Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 38) Part - 1

222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 38) Part - 1

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

گاڑی رکنے پر عنایہ نیچے سے اٹھی۔ گاڑی والے نے شیشہ نیچے کیا اور غور سے اس انجان لڑکی کو دیکھنے لگا۔ عنایہ جلدی سے اپنا بیگ اٹھا کر وہاں سے جانے لگی۔

” ہے گرل لفٹ چاہیے کیا ؟ ” اس لڑکے نے اسے آفر کی۔ شکل سے وہ کوئی کالج کا نوجوان نظر آتا تھا۔ عنایہ اس کی لفٹ والی بات پر گھبرا کر بھاگنے والے انداز میں آگے بڑھ گئی۔ پیچھے لڑکا گاڑی سے باہر نکل چکا تھا۔ عنایہ نے پیچھے پلٹ کر دیکھا تو اسے باہر کھڑا دیکھ اسکا دل تیز رفتاری سے دھڑکنے لگا۔ اس نے اپنی رفتار تیز کردی۔ پیچھے کھڑا لڑکا اب واپس گاڑی میں بیٹھ چکا تھا۔

********************

یہ رات ان لوگوں کی زندگی میں سب سے بھاری رات تھی۔

نور اپنے بیڈ پر اوندھے منہ لیٹی مسلسل روتی جارہی تھی۔

فیصل صاحب اپنے چہرے پر بازو رکھے سونے کی کوشش کررہے تھے۔ لیکن وہ جانتے تھے آج رات وہ کبھی سو نہیں پائیں گے۔ عشاء کی نماز پڑھ کر انہوں نے صرف عنایہ کی سلامتی کی دعا مانگی تھی۔ صائمہ بیگم ان کی جانب کروٹ کیے لیٹی تھیں۔ وہ پریشان تھیں کیونکہ فیصل صاحب نے نا رات کا کھانا کھایا تھا نا اپنی دوا لی تھی۔

دوسری طرف زینب عنایہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہی تھی لیکن اسکا فون بند جارہا تھا۔ اس نے ان کے گھر کا نمبر بھی ٹرائے کیا لیکن کسی نے فون ریسیو نہیں کیا۔ وہ عنایہ کیلئے بے حد پریشان تھی۔

کیف اپنے کمرے کی ٹیرس میں کھڑا سگریٹ کے کش بھرتا اپنے اندر کر فرسٹریشن کو زائل کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ ایک کے بعد ایک سگریٹ جلاتا وہ لگا تار چار سگریٹوں کا دھواں اپنے اندر انڈیل چکا تھا۔ عمر کی کہی باتیں اسے اب بے چین کررہی تھیں۔ اس کے سامنے تو اس نے کہہ دیا تھا کہ اس کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک طرف اسے عنایہ پر بے انتہا غصہ تھا اور اسی غصے کی آگ میں اس نے حیدر کو سب بتا دیا تھا دوسری طرف اسکا دماغ یہ سوچ سوچ کر تھک چکا تھا کہ اس وقت وہ کیا کررہی ہوگی ؟

حیدر اپنے فون میں عنایہ کی تصویریں دیکھتا انھیں ڈلیٹ کررہا تھا جیسے اسے اپنی زندگی سے نکال رہا تھا۔ اس کی سرخ آنکھیں اس بات کا ثبوت تھیں کہ کیسے وہ ضبط کیے ہوئے ہے۔

عنایہ ایک بس میں بیٹھی تھی۔ خود کو ایک چادر میں چھپائے آس پاس سہمی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ وہ ٹیکسی پر بھی جاسکتی تھی لیکن رات کے اس پہر اس نے کسی ڈرائیور کیساتھ سفر کرنے سے زیادہ لوکل بس سے جانا مناسب سمجھا تھا۔ اپنا فون گھر ہی چھوڑ آئی تھی کیونکہ اس نے سوچ لیا تھا کہ اسے آگے کیا کرنا ہے۔

********************

ہجر کا تعلق یادوں کی کتاب سے گہرا ہوتا جاتا ہے۔ چاند پھر رات کے سناٹے کو ہمراہ لیے صبح کے سورج کے تعاقب کو نکل کھڑا ہوتا ہے۔

صبح صادق کے وقت سورج بادلوں کی اوٹ سے جھانکتا پورے آسمان کو روشن کررہا تھا۔ ایک اداس رات کا اہتمام ہوا تو اگلی صبح بھی سوگوار سی تھی۔ فیصل صاحب کمرے سے نکلے تو صائمہ بیگم ملازمہ کے ہمراہ ڈائنگ پر ناشتہ لگوا رہی تھیں۔ فیصل صاحب ان کی طرف نگاہ ڈالے بغیر اوپر چل دیے۔

وہ نور اور عنایہ کے مشترکہ کمرے میں داخل ہوئے تو نظر سامنے نور پر گئی جو شاید ابھی سو کر اٹھی تھی۔ اس کی سوجھی آنکھیں ظاہر کررہی تھیں کہ وہ رات بھر روتی رہی ہے۔ وہ اس کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھے اور اسے اپنے سینے سے لگایا۔

” بابا میں آپی کیلئے بہت پریشان ہوں پتا نہیں وہ کہاں گئی ہوں گی ؟ ماما نے اچھا نہیں کیا بابا اور آپ ؟ آپ نے انھیں روکا کیوں نہیں ؟ ” وہ ان کے سینے سے سر اٹھائے آنکھوں میں شکوہ لیے پوچھ رہی تھی۔

” بس بیٹا تمہاری ماں کے آگے مجبور ہوگیا تھا اس نے ہاتھ باندھ دیے تھے میرے لیکن آپ بالکل پریشان نہیں ہو عنایہ بالکل ٹھیک ہے میں اسے خود جا کر واپس لاؤں گا” انھوں نے اسے یقین دلایا۔

” سچ بابا آپی واپس آئیں گی نا ؟ ” انھوں نے اس کے سوال کے جواب میں سر ہاں میں ہلایا۔

” لیکن ہمیں تو پتا نہیں وہ کہاں گئی ہیں ؟ اور آپی کا فون بھی یہیں رہ گیا ہے ” اس نے سائیڈ ٹیبل پر پڑے عنایہ کے فون کی جانب اشارہ کرکے بتایا۔

” عنایہ فون ساتھ نہیں لے گئی ؟ “

” جی ! میں رات کو انھیں کال کررہی تھی تو فون آف ملا پھر میں نے دیکھا انکا فون ڈریسنگ ٹیبل پر پڑا تھا”

” اچھا ! آپ ایسا کرو عنایہ کی جو وہ دوست ہے زینب اسے کال کرو اور پوچھو عنایہ رات کو ان کے پاس ٹھیک سے پہنچ گئی تھی ” نور نے عنایہ کا فون چارجنگ سے اترا اور زینب کو کال کی۔ تھوڑی ہی دیر میں زینب نے کال پک کی اور اس سے پہلے نور کچھ کہتی زینب دوسری جانب سے شروع ہوگئی تھی۔

” عنایہ کہاں تھی تم یار کل رات سے کال کررہی ہوں تمھے ؟ میں اتنا پریشان تھی تم ٹھیک ہو ؟ گھر میں کیا ہوا ؟ ” وہ سوال در سوال کررہی تھی۔ جب کے نور ایک پل کیلئے تھم چکی تھی۔ اس نے بنا کچھ کہے کال کاٹ دی۔

” کیا ہوا ؟ ” فیصل صاحب نے تشویش لیے پوچھا۔

” آپی وہاں نہیں گئی۔۔۔زینب آپی تو خود ان کیلئے پریشان ہیں” نور نے کہہ کر اپنے لب بھینچ لیے۔ فیصل صاحب کو بھی لمحے بھر کیلئے پریشانی ہوئی لیکن پھر وہ کچھ سوچ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ شاید عنایہ رات کو ہی وہاں چلی گئی ہو جہاں وہ اسے بھیجنا چاہتے تھے۔ اور ان کے دل نے شدت سے دعا کی تھی کہ عنایہ سہی سلامت وہیں ہو۔

” کہیں آپی کیف بھائی کے گھر تو نہیں” نور کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ فیصل صاحب نے ایک نظر نور کو دیکھا۔ عنایہ کے فون پر زینب کی کال آنے لگی تو نور نے فون کی بیل آف کردی۔ فلحال وہ خود اتنے پریشان تھے زینب سے کیا کہتے۔

” نور آپ پریشان نہیں ہوں عنایہ زینب کے گھر نہیں ہے تو وہ ضرور اپنی آنٹی کے گھر چلی گئی ہو گی ” نور ان کی بات پر چونک کر اٹھ کھڑی ہوئی۔

” آپی کی آنٹی ؟ ” نور نے پوچھا کیونکہ جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا تب سے اسے یہ ہی پتا تھا کہ عنایہ کا ان کے سوا اور کوئی رشتے دار نہیں ہے۔

” ہاں ! اور اب مزید سوال نہیں آجاؤ نیچے ” وہ کہہ کر کمرے سے نکل گئے۔

********************

نیچے ڈائنگ پر خاموشی چھائی تھی۔ فیصل صاحب دونوں ہاتھوں کو پیوست کیے گہری سوچ میں مبتلا تھے۔

” بابا آپ ناشتہ نہیں کررہے ؟ ” نور کی آواز پر وہ ہوش میں آئے تھے۔

” ہاں آپ کرو میں ابھی کرتا ہوں ” انہوں نے دھیمے سے کہا۔ صائمہ بیگم چپ چاپ یہ سب دیکھ رہی تھیں۔

” کس بات کی پریشانی ہے اب آپ کو ؟ اس لڑکی کی پروا نا کریں وہ بہت آرام سے ہوگی یہاں سے نکل کر کونسا سڑک پر رات گزاری ہوگی ظاہر ہے اس لڑکے کے پاس گئی ہوگی ” صائمہ بیگم نے پھر سے زہر اگلا۔

” صائمہ ۔۔۔۔۔۔۔۔” فیصل صاحب نے غصے سے تنبیہ کرنے والے انداز میں انھیں گھورا تھا۔

” یہ غصہ آپ مجھے کیوں دکھا رہے ہیں ؟ اپنی بھانجی کے کرتوت دیکھ کر نہیں آیا غصہ ؟ اور ابھی بھی اس کی پروا ہے ؟ ذرا اس بات پر بھی غور کرلیں کہ آپکا اکلوتا بیٹا کل رات سے گھر نہیں لوٹا ” وہ مزید اپنے دل کے پھپھولے پھوڑنے لگیں۔

” بس بہت ہوگیا ” فیصل صاحب ایک دم گرج کر کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کی آواز سن کر نور تو اچھل ہی گئی تھی۔

” کل رات سے آپ کی بکواس برداشت کررہا ہوں خبردار اب مزید میری بیٹی کے بارے میں کچھ بھی غلط منہ سے نکالا ورنہ میں بالکل لحاظ نہیں کروں گا آپکا ” وہ بے حد غصے سے کہہ رہے تھے۔

” کیوں نا کہوں ؟ جو سچ ہے وہی کہا ہے۔ اس لڑکی کی وجہ سے ہم آج کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔ ارے ایک پل کیلئے بھی اس لڑکی کو نا آپ کی نا میری عزت کا خیال آیا۔ اور آپ اس کی فکر میں گھل رہے ہیں”

” چپ رہیں صائمہ خدا کا واسطہ ہے بن ماں باپ کی بچی پر اسطرح کے الزام مت لگائیں ذرا کو خیال کریں کہ آپ کی اپنی بھی ایک بیٹی ہے۔ آپ نے اسے رات کے پہر گھر سے نکال دیا ذرا سا بھی احساس ہے کہ وہ ٹھیک ہو گی یا نہیں ؟ وہ کہاں گئی ہوگی اس کے ساتھ خدانحواستہ کوئی حادثہ نا پیش آگیا ہو ” ایک دم بولتے بولتے ان کے سینے میں درد سا اٹھا تھا۔ انکا ہاتھ دل کے مقام پر گیا۔ ان کے چہرے پر تکلیف کے آثار نمایاں تھے۔ نور پریشانی سے انہیں پکارتے ہوئے اٹھی تھی اور وہ اسی وقت تکلیف سے بے حال ہوتے واپس کرسی پر گرے تھے۔ صائمہ بیگم بھی پریشان ہوتی تیزی سے ان کے قریب ہوئی تھیں لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔

*******************

” کہاں ہے تو ؟ ” عمر گاڑی ڈرائیو کررہا تھا جب اس نے کیف کو کال کی۔

” میں مانو کو لے کر باہر آیا ہوا تھا ڈنر پر آجا تو بھی ” کیف نے جواب دیا۔ عمر نے دانت پسے تھے۔ اس کی وجہ سے وہاں عنایہ کی زندگی میں کیا کہرام مچا تھا اور یہ صاحب یہاں ڈنر کررہے ہیں۔

” مجھے عنایہ کے حوالے سے بات کرنی تھی ” عمر بولا۔

” لیکن مجھے اس کے متعلق کوئی بات نہیں کرنی ” اسکا جواب سن کر عمر کو تو تپ چڑھی تھی۔

” کیف ! عنایہ کے ماموں کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے وہ ہسپتال میں ہیں اور اس کی ممانی نے اسے گھر سے نکال دیا ہے اور عنایہ کل رات سے لاپتہ ہے ” عمر ایک ہی سانس میں بول گیا۔ دوسری طرف کیف کا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا تھا۔ عنایہ لاپتہ ہے یہ بات سن کر کیف کے رونگھٹے کھڑے ہوئے اور ہاتھ ٹھنڈے ہو رہے تھے۔

” کیا ہوا اب بولتی کیوں بند ہو گئی ہاں ” عمر نے بھی بدلہ لینے والے انداز میں دانت پیستے ہوئے کہا تھا۔ جبکہ کیف فون بند کر چکا تھا۔ عمر نے فون غصے میں ساتھ والی سیٹ پر پھینکا تھا۔

********************

کیف پاگلوں کی طرح مسلسل عنایہ کو کال کررہا تھا لیکن دوسری طرف کوئی فون اٹھا کر نہیں دے رہا تھا۔

” یہ کیا ہوگیا مجھ سے ” وہ بڑبڑایا۔ اس نے اضطراب سے ایک ہاتھ اپنے بالوں میں پھنسایا جبکہ دوسرے ہاتھ سے وہ اب عمر کو کال کررہا تھا۔ عمر سے بات کرنے کے بعد وہ فوراً سے منال کو گھر ڈراپ کرکے سیدھا عمر کی طرف آیا تھا۔ اب اس کے گھر کے لان میں کھڑا تھا۔

” میں باہر لان میں تیرا انتظار کررہا ہوں ” کیف نے اسے اپنے آنے کی اطلاع دی۔ تھوڑی دیر میں عمر باہر نکلا جو کہ کافی غصے میں نظر آرہا تھا۔ کیف اسے دیکھتے ہی اس کی جانب لپکا۔

” عنایہ کہاں ہے عمر ؟ میں اسے کال کررہا ہوں لیکن وہ رسپانس نہیں کررہی۔ ” عمر جواباً اسے گھورتا رہا تھا۔

” تو بتائے گا مجھے ساری بات ؟ ” کیف نے اسکی خاموشی پر غصے میں چلا کر کہا تھا۔ عمر کا ہاتھ اٹھا تھا اس نے زور سے ایک مکہ اس کے گال پر مارا تھا۔ کیف لڑکھڑا کر پیچھے کو ہوا۔

” کمینے اب آگیا اس کا خیال تھوڑی دیر پہلے تو بھونک رہا تھا کہ مجھے اس کے بارے میں بات نہیں کرنی “

” مجھے بعد میں کوسنا اور جتنی مرضی گلیاں دینا فلحال مجھے صرف یہ جاننا ہے عنایہ کہاں ہے ؟ ” عمر کا دل تو چاہ رہا تھا کہ دو تین اور لگائے اسے لیکن یہ خواہش بعد میں پوری کرنے کا سوچ کر اس نے کیف کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا جو زینب نے اسے بتائی تھی۔ زینب شام کو جب عنایہ کے گھر اس سے ملنے گئی تھی تب اسے سب معلوم ہوا تھا۔

” ان کی ہمت بھی کیسے ہوئی عنایہ کیساتھ یہ سب کرنے کی ہاں ؟ اور وہ اسکا سو کالڈ کزن وہ کہاں تھا اسوقت ؟ اس نے کیسے یہ سب ہونے دیا” کیف کو تو طیش آیا تھا۔

” یہ جو سب ہوا ہے نا تو برابر کا شریک ہے اس میں سمجھا ” عمر نے اسے آئنیہ دیکھانا چاہا۔ اس کی بات پر کیف اپنے لب بھینچ گیا۔

” فلحال پریشانی والی بات یہ ہے کیف کے عنایہ کا کچھ پتا نہیں اور پتا نہیں بیچاری کس حال میں ہوگی اور اتنی رات کو وہ اکیلی کہاں گئی ہوگی ” عمر تشویش لیے بولا۔ کیف کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا اور وجود کانپا۔ وہ کوئی منفی خیال اپنے دماغ میں لانا بھی نہیں چاہتا تھا۔

” اسے کچھ نہیں ہوگا میں اسے ڈھونڈ لوں گا ” کیف کہتا وہاں سے جانے لگا جب عمر نے اسے کندھے سے تھام کر روکا تھا۔

” کہاں ڈھونڈنے گا اور کیسے ؟ میری بات سن عنایہ کے ماموں کی طبیعت تھوڑی سنبھلنے دے پھر دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے “

” عمر میں تب تک ایسے نہیں بیٹھ سکتا ” اور عمر جانتا تھا اب وہ واقعی میں تب تک سکون سے نہیں بیٹھے گا جب تک عنایہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے نہیں دیکھ لیتا۔

***********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *