222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 18)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

کیف عنایہ کو اس کے روم میں چھوڑ کر ہوٹل مینجمنٹ کے پاس سے pain relieving spray لینے گیا تھا جو انھوں نے کیف کو پانچ منٹ میں ہی فارمیسی سے منگوا دیا تھا۔ کیف دوبارہ عنایہ کے روم میں گیا تو زینب نے دروازہ کھولا۔

” یہ سپرے ہے اس کے پاؤں پہ کردو گی تو درد ٹھیک ہو جائے گا ” کیف نے سپرے زینب کو پکڑاتے ہوئے کہا۔

” تھینکس ! ” زینب نے جواباً مسکرا کر کہا۔

” اور ہاں کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے انفارم کردینا” یہ کہہ کر وہ جا چکا تھا۔ زینب واپس کمرے میں آئی جہاں ایک کینگ سائز بیڈ پر عنایہ ٹیک لگائے بیٹھی تھی اور دوسرے بیڈ ہر انہی کی کلاس فیلو آمنہ اور صفا سو رہی تھیں۔

” یہ دے گیا ہے کہہ رہا تھا پاؤں پر لگاؤ گی تو درد ٹھیک ہو جائے گا ” عنایہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا تو زینب نے دھیمے سے بولتے ہوئے جواب دیا۔

” ویسے اتنا برا بھی نہیں ہے ” عنایہ نے پرسوچ نظروں سے سامنے دیکھتے ہوئے کہا۔

” ہاں ! اب تمھے برا لگنا بھی نہیں چاہیے۔۔۔۔۔دیکھا نہیں کیسے اس نے تمہاری جان بچائی ہے ؟ ۔۔۔۔۔کچھ بھی ہوسکتا تھا تمہارے ساتھ۔۔۔۔اس نے احسان کیا ہے تم پر۔۔۔۔۔اب کم سے کم اس بات کیلئے اسکا شکریہ ادا کردینا۔۔۔۔۔۔۔۔اور ہاں جھگڑنا بھی چھوڑ دو اس سے ” وہ بولنے پر آئی تو بولتی ہی چلی گئی۔

” تمہارا مطلب میں جھگڑتی ہوں اس سے ؟ ” عنایہ نے کھا جانے والی نظروں سے زینب کو دیکھا تھا۔ اسکی آواز پر دوسرے بیڈ پر لیٹی آمنہ نے اپنے چہرے سے کمبل ہٹا کر دونوں کو گھورا تھا۔ زینب نے سوری کہہ کر جلدی سے عنایہ کے پاؤں پر سپرے کیا۔

” بتاؤ مجھے میں جھگڑتی ہوں ؟ ” عنایہ نے سرگوشیانہ لہجے میں ایک بار پھر پوچھا۔

” صبح بات کریں گے ” زینب نے آہستہ سے کہا اور اس کے پاس سے اٹھ کر لائٹ اوف کرکے سونے کیلئے لیٹ گئی۔

*******************

کیف بیڈ پر لیٹا سونے کی کوشش کررہا تھا لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ دماغ میں اس وقت بار بار ایک ہی منظر رونما ہورہا تھا جب کیف اس آدمی کو بری طرح پیٹ رہا تھا۔

” وہ کیا کررہا تھا ؟ کیا وہ سچ میں اس آدمی کو جان سے مار دینا چاہتا تھا ؟ ” اس وقت تو کیف پر عجیب ہی دھن سوار تھی لیکن اب وہ اس پر آرام سے سوچ سکتا تھا۔ اپنا ہاتھ ماتھے پر رکھے کیف کشمکش کا شکار تھا۔ آج سے پہلے یہ اس کے ساتھ کبھی نہیں ہوا تھا۔

” وہ کیا سوچ رہی ہوگی میرے بارے میں ؟ میں نے جس طرح اس آدمی کو مارا۔۔۔۔۔۔۔میں جس طرح اس سے بات کی۔۔۔۔۔۔۔” کیف نے زور سے آنکھیں بند کرکے کھولیں۔

” اس کی جگہ کوئی بھی ہوتا۔۔ تب بھی میں یہ ہی کرتا ” اپنے دل و دماغ کو گویا دلیل دی ہو۔

” ہاں ایسا ہی ہے۔۔۔۔۔میں بس زیادہ سوچ رہا ہوں ” کیف اپنا سیدھا ہاتھ سر کے نیچے رکھا اور گہرا سانس لیا۔وہ پھر سے آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کرنے لگا لیکن اب کی بار آنکھیں بند کرنے پر وہ بالکل قریب اس کے کندھے پر سر رکھے سوئی دکھی۔ بند آنکھوں سے وہ مسکرا دیا۔

******************

اگلے دن سبھی ایوبیہ کی سیر کیلئے نکلے تھے۔ بل کھاتے اونچے نیچے راستوں سے گزرتے وقت حسین نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ دھند میں لپٹے ہرے بھرے پہاڑ سیاحت کی کشش کا باعث بن رہے تھے۔ کیف نے کل رات والا سارہ قصہ عمر کو سنا دیا تھا۔

” یار تو مجھے بھی جگا دیتا دونوں ساتھ جاتے ” عمر نے کہا۔

” اس سے کیا ہوتا ؟ ” کیف نے پوچھا۔

” ایک سے بھلے دو ہوتے ہیں۔۔۔۔میرا مطلب تھا تو چلا جاتا تو کسی کو زینب کے پاس بھی ہونا چاہیے تھا نا اسے تسلی دینے کیلئے ” عمر نے افسوس سے کہا تھا۔

” کمینہ ہے تو ایک نمبر کا ” کیف نے آنکھیں گھمائیں تھیں۔

” کیوں اس میں کیا کمینگی ہے ؟ “

” سالے ابھی بھی تجھے اپنی پڑی ہے ” کیف نے اسے ڈپٹا تھا۔

” نہیں یار تو غلط سمجھ رہا ہے۔۔۔۔میرا مطلب تھا وہ اکیلی پریشان ہوتی رہی ہوگی۔۔۔۔اس لیے میں ہوتا تو اسے تسلی دیتا ” عمر نے وضاحت دی۔

” اچھا میں آگے جا کر عنایہ کو دیکھتا ہوں ” عمر نے ساتھ چلتے کیف سے کہا وہ لوگ اوپر چیئر لفٹ کی طرف جارہے تھے۔ جہاں انھوں نے چیئر لفٹ سے دوسری طرف جانا تھا۔

*******************

عنایہ اور زینب ہاتھوں میں گرم گرم فرائز لیے اشتیاق سے آگے پیچھے دیکھ رہی تھیں۔ بلاشبہ یہ جگہ بہت خوبصورت تھی اور یہاں آس پاس ڈھیروں سٹالز اور شاپز تھیں جہاں کافی رش لگا تھا۔ کہیں لوگ اپنی فیملیز کے ساتھ یہاں سیرو تفریح کیلئے آئے تھے۔ جہاں زینب اور عنایہ کھڑی تھیں وہاں سے تھوڑے فاصلے پر سیڑھیاں اتر کر نیچے ایک ٹکٹ کاؤنٹر تھا جہاں سے چئیر لفٹ کی ٹکٹ ملنی تھی اور پھر آسانی سے دوسری طرف جا سکتے تھے۔ ایک کافی اسٹال پر کھڑے پروفیسرز کافی سے لطف اندوز ہورہے تھے اور مینجر سبھی سٹوڈنٹس کیلئے ٹکٹس ارینج کرنے گیا تھا۔ نتاشہ کیف کو اپنے ساتھ لیے ایک سٹال پر موجود تھی جہاں آرٹیفیشل جیولری گھڑیاں جیسی اسیسریز کا سامان تھا۔ وہ اپنے مومی جیسے سفید ہاتھ کی انگلی میں انگھوٹھی پہن کر کیف کو دکھا رہی تھی۔

” یہ اچھی ہے ؟ ” اس نے سامنے کھڑے کیف سے پوچھا جو آس پاس نظریں گھما رہا تھا۔ اس کی آواز پر کیف نے اس کے ہاتھ پر نظر ڈالی تھی تو نفی میں سر ہلا دیا۔ نتاشہ نے وہ انگوٹھی اتار دی اور پھر ایک اور اٹھا کر پہنی اور پھر سے کیف سے اسکی پسند پوچھی۔

” نائس ون ” کیف نے کہا تو نتاشہ مسکرا دی اور اپنے ہاتھ پر پہنی اس انگھوٹھی کو اور پھر کیف پر مسکاتی نظر ڈالی۔

*******************

عمر نے عنایہ سے کل رات کے حوالے سے بات کی اور پھر دونوں کو اچھا خاصا ڈانٹا بھی کہ کیا ضرورت تھی اتنی رات کو یوں باہر نکلنے کی۔ جس پر دونوں کو ہی شرمندگی تھی۔ وہ صحیح کہہ رہا تھا خدانحواستہ عنایہ کے ساتھ کوئی بھی حادثہ پیش آ سکتا تھا۔

” اب تم دونوں نے کہیں بھی جانا ہوگا تو مجھے ساتھ لے کر جاؤ گی۔۔۔۔ از ڈیٹ کلیر ؟ ” عمر نے دونوں کو خشمگیں نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ دونوں نے ایک ساتھ سر کو خم دیا تو عمر تھوڑا نرم پڑا۔ وہ کل رات کے واقعے کی وجہ سے سچ میں پریشان ہوا تھا۔

” گڈ ! اب تم دونوں باقی لڑکیوں کے ساتھ ساتھ ہی رہنا۔۔۔۔۔میں ذرا کیف کو دیکھ آؤں ” وہ کہہ کر وہاں سے جاچکا تھا۔

” تم کیف سے کب بات کرو گی ؟ ” عمر کے جاتے ہی زینب عنایہ سے مخاطب ہوئی۔

” کس بارے میں ؟ ” عنایہ نے فرائز منہ میں ڈالتے ہوئے بے نیازی سے پوچھا۔

” کیف کو تھینکس کرنا تھا تم نے کل رات کیلئے ” زینب نے ضبط کرتے ہوئے کہا تھا(یہ لڑکی کتنی نا شکری ہے)۔

” اوہ اوکے ! کردوں گی جلدی کیا ہے ؟ ” شانے اچکا کر کہتی وہ یہاں وہاں دیکھنے لگی۔ جبکہ زینب تاسف سے اسے دیکھتی رہ گئی۔

******************

اسلام آباد میں مرتضیٰ مینشن میں خاموشی کا راج تھا۔ مرتضیٰ صاحب کسی میٹنگ کے سلسلے میں لاہور گئے تھے اور رابعہ بیگم اپنی دوستوں کے ساتھ ایک لنچ پر گئیں تھیں۔ منال جب سے کالج سے گھر آئی تھی تب سے اداس تھی۔ جب بھی اس کے بابا یا بھائی گھر نہیں ہوتے تھے وہ خود کو بہت تنہا محسوس کرتی تھی۔ اس کے ساتھ یہ تب سے چلا آ رہا تھا جب سے بی اماں اس دنیا سے وفات پاہ گئی تھیں۔ پہلے وہ ہوتیں تو منال ہر وقت ان کے ساتھ ڈھیروں باتیں کرتی تھی۔ انھوں نے ہی کیف اور منال کی تربیت کی تھی۔ ماں کے ہوتے ہوئے بھی وہ پیار ان دونوں بچوں نے بی اماں سے ہی پایا تھا۔ اپنے بیڈ پر دونوں ہاتھ تھوڑی کے نیچے رکھے اوندھے منہ لیٹی وہ اداس سی لگ رہی تھی۔ ملازمہ نے اس سے دوپہر کے کھانے کا پوچھا جس پر اس نے صاف انکار کردیا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کسی کو اس کی فکر نہیں ہے۔ وہ بدگمان ہورہی تھی اپنے بابا اور بھائی سے بھی جبکہ ایسا نہیں تھا۔ انہی سوچوں میں غلطاں تھی جب رابعہ بیگم اس کے کمرے میں داخل ہوئیں۔ وہ ڈرائیور کے ساتھ لنچ کیلئے نکل چکی تھیں کہ بیچ راستے میں انھیں منال کا خیال آیا کہ وہ گھر اکیلی ہوگی۔ انھوں نے ڈرائیور کو فوراً گاڑی واپس گھر کی طرف موڑنے کو کہا تھا۔ وہ چلتے ہوئے اس کے بیڈ تک آئیں اور اسکے پاس بیٹھ کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو منال چونک کر فوراً سوچوں سے نکلی اور اپنا چہرہ موڑا تو اپنی ماں کو سامنے دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھی۔

” کیا ہوا تم نے کھانا نہیں کھایا ؟ ” اسے حیران دیکھتے ہوئے رابعہ بیگم نے استفسار کیا۔

” وہ۔۔۔۔۔۔۔میرا دل نہیں چاہ رہا ” منال نے نظریں جھکا کر افسردگی سے جواب دیا۔

” کیوں کیا ہوا ہے میری بیٹی کے دل کو ؟ ” ان کا میری بیٹی کہنے پر منال کا دل بھر آیا۔

” کسی کو میرا خیال نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔بھائی بھی گھر نہیں ہیں اور بابا بھی مجھے اکیلے چھوڑ گئے ” آنکھوں میں آنسو لیے اس نے رابعہ بیگم سے بھیگے لہجے میں کہا۔

” بھائی اور بابا نہیں ہیں تو کیا ہوا ؟ میں تو ہوں نا ” رابعہ بیگم نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔

” آپ ؟۔۔۔۔۔۔لیکن میں جب پہلے بھی کبھی تنہا محسوس کرتی تھی تب بھی آپ میرے ساتھ نہیں ہوتی تھیں۔۔۔۔۔آپ نے کبھی میری پروہ نہیں کی تو اب کیوں ؟ ” پہلی بار وہ یہ شکوہ اپنی زبان پر لائی تھی۔

” تو اپنی ماں کو معاف نہیں کرو گی ؟ ” پھیکی مسکان کے ساتھ انہوں نے پوچھا۔ ان کے پوچھنے پر منال کی آنکھوں سے مزید آنسو جاری ہوگئے اور وہ آگے ہو کر ان کے سینے سے لگ گئی۔ رابعہ بیگم نم آنکھوں سے اسے سینے سے لگائے مسکرائی تھیں۔

********************

سبھی نیچے قطار کی صورت میں چیئر لفٹ پر دوسری طرف جانے کیلئے بے تاب کھڑے تھے۔ کیف بھی وہیں کھڑا تھا جب عمر اس کے پاس چلتا ہوا آیا۔

” یار میں سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

” کہ تم اب چیئر لفٹ پر بھی زینب کے ساتھ بیٹھنا چاہتے ہو ؟ ” کیف نے اسکی بات بیچ میں ہی کاٹ کر کہا تھا۔ عمر کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔

” ہائے ایسی قسمت کہاں اس وقت تو بہانہ تھا اب تو کوئی بہانہ بھی نہیں ” عمر نے حسرت سے کہا۔ کیف نے نفی میں سر ہلایا۔

” ویسے یار مزہ آجاتا اگر ایسا ہوجاتا۔۔۔۔۔۔سوچ میں اور زینب ان خوبصورت پہاڑوں کی بیچوں بیچ ہوا میں لٹکے آہ ہا۔۔۔۔۔۔۔۔” شوخی سے کہتا وہ آخر میں اپنی بات پر ہی ہنسا تھا۔ جبکہ کیف نے اچنبھے سے اسے دیکھا تھا۔

” مجھے لگتا ہے تیرا دماغ چل گیا ہے ” کیف نے اس کی حالت پر تبصرہ کیا۔

” محبت ہوتی ہی ایسی ہے میرے یار انسان کو دیوانہ بنا دیتی ہے “

” ایسی محبت سے اللّٰہ ہی بچائے ” کیف نے آنکھیں گھما کر کہا اور آگے بڑھ گیا۔ عمر کچھ کہنے والا تھا لیکن کندھے جھٹک کر اس کے پیچھے ہو لیا۔

**********************

ایوبیہ کی دوسری طرف اس خوبصورت پہاڑ پر کیا دلکش نظارے تھے۔ اس اونچائی سے آس پاس کے سب پہاڑ دکھ رہے تھے۔ ہلکی سی دھند بھی چھائی تھی۔ آس پاس موجود سیاح اس موسم اور نظاروں سے خوب لطف اندوز ہورہے تھے۔ کچھ سیاح گھوڑ سواری کررہے تھے اور کچھ مزے دار کھانوں سے مرغوب ہو رہے تھے۔ کیف ایک کینٹین کے باہر کہنی ٹکا کر سامنے دیکھ رہا تھا۔ یہ کینٹین قدرے فاصلے پر موجود تھی اور یہاں زیادہ نا رش تھا نا شور تھا۔ عنایہ نے کیف کو دیکھا تو وہیں سینے پر ہاتھ باندھے چلتی ہوئی کیف کے پاس آگئی۔

” کافی سردی ہے نا آج ” عنایہ اس کے پاس کھڑی بولی تو کیف نے چونک کر چہرہ گھما کر اس کی اور دیکھا تھا وہ اپنی ہی سوچوں میں گھم تھا۔ اسے اندازہ نہیں ہوا وہ یہاں کب آئی تھی۔

” ہاں ! ” کیف نے محض اتنا ہی کہا تھا اور دوبارہ سے سامنے دیکھنے لگا۔

” میں دراصل کل رات کیلئے تھینکس کہنے آئی تھی ” عنایہ پوری طرح اس کی طرف گھوم کر کہنے لگی۔

” یور ویلکم ! لیکن کچھ جلدی نہیں یاد آگیا ” کیف اسکا پوری صبح پھر دوپہر گزار کر اب تھینکس کہنے پر طنز کرنا نا بھولا تھا۔

” میں کل رات ہی کہہ دیتی لیکن مجھے بھول گیا ” عنایہ نے صاف گوئی سے کہا اسے واقعی یاد نہیں تھا۔ یہ تو زینب نے اسے یاد دلوایا تھا۔

” چلو اچھا ہے یاد آگیا ” اس کی بات پر عنایہ نے ایک نظر اس پر ڈالی اور سیدھی ہو کر سامنے دیکھنے لگی۔ اسے وہاں سے زیادہ یہ جگہ زیادہ حسین لگی تھی۔

کیف یوں ہی کہنی کے سہارے پیچھے ٹیک لگا کر کھڑا سامنے ہی دیکھ رہا تھا جب عنایہ نے اپنے بالوں کو ہلکے سے جھٹکا دیا جو کیف کے چہرے سے مس ہوئے تھے۔کیف نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا جو بے خبر مسکاتی ہوئی سامنے خوبصورت منظر دیکھنے میں مگن تھی۔

” تیرا مکھڑا حسین جادو کرگیا۔۔۔یہ دل لے گیا میری جان” کیف عنایہ کے چہرے کو نظروں کے حصار میں لئے گنگنایا۔

” کیا ؟ ” کیف کی آواز پر عنایہ اس کی طرف پلٹی تھی۔

” آہ کچھ بھی نہیں ” کیف نے بروقت خود کو سنبھالا تھا۔

” تم کچھ کہہ رہے تھے ؟ ” عنایہ کو یقین تھا اس نے اس کی آواز سنی تھی۔

” میں بس ایسے ہی ایک گانا یاد آگیا تھا وہ ہی گنگنا آرہا تھا ” کیف نے ٹیک چھوڑی اور سیدھا اس کے برابر کھڑا ہوگیا۔

” اوکے ! ” عنایہ نے شانے اچکائے اور دوسری طرف جانے لگی۔

” اوفف یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ ؟ ” کیف آسمان کی طرف چہرہ اٹھا کر بڑبڑایا اور پھر عنایہ کی پشت کو دیکھا اور جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوئی تھی کیف اسے ہی دیکھتا رہا۔

*******************

عمر اور زینب اپنے ہی جیسے کچھ اور سٹوڈنٹس کے ساتھ کھڑے خوشگپوں میں لگے تھے۔ عمر بار بار زینب کی طرف بھی دیکھ رہا تھا۔ اور زینب اسکی نظروں سے پزل ہورہی تھی۔ اس نے اپنے کھلے بال کانوں کے پیچھے اڑسنے کے بہانے عمر کو دیکھا تھا جو بات تو پاس کھڑے فراز سے کررہا تھا لیکن نظریں اسی پر جمائی ہوئیں تھی۔ زینب نے اسے گھوری سے نوازا تو عمر نے مسکرا کر نظریں پھیر لیں۔ فراز وغیرہ جب چلے گئے تو زینب تیکھے چتون لیے اسکی طرف آئی۔

” تمھے کیا بیماری ہوئی ہے ؟ گھور گھور کر کیوں دیکھ رہے ہو مجھے ؟ “

” میں نے کب دیکھا ” عمر صاف مکر گیا۔

” اچھا ! ابھی کیا کررہے تھے ؟ اور کل رات بھی “

” کل رات کیا ؟ “

” کل رات جب ہم سب کیف کا گانا سن رہے تھے تب بھی تم مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے ابھی ایوبیہ آتے ہوئے بندر راستے میں ہمیں دیکھ رہے تھے “

” واٹ ؟؟؟؟ بندر ؟؟ ” عمر کا خود کو بندر سے ملائے جانے پر شاک ہی لگا تھا۔

” بالکل بندروں کی طرح ہی دیکھتے ہو ” زینب نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا تھا لیکن اندر ہی اندر عمر کے تاثرات بڑا مزہ دے رہے تھے۔

” ٹھیک ہے اب نہیں دیکھوں گا ” منہ بنا کر کہتا وہ اسے کے پاس سے گزر کر چلا گیا۔ اس کے پیچھے زینب ہنسی تھی۔

********************

آج آخری دن بھوربن میں گزار کر انکی کل واپسی تھی۔ پورا دن بھوربن میں انکا بہت اچھا گزرا تھا۔ رات ان کا پی سی ہوٹل میں سٹے تھا۔ عمر پورا دن زینب سے خفا ہی رہا تھا اور زینب پورا دن اس کو منانے میں لگی رہی جس کی وجہ سے وہ زیادہ انجوائے بھی نہیں کر پائی تھی۔

رات کے آٹھ بجے کا وقت تھا جب کیف ایک چھوٹے لکڑی سے بنے بریج پر کھڑا تھا۔ جو پانی کے پول کے اوپر سے گزر کر دوسری طرف ایک ہوٹل کے بڑے سے باغیچے میں جاتا تھا۔ کیف کے ساتھ دو لڑکیاں کھڑی اس سے باتیں کررہی تھیں۔

عنایہ زینب کو ڈھونڈتے ہوئے اس طرف آئی تھی جب کیف پر اس کی نظر پڑی۔ وہ مسکرا کر ان لڑکیوں سے باتیں کررہا تھا اور اس کے گالوں پر پڑتے گڑھے پر عنایہ دل تھام کر رہ گئی تھی۔

” اوفف خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اس کو ڈمپل بھی دے دیا ” عنایہ نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے ایک اور شکوہ کیا۔ وہ چلتے ہوئے اس طرف جانے لگی جہاں کیف کھڑا تھا۔

” پتا نہیں یہ لڑکیاں کونسے لطیفے اسے سنا رہی ہیں جس پر اس کے دانت ہی نہیں اندر جارہے ” عنایہ نے منہ بنا کر سوچا۔

” تم لوگوں نے زینب کو دیکھا ہے کیا ؟ ” ان کے قریب پہنچ کر عنایہ نے پوچھا تھا۔ کیف نے اس کی طرف دیکھا جو جیز پر کرتا پہنے اپنے گرد شال لپیٹے کھڑی تھی۔ تینوں میں سے کسی نے بھی زینب کو نہیں دیکھا تھا۔

” پتا نہیں کہاں ہے ؟ “عنایہ وہیں کھڑی آس پاس دیکھنے لگی۔ جبکہ وہ دونوں لڑکیاں اب چپ تھیں اور عنایہ کے وہاں سے جانے کا انتظار کرنے لگیں۔ تھوڑی دیر گزر گئی لیکن عنایہ وہیں کھڑی پول کے پانی کو دیکھنے لگی۔ ان لڑکیوں کو عنایہ کے واپس جانے کے اثار نظر نا آئے تو برے سے منہ بناتے وہاں سے چلیں گئیں۔ عنایہ نے کن آنکھیوں سے دونوں کو جاتے دیکھا تھا۔ کیف بھی چپ چاپ کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا لیکن اسے عنایہ کے وہاں سے نا جانے کی وجہ سمجھ نہیں آئی تھی۔ اسے لگا تھا وہ زینب کا پوچھ کر چلی جائے گی۔

عنایہ کیف کی طرف پلٹی تھی جو بلیک جینز پر چارکول بلیک جیکٹ پہنے ہاتھ میں کوک کا کین لیے اپنے محصوص انداز میں کہنی کے سہارے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ عنایہ اس کے پاس آکر تھوڑے فاصلے پر کھڑی ہوگئی۔

” تم تو زینب کو نہیں ڈھونڈ رہی تھی ؟ ” کیف نے اسکا یہاں بے وجہ رکنے پر تجسس سے پوچھا تھا۔

” ہاں ! کب سے ڈھونڈ رہی ہوں، میرے خیال میں عمر کے ساتھ ہوگی ” عنایہ نے جواب دیا۔

” تو پھر ؟ ” کیف نے پوچھا۔

” کیا پھر ؟ میں تھک گئی ہوں اب۔۔۔۔ اور یہ جگہ اچھی لگ رہی ہے سوچ رہی ہوں تھوڑی دیر یہیں وقت گزاروں ” عنایہ نے یہاں رکنے کی وجہ بتائی۔

” اوکے ! ” کیف نے کین سے کوک کا سپ لیا تھا۔

” یہ لڑکیاں ہر وقت تمہارے اردگرد منڈلاتی ہوئی نظر آتی ہیں۔۔۔۔۔کسی کے ساتھ سیریس بھی ہو کے بس ٹائم پاس ؟ ” مقابل کو اس سوال کی توقع نہیں تھی۔ کم سے کم اس سے تو نہیں تھی۔

” ٹائم پاس ” کیف نے ایک لفظ میں جواب دے کر پھر سے کین لبوں سے لگایا تھا۔

تم ایسے کیوں ہو ؟ اس کے یہ پوچھنے پر مقابل نے اپنی بھنویں اٹھا کر اسے دیکھا۔

” میرا مطلب تھا تمھے اندازہ نہیں ہے ایسے تم کتنوں کے دل توڑتے ہو ” اس نے جلدی سے دو ٹوک بات کہی۔

” میں کسی کا دل نہیں توڑتا۔۔۔ وہ خود آتی ہیں میرے پاس اپنے دل کا حال سنانے اور میں بس سن لیتا ہوں ” اس نے آرام سے کندھے جھٹک کر کہا۔

” ہاں تم تو ڈاکٹر ہو نا جسے دل کا حال بتاتی ہیں ” اس نے ناک چڑھائی۔ اور تھوڑی دیر خاموشی کے بعد پھر گویا ہوئی۔

” کیا کبھی کسی سے محبت نہیں ہوئی ؟ ” اس کے سوال پر کیف نے اسکی من موہنی صورت کو دیکھا۔

” یہ محبت عشق وغیرہ سب فلمی باتیں ہیں یا کتابی باتیں۔۔۔۔حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا ” اس نے کہہ کر اپنی نظریں اسکے چہرے سے ہٹائیں۔

” ہممم !! یہ تو تم اس لیے کہہ رہے ہو کیونکہ ابھی تک تمھے کسی سے سچی محبت ہوئی نہیں جب ہوگی نا تب دیکھنا ” عنایہ نے اپنے گرد شال کو درست کرتے ہوئے بتایا۔

” ناممکن۔۔۔۔۔کوئی ایک لڑکی مجھے اچھی لگ جائے ایسا ہو نہیں سکتا۔۔۔کیونکہ کسی کی آنکھیں خوبصورت ہیں، کسی کے بال،تو کسی کی آواز بہت اچھی ہے تو کسی کی صورت۔۔۔۔۔ ” آخری بات اس نے دوبارہ سے اسکے چہرے کو نظروں کے حصار میں لئے کہا۔

” چھچھورا ” اسکی بات سن کر وہ ہلکے سے بڑبڑائی۔

” کچھ کہا تم نے ؟ “

” نہیں ” اس نے زبردستی مسکان لبوں پر سجا کر کہا۔

” تمھے ہوئی ہے کبھی کسی سے محبت ؟ ” کیف نے کھوجتی نگاہوں سے اسکا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” ہاں !!! ” اس جواب کی مقابل کو تواقع نہیں تھی۔ اسے اپنے دل میں کچھ عجیب سا محسوس ہوا تھا۔

” کون ؟ ۔۔۔۔ آئی مین کس سے ہے تمھے محبت ؟ ” اس نے نظریں اپنے ہاتھ میں پکڑے کوک کے کین پر ٹکا کر پوچھا۔

********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *