Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 50) Last Episode (Last Part)

222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 50) Last Episode (Last Part)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

کیف کے گھر والے جس اپنایت اور محبت سے اس سے پیش آئے تھے اس کی آنکھ بھر آئی تھی۔ وہ کتنا غلط سمجھتی رہی تھی۔ ہر کوئی ایک جیسا نہیں ہوتا۔ نادیہ آنٹی کے ساتھ جو کچھ ہوا اور اس کے ساتھ جو اس کی ممانی نے کیا تھا وہ ان سب سے اتنی بد گماں ہوگئی تھی کہ اسے لگا ہر کوئی ایک جیسا ہی ہے۔۔۔۔ سب ایک جیسا ہی سوچتے ہیں لیکن ایسا نہیں تھا۔ اس کے ماموں نے بھی تو اسے غلط نہیں سمجھا تھا۔ اپنے ماموں کا خیال آتے ہی اس کی آنکھ نم ہوگئی۔ وہ ابھی کیف کے کمرے میں واپس آئی تھی۔ سارا دن اس نے نیچے کیف کی فیملی کے ساتھ گزارا تھا۔ منال سے باتیں کرتے اسے آج نور کی بھی بہت یاد آئی۔ انہی سوچوں میں گم تھی جب دروازے پر ہونے والی دستک پر وہ اس جانب متوجہ ہوئی تھی جہاں رابعہ بیگم کھڑی تھیں۔

” ارے آنٹی آپ وہاں کیوں کھڑی ہیں پلیز آئیں نا ” اپنی آنکھیں صاف کرتی وہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ رابعہ بیگم چلتے ہوئے اس کے قریب آئی تھیں۔ انہوں نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے لیے بیڈ پر جا بیٹھیں۔

” کیا ہوا یہ پیاری سے آنکھیں نم کیوں ہیں ؟ ” انہوں نے اس کی تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھتے ہوئے بہت پیار سے پوچھا تھا۔

” نہیں بس وہ ایسے ہی ” عنایہ نے نظریں جھکائے کہا۔

” ایسے لگ تو نہیں رہا اور کیف بھی بہت چپ چپ ہے میں نے نوٹ کیا ہے تم دونوں کے درمیان کچھ ہوا ہے کیا ؟ ” عنایہ نے نگاہیں اٹھا کر ان کی طرف دیکھا تھا۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھا کر رابعہ بیگم کی جھولی میں رکھے ان کے ہاتھ پر رکھا تھا۔

” میں۔۔۔۔۔۔۔آنٹی مجھے نہیں معلوم آپ لوگ میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔۔۔۔۔۔لیکن میں یہاں نہیں آنا چاہتی تھی کیونکہ مجھ میں بالکل ہمت نہیں تھی کہ میں آپ لوگوں کو فیس کر پاتی۔۔۔۔۔مجھے یہ بھی نہیں پتا آپ لوگ کیا جانتے ہیں اور کتنا جانتے ہیں۔۔۔۔۔میں بس۔۔۔۔۔۔” وہ رسانیت سے بولتی ایک دم رک گئی تھی۔

” بولو میں سن رہی ہوں ” انہوں نے اسکا ہاتھ دبا کر تسلی دی تھی۔ انھیں لگا شاید وہ ہچکچا رہی تھی۔

” میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔کیف کو کہیں مجھے جانے دے۔۔۔۔ میں یہاں نہیں رہنا چاہتی ” اس نے ہمت کرتے ہوئے صاف صاف کہا تھا۔

” اچھا ! تو تم کیف سے محبت نہیں کرتیں ؟ ” انہوں نے اس کے چہرے کو نظروں کے حصار میں لیے پوچھا تھا۔ وہ اس کا ایک ایک تاثر نوٹ کررہی تھیں۔

” نہیں! ” اپنے ہاتھ کی مٹھی سختی سے بند کرتے ہوئے اس نے جواب دیا تھا۔

” لیکن تمہاری آنکھیں تو کچھ اور کہہ رہی ہیں ” ان کی بات پر عنایہ گڑبڑا گئی۔ کیا کیف کی محبت اتنی گہری تھی کہ ہر کوئی اتنی آسانی سے سمجھ جاتا تھا۔ عنایہ نے نظریں چرائی تھیں۔ رابعہ بیگم نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا۔

” میں جانتی ہوں جو سب کچھ ہوا لیکن تم بھی اصل حقیقت سے لاعلم ہو ” عنایہ خاموش ہی رہی تو وہ مزید کہنا شروع ہوئیں پھر انہوں نے عنایہ کو سارا سچ بتایا۔ عنایہ بنا پلکیں جھپکائے ان کی بات سن رہی تھی۔ اس کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا ایک رنگ جارہا تھا۔

” اور ایسا بالکل نہیں سمجھنا کہ میں کیف کی ماں ہوں تو اس لیے تمھے اس کی طرف سے صفائی دے رہی ہوں اگر کیف نے ایسا کچھ کیا ہوتا تو ہم میں سے کوئی اسے معاف نہیں کرتا اور اگر تم چاہو تو عمر سے پوچھ سکتی ہو “

” نہیں آنٹی پلیز آپ مجھے شرمندہ کررہی ہیں۔ ” اس کی آواز میں لڑکھڑات تھی۔

” میرا ارادہ تمھے شرمندہ کرنے کا ہرگز نہیں ہے بلکہ میں تو چاہتی ہوں تم ہر طرف سے اپنا من صاف کرلو۔۔۔۔۔۔۔بلکہ میں تو تمھے شکریہ کہنا چاہتی تھی جانے ان جانے میں تمہاری وجہ سے کیف پھر سے میرے قریب ہوگیا ” وہ مسکرائی تھیں لیکن عنایہ جواباً مسکرا بھی نہیں سکی۔

” کیف نے یہ پانچ سال کیسے گزارے ہیں یہ صرف میں جانتی ہوں۔ وہ ٹوٹا ہوا تھا لیکن ہمارے سامنے ظاہر نہیں ہونے دیتا تھا لیکن میں ماں تھی سمجھ جاتی تھی۔ جانتی ہو ہر بار جب بھی ہم بات کرتے تھے تو مجھے کہتا تھا مام آپ نے دعا کرنی ہے وہ جہاں بھی ہو ٹھیک ہو۔ ” عنایہ کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر بہہ نکلا۔

” ارے میں نے تو تمھے پھر سے رولا دیا ” عنایہ ان کی بات پر دھیمے سے ہنس دی تھی۔

” لیکن کیف مجھ سے بہت ناراض ہوگا ” اس نے اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا۔

” کوئی بات نہیں ٹھیک ہو جائے گا ” وہ مسکرا کر کہتی اٹھی تھیں۔ عنایہ بھی ان کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی۔

” اور ہاں کیف کی غلطی ہے میں مانتی ہوں اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن وہ کیف ہے اور وہ ہی کرتا ہے جو اس کا دل کرتا ہے اس کی وجہ سے تمہارے گھر میں جو مسئلے ہوئے اور جو کچھ تم نے سہا میں اس کیلئے معافی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

” آنٹی پلیز ایسے تو نہیں کہیں ” عنایہ نے ان کی بات بیچ میں ہی کاٹی تھی۔

” غلطی ہم دونوں کی ہے۔ اس میں ہم دونوں کے گھر والوں میں سے کوئی اس کا ذمدار نہیں، آپ پلیز معافی مت مانگیں” وہ ان کا ہاتھ تھام کر بولی تو رابعہ بیگم نے مسکرا کر سر ہلا دیا۔

************************

رات کا کھانا کھانے کے بعد عنایہ واپس کمرے میں آئی اور یہاں سے وہاں چکر کاٹتی کیف کا انتظار کرنے لگی۔ وہ اس سے اتنا ناراض تھا کہ اس نے ایک بار بھی آج دن بھر عنایہ کی طرف دیکھا تک نہیں تھا۔ اور اب عنایہ کو رہ رہ کر اپنی کم عقلی پر غصہ آرہا تھا۔ اس نے کتنی بڑی غلطی کردی تھی۔ کاش وہ ایک بار کیف کی بات سن لیتی لیکن نہیں اسوقت تو صرف نتاشہ کی باتیں ہی سچ لگ رہی تھیں۔

” افف میں نے یہ کیا کردیا۔۔۔۔۔۔۔ نادیہ آنٹی ٹھیک کہتی تھیں مجھے کیف کی بات سننی چاہیے تھی۔۔۔۔۔جزبات میں آکر میں نے ہم دونوں کو اتنی بڑی سزا دی اور کل رات جو کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ مجھ سے اب کبھی بات نہیں کرے گا ” وہ ناخن چپاتی مسلسل کیف کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ اس نے وال کلاک دیکھی جو رات کے گیارہ بجا رہی تھی لیکن کیف ابھی تک روم میں نہیں آیا تھا۔ وہ تو کل رات بھی نہیں آیا تھا۔

” کہیں آج بھی نا آیا تو ؟ ” وہ اداس لہجے میں خود سے بولی۔

************************

اور پھر کیف رات بھر کمرے میں نہیں آیا تھا اور عنایہ اس کا انتظار کرتے کرتے سو گئی تھی۔ صبح ناشتے کے وقت بھی اسے وہ کہیں نظر نہیں آیا تھا۔ ناشتے کے بعد وہ لاونج میں رکھے صوفے پر اداس سی بیٹھی تھی۔ منال کی کسی فرینڈ کی کال آگئی جسے سننے کیلئے وہ باہر لان میں چلی گئی تھی۔ رابعہ بیگم کک کو دوپہر کے کھانے کی ہدایت دیتی باہر آئیں تو عنایہ کے پاس ہی جگہ سنبھالی۔

” کیف سے بات ہوئی ؟ ” انہوں نے اسکا اداس چہرہ دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔ عنایہ نے سر نا میں ہلایا۔

” وہ تو روم میں آتا ہی نہیں اور میرے سامنے بھی ” اس نے روٹھے سے انداز میں کہا۔

” میں نے صبح دیکھا تھا اسے گیسٹ روم سے نکلتے ہوئے لیکن وہ آفس کیلئے تیار ہونے تو روم میں ہی گیا تھا “

” شاید میں گہری نیند میں تھی” عنایہ نے بتایا۔

” ہممممممم ” رابعہ بیگم کچھ سوچنے لگیں۔

” وہ مجھ سے بہت زیادہ ناراض ہے تبھی تو مجھے اگنور کررہا ہے ” عنایہ مایوس نظر آرہی تھی۔

” کتنی دیر رہے گا ؟ شوہروں کو منانے کا سب سے آسان طریقہ ہے میرے پاس میں تمھے بتاتی ہوں آؤ میرے ساتھ ” وہ شریر سے لہجے میں کہتیں اسے اپنے ساتھ لے گئیں۔

**********************

دو گھنٹے لگا کر عنایہ نے کیف کی پسند کا سارا کھانا خود تیار کیا تھا اور اب وہ فریش ہونے کیلئے جیسے ہی کچن سے باہر نکلی تو سامنے سے رابعہ بیگم اسی طرف آرہی تھیں۔ وہ ساڑھی میں ملبوس کہیں جانے کیلئے تیار نظر آرہی تھیں۔

” ارے آنٹی آپ کہیں جارہی ہیں ؟ “

” ہاں تمھے ہی بتانے آرہی تھی۔ میری ایک فرینڈ نے مجھے اور مرتضیٰ کو آج ڈنر پر انوائیٹ کیا تھا۔پہلے تو میں نے انکار کردیا لیکن پھر کیف کی ناراضگی دیکھ مجھے لگا اسی بہانے تم اور کیف اکیلے ہوگے اور یہ موقع اچھا ہے کیف کو منانے کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔منال کو بھی زبردستی ساتھ لے جارہی ہوں ” انہوں نے مسکرا کر بتایا۔

” اور ہاں جیسا کہا ہے ویسے ہی کرنا اوکے ” وہ تاکید کرتی جا چکی تھیں۔ پیچھے عنایہ ان کہ اتنے خلوص پر مسکرا کر رہ گئی۔

**********************

مہرون کلر کی سلیو لیس سلک کی ساڑھی زیب تن کیے، کھلے بالوں میں کرل ڈالے، آنکھوں میں کاجل اور مسکارا جبکہ لبوں پر لال رنگ کی لپ سٹک لگائے وہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔ اس نے آئینے میں خود کو دیکھا تو دیکھتی رہ گئی۔ پھر ڈائمنڈ کا سیٹ اٹھا کر گلے میں پہنا۔ اس کے لبوں پر مسکان سجی تھی۔ وہ جب اسے ایسے دیکھے گا تو سب بھول جائے گا۔

” بیوٹی فل ” ڈائمنڈ کا سیٹ پہن کر جیسے ہی اس نے آئینے میں دیکھا تو بے ساختہ اس کے لبوں سے نکلا۔ یہ ہار کافی قیمتی اور خوبصورت تھا۔ وہ ایسے ہی خود کو آئینے میں دیکھتی رہتی لیکن پھر وقت کا احساس ہوا تو جلدی سے ائیرنگز اٹھا کر کانوں میں پہنتی وہ ایک تنقیدی نگاہ خود پر ڈالتی ڈریسنگ روم سے باہر نکل کر بیڈ روم میں آگئی۔

**********************

کیف آفس میں بیٹھا کسی فائل میں مصروف تھا جب رابعہ بیگم نے اسے کال کی۔

” کونسا ایسا کام ہے جو اتنی دیر تک چل رہا ہے ؟ ” انہوں نے کال ریسیو ہوتے ہی اس کی کلاس لینی چاہی۔

” مام آفس کا کام ہے یار ” کیف نے مصروف سا جواب دیا۔

” بس ختم کرو کام اور گھر پہنچو عنایہ انتظار کررہی ہے ” انہوں نے حکم دیا۔

” تو میں کروں ؟ اپنا کام کسی کیلئے نہیں چھوڑ سکتا ” کیف نے دو ٹوک کہا تھا۔

” کیوں ستا رہے ہو میری بہو کو ؟ “

” اور جو آپ کی بہو نے مجھے ستایا ہے اس کا کیا ؟ “

” کیف اسے پتا نہیں تھا۔۔۔۔اب بتا دیا ہے نا میں نے سب “

” اور وہ آپ کی مان گئی ؟ کمال ہے مجھے یقین نہیں آرہا کہ اسے میری بے گناہی کا یقین آگیا ” کیف طنزیہ ہنسا تھا۔

” میں کچھ نہیں جانتی بس فوراً گھر پہنچو ” انہوں نے اس بار تھوڑا سختی سے کہا۔

” مام۔۔۔۔۔۔۔۔ ” کیف نے احتجاج کرنا چاہا لیکن دوسری طرف سے کوئی بھی رعایت ملنے کے آثار نظر نا آئے تو ناچار کیف کو ماننا ہی پڑا۔

***********************

کیف لاونج میں داخل ہوا تو پہلی نظر ہی ڈائنگ پر برتن لگاتی عنایہ پر پڑی۔ کیف تو وہیں تھم گیا۔ بنا پلک جھپکائے وہ عنایہ کو دیکھتا رہا۔ وہ ہوش اڑانے کی حد تک حسین لگ رہی تھی۔ عنایہ کی نظر اس پر پڑی تو وہ مسکرا دی۔

” کھانا تیار ہے۔ تم فریش ہو جاؤ تب تک میں کھانا لگا دوں گی ” اس کی آواز پر کیف ہوش کی دنیا میں لوٹا تھا۔

” گڈ مام۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا پھنسایا ہے آپ نے اپنے بیٹے کو ” کیف وہیں کھڑا ہلکے سے بڑبڑایا تھا۔ پھر چلتا ہوا ڈائنگ تک آیا۔

” مام ڈیڈ نظر نہیں آرہے ؟ ” اس نے یہاں وہاں دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” سب کسی دعوت پر گئے ہیں ” عنایہ اس کے چہرے پر کھوجتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ لیکن اس کے چہرے پر ڈھونڈ کر بھی کوئی تاثر نہیں ملا۔ عنایہ کو لگا تھا اسے یوں دیکھ کر وہ ضرور کچھ کہے گا۔ کیف بنا کچھ کہے وہاں سے جانے کیلئے پلٹ گیا۔

” میں کھانے پر انتظار کررہی ہوں ” عنایہ نے اسے جاتے دیکھا تو پیچھے سے ہانک لگائی۔

” مجھے بھوک نہیں ہے ” کیف بنا پلٹے ہی بولا تھا۔ وہ جلدی سے اس کی پیچھے گئی تھی۔

” کیوں بھوک نہیں ہے ؟ میں نے اتنی محنت سے سب تمہاری پسند کا کھانا بنایا ہے ” وہ اس کے پیچھے ہی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے بولی تھی۔

” تھینکس ! پر مجھے بھوک نہیں ہے ” کیف روکھے سے انداز میں کہتا بیڈ روم میں داخل ہوا تو عنایہ تیزی سے اس کے سامنے آئی تھی۔

” مجھے کچھ بات کرنی تھی “

” لیکن میرا کچھ سننے کا موڈ نہیں ہے ” کیف سائیڈ سے گزرنے لگا تو عنایہ پھر سے اس کے سامنے آگئی تھی۔

” کیف ! مانتی ہوں میں نے غلط کیا۔۔۔۔۔۔آئی ایم سوری ” اس نے دھیمے سے کہا۔

” آہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” کیف نے آگے بڑھ کر اس کو شانوں سے تھاما تھا۔

” سوری کہہ دینے سے سب ٹھیک ہو جائے گا ؟ یو نو واٹ غلطی تمہاری نہیں۔۔۔۔۔۔ میری ہے جو مجھے تم سے محبت ہوئی۔۔۔۔۔۔۔تم میری محبت کے قابل نہیں تھی ” کیف سخت لہجے میں گویا ہوا۔

” ایسے تو نہیں کہو ” اس کی بات سے عنایہ کا دل دکھا تھا۔

” کیوں تکلیف ہورہی ہے ؟ اور جو پل پل تم نے مجھے تکلیف دی ہے اس کا اندازہ ہے تمھے؟۔۔۔۔۔۔اس دن جب میں ایئرپورٹ گیا تھا۔۔۔۔۔ تم تب بھی بھاگ رہی تھی نا مجھے چھوڑ کر۔۔۔۔” کیف اسے جھنجھوڑتے ہوئے غرایا تھا۔

” میں اتنے دن سے تمہارے سامنے تھی تم نے مجھ سے کچھ کیوں نہیں کہا؟ ” عنایہ اس حقیقت کی بات کررہی تھی جو سب رابعہ بیگم نے اسے بتایا تھا۔ وہ سب کیف بھی تو بتا سکتا تھا۔

” مجھے صفائی دینے کی عادت نہیں۔۔۔۔۔۔مجھے لگا تھا میری محبت ہی کافی ہوگی جو تمھے احساس دلا سکے کہ کیف مرتضیٰ نے اگر کسی سے محبت کی ہے تو وہ صرف تم ہو لیکن میں غلط تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں پہلے بھی تمھے اپنی محبت کا یقین نہیں دلا پایا تھا اور پانچ سال بعد بھی نہیں کر پایا ” عنایہ کا دل کٹا تھا۔ کیا تھا اگر وہ اس رات کیف کی بات سن لیتی لیکن شاید وہ تب بھی نا یقین کرتی۔ اسے اپنی محبت کیف کی محبت کے سامنے بالکل بے کار لگی تھی۔

” میری غلطی ہے آئی ایم سوری۔۔۔۔۔۔۔پلیز کیف۔۔۔۔۔اچھا تم مجھے کوئی بھی سزا دے دو لیکن مجھے معاف کر دو” عنایہ نے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھتے ہوئے التجاء کی تھی۔ کیف کے لیے اب صحیح معنوں میں مشکل ہورہا تھا ناراضگی برقرار رکھنا۔ وہ اس کا ایمان ڈگمگا رہی تھی۔

” عنایہ سٹاپ دس اور جاؤ یہاں سے ” کیف نے اس کے ہاتھ ہٹائے تھے۔

” کیف ! ” عنایہ نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے چہرے پر رکھے تھے۔

” ہم آگے ہی زندگی کے اتنے سال ایک دوسرے سے الگ رہ کر ضائع کر چکے ہیں۔ ایسے میں اب مزید یوں جھگڑنے کا کیا فائدہ ؟۔۔۔۔۔۔۔آئی لو یو۔۔۔۔۔۔۔” دھیمے سے کہتے ہوئے عنایہ نے اپنا چہرہ کیف کے چہرے کے قریب کیا تھا۔ کیف اپنے جذبات قابو کرتا اس سے دو قدم پیچھے ہٹا تھا۔

” میں منا تو رہی ہوں نا ” عنایہ روہانسی ہوئی تھی۔

” احسان کررہی ہو ؟ ” کیف نے آبرو اٹھا کر پوچھا۔

” نہیں! لیکن تم مان جاؤ نا بس ” اس نے پیار سے کہتے ہوئے کیف کے دل کے مقام پر اپنا ہاتھ رکھا تھا۔ کیف نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور وہاں سے ہٹا دیا۔ عنایہ نے آنکھیں چھوٹی کیے اسے گھورا تھا( کچھ زیادہ ہی نکھرے دیکھا رہا ہے)۔ کیف اس کی گھوری کو نظر انداز کرتا اپنی ڈھیلی ٹائی کو گلے سے اتارتا اسے بیڈ پر اچھال چکا تھا۔

” تو تم اب ناراض ہی رہو گے کیا ؟ ” عنایہ نے صاف صاف پوچھا تھا۔

” یہ تو تم خود سے پوچھو کیا جو باتیں تم نے کی تھیں اتنی آسانی سے بھولی جا سکتی ہیں ؟ ” اس کی بات پر عنایہ ایک بار پھر دکھی ہوئی تھی۔ کیف اچھے سے اس کے چہرے کی اداسی نوٹ کررہا تھا۔ وہ ہار مانتی کیف کے پاس سے گزر کر جانے لگی تو کیف اس کی کلائی اپنے ہاتھ کی گرفت میں لے چکا تھا۔ عنایہ خوشگوار خیرت سے پلٹی تھی۔ کیف نے اسے واپس اپنی طرف کھینچا تھا۔ وہ بالکل اب اس کے مقابل کھڑی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔

” اتنا بن ٹھن کر مجھے منانے آئی ہو تو اس خوبصورتی کو کم سے کم خراج تحسین تو پیش کر ہی سکتا ہوں ” عنایہ اس کی بات کو سمجھتی اس سے پہلے ہی کیف اسے سمجھنے سنبھالنے کا موقع دیے بغیر اپنے بازوؤں میں اٹھا چکا تھا۔

************************

ایک خوبصورت صبح مرتضیٰ مینشن اتری تھی۔ کیف کے بیڈروم میں عنایہ مزے کی نیند لے رہی تھی جب بند آنکھوں سے اس نے کیف کا نام لیا پھر دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولیں تو پیاری سے مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احاطہ کیا۔ اس نے کروٹ دوسری طرف لی تو کیف کو نا پا کر اٹھ بیٹھی۔

” کہاں گیا ؟۔۔۔۔۔۔ ایک تو جب بھی اس کے پاس سے سو کر اٹھو یہ غائب ہی ہوتا ہے ” عنایہ نے منہ بنایا۔ اس نے وال کلاک پر ٹائم دیکھا جہاں دن کا ایک بج رہا تھا۔

” ہائے اتنی دیر سوتی رہی ” زبان دانتوں تلے دباتی وہ جلدی سے اٹھتی واشروم میں بند ہوئی تھی۔

************************

دوپہر کو کیف سر درد ہونے کی وجہ سے جلدی گھر لوٹ آیا تھا۔ مام کو چائے کا کہتا خود وہ بیڈ روم میں چلا آیا تھا اور تھوڑی دیر بعد عنایہ چائے لیے کمرے میں آئی تو وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے ایک ہاتھ سر پر رکھے بیٹھا تھا۔ عنایہ نے چائے سامنے ٹیبل پر رکھی اور اس کے ساتھ ہی تھوڑے فاصلے پر بیٹھ گئی۔

” زیادہ درد ہے تو دبا دوں ؟ ” عنایہ نے فکرمندی سے کہا۔

” کیا میرا گلا ؟ ” کیف بنا اس کی طرف دیکھے سیدھا ہوتا چائے کا کپ اٹھا چکا تھا۔ عنایہ ہنس دی۔

” جب اتنی دیر سے سوئے تھے تو کیا ضرورت تھی صبح اپنی نیند خراب کرکے آفس جانے کی۔۔۔۔۔۔۔ایک دن نا جاتے ” وہ تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔

” تم سے پوچھ کر اپنے کام نہیں کرسکتا ” کیف نے روڈلی جواب دیا۔ عنایہ اس کے انداز پر حیران ہوئی تھی۔

” اب کیا ہوا ہے ایسے کیوں بات کررہے ہو ؟ “

” تم مجھے ڈسٹرب کررہی ہو۔ بہتر ہے روم سے چلی جاؤ اور ہاں رات بھی یہاں رکنے کی ضرورت نہیں۔ اب سے تم گیسٹ روم میں رہو گی ” اس کی بات پر تو عنایہ کا منہ کھل گیا۔ اسے کیا ہوا تھا۔ کل رات تو ٹھیک تھا پھر اچانک کیا ہوا۔ کیف چائے کا کپ رکھتا اس کے پاس سے اٹھ گیا۔

” کیف تم ایسے کیوں کہہ رہے ہو ؟ ” وہ اس کے سامنے آتی پریشان نظروں سے پوچھنے لگی۔

” تم نے جو کیا اور کہا اس کیلئے اتنی آسانی سے میں تمھے معاف نہیں کرسکتا “

” کیا۔۔۔۔۔۔ تو پھر کل رات سب کیا تھا ؟ مجھے لگا تمہاری ناراضگی ختم ہوگئی ہے ” عنایہ تو صدمے میں تھی جیسے۔ کیف اس کے سامنے سے ہٹتا ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔

” دیکھو ذرا اسے۔۔۔۔۔۔۔۔کتنا تیز ہے۔۔۔۔۔اگر ناراض تھا تو میرے قریب کیوں آیا ؟ ” عنایہ تو وہیں کھڑی اس کی چالاکی پر عش عش کر اٹھی تھی۔ کیف چینج کرتا واپس آیا تو عنایہ وہاں نہیں تھی لیکن عنایہ کا فون مسلسل بج رہا تھا۔ کیف اس فون کی رنگ ٹون سے تنگ آتا بیڈ پر پڑے اس کے فون تک گیا تھا لیکن جیسے ہی وہ فون اٹھانے کیلئے جھکا عنایہ بھی اسی وقت اپنا فون اٹھانے کیلئے جھکی تھی۔ لیکن فون کی سکرین پر جگمگاتے نام پر کیف حیران تھا جبکہ عنایہ کی آنکھیں پھٹی تھیں۔ اس سے پہلے عنایہ فون پکڑتی کیف فون تھام چکا تھا۔

” میرا فون ہے ” عنایہ نے اس کے ہاتھ سے اپنا فون لینا چاہا تھا لیکن کیف اپنا بازو اونچا کرتا فون اس کی پہنچ سے دور کر چکا تھا۔ فون اب بجنا بند ہوچکا تھا۔ کیف فون کو اپنے سامنے کرتا ان لاک کرنے ہی لگا تھا کہ فون پر ایک بار پھر سے کال آنے لگی۔

” حیدر کالنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” کیف نے آنکھیں چھوٹی کیے عنایہ کی جانب دیکھا تھا پھر کال یس کرتا فون سپیکر پر ڈال چکا تھا۔

” ہیلو عنایہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” حیدر کی آواز سپیکر پر گونجی۔

” عنایہ ؟؟؟؟ ” وہ اسکا نام پکار رہا تھا۔ کیف نے اسے آنکھوں سے بات کرنے کا اشارہ کیا تو عنایہ کو لگا وہ بری طرح پھنسی ہے۔ وہ اچھے سے جانتی تھی کیف کا کیا ریایکشن ہوگا۔

” ہیلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ح۔۔۔۔۔حیدر” اس نے لڑکھڑاتی آواز میں جواب دیا۔ کیف کی نظریں اسی پر تھیں اور عنایہ بھی کیف کو دیکھ رہی تھی۔

” اتنی دیر سے کال کررہا ہوں یار۔۔۔۔۔۔تم کہاں ہو ؟ آفس میں ہو کیا ؟ میں تمہارے فلیٹ کے باہر کھڑا ہوں” وہ بول رہا تھا اور کیف بے یقینی سے عنایہ کی جانب دیکھ رہا تھا۔ عنایہ نے ڈر کر اپنی آنکھیں میچ لی تھیں۔ حیدر مزید بات کرنے لگا تو عنایہ جلدی سے بول اٹھی۔

” حیدر میں آفس ہوں ۔۔۔۔۔۔۔تمھے بعد۔۔۔۔۔۔۔” عنایہ کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی کیف کال کاٹ چکا تھا۔

” اسے پتا تھا تم کہاں تھی ؟ ” کیف ابھی بھی بے یقینی سی کیفیت میں عنایہ سے سوال کر رہا تھا۔ عنایہ کو سمجھ نہیں آیا کیا جواب دے۔ اس نے سر کو ہاں میں جنبش دی تو کیف نے اسکا فون زور سے فرش پر دے مارا تھا۔ عنایہ اپنی جگہ سے اچھلی تھی۔

” مطلب تمہاری کزن میری بہن کو اتنے سال دھوکے میں رکھتی رہی ہاں؟ ” وہ سب سمجھ گیا تھا۔

” نہیں کیف تم غلط سمجھ رہے ہو۔۔۔۔ ” عنایہ نے وضاحت دینی چاہی لیکن کیف نے اسے موقع ہی نا دیا۔

” جسٹ شٹ اپ ” وہ حلق کے بل چلایا تھا۔ کیف کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر وہ ایک پل کو سہمی تھی۔

” میں پانچ سال تمہارے پیچھے خوار ہوتا رہا اور وہ لڑکی ہمیں ںے وقوف بناتی رہی۔۔۔۔۔۔۔اور وہ فوجی اسے تو میں چھوڑوں گا نہیں”

” تم غلط سمجھ رہے ہو ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔نور اس بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی انفیکٹ حیدر کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا کیونکہ میں نے اسے منع کیا تھا کسی کو بھی بتانے سے ” وہ ایک دم جھنجھلا کر چلائی تھی۔

” اوہ ! میں تو بھول گیا تھا کہ تم تو مجھے سزا دینا چاہتی تھی ” کیف استہزایہ انداز میں بولا۔

” ہاں تو مجھے کیا پتا تھا کہ یہ نتاشہ کا پلان ہے” عنایہ نے چلا کر کہا تھا۔

” یہ کیسی محبت ہے جس پر یقین نہیں تھا تمھے ؟ عنایہ! محبت میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ” کیف نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کرب سے کہا تھا۔ وہ اس کے پاس سے ہٹ چکا تھا۔ اسوقت اسکا دماغ بالکل کام کرنا بند ہوچکا تھا۔

” اگر تم مجھے آدھی رات کو کال کرتے اور میرا فون حیدر اٹھاتا اور کوئی ایسی بات کہتا کیا تم میرا یقین کرتے ؟ ” اس کی سنسناتی آواز پر کیف نے اپنے دانت پر دانت جمائے تھے۔ وہ طیش میں آتا اس کی طرف آیا تھا اور اس کا بازو موڑتا اس کی پشت سے لگا چکا تھا۔

” میں نے پہلے بھی کہا تھا میرے سامنے کوئی بھی ایسی بکواس نا کرنا لیکن تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم نے ہمیشہ مجھے تکلیف دی ہے۔۔۔۔۔۔تمھے اپنا دکھ نظر آتا ہے تمہارے ساتھ کیا ہوا اس کا دکھ ہے لیکن میرا کیا ہاں ؟ پہلے تم نے مجھ پر اپنے اس کزن کو ترجیح دی پھر تم نے مجھے بد کردار کہا پھر تم نے مجھے خود سے دور کردیا۔۔۔۔۔۔۔جانتی ہو کتنی تکلیف سہی ہے میں نے ان پانچ سالوں میں۔۔۔۔۔۔۔محبت کرنے والوں کیلئے جدائی موت ہوتی ہے عنایہ اور تمہارے یوں جانے سے میں مر ہی تو گیا تھا” اس کے لہجے میں چھپا درد عنایہ کو تکلیف دے گیا تھا۔

” میرا مقصد بس اپنی بات کلیر کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے کیف اسے چھوڑتا دور ہوا۔

” ویٹ آ منٹ ” کچھ سوچتا ہوا وہ سرعت سے پلٹا تھا۔

” مجھے ایک بار ملا تھا تمہارا کزن منال کی یونیورسٹی کے باہر۔۔۔۔۔۔۔۔کہہ رہا تھا تمھے مجھ سے طلاق دلوائے گا۔۔۔۔کہیں تم نے ہی تو نہیں کہا تھا اسے ” کیف کی اس بات پر عنایہ کا سر چکرا کر رہ گیا تھا۔ وہ ایک منٹ میں کتنا بدگمان نظر آنے لگا تھا۔

” مجھے اس بارے میں کچھ نہیں پتا ” عنایہ نے بے بسی سے کہا تھا۔ کیف نے اسے بازوؤں سے تھام کر اپنے قریب کیا تھا۔

” تم سے ملنے آتا رہا ہے نا ؟ ” کیف کی آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے۔

” کیف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ہوگیا تمھے ؟ ” عنایہ کو اس کی انگلیاں اپنے بازوؤں میں دھنستی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔

” یہ بتاؤ شادی کیوں نہیں کرتا وہ ؟ اتنے سال گزر گئے ابھی تک تنہا کیوں ہے ؟ کیا کسی کا انتظار ہے اسے ؟ یا تمہارا انتظار ہے۔۔۔۔۔۔۔” کیف اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہہ رہا تھا۔

” تم پاگل ہوگئے ہو کیف ” عنایہ نے خود کو اس کی گرفت سے آزاد کروانا چاہا۔

” ہاں تم نے پاگل کردیا ہے مجھے ” کیف چلایا تھا۔

” میری بات تو سنو آرام سے ” عنایہ نے مزاحمت ترک کرکے اسے پھر سے سمجھانا چاہا۔

” گو ٹو ہیل ” وہ اسے جھٹکا دینے والے انداز میں چھوڑتا کمرے سے باہر نکل چکا تھا۔ اس کے جاتے ہی عنایہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔

***********************

عنایہ کو وہ دن یاد تھا جب حیدر ایک دن اچانک اس کے فلیٹ آیا تھا۔ نادیہ آنٹی اس سے ملتی انہیں چھوڑ کر روم میں نماز پڑھنے کیلئے چلی گئی تھیں۔ وہ لاونج میں رکھے صوفوں میں سے ایک صوفے پراجمان تھا۔ عنایہ اس کے سامنے والے صوفے پر بیٹھی تھی۔

” تم نے کیسے ڈھونڈا مجھے ؟ ” اتنی دیر میں یہ پہلی بات تھی جو اس نے پوچھی تھی۔ ورنہ وہ کب سے آنٹی سے ہی باتیں کررہا تھا۔

” میرے لیے تمھے ڈھونڈا مشکل تھا کیا ؟ ہاں تھوڑا لیٹ ہوگیا لیکن آرمی آفیسر ہوں اپنی صلاحیتوں پر پورا یقین تھا مجھے ” وہ ہلکے پھلکے سے لہجے میں بولا تاکہ عنایہ کمفرٹیبل رہے۔ عنایہ چپ ہی رہی۔

” کیوں کیا تم نے ایسا ؟ ” حیدر نے اب کی بار شکوہ کیا۔ عنایہ کی آنکھوں میں نمی چمکی تھی۔

” مجھے ماموں کا پتہ چلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے بہت افسوس ہے ” حیدر کو دیکھتے ہی اسکا جیسا یہ غم پھر سے تازہ ہوا تھا۔

” بس اللہ کا جو منظور ” حیدر بھی رنجیدہ نظر آنے لگا۔

” تمھے بابا کا پتا چلا تو تم واپس کیوں نہیں آئی ؟ “

” کیسے آتی اور کس حق سے آتی؟ اور پھر میری وجہ سے۔۔۔۔۔۔۔۔تم نے اور نور نے اپنے بابا کو کھو دیا۔۔۔۔۔” آنکھوں سے آنسوں بہاتی وہ ہچکی لیتی بولی تھی۔

” پاگل ہو تم کوئی کسی کی وجہ سے نہیں مرتا ” وہ چپ چاپ آنسو بہاتی رہی تھی۔

” چلو میں تمھے لینے آیا ہوں ” حیدر نے ماحول میں چھائی سوگواریت ختم کرنے کی غرض سے بات بدلی۔

” نہیں! حیدر میں واپس نہیں جانا جاتی اور پلیز تم مجھے فورس نہیں کرو گے “

” لیکن کیوں ؟ اگر امی کی وجہ سے تم یہ کررہی تو عنایہ امی کو اپنی غلطی کا احساس ہے وہ تم سے معافی مانگنا چاہتی ہیں “

“حیدر ایسا نہیں ہے۔ ممانی وجہ نہیں ہیں میرے دل میں ان کیلئے کوئی میل نہیں میں بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

” تو پھر کیا وجہ ہے ؟ وہ لڑکا۔۔۔۔۔۔۔تم فکر نہیں کرو میں اس سے نبٹ لوں گا ” کیف کے ذکر پر عنایہ نے اپنا دوپٹہ مٹھی میں دبا لیا تھا۔

” نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ میں نہیں جانتی لیکن میں واپس نہیں جانا چاہتی اور تمھے ہماری دوستی کی قسم کے حیدر تم مجھ سے دوبارہ واپس جانے کا نہیں کہو گے ” اس کی بات پر حیدر خاموش رہا لیکن وہ غیر آرام دہ تھا۔ وہ اسے ہر حال میں اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا لیکن وہ اسوقت کچھ سننے کو تیار نا تھی۔

” ٹھیک ہے لیکن تم وعدہ کرو یہاں سے کہیں نہیں جاؤ گی اور جب بھی میری ضرورت پڑے گی تو مجھے بتاؤ گی ” عنایہ نے سر ہاں میں ہلایا۔ وہ حیدر کو انکار نہیں کرسکتی تھی۔

” اوکے میں چلتا ہوں” وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

” حیدر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” عنایہ چلتے ہوئے اس کے قریب آئی تھی۔

” ہم ملے ہیں اور تم جانتے ہو میں کہاں ہوں اس بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتانا۔۔۔۔۔۔۔نور کو بھی نہیں ” حیدر کو سمجھ نہیں آیا وہ ایسا کیوں کررہی ہے لیکن وہ اس کی ماننے پر مجبور تھا۔

اس کے بعد کبھی کبھی وہ کال پر اسکا حال احوال پوچھ لیا کرتا تھا اور اس کیلئے ہمیشہ وہ ہی اسے کال کرتا تھا عنایہ نے کبھی اسے خود سے کال نہیں کی تھی لیکن پھر ایک رات اچانک عنایہ نے خود اسے کی کال تھی جس پر وہ حیران تو ہوا لیکن اس سے زیادہ پریشان اور پھر اسے معلوم ہوا اس کی آنٹی کا انتقال ہوگیا۔ وہ اسے بلا رہی تھی کیونکہ وہ اکیلی تھی اور اسے حیدر کا سہارا چاہیے تھا اور حیدر کا دل اسی ایک بات پر خوش ہوگیا کہ اس نے مشکل میں اسے پکارا تھا۔

**********************

عنایہ کے موبائل کی سکرین تو ساری ڈیمج ہوچکی تھی لیکن وہ آن ہوگیا تھا اس نے حیدر کو کل بیک کی۔ یقیناً یوں فون بند ہونے پر وہ پریشان ہو گیا ہوگا۔ دوسری طرف حیدر نے کال اٹھائی تو وہ سچ میں پریشان تھا۔ عنایہ نے بہانہ بنا کر اسے تسلی دی۔

” تم کہاں ہو ؟ مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے” ناجانے کیوں عنایہ کو لگا حیدر وہ ہی بات کرنے لگا جس کی وجہ سے ابھی تھوڑی دیر پہلے کیف اور اس کے بیچ اتنا بڑا جھگڑا ہوا تھا۔

” حیدر میں کیف کے گھر پر ہوں ” اس سے پہلے وہ کچھ کہتا عنایہ نے اپنی آنکھیں بند کرتی بول اٹھی۔ عنایہ نے سوچا اب نہیں تو کبھی نہیں۔ اس کی بات پر تو حیدر بول نا سکا۔

” مجھے معاف کردو۔۔۔۔۔۔۔میری وجہ سے تم سب نے کتنا سفر کیا ہے ” وہ بھیگی آواز میں کہہ رہی تھی۔

” میں اور کیف۔۔۔۔۔۔۔۔” حیدر نے اس کی بات کاٹ دی۔

” جانتا ہوں سب۔۔۔۔۔۔۔ایک بار تمہارے منہ سے سننا چاہتا تھا ” اس کی آنکھوں میں نمی چمکی تھی۔ لیکن وہ پھر بھی مسکرا دیا۔ وہ بس اس کی اچھی دوست تھی صرف دوست۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دل میں تکلیف اور لبوں پر درد بھری مسکان سجائے حیدر نے خود کو کمپوز کیا۔

” تم گھر کب آؤ گی؟ امی اور نور تمھے بہت یاد کرتے ہیں ” عنایہ کی پلکوں سے آنسو ٹوٹ کر بہہ نکلے۔

” آؤں گی بہت جلد ” اس کے کہتے ہی حیدر نے فون بند کردیا۔

************************

اگلے دن صبح کیف اپنی کسی میٹنگ کے سلسلے میں کراچی جاچکا تھا۔ عنایہ کو اس کے جانے کے بعد خبر ملی تھی۔ وہ اس سے بات کرنا چاہتی تھی لیکن کیف تو اسے موقع ہی نہیں دے رہا تھا۔ کتنی کالز کتنے میسیجز کیے تھے لیکن وہ رپلائی ہی نہیں کررہا تھا بلکہ عنایہ کا نمبر بھی بلاک کردیا تھا۔ عنایہ نے رو رو کر خود کو ہلکان کرلیا تھا۔ کیف کے بے عتنائی کی کہاں عادت تھی اسے۔ کیا غلطی صرف اس کی تھی جو وہ ایسا سلوک کررہا تھا۔ ہاں وہ مانتی تھی کہ اس کی غلطی زیادہ تھی اسے کیف کی بات سننی چاہیے تھی اس کا اعتبار کرنا چاہیے تھا لیکن وہ بھی تو غلط تھا۔ جب دونوں نے اپنے حصّے کی سزا کاٹ لی ہے تو وہ اب کیوں ایسے کررہا تھا۔ تین دن بعد وہ واپس آیا تو عنایہ کے دل کو جیسے سکون آیا تھا۔

**********************

سب گھر والے رات کا کھانا تناور کررہے تھے جب مرتضیٰ صاحب نے کیف کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔

” میں نے اور تمہاری ماں نے فیصلہ کیا ہے کہ تمہاری اور عنایہ کی شادی کردی جائے” ان کی بات سب مسکرائے تھے سوائے کیف کے۔

” اس کی کیا ضرورت پڑ گئی ؟ ” کیف نے پوچھا۔

” کیا مطلب ضرورت نہیں؟ بھئی دنیا والوں کو تو نہیں پتہ نا کہ میرے صاحب بہادر نے چھپ چھپا کر نکاح کیا ہوا ہے اور اب رخصتی بھی کروالی ” ان کی بات کیف کو تو اچھو لگا تھا جبکہ رابعہ بیگم نے دو انگلیاں منہ پر رکھ کر اپنی ہنسی چھپائی، عنایہ کا تو چہرہ شرم سے لال ہوا تھا جسے وہ جھکا گئی۔ منال نے اپنی بتیسی کی نمائش کی تھی۔ اپنے بابا کے ہاتھوں بھائی کی درگت اسے ہمیشہ ہی بہت پسند تھی۔

” اس لیے بیٹا دنیا کی خاطر بھی کچھ رسمیں نبھانی پڑتی ہیں” کہتے ہوئے انھوں نے کباب اٹھا کر اپنی پلیٹ میں رکھا تھا۔

” تم عنایہ کو اس کے گھر چھوڑ آؤ اس کے بعد ہم باقاعدہ اس کے گھر رشتہ لے جائیں گے ” اب کی بار رابعہ بیگم نے گفتگو میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔ گھر والی بات پر کیف نے احتجاج کرنا چاہا لیکن اپنے بابا کے سامنے تو اب وہ یہ ہرگز نہیں کرسکتا تھا۔

*************************

کھانے کے بعد کافی کا دور چلا تھا سب نے ساتھ کافی پی تھی لیکن کیف کھانا کھاتے ہی غائب ہوا تھا۔ کافی کے بعد عنایہ روم میں آگئی تھی۔ فریش ہونے کے بعد یہاں وہاں ٹہلتی کیف کا انتظار کرنے لگی تھی اور تبھی کیف کمرے میں داخل ہوا تھا۔ ایک نظر اس پر ڈالتا وہ واشروم میں چلا گیا۔ عنایہ ناخن چبانے لگی تھی۔ عنایہ کا فون بجنے لگا تو اس نے سائیڈ ٹیبل سے اپنا فون اٹھایا تو حیدر کی ہی کال تھی۔ عنایہ کا رنگ اڑا۔

” افف حیدر کیوں کال کررہے ہو پلیز آج نہیں” وہ فون دیکھتی بڑبڑائی۔ اس نے فون پاور آف کرنے کا سوچا ہی تھا لیکن پیچھے سے آتی آواز پر وہ دم سادھ گئی۔

” اٹھا لو۔۔۔۔۔۔۔۔میں بھی تو سنو کیا بات کرنی ہے اسے ” کیف کی آواز پر عنایہ نے سر نا میں ہلایا تو کیف نے اسے جیسے دیکھا تھا ناچار عنایہ کو کال ریسیو کرنے ہی پڑی۔ دل ہی دل میں وہ دعا کرنے لگی کہ حیدر کوئی ایسی ویسی بات نا کرے جس سے کیف غصہ ہو۔

” کوئی کام تھا ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” سلام دعا کے بعد عنایہ نے کال کرنے کی وجہ دریافت کی۔ فون سپیکر پر لگا تھا جس سے کیف بھی سن سکتا تھا۔

” سوری عنایہ! تمھے اس وقت ڈسٹرب کررہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔وہ اصل میں امی نے مجھے شام میں کہا تھا کہ تمھے کال کردوں لیکن میں مصروف تھا اسی لیے ابھی کررہا ہوں “

” کوئی بات نہیں” عنایہ نے بات جاری رکھنے کا کہا۔

” وہ دراصل میری۔۔۔۔۔۔۔۔میری بات پکی ہوگئی ہے اور کل امی۔۔۔۔۔۔۔۔حورین کے گھر شادی کی ڈیٹ فکس کرنے جارہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو وہ چاہتی ہیں تم ان کے ساتھ ضرور چلو ” وہ رک رک کر بولا تھا۔

” تم شادی کررہے ہو ؟ ” عنایہ تو یہ جان کر کِھل اٹھی تھی۔ کیف اس کے ہاتھ سے فون پکڑتا اپنے کان سے لگا گیا۔

” ارے سالے صاحب یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے ؟ عنایہ کے بھائی کی شادی ہے وہ ضرور آئے گی ” کیف نے تو جیسے اپنے سارے بدلے اتارے تھے۔ عنایہ تو منہ کھولے اس کی سن رہی تھی۔

” تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” حیدر کا تو حلق تک کڑوا ہوگیا تھا۔

” ہاں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کا بہنوئی ” کیف نے مزے سے جواب دیا۔ حیدر نے مشکل سے اس بدتمیز شخص کی بات برداشت کی تھی۔

” عنایہ کو فون دو ” حیدر نے رعب سے کہا۔

” سالے صاحب آپ کی بہن ابھی اپنے شوہر کے ساتھ مصروف ہے تھوڑا تو خیال کریں شادی شدہ کپل کو اسوقت ڈسٹرب نہیں کرتے ” اس کی اتنی بے باکی پر حیدر کا دل چاہا فون میں سے ہی دو مکے اس کے منہ پر دے مارے۔ جبکہ عنایہ دونوں ہاتھ لبوں پر رکھے شاک میں کھڑی تھی۔ حیدر نے کال کاٹنے میں ہی بہتری سمجھی تھی۔ اگر وہ بے وقوف تھا تو حیدر تو سمجھدار تھا نا۔ اسے احساس تھا ان رشتوں کی نوعیت کا۔ بے شک کیف اسے ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا لیکن اب اسے عنایہ کے شوہر کی حیثیت سے اسے قبول کرنا ہی تھا۔ پھر چاہے کتنی ہی اس فضول شخص کی باتیں برداشت کرنی پڑیں۔ وہ سر جھٹکتا سونے کیلئے لیٹ گیا۔

***********************

کیف مسکراتا فون بیڈ پر اچھال چکا تھا۔ اب جا کہ کہیں دل کو ٹھنڈک پہنچی تھی۔

” یہ سب کیا تھا ؟ ” عنایہ ابھی بھی صدمے میں کھڑی تھی۔

” کیا کیا تھا؟ ” کیف شانے اچکاتا الٹا سوال کررہا تھا۔

” کیف تمھے اندازہ نہیں کب کس سے اور کیا بات کرنی ہے ؟ “

” چھوٹا بچا نہیں ہے وہ اور ویسے بھی بہت حساب نکلتے تھے اس سے ” کیف آنکھیں گھماتا بڑبڑایا۔

” اور تم۔۔۔۔۔ ” کیف اس کی کمر پر ہاتھ ڈالتا اپنے قریب کھینچا۔

” تم سے بھی بہت حساب نکلتے ہیں “

” میں نے کیا کیا ؟ ” عنایہ معصوم بنی پوچھ رہی تھی۔

” ابھی بھی پوچھ رہی ہو کیا کیا ؟ ” کیف نے بھونیں اچکائی ۔

” اتنا تو رلایا ہے تم نے۔۔۔۔۔۔اب کیا جان لو گے میری ؟ عنایہ نے روٹھے سے انداز میں کہا۔

” جان تو لوں گا ” کیف نے اپنی شہادت کی انگلی اس کے لبوں پر پھیری تھی۔ اس کی آنکھیں خماری میں ڈوبی تو عنایہ کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔

” اور سنو تم اس گھر نہیں جاؤ گی جہاں سے تمھے نکلا گیا تھا “

” اونہوں ایسے نہیں ہوتا کیف۔۔۔۔۔۔وہ بڑے ہیں وہ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں انہیں حق ہے۔ ممانی میری ماں جیسی ہیں۔ میں ان سے منہ نہیں پھیر سکتی اور وہ اتنی چاہ سے مجھے بلا رہی ہیں۔ اس لیے تم مجھے جانے سے نہیں روکو گے ” وہ اس کے کالر پر ہاتھ رکھتی پیار سے سمجھا رہی تھی۔

” لیکن مام جو کہہ رہی ہیں کہ تمھے چھوڑ آؤں اس کا کیا ؟ اس لیے میں صبح انہیں انکار کردوں گا کہ شادی کو چھوڑ کر ہمارے ہنی مون کا سوچیں ” وہ کسی صورت اسے وہاں رکنے کی غرض سے نہیں جانے دینا چاہتا تھا۔

” کیف کچھ ہی دنوں کی تو بات ہے اور پھر مجھے بھی دلہن بننے کا شوق ہے میرے بھی ارمان ہیں کہ میری شادی ہو ” عنایہ نے منہ پھلا کر کہا تھا۔

” اچھا ؟ سوچ لو دلہن بنو گی تو تمھے ہی مشکل آئے گی ” کیف نے معنی خیز سا کہا تھا جسے سمجھ کر عنایہ نے اسے گھورا تو کیف قہقہ لگا اٹھا۔

************************

مہرون اور گولڈن امتزاج کا کامدار لہنگا بیڈ ہر پھیلائے وہ دلہن بنی بیٹھی تھی۔ پورا کمرہ گلاب کے پھولوں سے سجا تھا۔ کیا یہ سب سچ تھا یا صرف اس کا خواب؟ کیا وہ واقعی میں اس کی ہوچکی تھی جو اس کے دل پر دستک دینے والا وہ پہلا شخص تھا۔ یہ احساس کتنا خوبصورت تھا کہ جسے آپ چاہیں وہ آپ کو مل جائے۔ انہی سوچوں میں وہ کھوئی ہوئی تھی جب کوئی دروازہ کھول کر اندا آیا تھا۔ حورین ہوش میں آئی تو نگاہیں اٹھا کر سامنے کھڑے شخص کو دیکھا۔ بلیک شیروانی میں ملبوس وہ حیدر تھا۔ حیدر نے ایک گہری سانس لی تھی پھر قدم اٹھاتا بیڈ تک آیا۔ حورین کی دل کی دھڑکن بڑھی تھی۔ حیدر نے اس کے پاس جگہ سنبھالی۔ پھر گلا کنکھار کر اسے اپنی جانب متوجہ کیا جو اب آنکھیں جھکائے بیٹھی تھی۔

” حور اس نئے رشتے کو شروع کرنے سے پہلے میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں ” حیدر نے بنا لگی لپٹی بات کا آغاز کیا۔ حورین نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔ دونوں کی نظریں ملی تو حیدر ایک پل کو چونک گیا۔ وہ کتنی خوبصورت لگ رہی تھی۔ وہ جو اس کی بولنے کی منتظر تھی اسے خود کو یوں تکتا پا کر گھبراتی اپنی پلکیں جھکا گئی۔ حیدر نے مسکرا کر سر جھٹکا تھا۔ وہ اس کی بیوی تھی اس کے نکاح میں تھی اسی لیے اسے اچھی لگ رہی تھی۔

” ہاں تو میں کہاں تھا ؟ ” حیدر نے پوچھا۔

” آپ نے ابھی کچھ کہا ہی نہیں سوائے اس کے آپ نے کوئی بات کرنی ہے ” حورین کی بات پر اس نے اپنا کان کھجایا۔

” سوری ! میرا دھیان کہیں اور تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچھا تو۔۔۔۔۔۔دیکھو حور میں تم سے سچ کہنا چاہتا ہوں تاکہ تم مجھ سے زیادہ امیدیں نا باندھ لو۔۔۔۔۔۔میں کسی اور سے محبت کرتا تھا لیکن وہ میری قسمت میں نہیں تھی۔ وہ کہتے ہیں نا جوڑیاں آسمانوں پر بنتی ہیں کچھ ایسا ہی ہے۔ لیکن میں ہمارا رشتہ پوری خوش اسلوبی سے نبھانا چاہتا ہوں لیکن مجھے وقت لگے گا اس لیے چاہتا تھا تم مجھ سے اتنی جلدی کوئی توقع مت رکھنا۔ ” وہ بولنے پر آیا تو ایک سانس میں سب کہہ گیا۔ حورین بے یقینی سے اپنے شوہر کو دیکھ رہی تھی جو اسے شادی کی رات کہہ رہا تھا کہ اسے کسی اور سے محبت ہے۔

” آئی ایم سوری مجھے یہ باتیں تمھے شاید شادی سے پہلے بتانی چاہیے تھیں لیکن مجھے ڈر تھا کہیں تم سمجھو گی نہیں اور انکار کردو گی “

” آپ کو کیا فرق پڑنا تھا میرے انکار سے ؟ ” وہ بے ساختہ بول اٹھی۔ اس کا تو دل ہی ٹوٹ گیا تھا۔

” فرق پڑتا تھا کیونکہ یہ میری امی کی خواہش تھی اور میں ہر حال میں ان کی خواہش پوری کرنا چاہتا تھا “

” چاہے آپ کی خواہش کے چکر میں کسی دوسرے کی زندگی خراب ہو ” ایک پل کو حیدر چپ ہوا۔ اسے امید نہیں تھی کہ وہ یوں اس سے جرح کرے گی۔

” میرا مطلب یہ نہیں تھا ” حیدر کو لگا وہ شاید غلط بول گیا ہے۔

” میں آپ کا مطلب سمجھ چکی ہوں” حورین نے سرد لہجے میں جواب دیا۔

” حور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” حیدر نے اسکا نام پکارتے اس کی گود میں رکھا اس کا ہاتھ تھاما تھا۔

” مجھے وقت چاہیے تاکہ میں تم سے محبت کرسکوں۔۔۔۔۔میں بالکل بھی ان مردوں میں سے نہیں ہوں جو اپنی سابقہ محبت کو شادی اور بچوں کے ہونے کے باوجود دل سے لگائے بیٹھے رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔میں چاہتا ہوں میرے دل میں صرف تمہاری محبت ہو اور اس کے لیے مجھے تھوڑا سا وقت اور تمہارا ساتھ چاہے ” وہ اتنے پیار سے سب کہہ رہا تھا کہ حورین اس کی ایک ایک بات پر ایمان لائی تھی۔ وہ سب سچ کہہ رہا تھا یعنی اس کیلئے یہ رشتہ اہم تھا ورنہ وہ یہ بات چھپا بھی سکتا تھا۔ وہ بنا پلکیں جھپکائے اسے دیکھے گئی۔

” بولو دو گی نا میرا ساتھ ؟ ” حیدر نے اس کا ہاتھ دبا کر پوچھا تو وہ ہوش میں آتی سر ہاں میں ہلا گئی۔ حیدر مسکرایا تو وہ بھی دھیمے سے مسکرا دی۔

************************

چھ سال بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عنایہ ایک ہاتھ میں فون کان سے لگائے بات کررہی تھی اور دوسرے ہاتھ سے بچوں کے کپڑے وارڑروب میں دیکھ رہی تھی۔

” مجھے تو ٹینشن لگی ہے میرے بچے بھی انگریز نا بن جائیں” دوسری طرف فون پر موجود زینب نے فکرمندی سے کہا۔

” او ہو زینب کیوں پریشان ہوتی ہو۔۔۔۔۔کیف نے بات کی ہے نا عمر سے۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے تم بھی عمر کو سمجھانا اس میں برائی کیا ہے کیف اس کا دوست ہے بھائی ہے۔ اگر وہ ان کی پنڈی والی کمپنی سمبھال لے گا تو کیا ہرج ہے ؟ کیف کو بھی مدد چاہیے تھی اور عمر کا کام والا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور تمہاری پاکستان رہنے کی خواہش بھی پوری ” کپڑے بیڈ پر رکھتے اس نے کہا۔ عمر اور زینب کے دو بیٹے تھے۔ بڑا بیٹا معاز چھوٹا بیٹا معویز ۔ عمر کی جاب کی وجہ سے زینب ان چھ سالوں میں بامشکل چار بار ہی پاکستان آئی تھی۔ اور اب وہ چاہتی تھی کہ وہ لوگ پاکستان شفٹ ہو جائیں۔

” ہاں میں بھی سمجھاؤں گی اسے۔۔۔۔۔۔۔اور بتاؤ کیا چل رہا آج کل ؟ ” زینب نے پوچھا۔

” کچھ بھی نہیں یار بس بچوں کیساتھ خود کو مصروف رکھتی ہوں۔۔۔۔۔۔انکل آنٹی لاہور گئے ہوئے ہیں منال کے دیور کی شادی تھی میں اور کیف بچوں کے سکول کی وجہ سے نہیں جاسکے ” بچوں کے کمرے سے نکلتی وہ سیڑھیاں اترتی نیچے آئی تھی۔ اور باہر سے آتی آوازوں پر وہ مسکرائی۔

” اچھا زینب بچے سکول سے آگئے ہیں میں تم سے پھر بات کرتی ہوں ” دوسری طرف زینب کی بات سن کر وہ ہنستے ہوئے فون بند کرتی کچن میں آگئی تھی۔

” نورین(ملازمہ) ! بچے آگئے ہیں ملک شیک میں آئس ڈال کر لے آؤ باہر ” وہ اسے ہدایت دیتی باہر آئی تو سامنے سے بھاگتی ہوئی اس کی بیٹی سیدھا اس کی ٹانگوں سے آ لپٹی تھی۔

” ارے میرا بچہ” عنایہ نے نیچے بیٹھتے اس کے دونوں گالوں کو چوما تھا۔ گوری رنگت پھولے پھولے گلابی گال سکول یونیفارم میں بالوں کی پونی بنائے وہ چار سالہ ماہم تھی جو بالکل اپنی پھوپھو منال جیسی دیکھتی تھی۔ وہ آتے ہی اپنی ماما سے اپنے بھائی کا آج سکول میں ہونے والا نیا کارنامہ بتانے لگی کہ کیسے اس کے بھائی نے ایک بلی کو پکڑا اور کلاس روم میں لے گیا تھا۔

” اچھا کہاں ہے ابی میں ابھی ٹھیک کرتی ہوں اسے ” عنایہ کھڑے ہوتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لیے ڈائننگ تک گئی اور اسے چئیر پر بٹھایا۔ ملازمہ ٹرے میں شیک کا جگ اور گلاس رکھے باہر آئی تو لاؤنچ میں ایک آواز گونجی تھی جو اس کے صاحب زادے کی تھی۔ وہ اونچی آواز میں سلام کرتا اندر داخل ہوا۔ یہ اس کی پختہ عادت تھی جو اس کے دادا اور دادی نے بچپن سے اسے سکھائی تھی۔ وہ چھ سالہ ابرہیم تھا جو اپنے باپ کی کاربن کاپی تھا۔ عنایہ نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا وہ چلتا ہوا عنایہ کے قریب آیا تو عنایہ نے جھک کر اپنا گال آگے کیا جس پر وہ کس کرتا بھاگ گیا۔

” ابی واپس آؤ اور شیک پیو ” عنایہ نے اسے اوپر جاتے دیکھا تو آواز دے کر واپس بلایا تھا۔

” نو ممی بعد میں ” کہتا ہوا وہ سیڑھیاں چڑھتا اپنے روم کی طرف بھاگ گیا۔

**********************

عنایہ نے ماہم کو یونیفارم چینج کروایا اور اب وہ اس کی پونی کھولتی اس کے بال برش کررہی تھی جب ابراہیم بھی کپڑے بدلتا عنایہ اور کیف کے روم میں آیا۔ اپنے جوتے اتارتا وہ بیڈ پر چڑھا اور سائیڈ ٹیبل کے ڈرا سے آئی پیڈ نکال کر وہیں دراز گیمز کھیلنے لگا۔

” ابی اس کے ساتھ بعد میں لگنا پہلے چل کر کھانا کھاؤ آپ نے شیک بھی نہیں پیا آج ” عنایہ نے ماہم کے بالوں پر پنز لگاتے ہوئے کہا تھا۔

” ہم کھانا کھا کر آئیں ہیں ” ابی نے مصروف سا بتایا۔

” کہاں سے کھا کر آئے ہو ؟ ” عنایہ نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا تھا۔

” ڈیڈی ہمیں میکڈونلڈ لے گئے تھے ” یہ آواز ماہم کی تھی۔

” تم لوگ ڈیڈی کیساتھ آئے ہو ؟ ” عنایہ نے اگلا سوال پوچھا تھا کیونکہ بچوں کو رحیم(ڈرائیور) ہی سکول سے پک اینڈ ڈراپ کرتا تھا۔

” جی ” ابی نے کہا تو عنایہ حیران ہوئی تھی کہ کیف گھر آیا تھا اور باہر سے ہی چلا گیا۔ ماہم کے بال بن چکے تھے اور اب وہ بھی ابی کیساتھ جا کر لیٹ گئی اور اپنے بھائی کو گیم کھیلتا ہوئے دیکھنے لگی تھی۔ جبکہ عنایہ نے کیف کو کال کرکے فون کان سے لگایا دوسری طرف بیل جارہی تھی۔

” آپ بچوں کو آج خود سکول سے لینے گئے تھے خیرت تھی ؟ رحیم کہاں گیا ؟ ” کیف کے کال ریسیو کرتے ہی وہ پوچھنے لگی۔

” ہاں وہ رحیم کی بیوی بیمار تھی اسے ڈاکٹر پر لے جانا تھا اس نے۔۔۔۔۔۔۔اسی لیے میں خود لینے چلا گیا ” کیف مصروف سا بولا۔

” گھر آئے تھے تو کھانے کیلئے رک جاتے “

میٹنگ تھی یار اور کھانا کلائنٹ کیساتھ ہی تھا ” کیف نے نا رکنے کی وجہ بتائی۔

” ہمممم ٹھیک “

” اور کچھ ؟ ” دوسری طرف کیف نے پوچھا۔ تو عنایہ نے نہیں کہہ کر کال بند کردی۔ عنایہ کیف کو اب آپ کہہ کر ہی مخاطب کرتی تھی وہ بھی صرف گھر والوں اور بچوں کے سامنے ورنہ اکیلے میں وہ کیف کو تم ہی کہتی تھی جس پر کیف شروع شروع میں اس کا بہت مذاق اڑاتا رہا تھا۔ دونوں میں اب بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے ہوتے تھے لیکن جتنی شدت سے لڑتے تھے پھر اتنی ہی شدت سے ایک دوسرے کے قریب آتے تھے۔

” ممی کل سنڈے ہے ہم سب نانو گھر جائیں گے نا ؟ ” ماہم بھائی کی گیم سے بور ہوتی اٹھ بیٹھی تھی۔

” مینو تم نے جانا ہے تو جاؤ ہم سب کیوں جائیں ؟ ” عنایہ سے پہلے ہی ابراہیم منہ بنا کر بولا تھا۔ اسے وہاں جانا بالکل پسند نہیں تھا۔ منال کو خاصا پیار تھا ماہم سے اسی لیے وہ اسے مینو کہتی تھی اور اپنی پھوپھو کی دیکھا دیکھی ابراہیم بھی اسے مینو کہتا تھا جبکہ ابی عنایہ کہہ کر پکارتی تھی ابراہیم کو۔۔۔۔۔۔ اور پھر سب ہی اسے ابی پکارنے لگے۔

” کیوں آپ کو وہاں جاتے ہوئے کیا ہے ؟ ” عنایہ نے ابراہیم سے پوچھا۔

” ممی وہاں آلریڈی دو لڑکیاں ہیں اور مینو بھی ہوگی تو تین ہو جائیں گی اور میں ان لڑکیوں میں اکیلا کیا کروں گا؟ اس سے بہتر ہے میں اپنے گھر میں رہ کر پلے اسٹیشن سے کھیلوں ” اس کی وجہ پر عنایہ ہنس دی تھی۔ بات تو صحیح تھی۔ اس کے ہم عمر لڑکا کوئی نہیں تھا خاندان میں۔ حیدر اور حورین کی دو بیٹیاں تھیں ایشل اور ایمان جبکہ نور کا ایک بیٹا تھا جو ابراہیم سے دو سال چھوٹا تھا۔ منال کی بھی ابھی ایک ہی بیٹی تھی۔

” میں نے تو کہا ہے ابی کو وہ بھی میری طرح ایمان اور ایشل کو فرینڈ بنا لے ” وہ چھوٹے سے ہاتھوں پر چہرہ رکھتے ہوئے بولی۔

” نو وے میں لڑکیوں کو دوست نہیں بناتا ” ابراہیم آئی پیڈ چھوڑتا اٹھ بیٹھا۔ عنایہ تو اس کے بگڑے تاثرات سے حفط اٹھا رہی تھی جو اس بات پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کررہا تھا۔

” یہ بری بات نہیں ہوتی۔۔۔۔ڈیڈی کی بھی لڑکی دوست ہے نا ” ماہم معصوم سے لہجے میں اسے قائل کرنا چاہا۔ جبکہ عنایہ تو ڈیڈی کی لڑکی دوست پر ماہم کو دیکھے گئی۔

” ڈیڈی کی کونسی دوست ؟ ” اس نے آرام سے پوچھا تھا۔ اپنی ممی کے اس اچانک سوال پر ماہم کو سمجھ نہیں آیا کیا جواب دے۔

” وہ ہم میکڈونلڈ گئے تھے وہاں آئی تھی ڈیڈی کی فرینڈ ممی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور مینو ڈیڈی بڑے ہیں جب میں بڑا ہوں گا تو میری بھی دوست ہوگی نا ” ابراہیم نے اپنی منطق کے مطابق جواب دیا۔ جبکہ عنایہ دانت پستی رہ گئی تھی۔ وہ مزید پوچھنا چاہتی تھی کہ کون تھی کیسی تھی لیکن اپنے بچوں کے سامنے ایسی باتیں پوچھ کر وہ ان کے ذہن کسی بھی حوالے سے خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔

************************

کیف رات دیر گئے لوٹا تھا۔ آفس میں آجکل کام کا لوڈ کچھ زیادہ تھا۔ پھر اسے اسلامآباد اور پنڈی دونوں کمپنیاں دیکھنی ہوتی تھیں۔ آفس سے تو وہ سات بجے نکلا تھا لیکن پھر ایک دو دوستوں نے آج باہر بار بی کیو کا پلان رکھا ہوا تھا تو کیف وہاں چلا گیا لیکن وہ عنایہ کو کال کرکے بتا چکا تھا۔ وہ کمرے میں ابھی داخل ہی ہوا تھا جب سامنے ہی جامنی رنگ کے لان کے سوٹ میں کھلے بالوں میں اسے یہاں سے وہاں ٹہلتی اپنی بیوی نظر آئی۔ آج بھی اتنی پیاری تھی بس اب پہلے کی طرح دبلی پتلی نہیں تھی۔ وہ ہی من موہنی سی صورت جسے کیف مرتضیٰ نے اپنا دیوانہ بنایا تھا۔ عنایہ کی نظر اس کے مسکاتے چہرے پر پڑی تو جھک کر بیڈ سے کشن اٹھاتی اسی سے اس کا استقبال کیا۔ کیف اس افتاد کیلئے تیار نہیں تھا تبھی کشن اس کے منہ پر لگتا زمین بوس ہوا تھا۔ وہ ہوش میں آیا تھا تو اس کے بعد ایک اور کشن اس کی طرف آیا تھا جو وہ بروقت کیچ کر چکا تھا۔

” کیا ہوا ہے ؟ ” اس نے وہیں کھڑے پوچھا تھا۔ عنایہ چلتی وہیں دروازے تک آئی تھی۔

” کس چڑیل سے ملوانے میرے بچوں کو لے کر گئے تھے ہاں ؟ ” دونوں ہاتھ کمر پر دھرے وہ اسے گھورتے ہوئے چلائی تھی۔

” ہیں۔۔۔۔۔کون ؟ ” کیف نے ناسمجھی سے پوچھا۔

” تمھے کیا لگتا ہے تم مجھ سے چھپاؤ گے تو مجھے پتا نہیں چلے گا ؟ کون تھی وہ جسے آج میکڈونلڈ میں بچوں کو ملوایا ہے “

” اچھا وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارے یار وہ تو اچانک سے آگئی تھی۔ میں تو بچے ضد کررہے تھے اسی لیے چلا گیا اور وہ اتفاق سے وہاں آگئی اور ہیلو ہائے ہوئی اور کافی پی اور پھر چلی گئی ” کیف نے وضاحت دی۔ جبکہ کافی کا سن کر عنایہ کی تیوری چڑھی تھی۔

” یار میں تھکا ہوا ہوں ہٹو سامنے سے ” کیف نے اندر آنا چاہا لیکن عنایہ اس کے منہ پر دروازہ بند کر چکی تھی۔

” عنایہ یہ کیا حرکت ہے؟ ” کیف دروازے پر دستک دیتا چلایا تھا۔

” وہ ہی حرکت جو تم نے کی ہے ” وہ اندر سے اونچی آواز میں بولی تو کیف نے اپنے دانت پسے تھے۔ وہ وہیں گرل کیساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔ جب دروازہ کھلا اور تکیہ اور کمفرٹر باہر گرے۔ کیف دروازے کی طرف لپکا تھا وہ ایک بار بند ہوچکا تھا۔ کیف نے اپنے قدموں میں پڑے تکیے اور کمفرٹر کو دیکھا جس کا مطلب صاف تھا اپنا بوریا بسترا اٹھاؤ اور کہیں اور جاؤ۔

**************************

کیف ماہم اور ابراہیم کے درمیان اوندھے منہ سو رہا تھا جب ابراہیم کے نیند میں بڑبڑانے پر وہ جاگ گیا۔ اس نے بند کھلتی آنکھوں سے ابی کو دیکھا جو مزے سے سو رہا تھا۔ کیف نے اس کے گال کو چوما۔ اور گھڑی پر وقت دیکھا جو صبح کے پانچ بجا رہی تھی۔ کیف انگڑائی لیتا دونوں کے بیچ سے اٹھا اور ان پر کمبل ٹھیک کرتا وہ ماہم کی طرف آیا تھا جو اپنے چہرے پر دنیا جہاں کی معصومیت سجائے پرسکون سو رہی تھی۔ کیف کو اس پر بے اختیار پیار آیا تھا۔

” ڈیڈی کی پرنسس ” جھک کر اس کے گال چومتا وہ کمرے سے نکل گیا۔ اس کے اور عنایہ کے ساتھ والا کمرہ ان دونوں کا تھا جو پہلے منال کا ہوا کرتا تھا۔ اپنا روم چیک کیا جو ابھی بھی لاک تھا۔ منہ میں بڑبڑاتا وہ نیچے آیا تھا اور رابعہ بیگم کے کمرے سے چابیاں لیتا وہ واپس اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا۔ گھر کے سارے رومز کی چابیاں اس کی مام کے روم کی وارڈروب میں تھیں۔ چابی لگاتا اس نے دھیرے سے دروازہ کھولا اور سیدھا ڈریسنگ روم میں کپڑے بدلنے گیا۔ پھر باہر نکل کر اے سی تیز کرتا وہ بیڈ پر گیا۔ عنایہ دوسری طرف کروٹ لیے سو رہی تھی کیف اسے اپنے حصار میں لیتا آنکھیں بند کرگیا۔

************************

صبح حسب معمول سات بجے عنایہ کی آنکھ کھلی تھی۔ وہ کسمسائی تو احساس ہوا وہ کسی کے حصار میں ہے۔ اور کیف کے علاوہ کون ہوسکتا تھا۔ وہ اس کی گرفت میں ہی اس کی طرف پلٹی تھی۔ جو آنکھیں بند کیے سو رہا تھا۔ عنایہ نے منہ بنایا تھا۔ کتنے ہی پل اپنے چہرے کے قریب اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ اس کے دلکش چہرے پر ہلکی ہلکی بڑھی شیو کتنی اچھی لگتی تھی۔ بڑھتی عمر کیساتھ وہ مزید ڈیشنگ ہوگیا تھا کہ آج بھی لڑکیاں اسے مڑ مڑ کر دیکھتی تھیں۔ اور یہ ہی بات عنایہ کو سلگا جاتی تھی۔

” بس کردو نظر لگانی ہے کیا” کیف بند آنکھوں سے بولا تو عنایہ ہوش میں لوٹی۔

” چھوڑو مجھے ” وہ ابھی بھی خفا تھی اس لیے خود کو آزاد کروانے لگی۔

” عنایہ پلیز یار ” وہ ویسے ہی بند آنکھوں سے بولا تو عنایہ نے مزاحمت ترک کردی صرف اس کے آرام کی خاطر۔ اپنا چہرہ اس کی گردن کے قریب کیا تو اس کے ہوش اڑانے والی پرفیوم کی خوشبو اس کے نتھوں سے ٹکرائی۔ پتا نہیں کون کون سے اور کس کس ملک سے اس نے کلون خریدے ہوئے تھے جو اسے بہت پسند تھے۔ پھر نظریں اٹھا کر اس کے چہرے کو دوبارہ دیکھا وہ اتنا قریب تھا عنایہ کا دل چاہا ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے کو چھوئے۔

۔

” مائرہ میرے ساتھ کالج میں تھی کل مجھے یوں اتنے عرصے بعد دیکھا تو ہیلو ہائے کرنے کیلئے آگئی اور پھر وہیں بیٹھ گئی ” کیف نے اسے بتایا تو وہ اس کی طرف متوجہ ہوئی۔

” تم نے مجھے پہلے کبھی بتایا نہیں اس کے بارے میں ” ایک اور شکوہ حاظر تھا۔

” عمر نے بتایا تو تھا کہ میرا افیر تھا کالج میں یہ وہ ہی تھی”

” اسی لیے تم نے کافی پی اور سوچا تھوڑی گپیں لڑا لوں پرانی معشوقہ کیساتھ ہے نا ؟

” یار بیچاری کو ڈایورس ہوگئی ہے ” اس بات پر عنایہ چلاتی ہوئی کہنی کی بل اٹھی تھی۔ کیف نے بھی اپنی بند آنکھیں کھول کر اسے دیکھا تھا۔

” اور یقیناً وہ اپنے دوسرے شوہر کی تلاش میں ہوگی اور پھر تم مل گئے” وہ رو دینے کو تھی۔

” خدا کو مانو یار۔۔۔۔۔۔میرے ساتھ بچوں کو دیکھ کر وہ سمجھ گئی تھی i m happily married ” کیف نے اس کھینچ کر واپس اپنے حصار میں لیا اور آنکھیں بند کرلیں جبکہ عنایہ مسلسل کسی سوچ میں گم تھی کی کیسے ان چڑیل لڑکیوں کے شر سے کیف کو بچائے۔

” ہائے کہیں کوئی چکر چلا کر کیف کو مجھ سے چھین ہی نا لے ” اس نے ڈرتے ہوئے سوچا۔

” اچھا سنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم مجھے کل بتا رہی تھی اس کی ساری فرینڈز کی چھوٹی بہنیں ہیں ” کچھ دیر بعد کیف نے اسے مخاطب کیا۔

” ہاں تو ؟ ” عنایہ نے پوچھا۔

” تو وہ کہہ رہی تھی ڈیڈی مجھے بھی چھوٹی بہن لادیں” کیف نے لب دانتوں میں دبا کر کہا تھا۔ جب کی عنایہ کو ایک منٹ لگا تھا اس کی بات سمجھنے میں اور جب سمجھ آئی تو عنایہ چلا اٹھی۔

” کیف میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی ” کیف نے قہقہ لگایا تھا۔

” تمھے پتہ ہے میں اپنی پرنسس کی ہر خواہش پوری کرتا ہوں” اس کی بات پر عنایہ نے ہاتھ بڑھا کر اس کے بال پکڑنے چاہے جسے سمجھ کر کیف تیزی سے اپنا سر پیچھے کرتا اس کر دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔

” کتنی بار کہا ہے ہاتھ مت اٹھایا کرو ہر کوئی میری طرح شریف نہیں ہوتا ورنہ پوچھنا مام سے کہ کبھی بھی انہوں نے ڈیڈ پر ہاتھ اٹھایا ہو؟ اور جو بیوی ایسا کرتی ہے تو یہ بھی پتا کرنا کہ آگے سے ان کا کیا حال ہوتا ہوگا ” کیف اس کے چہرے کے نقوش پر نظریں جمائے بول رہا تھا۔

” تم اور شریف ؟ اور جو تم کرتے ہو اس کا کیا ؟ ” عنایہ کے بولنے پر کیف اپنی مسکراہٹ دباتا اس پر جھکا تھا۔

************************

یہ شام میں لان کا منظر تھا جہاں کیف ابراہیم اور ماہم کے ساتھ فٹ بال کھیل رہا تھا۔ عنایہ ملازمہ کے ہمراہ بچوں کیلئے فرائز، چکن نگٹس اور اپنے لیے اور کیف کی چائے بنا لائی تھی۔ ٹیبل پر چیزیں لگاتی وہ مسکراتی سامنے دیکھ رہی تھی جہاں کیف ماہم کو بال کو کیک کرنا سکھا رہا تھا اور جیسے ہی اس نے اپنے پاؤں سے ہٹ لگائی بال تھوڑی ہی دور گئی تھی۔ جس پر وہ تالیاں بجاتی ہنستی جبکہ ابی ماتھے پر ہاتھ مار کر افسوس کرتا کہ اس کی چھوٹی بہن اتنی سی ہٹ پر اچھل کود کررہی ہے۔ کیف بھی دونوں کو دیکھتا مسکرایا اور پھر نظریں اٹھا کر سامنے بیٹھی اپنی بیوی کو دیکھا۔ دونوں کی نظریں ملیں تو کیف نے آنکھ ماری جس پر وہ مسکراتی اپنا سر دائیں بائیں ہلاتی چائے کا کپ اٹھا کر اپنے لبوں سے لگا گئی۔

*************************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *