222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 48)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

وہ اس کے سینے سے لگی تو کیف کے دل میں جیسے سکون سا اترا تھا۔ لیکن عنایہ کو بے وقوف بنانے پر اسے ہنسی بھی بہت آرہی تھی۔ عنایہ نے پریشان نظریں اٹھا کر اس کے چہرے کو دیکھا تھا لیکن یہ کیا وہ مسکراہٹ ضبط کرنے کی ناکام کوشش کررہا تھا۔ عنایہ کو ایک پل لگا تھا سب سمجھنے میں وہ فوراً اس سے دور ہوئی۔

” تم بدتمیز، جھوٹے، مکار انسان” وہ چیختی ہوئی اپنے ہاتھ اس کے سینے پر مارنے لگی تو کیف سے بھی مزید رہا نا گیا تو وہ زور زور سے ہنسنے لگا۔

” تم کبھی باز نہیں آسکتے۔۔۔تمھے تو میں بتاتی ہوں” عنایہ نے اس کے بال اپنی مٹھی میں لینے چاہے تو کیف بدک کر پیچھا ہٹا تھا۔ کیف برق رفتاری سے اپنی چیئر کے پیچھے جا کھڑا ہوا اور عنایہ اس کی ٹیبل کے اس طرف۔

” تم بچ کے دکھاؤ میرے ہاتھوں سے آج ” وہ وہیں شعلہ بنی کھڑی گھور کر بولی تھی۔

” پہلے پکڑ تو لو چڑیل ” کیف نے اسے مزید چڑایا۔ وہ غصے میں اس کی سمت بڑھی تو کیف وہاں سے تیزی سے بھاگا تھا۔ اب منظر کچھ یوں تھا کیف پورے کیبن میں بھاگتا پھیر رہا تھا اور عنایہ اس کے پیچھے پیچھے۔

” کیف کے بچے رک جاؤ ” عنایہ نے دانت پر دانت جمائے تھے۔

” یہ تم میرے بچوں کو بہت یاد کرتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ ارادے کیا ہیں ؟” کیف نے آنکھ مارتے ہوئے معنی خیز لہجے میں کہا۔ اس کی بات پر عنایہ کانوں کی لو تک سرخ پڑی تھی۔ وہ بے باک تھا ہمیشہ سے یہ تو وہ جانتی ہی تھی لیکن اس حد تک وہ یہ بات کرے گا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ عنایہ نے ٹیبل پر پڑی چیزیں اٹھا اٹھا کر اسے مارنا شروع کردی تھیں۔

” تم دو نمبر انسان۔۔۔۔۔میں تمھے جان سے مار دوں گی ” وہ مسلسل جو چیز ہاتھ لگتی اس پر پھینک دیتی۔ دوسری طرف کیف مسکاتے ہوئے چیزوں کو کیچ کرتا جارہا تھا۔ عنایہ نے اب اسکا لیپٹاپ اٹھایا۔

” ارے یہ نہیں پاگل ہوگئی ہو ” کیف تو اسے لیپ ٹاپ اٹھاتے دیکھ ہی گھبرا گیا تھا۔

” عنایہ پاگل مت بنو یہ ٹوٹ جائے گا میری شام کو میٹنگ ہے مجھے اس کی ضرورت ہے بہت” کیف نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکنا چاہا کیونکہ عنایہ سے کوئی بعید نا تھا وہ یقیناً اسے لیپ ٹاپ دے مارتی۔ عنایہ نے ہاتھ واپس نیچے کیے اور لیپ ٹاپ واپس رکھ کر اب کوئی اور چیز ٹیبل سے اٹھا کر مارنے کا ارادہ رکھتی تھی لیکن اس سے پہلے ہی کیف لپک کر اسے ایک جھٹکے سے گھما کر اس کی پشت اپنے سینے سے لگا چکا تھا۔ اپنی مضبوط باہیں اس کے گرد حائل کیں۔

” چھوڑو مجھے ” عنایہ اس کی گرفت میں مچلی تھی۔

” ایسے کیسے چھوڑ دوں ” کیف اس کے بالوں میں اپنا چہرہ دیے بولا تھا۔ عنایہ نے اپنے ناخن اس کے ہاتھ میں گاڑے تو کیف بلبلا اٹھا اور اس کی گرفت ڈھیلی پڑتے ہی وہ اس سے دور ہوئی لیکن کیف بروقت اسکی کلائی تھام کر اس کی پشت سے لگاتا اسے واپس اپنے سینے سے لگا گیا۔ عنایہ کے دونوں ہاتھ اس کی پشت پر بندھے تھے جس پر کیف کی گرفت تھی۔ وہ اس کے حصار میں بے بس سی کھڑی تھی۔ اس کا دل چاہا ڈھیر سارا رو دے۔ یہ شخص ہمیشہ اسے بے بس کر دیتا تھا۔ لیکن وہ اس کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔

” اوفف جنگلی بلی ہو پوری ” کیف کو جلن محسوس ہوئی تو اس نے اپنا ہاتھ دیکھا جہاں اس کے ناخن اندر تک دھنسنے سے ہلکا خون لگا تھا۔

” لیکن مجھے جنگلی بلیاں بہت پسند ہیں ” وہ اس کے کان کے قریب جھکا بھاری گھمبیر آواز میں بولا تو عنایہ کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔ اس سے پہلے عنایہ کچھ کہتی دروازے پر ہونے والی دستک پر کیف نے اسے چھوڑ دیا۔ عنایہ بھی جلدی سے اس دور ہوتی چند گہرے سانس بھرتی زمین پر گری اپنی نوٹ بک کیلئے جھکی تھی۔ دوسری طرف کیف کی سیکرٹری صوفیا اندر آئی تو کیف کے کیبن میں سب بکھرا دیکھ حیران ہوئی۔ کیف نے اسے پانچ منٹ بعد آنے کا کہا تو فوراً سر ہلاتی واپس باہر نکل گئی۔ عنایہ نے جلدی سے اپنی چیزیں اٹھائی اور یہاں سے نکلنے ہی لگی تھی کہ دروازے پر پہنچنے تک کیف نے اسے واپس سے جا لیا تھا۔ وہ اسے دروازے سے لگاتا اپنے دونوں ہاتھ دائیں بائیں رکھتا اس کے فرار کے راستے بند کرگیا۔

” کیا بدتمیزی ہے یہ ؟ ہٹو میرے سامنے سے ” عنایہ جھنجھلائی تھی۔ اس کے پرفیوم کی مہک عنایہ کے حواس شل کررہی تھی۔

” اتنی آسانی سے کیسے جا سکتی ہو ؟ یہ جو مجھے زخمی کیا ہے اسکا حساب کون دے گا ” کیف شوخ لہجے میں گویا ہوا اور اس کے چہرے پر آئی چند لٹوں کو کیف نے ہاتھ بڑھا کر اس کے کان کے پیچھے اڑسا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے قریب آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے تھے۔ عنایہ خود کو اس کی آنکھوں میں ڈوبتا ہوا محسوس کررہی تھی۔ عجیب بے خودی کا عالم تھا۔ وہ پوری جان سے لرزی تھی۔ اس کے ہاتھ میں تھامی چیزیں چھوٹ کر زمین پر جا گری تھیں۔ کیف کی گہری نگاہیں اس کے چہرے کے ہر نقش کو چوم رہی تھیں۔ اس کی طرف سے کوئی احتجاج نا دیکھ کر کیف کا دل گستاخی پر آمادہ ہوا۔ وہ جھکا ہی تھا کہ عنایہ ہوش کی دنیا لوٹی تھی اور اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی اسے دھکا دیا تھا اور پھر پلٹ کر تیزی سے دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔ پیچھے کیف اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتا رہ گیا۔

***********************

آج شام لیفٹینٹ جرنل عاصم کے بیٹے کی ولیمے کی تقریب تھی جو اسلامآباد کی ایک شاندار سے مارکی میں جاری تھی۔ اس تقریب میں حیدر کی فیملی بھی شامل تھی اور حورین کی فیملی بھی مدعو تھی۔ چونکہ حورین کا بھائی اشعر بھی جرنل صاحب کے انڈر رہ چکا تھا اور وہ اسے اس کی فیملی کے حوالے سے بھی جانتے تھے تو اسی تعلق کی بنا پر انھوں نے اس کے جانے کے بعد بھی اس کی فیملی کو یاد رکھا تھا۔ حیدر نیوی بلو پینٹ کوٹ میں ملبوس کھڑا اپنے کولیگز سے باتیں کررہا تھا۔ وہ ہمیشہ کی طرح ڈیسنٹ لگ رہا تھا۔ نور اور صائمہ بیگم بھی جرنل صاحب کی بیگم کے ہمراہ موجود تھیں اور وہ انھیں حورین کی فیملی سے ملوا رہی تھیں۔ حورین کی نظر حیدر پر پڑی تو وہ ٹھٹھک گئی۔ اسے نہیں پتہ تھا وہ بھی یہاں آیا ہوگا۔ وہ اسی ہی دیکھنے میں مگن تھی جب یاد آیا کہ اس رات کیسے حیدر نے اتنے برے طریقے سے بات کی تھی۔ ایک دم اس کا دل اداس ہوا تھا تو اس نے اپنی نظریں اس پر سے ہٹا لی تھیں۔ جرنل صاحب کی بیگم انھیں بتا رہی تھیں کہ یہ میجر حیدر کی بہن اور والدہ ہیں۔ حورین گڑبڑا گئی۔ وہ انہی کے سامنے کھڑی ان کے بیٹے کو دیکھ رہی تھی۔ نور نے اس سے بات شروع کی تو حورین بھی مسکرا کر اس سے باتیں کرنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد جب کھانے کا دور شروع ہوا تو حورین وہاں سے باہر جانے لگی۔ ناجانے کیوں اس کا دل اداس سا ہوگیا تھا۔ اسی لیے وہ کھلی فضا میں جانا چاہتی تھی۔ حیدر نے اسے باہر جاتے دیکھا تو کچھ سوچ کہ وہ بھی اس کے پیچھے ہی چل دیا۔ حیدر جب فنکشن میں آیا تھا اسے دیکھ چکا تھا اور آج اس کے فادر سے تفصیلی ملاقات بھی ہوئی تھی۔ وہ باہر آیا تو ہلکی ہلکی دھند چھائی تھی۔ وہ متلاشی نگاہوں سے یہاں وہاں حورین کو ڈھونڈنے لگا اور پھر وہ اسے نظر آ ہی گئی۔ کاپر کلر کے کامدار جوڑے میں بال کو سڑیٹ کرکے کھلا چھوڑا ہوا اور ہلکے میک اپ میں بہت حسین لگ رہی تھی۔ اپنے گرد بازو باندھے وہ کھلے آسمان پر چاند اور ستاروں کو دیکھ رہی تھی جو اس کے اندر ایک الگ ہی احساس پیدا کررہے تھے۔

” اسے کیا ہوگیا تھا ؟ کیوں ایک انجان شخص جسے وہ جانتی بھی نہیں ٹھیک سے اس کی رویے سے اتنا دکھ ہوا تھا ” وہ آسمان کی سمت دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی جب پیچھے سے آتی آواز پر وہ چونک کر مڑی تو وہ ہی تھا۔ جیب میں ہاتھ ڈالے اپنی تمام تر وجاہت کیساتھ اسے سر تا پیر دیکھ رہا تھا۔ حیدر کو وہ آج کافی الگ اور بڑی لگ رہی تھی شاید پہلی بار اسے ایسے دیکھا تھا ورنہ ہمیشہ وہ اسے چھوٹی سی لڑکی لگتی تھی۔

” یہاں کیا کررہی ہو ؟ ” حیدر نے ابرو اٹھا کر استفسار کیا۔

” آپ سے مطلب ؟ ” وہ جواب دینے کی بجائے الٹا پوچھتی دوبارہ سے اس سے رخ موڑ کر کھڑی ہوگئی۔ حیدر تو اسے تکتا رہ گیا۔ دو قدم بڑھا کر وہ بھی اس کے ساتھ ہی کھڑا ہوگیا۔

” آئی ایم سوری ! مجھے اس دن تم سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی ” بنا کسی لگی لپٹی کہ اس نے اپنے یہاں آنے کی وجہ اس پر ظاہر کی۔ حورین حیران ہوئی یعنی وہ اس سے سوری کررہا تھا اور اسے احساس بھی تھا۔

” آئی ہوپ تم اب مجھ سے خفا نہیں ہو ؟ ” حیدر نے اس کی طرف سے کوئی جواب نا آنے پر مزید کہا۔

” آپ کو کس نے کہا میں آپ سے خفا ہوں ؟ ” حورین نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ وہ بھی اس کی طرف مڑا تھا۔

” ایسے ہی مجھے لگا ” حیدر نے شانے جھٹک کر کہا۔ حورین نے غور سے اس کے چہرے کو دیکھا تھا۔ شاید اس کے کسی تاثر سے وہ کچھ اندازہ لگانا چاہ رہی تھی۔

” یہاں بہت سردی ہے میرے خیال میں ہمیں اندر چلنا چاہیے ” حیدر نے کہا۔ حورین نے سر ہلایا اور اس کے ہم قدم ہوئی۔

” بائے دا وے اچھی لگ رہی ہو ” وہ ساتھ چلتے ہوئے بولا تو حورین کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔

” تھینکس! ” اس نے دھیمے سے کہا۔ اس کے لبوں پر ایک خوبصورت مسکان در آئی۔ کچھ دیر پہلے تک وہ جو اداس سی تھی اب دل کا موسم بھلا لگ رہا تھا۔

**********************

حیدر کی گاڑی مارکی سے واپس گھر کی جانب گامزن تھی۔ حیدر گاڑی ڈرائیو کررہا تھا اور صائمہ بیگم اس کے ساتھ آگے والی سیٹ پراجمان تھیں جبکہ نور پیچھے بیٹھی تھی۔

” ماما وہ لڑکی کتنی پیاری ہے نا ؟ ” نور کو ایک دم خیال آیا تو اپنی ماما سے فوراً ذکر کیا۔

” کون لڑکی ؟ ” صائمہ بیگم نے نور سے پوچھا۔

” ارے وہ ہی جس کی فیملی سے آنٹی نے ملوایا تھا حورین ” نور نے ان کو یاد کروایا۔

” ہاں وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صحیح کہا بہت پیاری بچی ہے ” صائمہ بیگم کو یاد آیا تو مسکرا کر جواب دیا۔ دوسری طرف حیدر بالکل انجان بنا گاڑی چلاتا رہا۔ نور نے کن اکھیوں سے اپنے بھائی کے چہرے کو دیکھا تھا۔

” بھائی آپ کو کیسی لگی ؟ ” اس نے لب دبا کر پوچھا تھا۔ کیونکہ حورین کو تو وہ دیکھ چکی تھی شادی پر کہ وہ کیسے بار بار اس کے بھائی کو دیکھ رہی تھی لیکن اس کے بھائی کی طرف سے بھی ایسا کچھ ہے یا نہیں وہ اب یہ جاننا چاہ رہی تھی۔

” کون ؟ ” حیدر نے مکمل لاتعلقی کا مظاہرہ کیا جیسے جانتا ہی نا ہو کس کی بات ہورہی ہے۔

” وہ ہی جس کی نظریں بار بار آپ پر ہی اٹھ رہی تھیں” نور نے شرارت بھرے انداز میں کہا تھا جبکہ حیدر اس کی بات پر ٹھٹھکا تھا۔ صائمہ بیگم نور کی بات پر مسکرائی تھیں۔

” کیا مطلب؟ ” حیدر نے بیک مرر سے نور کو ایک نظر دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔

” کچھ بھی نہیں ” نور مسکراہٹ ضبط کرتی بولی۔ لیکن حیدر کے ذہن میں اس کی بات چپک کر رہ گئی تھی۔ وہ اس بارے میں گھر پہنچ کر اس سے بات کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

**********************

عنایہ کے فلیٹ میں جھانکیں تو وہ کھانا کھانے کے بعد برتن دھو رہی تھی۔ سلک کے نائٹ سوٹ پر لمبا سا سویٹزر پہنے، بالوں کا رف سا جوڑا باندھے ہوئے تھی۔ برتن دھو کر فارغ ہوئی تو اس نے کافی بنانے کیلئے پین میں دودھ گرم کرنے کیلئے رکھا۔ مگ میں کافی بیٹ کرتے وقت ذہن میں آج صبح والا واقع باز گشت کرنے لگا۔ وہ کیسے اسے خود کے اتنے قریب آنے دے رہی تھی۔

” کیا میں بھول گئی ہوں جو اس نے میرے ساتھ کیا ؟ ” عنایہ کے دل میں یہ بات آئی۔

” میں کیوں کررہی ہوں یہ سب۔۔۔۔۔ کیوں مجھے اتنا فرق پڑتا ہے جب وہ سٹیلا کی بچی اس کے ساتھ ہوتی ہے ” وہ کافی میں چمچ چلاتی ہوئی مسلسل خود سے سوال کررہی تھی۔ دفعتاً اسے خود پر نظروں کی تپش محسوس ہوئی تو وہ ہوش میں آتی یہاں وہاں دیکھنے لگی۔ لیکن کوئی نہیں تھا۔ پھر اسے ایسے کیوں محسوس ہوا جیسے کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔

” لگتا ہے میں کچھ زیادہ ہی سوچ رہی ہوں ” اپنے خیالوں کو جھٹک کر اس نے گرم دودھ کو مگ میں انڈیلا تھا۔ پین کو سنک میں رکھنے کیلئے مڑی ہی تھی جب اسے کسی کے قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی وہ چونکی اور واپس پلٹی اور کچن سے باہر آئی لیکن پورا لاونج خالی اور خاموش تھا۔

” لگتا ہے میرا وہم ہے ” وہ بڑبڑاتی داخلی دروازے تک گئی اور لاک ٹھیک سے چیک کیا جو کہ بند ہی تھا۔

واپس کچن میں آتی اس نے مگ اٹھایا اور کچن کی لائٹ آف کرتی اپنے بیڈروم میں چلی گئی۔ پیچھے لاونج میں پردوں کے پیچھے ہلچل سی ہوئی تھی۔

*********************

پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا تھا سوائے لیپ ٹاپ کی سکرین سے پھوٹتی دھیمی سی روشنی کہ جو عنایہ کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ کافی ختم کرکے اس نے مگ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا تھا اور اپنا کام ختم کرتی وہ اب ایک ترکش ڈرامہ لگائے بیٹھی تھی۔ ایک منٹ کی گزرا تھا جب باہر لاونج میں کچھ گرنے کی آواز پر وہ گھبرائی۔ اس نے فوراً سے دروازے کی طرف دیکھا تھا۔

” یہ۔۔۔۔۔۔۔کیسی آواز تھی ” وہ بڑبڑائی۔ دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا۔ لیپ ٹاپ کو گود سے ہٹا کر وہ بیڈ سے اٹھی تھی اور آگے بڑھ کر کمرے کی لائٹ اون کی تو پورا کمرہ روشنی میں نہا گیا۔ ڈرتے ڈرتے وہ کمرے کا دروازہ بالکل آہستہ سے کھولنے لگی۔

” اوفف اگر باہر کوئی ہوا تو ؟ ” اس نے ڈرتے ہوئے سوچا۔

” نہیں نہیں میں بے وجہ ڈر رہی ہوں ایسا کچھ نہیں” خود کو دلاسہ دیتی اس نے ہلکا سا دروازہ کھولا اور پھر اپنا سر باہر نکالا اور ایک نظر پورے لاونج میں ڈالی۔ دھیمے قدم اٹھاتی وہ باہر نکل آئی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ پھر کیا گرنے کی آواز آئی تھی۔ وہ انگلی منہ میں ڈالے کھڑی تھی۔ اسے اچھے سے یاد تھا کوئی چیز شیشے پر گرنے جیسی آواز تھی لیکن ٹیبل پر تو کچھ گرا ہوا نظر نہیں آیا تھا۔

” کہیں کوئی جن یا چڑیل تو نہیں ؟ ” اس کے ذہن میں یکدم خیال آیا تو وہ الٹے قدم اندر بھاگی تھی۔ دروازہ بند کرتی وہ تیزی سے واپس بیڈ پر جا بیٹھی۔ آیت الکرسی کا ورد کرتی وہ اب سہمی نظروں سے یہاں وہاں دیکھنے لگی۔ کچھ دیر یوں ہی گزر گئی اور اب اسے بہتر محسوس ہونے لگا۔ اپنے فون کا ٹارچ اون کرتی وہ اٹھ کر کمرے کی لائٹ آف کر آئی اور بیڈ پر سونے کے ارادے سے لیٹ گئی۔ تیز روشنی میں تو اسے نیند آتی نہیں تھی اور آج وہ مکمل اندھیرے میں سو نہیں سکتی تھی۔ اس لیے موبائل کی ٹارچ اون چھوڑ کر اسے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔ اچھی طرح سے کمبل اوڑھتی وہ ایک بار پھر سے کمرے کے دروازے کو دیکھنے لگی۔ پھر خیال آیا کہ جلدی میں اندر آتے ہوئے کمرے کا دروازہ لاک کیا تھا یا نہیں۔

” اوفف کیا مصیبت ہے ؟ ” وہ جھنجھلا کر بڑبڑائی۔

” کچھ بھی نہیں ہے عنایہ سو جاؤ ” خود سے کہتی وہ آنکھیں بند کرگئی۔ آج اسے دوسری بار گھر اکیلے میں ڈر لگا تھا۔ پہلی بار جب آنٹی کا انتقال ہوا تھا اس رات وہ ڈری تھی اور پوری رات سو نہیں پائی تھی۔

************************

اس کی آنکھ لگے ابھی پندرہ سے بیس منٹ ہی گزرے تھے جب کسی احساس کے تحت عنایہ نے بوجھل ہوتی پلکوں کو بامشکل کھولنے کی کوشش کرتے ہوئے اردگرد کا جائزہ لینا چاہا۔ اپنے پیچھے کسی کا وجود محسوس ہورہا تھا۔ کمر پر کسی کا بھاری ہاتھ اور گردن پر کسی کی گرم سانسیں یہ سوچ آتے ہی کہ وہ کسی کے حصار میں ہے۔ اس کا دل جیسے دھڑکنا بند ہوگیا تھا۔ عنایہ نے اپنی سانسیں روک لیں۔

” کیا کوئی چور گھس آیا تھا ؟ ” اس نے سوچا۔

” کہیں میرے ساتھ کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” جیسے ہی یہ خیال آیا وہ تیزی سے چیختی ہوئی بیڈ سے اتری تھی۔ اور دروازہ کھولتی باہر لاونج میں آگئی۔ اتنے عرصے میں وہ مسلسل چیخ رہی تھی۔ لاونج کے دروازے تک وہ پہنچی ہاتھ بڑھا کر لاک کھولنا چاہا ہی جب اسکا ہاتھ کسی کی آہنی گرفت میں آیا تھا۔ پیچھے کھڑے وجود نے اسے اپنی طرف موڑا تو عنایہ کی نظر اس پر پڑی لیکن وہ ابھی بھی چیخ رہی تھی۔ کیف نے اپنا بھاری ہاتھ اس کے لبوں پر دھرا تھا۔

” کیا ہوگیا ہے پاگل ہوگئ ہو ؟ میں ہوں ” کیف نے اس کی پھیلی ہوئی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دبا دبا سا کہا تھا۔ عنایہ کو دو منٹ لگے تھے سمجھنے میں۔ وہ ہلکا ہلکا کانپ بھی رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نمی بھی اتر آئی۔

” میں ہاتھ ہٹا رہا ہوں چیخنا مت اوکے ” کیف نے اسے کہا تو اس نے سر ہلایا۔ کیف نے ہاتھ ہٹایا تو وہ بے اختیار اس کے سینے سے لگ گئی۔ دونوں ہاتھ کیف کے گردن کے گرد باندھے وہ کھڑی تھی۔ کیف کو اپنی رگ رگ میں سکون سرایت کرتا محسوس ہورہا تھا۔ وہ خود اس کے قریب آئی تھی۔ دوسری طرف عنایہ آنکھیں موندے کھڑی کتنی ہی دیر اس کی موجودگی کا احساس اپنے اندر اترتے ہوئے محسوس کررہی تھی۔ اس نے شکر کیا کہ وہ تھا اگر کوئی اور ہوتا تو۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے آگے وہ سوچ بھی نا سکی۔ عنایہ کا پور پور تسکین کے زیر اثر تھا۔

” ریلکیس میری جان کوئی نہیں ہے۔ بس میں ہوں تمہارا کیف” وہ دھیمے سے اپنا ہاتھ عنایہ کے سر پر پھیرتے ہوئے اسے بہلانے لگا۔ اس کی آواز پر عنایہ نے اپنی بند آنکھیں کھولیں اور اس سے الگ ہوئی۔

” کیا ہوا ؟ تم اتنا ڈر کیوں گئی ہو ؟ ” کیف نے اپنا ہاتھ اس کے گال پر رکھتے ہوئے استفسار کیا۔ عنایہ جو تب سے چپ کھڑی تھی۔ اسے ساری بات اب سمجھد آنے لگی تھی۔ مطلب وہ جو اتنی دیر سے گھر میں کسی کی موجودگی محسوس کررہی وہ کیف تھا۔

” تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم نے جان بوجھ کر کیا نا یہ سب مجھے ڈرانے کیلئے” عنایہ نے اسکا ہاتھ اپنے گال سے ہٹایا تھا۔ کیف اس کی بات پر دھیما سا مسکایا تھا۔ عنایہ کو لگا وہ اس کا مذاق اڑا رہا ہو جیسے۔ اس نے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھتے اسے دھکا دیا تھا۔

” مزہ آرہا ہے مجھے یوں ڈرا کر ” اس نے ایک اور دھکا دیا تھا۔

” ہر چیز مذاق ہے نا تمہارے لیے ؟ اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ اس نے پھر سے ہاتھ بڑھا کر اسے دھکا دینا چاہا تو کیف اس نے اس کی دونوں کلائیاں اپنی ہاتھ کی گرفت میں لیتے کھینچ کر اپنے گلے لگا لیا تھا۔ عنایہ نے اس سے دور ہونا چاہا لیکن کیف کی گرفت سے وہ خود کو آزاد نا کر پائی۔ ہار مانتے ہوئے اس نے اپنے دونوں ہاتھ اس کی پشت پر باندھ دیے۔ اب وہ بنا کسی مزاحمت کے اس کے سینے سے لگی کھڑی تھی۔ کیف اس کے انداز پر مسکرا اٹھا۔

***********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *