Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 34) Part - 1
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 34) Part - 1
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
ڈھلتی شام کا وقت تھا۔ کیف اور عمر ایک گالف کلب کے گراؤنڈ میں اپنی گاڑی کے سامنے بونٹ سے ٹیک لگائے کھڑے تھے۔ سر سبز گھاس کی چادر چار سو بچھی تھی۔ دونوں سامنے غروب آفتاب کا منظر دیکھ رہے تھے۔ ہلکی ہلکی ہوا بھی چل رہی تھی۔ تھوڑے فاصلے پر اکا دکا بزنس کلاس سے تعلق رکھنے والے لوگ اب گالف کھیلنے کے بعد واپسی کی تیاری کررہے تھے۔
” چل کہیں اور چلتے ہیں ” یہ منظر کیف کو اب اداس کرنے لگا تو اس نے کہا۔ عمر نے اسکا چہرہ دیکھا جہاں اس وقت کتنی بے بسی اور مایوسی تھی۔ عمر کو اس سے ہمدردی ہوئی۔
” یار مسئلہ کیا ہے تیرا ہاں ؟ برتھڈے ہے تیرا اور تو منانے نہیں دے رہا ” وہ اب جھنجھلایا۔ وہ ایک ہفتے سے اسکی برتھڈے پارٹی پلان کررہا تھا لیکن کیف نے سختی سے منع کر دیا تھا کہ یہ سب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اور آج بھی وہ کہہ رہا تھا کہیں چل کر سیلیبریٹ کرتے ہیں لیکن کیف مان ہی نہیں رہا تھا۔
” کیا کروں گا برتھڈے منا کر ؟ ” اس کے لہجے میں دکھ کے آثار واضح تھے۔ اس نے ایک اور سگریٹ نکال کر لبوں پر دبائی تھی۔
” کتنی پھونکے گا تیسرا سگریٹ ہے یہ تیرا۔۔۔۔پہلے تو ایک بار میں ایک پیتا تھا پچھلے کچھ عرصے سے تو نے کتنی پینی شروع کردی ہے ” عمر نے تاسف سے کہا تھا۔ کیف نے اپنی انگلیوں میں تھامی اس سگریٹ کو دیکھا پھر مسکایا۔ ذہن کے پردے میں وہ منظر ابھرا جب وہ اس کے اتنے قریب کھڑی کہہ رہی تھی کہ سگریٹ چھوڑ دوں۔ عمر نے اسے سگریٹ کو دیکھتے ہوئے مسکراتے دیکھا تو پوچھے بنا نا وہ سکا۔
” اب کیا ؟ مسکرا کیوں رہا ہے ؟ ” اسکی آواز کیف کو حال میں لائی۔
” بس ایسے ہی ” کہہ کر اس نے ایک اور کش لیا۔
” کیف!! کب تک چلے گا یہ سب ؟ ” عمر نے افسوس سے اسے دیکھا تھا۔
” کیا سب ؟ ” اس نے چہرہ گھما کر اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” عنایہ اور تمہارے درمیان جو چل رہا ہے۔۔۔۔۔اب بس کردے “
” میرے بس میں کچھ بھی نہیں ہے وہ ہی بنا بات کے مجھ سے جھگڑ کر بیٹھی ہے “
” خیر بنا بات کے تو نہیں۔۔۔۔۔وہ اپنی جگہ ہر بالکل ٹھیک ہے ” عمر نے اس کی تصحیح کی۔
” ہاں تو سوری بول دیا تھا اسے منانا بھی چاہا لیکن وہ تو کچھ سننے کیلئے تیار ہی نہیں تھی ” کیف نے بے بسی سے کہا تھا۔
” اچھا جو ہوگیا سو ہوگیا لیکن وہ آج بات کرنا چاہ رہی تھی نا پھر تو نے کیوں نا کی ؟ “
” تاکہ اسے بھی احساس ہو عمر۔۔۔۔۔۔۔میں پہلے بھی بتا چکا ہوں اسے مجھ سے ناراض ہو جایا کرے لیکن مجھے اگنور مت کیا کرے لیکن وہ ایسا ہی کرتی ہے، ایک ماہ پورا ایک ماہ اس نے مجھ سے بات تک نہیں کی۔۔۔۔ایسا کرتا ہے کوئی ؟ ” وہ کتنا دکھی نظر آرہا تھا۔ عمر کو یہ اچھے سے اندازہ تھا کہ عنایہ کی اس بے رخی سے کیف کتنا ہرٹ تھا۔
” تو اب بدلہ لے گا ؟ ” عمر نے بھونیں اچکائے پوچھا۔
” ہاں “
” چاہے کتنا ہی خود تڑپتا رہے اس کیلئے ؟ ” عمر نے پھر سے تصدیق چاہی۔
” ہاں جیسے میں تڑپا ہوں۔۔۔۔اب وہ بھی تڑپے پھر اسے احساس ہوگا کہ کیسا لگتا ہے “
” کوئی حال نہیں تیرا ” عمر نے تاسف سے نفی میں سر ہلایا۔
********************
عنایہ فون کان پر لگائے ٹہل رہی تھی۔ وہ بار بار کیف کو کال کررہی تھی لیکن وہ نہیں اٹھا رہا تھا۔ اس کا دل ایک دم بجھ سا گیا۔ چلتے ہوئے وہ بیڈ تک گئی اور پاؤں اوپر کیے بیٹھ گئی۔ فون پاس بیڈ پر رکھ دیا اور جھکے سر کے ساتھ جھولی میں رکھے ہاتھوں کو گھورتی رہی۔ ایسے ہی بیٹھے بیٹھے اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور وہ یوں ہی سر جھکائے کتنی دیر روتی رہی۔ کیف کی بے رخی اسے سچ میں تکلیف دے رہی تھی۔
********************
گہرے نیلے رنگ کی ساڑھی پر ڈائمنڈ کا سیٹ پہنے، نفیس سا میک اپ کیے اور بال جوڑے میں بندھے مسسز عالم اپنی اکلوتی اولاد کے کمرے کی جانب جارہی تھیں۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ایک ڈنر پر مدعو تھیں جہاں سے واپسی پر ملازمہ نے بتایا تھا کہ نتاشہ شام سے اپنے کمرے میں بند ہے۔ انہیں تشویش لاحق ہوئی تو وہ آتے ساتھ ہی سیدھا اس کی جانب چل دیں۔ ملازمہ جب اسے رات کے کھانے کیلئے بلانے آئی تو نتاشہ نے اس پر غصہ کرتے ہوئے اسے بھاگا دیا تھا۔ مسسز عالم نے اسکے کمرے کے سامنے رک کر دروازہ ناک کیا لیکن دوسری طرف سے جواب ندار۔ اب وہ ملازمہ کو ان کے کمرے سے چابیاں لانے کا کہہ رہی تھیں۔ جیسے ہی ملازمہ چابیاں لائی وہ کمرے کا لاک کھولتی ہوئ اندر داخل ہوئیں۔ وسیع خوبصورت بیڈروم اس وقت بکھرا پڑا تھا۔ہر چیز زمین بوس تھی اور سامنے ہی بیڈ کیساتھ ٹیک لگائے نیچے قالین پر نتاشہ بیٹھی تھی۔ بلیک سلک کا نائٹ گاؤن زیب تن کیے پورے بال بکھرے گھٹنوں میں منہ دیے ہوئے تھی۔ مسسز عالم آگے بڑھی تھیں۔
” نتاشہ واٹ از دس آل میس ؟ ” وہ اس کے سر پر کھڑی بولیں۔ نتاشہ نے اپنا چہرہ اٹھا کر انہیں دیکھا۔ اسکا پورا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔
” کیا ہوا ہے تمہیں نتاشہ ؟ ” انھوں نے فکر مندی سے پوچھا۔
” ممی! اسے مجھ سے محبت نہیں ہے، اس نے مجھے انکار کردیا ممی۔۔۔۔۔اس نے میری محبت کو ٹھکرا دیا۔۔۔اسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسے کسی اور سے محبت ہے ” وہ آنسو بہاتی انھیں بتا رہی تھی۔
” اوہ وہ لڑکا۔۔۔۔میں نے تو تمھے پہلے ہی وران کیا تھا لیکن تم ہی اپنی ضد پر اڑی رہی۔اب دیکھ لیا نا ؟ کہاں تمہارے چچا کا بیٹا زید ویل اسٹیبلش اور ہینڈسم بیچلر اور کہاں یہ لڑکا۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ نحوست سے کہہ رہی تھیں۔
” ممی پلیز! سٹاپ دس آئی لو ہیم ” وہ بے بسی سے بولی تھی۔
” اوہ کم اون تم جیسی آجکل کی جنریشن نے تو محبت کو کھیل سمجھا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔یہ محبت جیسی چیریں پہلے ہوا کرتی تھیں اب نہیں۔۔۔۔۔تم آجکل کے بچے اس اٹرایکشن کو محبت سمجھ بیٹھتے ہو۔۔۔۔۔۔آج کل صرف جس کے پاس پیسا ہو اور جو اس سوسائٹی میں سب سے بہترین ہو اسی کو چوس کیا جاتا ہے تاکہ آپ اپنا فیوچر سیکیور کر سکیں سو تم بھی بھول جاؤ اسکو اور موو اون کرو ” انہوں نے اسے آئنیہ دیکھانا چاہا۔ نتاشہ تو اپنی اس محبت کی اتنی توہین پر دم سادھے کھڑی رہی۔
” ممی میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں اور اب بھی کہہ رہی ہوں میں کیف کے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی ” اس کی بات پر وہ طنزیہ مسکرائیں۔
” اچھا! وہ تو کسی اور سے محبت کرتا ہے نا تو تم کیا کرو گی ؟ ” ان کی بات پر ایک پل کیلئے وہ سوچ میں گم ہوئی۔
” میں اسے چھین لوں گی اس سے کیونکہ کیف ہمیشہ سے میرا تھا بیچ میں تو وہ آئی تھی ہمارے “
” ہونہہ ” انھوں نے ہنکار بھرا پھر گویا ہوئیں۔
” اپنی سی جتنی کوشش کرنی ہے کرلو کیونکہ اس کے بعد سے تم وہ ہی کرو گی جو میں چاہوں گی یعنی زید سے شادی کیلئے ہاں ” وہ حکم دیتے ہوئے وہاں سے جاچکی تھیں۔ پیچھے نتاشہ اب سوچ رہی تھی کہ اسے کب کیا اور کیسے کرنا ہے؟ لیکن ایک بات تو طے تھی کیف کو تو وہ حاصل کرکے رہے گی۔
*********************
عنایہ اور زینب لائبریری میں موجود تھیں۔ بظاہر تو عنایہ کتاب کھولے بیٹھی پڑھنے کی کوشش کررہی تھی لیکن دھیان پڑھائی میں ہرگز نا تھا۔ سامنے بیٹھی زینب نے اسے کسی ٹاپک پر کچھ پوچھا تھا جو عنایہ نے نہیں سنا۔ زینب نے اسکی اور سے کوئی جواب نا پاکر نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تو وہ کہیں اور ہی کھوئی ہوئی تھی۔
” کیا ہوا ؟ ” زینب نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھ کر اسے اپنی اور متوجہ کیا۔
” ہوں۔۔۔۔ہاں کیا ؟ ” عنایہ ہوش میں آتے نا سمجھی سے زینب کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
” کیا ہوا ہے عنایہ ؟ اب تک پریشان ہو ” زینب کا دل اداس ہوا اپنی بہنوں جیسی سہیلی کو ایسے دیکھ کر۔۔۔ وہ تو کبھی ایسی نا تھی۔
” زینب! میں سوچ رہی تھی ہم لڑکیاں کتنی حساس ہوتی ہیں، چھوٹی چھوٹی باتوں میں رو دیتی ہیں اور جب معاملہ پیار محبت والا ہو تو کچھ زیادہ ہی حساس ہو جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔جس سے ہمیں محبت ہو وہ شخص ذرا سی ناراضگی دیکھائے تو ہماری تو جان پر بن جاتی ہے جیسے اگر وہ بات نہیں کرے گا تو پتا نہیں کیا ہوگا ؟ ایسے ہمارے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے ؟ جبکہ دوسری طرف انہیں کوئی فرق پڑتا بھی نہیں ہوگا جن کیلئے ہم ڈھیروں آنسوؤں بہا دیتی ہیں۔۔۔۔اور یہاں ہم بے وقوف لگتی ہیں ” اپنے دل کی بات کہتے ہوئے وہ آخر میں استہزایہ بولی۔
” تم فکر نہیں کرو یار سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔ اچھا مجھے ایک کام یاد آگیا ہے میں آتی ہوں ” زینب جلدی سے کہہ کر وہاں سے اٹھ گئی۔ عنایہ نے سر ہلا دیا۔
*******************
زینب نیچے آئی تو پورے گراؤنڈ میں اس نے نظر دوڑائی تھی جیسے کسی کو ڈھونڈ رہی ہو اور جیسے ہی اس شخص پر نظر پڑی اس نے دانت پسے تھے۔ کیف عمر اور انہی کی ڈپارٹمنٹ کے دو لڑکے کھڑے آپس میں باتیں کررہے تھے۔ زینب چلتے ہوئے ان کے سامنے جا کھڑی ہوئی تو وہ باتیں کرتے کرتے ایک دم چپ ہوئے تھے۔ زینب کی نظریں کیف پر جمی تھیں۔ عمر کو اسکا یہ انداز عجیب لگا اس نے دونوں لڑکوں کو آنکھوں سے جانے کا اشارہ کیا جسے سمجھ کر وہ وہاں سے فوراً رفو چکر ہوئے۔
” تم خود کو سمجھتے کیا ہو ؟ کہیں کے منسٹر لگے ہو یا پرنس چارلس ہو ؟ یہ اکڑ کس چیز کی ہے تم میں ؟ ” وہ کیف کو کہہ رہی تھی جو ناسمجھی سے اسے تک رہا تھا۔
” زینب کیا ہوگیا ہے ؟ ” عمر تو اسے یوں دیکھ کر حیران ہورہا تھا۔
” ایک تو مسئلہ بھی خود خراب کرتے ہو اور اکڑ بھی دیکھاتے ہو واہ بھئی۔۔۔۔۔۔جانتے ہو وہ کتنا ہرٹ ہے۔۔۔۔رو رو کر اس نے اپنا برا حال کرلیا ہے ” دونوں جا کر اب سمجھے تھے کہ وہ کس بارے میں اور کیوں بات کررہی تھی۔
” تم دونوں کے پاس آلریڈی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے مسٹر کیف جسکو تم دونوں نے مل کر حل کرنا ہے لیکن یہاں تو تمہاری اکڑ ہی نہیں ختم ہورہی، کب تک یہ روٹھنا منانا چلتا رہے گا ؟ اگر دل بھر گیا ہے اس سے تو صاف صاف کہہ دو۔ میری دوست میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے بہت چاہنے والے ہیں اس کے ” آخر میں زینب نے جان بوجھ کر یہ بات کہی جسے سن کر کیف کے ماتھے پر بل پڑے تھے اور عمر کی تو آنکھیں باہر آنے کو تھیں۔
” زینب ! ” عمر نے اسکا بازو تھام کر اسے روکنا چاہا۔
” ہاں تو بتاؤ کیا چاہتے ہو ؟ اسے بالکل بے سہارا مت سمجھنا، اور یہ بھی مت سمجھنا کہ اب وہ تمہاری لیے روئے گی۔۔۔۔۔اگر تمھے پرواہ نہیں ہے تو اب اسے بھی نہیں ہے۔۔۔میں چاہتی ہوں تم سوچو اور فیصلہ کرو کے کیسے یہ رشتہ ختم کرنا ہے ” کیف نے غصے میں اپنے دانت پسے تھے اور عمر کی جانب سرد نظروں سے دیکھا۔ عمر اس کے دیکھنے کے انداز پر گڑبڑا گیا اور زینب کو آنکھوں سے تنبیہ کرنے لگا جو اب آگے مزید بولنے ہی لگی تھی کہ کیف نے تیز نگاہ اس پر ڈالی اور وہاں سے جانے لگا۔ اس کے جاتے ہی زینب فخریہ مسکرائی تھی اور پھر عمر کو دیکھا جو خشمگیں نگاہوں سے اسے گھور رہا تھا۔
” کیا تھا یہ سب ؟ ” عمر نے پوچھا۔
” کیا کیا تھا ؟ اور تم زیارہ اپنے دوست کی سائیڈ مت لو جبکہ تمھے پتا ہے وہ غلط ہے ” زینب نے آنکھیں دکھائے اسے کہا تھا۔
” تمہیں کیا لگتا ہے صرف عنایہ ہرٹ ہے اور کیف مزے میں ہے ؟ اگر وہاں عنایہ تڑپ رہی ہے تو یہاں کیف بھی اس کیلئے تڑپ رہا ہے۔ زینب! وہ دونوں پاگل ہیں۔۔۔۔۔دونوں نے لڑنا بھی ہے مرنا بھی ہے، ایک دوجے سے محبت بھی کرنی ہے اور ایک دوجے کو سزا بھی دینی ہے۔۔۔۔۔۔۔تم خامخواہ جزباتی بن رہی ہو ” عمر زرا بھی اس کے اس عمل سے خوش نظر نہیں آرہا تھا۔
” ہمممممم ! صحیح کہہ رہے ہو ویسے” وہ سمجھتے ہوئے بولی۔
” تمہاری جگہ کوئی اور یہ بکواس کرکے گیا ہوتا تو کیف نے اسے چھوڑنا نہیں تھا میری وجہ سے وہ چپ چاپ چلا گیا ” وہ اسے جتانا نہیں بھولا تھا جو کہ سچ تھا۔
” او ہو آئے تم بڑے۔۔۔۔۔تمہے پتا نہیں ہے میری ان باتوں نے کیا کام کر دکھانا ہے اور دیکھنا دونوں کی صلح ہو جانی ہے” وہ مزے سے کہہ رہی تھی جبکہ عمر نے آنکھیں گھمائی تھیں۔
” کبھی ہمارے بارے میں کچھ سوچ لیا کرو ” عمر نے ہمیشہ والا شکوہ کیا۔
” ہمارا کیا ہے ؟ ہم دونوں کا تھوڑی ہے ایسا کچھ ؟ سیدھی سیدھی پریم کہانی پھر چٹ منگنی اور اب پٹ بیاہ” وہ اپنی ہی دھن میں بولی تو عمر نے قہقہ لگایا۔
اس کے قہقہے پر وہ جھینپ گئی۔
********************
وہ اپنے کمرے سے ملحقہ ٹیرس پر کھڑا تھا۔ زینب کی باتیں دماغ پر ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھیں۔ وہ واپس کمرے میں آیا سائیڈ ٹیبل سے سگریٹ کا پیکٹ اٹھایا اور اس میں سے ایک سگریٹ نکال کر لبوں پہ دبائی اور پھر لائٹر اٹھائے واپس ٹیرس پر آیا۔ سگریٹ جلا کر لائٹر ٹراؤزر کی جیب میں رکھا۔ سگریٹ سے بھی اسے وہ سکون نہیں ملا تو وہ سخت جھنجھلا اٹھا۔ دل تھا کہ باغی ہو رہا تھا اور عنایہ سے بات کرنے کی ضد کرنے لگا۔ اور یہ زینب کی باتوں کا ہی اثر تھا۔ کیف واپس کمرے میں آیا اور بیڈ پر پڑا اپنا فون اٹھایا اور عنایہ کو کال کرنے لگا۔ دوسری طرف وہ بیڈ پر اپنی کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ آجکل وہ زیادہ دیر کمرے میں کتابوں میں ہی گھسی رہتی تھی۔ نور نیچے تھی کیونکہ اس کی خالہ کے بچے آئے ہوئے تھے۔ عنایہ ان سے مل کر اپنے پیپر کی تیاری کرنے کا کہہ کر اوپر آگئی تھی۔ پاس پڑا فون بجا تو عنایہ نے نظر اٹھا کر دیکھا اور سکرین پر نظر آنے والا نام دیکھ اس کی آنکھیں تھم گئیں۔ فون بجتا چلا جارہا تھا او عنایہ ساکن بیٹھی بس فون کو غائب دماغی سے دیکھتی رہی۔ اب فون بجنا بند ہوچکا تھا۔ دوسری طرف کیف نے کال پر سے ملائی اور اس بار عنایہ نے ہوش میں آتے ہی فوراً فون اٹھایا تھا اور دھڑکتے دل سے اس نے کال پک کی۔ دونوں فون کان سے لگائے کتنے ہی پل ایسے ہی رہے تھے۔ دونوں طرف سے کچھ نہیں کہا گیا۔ اس خاموشی میں بھی بہت کچھ تھا کہنے کو اور سننے کو۔
” عنایہ! ” کیف نے اسکا نام پکارا تو کتنے ہی آنسو تھے جو اس کے گلے میں اٹکے تھے۔ کتنے دنوں بعد اس کے لبوں سے اپنا نام سنا تھا۔ عنایہ نے کچھ نہیں کہا۔ دوسری طرف کیف نے اپنی آنکھیں بند کی تھیں اور ایک گہرا سانس لیا۔
” عنایہ !!! ” اس نے پھر سے پکارا تو اب کی بار آنسو پلکوں کی باڑ پھلانگ گال پر لڑھک گئے۔ اس کی ہچکی کیف کی سماعتوں سے ٹکرائی تو وہ بے چین ہوا۔
” پلیز عنایہ رونا بند کرو ” کیف بے بسی سے بولا۔ وہ جب بھی روتی تھی اسے تکلیف ہوتی تھی اور ہر بار وہ ہی تو باعث بنتا تھا اس کے رونے کا۔ عنایہ یوں ہی کتنی دیر روتی رہی۔
” اگر ایسے ہی روتی رہو گی تو میں تمہارے گھر آجاؤں گا ” اس نے جس انداز میں کہا تھا عنایہ کو لگا وہ سچ میں نا آ جائے۔اس لیے فوراً ہی اس نے خود پر قابو پایا لیکن بولی وہ اب بھی کچھ نا تھی۔
” بات نہیں کرو گی ؟ ” کیف نے اسکے بالکل چپ رہنے پر سوال کیا۔ جس پر عنایہ نے نا میں سر ہلایا تھا جیسے وہ اسے دیکھ رہا ہو۔
” آئی مسڈ یو ” کیف دھیمے سے بولا تو وہ پھر سے رونے لگی۔
” آئی ہیٹ یو۔۔۔۔۔۔۔۔۔آئی ہیٹ یو۔۔۔۔۔۔۔آئی ہیٹ یو کیف ” وہ روتے ہوئے کہنے لگی۔ اس کے اس طرح کہنے پر کیف آسودگی سے مسکایا۔
” بٹ آئی لو یو۔۔۔۔۔۔۔آئی لو یو۔۔۔۔۔۔۔۔آئی ریلی لو یو ” کیف بھی اب کی بار تھوڑا اداس سا بولا۔
” آئی لو یو ٹو ” اس نے دھیمے سے کہا تو کیف دل کھول کر مسکرایا۔ اس کا اظہار ہمیشہ ہی اسکے دل میں سکون بھر دیتا تھا۔
” کیف !!! ” اب کی بار عنایہ نے اسے پکارا تھا۔
” کیف کی جان ” کیف کے لہجے میں شدت تھی۔
” تم بہت برے ہو۔۔۔۔۔ہمیشہ مجھے رلاتے ہو ” اس نے شکوہ کیا۔
” اب نہیں رلاؤں گا ” وہ پُرعزم تھا۔
” میں تھک چکی ہوں کیف۔۔۔۔۔۔اب بس چاہتی ہوں یہ سب ختم ہو جائے”
” میں بھی “
” ہم اب کبھی جھگڑا نہیں کریں گے “
” کبھی نہیں ” وہ اس کی ہاں میں ہاں ملا رہا تھا۔
” میں چاہتا ہوں جلدی سے یہ رات ختم ہو اور کل صبح تمہیں میں اپنے سامنے دیکھوں ” عنایہ مسکرائی تھی۔ اور آج بہت عرصے بعد وہ دل سے مسکرائی تھی۔
” تمھے محسوس کرنا چاہتا ہوں اور ساری تکلیف جو تم نے سہی ہے اس پورے عرصے میں اپنے طریقے سے سب کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں ” وہ مزید گویا ہوا۔ اس کی بات کا مفہوم سمجھ کر وہ لال ہوئی تھی۔
” نہیں” اس نے انکار کیا۔
” کیوں ؟ ” اس نے پوچھا۔
” کیونکہ ہم یونیورسٹی پڑھنے جاتے ہیں ” اس نے ناک چڑھائی تھی۔ اس کی بات پر کیف بے ساختہ ہنس دیا۔
” تو پھر کیا کریں ؟ اسکا کوئی حل بھی تو ہو نا ؟ ” کیف شوخ ہوا۔
” ایگزامس ختم ہونے کا انتظار ” اس نے اپنی طرف سے اس کا حل بتایا تھا۔
” اور تمھے لگتا ہے کہ ایگزامس ختم ہونے تک بس اتنے میں مان جان جاؤں گا ؟ نہیں۔۔۔۔۔۔اس انتظار کے بعد تم اپنے گھر بات کرو گی اور میں اپنے گھر تاکہ یہ مسلئہ ختم ہو اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر رکا۔
” پھر ؟ ” عنایہ نے تجسس لیے پوچھا۔
” پھر بس تم اور میں ” جزبات سے بھری آواز میں اس نے کہا تھا۔ یہ رات پوری دونوں نے باتیں کرکے گزاری تھی جیسے اپنی ایک ماہ کی تشنگی مٹا رہے ہوں۔ اس بات سے بے خبر کے اب کی بار کتنی لمبی جدائی دونوں کی راہ تک رہی ہے۔
******************
