222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 37)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

صائمہ بیگم نیچے آئیں تو کچن سے جھانکتی ملازمہ کو ڈپٹ کر وہاں سے بھیج دیا۔ وہ الٹے پیروں سرونٹ کوارٹر کی جانب بھاگی تھی۔

” صائمہ میں آپ کو یہ کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دوں گا ” فیصل صاحب نے بلند آواز میں کہا تھا۔ وہ آج تک اتنے جلال میں نا آئے تھے۔

” آپ مجھے روک نہیں سکتے ” انہوں نے بھی دوبدو جواب دیا تھا۔

” عنایہ میری بیٹی ہے اس بات کا فیصلہ میں کروں گا کی اس کے ساتھ کیا کرنا ہے “

” لیکن یہ گھر میرا ہے اور میں ایسی لڑکی کو اپنے گھر ایک پل کیلئے بھی برداشت نہیں کرسکتی اور اگر آپ نے اسے روکا فیصل تو آپ کو مجھے طلاق دینی ہوگی ” وہ نڈر انداز میں کہتیں اتنا بڑا مطالبہ کررہی تھیں کہ فیصل صاحب ششدر رہ گئے۔

” فیصلہ آپ کے ہاتھوں میں ہے ” وہ کہہ کر وہاں سے اپنے کمرے میں جا چکی تھیں جبکہ فیصل صاحب سر تھام کر وہیں صوفے پر بیٹھ گئے۔

********************

” آپی پلیز آپ یہ کیا کررہی ہیں ؟ ” نور روتے ہوئے عنایہ کو روک رہی تھی جو اپنے کپڑے نکال کر ایک بیگ میں رکھ رہی تھی۔ اسکی آواز پر عنایہ کے چلتے ہاتھ رکے تھے اور وہ روتی ہوئی نور کی جانب آئی۔

” نور میری بہن ” عنایہ نے اسے اپنے گلے سے لگایا اور کتنی دیر بے آواز دونوں روتی رہیں۔

” آپی ! ماما ابھی غصے میں ہیں وہ ایسا نہیں کریں گی۔۔۔۔۔میں بھائی کو ابھی کال کرکے گھر واپس آنے کا کہتی ہوں وہ سب ٹھیک کردیں گے ” عنایہ کو ایک دم حیدر کا خیال آیا۔ کاش وہ اسے سب پہلے بتا چکی ہوتی۔

” نہیں! تم ایسا کچھ نہیں کرو گی نور۔۔۔۔میرے اندر ہمت نہیں ہے اسکا سامنا کرنے کی “

” لیکن آپی یہ سب کیسے ہوگیا ؟ بھائی کو کس نے بتایا یہ سب ؟ اگر انہیں علم نا ہوتا تو آج کبھی بھی ایسا نا ہوتا “

” میں نہیں جانتی وہ کیسے جانتا ہے شاید جب میں اور کیف بات کرر رہے تھے اس نے سن لیا ہو ” اس نے ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسو پونچھے تھے۔

” مجھے لگتا ہے کسی نے انھیں بتایا ہے کیونکہ وہ جسطرح مجھ سے پوچھ رہے تھے اس سے تو یہ ہی لگتا ہے۔۔۔۔۔آپ خود سوچیں انھیں کیسے پتا چلا کہ میں آپ کے نکاح کے بارے میں جانتی ہوں “

نور کی بات پر عنایہ چونکی تھی۔ تو کیا کیف نے یہ سب ؟ یقیناً اسی نے بتایا ہے۔

” میں جانتی ہوں کس نے بتایا ہے ” عنایہ کے لبوں پر تلخ مسکراہٹ آن ٹھہری۔ اس نے ایک بار پھر اس کی ذات پر کاری وار کیا تھا۔ عنایہ واپس پلٹی تھی اور جلدی سے بیگ کی زپ بند کرتی بیگ اٹھائے نیچے جانے لگی۔ نور بھی اس کے پیچھے ہی گئی۔

وہ نیچے آئی تو ممانی نے شعلہ بار نظروں سے اسے دیکھا۔ نور بھاگتی ہوئی صوفے پر بیٹھے اپنے باپ کے پاس آئی اور گھنٹوں کے بل بیٹھ گئی۔

” بابا پلیز ماما کو روکیں وہ آپی کو کیسے جانے دے سکتی ہیں ؟ ” نور نے اپنے بابا کے گھٹنے پر ہاتھ دھرے انھیں کہا لیکن وہ لا علم تھی کہ اس کی ماں اس کے باپ کی زبان پہلے ہی بند کر چکی ہے۔ وہ خاموش رہے۔ صائمہ بیگم نے نور کو یہ سب کرتے دیکھا تو بل کھاتی اس کے سر پر پہنچی۔

” نور کیا بد تمیزی ہے یہ ؟ ” نور جھٹکے سے اٹھی تھی۔

” ماما پلیز یہ نہیں کریں آپی نے کچھ غلط نہیں کیا “

” کیا کہا کچھ غلط نہیں کیا ؟ تم جانتی ہی کیا ہو بلکہ ہم سب کیا جانتے ہیں ؟ ناجانے یونیورسٹی کے بہانے کہاں کہاں جاتی رہی ہے اور کس کس کے ساتھ کیسے تعلقات رہے ہیں اس کے ” وہ بپھر کر بولیں تھیں۔ پیچھے بیگ تھامے عنایہ نے تڑپ کر اپنی آنکھیں میچی تھیں۔ گالوں پر گرم سیال رواں تھا۔ اپنے کردار پر لگے ایسے الزام اسکا دل چھلنی کرگئے تھے۔ اب وہ وہاں ایک پل نہیں رک سکتی تھی۔ اس نے اپنے قدم لاونج کے داخلی دروازے کی طرف بڑھا دیے۔

” ماما یہ اپ کیسی باتیں کررہی ہیں ؟ آپی ایسی نہیں ہیں ” نور ایکدم غصے میں چلائی تھی۔

” چپ کرو ایک لفظ نہیں سنوں گی تمہارا۔۔۔اس کی وجہ سے میرے بیٹے کا دل ٹوٹا ہے وہ گھر سے چلا گیا اور ناجانے وہ کہاں ہوگا کس حال میں ہوگا ” اپنے بیٹے کا خیال آتے ہی انھیں نئے سرے سے عنایہ پر غصہ آیا تھا۔ باہر جاتی عنایہ کے قدم رکے تھے۔ ایک اور قصور اسکی ذات سے منسوب ہوچکا تھا اور صحیح بھی تھا۔ ان سب کیساتھ وہ سب سے بڑی گناہگار حیدر کی تھی۔ نور کی نظر عنایہ پر پڑی جو باہر جارہی تھی۔ نور تیزی سے اسکی طرف گئی اور اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔

” آپی آپ کہیں نہیں جائیں گی ” نور نے التجاء کی۔ صائمہ بیگم بھی ان کی جانب گئیں اور نور کا بازو جکڑ کر اسے عنایہ کے سامنے سے ہٹایا تھا۔

” جاؤ تم ” انہوں نے سختی سے عنایہ کو کہا تھا۔ عنایہ اپنے آنسو پیتی سر ہلا کر باہر نکل گئی۔

” نہیں آپی پلیز ” نور نے چلاتے ہوئے کہا تھا۔ فیصل صاحب نے تاسف سے یہ منظر دیکھا تھا۔ نور نے اپنا بازو چھوڑوایا اور بھاگ کر فیصل صاحب کے پاس گئی تھی۔

” بابا آپی نے کوئی غلط کام نہیں کیا کبھی اپنی حد پار نہیں کی ماما انھیں غلط سمجھ رہی ہیں میرا یقین کریں بابا میں پہلے دن سے سب جانتی تھی سب۔۔۔۔۔آپی یہ نکاح بھی نہیں کرنا چاہتی تھیں وہ تو جب اس لڑکے کو پتا چلا کہ آپی کی بات حیدر بھائی سے چل رہی ہے انھوں نے آپی کو نکاح کیلئے فورس کیا تھا کیونکہ وہ آپی کو کھونا نہیں چاہتے تھے۔۔۔۔۔بابا میرے یقین کریں پلیز آپی کو روک لیں “

وہ اپنے باپ کے گھٹنوں میں بیٹھی التجاء کررہی تھی کیونکہ اسے لگا شاید وہ بھی عنایہ کو غلط سمجھ رہے ہیں۔ فیصل صاحب تیزی سے اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے اور نور وہیں آنسو بہاتی بیٹھی رہ گئی۔ صائمہ بیگم اس کے منہ سے یہ سب سن کر اس کی طرف آئیں اور اسکا بازو پکڑ کر اسے کھڑا کیا۔

” کیا فضول بول رہی تھی اپنے باپ کے سامنے ؟ خبردار اگر تم نے آئندہ یہ کہا کہ تم سب جانتی تھیں “

انھوں نے اسے ڈپٹ کر سختی سے تاکید کی تھی۔ نور نے شکوہ بھری نظروں سے اپنی ماں کو دیکھا تھا اور نفی میں سر ہلاتے ہوئے وہاں سے بھاگنے والے انداز میں سیڑھیاں عبور کرتی اپنے کمرے میں چلی گئی اور اسی وقت فیصل صاحب اپنے کمرے سے نکلے تھے اور جلدی سے باہر جانے کیلئے لپکے تھے کہ صائمہ بیگم نے ان کا راستہ روک لیا۔

” کہاں جارہے ہیں ؟ ” اس طرح ان کی راہ میں حائل ہونے پر فیصل صاحب نے غصے سے بھری نظر سے انھیں دیکھا تھا۔

” آپ جو چاہتی تھیں وہ ہوگیا اس لیے اب میں آپ کے کسی سوال کا جواب دہ نہیں ہوں ہٹیں میرے راستے سے ورنہ میں سچ میں کچھ ایسا کردوں گا جس سے یہ گھر بکھر جائے گا ” انہوں نے انکی طلاق والی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔ صائمہ بیگم نا چاہتے ہوئے بھی ہٹ چکی تھیں۔ فیصل صاحب تیزی سے گھر سے باہر نکل گئے تھے۔

********************

عنایہ جب بیگ لیے باہر مین گیٹ کے پاس پہنچی تو چوکیدار بابا نے اسے جانے نہیں دیا۔ وہ پوچھتے رہے کہ بیگ لیے کیوں جارہی ہو اس وقت تو عنایہ ان کی اتنی فکر مندی پر روتے ہوئے بھی مسکرا دی۔ بہت مشکلوں سے انھیں جیسے تیسے راضی کیا پھر جا کر وہ کہیں مانے اور اسے جانے دیا۔ گیٹ سے باہر نکل کر وہ چلنے لگی۔ اس پوش علاقے میں اسے اس وقت کوئی ٹیکسی یا کوئی رکشہ نہیں ملنا تھا۔ اسے یہاں سے نکل کر باہر مین روڈ پر ہی جانا پڑے گا۔ یہ سوچتے ہوئے ایک بار پھر سے اس کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔ فیصل صاحب گھر سے باہر روڈ پر آئے تو تھوڑی ہی دور چلتی ہوئی عنایہ انھیں دکھ گئی تھی وہ جلدی سے اس کے پیچھے گئے۔

” عنایہ بیٹا رکو ” انھوں نے نزدیک آتے ہوئے اسے پکارا تھا۔ عنایہ نے اپنے پیچھے سے آتی آواز پر فوراً پلٹ کر دیکھا تھا۔ فیصل صاحب کو دیکھ کر عنایہ نے بیگ وہیں پھینکا اور جلدی سے انکی جانب بڑھ گئی۔

” ماموں !!!! ” عنایہ روتے ہوئے ان کے سینے جا لگی تھی۔ فیصل صاحب کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔

” ماموں مجھے معاف کر دیں میں نے آپ کو بہت ہرٹ کیا ہے۔۔۔۔ممانی نے بالکل ٹھیک کیا ہے ماموں میں اسی لائق ہوں لیکن ماموں میرا یقین کریں میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جسے آپ کو شرمندہ ہونا پڑے ” وہ اپنی آنکھوں سے متواتر بہتے آنسوؤں سمیت انھیں یقین دلا رہی تھی۔

” میں جانتا ہوں میری بیٹی لیکن ابھی میں بہت مجبور ہوں اور آپ کیلئے کچھ نہیں کرسکتا ہو سکے تو اپنے ماموں کو معاف کر دینا “

” نہیں ماموں پلیز آپ کیوں ایسا کہہ رہے ہیں ساری غلطی میری ہے۔۔۔۔۔پلیز ایسا نہیں کریں ورنہ میں خود سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہوں گی “

فیصل صاحب نے اپنی قمیض کی جیب سے ایک کاغذ نکالا تھا جو وہ یہاں آنے سے پہلے اپنے بیڈ روم سے لکھ کر لائے تھے اور عنایہ کے ہاتھوں میں تھمایا تھا۔

” ابھی رات بہت ہوگئی ہے یہاں سے تم اپنی دوست زینب کے گھر چلی جاؤ اور یہ تمہاری امی کی دوست کے گھر کا ایڈریس ہے تم یہاں سے کل صبح اس پتے پر چلی جانا میں دو دن میں خود تمہارے پاس آؤں گا “

انھوں نے ساری سوچی تدبیر اسے بتائی تھی۔ عنایہ نے روتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔

” میرے بیٹے میں نے جیسا کہا ہے ویسا ہی کرنا ہے ” انھوں نے خاص تاکید کی تھی۔

” آپ آئیں گے نا میرے پاس؟ ” اس نے بہت آس سے پوچھا تھا۔ فیصل صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔

” میں اپنی بیٹی کے پاس ضرور آؤں گا ” اس کے بالوں پر بوسہ دیتے ہوئے انھوں نے اسے تسلی دی۔

*********************

” کیف یہ کیا حرکت کی ہے تو نے ؟ جانتا بھی ہے اس وقت عنایہ کیا فیس کررہی ہوگی ؟ “

عمر کو رہ رہ کر اب اس پر غصہ آرہا تھا۔ کیف نے اسے اپنی اور حیدر کی تکرار کے بارے میں بتایا اور ساتھ یہ بھی کہ وہ اسے عنایہ اور اپنے نکاح کا بھی بتا چکا ہے۔ جسے سن کر عمر کا دل کررہا تھا اس جزباتی انسان کا سر ہی پھاڑ دے کبھی جو یہ اپنے دماغ سے کچھ کرلے۔

” ہاں تو کیا کرتا ایک طرف وہ مجھ سے طلاق کا مطالبہ کررہی تھی اور دوسری جانب وہ اس سے شادی کی بات کررہا تھا تو کیا مطلب ہوا اسکا ؟ ” کیف کو اس سب سے یہ ہی لگ رہا تھا جیسے عنایہ اسے چھوڑ کر حیدر سے شادی کررہی ہے اور یہ سوچ آتے ہی کیف کی دماغ کی رگیں تن جاتی تھیں۔

” افف کیف یہ تو نے کیا کردیا ہے ؟ مجھے عنایہ کیلئے بہت برا لگ رہا ہے تو نے ٹھیک نہیں کیا ” عمر کو واقعی میں افسوس ہورہا تھا۔

تجھے لگتا ہے میں نے غلط کیا ہے ؟ وہ میرے سامنے کھڑا ہو کر میری ہی بیوی سے شادی کی بات کررہا ہے اور میں بے غیرتوں کی طرح کھڑا سنتا رہتا ہاں ؟ ” کیف اب کی بار غصے سے چلایا تھا۔

” اور وہ جو مجھ سے طلاق مانگ رہی تھی اسکا کیا ؟ مجھے ہمیشہ سے پتا تھا وہ ہم دونوں میں سے مجھے کبھی نہیں چنے گی اسی لیے میں نے یہ نکاح کیا تھا ” وہ مزید بولا۔

” تجھے لگتا ہے عنایہ کو تجھ سے محبت نہیں ہے ؟ “

” مجھے اسکی محبت پر کوئی شک نہیں ہے لیکن اس دن جب میں نے اسے زینب سے بات کرتے سنا تھا تب ہی میں سمجھ گیا تھا اگر ایسا کبھی کچھ ہو جائے تو یقیناً وہ اپنی محبت کی قربانی دے گی اور میں ایسا کبھی نہیں ہونے دے سکتا تھا ” اس نے عمر کو اپنے کیے کی وضاحت دی۔ عمر نے تاسف سے اسے دیکھا تھا۔

**********************

اندھیری رات میں سڑک کے کنارے وہ چلتی جارہی تھی۔ آنکھوں سے آنسوں مسلسل بہہ رہے تھے۔ ایک ہاتھ میں بیگ اٹھائے دوسرے میں ایک تہہ شدہ کاغذ تھامے وہ بنا رکے چلتی جا رہی تھی۔ سامنے سے آتی جاتی گاڑیوں کی روشنی جب اسکے چہرے پر پڑھتی تو اسکا چہرہ واضح ہوتا اور پھر دوبارہ سے اسکا چہرہ اندھیرے میں ڈوب جاتا۔ اچانک وہ رکی کیونکہ اب وہ تھک چکی تھی۔ اسے یہ بھی یاد نہیں تھا کہ وہ کب سے چلے جا رہی ہے۔ اس نے آنکھیں گھما کر اپنے اردگرد نظر دوڑائی۔ اپنے آپ کو اسطرح اس وقت یوں اکیلے سٹرک کے کنارے دیکھ کر وہ نیچے بیٹھتی چلی گئی۔

” آہ !!!!! کیف۔۔۔۔۔۔۔۔ ” آسمان کی طرف چہرہ اٹھائے وہ زور سے چلائی تھی۔

” تم نے برباد کردیا مجھے۔۔۔۔۔۔تمھاری وجہ سے میں آج اپنے گھر سے بے گھر ہوگئی۔ ” روتے ہوئے وہ چلاتی جا رہی تھی۔

” کیوں کیا تم نے میرے ساتھ ایسا ؟؟ کیوں۔۔۔۔۔۔کیف۔۔۔۔کیوں؟؟؟۔۔۔۔۔تم سے محبت کی اتنی بڑی سزا دی۔ ” ایسے چیخ چیخ کر روتے چلاتے ہوئے وہ بالکل فراموش کر چکی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہے۔ اس کے پاس سے گزرتی ایک گاڑی جب اچانک آہستہ ہوتے ہوئے نظر آئی تو اسے ہوش آیا۔ گاڑی اب رک چکی تھی۔

***********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *