس پڑھنے کا شوق تھا۔
صاف رنگت پر خوبصورت نین نقش کالی گہری آنکھیں، گلابی ہونٹ اور چھوٹی سی ناک، وہ دیکھنے میں بہت پیاری تھی۔ عنایہ نے اپنے بیگ سے فون نکالا اور کال ملا کر کان سے لگایا۔
” کہاں ہو ؟ “
” بالکل تمہارے پیچھے ” اس نے مڑ کر دیکھا تو مسکراتی ہوئی زینب دیکھی۔ زینب نے فون کان سے ہٹایا اور آگے بڑھ کر عنایہ کو گلے سے لگایا۔
” زیادہ جلدی نہیں آگئی تم ” زینب نے طنز کیا۔
” یار بتاتی ہوں بعد میں ابھی چلو کلاس ڈھونڈتے ہیں ” جلدی سے کہتی وہ دونوں اپنی کلاس کی طرف بڑھ گئیں۔
**********************
اپنی کلاسز کا پتہ کرکے وہ دونوں ڈیپارٹمنٹ سے باہر آگئی۔ کیونکہ آج پہلا دن تھا اس لئے کوئی خاص لیکچر تھا بھی نہیں اس لئے دونوں نے مل کر آج یونیورسٹی گھومنے کا سوچا۔ زینب اور عنایہ ایک ساتھ کالج میں تھیں جب وہ ایک دوسرے کی بہترین دوست بنیں۔ کالج کے بعد دونوں نے سوچا تھا کہ وہ ایک ہی یونیورسٹی میں جائیں گے اور اتفاق سے زینب کو بھی بزنس پڑھنے کا شوق تھا۔
ان دونوں نے پوری یونیورسٹی گھومی پھر تھک ہار کر ایک بینچ پر بیٹھ گئیں۔ یہ یونیورسٹی کا ایک بڑا سا میدان تھا۔ جہاں جگہ جگہ اس طرح کے کہیں بینچ تھے۔ ایک طرف سنیئر نئے آنے والے فریشرز کی ریگنگ میں مگن تھے اور دوسری طرف کچھ لڑکیاں کھڑی ہنس ہنس کر باتوں میں لگی تھیں۔ ان کے پیچھے ہی کچھ لڑکے باسکٹ بال کھیل رہے تھے جب بال اڑتی ہوئی آئی اور عنایہ کے سر پر لگی۔ عنایہ نے بے ساختہ پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں تین چار لڑکوں کا گروہ کھڑا اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ان سے نظر ہٹا کر عنایہ نے نیچے گری بال اٹھائی اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ سامنے ان لڑکوں کے درمیان کھڑے ایک لڑکے نے دو انگلیوں سے عنایہ کو بال اپنی طرف لانے کا اشارہ کیا۔ اس لڑکے کا یہ انداز عنایہ کو ایک آنکھ نا بھایا تھا۔ وہ بال لے کر اسکی طرف بڑھی تھی۔ عنایہ کے قریب آنے پر اس لڑکے نے اس کے ہاتھ سے بال لینی چاہی جو بر وقت عنایہ نے پیچھے کرلی۔
” پہلے کہو سوری ” عنایہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
” ایکسکیوز می ؟ ” لڑکے نے سوالیہ آئی برو اچکائی۔
” تمہاری وجہ سے یہ بال مجھے لگی ہے، اس لیے تمھے معزرت کرنی ہوگی “
” سوری اور میں ؟؟ لگتا ہے تم مجھے جانتی نہیں ہو “
” جہاں تک مجھے یاد ہے کل رات تک تو عمران خان ہی پاکستان کا وزیراعظم تھا اب اگر آج صبح تک تم بن گئے ہو تو میں واقعی نہیں جانتی ” عنایہ کی بات پر پاس کھڑے لڑکے دبی دبی ہنسی ہنسے تھے۔ کیف نے غصے سے ان لڑکوں کی طرف دیکھا تھا۔
” جانے دو کیف ! نیو انٹری لگتی ہے یونی میں ” کیف کے ساتھ کھڑے لڑکے نے کہا۔
کیف نے دوبارہ اس کے ہاتھ سے بال لینی چاہی تو عنایہ نے ہاتھ اوپر کرکے بال ہوا میں اچھالی جو سیدھا باسکٹ میں گری تھی۔ کیف اور باقی سب نے بال باسکٹ میں جاتے دیکھا تو حیران ہوئے۔ کیونکہ عنایہ نے کافی فاصلے سے بال پھینکی تھی۔ کیف پلٹا اور ستائشی نظروں سے عنایہ کو دیکھا۔
” آئندہ کھیلو تو زرا تمیز سے کھیلنا اور اگر کسی کو تمہاری وجہ سے لگ جائے تو معذرت ضرور کرنا ” عنایہ کہہ کر وہاں رکی نہیں تھی۔
” انٹرسٹنگ ” کیف نے عنایہ کی پشت کو تیکھی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
” کیا ارادہ ہے پھر ؟ ” پاس کھڑے عمر نے کیف کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مسکراتے ہوئے پوچھا۔ اتنا تو وہ جانتا تھا اپنے دوست کو کہ وہ اس بات کا بدلہ ضرور لے گا اس لڑکی سے۔
” دیکھتے ہیں ” کیف نے بھی پر اسرار مسکراہٹ سے عمر کو جواب دیا۔
*********************
کیف مرتضیٰ حد سے زیادہ بگڑا ہوا مغرور شہزادہ تھا۔ بھوری آنکھیں، گوری رنگت، کلین شیو چہرہ، گالوں پر پڑتے ڈمپل سب مل کر اسے بے حد پر کشش اور وجیہہ بناتے تھے۔ یونیورسٹی کی ہر لڑکی کیف مرتضیٰ پر مرتی تھی۔ اسکی ایک اشارے پر لڑکیاں دل ہارنے کو تیار رہتی تھیں۔ وہ بھی ان لڑکیوں سے دوستی رکھتا تھا لیکن ایک حد تک۔ اس نے کبھی اپنی حد نہیں پھلانگی تھی۔ وہ ان لڑکیوں سے باتیں کرتا ان کے ساتھ مل کر پارٹیز کرتا، آوٹنگ وغیرہ سب کرتا تھا۔ اور وہ خود کبھی کسی لڑکی کی طرف نہیں جاتا تھا جو بھی لڑکی اس سے دوستی کرنا چاہتی وہ کرلیتا۔ وہ بی بی اے کرنے اس یونیورسٹی آیا تھا تب سے لے کر آج تک وہ اس یونیورسٹی کا سب سے مشہور سٹوڈنٹ بن چکا تھا۔ اب آخری دو سال اسکا ایم بی اے باقی تھا۔
کیف اور عمر کیفے ٹیریا میں موجود تھے جب سامنے سے بلیک جینز پر بلیک شرٹ پہنے نتاشہ ان کی ٹیبل کی طرف آئی تھی۔ نتاشہ ایک ماڈرن سی لڑکی تھی جو کیف پر فدا تھی۔ وہ یونیورسٹی کے پہلے دن سے ہی کیف اور عمر کو جانتی تھی اور ان سالوں میں وہ ان کی اچھی دوست بن چکی تھی۔
ہائے ہینڈسم ! ” نتاشہ نے دلفریب مسکراہٹ سجائے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔
” ہائے ! ” کیف نے مسکرا کر جواب دیا اور عمر نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہائے کہا۔
” کیا پلان ہے آج کا ؟ ” نتاشہ نے پوچھا۔
” نتھنگ سپیشل ” کیف نے کافی کا کپ لبوں سے ہٹا کر جواب دیا۔
” تو پھر فریشرز کے ساتھ تھوڑی ریگنگ ہو جائے ” نتاشہ نے دونوں کو دیکھتے ہوئے دلچسپی سے پوچھا تھا۔ کیف نے مسکرا کر سر کو خم دیا تھا۔
” اب فریشرز کی خیر نہیں ” عمر نے افسوس سے سر نفی میں ہلا کر کہا تھا۔ جس پر تینوں نے ایک ساتھ قہقہہ لگایا تھا۔
***********************
