222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 36)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

پارٹی اپنے عروج پر تھی۔ عنایہ واپس اندر آئی تو یوں ہی خالی خالی نظروں سے یہاں وہاں دیکھتی رہی جب زینب کی نظر اس پر پڑی تھی۔ وہ چلتے ہوئے اس کے پاس آئی اور اس سے پوچھتی رہی کہ کہاں تھی ؟ کب سے ڈھونڈ رہی تھی تمھے کال بھی کی ایسے کہیں سوال پوچھتی رہی لیکن عنایہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔

” مجھے گھر جانا ہے تم مجھے پلیز گھر چھوڑ دو ” عنایہ نے اس کے ساری باتوں کے جواب میں بس دھیمے لہجے میں اتنا ہی کہا تھا۔ زینب اب کی بار پریشان ہوئی تھی۔ اس کے چہرے پر آنسوؤں کے مٹے مٹے نشان بھی یہ صاف ظاہر کررہے تھے کہ وہ رو کر آئی ہے۔

” عنایہ کیا ہوا ہے ؟ اور کیوں گھر جانا ہے ؟ کچھ ہوا ہے کیا ؟ “

” پلیز زینب مجھے گھر چھوڑ دو ” اس نے التجاء کی تھی۔

” اچھا تم روکو میں آتی ہوں پھر میں تمھے واپس گھر ڈراپ کردوں گی ” وہ کہہ کر وہاں سے سیدھا عمر کے پاس آئی تھی جو خود کیف سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہا تھا لیکن وہ بھی فون نہیں اٹھا رہا تھا۔ زینب نے اسے ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔

” کیف بھی غائب ہے اور عنایہ مجھ سے اسکا پوچھ رہی تھی جب ہم آئے تھے اور وہ اسکا یہاں انتظار کرنے کی بجائے وہیں اس کے پیچھے چلی گئی تھی۔۔۔۔مجھے لگتا ہے ان دونوں کا پھر سے کوئی جھگڑا ہوا ہے” عمر کو اب یقین تھا کہ دونوں کے بیچ ضرور کوئی بات ہوئی ہے۔ عنایہ کا یوں واپس گھر جانے کیلئے کہنا اور کیف کا بھی پارٹی چھوڑ کر جانا اور اب فون نا اٹھانا اس بات کو صاف ظاہر کررہا تھا۔

” ایک تو تمہارے دوست کا مسئلہ کیا ہے ؟ ہر دفعہ ہی کوئی نیا بھنڈ ڈال دیتا ہے ” زینب تو اچھی خاصی چڑ گئی تھی اس سب سے۔ عمر نے پھر سے کیف کو کال ملائی تھی اور اب کی بار اسکا فون ہی آف تھا۔ ان کے تھوڑے ہی فاصلے پر کھڑی نتاشہ کے لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔

*******************

حیدر گھر سے جا چکا تھا اور فیصل صاحب کا گھر خاموشی میں ڈوبا تھا۔ نور نیچے آئی اور وہیں سیڑھیوں کے پاس کھڑی رہی۔ فیصل صاحب ایک صوفے پر بیٹھے پریشان نظر آرہے تھے۔ ان کے سامنے والے صوفے پر صائمہ بیگم بیٹھی تھیں اور نہایت غم و غصے میں نظر آتی تھیں۔

” آپ کی بھانجی نے یہ صلہ دیا ہے ہمیں ” انہوں نے اپنے شوہر سے شکوہ کرتے ہوئے کہا جو تب سے اب تک خاموش تھے۔ فیصل صاحب نے نظریں اٹھا کر ان کی جانب دیکھا اور پھر نظر پیچھے سیڑھیوں کے پاس کھڑی نور پر گئی۔

” نور بیٹا عنایہ کو کال کرکے پوچھو کہ اگر اسکا ڈنر ختم ہوگیا تو میں اسے لینے آجاؤں ؟ ” فیصل صاحب نے نور سے کہا۔ وہ سر ہلاتے ہوئے وہاں سے جانے لگی تھی جب صائمہ بیگم نے اسے روک دیا۔

” کیا مطلب ہے آپکا کہ آپ لینے جائیں گے ؟ جیسے گئی تھی ویسے ہی آجائے گی اور آپ کسی قسم کی نرمی کی امید مت رکھیے گا مجھ سے ” صائمہ بیگم نے سختی سے فیصل صاحب سے کہا تھا۔ نور وہیں کھڑی رہی تھی جب فیصلہ صاحب نے اسے آنکھوں سے جانے کو کہا تھا تو وہ جلدی سے سیڑھیاں عبور کرگئی۔

” عنایہ جب واپس آئے گی آپ اس سے کوئی بات نہیں کریں گی میں خود دیکھ لوں گا سب ” انہوں نے سامنے بیٹھی اپنی زوجہ کو تاکید کی۔

” کیسے نا کروں بات ہاں ؟ میرا بیٹا گھر چھوڑ کر چلا گیا اسکا دل ٹوٹا ہے ہمارا مان ٹوٹا ہے اور وہ لڑکی جس کو ہم نے اپنے خاندان کا حصہ بنایا اسے ذرا شرم نہیں آئی ایسا کرتے ہوئے ” صائمہ بیگم تو بھڑک اٹھی تھیں۔

” آنے دیں اسے پوچھوں گی کہ کیا کمی رہ گئی تھی ہماری پرورش میں جو یہ سب کیا اس نے ؟ اور آپ بالکل بھی نہیں بولیں گے بیچ میں ” انہوں نے دو ٹوک کہا تو فیصل صاحب خاموش ہی رہے۔

*********************

دوسری طرف زینب عنایہ کو ڈراپ کرنے جارہی تھی جب نور کی کال پر نور نے اسے سب بتا دیا تھا جیسے جیسے عنایہ سنتی گئی اسکے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ فون تو بند ہوچکا تھا لیکن عنایہ ایسے ہی ساکت بنی بیٹھی رہی جیسے اس نے اپنا سانس روک لیا ہو۔ زینب نے اسے مخاطب کیا لیکن عنایہ کے جواب نا دینے پر زینب نے ایک طرف گاڑی روک دی۔ اس کی حالت اسے تشویشناک لگ رہی تھی۔

” کیا ہوا ہے عنایہ کیا کہہ رہی تھی نور ؟ ” زینب نے اسے کندھے سے ہلاتے ہوئے ہوش دلایا تھا۔

” زینب! سب ختم ہوگیا ” عنایہ نے چہرہ موڑ کر زینب کی جانب دیکھا۔

” کیا مطلب ؟ “

” میں برباد ہوگئی زینب گھر میں سب کو میرے نکاح کا علم ہوچکا ہے۔۔۔۔۔۔میں کیا کروں گی اب ؟ ” عنایہ نے اپنا سر تھام لیا تھا۔

” او مائے گاڈ لیکن کیسے ہوا یہ سب ؟ “

” پتا نہیں نور بتا رہی تھی حیدر مجھے لینے کیلئے نکلا تھا لیکن وہ مجھے لیے بنا واپس چلا گیا اور گھر جا کر اس نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ بتا رہی تھی لیکن پھر ایک پل کیلئے رکی۔ اس کا دماغ سب جوڑ توڑ کررہا تھا۔

” افف۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے لگتا ہے حیدر نے ہماری باتیں سن لیں ہیں شاید ” عنایہ کو یہ ہی لگا تھا۔

” کونسی باتیں اور تم بتا کیوں نہیں رہی مجھے کچھ “

” ابھی کچھ نہیں بتا سکتی تم چلو مجھے گھر چھوڑ دو ” زینب نے سر ہلا کر گاڑی واپس سٹارٹ کی۔

********************

عنایہ لان میں کھڑی تھی۔ اس کے سامنے ہی لاونج کا دروازا تھا۔ وہ ہونق بنی اپنے سامنے کھڑے گھر کو دیکھ رہی جہاں وہ تب آئی تھی جب وہ محض دو تین سال کی تھی۔ یہاں اتنی محبت اتنا پیار ملا تھا۔ ماموں ممانی نے کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی تھی بالکل سگے ماں باپ بن کر اسے پلا تھا۔ نور جیسی بہن اور حیدر کی صورت میں اچھا دوست ملا تھا۔ زینب اسے چھوڑ کر جا چکی تھی حالانکہ وہ اسے ایسے چھوڑنا نہیں چاہتی تھی اور اس کے ساتھ اندر آنا چاہتی تھی لیکن عنایہ نے اسے یہ کہہ کر بھیج دیا تھا کہ جو اس نے کیا ہے اسکی سزا تو اس نے بھگتنی ہی ہے۔ اس نے ایک گہری سانس ہوا کے سپرد کی اور اندر جانے کیلئے آگے بڑھ گئی۔ جیسے ہی اس نے قدم اندر رکھا اسکی نظر سامنے اپنے ماموں اور ممانی پر گئی جو شاید کسی بات پر بحث کررہے تھے۔ صائمہ بیگم کی نظر اس پر گئی تو فوراً سے اٹھ کر اس کے پاس گئیں۔ فیصل صاحب بھی ان کے پیچھے گئے تھے۔

” تمھے شرم نہیں ایسا کرتے ہوئے ہاں ارے کونسی آگ لگی تھی تمھے ؟ ہمیں کہہ دیتی ہم تمہاری شادی اس لڑکے سے کروا کہ اس گھر سے تمھے رخصت کر دیتے ” عنایہ کا دل ڈوبا تھا۔

” صائمہ کیسے بات کررہی ہیں آپ ؟ ” فیصل صاحب نے انکا بازہ پکڑ کر سختی سے کہا تھا۔

” آپ سے میں نے پہلے بھی کہا تھا بیچ میں مت بولیے گا ” انہوں نے اپنی انگلی اٹھا کر انھیں بات کرنے سے باز رکھا تھا۔ فیصل صاحب نے تاسف سے اپنی بیوی کو دیکھا تھا۔

” اور تم بولو ذرا کیا کمی رہ گئی تھی ہماری پرورش میں کیا اس گھر میں تمہارے ساتھ برا ہوتا تھا ؟ کیا تمھے اچھا کھانے کو نہیں اور اچھا پہننے کو نہیں دیتے تھے ؟ “

” نہیں ممانی” عنایہ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ نور بھی اپنی ماں کا چلانا سن کر نیچے آگئی تھی۔

” تو بتاؤ کیوں کیا یہ ؟ ہمارے سروں پر خاک کیوں ڈالی ؟ ” وہ چیخی تو عنایہ سہم گئی۔

” میرا بیٹا کتنا خوش تھا ہم تمھے اپنی بہو بنانا چاہتے تھے اور تم نے ہمیں یہ صلہ دیا “

” مم۔۔۔۔۔۔ممانی میں ” اس کے آنسو پلکوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے۔ اسے بولا بھی نہیں جارہا تھا۔ ایک دم سے اسے چکر آیا تھا وہ گرنے لگی تھی جب فیصل صاحب نے آگے بڑھ کر اسے سنھبالا تھا۔

” بس صائمہ بہت ہوگیا میں بات کرلوں گا عنایہ سے آپ جائیں یہاں سے ” انہوں نے رعب دار آواز میں کہا تھا۔ عنایہ نے بے یقینی نے اپنے ماموں کے چہرے کو دیکھا تھا۔ وہ ابھی بھی کتنی شفقت سے پیش آرہے تھے اس سے۔

” جی نہیں! جو بھی بات ہوگی میں کروں گی ” صائمہ بیگم صاف انکاری تھیں۔

” اور آپ ہٹیں یہاں سے ” انہوں نے عنایہ کا بازو جکڑ کر اسے فیصل صاحب کے حصار سے نکالا اور اپنے سامنے کیا۔

” بتاؤ ذرا اس لڑکے کیساتھ منہ کالا کرتے وقت تمھے شرم نہیں آئی اور نکاح کیا بھی ہے کہ یہ سب بھی جھوٹ کہا ہے اپنا گناہ چھپانے کیلئے ” عنایہ کی آنکھیں پھٹی تھیں۔ وہ کیسا الزام لگا رہی تھیں۔

” صائمہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” فیصل صاحب نے غصے سے انکا نام لیتے ہوئے روکنا چاہا۔

” یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ممانی ؟ ” عنایہ روتے ہوئے بولی۔ اس کا دل چاہا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔

” اس لیے تمھے اتنی آزادی دی تھی کہ ایک دن ہمارے ہی سر پر خاک ملو ؟ ناجانے یونیورسٹی میں جا کر کیا کرتی رہی ہو ہمیں تو پتا بھی نہیں کچھ ” وہ مزید اپنا غصہ نکال رہی تھیں۔

” ماموں میرا یقین کریں میں نے کچھ غلط نہیں کیا ” عنایہ تیزی سے پلٹی تھی اور فیصل صاحب کے پاس گئی۔ اس سے پہلے فیصل صاحب کچھ کہتے صائمہ بیگم دوبارہ سے اسکا بازو پکڑ کر اسے ان سے دور کر چکی تھیں۔

” اچھا تم نے کچھ غلط نہیں کیا تو کیا میرا بیٹا جھوٹ بول رہا ہے ؟ ” عنایہ نے روتے ہوئے اپنا سر نفی میں ہلایا۔

” میرا یقین کریں ممانی میں نے ایسا کچھ نہیں کیا جس سے آپ سب کو شرمندہ ہونا پڑے ” وہ اپنے کردار کی صفائی دینے لگی تھی۔ نور کی آنکھیں بھی بھیگ گئی تھیں لیکن اس میں ذرا ہمت نہیں تھی کہ وہ اپنی ماں کے پاس جا کر انھیں روک سکے۔ فیصل صاحب بے بس کھڑے تھے۔

” میں تمہارا وجود اس گھر میں مزید برداشت نہیں کروں گی چلو میرے ساتھ” وہ عنایہ کو گھسیٹتے ہوئے اوپر لے جانے لگیں۔ فیصل صاحب انہیں آوازیں دیتے روکتے رہے لیکن انہوں نے ایک بھی نا سنی۔

********************

دوسری طرف کیف اپنے فارم ہاؤس پر موجود تھا۔ سارا لیونگ روم بکھرا پڑا تھا۔ وہ ہر چیز غصے میں توڑ چکا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ ہر چیز تہس نہس کر دیتا۔ عمر اس کے پیچھے یہاں آیا تو ہر چیز بکھری دیکھ وہ پریشان ہوا تھا۔ اس کی نظر سامنے گئی جہاں کیف صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹنے والے انداز میں بیٹھا تھا۔

” مجھے پتا تھا تم یہیں ملو گے ” عمر راستے میں پڑی چیزوں کو پاؤں سے ہٹاتا کیف کی طرف بڑھ رہا تھا۔ کیف نے عمر کی آواز پر اپنی آنکھوں سے ہاتھ ہٹائے تھے۔ عمر اس کے سر پر پہنچا اب سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جس پر کیف نے کچھ نہیں کہا بس وہاں سے اٹھ کر کچن میں گیا اور ایک گلاس پانی پی کر واپس آیا۔ عمر ابھی تک وہیں کھڑا تھا۔

” کیا پوچھ سکتا ہوں کہ یوں اچانک ڈنر چھوڑ کر تم کیوں آگئے ؟ ” عمر نے پوچھا۔ کیف واپس صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔

” کیف میں کب سے کال کررہا تھا کم سے کم بندہ کال ریسیو کرکے اطلاع دے دیتا ہے پتا بھی ہے میں کتنا پریشان تھا ” اس کے چپ رہنے پر عمر مزید گویا ہوا۔

” تو کچھ بتاتا کیوں نہیں ہوا کیا ہے ؟ ” عمر اب کی بار جھنجھلا اٹھا تھا۔

” کیا بتاؤں کہ وہ مجھے کتنا گرا ہوا سمجھتی ہے ؟ یا یہ بتاؤں کہ اتنے عرصے میں اسے اپنی محبت کا یقین نہیں دلا سکا ” کیف نے کرب سے کہا تھا۔

” پوری بات سیدھی سیدھی بتا مجھے ” عمر نے اب کی تھوڑا نرمی سے کہا۔ کیف نے اسے ساری بات بتائی جسے سن کر پہلے عمر کو افسوس ہوا پھر غصہ آیا۔

” یقیناً یہ سب اسے نتاشہ نے بتایا ہے اور یہ شرط سیریسلی کیف ؟ تو نے یہ کیا ہے مجھے یقین نہیں”

” عمر وہ صرف مذاق تھا اور میں اس شرط سے پہلے ہی عنایہ سے محبت کرنے لگا تھا لیکن اس نے مجھے کوئی صفائی کوئی وضاحت نہیں دینے دی بس اپنی عدالت لگا لی اور خود ہی مجھے مجرم قرار دے کر خود ہی مجھے سزا سنا دی ” اسے عنایہ پر ڈھیروں غصہ آرہا تھا۔

” اور اس رات کیا ہوا تھا ؟ ” عمر نے بھونیں اچکائے پوچھا۔

” کمینے تجھے لگتا ہے میں ایسا کروں گا ؟ “

” نہیں! لیکن ایسا کیا ہوا تھا ؟ مجھے نہیں لگتا عنایہ جیسی سمجھدار لڑکی ایسے ہی کسی کی باتوں میں آ جائے گی ظاہر ہے نتاشہ نے کچھ دکھایا ہوگا یا کچھ بھی ” عمر کی بات پر کیف ایک دم سوچ میں پڑا تھا۔ لیکن اتنی دیر سوچنے کے بعد بھی اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تھا۔

**********************

” اپنا سارا سامان پیک کرو اور یہاں سے چلتی بنو ” عنایہ دم سادھے کھڑی اپنی ممانی کی اتنی سنگ دلی دیکھ رہی تھی۔ فیصل صاحب غصے میں آگے بڑھے تھے۔

” بس صائمہ بہت سن لی تمہاری بکواس۔۔۔۔۔۔عنایہ کہیں نہیں جائے گی “

” میں اس لڑکی کو یہاں ایک پل نہیں رہنے دوں گی۔۔۔۔میں نہیں چاہتی کہ میری بیٹی پر مزید اسکا سایا بھی پڑے ” صائمہ بیگم فیصل صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کہہ رہی تھیں۔

” صائمہ اپنے کمرے میں جاؤ ” فیصل صاحب بولے۔

” اگر یہ نہیں جائے گی اس گھر سے تو میں اپنی بیٹی کو لے کر اس گھر سے جارہی ہوں ” وہ جانے لگیں تھی۔

” نہیں ممانی پلیز آپ کہیں نہیں جائیں گی میں جاؤں گی” اس نے آنسوؤں سے تر چہرہ لیے انہیں کہا تھا۔ اور پھر پلٹ کر اپنا سامان پیک کرنے لگی۔ صائمہ بیگم کمرے سے نکل گئیں اور فیصل صاحب بھی غصے میں ان کے پیچھے گئے تھے۔

*********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *