222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 16)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

عنایہ نے سارا قصہ نور کو بتایا کہ کیسے کیف نے اسے پہلے سر سے ڈانٹ پروائی اور پھر خود ہی جا کر سر کو ساری بات بتا دی۔

” مجھے سمجھ نہیں آرہا یہ بندہ چاہتا کیا ہے ؟ ” عنایہ کچن میں کھڑی رات کے کھانے کیلئے کباب تل رہی تھی جب اس نے نور سے کہا جو سلاد کاٹ رہی تھی۔

” ہائے آپی بالکل کسی ہیرو والا کام کیا ہے کتنا اچھا ہے نا جا کر خود اپنی شکایت لگا دی۔۔۔۔۔واہ میرے ہیرو ” اس کے تبصرے پر عنایہ خونخوار نظریں لئے اسکی طرف آئی۔

” تم میری بہن ہو یا اس کمینے کی ؟ “

” ہائے کیا ہوگیا ہے آپی اتنا غصہ کیوں ہورہی ہیں ؟ میں تو یوں ہی کہہ رہی تھی ” نور اس کے تیور دیکھ کر جلدی سے وضاحت دینے لگی۔ عنایہ اسے تیز نظروں سے گھور کر دوبارہ چولہے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔

” ویسے ایک بات کہوں ” نور نے چور نظروں سے دیکھتے ہوئے اجازت مانگی۔

” اگر تو اس کمینے کی تعریفوں کے پل باندھے تو مار کھاؤ گی مجھ سے ” عنایہ نے انگلی اٹھا کر اسے تنبیہ کی۔

” ہاں نہیں کروں گی۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے ایسا کیوں کیا ہوگا ؟ آپ کو کیا لگتا ہے ؟ ” نور خاصے تجسس والے انداز میں بولی۔

” ہمممم یہ ہی تو مجھے بھی نہیں سمجھ آرہا کہ وہ بندہ ایسا کیوں کرے گا ؟ ضرور دال میں کچھ کالا ہے “

” ہو سکتا ہے انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہو۔۔۔۔یا پھر کوئی اور بات۔۔۔۔۔۔۔۔” اسکی بات پر عنایہ آنکھیں چھوٹی کیے سوچنے لگی۔ نور نے اسکی طرف دیکھا اور اپنی جگہ سے اٹھ کر عنایہ کے پیچھے آئی۔

” ہوسکتا ہے وہ واقعی میں اتنے برے نا ہوں۔۔۔۔۔یا انھیں آپ اچھی لگنی لگ گئی ہوں ” نور کہہ کر تیزی سے کچن سے نکل گئی۔ جبکہ عنایہ اچھی لگنی والی بات پر آنکھیں پھیلائے وہیں کھڑی رہی پھر ایک دم ہوش میں آئی اور پلٹی تھی۔

” نور کی بچی کیا بکواس کرکے گئی ہو ؟ ” عنایہ نے چلا کر کہا تھا۔ لیکن نور اب کم سے کم عنایہ کے پاس واپس آنے کا رسکس نہیں لے سکتی تھی۔

*********************

رات کے ایک بجے کا وقت تھا۔ کیف اپنے گھر کے لان میں موجود سگریٹ پی رہا تھا۔ سب گھر والے سو چکے تھے اسی لئے اسے کوئی فکر نا تھی۔ سوچوں کا مرکز آج صبح جو اس نے کیا اس پر تھا کہ کیسے وہ سر ہمدانی کے پاس جا کر انھیں ساری بات بتا گیا تھا اور وجہ ابھی تک خود سمجھ نہیں آئی تھی۔ کیوں وہ اسکی آنکھوں میں ہلکی سی نمی دیکھ کر پگل گیا؟ جب وہ اسے وضاحت دینے گیا اس کی ناراضگی اسے بالکل اچھی نہیں لگ رہی تھی۔ وہ اتنی خفا تھی اس سے۔۔۔۔۔۔ اسے کیوں فوق پڑ رہا تھا؟ کیف نے بے چینی سے ایک ہاتھ بالوں پر پھیرا اور دوسرے ہاتھ میں پکڑا سگریٹ پھینک کر اپنے جوتے تلے مسلا تھا۔ پھر ایک نگاہ آسمان کی طرف ڈالی اور اپنی آنکھیں موند لی۔ آنکھیں بند کرتے ہی وہ اسے عمر کے ساتھ ہنستی ہوئی دکھی۔ کیف نے پھر سے آنکھیں کھول دیں۔

” کیوں وہ منظر مجھے ایک آنکھ نہیں بھایا تھا ؟ یہاں تک کہ اپنے دوست اپنے بھائی سے میں بکواس کررہا تھا۔۔۔۔۔۔۔افف کیف تم پاگل ہو جاؤ گے۔۔۔۔۔۔۔ اس سب کا ایک ہی حل ہے مجھے اس لڑکی سے دور رہنا چاہیے ” کیف نے خود سے تہیہ کرلیا تھا۔

*********************

اگلے کچھ دن یونیورسٹی میں ایسے ہی گزر گئے تھے۔ کیف اور عنایہ کا سامنا بہت کم ہوتا تھا یا یہ کہنا بہتر تھا کیف خود ہی اس کے سامنے جانا چھوڑ چکا تھا۔ جبکہ عمر عنایہ اور زینب کی دوستی کافی زیادہ ہوگئی تھی۔ کیف والے اس واقعے کے بعد عمر نے زینب کو بلانا چھوڑ دیا تھا وجہ وہ ہی تھی کہ وہ اسے کیف کا دوست کہہ کر ناراض ہوئی اور جو عنایہ کے ساتھ ہوا اس میں اسے قصوروار سمجھتی تھی۔ زینب کو عمر کا اگنور کرنا بے حد برا لگا لیکن اس نے عمر سے سوری بول کر اسے منا ہی لیا تھا۔ عمر کیلئے یہ ہی بات بہت تھی کہ اسکی ناراضگی سے اسے فرق پڑتا تھا۔ یونیورسٹی میں فرسٹ سمیسٹر کے ایگزیمس اناؤنس ہوچکے تھے۔ سب ہی سٹوڈنٹس فرسٹ سمیسٹر کے ایگزیمس کی تیاری میں مگن ہوگئے جو اگلے ماہ شروع ہونے تھے۔ ان دنوں میں ایک دن لائبریری کے باہر سے گزرتے ہوئے کیف اور عنایہ کا سامنا ہوا تو کیف ایک پل کیلئے رکے اسے دیکھتا رہا اور اگلے ہی لمحے اس کے پاس سے گزر گیا۔ عنایہ نے مڑ کر اسے جاتے دیکھا۔اسے کیف کا یہ رویہ سمجھ نہیں آیا تھا وہ نوٹ کررہی تھی اس دن کے بعد سے کیف نے نا اسے تنگ کیا نا کوئی شرارت نا کوئی طنز بلکہ وہ اسے نظر بھی بہت کم آتا تھا۔ وہ لاشعوری طور پر اکثر کیف کے بارے میں سوچتی تھی۔

******************

آج یونیورسٹی میں پہلا پرچہ تھا۔ کلاس روم اندر باہر سبھی رٹے لگانے میں مصروف تھے۔ کیف اور نتاشہ کلاس روم کے باہر راہداری میں کھڑے تھے دونوں کے ہاتھوں میں نوٹس پکڑے تھے جب عمر چلتا ہوا ان کے پاس آیا تھا۔

” ہے گائز ! ” عمر مسکرا کر ہاتھ ہلاتے ہوئے دونوں سے بولا۔ کیف ایک نظر اس پر ڈال کر دوبارہ نوٹس پر جھک گیا۔

” تمھے کیسے یاد آگئی ہماری ؟ ” نتاشہ نوٹس چھوڑ کر تنک کر اسکے سامنے کھڑی ہوئی۔

” کیا مطلب ؟ ” عمر نے اچنبھے سے اسے دیکھا تھا۔

” مطلب آجکل کہیں اور دوستیاں چل رہی ہیں ” نتاشہ نے طنز کیا۔

” اوہ یار وہ تو بس ایسے ہی ” عمر نے کندھے اچکائے۔

” ایسے ہی۔۔۔۔۔۔۔۔ہممممم۔۔۔۔۔۔مطلب نئے دوستوں کی وجہ سے ہمیں بھول گئے ہو “

” ایسا تو نہیں ہے “

” اچھا پہلے تو ہمارے ساتھ ہوتے تھے اب جب دیکھو ان دونوں کے اردگرد منڈلانے رہتے ہو ” نتاشہ کے کہنے پر کیف نے ایک بار پھر سے نگاہیں اٹھائیں تھی۔ بظاہر تو وہ نوٹس پڑھ رہا تھا لیکن ان کی گفتگو وہ ساری سن رہا تھا۔

” تو تم دونوں بھی جوائن کرلیا کرو ہمیں۔۔۔۔۔۔ویسے بھی ہم کلاس فیلوز ہیں آپس میں دوستی ہونی چاہیے ہماری”

” ضرورت نہیں ہم تین ہی کافی ہیں ” نتاشہ نے آنکھیں گھمائیں۔

” یار نتاشہ وہ دونوں اچھی ہیں اور ویسے بھی ہم ہمیشہ سے تین دوست تھوڑی ہیں ؟ کیف اور میرے اور بھی دوست ہیں اور کلاس میں سارہ ماہی وغیرہ کے ساتھ تمہاری بھی تو دوستی ہے”

” جو بھی ہے عمر لیکن ہمارا یہ گروپ صرف ہم تین کا ہی رہے گا۔۔۔۔۔کیونکہ اس میں نا تو تم دونوں کا کوئی کامن دوست آتا ہے نا میری کوئی دوست۔۔۔۔۔۔ہماری بات الگ ہے۔۔۔۔تم نے رکھنی ہے ان سے دوستی رکھو لیکن ہمارے اس گروپ میں وہ شامل نہیں ہوسکتیں ” نتاشہ نے واضح طور پر اسے باور کرایا۔

” اوکے فائن ! ” وہ کہہ کر کلاسروم کے اندر جا چکا تھا۔

” اسے دیکھو ذرا ” اسکے جاتے ہی نتاشہ نے کیف سے کہا تھا۔

” اٹس اوکے نتاشہ ہم اسے کسی سی دوستی کرنے سے روک تو نہیں سکتے نا “

” لیکن وہ جانتا ہے کہ تمہارے اور عنایہ کے بیچ کتنا کچھ ہوا ہے اور تم دونوں کی بالکل نہیں بنتی پھر بھی وہ ان سے جا ملا ” نتاشہ کے عنایہ کے ذکر پر کیف کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی۔

” جو بھی تھا وہ اب ختم ہوچکا ہے تو اسکی مرضی ہے وہ جس سے چاہے دوستی کرے۔۔۔۔۔۔۔so chill ” کیف کی بات پر نتاشہ نے سر کو اثبات میں ہلایا اور دوبارہ اپنے نوٹس کی جانب متوجہ ہوگئی۔

*******************

یہاں ایگزیمس ختم ہوئے تو سٹوڈنٹس نے سکھ کا سانس لیا۔ اور دوسری طرف یونیورسٹی نے سٹوڈنٹس کے مائنڈ فریش کرنے کیلئے انھیں ٹرپ پر مری لے جانے کا فیصلہ کیا۔ اس خبر سے پوری یونیورسٹی کے سبھی سٹوڈنٹس میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ایگزیمس کے بعد سے لیکچرز تو نا ہونے کے برابر تھے اور اب ہر وقت اس ٹرپ کے حوالے سے باتیں ہوتی رہتی تھیں۔

*******************

” پھر تم چل رہی ہو نا ؟ ” زینب نے پاس کھڑی عنایہ سے پوچھا جو چائے کا سیپ لے رہی تھی۔ وہ دونوں ابھی کیفے ٹیریا سے نکلی تھیں۔

” موڈ تو نہیں ہے لیکن تم ضد کررہی ہو اسی لئے۔۔۔۔۔ماموں سے اجازت مل گئی تھی رات کو ” عنایہ نے کافی کا مگ لبوں سے ہٹا کر جواب دیا۔

” ہائے شکر ہے۔۔۔۔۔۔لیکن سارہ کریڈٹ میں نود کو دوں گی اس میں۔۔۔۔۔” زینب نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے کہا تھا۔

” بدتمیز تم نے ہی اسے میرے پیچھے لگایا تھا نا ؟ ” عنایہ نے گھوم کر تیکھی نظروں سے اسے دیکھا تھا۔ زینب نے قہقہہ لگایا تھا۔

” کیا کرتی میں ؟ مجھے تم نے صاف انکار کیا تھا۔۔۔۔۔پتا نہیں خود کو کیا سمجھتی ہو۔۔۔۔۔میں نے بھی سوچ لیا تھا کے تمھے تو ساتھ لے جا کر رہوں گی اور مجھے پتا تھا اس معاملے میں نور ہی ہے جو تمھے قائل کرسکتی تھی ” زینب نے بات مکمل کرکے آنکھیں ٹپٹپائ تھیں۔ عنایہ نے ایک تھپڑ اسکے کندھے پر رسید کیا تھا جس پر زینب مزید ہنستے ہوئے اس سے دور ہوئی تھی۔ سامنے سے آتا عمر اس جلترنگ سی ہنسی میں کھو سا گیا تھا۔

******************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *