222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 6)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو کیف کو دیکھ کر اسکا حلق تک کڑوا ہوگیا۔ عنایہ نے اسے گھور کر اپنا رخ موڑ لیا۔

” کیا ہوا باسکٹ ؟ کسی اور کا انتظار تھا ” کیف نے اس کے تاثرات دیکھ کر مزے سے کہا تھا۔ اسکو سرے سے نظر انداز کیے وہ اپنے نوٹس پڑھنے لگی۔

” لگتا ہے آج زبان گھر چھوڑ آئی ہو ” کیف بولا۔ تبھی ایک لڑکی عنایہ کے پاس آئی تھی۔

” عنایہ یار میں کب سے تمھے ڈھونڈ رہی ہوں ” مائرہ نے کہا تو عنایہ نے نا سمجھی سے اسکی طرف دیکھا کیونکہ وہ اسی کے ڈپارٹمنٹ کی تھی لیکن ان میں ایسی بے تکلفی تو نا تھی جو وہ اسے ڈھونڈتی پھرے۔

” زینب کی طبیعت بہت خراب ہے، مجھے اسی نے تمھے بلانے کیلئے بھیجا ہے ” مائرہ نے جلدی سے کہا تو عنایہ پریشانی سے کھڑی ہوئی۔

” کیا کہاں ہے وہ ؟ ” عنایہ نے پوچھا تو مائرہ اسے اپنے ساتھ آنے کا کہہ کر آگے بڑھی۔ پیچھے کیف کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ در آئی تھی وہ بھی جلدی سے اٹھا اور ان کے پیچھے ہی چل دیا۔

********************

” یار مجھے سر سے ایک کام تھا، تم جاؤ وہ آخری والی کلاس میں ہے ” مائرہ نے عنایہ سے کہا اور جلدی سے وہاں سے نکل گئی۔

عنایہ اسے کچھ پوچھتی اس سے پہلے ہی وہ جا چکی تھی۔ عنایہ تھوڑا حیران ہوئی تھی لیکن اسے ابھی زینب کی فکر تھی اس لئے جلدی سے کلاس کی جانب بڑھ گئی۔ عنایہ کلاس کے اندر گئی ہی تھی کہ پیچھے سے دروازہ بند ہونے کی آواز پر تیزی سے پلٹی تھی۔

” کھولو !!! کون ہے باہر ؟ دروازہ کھولو ” عنایہ دروازے کے پاس کھڑی اب اسے بجانے لگی تھی۔

” افف میرے اللّٰہ یہ کس نے کیا تھا ؟ ” اس نے پلٹ کر پوری کلاس میں نظر دوڑائی تھی وہاں کوئی نہیں تھا یقیناً کسی نے اس کے ساتھ مذاق کیا تھا۔

” اس مائرہ کی بچی کو تو میں چھوڑوں گی نہیں ” اس نے اپنا بیگ جلدی سے کھولا اور اس میں سے اپنا فون نکالنے لگی لیکن اسکا فون مل کے نہیں دے رہا تھا۔

” افف فون تو بیگ میں ہی تھا ” وہ سخت جھنجھلاہٹ کا شکار ہوئی۔ اس نے بیگ کو چھوڑا اور دوبارہ دروازے کی جانب آکر اسے بجانے لگی۔

” کھولو، کوئی ہے باہر ؟ ” اس نے اب کی بار تھوڑا اونچی آواز میں کہا تاکہ کوئی آس پاس ہو تو اسے سن سکے۔

********************

کلاس روم کے باہر تھوڑے فاصلے پر کیف پلر کے ساتھ ٹیک لگائے عنایہ کی آواز سن رہا تھا جو دروازہ کھولنے کا کہہ رہی تھی۔ لیکن کیف کو اسکی آواز میں کوئی خوف یا ڈر محسوس نا ہوا۔ اسے وہ کافی بہادر لگی ورنہ اسکی جگہ کوئی لڑکی ہوتی تو یقیناً روتی چیختی چلاتی مگر وہ ان لڑکیوں جیسی نا تھی۔

” کیف اب بس بھی کردے ” سامنے سے عمر چلتا ہوا آیا تھا جس نے عنایہ کی آواز سن کر بے بسی سے کہا۔ اسے عنایہ کے ساتھ یہ سب کرنا بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا۔

” اس کی زبان اور ہاتھ دونوں ہی بہت چلتے ہیں، اس لیے اسے سبق سیکھانا بہت ضروری ہے ” کیف نے عمر کو دیکھتے ہوئے کہا۔

” کیا مطلب ہاتھ ؟ کہیں اس نے تجھے تھپڑ تو نہیں دے مارا نا ؟ ” عمر نے اپنی مسکراہٹ کو لبوں پر دباتے ہوئے پوچھا۔

” اتنی کسی کی ہمت کے کیف مرتضیٰ پر ہاتھ اٹھا سکے؟”

” کسی کا تو پتا نہیں لیکن مجھ میں بہت ہے ” عمر نے ایک تھپڑ اسکی کمر پر رسید کیا اور وہاں سے بھاگ گیا۔

” رک تجھے بتاتا ہوں ” کیف بھی اسکے پیچھے بھاگا تھا۔

*****************

کلاس روم میں سر اپنا آجکا لیکچر دے رہے تھے۔ زینب پریشان سی کبھی کلاس روم کے دروازے کو دیکھتی کبھی اپنے فون کو، عنایہ ابھی تک آئی نہیں تھی۔ حلانکہ اس نے اسے صبح میسج کیا تھا کہ وہ یونی کیلئے نکل چکی ہے۔ اس کی دوسری طرف عمر اور کیف بیٹھے تھے۔

” اگر اس نے زینب کو کال کردی تو ؟ ” عمر نے ہلکی آواز میں پوچھا تو کیف نے عنایہ کا فون اسکے آگے کردیا۔

” یہ کیسے لیا ؟ ” عمر نے فون پکڑ کر پوچھا۔

” تیرا بھائی کوئی عام شخص تھوڑی ہی ہے، پوری پلاننگ کرتا ہے ” کیف نے فخریہ اپنے کالر کو جھٹک کر کہا۔ عمر بس نفی میں سر ہلا سکا اور سامنے سر کی طرف متوجہ ہوگیا۔

**********************

دوسری طرف عنایہ اب تھک ہار کر ایک کرسی پر بیٹھ گئی تھی۔ آدھے گھنٹے سے وہ یہاں بند تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا مائرہ نے اسکے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ اور اسکا فون بیگ میں سے کہاں گیا؟ اسے اچھے سے یاد تھا صبح یونیورسٹی آتے وقت اس نے زینب کو میسج کرکے فون بیگ میں ہی رکھا تھا پھر فون کہاں جاسکتا تھا؟ اگر اسکا فون پاس ہوتا تو وہ زینب کو انفارم کر پاتی کہ وہ یہاں بند ہے تو اب تک وہ یہاں سے نکل چکی ہوتی۔

” اوفف !!! ” عنایہ نے اپنا سر تھام لیا تھا۔ ایک بار پھر وہ کرسی سی اٹھی تھی اور دروازے کی طرف آکر اسے بجانے لگی۔ اسکے پاس اب دوسرا کوئی راستہ نا تھا سوائے اسکے کہ کوئی باہر اسکی آواز سن کر اسے یہاں سے باہر نکالتا۔

********************

لیکچر ختم ہونے کے بعد کیف کلاس سے باہر نکلا تو پیچھے ہی نتاشہ نے اسے آواز دے کر روکا تھا۔

” کہاں جا رہے ہو ؟ اکاؤنٹس کی کلاس نہیں لینی کیا ؟ ” نتاشہ نے پوچھا۔

” ہاں یار لینی ہے تم چلو میں بس آتا ہوں ” کیف کہہ کر وہاں سے گیا تو عمر بھی کلاس سے باہر اسکے پیچھے جانے لگا۔

” اب تم کہاں ؟ کلاس نہیں لینی ؟ “

” ہاں بس آرہا ہوں ” عمر کہہ کر تیزی سے کیف کے پیچھے گیا تھا۔

” یہ دونوں کر کیا رہے ہیں آخر ؟ ” نتاشہ وہیں کھڑی سوچنے لگی۔ اسے دونوں کا یوں جانا کھٹک رہا تھا۔

*********************

” چل اب بہت ہو گیا کیف اتنا کافی ہے ” عمر اور کیف کلاس کے باہر تھوڑے فاصلے پر کھڑے تھے جب عمر نے اسے دروازہ کھولنے کا کہا۔

” تجھے بڑی فکر ہے اسکی ہاں چکر کیا ہے ؟ ” کیف نے کھوجتی نگاہوں سے اسکا چہرہ دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔ عمر اسکے تفتیشی انداز پر گڑبڑا سا گیا۔

” بکواس کروا لو تجھ سے ” عمر کہہ کر کلاس کی طرف بڑھا۔

” جس طرح تو نظر چرا کر گیا ہے نا ساری سمجھ لگ رہی مجھے ” کیف اسکے پیچھے سے بولا تھا۔ عمر نے کلاس کا دروازہ کھولا تو عنایہ جو کرسی پر بیٹھی تھی جلدی سے اٹھ کر آئی۔

” تم ؟؟ ” عنایہ نے حیرت انگیز تاثرات لیے عمر کو دیکھا تھا۔

” وہ۔۔۔۔۔۔” عمر سے بات ہی نا بن پائی کے کیا کہے۔

” یہ سب تم نے کیا تھا ؟ ” عنایہ نے پوچھا۔ اس سے پہلے عمر جواب دیتا اسکے پیچھے سے کیف عنایہ کے سامنے آ رکا۔

” میں نے۔۔۔۔ ” کیف نے دلفریب مسکراہٹ لبوں پر سجائے کہا۔

” تم خود کو سمجھتے کیا ہو ؟ میں۔۔۔۔۔میں تمھے چھوڑوں گی نہیں ” عنایہ نے غصے سے کہا۔

” رئیلی ؟ ویسے چھوڑنے والی چیز میں ہوں بھی نہیں ” کیف نے ایک ادا سے کہا تو عنایہ کا دل کیا اس کا حشر ہی بگاڑ دے۔

” یہ جو تم اکڑتے ہو نا ؟ ایک منٹ میں تمہارا وہ حال کرواؤں گی کہ یاد رکھو گے۔۔۔تم جانتے نہیں ہو میرا کزن کون ہے ؟ ” عنایہ نے اسے حیدر کے حوالے سے دھمکانا چاہا۔

” کون ہے ؟ ” کیف نے تجسس سے پوچھا۔

” آرمی میں کیپٹن ہے ” عنایہ کے بتانے پر کیف ایک پل کیلئے خاموش رہا اور پھر سیدھا اپنے گھٹنوں کے بل عنایہ کے سامنے بیٹھ گیا۔

” پلیز پلیز میری شکایت اپنے کزن سے نہیں کرنا مجھے آرمی والوں سے بہت ڈر لگتا ہے ” وہ ہاتھ جوڑے نیچے بیٹھا کہہ رہا تھا۔ عنایہ تو آنکھیں پھاڑے اسے دیکھے گئی۔ جبکہ پاس کھڑے عمر نے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر اپنی ہنسی کا گلا گھونٹا تھا۔

” تت تم یہ کیا کررہے ہو ؟ ” عنایہ پریشان سی ہوئی۔

” تم پلیز میری شکایت تو نہیں کرو گی نا دیکھو وہ تو مجھے کچھ کہے بنا ہی مار دے گا پلیز مجھے بچا لو ” کیف کے ایسا کرنے پر عنایہ کو لگا وہ سچ میں ڈر گیا ہے۔

” میں نہیں بتاؤں گی تم پلیز اٹھ جاؤ ” عنایہ نے جلدی سے کہا۔ کیف اسکے مان جانے ہر فوراً کھڑا ہوا تھا۔

” تھینکس ! تم کتنی اچھی ہو باسکٹ۔۔۔میں تو سچ میں ڈر گیا تھا ” کیف ڈرامائی انداز میں کہہ کر ایک دم سے ہنسنے لگا۔ عمر سے بھی رہا نا گیا تو وہ بھی اب کھل کر ہنسا تھا۔ عنایہ نے عجیب انداز میں اسے دیکھا تھا کیونکہ اسے سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیوں ہنس رہا ہے۔

” او مائی گاڈ بالکل اس چھوٹے بچے والا کام کیا ہے تم نے جسے سکول میں بڑے لڑکے تنگ کرے تو وہ کہتا میں اپنے پاپا کو لاؤں گا سکول ” کیف نے ہنستے ہوئے تمسخر انداز میں کہا۔

” تم۔۔۔۔۔۔تم انتہائی بدتمیز انسان ہو ” عنایہ نے سرخ چہرہ لیے کہا۔ اسے اپنا مذاق اڑایا جانا اچھا نہیں لگا۔

” خود کے بارے میں کیا کہتی ہو ؟ ” کیف بولا تو عنایہ نے اپنے ہاتھ اٹھائے جیسے کیف کا گلا دبانا چاہتی ہو لیکن پھر ہاتھ واپس نیچے کر لیئے۔ چہرے پہ بے بسی در آئی۔

” آہ !!!!! ” غصے میں اپنے پیر پٹختی وہ وہاں سے چلی گئی۔ پیچھے کیف اور عمر دونوں ہی ہنس دیے تھے۔

*******************

” یار تم دونوں کا کب ختم ہوگا یہ ” زینب نے عنایہ کو دیکھتے ہوئے کہا جو غصے سے بھری بیٹھی تھی۔ وہ دونوں اس وقت کیفے ٹیریا میں تھیں۔ عنایہ نے سارا واقع اسے سنایا تو زینب کو پہلے افسوس ہوا لیکن پھر آخر میں ہنستی چلی گئی۔

” جب وہ اپنی چیپ حرکتوں سے باز آئے گا ” عنایہ نے چڑ کر کہا تھا۔

” اچھا چلو تم ریلکیس ہو جاؤ “

” ایسے کیسے ریلکس ہو جاؤں ؟ میں اس سے اس بدتمیزی کا بدلہ ضرور لوں گی، اور تم میرا ساتھ دو گی “

” یار میں کیا کروں گی؟ مجھے تو دور رکھو تم ” زینب نے تو ہاتھ اٹھا دیے تھے۔ عنایہ نے اسے گھورا تو زینب مسکرا دی۔

” اور وہ مائرہ کی بچی دیکھو ذرا کہتی میں کیف کو انکار نہیں کرسکتی یار عنایہ سوری ” عنایہ نے مائرہ کی نقل اتارتے ہوئے کہا۔ عنایہ وہاں سے نکل کر سیدھا مائرہ سے باز پرس کرنے گئی تھی جس ہر اس نے یہ وضاحت دی تھی۔ زینب اسکی مائرہ کی نقل اتارنے پر ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسی تھی۔

” ویسے کہہ تو وہ صحیح رہی تھی ” زینب مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے بولی۔ اس سے پہلے عنایہ اس ہر چڑھ دوڑتی کیف نے ٹیبل پر اسکا فون رکھا۔ عنایہ نے نگاہیں اٹھا کر سامنے دیکھا تو وہ دل جلانے والی مسکان لئے اسے دیکھ رہا تھا۔

” تمہارا فون۔۔۔۔بے فکر رہو صحیح سلامت ہے میں نے کچھ بھی نہیں کیا ” کیف کہہ کر سیٹی بجاتا ہوا دوسری ٹیبل پر جا بیٹھا۔ اتنی دھیر میں عنایہ بس خشمگیں آنکھوں سے اسے دیکھے گئی جیسے آنکھوں سے ہی جلا کر بھسم کردے گی۔

” دیکھا تم نے۔۔۔۔۔صبح اس لیے یہ میرے پاس آیا تھا اور مجھے دیکھو پتا بھی نہیں چلا اس نے میرا فون میرے بیگ سے نکال لیا ” عنایہ نے ٹیبل پر ہاتھ مارا تھا۔ زینب نے بیچارا سا منہ بنا کر بس اسے دیکھا کیا کہتی وہ۔

********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *