Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 5)
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 5)
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
عنایہ زینب وغیرہ سے مل کر یونیورسٹی کے گیٹ کے پاس کھڑی تھی جب سامنے سے مسکراتی ہوئی نور اندر آئی۔
” نور اندر آنے کی کیا ضرورت تھی مجھے کال کرتی میں باہر آجاتی ” عنایہ نے اسے دیکھتے ہی کہا۔
” آپی مجھے یونی دیکھنی تھی۔ چلیں آئیں مجھے دیکھائیں ” نور اسکا ہاتھ تھام کر اندر جانے لگی۔
” افف افف لڑکی آج نہیں پھر کبھی دکھاؤں گی۔ ابھی چلو بہت دیر ہورہی ہے ” عنایہ اسے وہیں سے گھسیٹتے ہوئے باہر لے آئی۔
” یار یہ کیا بات ہوئی ” نور نے منہ بنا کر کہا۔
باہر حیدر گاڑی کے پاس کھڑا ان دونوں کا انتظار کررہا تھا۔ ہلکی بڑھی ہوئی شیو، بال ماتھے پر بکھرے ریڈ ڈریس شرٹ کے ساتھ بلیک جینز پہننے وہ دلکش نین نقوش کا مالک ایک خوبرو نوجوان تھا۔
” اتنی جلدی آگئی نور تو کہہ رہی تھی وہ اندر یونیورسٹی دیکھے گی ” حیدر نے دونوں کو گاڑی کے پاس آتے ہوئے دیکھ کر کہا۔
” یہ تو پاگل ہے اور تم بھی اسکی ساری باتیں مان لیتے ہو ” عنایہ نے جواب دیا۔
” تمہاری بھی تو مانتا ہوں۔۔۔۔اور کیسی ہو ؟ ” حیدر نے مسکرا کر اسکے قریب جھک کر آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” ٹھیک ہوں تم بتاؤ۔۔۔۔اس بار جلدی نہیں آگئے ” عنایہ پیچھے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بولی تو حیدر بھی اندر بیٹھا۔ گاڑی میں اب انکی نا رکنے والی باتیں تھیں اور نور کی فرمائشیں کہ کہاں جانا ہے اور کیا کھانا ہے کیا پینا ہے سب وہ ایک ایک کرکے اپنے بھائی کو بتا رہی تھی۔
********************
اگلے روز سنڈے تھا اور یونیورسٹی بھی آف تھی ایسے میں کیف صاحب دن کے بارہ بجے تک سو رہے تھے۔ نیچے ہال میں مرتضیٰ صاحب اور رابعہ بیگم ناشتہ کررہے تھے۔ سنڈے والے دن ان کے گھر لیٹ ہی ناشتہ کیا جاتا تھا۔
” آج آپکی زیادہ مصروفیت تو نہیں ہیں ؟ کیونکہ میں چاہ رہی تھی آج رات آپ میرے ساتھ ایک دوست کی طرف ڈنر پر چلیں ” رابعہ بیگم نے مرتضیٰ صاحب کو کہا۔
” آپ تو جانتی ہیں مجھے اس قسم کی دعوتوں میں جانا پسند نہیں ” مرتضیٰ صاحب نے جواب دیا۔
” کیا مطلب اس قسم کی ؟ آپکی جو بزنس ڈنر اور پارٹیز ہوتی ہیں ان میں بھی تو جاتے ہیں ” رابعہ بیگم نے برا مانتے ہوئے کہا۔
” جی بالکل جاتا ہوں لیکن وہ سب انتہائی مہذب ہوتی ہیں۔۔۔۔۔جبکہ تمہاری پارٹیز میں بس شو آف ہوتا ہے سب۔۔۔ اور ویسے بھی میں کسی دوست کو جانتا نہیں ہوں تمہاری تو وہاں میرا کیا کام؟ ” مرتضیٰ صاحب نے نا جانے کی واضح دلیل دی تھی تاکہ وہ مزید ان سے الجھیں نا۔
” آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ انکو جواب دیتیں اس سے پہلے ہی منال آکے اپنے بابا کے گلے لگی اور انھیں مارننگ وش کرکے اپنی کرسی کھینچ کر وہیں بیٹھ گئی۔
رابعہ بیگم نے غور سے اپنی بیٹی کو دیکھا وہ ہمیشہ اپنے باپ کے گلے لگتی تھی لیکن انھیں صرف دور سے ہی مارننگ وش کرتی تھی۔ انھیں آج نا چاہتے ہوئے بھی برا لگ رہا تھا۔ وہ بھی تو ماں تھیں جیسے وہ باپ تھا لیکن وہ کیا کر سکتی تھیں اس لیے اپنے خیال کو جھٹک کر اپنی کافی پینے لگیں۔
” کیف کو جگایا نہیں ؟ ” مرتضیٰ صاحب نے منال سے پوچھا۔
” جی جی بھائی کو جگا کر زبردستی واشروم بھیج کر آرہی ہوں بس آتے ہی ہوں گے ” منال نے اپنے ڈیڈ کو دیکھ کر ہنستے ہوئے بتایا۔ مرتضیٰ صاحب بھی مسکرا دیئے۔ کچھ پل ہی گزرے تھے جب خوشبوں میں نہایا کیف نیچے آیا اور منال کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا۔
” ہاں جی برخوردار صبح ہوگئی آپکی؟ ” مرتضیٰ صاحب نے کیف سے پوچھا۔
” جی ڈیڈ ” کیف تھوڑا شرمندہ سا ہوا۔
” چلو کرلو ناشتہ پھر بات کرتے ہیں ” وہ کہہ کر وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔ رابعہ بیگم بھی ناشتہ کر چکی تھیں اس لئے یہاں فضول بیٹھنا انھیں مناسب نا لگا۔ وہ ملازمہ کو ہدایت دیتی ہوئی وہاں سے اٹھ گئیں۔ کیف افسوس سے انکی پشت کو دیکھتا رہا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نا ہوگئیں۔
*******************
فیصل صاحب کے لاونج میں خوب رونق لگی ہوئی تھی۔ حیدر اپنے حالیہ ہونے والے مشن کے بارے میں بتا رہا تھا۔ ساتھ اپنے ساتھی کی مزاحیہ گفتگو بھی جو اتنی سنجیدہ صورتحال میں بھی انکو مزے مزے کی باتیں کرکے ہنسانا رہتا ہے۔ حیدر کے قصوں کو سب انجوئے کررہے تھے جبکہ نور ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔ باقی سب اسے ایسے دیکھ حیران اور ہنس رہے تھے۔
” نور کو دورہ پڑ گیا ہے ” حیدر نے اسے پاگلوں کی طرح ہنستے دیکھ کہا۔
” ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔مطلب۔۔۔۔۔ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔سچ میں آپکے۔۔۔۔دوست۔۔۔ہا ہا ” وہ مسلسل ہنستی جارہی تھی جسکی وجہ وہ بات بھی نہیں کر پارہی تھی۔
” افف نور ” صائمہ بیگم نے نفی میں سر ہلا کر کہا اور اٹھ کر کچن میں چلی گئیں۔ فیصل صاحب بھی اخبار اٹھائے اپنے سٹڈی روم کی طرف بڑھ گئے۔
” نور بس کر دو اب ” عنایہ بھی اسے ایسے ہنستے دیکھ ہنسنے لگی۔ حیدر نے پاس پڑا کشن اٹھایا اور نور پر پھینکا جو سیدھا اسکے منہ پر لگا تو نور کی ہنسی کو بریک لگی۔ اس نے بھی وہ ہی کشن حیدر کی طرف واپس پھینکا اور اب باقاعدہ دونوں لاونج میں ایک دوسرے پر کشن فائٹ کرنے لگے۔ عنایہ نے وہاں سے کھسکنا ہی بہتر سمجھا۔
********************
رات کو عنایہ چھت پر ٹہل رہی تھی۔ وہ کل ہونے والی پارٹی کے بارے میں سوچنے لگی اور اسی سوچ میں بے اختیار کیف کا خیال آیا۔ اس نے کل اسکا کتنا مذاق اڑایا تھا وہ کبھی بھی اس کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی لیکن اسکی حرکت پر ناچاہتے ہوئے بھی وہ ایک پل کیلئے گھبرا گئی تھی جبکہ وہ اتنی ڈرپوک کبھی نا تھی۔۔۔۔کرتی بھی کیا ایسی صورتحال کا گمان بھی نہیں کیا تھا اس نے۔ جو بھرم اور مضبوطی وہ اسکے سامنے ظاہر کرتی تھی، اسکی اس حرکت کی وجہ سے وہ اپنی کمزوری اسکے ہاتھ میں دے بیٹھی تھی اب وہ کوئی کسر نہیں چھوڑے گا اسے تنگ کرنے میں۔ انہی سوچوں میں وہ گھم تھی جب اسے اپنے پیچھے قدموں کی آواز آئی وہ پلٹی تو حیدر ہاتھ میں دو مگ لیے کھڑا تھا۔
” بن گئی کافی ” عنایہ نے مسکرا کر اسکے ہاتھ سے مگ پکڑ لیا۔
” جی میڈم ” حیدر وہیں گریل کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔ عنایہ خاموشی سے کافی کے گھونٹ بھرنے لگی اور حیدر اس پر نظریں جمائے کافی پی رہا تھا۔
” کیا پریشانی ہے ؟ ” حیدر نے پوچھا۔
” پریشانی نہیں تو ” عنایہ نے کندھے جھٹک کر کہا۔
” اچھا ؟ اب مجھے سے بھی چھپاؤ گی ؟ “
” نہیں ایسی بات نہیں ہے بس وہ یونیورسٹی میں۔۔۔۔۔۔۔”
” یونیورسٹی میں کوئی تنگ تو نہیں کررہا؟ ” اسکی بات کاٹ کر حیدر ماتھے پر بل لیے بولا۔
” افف تم بھی پاگل ہو۔۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہے میں تو بس سوچ رہی تھی اب یونیورسٹی میں باقاعدگی سے کلاسز ہوتی ہیں تو میں آگے کافی مصروف ہو جاؤں گی۔ ایسے میں ماموں ممانی اور گھر کو ٹائم نہیں دے پاؤں گی ٹھیک سے ” اس نے تفصیل سے وضاحت دی کیونکہ حیدر کے تیور دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ اسے اپنی پریشانی بتائے گی تو وہ ابھی جا کر کیف کر مارنا شروع کردے گا۔
” او اچھا ! ٹھیک ہے۔۔۔۔۔لیکن اگر کوئی تنگ کرے تو اسے بتا دینا کہ تمہارا کزن آرمی میں ایک بہادر، جانباز سپاہی ہے ” حیدر نے اپنے کالر کو جھٹکا دے کر فخریہ انداز میں کہا تو عنایہ ہنس دی۔
” ہاں بھئ کہہ دوں گی ” وہ مسکرائی تو حیدر کو بھی اسکے مسکرانے پر اطمینان ہوا۔
********************
سورج نکلا اور آسمان پر اسکی کرنیں پھیل گئیں اور آہستہ آہستہ زمین والے بھی ان کرنوں سے سیراب ہونے لگے۔ یونیورسٹی میں بھی سب ہی سٹوڈنٹس ہر جگہ پھیلے ہوئے تھے اور ان سب کے درمیان پرسوں ہونے والی پارٹی زیر بحث تھی۔ ایک بات تو طہ تھی اس پارٹی سے سب کافی فریش ہوگئے تھے۔ عنایہ بینچ پر بیٹھی کتاب کے ساتھ اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر بھی پل دو پل نظر ڈالتی کیونکہ وہ زینب کا انتظار کر رہی تھی جو ابھی تک نہیں آئی تھی اور کلاس شروع ہونے میں صرف پندرہ منٹ رہ گئے تھے۔ پاس ہی پڑے بیگ سے وہ فون نکالنے والی تھی جب کوئی اس کے ساتھ بینچ پر آبیٹھا۔
********************
