Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 38) Part - 2

222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 38) Part - 2

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

رات کے وقت سارا مرتضیٰ مینشن روشنیوں میں نہایا نظر آتا تھا۔ کیف اوپر ٹیرس پر موجود تھا۔ سفید شرٹ کی آستین کو کہنیوں تک موڑ رکھے دونوں ہاتھ ریلنگ پر ٹکائے وہ افسردہ نظر آرہا تھا۔ بال بے ترتیبی سے ماتھے پر بکھرے تھے۔ آج تین دن ہوگئے تھے اور عنایہ کا کچھ پتا نہیں چلا تھا۔ وہ ان تین دنوں میں ہر حد تک گیا تھا اسے ڈھونڈنے میں لیکن ابھی تک کوئی خبر نہیں ملی تھی۔

” کچھ پتا چلا ؟ ” عمر اس کے پیچھے اوپر آیا تھا۔ کیف بنا اس کی طرف دیکھے سر کو نا میں ہلایا۔

” پریشان مت ہو کیف وہ جہاں بھی ہے ٹھیک ہے فلحال یہ ہی کافی ہے ” عمر نے اسے تسلی دی۔

” اس نے کیوں کیا یہ میرے ساتھ ؟ مجھ سے ناراض رہتی جھگڑ لیتی لیکن اتنی بڑی سزا نا دیتی ” وہ دکھ بھرے لہجے میں بولا۔

” سب ایسا ہو جائے گا اندازہ نا تھا۔۔۔سمجھ نہیں آتا اس سب میں زیادہ قصوروار کون ہے؟” عمر سینے پر ہاتھ باندھ کر بولا۔ کیف کے دماغ ایک دم سب کلک ہوا تھا۔ اس سب میں تو وہ بھول گیا تھا کہ یہ کیا دھرہ سب نتاشہ کا ہے۔ کیف کی آنکھیں یکدم غصے سے لال ہوئی تھیں۔

” نتاشہ ” اس کے لہجے میں سختی تھی۔ عمر ٹھٹکا تھا۔ کیف ایک دم پلٹا تھا۔ اس نے عمر کو دیکھا۔

” یہ سب نتاشہ کی وجہ سے ہوا ہے اگر وہ عنایہ سے یہ سب نا کہتی تو ہمارا جھگڑا نا ہوتا نا میں اس کے کزن سے کچھ کہتا اور نا وہ اپنے گھر سے نکالی جاتی اور اس کے ماموں ” وہ کہتے کہتے ایک دم اپنے لب بھینچ گیا۔ عنایہ کے ماموں اسی رات کو انتقال کرگئے تھے جس دن وہ ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہسپتال منتقل ہوئے تھے۔ کیف کو یہ جان کر بے حد دکھ ہوا تھا۔ اسے لگا تھا اس سب میں کہیں نا کہیں وہ ذمدار ہے۔ عمر نے آگے بڑھ کر اسے کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔

” اب کیا کرنا ہے ؟ ” عمر نے استفسار کیا۔

” نتاشہ کہاں ملے گی ؟ ” کیف نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھا تھا۔

********************

فیصل صاحب کے جانے کے بعد سے ان کے گھر میں جیسے سب کو چپ سی لگ گئی تھی۔ کوئی کسی سے بات نہیں کررہا تھا۔ حیدر جب اس رات کو ہسپتال پہنچا تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ اس کے بابا اسے چھوڑ کر جا چکے تھے۔ صائمہ بیگم بھی نڈھال تھیں۔ یہ صدمہ ان سب کو توڑ گیا تھا۔ فیصل صاحب کو دفنانے کے بعد سے نور کا اتنا برا حال تھا کہ وہ بے ہوش ہوگئ تھی اور پورا ایک دن ہوش وحواس سے بے گانہ رہی تھی۔ حیدر کا بھی اتنا ہی برا حال تھا۔ صائمہ بیگم جنازے کے بعد سے اپنے کمرے میں بند رہتی تھیں۔ زینب نے نور کو سنبھالا تھا اور اسے حوصلہ دیا کہ اسے اس وقت ہمت سے کام لینا ہے اور سب سنبھلنا ہے۔ زینب روز ان کے گھر آتی تھی اور نور کیساتھ مل کر اسکی مدد کرتی تھی۔ گھر میں افسوس کرنے والوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ بہت سے ان کے جان پہچان کے لوگوں نے عنایہ کا بھی پوچھا تھا اور اسکو وہاں نا پا کر عورتوں میں چہ میگوئیاں بھی تھیں کہ وہ نظر کیوں نہیں آئی۔ جس پر زینب نے یہ کہہ کر بات کو سنبھال لیا کہ عنایہ کو گہرا صدمہ ہوا ہے اور اسکی طبیعت ناساز ہے اسی لیے وہ اپنے کمرے میں ہے۔ نور کے ذریعے زینب کو یہ تو پتا چل گیا تھا کہ عنایہ اپنی کسی آنٹی کے گھر پر ہے۔ کیف کے زور دینے پر اس نے نور سے ان کے گھر کا معلوم کیا تو پتہ چلا کہ وہ نہیں جانتی یہ صرف اس کے بابا کو پتا تھا کہ وہ کہاں پر ہے۔ حیدر بھی ابھی تک اس بات سے انجان تھا۔ وہ تو اتنے گہرے صدمے میں تھا کہ ان تین دنوں میں بھی وہ عنایہ کی غیر موجودگی کو محسوس نہیں کر پایا۔

*********************

لیفٹیننٹ جرنل عاصم حیدر کے گھر اس کے والد کی تعزیت کیلئے آئے تھے۔ حیدر ملازمہ کو کچن میں ان کیلئے چائے پانی کا کہنے آیا تھا جب اسے زینب کچن سے نکلتی ہوئی دکھی۔ وہ ایک پل کیلئے رک کر اسے دیکھتا رہا۔ اسے یاد آیا تھا کہ تین دن سے وہ ان کے گھر تھی اور نور کے ساتھ مل کر سب دیکھ رہی تھی۔ وہ اس سے دو تین بار مل چکا تھا اور بس سرسری سا جانتا تھا کہ وہ عنایہ کی دوست ہے۔ وہ اس سے شکریہ کہنا چاہتا تھا لیکن ساتھ ہی اس نے نوٹ کیا تھا اس نے عنایہ کو نہیں دیکھا تھا جب سے وہ واپس آیا تھا۔ اور عنایہ کا خیال آتے ہی دل میں ایک بار پھر سے ٹیس سے اٹھی تھی لیکن اس نے خود کو بروقت سنبھالا۔ زینب بھی ایک نظر اس پر ڈال کی پاس سے گزر کر جانے لگی جب حیدر کے روکنے پر واپس پلٹی تھی۔

” میں اصل میں آپکا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا ” حیدر نے بات کا آغاز کیا۔

” اس میں شکریہ کی کوئی بات نہیں یہ میرا بھی گھر ہے اور مجھے انکل کے جانے کا بہت افسوس ہوا، اللّٰہ ان کے درجات بلند کرے آمین” زینب نے حیدر سے افسوس کیا۔

” آمین ” حیدر بھی زیر لب بولا۔

” میں اب چلتی ہوں کافی دیر ہوگئی ہے ” زینب نے کہا۔

” عنایہ ۔۔۔۔۔۔؟ ” وہ آگے پوچھنا چاہتا تھا لیکن اس کے نام پر ہی رک گیا۔ زینب نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

” وہ کیسی ہے ؟ میرا مطلب تھا میں نے اسے دیکھا نہیں”

” شاید آپ جانتے نہیں ہیں وہ اس وقت اس گھر میں موجود نہیں ہے “

” کیا مطلب ؟ ” حیدر نے ناسمجھی سے پوچھا۔

” مطلب تو آپ نور سے پوچھ لیں کیونکہ میرے خیال سے اس سے بہتر آپ کو کوئی بھی نہیں بتا پائے گا ” زینب کہہ کر وہاں سے جاچکی تھی۔

*********************

کیف اور عمر نتاشہ کے گھر پہنچے تو اس کی ملازمہ نے انھیں ڈرائنگ روم میں انتظار کرنے کا کہا اور خود نتاشہ کو بلانے چل دی۔

” کیف ذرا دھیان سے اور پلیز غصہ مت کرنا ” عمر نے ایک بار پھر اسے تنبیہ کی تھی۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کیف غصے میں آکر اپنا آپا کھو دے جس سے نقصان الٹا کیف کا ہی ہوتا۔ عمر نے نتاشہ کو کال کرکے ملنے کا کہا تھا جب اس نے عمر کو اپنے گھر بلوا لیا۔ نتاشہ کے پیرنٹس آوٹ آف سٹی تھے۔ نتاشہ کو عمر کے لہجے سے اندازہ تو ہوگیا تھا کہ وہ سب جان چکا ہے اور ضرور اسی بابت وہ اس سے بات کرنے آرہا ہے لیکن اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ کیف بھی اس کے ہمراہ ہوگا۔ وہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تو کیف کو دیکھ کر وہیں ٹھٹک کر رک گئی۔ کیف نے اسے دیکھا تو اس کے اعصاب تن گئے۔

” کیوں کیا تم نے یہ سب ؟ ” اس کے لہجے کی سختی سے ایک پل کو نتاشہ گھبرا گئی تھی۔

” کیا بگڑا تھا میں نے تمہارا ؟ میں تو تمھے اچھی دوست سمجھتا تھا لیکن تم تو آستین میں چھپا سانپ نکلی۔۔۔۔۔بتاؤ کیا ملا یہ سب کرکے ؟ مجھے حاصل کرنا چاہتی تھی ؟ سیریسلی ؟؟ ” کیف کھوکھلی ہنسی ہنسا تھا۔

” نتاشہ مجھے تم سے اس سب کی امید نہیں تھی۔۔۔۔تم ایک لڑکی ہو کر اس حد تک کیسے جا سکتی ہو کہ تم نے اپنی عزت کی بھی پروا نہیں کی ” عمر نے اسے اس کے کیے کیلئے شرم دلانا چاہی۔ لیکن وہ یوں ہی ڈھٹائی سے کھڑی رہی جیسے کوئی فرق نہیں پڑا ہو۔

” میں نے ایسا کیا کیا ہے ؟ زرا سا بدگمان کیا اور وہ ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔کیف ” وہ کیف کے قریب گئی۔

” اسے تم سے محبت تھی ہی نہیں ورنہ میرے کہنے پر وہ کبھی نا مانتی تم سے صرف میں نے محبت کی ہے صرف میں نے بھول جاؤ اسے ” نتاشہ اس کے مقابل کھڑی اپنی محبت آنکھوں میں سموئے کہنے لگی۔ کیف نے ناگوار نظروں سے اسے دیکھا تھا۔ کتنی بے شرمی سے وہ اپنی غلطی مان کر اس کے سامنے کھڑی تھی۔

” یو نو واٹ تم میری دوستی کے بھی قابل نہیں ہو اور تم ایک گری ہوئی لڑکی ہو ” اس تذلیل پر نتاشہ کے چہرے پر سرخی گھل گئی۔

” بتاؤ کیا کہا تھا تم نے عنایہ سے؟ ” نتاشہ نے اسے دیکھا جس کے چہرے سے کرختگی چھلک رہی تھی۔

” جا کر اسی سے پوچھ لو نا ” اس نے لاپروائی سے کندھے جھٹک کر کہا تھا۔ کیف ایک دم آگے بڑھا اور اس کے گلے سے پکڑ کر اسکا گلا دبانے لگا۔ نتاشہ کی تو آنکھیں ہی باہر کو ابل آئیں۔ عمر تیزی سے آگے بڑھا تھا اور نتاشہ کی گردن کیف کی گرفت سے آزاد کروانے لگا۔

” کیف پاگل ہوگیا ہے کیا۔۔۔۔ چھوڑ اسے “

” نہیں چھوڑوں گا جان سے مار دوں گا اسے ” کیف کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔ عمر نے زور لگا کر کیف کو دور دھکیلا تھا۔ جیسے ہی نتاشہ کا رکا سانس بحال ہوا وہ بری طرح کھانسنے لگی۔ کیف غصے سے نتاشہ کو گھورتا وہاں سے نکل گیا۔ نتاشہ کی آنکھیں پانیوں سے بھر گئی۔

” افسوس نتاشہ تم نے نا صرف دو محبت کرنے والوں کو جدا کیا ہے بلکہ میاں بیوی کے درمیان غلط فہمی پیدا کی ہے ” عمر کی بات پر نتاشہ نے بے یقینی نے اسکا چہرہ تکنے لگی۔

” ہاں ! کیف اور عنایہ نکاح کر چکے تھے اور اب دعا کرنا کہ عنایہ ہمیں مل جائے ورنہ کیف کی حالت کی ذمہدار صرف تم ہوگی۔۔۔۔ وہ جی نہیں پائے گا اس کے بنا ” عمر کہہ کر جا چکا تھا۔ نتاشہ کے گال آنسو سے بھیگ گئے اور وہ نیچے بیٹھتی چلی گئی۔ آج اس نے اپنی محبت کو کھو دیا تھا آج اس نے ہمیشہ کیلئے کیف کو کھو دیا تھا۔

*******************

حیدر مہمانوں سے رخصت لے کر سیدھا نور کے پاس آیا تھا۔ نور نے اس رات جو ہوا سب بتا دیا۔

” سب میری غلطی ہے ” اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ بند ہاتھ کی مٹھی لبوں پر جمائے اس نے خود پر قابو کیا۔ وہ مرد تھا وہ بھی عام نہیں پاکستان آرمی کا سپہ سالار تھا رو نہیں سکتا تھا۔ اسے ہر مشکل میں مظبوط رہنا سکھایا گیا تھا۔ لیکن پچھلے کچھ دنوں میں اس پر جو بیتی تھی اس سے اسے احساس ہوا تھا کہ دکھ درد یہ نہیں دیکھتا کہ انسان کون ہے اور کیا ہے یہ تو کسی کو بھی کبھی بھی مظبوط سے کمزور بنا سکتا ہے۔ ایک دم طیش میں آتا وہ اٹھا تھا اور نیچے صائمہ بیگم کے کمرے کی طرف چل دیا۔ ان کے کمرے کا دروازا کھولتا وہ اندر داخل ہوا۔ صائمہ بیگم سامنے ہی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے ہوئی تھیں کہ دروازا کھلنے پر انہوں نے آنکھیں وا کیے اپنے بیٹے کو دیکھا۔

*********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *