222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 39)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

” امی یہ آپ نے کیا کیا ہے ؟ ” حیدر بے یقینی سے انہیں دیکھ رہا تھا جبکہ صائمہ بیگم نے ناسمجھی سے اسے کی طرف دیکھا۔

” کیسے کرسکتی ہیں آپ یہ ؟ مجھے یقین نہیں آرہا کہ آپ نے عنایہ کو گھر سے نکال دیا ” عنایہ کے ذکر پر ان کے تاثرات بگڑے تھے۔ انہیں لگتا تھا فیصل کی موت کی وجہ صرف اور صرف عنایہ ہے۔ وہ منہ پھیر گئیں جیسے عنایہ کے بارے میں کوئی بات نا سننا چاہتی ہیں نا کوئی بات کرنا چاہتی ہیں۔

” کیوں کیا آپ نے یہ ہاں ؟ ” اب کی بار وہ چلایا تھا۔

” امی ! آپ کیسے عنایہ پر ایسے الزام لگا سکتی ہیں ؟ کیا آپ کو اپنی پرورش پر یقین نہیں ؟ کیا آپ بھول گئیں جیسے آپ نے میری اور نور کی پرورش کی ہے ویسے ہی آپ نے عنایہ کی بھی پرورش کی ہے ” وہ ایک دم بول کر رکا اور پھر ان کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا۔

” اگر عنایہ کی جگہ نور ہوتی تب بھی آپ یہ ہی کرتیں ؟ اگر نور نے ایسا کچھ کیا ہوتا تب آپ ایسے اسے گھر سے نکال دیتیں؟ حیدر کے اس سوال پر انہوں نے واپس سے چہرہ اسکی اور موڑا تھا۔

” نہیں نا ؟ تب یہ نہیں کرتیں کیونکہ وہ آپکی اپنی سگی اولاد تھی تب آپ اس سے ڈانٹتی، اس سے سوال کرتیں یا شاید تھپڑ مار لیتیں لیکن اسطرح ذلیل کرکے گھر سے نا نکالتی۔۔۔۔۔ پھر امی عنایہ کیساتھ یہ سلوک کیوں کیا ؟ آپ نے کیسے سوچ لیا کہ آپ کے ہاتھوں میں پلی بڑی بچی ایسا کچھ کرسکتی ہے ؟ کیسے آپ نے اس پر اتنے گھنونے الزام لگائے ؟ میں جانتا ہوں اس نے غلط کیا لیکن ہمیں چاہیے تھا اس سے پوچھتے کوئی تو وجہ ہوگی کہ عنایہ نے اتنا بڑا قدم اٹھایا لیکن نہیں آپ نے اس کی نہیں سنی اسے اپنے دفاع میں کچھ کہنے کا موقع نہیں دیا اور اسے گھر سے نکال دیا ” اس نے اپنی ماں کو دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا اور ان سے رخ موڑ کر اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھ لیے۔ صائمہ بیگم کو ایک دم اپنی سنگین خطا کا احساس ہوا۔

” بابا اس رات مجھے کال کرتے رہے اور میں نے کال نہیں پک کی۔۔۔۔۔آپ جانتی ہیں بابا کے انتقال کا ذمہدار کون ہے ؟ ” وہ ایک دم صائمہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے ان سے استفسار کرنے لگا۔

” آپ اور میں ” صائمہ بیگم نے حیرت سے اپنے بیٹے کو دیکھا۔

” بابا کیا محسوس کرتے ہوں گے۔۔۔۔انھیں کتنی تکلیف ہوئی ہوگی آپ کے اس طرح کرنے سے۔۔۔۔انھیں لگا ہوگا وہ اپنی محروم بہن کو کیا جواب دیں گے روز محشر والے دن ؟ امی!!!!! کاش میں اس دن آپ کو کچھ نا بتاتا تو یہ سب نا ہوتا اور بابا ہمارے ساتھ ہوتے ” صائمہ بیگم آبدیدہ ہو گئیں۔

” اب صرف پچھتاوے رہ گئے ہیں آپ کیلئے اور میرے لیے اور میں ساری زندگی اس پچھتاوے سے نکل نہیں پاؤں گا۔۔۔۔۔۔۔مجھے جب پتا چلا عنایہ کے نکاح کے بارے میں تو میں ٹوٹ چکا تھا اس وقت مجھے نہیں سمجھ آیا کہ میں نے کیا کردیا ہے یا مجھے یہ نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ یہ سب ایسے اچانک سے ہوا لیکن آپ ایسا کریں گی یہ میں نے نہیں سوچا تھا۔۔۔۔ساری غلطی میری تھی کاش میں بابا کی کال پک کرلیتا تو یہ نا ہوتا ” وہ کرب سے کہتا گیا یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے۔ صائمہ بیگم تڑپ کے آگے ہوئیں اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

” بابا واپس نہیں آئیں گے امی ہم نے انھیں کھو دیا ہے، مجھے ساری زندگی اس بات کا دکھ رہے گا کہ کہیں میرے فون نا اُٹھانے پر وہ مجھ سے ناراض تو نہیں ہوں گے ؟ وہ ایسے ہی چلے گئے” وہ ایک دم ان کے گلے لگ کر رونے لگا۔

” نہیں حیدر تمہارا کوئی قصور نہیں تم ٹھیک کہتے ہو میں نے عنایہ کے ساتھ زیادتی کردی مجھے معاف کر دو میرے بچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ روتی ہوئے بولیں۔ انہیں شدید دکھ نے ان گھیرا وہ یہ کیا کر بیٹھی تھیں۔

” میں بہت شرمندہ ہوں اپنے کیے پر ” وہ حیدر سے الگ ہوئیں۔ ان کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔

” میں کیسے اب فیصل سے معافی مانگوں وہ تو مجھ سے خفا ہی چلے گئے۔۔۔۔۔۔یہ میں نے کیا کردیا ؟ ” وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں تو حیدر نے انھیں سمبھالا۔

” اس غلطی کا ازالہ ایک ہی ہے امی ہمیں عنایہ کو ڈھونڈ کر واپس گھر لانا ہوگا ” حیدر نے کہا تو صائمہ بیگم نے روتے ہوئے اپنے سر کو جنبش دی۔

*********************

یہ منظر تھا راولپنڈی کے اندرون شہر کے ایک علاقے کا جہاں تنگ گلیوں میں ڈھیروں مکان بنے تھے۔ اس آبادی میں گھسے دو احاطے کے مکان میں نظر ڈالیں جہاں چھوٹے سے صحن میں زمین پر ایک چھوٹا سا دستر خوان بچھا تھا جس پر ایک ڈونگے میں دال تھی اور ایک ڈش میں سفید ابلے چاول تھے۔ ایک پانی کا جگ، دو گلاس اور ایک پیالی میں اچار تھا۔ ایک بوڑھی خاتون مہندی رنگ کے سادہ سے جوڑے میں بیٹھی کھانا تناول کررہی تھیں۔ ان کے سامنے ہی صاف رنگت والی ایک لڑکی ہرے رنگ کے سادے سے لان کا سوٹ پہنے ہوئے بیٹھی تھی جس کا چہرہ مرجھایا مرجھایا سا تھا۔ وہ پلیٹ پر سر جھکائے بیٹھی تھی پھر ایک خیال کے تحت اس نے اپنا جھکا سر اٹھایا اور سامنے بیٹھی اس خاتون کو دیکھا۔ وہ کم عمر تھیں لیکن اپنی عمر سے بڑی لگتی تھیں۔

” آنٹی ماما سے آخری بار آپ کب ملی تھیں ؟ ” عنایہ نے پوچھا۔ انہوں نے مسکرا کر عنایہ کو دیکھا۔

” جب تم پیدا ہوئی تھی تب ” عنایہ کو خیرت ہوئی کیونکہ آنٹی نے اسے بتایا تھا کہ اس کی ماما اور ان میں بہت گہری دوستی تھی دونوں سگی بہنوں سے بڑھ کر تھیں۔ اس کے ماما بابا کا انتقال جب وہ چار سال کی تھی تب ہوا تھا تو ان چار سالوں میں آنٹی دوبارہ اس کی ماما سے کیوں نہیں ملیں۔

” اس کے بعد کبھی ملاقات نہیں ہوئی ؟ “

” نہیں ! ” انھوں نے ایک لفظ میں جواب دیا اور پھر اپنا کھانا ختم کیا اور برتن اٹھا کر کچن میں لے گئیں۔ عنایہ نے بھی جلدی سے کھانا مکمل کیا اور برتن اٹھا کر ان کے پیچھے ہی کچن میں چلی گئی۔

” پھر ایک دن فیصل بھائی نے فون کرکے بتایا کہ عائشہ اور احمد بھائی کا انتقال ہوگیا ہے بس پھر عائشہ کو جب دیکھنے گئی تو وہ جا چکی تھی ” وہ بتاتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔ عنایہ کا بھی دل بھر آیا اپنے ماں باپ کا ذکر سن کر۔

********************

کیف غصے میں نتاشہ کے گھر سے نکلا اور باہر اپنی گاڑی کے بونٹ پر دونوں ہاتھ دھرے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ چند سیکنڈ وہ ایسے ہی کھڑا رہا۔

” تم ٹھیک ہو ؟ ” عمر نے پیچھے سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو کیف اسی وقت مڑا تھا۔

” میں ٹھیک نہیں ہوں عمر میرے دل میں اس وقت ایک آگ جل رہی ہے، میں جب تک اسے دیکھ نہیں لوں گا مجھے سکون نہیں ملے گا ” کیف بے چین سا بولا۔ عمر کو ہمدردی ہوئی کیف سے اور اسکی اس حالت پر دکھ بھی۔

*********************

رات کو وہ سونے کیلئے اپنے کمرے میں جانے سے پہلے نادیہ آنٹی کے کمرے میں پانی کا جگ بھر کر رکھنے کیلئے آئی تھی۔ اس نے اندر جھانکا تو وہ اپنے پلنگ پر ایک چھوٹا باکس کھول کر بیٹھی تھیں۔ آنکھوں پر نظر کا چشمہ لگائے وہ باکس کے اندر رکھیں چیزیں نکال کر دیکھ رہی تھیں۔

” آپ سوئی نہیں ابھی ” عنایہ مسکرا کر اندر داخل ہوئی۔

” ہاں بس نیند نہیں آرہی تھی، آؤ یہاں بیٹھو ” انھوں نے اسے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ عنایہ نے جگ پلنگ کے ساتھ رکھی چھوٹی میز پر رکھا اور ان کے سامنے ہی بیٹھ گئی۔

” یہ دیکھو تمہاری امی اور میں ” انھوں نے اپنے ہاتھ میں تھامی تصویر عنایہ کو دی۔ عنایہ نے ان کے ہاتھ سے تصویر لی اور دیکھنے لگی۔ اس نے اپنا ہاتھ اپنی ماما کے چہرے پر پھیرا۔ اس کی نظر باکس میں رکھی ایک اور تصویر پر گئی تو اس نے اٹھا کر دیکھی۔

” یہ آپ کے ؟ ” عنایہ نے آنٹی کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ان کی نظر اس تصویر پر گئی تو عنایہ کے ہاتھ سے وہ تصویر تھامی۔

” میرا شوہر تھا ” تصویر پر نظریں جمائے انہوں نے بتایا۔

” کیا ہوا تھا آنٹی ؟ آپ نے بتایا نہیں آپ اکیلی کیوں رہتی ہیں ؟ اور آپ کے شوہر ؟ ” وہ اپنے من میں آنے والے سوال جو کب سے وہ پوچھنا چاہتی تھی پوچھنے لگی۔ نادیہ نے ایک گہری سانس خارج کی۔

” ہم تین بہن بھائی تھے۔ میں دو بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔ ابو کو کینسر تھا ان کے جانے کے بعد امی بھی بس ایک سال تک ہمارے ساتھ رہیں اور پھر وہ بھی چلی گئیں۔ یوں میری ذمداری میرے بھائیوں ہر آگئی تھی۔ میں نے اپنی مرضی سے شادی کرنی چاہی تھی جو میرے بھائیوں کو منظور نہیں تھا۔ لیکن میں اپنی ضد پر اڑی رہی کہ شادی صرف بابر سے کروں گی۔ میرے بھائی میری ضد کے آگے ہار گئے اور یوں میں نے ان کی مرضی کیلئے خلاف جا کر شادی کرلی۔ جس سے میرے بھائی میری شادی کرنا چاہتے تھے وہ امیر کبیر انسان تھا میری بڑی بھابی کو لگا اس رشتے سے میرے بھائوں کو بھی فائدہ ہوگا لیکن میرے انکار سے وہ مجھ سے بدگمان ہوگئیں اور میری بابر سے شادی پر شرط رکھی کہ میرا اس کے بعد سے اپنے بھائیوں سے کوئی تعلق نہیں رہے گا اور میرے بھائی بھی اس پر متفق تھے۔ بابر اور میں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں تھا۔ شادی کے بعد وہ مجھے اسلامآباد سے روالپنڈی لے آیا۔ وہاں سے آنے سے پہلے ہی تم پیدا ہوئی تھی اور میں تمہاری امی سے مل کر آگئی تھی۔ یہاں آکر ہم ایک فلیٹ میں رہنے لگے تھے۔ اس کے بعد میرا واپس جانا نا ہوسکا۔ شروع کے پانچ سال تو ہماری شادی کے بہت خوبصورت گزرے تھے۔ پھر ایک دن بابر مجھے کہنے لگا اسے باہر کے ملک جانے کا موقع ملا ہے اور وہ وہاں جانا چاہتا ہے کیونکہ اس نوکری میں کب تک گزرا کرتے رہیں گے اسے لگتا تھا اب وقت آگیا کہ زیادہ کمایا جائے۔ جو پیسے اتنے سالوں میں ہم دونوں نے نوکری کرکے کمائے تھے ان پیسوں سے وہ باہر چلا گیا یہ وعدہ کرکے وہاں جاکر سیٹل ہوکر مجھے بھی بلا لے گا ” وہ کہہ کر لمحہ بھر کو رک گئیں۔ عنایہ انھیں ہی دیکھ رہی تھی۔

” پھر کیا ہوا ؟ کیا انھوں نے آپ کو بلایا وہاں اپنے پاس ؟ ” اس نے تجسس لیے پوچھا۔

” نہیں! دو سال تک اسکا انتظار کرتی رہی پھر ایک دن فون کرکے مجھے کہنے لگا وہ مجھے وہاں بلا نہیں سکے گا اور اس نے وہاں سیٹل ہونے کیلئے شادی کرلی ہے۔۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آیا کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے ؟ میں نے فون بند کردیا۔۔۔لیکن اگلے ہی دن اس نے مجھے دوبارہ فون کیا اور کہا وہ مجھے اپنے نام کے سہارے نہیں رکھنا چاہتا اور مجھے فون پر ہی طلاق دے دی اور کہا اپنے بھائیوں کے پاس واپس چلی جاؤ اور اپنی زندگی میں آگے بڑھ جاؤں ” وہ بتاتے ہوئے ایک دم مسکرائیں۔ عنایہ نے انکا چہرہ دیکھا جہاں ایک کرب تھا اور مسکراہٹ میں تلخی تھی۔

” پھر کیا ہوا ؟ “

” وہ ہی جو ہم جیسوں کیساتھ ہوتا ہے میرے بھائیوں نے مجھے سہارا نہیں دیا اتنے مشکل وقت میں مجھے اکیلا چھوڑ دیا، جانتی ہو کیا لگا تھا مجھے اس وقت ؟ ڈر۔۔۔۔۔۔۔خوف۔۔۔۔ کہ کیسے اکیلے اس دنیا میں رہوں گی ؟ میرے سگے بھائی تھے انھیں مجھ پر ترس نہیں آیا ؟ ذرا خیال نہیں آیا کہ میں کہاں جاؤں گی کیسے رہوں گی ؟ بس مجھے طعنے دیے گئے اور کہا گیا کہ دیکھو ہماری نہیں سنی تو اب پتا چل گیا نا تو اب جاؤ کیوں آئی ہو ؟ میں واپس آگئی یہاں آکر میں نے فلیٹ چھوڑ دیا۔۔۔۔یہ میری خوش قسمتی تھی یا بد قسمتی کہ میں ماں نہیں بنی، آج بھی یہ سوال میرے ذہن میں آتا ہے اور کئی گھنٹوں تک بس یہ ہی سوچتی رہتی تھی کہ ایسا ہوتا تو کیا ہوتا ؟ شاید اللّٰہ کو بہتر پتا تھا انھوں نے وہی کیا جو میرے لیے بہتر تھا “

” آپ کے بھائیوں نے پھر کبھی نہیں پوچھا آپکا اور آپ نے دوبارہ شادی کا کیوں نہیں سوچا آنٹی ؟ کیوں اکیلی رہیں ؟ عنایہ نے ان کی گود میں ہاتھ رکھ کر بے چینی سے پوچھا۔ ناجانے کیوں اسے کہیں نا کہیں یہ کہانی بالکل اپنے جیسے لگی۔

” ایک مرتبہ تمہارے ماموں سے اچانک ملاقات ہوگئی میری، بھائی کہتی تھی میں انھیں جیسے ہی مجھے دیکھا میرے پاس آگئے اور حال احوال پوچھنے لگے باتوں باتوں میں انھوں نے میرے شوہر کا پوچھا پھر میں نے انھیں سب بتا دیا۔ وہ پریشان ہوگئے میرے لیے۔۔۔۔۔مجھے کہنے لگے میرے ساتھ چلو اسلامآباد میں سمجھاؤں گا تمہارے بھائیوں کو لیکن میں نے انکار کردیا پھر کہنے لگے تم بھی عائشہ کی طرح میری بہنوں جیسی ہو۔۔۔۔۔ میرے ساتھ چلو میرے گھر رہو لیکن میں نہیں مانی۔۔۔۔۔۔۔۔کیسے مان جاتی ؟

میں نے خون کے رشتوں کے رنگ دیکھے تھے اور وہ تو پھر غیر تھے۔۔۔۔۔۔ لیکن مجھے فیصل بھائی کی نیت پر کوئی شک نہیں تھا۔ وہ واقعی میں مجھے بھائی بن کر سہارا دیتے لیکن میں ڈرتی تھی کہ ان کے گھر جاؤں گی وہ تو بہن بنا کر لے جائیں گے لیکن ان کا اپنا گھر بار تھا بیوی بچے تھے، میں نہیں چاہتی تھی کہ کوئی کچھ غلط سمجھے اور میری وجہ سے انکا گھر خراب ہو۔ وہ مجھ سے میرا ایڈریس اور فون نمبر لے کر رخصت ہوگئے۔ اور پھر ایک دن میرے گھر آئے تو تم تھی ان کے ہمراہ۔۔۔۔۔۔مجھے بتایا کہ تم عائشہ کی بیٹی ہو محض سات آٹھ سال کی ہوگی تب تم ” نادیہ نے مسکرا کر عنایہ کی ٹھوڑی پر اپنا ہاتھ دھرا۔ جواباً عنایہ بھی مسکرائی۔

” مجھے کہنے لگے کہ کوئی اچھا سا لڑکا ڈھونڈ کر تمہاری شادی کر دیتا ہوں، ان کی اتنی فکر پر میری آنکھیں بھر آئیں کیونکہ جو سب میرے بھائیوں کو کرنا چاہیے تھا وہ کررہے تھے۔ میں انکار کرنا چاہتی تھی کہنا چاہتی تھی کہ اب مجھے کسی پر اعتبار نہیں رہا اور نا مجھ میں ہمت ہے میں چپ رہی اور وہ ناجانے کیسے سمجھ گئے اور پھر اس کے بعد انہوں نے مجھ سے اس بارے میں کبھی بات نہیں کی۔۔۔۔۔یہ گھر میرے لیے خرید دیا اور جب کبھی وقت ملتا میرا حال احوال پوچھنے آتے تھے اور تمھے بھی ساتھ لاتے تھے۔ تمھیں دیکھ کر تو میں جی اٹھتی تھی۔ کہی بار دل چاہا تمھے ان سے مانگ لوں لیکن ان کے اتنے احسان تھے میری ہمت نہیں ہوئی۔۔۔۔۔۔۔ لیکن میرا دل تمہارے لیے ہمکتا تھا۔ ایک دن میں نے انھیں منع کردیا کہ تمھے یہاں نا لایا کریں وہ ناسمجھی سے مجھے دیکھنے لگے اور پھر میری وہ کیفیت بھی سمجھ گئے۔ انھوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور وہاں سے چلے گئے۔ اس رات میں بہت روئی تھی اپنی خالی گود کا ملال صحیح معنوں میں اس رات ہوا تھا ” انھوں نے عنایہ کی جانب دیکھا جس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔ وہ آگے ہوئیں اور عنایہ کے آنسو صاف کیے اور اسے اپنے سینے سے لگایا۔

**********************

دس دن ہونے کو آئے تھے کیف اور عمر اپنے طور پر ہر طرح سے عنایہ کو ڈھونڈنے کی کوشش کررہے تھے۔ ان دنوں میں کیف اپنے گھر سے زیادہ باہر ہی رہتا تھا۔ آج بھی وہ پورا دن گھر سے باہر تھا۔ رات کے گیارہ بج گئے تھے اور وہ بھی تک نہیں آیا تھا۔ رابعہ بیگم نے عمر کو کال کی تھی۔

” عمر کیف تمہارے ساتھ ہے کیا ؟ ” انھوں نے حال احوال کے بعد پوچھا۔

” نہیں! میرے ساتھ تو وہ شام کو تھا ہم ایک کام سے گئے تھے پھر وہ چلا گیا “

” تمہاری بات نہیں ہوئی اس کے بعد اس سے ؟ “

” کیا ہوا خالہ سب ٹھیک ہے ؟ “

” ہاں سب ٹھیک ہے لیکن وہ گھر نہیں آیا ابھی تک ” انھوں نے اپنی پریشانی بیان کی۔

” آپ فکر نہیں کریں میں پتا کرتا ہوں “

” ٹھیک ہے مجھے بتا دینا اور تم نے ائیرپورٹ کب تک جانا ہے ؟ ” انہوں نے ساتھ ہی پوچھا۔ عمر کی پوری فیملی پاکستان آرہی تھی عمر اور زینب کی شادی کیلئے۔

” جی دو گھنٹے تک نکلوں گا “

” چلو ٹھیک ہے میں رکھتی ہوں” کہہ کر انھوں نے فون کاٹ دیا۔ عمر نے فون کان سے ہٹایا اور کیف کو کال کرنے لگا۔ کیف کا فون آف جارہا تھا۔ عمر کو پریشانی ہوئی۔ آج شام کو جب اسے عنایہ کے ملنے کی کوئی امید نا ملی تو وہ بالکل چپ سا ہوگیا تھا۔ یہاں تک کہ عمر سے بھی کوئی بات نہیں کی اور وہاں سے بنا کچھ کہے نکل گیا۔ اور اب وہ گھر نہیں گیا تھا تو عمر کو تشویش ہوئی۔

**********************

عمر کو پتا تھا کیف فارم ہاؤس گیا ہوگا۔ اس نے فارم ہاؤس پر موجود گارڈ کو کال کی تھی اور کیف کا پوچھا تھا جس پر گارڈ نے بتایا تھا کیف تھوڑی دیر پہلے ہی فارم ہاؤس آیا ہے۔ عمر نے سکھ کا سانس خارج کیا۔ وہ ٹھیک تھا۔ اس نے گاڑی کی سپیڈ بڑھائی اور فارم ہاؤس پہنچا۔ لیونگ ایریا میں داخل ہوتے ہی اسے سامنے کیف نظر آیا۔ کیف نے بھی داخلی دروازہ کھلنے پر اس طرف دیکھا تھا۔ وہ چلتا ہوا پاس گیا اور اس سے پہلے وہ کچھ کہتا سامنے کا منظر دیکھ کر وہ تھم گیا۔

کیف کے سامنے شیشے کی میز پر شراب کی بوتل رکھی ہوئی تھی اور ساتھ ایک گلاس۔ عمر کو شاک لگا تھا۔ یہ اسکا دوست نہیں ہوسکتا۔ ساری زندگی اس نے کبھی اس حرام شہ کو منہ نہیں لگایا تھا اور آج وہ کیسے شراب اٹھا لایا تھا۔

” تو نے شراب پی ہے ؟ ” عمر کی لہجے میں گہرا دکھ تھا۔ اس کی بات پر کیف ہنسا تھا۔

” ابھی تو دو گھونٹ ہی حلق میں اتارے تھے کہ تو آگیا” کیف نے وضاحت دی جیسے دو گھونٹ پینا کوئی بڑی بات نا تھی۔ اب وہ بوتل اٹھا کر سنہرے رنگ کی شیمپین مزید گلاس میں انڈیل رہا تھا جب عمر بجلی کی برق رفتاری سے اس کے سامنے سے گلاس اور بوتل اٹھا چکا تھا۔ کیف کو اسکا یہ عمل پسند نہیں آیا تھا۔ اس نے ماتھے پر بل ڈالے نگاہیں اٹھا کر عمر کو دیکھا تھا۔ شراب اپنا اثر دکھا رہی تھی کیف کو اب چڑھنے لگی تھی۔

” کیف تم اپنے ساتھ بہت غلط کررہے ہو “

” میں اسی قابل ہوں اور اب تو یہ میرے عمر بھر کی ساتھی رہے گی۔۔۔۔۔۔۔اس کو بھلانا ہے تو خود کو تو کسی چیز میں ڈبونا ہے نا ؟ تو یہ شراب صحیح۔۔۔میں نے سنا ہے یہ سارے دکھ سارے غم بھول جانے میں مدد کرتی ہے۔” کہتے ساتھ ہی وہ پیچھے صوفے سے ٹیک لگا گیا۔

*********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *