Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 15)
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 15)
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
” کیا مطلب اس بات کا ؟ ” عمر نے سامنے ماتھے پر بل لئے کھڑے کیف سے استفسار کیا۔ کیف عمر کے بولنے پر ایک دم ہوش میں آیا تھا۔ اسے خود اندازہ نہیں تھا وہ کیا اور کیوں یہ بات عمر سے کررہا تھا۔
” میرا مطلب تھا یار کہاں تو اور کہاں وہ چڑیل۔۔۔۔۔۔۔کوئی جوڑ نہیں تم دونوں کا ” کیف نے بروقت بات سنبھالی تھی۔
” تو پاگل ہے ؟ ایسا کچھ نہیں ہے کتنی بار کہا ہے ” عمر نے جھنجھلا کر کہا تھا۔
” اچھا !!!!!!! ” کیف نے خاصا کھینچ کر کہا تھا۔
” اوکے تو سنو مجھے وہ پسند ہے لیکن میں تجھے اس لیے نہیں بتاتا تھا کیونکہ میں جانتا ہوں تجھے پیار ویار محبت سب بے کار لگتا ہے اور تو ضرور میرا مذاق بناتا ” عمر نے دونوں ہاتھ کمر پر دھرے کیف کے سامنے اعتراف کیا تھا۔ اور کیف تو لفظ پسند پر ہی سن ہوا تھا۔
” عنایہ بھی پسند کرتی ہے تجھے ؟ ” کیف نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” اوہ بھائی میرے۔۔۔۔۔۔۔۔ عنایہ نہیں زینب “
” زینب کون ؟ ” اسکے زینب کون پر عمر نے اسے گھوری سے نوازا تھا۔
” ابے کمینے عنایہ کی دوست زینب جو اسکے ساتھ رہتی ہر وقت وہ زینب۔۔۔۔۔۔ “
” مطلب تجھے ذینب پسند ہے ؟ “
” ہاں کمینے وہ ہی پسند ہے لیکن تیری وجہ سے وہ مجھ سے ناراض ہوگئی ہے ” عمر نے سرد سانس خارج کرتے ہوئے کہا۔
” آر یو شیور تو زینب کو پسند کرتا ہے ” کیف نے ایک بار پھر سے تصدیق کرنی چاہی۔
” میں نے کوئی چیز اٹھا کر تجھے دے مارنی ہے کیف “
” جو پوچھا ہے وہ بتا “
” کمینے ایک بار کی سمجھ نہیں آتی ” عمر نے ایک دھموکا جڑا تھا اسے۔
” اچھا مطلب واقعی میں وہ زینب ہے تو پھر عنایہ کے ساتھ کیا کررہے تھے وہاں ؟ “
” نہیں مجھے بتا تجھے تکلیف کیا ہوئی ہے کیوں اتنی تشویش کررہا ہے ؟ “
” آہ۔۔۔۔۔۔کچھ نہیں، اور سن آج رات کھانے پر گھر آجانا بابا تیرا پوچھ رہے تھے ” کیف نے بات بدلی۔
” ہاں یار کافی عرصے سے چکر نہیں لگایا خالہ سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔۔۔۔ماما فون پر ڈانٹ رہی تھیں بہت کہ اپنی خالہ کے گھر ان کے ساتھ نہیں رہ سکتے تو کم سے کم ملنے چلے جایا کرو “
” ہاں تو سنتا کیوں نہیں انکی ؟ کیا ضرورت ہے اپنے گھر رہنے کی میرے ساتھ رہا کر “
” زبردستی تو روک رکھا ہے اپنے پاس پاکستان۔۔۔۔۔تھوڑی بہت تو پرائویسی دے مجھے “
” اوہ پرائویسی چاہیے بے بی کو ” کیف نے اسکی گردن پر ہاتھ ڈالا تھا۔
” ابے ہٹ کمینے تیری وجہ سے وہ مجھ سے ناراض ہوگئی” عمر نے اسکا ہاتھ اپنی گردن سے ہٹایا اور وہاں سے جانے لگا۔ کیف بھی مسکراتا ہوا اسکے پیچھے ہوا اور پھر سے اسے گردن سے تھما تھا۔ دونوں جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے ان کی آواز دھیمی ہوتی گئی۔
********************
وہ چھت پر اداس سی کھڑی یہاں وہاں دیکھ رہی تھی۔ آج کافی بھی پینے کا دل نہیں تھا۔ اسی لئے ایسے ہی اوپر آگئی۔ آج پہلی بار کسی ٹیچر نے اسے ایسے ڈانٹا تھا ورنہ وہ ہمیشہ ٹیچرز کی فیورٹ رہی تھی اپنی ذہانت اور قابلیت کی وجہ سے۔ وہ ایک ہونہار طالبہ تھی بچپن سے۔ اور آج صرف اس کیف کے بچے کی وجہ سے اسکی اتنی بے عزتی ہوئی۔
” چھوڑوں گی تو میں بھی نہیں۔۔۔۔ وہاں ماروں گی جہاں پانی بھی نا ملے اسے ” خود سے عہد کرتی وہ نیچے جانے کیلئے پلٹی تھی کہ اسکا فون بجنے لگا۔ حیدر کالنگ دیکھ کر وہ مسکرائی تھی۔
” اسلام وعلیکم ! ” بھاری آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی۔
” وعلیکم السلام ! ” عنایہ نے دھیمے سے جواب دیا۔
” کیسی ہو ؟ ” حیدر نے پوچھا۔
” ٹھیک ہوں ! تم کیسے ہو ؟ “
” میں ویسا ہی ہوں جیسا ہوتا ہوں ” پر شوق آواز میں جواب آیا۔
” اچھا ! میں کیا سن رہی ہوں تم اس بار گھر نہیں آرہے “
” ہاں یار بس اس بار ایک مشن کیلئے کراچی جانا پڑ رہا ہے۔۔۔۔۔میں نے اسی لئے کال کی تھی کہ وہاں جا کر مجھے بالکل ٹائم نہیں ملے گا تو میں رابطے میں نہیں رہ پاؤں گا “
” اوہ۔۔۔۔۔ ٹھیک ! نور بس اداس ہورہی تھی تمہارے لئے “
” ہاں نور کہاں ہے ؟ میری اس سے بات کروا دو “
” ہاں بیڈ روم میں ہے کل ٹیسٹ ہے اسی کی تیاری کررہی ہے میں بس ابھی نیچے جا کر بات کرواتی ہوں ” عنایہ کہہ کر جلدی سے سیڑھیاں اترتی نیچے جانے لگی۔
” تم ٹیرس پر تھی نا ؟ ” حیدر نے پوچھا۔
” ہاں ! “
” مجھے پتا تھا ” مسکراتی آواز میں جواب آیا۔
” ظاہر ہے تمھے ہی تو پتا ہوگا۔۔۔۔۔۔ہم دونوں ہمیشہ سے ایک ساتھ اس وقت ڈھیروں باتیں کرتے ہیں “
” ہاں ! وہ دن بہت یاد آتے ہیں اب ” حیدر مدھم سا بولا۔
” تم گھر آؤ تو نئی یادیں پھر سے بنائیں گے ” عنایہ ڈور کھول کر اندر داخل ہوئی تو سامنے دیکھ کر اس نے تاسف سے دائیں بائیں سر ہلایا۔
” افف یہ لڑکی ” اس کی آواز حیدر نے سنی تو پوچھا۔
” تمہاری پیاری بہن گدھے گھوڑے بیچ کر سورہی ہے ” عنایہ نے دیکھا جیسے وہ سو رہی تھی اسے ہنسی آئی۔ نور کا ایک بازو اور ٹانگ بیڈ سے نیچے لٹک رہے تھے۔
” چلو پھر نور کو میری طرف سے پیار دینا۔۔۔۔۔میں چلتا ہوں اور اپنا خیال رکھنا ” حیدر نے کہہ کر فون بند کیا۔ عنایہ نے بند فون کو دیکھا اسے ٹیبل پر رکھا اور بیڈ کی جانب بڑھ گئی جہاں اسے اب نور کو سیدھا کرنا تھا اور اسکی کتابیں سمیٹنی تھی لیکن دل ہی دل میں اس نے صبح نور کی کلاس لینے کا سوچ لیا تھا۔
*******************
اگلے دن بزنس اپارٹمنٹ کی اس کلاس میں کافی شور تھا۔ سبھی سٹوڈنٹس آپس میں گپ شپ لگا رہے تھے۔ ایک طرف کیف اور عمر بیٹھے تھے اور نتاشہ بھی آج انہی کے ساتھ تھی ورنہ وہ اکثر لیکچر کے دوران پیچھے بیٹھنا پسند کرتی جس کی وجہ اسکا فون تھا۔ جب اسے کوئی لیکچر بور لگتا یا لینے کا موڈ نا ہوتا وہ پیچھے آرام سے فون استعمال کرتی تھی۔ دوسری طرف سکینڈ رو میں عنایہ اور زینب موجود تھیں۔ نتاشہ کل رات اپنے سوشل سرکل میں ہونے والی ایک پارٹی کا قصہ سنا رہی تھی جس میں کیف تو بظاہر مسکرا کر سن رہا تھا لیکن اندر ہی اندر اسے کوئی دلچسپی نا تھی۔ وہ بار بار نظر دوسری طرف بیٹھی عنایہ پر ڈالتا تھا۔ عنایہ نے اسے خود کو ایسے دیکھتا پایا تو سخت نظروں سے گھور کر آنکھیں پھیر لیں۔ سر ہمدانی کلاس روم میں داخل ہوئے تو سب کی چلتی زبانیں تھمی تھیں۔ سر ہمدانی ڈائس کے سامنے کھڑے ہوئے اور پوری کلاس میں ایک نگاہ دوڑائی اور پھر عنایہ کو مخاطب کیا۔
” ہائے زینب ! سر آج پھر سے ڈانٹیں گے کیا مجھے ؟ ” عنایہ ساتھ بیٹھی زینب سے سرگوشی کرکے اپنی جگہ پر کھڑی ہوگئی۔
” آپ نے کل کچھ بتایا کیوں نہیں مجھے ؟ کیوں نہیں بتایا کہ کیف جھوٹ بول رہا ہے ؟ ” سر ہمدانی نے عنایہ سے پوچھا۔ عنایہ نے حیرانی سے سر کو دیکھا پھر ساتھ بیٹھی زینب کو۔
” اور کیف آپ ؟ ” سر ہمدانی اب ذرا سخت لہجے میں کیف سے مخاطب ہوئے۔ کیف اپنی سیٹ سے فوراً کھڑا ہوا تھا۔
” آپ کو ہر چیز مذاق لگتی ہے۔۔۔۔۔کم سے کم اسطرح کے معاملات کو اپنی شرارتوں سے دور رکھیں۔۔۔۔۔آپ کو لاسٹ وارننگ دے کر چھوڑ رہا ہوں۔۔۔۔۔نیکسٹ ایسی کوئی حرکت ہوئی تو سیدھا آپ کو پرنسپل کے حوالے کیا جائے گا ” سر نے مزید بات کرتے ہوئے اسے وارننگ دے کر بیٹھنے کا کہا اور پھر عنایہ کی طرف گھومے۔
” ہاں تو مس عنایہ آپ کو کم سے کم خود کیلئے سٹینڈ لینا چاہیے تھا۔۔۔۔۔یہ کیا بات ہوئی آپکی محنت کو کوئی اتنے آرام سے اپنی کہہ رہا اور آپ چپ چاپ کھڑی رہیں “
” آئی ایم سوری سر نیکسٹ ٹائم میں خیال کروں گی اور خود کیلئے سٹینڈ بھی لوں گی ” عنایہ نے شرمندہ سا کہا۔
” گڈ ناؤ سٹ ! ” سر کہہ کر ڈائس کے پیچھے جا کھڑے ہوئے۔ جبکہ عنایہ ابھی بھی حیران تھی کہ سر کو کیسے پتا چلا۔ سر ہمدانی نے لیکچر دینا شروع کردیا۔
” سر کو کیسے پتا چلا ؟ ” عمر نے دھیمی آواز میں کیف سے پوچھا۔
” مجھے کیا پتا ؟ ” کیف نے کندھے جھٹک کر جواب دیا۔
” عنایہ نے خود تو نہیں بتایا۔۔۔۔۔۔مجھے لگتا زینب نے بتایا ہوگا ” عمر پھر سے بولا۔ لیکن کیف ہنوز سامنے دیکھتا رہا اس بار کوئی جواب نہیں دیا۔
********************
کلاس ختم ہونے کے بعد زینب اور عنایہ باہر گراؤنڈ کی طرف آگئی تھیں۔
” زینب ! سر کو تم نے بتایا کیا ؟
” نہیں یار ! میں کیسے بتاتی کل تم نے ہی تو منع کردیا تھا “
” تو پھر کس نے بتایا ؟ ” عنایہ پریشان سا سوچنے لگی۔
” ضرور عمر نے بتایا ہوگا ” زینب نے چہک کر جواب دیا۔
” ہاں شاید اسی نے بتایا ہوگا ” عنایہ نے کہا ہی تھا کہ سامنے سے عمر انکی طرف آیا۔
” اوہ بھئی سر کو بتانا ہی تھا تو کل سب کے سامنے کلاس میں ہی بتانا تھا ” عمر نے آتے ہی تجزیہ کیا۔
” کیا مطلب ؟ تم نے نہیں بتایا سر کو ؟ ” عنایہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
” میں نے ؟ “
” ہاں نا مجھے لگا سر کو تم نے بتایا ہوگا ” عنایہ نے جلدی سے کہا۔ وہ اب کافی کنفیوژ ہوگئی۔
” لیکن مجھے لگا زینب نے بتایا ہوگا ” عمر نے بھی ناسمجھی سے کہا۔
” لیکن میں نے نہیں کیا ” زینب نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔
” ویٹ آ منٹ نا تم نے بتایا نا میں نے۔۔۔۔اور عنایہ نے بھی نہیں بتایا اور یہ بات ہم چاروں کے علاؤہ کسی کو نہیں پتا تھی تو پھر کس نے بتایا ؟” عمر نے دونوں کو دیکھا۔ وہ دونوں بھی اسکی بات پر سوچ میں پڑیں۔ اور پھر تینوں کے منہ سے ایک ساتھ ایک انسان کا نام نکلا تھا۔ اور نام تھا کیف کا۔
*******************
وہ مسلسل بال کو باؤنس کررہا تھا۔ بال نیٹ میں بھی ڈالنی ہے یہ بات شاید بھول چکا تھا کیونکہ اس وقت کسی گہری سوچ میں مبتلا تھا۔ آس پاس سے گزرتی چند لڑکیاں اسے دیکھتی اور مسکرا کر گزر جاتیں اور کچھ جن کی کوئی کلاس نہیں تھی وہ وہیں کھڑی اس بندے کو دیکھتی رہیں جو اس یونیورسٹی میں سب لڑکیوں کا کرش تھا۔ جس کی دھاک اس پوری یونیورسٹی پر جمی تھی۔ اور یہ صحیح بھی تھا جس کے پاس ذہانت، خوبصورتی اور دولت کی فراوانی ہو تو کسی بھی جگہ دھاک جمانا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ عمر وہاں اس کے سر پہنچا اور ہاتھ کمر پر رکھے اسے دیکھنے لگا۔ کیف کی نظر اپنے سامنے کھڑے قدموں پر پڑی تو اس نے بال چھوڑی اور سر اٹھا کر دیکھا۔ عمر کو سوالیہ انداز میں دیکھا۔
” جناب بات ہوسکتی ہے آپ سے ؟ ” عمر نے منصوعی مسکراہٹ لیے پوچھا۔
” بول ” کیف نے پھولی سانسوں سے اسے اجازت دی۔
” کیا تھا یہ سب ؟ “
” کیا ؟ “
” ذیادہ بن مت پتا ہے مجھے سر ہمدانی کو اپنی کرتوت تو نے خود جا کر بتائی ہے “
” ہاں تو ؟ ” کیف نے فوراً سے کہا جیسے جانتا تھا عمر کو پتا چل ہی جائے گا۔ اس لیے پہلے سے اس سب کیلئے تیار تھا۔
” اچھا جی تو آپ کب سے اتنے رحم دل ہوگئے کیف صاحب؟ ذرا مجے بھی بتانا پسند کریں گے کہ چکر کیا ہے ؟ یہ ایک دن میں کایا کیسے پلٹ گئی ؟ ” عمر نے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
” میں ابھی بھی ویسا ہی ہوں۔۔۔۔۔۔تو نے ہی کہا تھا میری وجہ سے زینب ناراض ہوگئی تجھ سے بس اسی لیے کیا ہے ” کیف نے ہاتھ میں پکڑی بال نیٹ میں اچھالی اور آگے چلنے لگا۔
” سچ میں اس لیے کیا ہے ؟ ” عمر نے اسکے ساتھ چلتے ہوئے بے یقینی سے پوچھا۔
” اور سالے مجھے کیا شوق چڑھا تھا کہ اپنی شامت خود ہی بلاتا ” عمر آسکی بات پر دل کھول کر مسکرا کے اس کے گلے لگا۔
” اب بس کر اور چل مجھے اس خوشی میں ٹریٹ دے ” کیف نے اسکی کمر پر ہاتھ مار کر اسے خود سے دور ہونے کا کہا۔ عمر مسکرا کر الگ ہوا اور پھر دونوں کیفے ٹیریا کی طرف چل دیے۔
********************
