Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 28) Part - 1
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 28) Part - 1
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
ایک خوبصورت شام اپنے اختتام کو پہنچی تو عنایہ اور زینب بھی واپس گھر کیلئے روانہ ہوگئیں۔ عنایہ نے زینب کو کیف کی دی رنگ دکھائی تو زینب دنگ رہ گئی۔ وہ عنایہ کیلئے بے حد خوش بھی ہوئی۔ عنایہ جب گھر پہنچی تو چینج کرکے فریش ہونے چلی گئی جبکہ نور بے صبری سے اسکا انتظار کررہی تھی، اسے سب جاننا تھا پارٹی کیسی تھی وہاں کیا ہوا کس نے کیا پہنا تھا۔ عنایہ باہر نکلی تو نور کو واشروم کے باہر پریڈ کرتے دیکھ بے اختیار ہنسی تھی۔ نور اس کی ہنسی پر اس کی طرف متوجہ ہوئی اور جلدی سے عنایہ کو جا لیا۔
” جلدی جلدی بتائیں کیسی پارٹی تھی اور آپ کو مزہ آیا ؟ ویسے منال وغیرہ بہت زیادہ امیر ہیں تو مجھے لگتا پارٹی بھی بہت شاندار ہوگی ” وہ اشتیاق سے پوچھنے لگی۔
” ہاں ہاں پارٹی بہت اچھی تھی اور میں نے بھی بہت انجوائے کیا ” وہ چلتے ہوئے بیڈ پر جا بیٹھی۔ نور بھی جا کر بالکل اس کے سامنے بیٹھ گئی۔
” مجھے تمھے کچھ دیکھانا ہے لیکن ایسے نہیں، تم guess کرنا اوکے ؟ ” عنایہ نے کہتے ہی اپنا الٹا ہاتھ اٹھا کر اسے دکھایا جس میں وہ ہیرے کی خوبصورت نازک سی انگوٹھی اس کے سفید نرم ہاتھوں کی انگلی میں چمک رہی تھی۔ نور نے نا سمجھی سے ہاتھ کو دیکھا اور پھر نظر اس انگھوٹھی پر گئی تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
” او مائے گاڈ، او مائے گاڈ، یہ کیف۔۔۔۔۔نے دی آپ کو ؟ ” نور کی چہکتی آواز پورے کمرے میں گونجی۔ عنایہ نے مسکرا کر سر ہاں میں ہلایا۔
” اور کیا کہا بتائیں نا؟ اور کیسے کہا سب ؟ ” عنایہ نے اس کے پوچھنے پر سب بتایا تو نور سب imagine کرتے ہوئے کسی اور ہی دنیا میں پہنچ چکی تھی۔
” ہائے آپی کتنا مزہ آئے گا آپ دونوں کی شادی ہوگی افف ” وہ ابھی سے اتنی ایکسائٹد نظر آنے لگی۔
” شادی کہاں سے آگئی پاگل ابھی تو ہماری سٹڈیز ہیں ” عنایہ نے تاسف سے کہا۔
” ہاں تو اس کے بعد ہی سہی لیکن ہونی تو ہے نا ” نور تو جیسے خود ہی سب ٹھان چکی تھی۔
” لیکن نور اس بارے میں کسی کو پتا نہیں چلنا چاہیے یہ بات صرف تمہارے اور میرے درمیان میں رہنی چاہیے ” عنایہ نے تنبیہ کرنا ضروری سمجھا کیونکہ نور کا کیا بھروسہ اپنی خوشی میں کسی کے سامنے بول دے۔
” کسی کو نہیں بتاؤں گی لیکن منال کو تو بتا سکتی ہوں نا وہ تو کیف کی بہن ہے “
” نہیں! اس سے بھی کوئی بات نہیں کرنی ابھی ” عنایہ نے منع کیا۔
” اوکے! ” نور نے شانے جھٹک دیے پھر آگے بڑھ کر عنایہ کے گلے لگ گئی۔
*********************
آج موسم کافی سرد تھا وجہ رات ہونے والی بارش تھی۔ آسمان پر بادل ہی چھائے تھے دھوپ کا کوئی نام و نشان نا تھا۔ ایسے میں یونیورسٹی کا ماحول بھی کافی اچھا تھا۔ سارے سٹوڈنٹس گراؤنڈ میں اتنی سردی ہونے کے باوجود خوب انجوائے کررہے تھے۔ آج کے دن لیکچرز بھی نا ہونے کے برابر تھے۔ کچھ سٹوڈنٹس کیفے ٹیریا میں بیٹھے کھانے پینے سے مرغوب ہو رہے تھے۔ عنایہ زینب اور عمر بھی کیفے میں ہی ایک ٹیبل پر بیٹھے تھے۔
” میرا تو آج بالکل دل نہیں تھا یونیورسٹی آنے کا ” زینب نے کہا تو عمر نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
” ایسے موسم میں بستر سے نکلنے کو دل نہیں کرتا میرا ” اس کی سوالیہ نظروں پر اس نے جواب دیا۔
” ہاں اسے ضرورت سے زیادہ سردی لگتی ہے ” عنایہ نے بھی اپنا حصہ ڈالا جب کیف بھی وہیں آیا۔ وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ چکا تھا لیکن نظریں عنایہ کے چہرے پر ٹکی تھیں۔ عنایہ بھی اسے دیکھ کر مسکرائی۔
” ہم بھی یہاں موجود ہے ہمیں بھی دیکھ لے ” عمر نے اسے مسلسل عنایہ کو دیکھنے پر طنز کیا۔
” یہ کارٹون جیسی شکل روز ہی دیکھتا ہوں ” کیف نے کہا تو زینب کی ہنسی چھوٹ گئی۔ عنایہ نے مسکراہٹ دبائی جبکہ اس بات پر عمر کا چہرہ غصے کا عنصر پیش کررہا تھا۔ اس نے زیرلب کیف کو دو تین گالیوں سے نوازا۔ کیف دوبارہ سے عنایہ کو دیکھتا اپنی آنکھیں خیرہ کرنے لگا۔ لیکن عنایہ اب اسے نہیں دیکھ رہی تھی لیکن اس کی نظریں اچھے سے محسوس کررہی تھی۔ عمر اور زینب باتیں کرنے لگے تو کیف دھیمے سے گنگنانے لگا۔
” پہلا پہلا پیار ہے۔۔۔۔۔پہلی پہلی بار ہے ” عنایہ نے نگاہیں اٹھا کر سوالیہ انداز میں اسے دیکھا۔ جو آنکھوں میں بے پناہ چاہت سموئے اسے دیکھا رہا تھا۔
” جان کے بھی انجانا کیسا میرا یار ہے ” کیف اس کے دیکھنے پر مزید گنگنایا تو عنایہ یہاں وہاں دیکھنے لگی جبکہ اس کے لبوں پر شرمیلی سے مسکان رقصاں کررہی تھی۔
” دیکھ رہی ہو یہاں سین اون ہے ” عمر نے زینب کی طرف تھوڑا جھک کر اسکی توجہ اب کیف اور عنایہ کی طرف دلائی۔
” اور ایک تم ہو مجال ہے کہ میرے جذبات کی کوئی پرواہ ہو ” وہ اب باقاعدہ شکوہ کررہا تھا۔ دل کے ارمان کیف کو یوں عنایہ کے ساتھ دیکھ کر اسکا بھی کررہا تھا وہ ایسے ہی زینب سے محبت بھری باتیں کرے اسے بنا کسی کی پرواہ کیے دیکھتا رہے۔
” میں نے کیا کیا ہے ؟ ” زینب سمجھ گئی تھی لیکن جان بوجھ کر شرارت بھرے لہجے میں پوچھا۔
” کچھ بھی نہیں کیا معاف کر دو مجھے ” وہ واقعی میں خفا نظر آرہا تھا اور زینب اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ انجوائے کررہی تھی۔
*********************
رات کا ایک بج رہا تھا۔ عنایہ اسائمنٹ بنانے میں اتنی مصروف رہی کہ ٹائم کا پتا ہی نہیں چلا۔ نور کو ایک نظر دیکھا جو سو چکی تھی۔ عنایہ نے ساری کتابیں سمیٹی اور انہیں سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور اٹھ کر نور کے اوپر کمبل ٹھیک سے دیا۔ دفعتاً اسکا موبائل فون رنگ ہوا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی۔ کیف کی کال کا سوچ کر وہ جلدی سے اپنی سائیڈ پر آئی۔ فون اٹھا کر دیکھا لیکن کال کرنے والا کیف نہیں حیدر تھا۔ اس نے کال ریسیو کی۔
” یار میں باہر کھڑا ہوں۔۔۔گیٹ کھول دو ” حیدر نے بس اتنا کہا تھا۔ وہ جلدی سے نیچے گئی اور جا کر اس کیلئے گیٹ کھولا تو سامنے ہی وہ مسکراتا ہوا کھڑا تھا۔ وہ اندر آیا اور گیٹ لاک کیا اور اسکی طرف واپس مڑا۔
” اس وقت کیسے ؟ ” عنایہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
” سارے جواب دوں گا پہلے کچھ کھانے کو ملے گا بہت بھوک لگی ہے “
” ہاں کیوں نہیں آ جاؤ ” وہ کہہ کر آگے بڑھ گئی اور وہ اسکے پیچھے ہی چلنے لگا۔
*********************
کچن میں رکھی چھوٹی میز کرسی پر وہ بیٹھا تھا اور نظریں عنایہ پر جمیں تھیں جو نائٹ سوٹ میں ملبوس شال لپیٹے اس کیلئے کھانا گرم کررہی تھی۔ کتنی اچھی لگ رہی تھی وہ اسے ایسے۔۔۔۔۔۔۔اور اسکے دل نے چپکے سے خواہش کی کہ ایسا ہمیشہ ہی ہو وہ اسے کال کرے پھر وہ دروازہ کھولے اور پھر اس کیلئے کھانا گرم کرکے اسے کھانا کھلائے اور وہ اسکی من موہنی صورت دیکھتے دیکھتے کھانا کھائے۔
” تم جاگ رہی تھی مجھے اندازہ تھا ” حیدر نے بات شروع کی۔
” ہاں ایک اسائمنٹ بنا رہی تھی ” وہ بنا پلٹے بولی تھی۔
” ہمممم! میں نے سوچا سب سو چکے ہوں گے اس لیے میں نے چوکیدار کو بھی جگانا مناسب نہیں سمجھا، سوچا وہ بھی تھکا ہارا سویا ہوگا ” عنایہ نے اوون سے بریانی نکالی اور اسکے سامنے رکھی۔ رائتہ اور سلاد وہ پہلے ہی رکھ چکی تھی۔ پانی کا جگ بھی پہلے کا پڑا تھا جس میں سے حیدر نے آتے ہی پانی گلاس میں انڈیل کر پیا تھا۔
” میں نے بتایا تھا نا یہاں اسلامآباد میں بھی ایک کام ہے بس اسی سلسلے میں آیا تھا لیکن گھر آنے کا ارادہ نہیں تھا یہیں سے واپسی تھی لیکن پھر بھوک لگی تو کسی ریستوران میں جانے کی بجائے سوچا گھر ہی آجاؤں ” اس نے اپنے سامنے بیٹھی عنایہ کو تفصیل سے بتایا۔
” مطلب تم رکو گے نہیں ؟ ” اس نے چونک کر پوچھا۔
” ظاہر ہے! ڈیوٹی پر ہوں ” اس نے بریانی کھاتے کھاتے جواب دیا۔
” اچھا تو پھر ماموں وغیرہ سے بنا ملے چلے جاؤ گے ” اس نے تھوڑا اداسی سے کہا۔ اس کے اس طرح کہنے پر وہ مسکرایا۔
” ہاں اب کیا کرسکتے ہیں؟ اگر وہ جاگ رہے ہوتے تو مل لیتا۔۔۔۔اس وقت ان کو اٹھانا بھی تو مناسب نہیں، لیکن تم فکر نہیں کرو جلد چھٹی لے کر واپس آؤں گا ” عنایہ نے محض سر ہلا دیا۔
” میں کافی بنا دیتی ہوں ” وہ کہہ کر اٹھی۔
” ہاں اگر تم ساتھ جوائن کرو تو شیور ” حیدر نے کہا تھا تو اس نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلا دیا۔ ورنہ کافی وہ پہلے پی چکی تھی لیکن حیدر کو وہ انکار نہیں کرسکتی تھی۔
**********************
عمر کے پیرنٹس پاکستان آچکے تھے۔ مرتضیٰ مینشن میں کافی رونق لگی رہتی تھی۔ کیف بھی اپنی خالہ کے آنے پر بے حد خوش تھا۔ رابعہ بیگم نے اسکی خوشی اچھے سے محسوس کی تھی۔ عمر نے اپنے پیرنٹس کو زینب کے بارے میں بتایا تو انھوں نے زینب سے ملنا چاہا اور پھر کیا تھا انہیں زینب اتنی اچھی لگی کہ وہ زینب کے گھر اسکا رشتہ لینے پہنچ گئے۔ زینب کے گھر والے پہلے حیران ہوئے پھر جس طرح عمر کے پیرنٹس نے قائل کیا وہ بچوں کی خوشی کے آگے سر جھکا گئے اور یوں دونوں کی بات پکی ہوگئ ایک چھوٹی سی انگھوٹھی پہنانے کی رسم ہوئی اور ان کی پڑھائی کے بعد ان کی شادی ہونا طہ پائی۔ عمر کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا اور زینب یہ سب اتنی جلدی ہونے پر حیران بھی تھی لیکن ایک طرح سے خوش بھی کہ وہ اور عمر ایک بندھن میں بندھ چکے ہیں۔ عمر کے پیرنٹس پندرہ دن پاکستان رہ کر واپس جا چکے تھے کیونکہ عمر کے ابو کا وہاں اپنا سٹور تھا جسے وہ زیادہ دیر چھوڑ نہیں سکتے تھے اور عمر کے چھوٹے بھائی کی پڑھائی بھی تھی۔ ان کے واپس جانے کے بعد زندگی ویسے ہی مامعول پر آچکی تھی۔
مارچ کا مہینہ شروع ہوا تو یونیورسٹی میں دوسرے سمیسٹر کے ایگزامس کی ڈیٹ اناؤنس ہوئی تو سٹوڈنٹس اب زیادہ سے زیادہ لائبریری میں نظر آنے لگے۔
ادھر عمر زینب کو منانے لگا تھا جو اس سے ناراض تھی۔ کیف اور عنایہ کیفے ٹیریا آئے تو ان دونوں کو بحث کرتے پایا۔
” یار زینب کیا ہوگیا ؟ تم اتنی سی بات کو اتنا بڑھا رہی ہو ” عمر تو اب سخت جھنجھلایا ہوا نظر آرہا تھا۔
” کیا کہا اتنی سی بات؟ ” زینب کو تو اس کا اتنی سے بات کہنے پر مزید غصہ آیا۔
” کیا ہوگیا تم دونوں کو ؟ ” عنایہ نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔ کیف بھی بیٹھ چکا تھا۔
” یار عنایہ اسے سمجھاؤ فضول میں ناراض ہورہی ہے کہ ہماری اینگیجمینٹ میری وجہ سے ایسے بس گھر والوں کے درمیان میں ہوئی کوئی بڑا فنکشن باقاعدہ ہونا چاہیے تھا “
” کیا مطلب فضول ناراض ہورہی ہوں بھلا ایسے بھی کوئی منگنی ہوتی ہے ؟ ” وہ پھر سے اس پر چڑھ دوڑی۔
” بالکل صحیح کہہ رہی ہے زینب ” کیف نے آگ میں گھی ڈالنے والا کام کیا۔ عمر نے دانت پس کر اسے گھورا تھا۔
” میں تو بھئ اس میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتی ” عنایہ نے کہا۔
” تمہیں ہی جلدی تھی بہت۔۔۔۔جیسے میں جانتی نہیں ہوں ہونہہ ” زینب نے پھر سے گھورتے ہوئے کہا۔
” بالکل زینب یہ تو نکاح کا کہہ رہا تھا ” کیف نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا تو زینب کا پارہ چڑھا۔ عنایہ نے اپنی مسکراہٹ ضبط کی۔ یقیناً عمر کی اب خیر نہیں تھی۔
” یہ بکواس کررہا ہے زینب ” عمر تو بوکھلا گیا۔ یہ سچ تھا اس نے اپنی مام سے نکاح کا ہی کہا تھا لیکن انھوں نے انکار کردیا تھا کہ بہت تیاری کرنی پڑے گی اور وہ لوگ کم عرصے کیلئے آئے تھے۔
” کمینے میں تیرا منہ توڑ دوں گا ” عمر نے دانت کچکچائے جبکہ کیف ڈھٹائی سے مسکرا رہا تھا۔
” تم سب لڑکے ایک جیسے ہوتے ہو چھچھورے ” زینب نے غصے سے ناک کی نتھ پھلائے کہا۔
” ایکسکیوز می ؟ ” کیف کو تو چھچھورے کہنے پر برا لگا تو فوراً سے بولا۔
” ہاں اب کیا تکلیف ہوئی ہے ؟ پہلے تو بڑی بکواس کررہا تھا ” عمر نے اب کی بار اسے ڈپٹا تھا۔
” زینب تم عمر کی وجہ سے باقی سب کو یوں نہیں کہہ سکتی ” کیف نے احتجاج کیا۔ جبکہ عمر تو آنکھیں پھاڑے اسکی کمینگی دیکھ رہا تھا۔ ابھی بھی اسے اپنی پڑی تھی۔
” ویسے اس بات پر میں زینب سے بالکل اتفاق کرتی ہوں” عنایہ بولی تو کیف نے اسے ایسے دیکھا جیسے یقین نہیں آرہا تھا وہ یہ کہے گی۔ اور اس بات پر عمر کے لبوں پر بھی شیطانی مسکان رینگ گئی(اب آئے گا مزہ)۔
” بتانا پسند کرو گی کس سینس میں کہا ہے تم نے یہ؟ اور کیا تم مجھے بھی ایسا سمجھتی ہو ” کیف تو اب پورا عنایہ کی طرف گھومے پوچھ رہا تھا۔
” میں نے نہیں کہا یہ زینب نے کہا ہے میں نے تو بس اتفاق کیا ہے ” عنایہ نے ہلکے سے شانے جھٹک کر کہا۔
” ایک کی بات ہے ” کیف بولا۔
” ہاں تو ؟ “
” مطلب میں بھی ایسا ہوں ؟ ” کیف نے بھونیں اچکا کر پوچھا۔
” اب تم اتنا اصرار کررہے ہو تو ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔ہاں ” کیف اسے دیکھے گیا۔
” اچھا تو کیا چھچھورا پن کیا ہے میں نے ؟ “
” ہونہہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں پوری یونیورسٹی میں کسی سے بھی پوچھ لو ” کیف نے اس بات پر دانت پر دانت جمائے۔
” اور خود تم کیا ہو پتا ہے ؟ “
” کیا ہوں میں ؟ ” عنایہ نے ٹیبل پر ہاتھ مارا۔
” چڑیل ” کیف نے غصے میں کہا تو عنایہ منہ کھولے اسے دیکھے گئی۔
” تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ دونوں اب باقاعدہ جھگڑنے لگے تو زینب پریشان سی انہیں دیکھے گئی جبکہ عمر مزے سے دانت نکالے کیف کی درگت بنتے دیکھ رہا تھا۔ زینب نے اسے یوں دیکھا تو اس کے بازو پر زور سے مکہ مارا۔
” کیا ہے ؟ ” عمر نے بازہ سہلایا۔
” تم ان دونوں کو آپس میں لڑوا کر مزے سے بیٹھے ہو “
” اچھا ہوا کمینہ میری لڑائی کروا رہا تھا خودی پھنس گیا وہ کہتے ہیں نا جیسی کرنی ویسی بھرنی ” عمر نے مزے سے کہا۔ دوسری طرف دونوں ابھی بھی بحث کررہے تھے۔
” عمر یہ کیا طریقہ ہے روکو انہیں “
” میں تو نہیں روک رہا ” عمر نے کرسی کی پشت پر ٹیک لگاتے ہوئے دوبارہ ان دونوں کو دیکھا جو ایک دوسرے کی طرف شہادت کی انگلی تانے ایسے ہی جھگڑ رہے تھے جیسے یونیورسٹی کے شروع میں جھگڑتے تھے۔
” سٹاپ اٹ ” زینب ایک دم تیز آواز میں کہا تو دونوں چپ ہوئے اور اسے دیکھنے لگے۔
” لڑ ہم دونوں رہے تھے لیکن تم دونوں خامخواہ جھگڑ رہے ہو بجائے ہماری لڑائی رکوانے کے خودی شروع ہوگئے ” زینب نے دونوں سے کہا تو عنایہ نے اپنا منہ پھیر لیا جبکہ کیف منہ بناتا وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔ ان سب میں عمر کو بڑا مزہ آیا۔ اسکے دل میں جیسے ٹھنڈک پڑ گئی تھی۔
*********************
عنایہ اپنے کمرے میں غصے سے یہاں سے وہاں ٹہل رہی تھی۔ اسے کیف پر غصہ تھا لیکن لاشعوری طور پر وہ اس کی کال کا انتظار بھی کررہی تھی لیکن ابھی تک اس نے فون نہیں کیا۔ اسے لگا تھا وہ کال کرے گا اسے سوری بولے گا پھر وہ بھی بول دے گی لیکن نہیں اس کی تو اکڑ ہی نہیں ختم ہورہی۔ اس نے وال کلاک پر نظر ڈالی جو رات کے گیارہ بجا رہی تھی۔
” ہونہہ خود کو سمجھتا کیا ہے ؟ ٹھیک ہے میری غلطی تھی لیکن اسے بھی خیال کرنا چاہیے تھا ” وہ رکی اور بیڈ پر سے فون اٹھایا۔ واٹس ایپ کھولا اور کیف کا لاسٹ سین چیک کیا جو پانچ منٹ پہلے کا تھا۔
” ٹھیک ہے نا کرو بات مجھے بھی نہیں کرنی بھاڑ میں جاؤ ” وہ کہتی پاؤں پٹخ کر کمرے سے نکل گئی۔
**********************
دوسری طرف کیف بیڈ پر چیت لیٹا تھا۔ وہ بھی عنایہ کی طرف سے کسی میسج یا کال کا انتظار کررہا تھا لیکن اسے پتہ تھا ایسا کبھی نہیں ہوگا وہ اچھے سے جانتا تھا وہ کبھی جھکے گی نہیں حلانکہ غلطی سراسر اس کی اپنی تھی۔ لیکن اسکا attitude تو دیکھو۔ کیف نے بھی ٹھان لی تھی کی وہ بھی نہیں جھکے گا۔ بات تو اسے ہی کرنی پڑے گی پہلے۔۔۔۔۔ اگر اسے اپنی ego پیاری تھی تو کیف کو اس سے بھی زیادہ پیاری تھی۔
*********************
اگلے دن دونوں نے ایک دوسرے کو سرے سے اگنور کیا تھا۔ دونوں لیکچر کے دوران بس کن انکھیوں سے ایک دوسرے کو دیکھ لیتے لیکن جب اتفاق سے سامنا ہوا تو عنایہ منہ بنا کر اس کے پاس سے گزر گئی۔ یونیورسٹی کے آف ٹائم تک کیف کا صبر جواب دے چکا تھا وہ اب مزید عنایہ سے بات کیے بنا نہیں رہ سکتا تھا اس لیے لائبریری میں وہ اس کے سر پر کھڑا تھا۔ اور وہ تیز تیز پین چلاتی نوٹس بنانے لگی تھی۔ کیف کو مزید غصہ آیا ذرا جو اسے پروا ہو۔ وہ کال رات سے بے سکون ہے اور یہ کتنے سکون میں ہے اس نے بے اختیار سوچا۔ کیف کرسی گھسیٹ کر اس کے پاس ہی بیٹھا تو عنایہ نے سر اٹھا کر دیکھا کیف کو دیکھ کر چونکی لیکن پھر اپنے تاثرات سخت کرتی واپس سر جھکا گئی۔
” مجھے بات کرنی ہے ” ساری انا آگ میں جھونک کر کیف نے ہتھیار ڈال ہی دیے۔ صحیح کہا جاتا ہے محبت میں کوئی میں، کوئی اکڑ، کوئی انا نہیں ہوتی۔ عنایہ نے کوئی جواب نہیں دیا اور یوں ہی لکھتی رہی۔ کیف نے غصے میں اس کے ہاتھ سے پین کھینچ کر پٹخ دیا اور عنایہ حیرت میں ڈوبی اس کی اس حرکت کو دیکھے گئی۔
” عنایہ مجھے یہ چیز بالکل پسند نہیں کہ جب میں تمہارے پاس ہوں تو تم مجھے چھوڑ کسی دوسرے انسان یا کسی دوسری چیز کو توجہ دو ” کیف نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سختی سے کہا تھا۔
” ہاں تو ؟ میں ناراض ہوں میری مرضی میں نہیں سنوں گی ” وہ کہہ کر پھر سے اپنی کتاب کے ورق الٹنے لگی تو کیف نے کتاب بھی اسی طرح کھینچ کر بند کی اور اب کی بار عنایہ کا بائیاں ہاتھ تھام لیا۔
” اچھا تو غلطی کس کی تھی ؟ ” کیف نے ابرو اچکا کر پوچھا۔ عنایہ نے کچھ نہیں کہا یوں ہی چپ رہی تو کیف نے ایک گہرہ سانس کھینچا۔
” عنایہ پورا ایک دن ہم نے ایک دوسرے سے بات نہیں کی اور بنا بات کر جھگڑ رہے ہیں، غلطی دونوں کی ہے سو اسے ختم کرتے ہیں۔۔۔اگر تم اس طرح کرو گی تو سب کیسے ٹھیک ہوگا ؟ ” کیف نے دوسرے ہاتھ سے اسکا چہرہ اپنی طرف موڑ کر اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تو عنایہ کو اس کی بات ٹھیک لگی۔ وہ صحیح کہہ رہا تھا اگر وہ پہل کر رہا تھا تو اسے بھی ہاتھ بڑھا دینا چاہیے۔ اس نے سر کو خم دیا تو کیف مسکرایا پھر نظر اپنے ہاتھ میں تھامے اس کے ہاتھ پر گئی تو وہاں موجود انگھوٹھی دیکھ کر اسکی آنکھیں بھی چمکیں۔ عنایہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
” کیا تم یہ ہر وقت پہن کر رکھتی ہو ؟ ” اس کے ہاتھ کو اپنے انگھوٹے سے سہلاتے ہوئے کیف نے پوچھا۔
” نہیں! گھر پر اتار دیتی ہوں صرف یونیورسٹی پہن کر آتی ہوں ” اس نے دھیمے سے کہا اور پھر آس پاس دیکھنے لگی کوئی بھی ان کی اور متوجہ نہیں تھا۔ اس نے شکر کیا۔ ورنہ وہ کیف سے ہاتھ چھوڑوانہ چاہتی تھی لیکن اس میں ہمت نا تھی ناجانے وہ کیا سوچتا۔
” یہ رنگ تمہارے ہاتھ میں دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ تم میری ہو ” یہ کہتے ہوئے کیف کی آنکھوں میں کیا کچھ نہیں تھا۔
” اچھا جی ؟ ایک رنگ سے تو نہیں میں تمہاری ہو جاتی ” اس نے آہستہ سے ہاتھ کھینچ لیا تھا لیکن کیف نے کچھ نہیں کہا۔
” تو کیا تم میری نہیں ہو ؟ ” کیف نے بچوں کی طرح پوچھا تھا۔ عنایہ ہنسی تھی۔
” اوفف تم بھی نا ” وہ اپنی چیزیں سمیٹنے لگی تو کیف بولا۔
” اوفف میں کیا ؟ ” کیف نے اسے تنگ کرنا چاہا تو عنایہ اس کے انداز ہر خامخواہ بلش کرنے لگی۔ اس کے چہرے کر چھائی لالی دیکھ کیف کے لبوں کو بھرپور مسکان نے چھوا تھا۔
**********************
فیصل صاحب بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائے آج صبح کی اخبار رات کے وقت پڑھ رہے تھے اور صائمہ بیگم دوسری سائیڈ پر ٹیک لگائے ہاتھ میں میگزین تھامے ماڈلز کے ڈریس دیکھنے میں مصروف تھیں۔ ایک دم انہیں ایک خیال آیا تو وہ ہاتھ روکے فیصل صاحب سے مخاطب ہوئیں۔
” میں سوچ رہی تھی حیدر کی اب شادی کردینی چاہیے ” ان کی بات پر انھوں نے اخبار اپنے چہرے سے ہٹایا۔
” ارے واہ آپ کو یہ خیال کہاں سے آگیا اچانک ؟ ” وہ اخبار کو اب جھولی میں رکھے پوچھنے لگے۔
” اچانک تو نہیں آتا جب صحیح وقت آتا ہے تب ہی انسان سوچ لیتا ہے “
” اچھا! تو پھر تو کوئی لڑکی بھی دیکھ لی ہوگی آپ نے اپنے برخوردار کیلئے ” وہ سرسری سی نظر اخبار پر ڈالتے ہوئے بولے۔
” ظاہر ہے لڑکی تو ہمیشہ سے تھی نظر میں ” انھوں نے ہلکی مسکان لیے کہا جبکہ اس بات پر فیصل صاحب چونک گئے۔
” اچھا اور وہ کون ؟ ” صائمہ بیگم نے اپنا چہرہ موڑ کی انکی طرف دیکھا۔
” اپنی عنایہ اور کون ؟ ” عنایہ کے نام پر فیصل صاحب ٹھٹکے تھے۔
” اسے کیوں سوچا تم نے ؟ ” وہ پوچھے بنا نا رہے۔
” کیا مطلب اسے نہیں سوچ سکتی اپنے بیٹے کیلئے ؟ اور ویسے بھی میں نے اپنے بیٹے کی پسند کو بھی اہمیت دی ہے۔۔”
” کیا حیدر کی پسند شامل ہے ؟ اس نے خود کہا آپ سے ؟ وہ سوال کررہے تھے۔
” ظاہر ہے حیدر بھی پسند کرتا ہے اسے اور اس کے کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ میں ماں ہوں سب سمجھتی ہوں ” انہوں نے مسکرا کر کہا۔
” اچھا تو پھر سب ڈیسائڈ کیے بیٹھی ہیں آپ “
” ہاں بس آپ کو بھی اب بتا دیا ہے “
” لیکن میرے خیال میں بچوں سے ایک بار ان کی مرضی جان لیں “
” حیدر کی طرف سے تو مجھے پورا پتا ہے اور عنایہ ہمیں انکار تھوڑی کرے گی ؟ “
” کیا مطلب انکار نہیں کرے گی ؟ اس کی زندگی ہے اس کا حق ہے وہ یہ فیصلہ اپنی مرضی سے کرے گی “
” او ہو آپ پتہ نہیں بات کو کہاں سے کہاں لے جارہے ہیں ؟ میرا مطلب تھا جب ہم اسے حیدر کے متعلق کہیں گے تو وہ انکار نہیں کرے گی۔۔۔۔۔ظاہر ہے ہم اس کے ماں باپ کی جگہ ہیں “
” مطلب آپ یہ کہنا چاہ رہی ہیں کہ ہم نے اس کو پالا پوسا ہے تو اس احسان کے بدلے وہ انکار نہیں کر پائے گی” اس بات پر صائمہ بیگم نے اپنا ماتھا پیٹا تھا۔
” آپ خود سے ناجانے کیا سمجھ رہے ہیں ؟ اس میں حرج ہی کیا ہے وہ ہمارے گھر ہماری بیٹی بن کر رہے “
” ٹھیک ہے مجھے آپ کی نیت پر شک نہیں لیکن میں چاہوں گا عنایہ کو بنا کسی احسان کے جتائے بغیر اپنی مرضی کا فیصلہ کا کرنے کا حق حاصل دیا جائے گا اور اگر وہ انکار کرے گی تو یہ شادی نہیں ہوگی ” وہ دو ٹوک کہہ کر سونے کیلئے لیٹ چکے تھے۔
***********************
