222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 32)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

وہ ایک ہاتھ سے فون کان پر لگائے نیم دراز تھی۔ دوسری طرف کیف بھی بیڈ پر چیت لیتا ایک ہاتھ سے فون پکڑے مسکرا رہا تھا۔ وہ پچھلے پندرہ منٹ سے ایک دوسرے سے باتیں کررہے تھے۔

” تو پھر میں سوچ رہا تھا تم میرے ساتھ ڈیٹ پر چلو ” کیف نے کہا۔

” اس حالت میں بھی تمہیں سکون نہیں ہے نا ” وہ تھوڑا خفیف ہوئی۔ کیف ہنسا تھا۔

” ہاں جب تک تم مان نہیں جاتی۔۔۔۔۔ساتھ رہیں گے کچھ باتیں کریں گے اور ڈنر ” وہ پورا ارادہ کیے ہوئے تھا۔

” اور کہاں جائیں گے ہم ڈنر پر؟ ” عنایہ ہار مانتے ذ ہوئے پوچھنے لگی۔

” فارم ہاؤس پر “

” اتنی دور ؟ ” اپنا خدشہ وہ زبان پر لائی۔

” تو پہلے بھی تو وہاں کتنی بار آئی ہو “

” پہلے وہاں سب ہوتے تھے اور میرے ساتھ زینب بھی آتی تھی ” اس نے نروٹھے پن سے کہا۔

” اوہ میں سمجھ گیا تم میرے ساتھ اکیلے نہیں رکنا چاہتی۔۔۔۔۔۔گڈ ” کیف نے منہ بنایا تھا۔ عنایہ اس کی بات پر مسکراتے لب دبا گئی۔

” اوکے فائن! عمر اور زینب بھی ہمارے ساتھ ہوں گے اسی بہانے وہ بھی ڈیٹ مار لیں گے ” کیف نے احسان جتلانے والے انداز میں کہا تو عنایہ ہنس دی۔

” کیف۔۔۔۔۔۔۔۔” عنایہ سیدھے لیٹے دائیں ہاتھ میں فون کان سے لگائے اور بائیں ہاتھ کو آنکھوں کے سامنے کیے لہجے میں پیار سموئے اسے پکار بیٹھی۔

” کیف کی جان ” وہ جی جان سے متوجہ ہوا تھا۔ عنایہ کے لبوں کو مسکان نے چھوا۔

” مجھے گانا سننا ہے تمہاری آواز میں ” وہ لاڈ سے فرمائش کررہی تھی۔

” اوہ یعنی تم بھی میری سنگنگ کی فین ہو ؟ “

” ہوں تو سہی ” اس نے اقرار کیا تو کیف سرشار ہوا۔ لیکن اسے شرارت سوجھی تو اپنی مسکراہٹ ضبط کرتے اس نے گانا شروع کیا۔

” تو چیز بڑی ہے مست مست۔۔۔تو چیز بڑی ہے مست مست ” کیف بول کر قہقہ لگا گیا۔

” کیف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ صدمے سے چیخی تھی۔ پھر ایک دم نظر دوسری جانب سوئی نور پر گئی کہ کہیں اسکی آواز سے وہ جاگ تو نہیں گئی لیکن وہ پرسکون سا سو رہی تھی۔ دوسری طرف کیف ابھی بھی ہنس رہا تھا۔ عنایہ حائف ہوتی چپ ہی رہی تو کیف گنگنانے لگا۔

کچی ڈوریوں، ڈوریوں، ڈوریوں سے

مینو تو بندھ لے

پکی یاریوں، یاریاں، یاریوں میں

ہونڈے نا فاسلے

ایہ ناراضگی کاغذی ساری تیری

میرے سوہنیا سن لے میری

دل دیاں گلاں

کراں گے نال نال بہھ کے

آکھ نال آکھ نوں ملا کے

دل دیاں گلاں

کراں گے روز روز بہھ کے

سچیاں محبتاں نبھا کے

عنایہ تو آنکھیں موندے کسی اور ہی دنیا میں کھوئی تھی اور لب مسکرا رہے تھے۔

” وہ کتنا اچھا گاتا تھا اسکی آواز دل کو چھو جاتی تھی اور افف یہ گیت کتنا خوبصورت لگا تھا اسوقت۔ ” کمرے میں موجود کھڑکی کے اس پار رات قطرہ قطرہ بیت رہی تھی۔

**********************

وہ آئینے کے سامنے کھڑی کیف کے ساتھ ڈنر پر جانے کیلئے تیار ہورہی تھی۔ نور اسے تیار ہونے میں ہیلپ کررہی تھی۔ وہ پاؤں کو چھوتا کالا لمبا فراک جس ہر سنہرے رنگ کی لیس والی پٹی کمر پر لگی تھی پہنے ہوئے تھی۔ آنکھوں میں بھر بھر کر کاجل اور ہونٹوں پر پنک لپ گلوس لگائے دمک رہی تھی۔

” یہ لیں یہ جھمکے بالکل پرفیکٹ جائیں گے ” نور جھمکے لیے اس کے پاس آئی۔ اس نے مسکرا کر جھمکے لیے اور انہیں پہننے لگی۔ دفعتاً اسکا فون بجا تو نور نے جلدی سے آگے بڑھ کر کال پک کی۔ دوسری طرف حیدر تھا۔ نور اس سے باتیں کرنے لگی اور عنایہ بیڈ پر بیٹھی اپنی ہیلز پہننے لگی۔

” آپی تو ابھی مصروف ہیں بھائی ” نور کی آواز کمرے میں گونجی۔

” اچھا کیا کررہی ہے وہ ؟ ” حیدر نے پوچھا۔

” وہ زینب آپی کی برتھڈے ہے نا وہیں جارہی ہیں ” عنایہ نے گھر میں یہ ہی بتایا تھا لیکن نور کو اس نے سچ یہ بتایا تھا کہ وہ زینب عمر اور کیف کے ساتھ ڈنر پر جارہی ہے۔ عنایہ نے ہاتھ کے اشارے سے فون مانگا۔

” یہ لیں بات کریں آپی سے ” اس نے عنایہ کو فون دیا تو حال احوال کے بعد وہ عنایہ سے اس دن کے بابت پوچھنے لگا۔

” کوئی ایشو تو نہیں ہوا اس دن کے بعد ؟ اس لڑکے نے کچھ کہا تو نہیں ؟ “

” نہیں ” اس نے بتایا تو حیدر مطمئن ہوا۔ تھوڑی دیر بعد وہ آئینے کے سامنے دوبارہ سے کھڑی آخری نظر اپنی تیاری پر ڈال رہی تھی لیکن اب اس کے چہرے پر خوشی کی کوئی رمک نا تھی بلکہ چہرے پر دکھ کے آثار تھے۔

” وہ جھوٹ بول رہی تھی سب سے۔۔۔۔۔۔۔ایسے تو نا تھی وہ۔۔۔۔۔حیدر کو جب سچ کا علم ہوگا تو کیا سوچے گا وہ ؟ کیسے سامنا کرے گی سب کا ؟ کیا جواب دے گی کیف سے نکاح کا ؟ ” آئینے میں اپنے عکس کو دیکھتے ہوئے وہ خود سے سوال کر رہی تھی۔

*********************

شام کے سائے ڈھل رہے تھے جب وہ عمر اور زینب کیساتھ فارم ہاؤس پہنچی تو لمبی راہداری پر چلتے ہوئے اس نے خود کو کمپوز کیا۔ ساری سوچیں کچھ وقت کیلئے دماغ سے جھٹک دیں کیونکہ وہ کیف کیساتھ کچھ اچھا وقت گزارنا چاہتی تھی۔ وہ ویسے بھی اس کے ایکسیڈینٹ کی وجہ سے تھوڑا حساس ہوگئ تھی اور مزید اسے کسی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔ وہ اپنے دھیان میں چل رہی تھی زینب اور عمر اس کے پیچھے تھے۔ جب عمر نے زینب کی کلائی تھام کر اسے وہیں روک لیا اور عنایہ داخلی دروازہ عبور کیے اندر جا چکی تھی۔

” کیا ہے ؟ یہاں کیوں روکا ہے ؟ ” زینب نے عمر سے پوچھا۔

ارے ہم دونوں یہیں باہر رکتے ہیں نا ” عمر نے گارڈن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو زینب نے سر ہلایا اور اس کیساتھ چل دی۔

********************

عنایہ کی نظر سامنے کیف پر گئی جو لیونگ ایریا کے بیچوں بیچ کھڑا اپنا فون استعمال کررہا تھا۔ وہ یہاں پہلے سے موجود سب تیاریاں کروا رہا تھا۔ نیوی بلیو جینز پر بلیک شرٹ پہنے وہ ہمیشہ کی طرح عنایہ کا دل دھڑکا گیا۔

” یہ ہینڈسم بندہ صرف اسکا تھا ” وہ سوچتے ہوئے دھیرے دھیرے قدم اس کی اور بڑھا رہی تھی۔ اور کیف جو جھکا عمر کو میسج کررہا تھا بنا اس کی اور دیکھے مسکرایا۔ پھر جب نظریں اٹھائیں تو ساکت ہوئیں۔ وہ اس کے قریب آ چکی تھی۔

” قتل کرنے کے ارادے سے آئی ہو ؟ ” کیف نے سر تا پیر گہری نظر سے دیکھتے ہوئے تبصرہ کیا تو عنایہ کے لبوں پر شرمگیں مسکان دوڑ گئی۔

” ایسے تو میرا نقصان ہے سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔۔۔۔میں پہلے ہی گھائل ہوا تمہارا دیوانہ ہوں اوپر سے مزید یہ ستم ” اس نے شکوہ کیا۔

” میں تو ایسے ہی آرہی تھی یہ بس نور نے کہا تو اس لیے ” وہ کہہ کر لب دانتوں تلے دبا گئی۔

” مطلب اسے بھی پتا ہے ہماری ڈیٹ کا ؟ ” کیف نے بھونیں اچکائی۔

” جی ہاں! اسے پتا ہے کہ ہم چاروں ڈنر پر جارہے ہیں ” ڈنر پر زور دیا۔

” اور وہ دونوں بھی میرے پیچھے ہی آرہے تھے پھر پتا نہیں کہاں رک گئے ” اس نے مزید کہا۔

” ان دونوں کو اب کباب میں ہڈی بننے تو نہیں دوں گا نا ؟ اس لیے ان کی فکر چھوڑو اور میری فکر کرو ” کیف نے ہاتھ بڑھا کر اسے مزید اپنے قریب کیا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھنے لگے۔ اور یہ تو ہمیشہ ہوتا تھا جب بھی دونوں کی نظریں ملتی تھیں دونوں کو آگے پیچھے کی ہوش نا رہتی تھی۔ اور اب کی بار تو کوئی بہانہ بھی نا تھا کہ کوئی ایک سنبھل کر نظریں پھیر لیتا۔ کتنے ہی پل وہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں گم رہے جب کیف کی آواز اس کے کانوں میں رس گھول گئی۔

” یقیناً انہی آنکھوں کو دیکھ کر کہا گیا ہے کہ تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے ” عنایہ نے مسکرا کر سر جھکا لیا۔ اس کے پاس سے آتی سگریٹ اور پرفیوم کی ملی جلی خوشبو اس کے حواسوں پر چھا رہی تھی۔ اس نے سر اٹھایا تو وہ ابھی بھی انہی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

” تم سموکنگ کرتے ہو ؟ ” وہ آنکھیں سکیڑے باز پرست کرنے لگی۔ یہ نہیں تھا وہ اس بات سے لاعلم تھی۔ وہ جانتی تھی لیکن پہلے وہ یہ سوال کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتی تھی اور اب سارے حق صرف اسی کے تھے۔ کیف نے گہری سانس لی اور سر ہاں میں ہلایا۔

” کیوں ؟ “

” بس یہ ہی سمجھ لو سموکنگ میری پہلی محبت ہے ” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔

” اچھا ؟ لیکن مجھے سموکنگ کرنے والے کچھ خاص پسند نہیں” وہ بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرگئی۔

” ہونہہ کیا کرسکتے ہیں اب ” کیف نے ہلکے سے شانے اچکائے۔

” تم اب سے سموکنگ نہیں کرو گے ” وہ حکم دیتے ہوئے بولی۔ کیف مسکرایا۔

” سوچا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن بدلے میں مجھے کیا ملے گا ؟ ” اس نے بازہ اس کی کمر کے گرد حمائل کرتے ہوئے مزید اسے قریب کیا اور بھاری گھمبیر آواز میں پوچھنے لگا۔ عنایہ نے اپنا چہرہ اسکے چہرے کے روبرو کیا۔

” کیا چاہیئے ؟ ” وہ ایسے مان سے کہہ رہی تھی جیسے جو مانگا جائے گا آنکھ بند کرکے وار دے گی۔

” تم ” کیف کی آواز اب کی بار خماری لیے ہوئے تھی۔

ان لمحوں میں فسوں تھا۔ کیف کا دل ہمک ہمک کر کوئی انوکھا احساس پانے کی جستجو کرنے لگا۔ عنایہ خود کو ان لمحوں کی گرفت میں جکڑا ہوا محسوس کررہی تھی۔ اس سے پہلے کہ دونوں کے درمیان یہ ذرا سا فاصلہ بھی ختم ہوتا۔ عنایہ واپس ہوش میں آتی اس سے رخ موڑ گئی۔

*****************

اس گارڈن ایریا میں جھانکے تو ایک بینچ پر زینب اور عمر بیٹھے تھے۔ عمر پورا زینب کی اور مڑ کر کہنی بینچ کی پشت پر ٹکائے ہاتھ سر کے نیچے رکھے زینب کو دیکھنے میں مگن تھا۔

” مجھے سمجھ نہیں آرہا ہم یہاں کر کیا رہے ہیں ؟ ” اس نے چہرہ اس کی جانب موڑا۔ عمر نے کوئی جواب نہیں دیا۔

” افف تم بندروں کی طرح دیکھنا اب تو بند کر دو ” زینب نے چڑ کر کہا تھا۔

” تم کتنی ان رومنٹک ہو یار ” عمر کا موڈ خراب ہوا تھا۔

” چلو اندر چلتے ہیں ” وہ اٹھ کھڑی ہوئی تو عمر نے اسکا ہاتھ پکڑ کر واپس بٹھا دیا۔

” بی بی اندر جانے کی اجازت نہیں ہے ہمیں۔۔۔ کیف نے سختی سے منع کیا ہے “

” کیا ؟؟؟ لیکن کیوں ؟ ” وہ حیران ہوتے ہوئے چلائی تھی۔

” کیونکہ وہ عنایہ کے ساتھ اکیلے میں ٹائم سپینڈ کرنا چاہتا ہے جو وہ یقیناً کر بھی رہا ہوگا۔۔۔۔۔۔ایک میں ہی بیچارا ہوں جو وہ بھی نہیں کرسکتا ” عمر نے حسرت بھری سانس لی۔

” کتنا تیز ہے یہ کیف ہاں۔۔۔۔ میری دوست پر قبضہ جما لیا اور ہمیں یوں باہر نکال دیا ” وہ عمر کی بات کو سرے سے اگنور کیے اپنی ہی شروع کیے ہوئے تھی۔

” سنو ؟ تمہارا کوئی فارم ہاؤس نہیں ہے کیا ؟ ” عمر چونک کر سیدھا ہوا۔

” نہیں کیوں ؟ ” عمر نے تجسس سے پوچھا۔

” اگر نہیں ہے تو خریدو تاکہ ہم بھی وہاں ایسے جائیں اور کیف کو اندر گھسنے نا دیں پھر جا کہ مجھے سکون ملے گا ہونہہ۔۔۔۔۔۔۔” اپنی بات کہہ کر اس نے منہ بسورا تھا۔ عمر کو اپنی قسمت پر رحم آیا۔

” ویسے کیف بڑا خوش قسمت ہے۔۔۔۔سکول ہو کالج یا یونیورسٹی لڑکیاں ہمیشہ اس پر فدا رہی ہیں اور اب بھی مجھے جلن ہورہی رہی ہے کہ وہ اندر اپنے سپیشل مومنٹ انجوائے کررہا اور میں یوں باہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اس نے بات یوں ادھوری چھوڑ کر تاسف سے کہا تھا۔ جسکا مطلب سمجھ کر زینب نے اسے گھورا تھا۔

” کتنے بے شرم ہو تم ” وہ غصے سے بولی۔

” اس میں بے شرمی کیسی منگیتر ہو تم میری اور میں کونسا کچھ ایسا ویسا کہہ رہا تھا ایٹ لیسٹ ہم رومنٹک باتیں تو کرسکتے ہیں نا ؟۔۔۔۔لیکن زینب تمہارا ذہن کتنا خراب ہے کیا سوچ رہی تھی تم ؟ ” عمر نے منصوعی سنجیدگی سے کہتے اسے شرمندہ کرنا چاہا۔

” مم۔۔۔۔۔۔۔نے کب کچھ ایسا سوچا ” وہ گڑبڑا گئی۔ عمر کو ہنسی آئی جو ضبط کر گیا۔

” مجھے نہیں پتا تھا تم اس طرح سے سوچتی ہو ” عمر ابھی بھی باز نا آیا۔

” عمر۔۔۔۔۔۔۔جھوٹے میں نے کہا نا میں نے ایسا ویسا کچھ نہیں سوچا “

” نہیں جی مجھے پتا ہے تم نے ویسا ہی سوچا ” اس بار وہ اپنی مسکراہٹ روک نا سکا تو زینب کو اس کی شرارت سمجھ آئی۔

” تمھے تو میں ” زینب نے دانت کچکچائے تو عمر تیزی سے بینچ سے اٹھ بھاگا۔

اب سین کچھ یوں تھا عمر ہنستا ہوا بھاگ رہا تھا اور زینب اسکے پیچھے اسے صلواتیں سناتے ہوئے اسے پکڑنے کیلئے بھاگ رہی تھی۔

******************

عنایہ چلتے ہوئے ڈائنگ ٹیبل تک آئی اور اپنی انگلی ڈائننگ پر پھیرتے ہوئے کچھ دیر پہلے والی نزدیکی کا اثر زائل کرنے کی کوشش کرنے لگی۔

” کھانے میں کیا کھلا رہے ہو مجھے ؟ ” بنا اس کی اور دیکھے وہ پوچھنے لگی۔ کیف چلتا ہوا اس تک آیا اور پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لے کر اپنی تھوڑی اس کے کندھے پر رکھے آنکھیں موند گیا۔ عنایہ کا دل اس کے سینے میں رقص کرنے لگا۔ اس کی آنکھیں بھی بے اختیار بند ہوئیں۔ کچھ پل یوں ہی بیت گئے جب کیف کی آواز بالکل اپنے کان کے قریب سنی۔

” ابھی تو ایسے کہہ رہی تھی جیسے جو مانگوں گا دے دو گی اور اب یوں کررہی ہو “

” میں نے انکار کب کیا؟ ” وہ اس کی سمت پلٹی تھی۔

” جب بھی ایسا ہوگا کہ تم اور میں ایک ہو جائیں گے تو تم اپنے وعدے کے مطابق سموکنگ چھوڑ دو گے ” وہ آنکھیں جھکائے ہاتھ اس کے سینے پر رکھے کہہ رہی تھی۔

” ہممممم مطلب تب تک تو پی سکتا ہوں نا ؟ ” اس نے اجازت مانگی تو عنایہ نے نظریں اٹھائیں اور سر ہلا کر اجازت دی۔

*******************

پول سائڈ پر کیف نے عمر اور زینب کیلئے ڈنر کا ارینج کروایا ہوا تھا اور اس وقت دونوں ڈنر کررہے تھے۔

” زینب چار ماہ رہ گئے ہیں ہمارے لاسٹ سمیسٹر کو” عمر نے کہا۔

” ہاں شکر ہے ” وہ کھاتے ہوئے بولی۔

” پھر پتا ہے نا کیا ہے ؟ ” عمر نے اسکا چہرہ نظروں کے حصار میں لیے پوچھا۔

” کیا ہے ؟ “

” ہماری شادی ” اسکا لہجہ گہرائی لیے ہوا تھا۔ زینب کا منہ کو جاتا ہاتھ تھما اور نظریں اٹھا کر اسے دیکھا جو اب گہری نظریں اس پر جمائے ہوا تھا۔ اس کے دیکھنے کے انداز سے ہی زینب سرخ ہوئی تھی۔

********************

یہاں کیف اور عنایہ بھی کھانا کھا چکے تھے۔ کیف اسکا ہاتھ تھام کر صوفے پر بٹھا چکا تھا اور اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔

” عنایہ! کیا تم میری ایک بات مانو گی ؟ “

” کونسی بات ؟ “

” میں چاہتا ہوں تم اپنے کزن سے دور رہو ” بنا بات کو گھمائے اس نے سیدھے طریقے سے کہا تھا۔

” پھر سے وہ ہی بات افف تم اور تمہاری جیلسی ” عنایہ نے ہنستے ہوئے اس کے بال بگاڑے تھے۔

” آئی ایم سیریس! میں نہیں چاہتا وہ تمہارے آس پاس بھی ہو۔۔۔۔۔تم اسے خود منع کرو گی کہ آج کے بعد تمھیں یونیورسٹی لینے مت آئے اور نا تم کہیں بھی اس کے ساتھ آؤ گی یا جاؤ گی “

” کیف! میں پہلے بھی بتا چکی ہوں پھر سے کہہ رہی ہوں حیدر میرا کزن ہے اور دوست بھی ” وہ برا مان چکی تھی۔

” سو واٹ بس میں نے کہہ دیا نا ” وہ اب کی بار سختی سے بولا۔

” تم مجھ پر پابندیاں لگانا چاہتے ہو ؟ ” عنایہ کو اس کی ٹون پر غصہ آیا۔

” پابندی نہیں ہے ریکوسٹ ہے ” کیف نے واضح کیا۔

” ہونہہ۔۔۔۔۔۔ریکوسٹ۔۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آتا کہ تمھے مسئلہ کیا ہے حیدر سے کیف ؟ میرے اظہار کے بعد بھی تم اس طرح کررہے ہو ” وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔

” ایسا ہی ہوں میں اور تمہارے معاملے میں بالکل بے بس ہوں۔۔۔۔ نہیں دیکھ سکتا تمھے کسی اور کے ساتھ جان لو یہ بات اور جو کہہ دیا تمھے ماننا ہوگا ” وہ بضد ہوا۔ عنایہ غصے سے صوفے سے اٹھ کر وہاں سے جانے لگی۔ اسے کیف کی ہٹ دھرمی ایک آنکھ نہیں بھا رہی تھی۔ کیف بھی اس کے پیچھے گیا اور اسکی کلائی کو آہنی گرفت میں لیتے ہی عنایہ کو جھٹکے سے اپنے قریب کیا تھا وہ اس کے سینے سے ٹکرائی۔

” آخر تم میری بات کیوں نہیں مان لیتی ؟ “

” نہیں مانوں گی تمہاری کوئی بھی بے تکی بات ” آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہا۔ انداز ایسا تھا جیسے جو کرنا ہے کرلو۔

” ماننی ہوگی” اس نے بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے چیلنج کیا۔

” نہیں! ” اس کے انکار پر کیف پراسرار سا مسکرایا۔

” اچھا ؟ نہیں مانو گی ؟ ٹھیک ہے پھر میں۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ بات ادھوری چھوڑ کر رکا اور دھیرے سے عنایہ کے کان کے قریب جھکا تھا اور اپنی ادھوری بات مکمل کی تو عنایہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ ایک دم بدک کر پیچھے ہوئی تھی۔ بے یقینی سے کتنی دیر وہ کیف کے چہرے کو تکتی رہی۔ کیف اس کے قریب آنے لگا تو وہ چلائی تھی۔

” خبردار کیف اگر ایک قدم بھی میری طرف آئے دور رہو مجھ سے ” وہ انگلی اٹھائے تنبیہ کررہی تھی۔ اس کا چہرہ غصے کی زیادتی سے سرخ پڑا تھا۔ کیف وہیں کھڑا رہا لیکن نظریں اسی پر جمی تھیں۔ عنایہ تیزی سے اس کے پاس سے گزر کر باہر کی جانب بھاگی تھی۔

*********************

وہ باہر آئی تو نظریں گھما کر زینب اور عمر کو ڈھونڈنا چاہا۔ عمر اور زینب ہاتھوں میں ہاتھ تھامے مسکراتے ہوئے اسی اور آرہے تھے۔ زینب کی نظر عنایہ پر پڑی تو اپنا ہاتھ عمر کے ہاتھ سے نکالا۔

” عمر مجھے گھر جانا ہے ” عنایہ نے دونوں کو دیکھا تو گویا ہوئی۔

” ہاں کیوں نہیں چلو ویسے بھی کافی دیر ہورہی ہے ” عمر کہہ کر کار پورچ کی جانب چل دیا۔ زینب نے عنایہ کے چہرے پر سنجیدگی دیکھی تو اسے تشویش ہوئی۔

” کیا ہوا ہے ؟ ” اس نے آگے بڑھ کر پوچھا تھا۔

” کچھ بھی تو نہیں” عنایہ نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی تھی۔ وہ نہیں چاہتی ان دونوں کو کوئی شک ہو۔

” اچھا کہاں ہے وہ تمہارا عاشق میں بھی ذرا اس سے باز پرست کروں کے ہمیں باہر روک کر اندر ایسا کیا ہورہا تھا ؟ ” زینب معنی خیز سا بولی انداز شرارت سے بھر پور تھا۔ عنایہ نے کچھ بھی نا کہا بس زینب کو غصے سے دیکھ کر وہاں جانے لگی۔

” ہیں اسے کیا ہوا ؟ مجھے لگا بچی شرما جائے گی لیکن یہ تو غصہ ہی ہوگئی” وہ بھی جلدی سے اس کے پیچھے ہو لی۔

********************

کیف باہر آیا تو وہ سب گاڑی کے پاس موجود تھے۔

” کیف تو نہیں چل رہا ؟ ” عمر گاڑی میں بیٹھ رہا تھا لیکن کیف کو پیچھے کھڑا دیکھ رک کر پوچھا۔ عنایہ نے مڑ کر اسے دیکھا تھا لیکن پھر فوراً نظریں پھیر لیں۔

” ہاں نکل رہا ہوں۔۔۔۔۔تیرے گھر جارہا ہوں چھوڑ کر آجا ” عمر سے کہتا اس نے عنایہ پر ایک بھر پور نگاہ ڈالی تھی جو پیچھے کا ڈور کھول کر اندر بیٹھ رہی تھی۔ زینب بھی اندر بیٹھ چکی تھی۔ کیف ان کی گاڑی گیٹ سے نکلتے تک وہیں کھڑا رہا۔ پھر سر جھٹک کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔

********************

زینب نے گھر آتے ہی عنایہ کو کال کی تھی۔ اپنی طرف سے وہ بہت ایکسایٹڈ تھی یہ جاننے کیلئے کہ کیف نے کیا سپیشل کیا تھا عنایہ کیلئے لیکن عنایہ نے صاف کہہ دیا کے اسے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی۔ زینب نے وجہ پوچھی تو نا چاہتے ہوئے بھی عنایہ نے سب اسے بتا دیا جسے سن کر زینب کو تو بے حد غصہ آیا تھا۔

” تم روکو ذرا میں ابھی اسے بتاتی ہوں “

” زینب پاگل ہوگئی ہو تم کیف سے بات کرو گی ؟ ” اسے لگا وہ کیف سے بات کرنے کا کہہ رہی ہے۔

” نہیں عمر سے اور اسے کہوں گی کہ اپنے دوست کو سمجھا دے کہ زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ” زینب کچھ زیادہ ہی جذباتی ہورہی تھی۔

” زینب۔۔۔۔۔۔۔۔رہنے دو پلیز ایسے اچھا تھوڑی لگے گا کہ تم عمر سے یہ بات کرو گی ” عنایہ تو ایک دم پریشان ہوئی تھی۔ جو بھی تھا یہ کیف اور اس کے آپس کی بات تھی ۔

” تم چپ رہو اور فون رکھو ” وہ زینب زینب کرتی رہ گئی اور وہ فون بند کرکے اب عمر کو کال ملا رہی تھی۔

******************

عمر ایک دم غصے سے گاڑی سے نکلا تھا۔ زینب کے سامنے وہ اچھا خاصا شرمندہ ہوا تھا۔ اس نے دیکھا وہ لان میں ہی موجود اپنے پسندیدہ فعل میں مشغول تھا۔ سگریٹ کے دھوئیں ہوا میں اڑاتا وہ کسی سوچ میں گم تھا۔

” کمینے کیا بکواس کی ہے تو نے عنایہ سے ہاں ؟ ” عمر نے جاتے ہی ایک گھونسہ اس کے گال پر مارا تھا۔ کیف لڑکھڑا کر پیچھے ہوا۔

” بڑی جلدی خبر پہنچ گئی ” خود کو سنبھال کر استہزایہ بولا۔

” ہاں پتا چل گئی تیری کمینگی ” عمر نے دانت پیستے ہوئے کہا تھا۔

” مجھے سمجھ نہیں آرہا تم سب اتنا آور ریایکٹ کیوں کررہے ہو ؟ بیوی ہے وہ میری۔۔۔۔مجھے اس کے قریب جانے کیلئے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں اس کی خود کی بھی نہیں ” وہ ڈھٹائی سے کھڑا کہہ رہا تھا۔ عمر اس بات پر مزید آگ بگولا ہوتا اس کے گریبان سے اسے پکڑا۔

” کمینے اس لئے کیا تھا نکاح اس سے ہاں ؟ یہ مت بھول بہن سمجھتا ہوں اسے اپنی۔۔۔۔اس کے سر پر بھائی بن کر ہاتھ رکھا تھا میں نے۔۔۔۔۔اگر ایسا ویسا کچھ بھی کیا تو کوئی دوستی کا لحاظ نہیں رکھوں گا میں “

” بس بس بہن کے بھائی۔۔۔ ایک ہی سالہ کافی ہے میرا تجھے بننے کی ضرورت نہیں ” پھر ذرا توقف سے بولا۔ ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے میرا بس اسے دھمکایا ہے کہ میری بات سن لے اور جو کہا ہے وہ کرے “

کیف نے کہتے ہوئے اپنا کالر اس کے ہاتھ سے چھوڑوایا۔ عمر نے اپنے ہاتھ ہٹا لیے لیکن وہ ابھی بھی ماتھے پر بل ڈالے کیف کو غصے سے گھور رہا تھا۔

*******************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *