Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 26)
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 26)
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
کیف رات کو گھر آیا تو لاونج میں ہی رابعہ بیگم نے اسے روک لیا تھا۔
” کیف! آج کھانا ہمارے ساتھ کھاؤ میں نے خود اپنے ہاتھوں سے سب تمہاری پسند کا بنایا ہے ” وہ پیار بھرے لہجے میں اسے دیکھتے ہوئے بولیں۔ کیف نے ایک نظر انہیں دیکھا تھا۔
” میں کھانا کھا کر آیا ہوں ” وہ کہہ کر جانے لگا تھا جب صوفے پر بیٹھی منال جلدی سے بولی تھی۔
” مام ! بھائی کی خاطر مجھے کیوں بھوکا رکھا ہوا ہے میں نے تو کہا تھا وہ باہر سے کھا کر آئیں گے پلیز اب تو کھانا لگوا دیں ” کیف رکا تھا گردن موڑ کر اپنی بہن کو دیکھا جو اپنے آئی پیڈ پر شاید گیم کھیل رہی تھی۔
” منال! کھانے کے بعد کافی بنا کر روم میں لے آنا ” وہ کہہ کر سیڑھیاں پھلانگتا اپنے کمرے میں جا چکا تھا۔ پیچھے رابعہ بیگم دل مسوس کر رہ گئیں۔
********************
یہ منظر فیصل صاحب کے لاونج کا تھا جہاں وہ ایل ای ڈی پر نیوز سن رہے تھے۔ ایک صوفے پر نور نیم دراز تھی۔ حیدر تین دن پہلے واپس ڈیوٹی پر جا چکا تھا۔ عنایہ کچن میں سب کیلئے کافی بنا رہی تھی اور صائمہ بیگم اپنے کمرے میں آرام کررہی تھیں۔ عنایہ کافی لے کر باہر آئی۔
” ماموں! آپکی کافی ” اس نے کافی کا مگ ان کے سامنے سینٹر ٹیبل پر رکھا۔ اپنا اور نور کا مگ لیے نور کے پاس جا بیٹھی۔ ٹیبل پر کافی رکھ کر وہ اپنے فون پر سکرولنگ کرنے لگی جب فیصل صاحب نے اسے مخاطب کیا۔
” عنایہ بیٹھا آپکی یونیورسٹی کیسی جارہی ہے؟” عنایہ نے فون رکھ دیا۔
” جی ماموں بہت اچھی جارہی ہے ” اپنا کافی کا مگ اٹھا کر لبوں سے لگایا۔
” کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ؟ ” انھوں نے پوچھا۔ عنایہ مسکرائی وہ ہمیشہ اسکی ہر چیز کا دھیان رکھتے تھے۔
” نہیں ماموں جب ضرورت ہوگی آپکو بتا دوں گی! ” اس نے جواب دیا لیکن ساتھ ہی بیٹھی نور فوراً سے بولی۔
” بابا مجھے ضرورت ہے ” نور سیدھی ہو بیٹھی۔ اس کی بات پر فیصل صاحب نے کافی کا گھونٹ بھر کر اسے دیکھا۔
” اچھا اور وہ کیا ؟ ” انھوں نے پوچھا۔ عنایہ بھی اسکی اور متوبہ ہوچکی تھی۔
” بابا میں نے ایک خوبصورت باربی گاؤن دیکھا ہے انٹرنیٹ پر آپ مجھے وہ دلا دیں پلیز ” نور آنکھیں ٹپٹپا کر بولی۔ اس کی بات پر فیصل صاحب بولے کچھ نہیں لیکن عنایہ نے آنکھیں گھمائیں تھیں(یہ لڑکی بھی نا). فیصل صاحب اپنا مگ لیے صوفے سے اٹھے۔
” آپ منگوا لینا آپ کی ماما کو بول دوں گا وہ پے کردیں گی ” وہ جاتے جاتے بولے۔ ان کی کہنے پر نور فوراً صوفے سے اٹھی تھی۔
” نہیں نہیں بابا ” فیصل صاحب اسکی آواز پر رکے تھے۔
” اب کیا ہوا ؟ ” انہوں نے اپنے سامنے کھڑی نور سے پوچا۔
” ہائے ماما کو بتائیں گے میری فرمائش تو مجھے الٹا پنکھے سے ٹانگ دیں گی، آپ مجھے دے دیں پیسے میں خود سے پے کر دوں گی ” اس نے مسکین سی شکل بنا کر کہا تو فیصل صاحب نے ہاتھ میں تھاما مگ نور کو پکڑایا اور اپنی قمیض کی جیب سے اپنا والٹ نکال کر اس میں سے چند پانچ ہزار والے نوٹ نکالے اور نور کو تھمائے۔ نور چمکتی آنکھوں سے نوٹوں کو دیکھ رہی تھی۔ گاؤن اس سے کم کا تھا لیکن اتنے پیسوں میں وہ اور بھی بہت کرسکتی تھی یہ سوچ کرہی اسے خوشی ہورہی تھی۔ فیصل صاحب نے مگ واپس لیا۔
” آدھے آپکے آدھے عنایہ کے ” یہ کہہ کر وہ جاچکے تھے اور نور منہ کھولے کھڑی رہ گئی۔ کیا کیا پلان کرلیا تھا ایک سیکنڈ میں لیکن یہ کیا ہوگیا۔ عنایہ اسکی شکل دیکھ کر ہنستے ہوئے اٹھی تھی۔
” میرا حصہ میرے بیگ میں رکھ دینا صبح یونی جانے سے پہلے چیک کرلوں گی ” عنایہ مزے سے کہتی کچن میں اپنا خالی مگ رکھنے چلی گئی۔
********************
کیف عمر سے کال پر بات کررہا تھا جب منال اس کے روم میں کافی کا مگ لیے اینٹر ہوئی۔
” ہاں ابھی سینڈ کر جلدی ” کیف نے منال کو آتے دیکھ کال ڈراپ کردی۔ وہ چلتے ہوئے اندر آئی اور مگ کیف کو تھمایا۔
” عمر بھائی سے بات کررہے تھے کیا ؟ ” منال نے پوچھا۔
” ہاں! ” کیف نے کہہ کر کافی کا ایک گھونٹ پیا۔
” ایک تو مجھے سمجھ نہیں آتا ہر وقت ان کے ساتھ ہوتے ہیں پھر بھی کال پر بات کرتے ہیں ؟ جب ساتھ ہوتے ہیں تب آپ کی باتیں ختم نہیں ہوتی جو کال پر بھی ” وہ کیف کے بیڈ پر بیٹھی اسے دیکھتے ہوئے گویا ہوئی۔ کیف بنا کچھ کہے ساتھ بیٹھ گیا۔
” کتنے دن ہوگئے بھائی آپ مجھے کہیں گھومانے نہیں لے گئے ؟ ” اس نے کیف کے کندھے پر سر رکھ کر شکوہ کیا۔
” میری ضرورت ہی کیا ہے اب ؟ نظر آرہا ہے سب مجھے ” کیف نے سنجیدگی سے کہا۔
” کیا ؟ ” منال نے سر اٹھا کر ناسمجھی سے دیکھا۔
” بڑی دوستی ہوگئی ہے مام کے ساتھ ” کیف نے گردن موڑ کر اسکی اور دیکھ کر کہا۔ وہ کافی عرصے سے منال کا مام کے ساتھ برتاؤ نوٹس کررہا تھا۔ پہلے منال ان کے ساتھ کافی ریزرو سی رہتی تھی لیکن اب ان کے ساتھ باتیں کرتی ہنستی اور اکثر ان کے ساتھ دوپہر میں شاپنگ پر بھی جاتی تھی۔
” اوہ ” منال نے لب گول کیے کہا۔ اور پھر مسکرا کر لب دانتوں تلے دبا لیے۔
” آپ جیلس ہورہے ہیں ؟ ” اس نے شرارت سے کہا۔ کیف جو مگ لبوں سے لگا چکا تھا ایک دم رکا اور منال کی جانب دوبارہ دیکھا۔
” ایسا تو کچھ نہیں ” کیف نے شانے اچکا کر کہا لیکن دل ہی دل میں شاید کہیں وہ جیلس تھا۔ یہ نہیں تھا کہ وہ اپنی ہی بہن سے جیلس تھا جیلسی کی وجہ اپنی ماں کی توجہ تھی جو منال کو مل رہی تھی۔
” مام اب کافی بدل گئی ہیں، جانتے ہیں جب آپ ٹرپ پر گئے تھے اور بابا لاہور تو میں کتنا تنہا محسوس کرتی تھی تب مام نے مجھے بالکل اکیلا نہیں چھوڑا اور ہماری دوستی ہوگئی ” منال خوشی سے بتا رہی تھی جبکہ کیف بالکل حیران تھا۔
” بی اماں کی ڈیٹھ پر جب میں اتنا روئی تھی تب بھی مام نے مجھے سمبھالا تھا مجھے اچھے سے یاد ہے ” وہ مزید گویا ہوئی۔
” مام نے کبھی ہماری طرف سے غفلت نہیں برتی بھائی وہ ہمیشہ ہماری ہر چیز کا خیال رکھتی تھیں چاہے خود وہ نہیں اپنا وقت دیتی تھیں لیکن گھر کے ملازم اور بی اماں سے ہمارا خیال رکھنے کو کہتیں، ہماری ضرورتوں کا بھی۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بری نہیں ہیں اور اب تو انہیں احساس بھی ہے تو آپ بھی ان سے ناراضگی ختم کردیں ” اس نے پیار سے اپنے بھائی کو سمجھایا۔ کیف اپنی چھوٹی بہن کو دیکھے گیا وہ کب اتنی بڑی ہوگئی کہ اتنی سنجیدہ باتیں کرنے لگی۔ کیف نے مسکرا کر اسے دیکھا۔ منال جانے کیلئے اٹھ گئی تو کیف نے ہاتھ پکڑ کر اسے روکا۔
” ہماری مانو اتنی سمجھدار ہوسکتی ہے مجھے پتا نہیں تھا ” کیف نے اسے چھیڑا۔ اس کی بات پر منال نے گال پھولا لیے۔ کیف نے ہاتھ چھوڑا تو وہ کمرے کے دروازے تک گئی اور وہاں سے کہنے لگی۔
” بابا کہتے ہیں تم اپنے بھائی سے زیادہ عقل مند ہو ” وہ زبان نکال کر کہہ کر کمرے سے بھاگ گئی۔ کیف ہنسا تھا۔ اس نے خالی کافی کا مگ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور اپنا فون اٹھایا۔ عمر کی طرف سے میسج آچکا تھا۔
********************
یہ منظر عنایہ اور نور کے بیڈروم کا تھا جہاں اندھیرا پھیلا تھا لیکن سامنے دیوار پر لگی ایل ای ڈی کی روشنی ہلکی سے موجود تھی۔ نور نے کوئی انگلش مووی لگائی تھی جو مجبوراً عنایہ کو بھی دیکھنی پڑ رہی تھی۔ وہ بیڈ کراؤن کیساتھ ٹیک لگائے سامنے مووی پر چلتا سین دیکھنے میں محو تھی جب سائیڈ ٹیبل پر رکھا اسکا فون بجا۔ عنایہ نے دیکھا کسی ان ناؤن نمبر سے کال آ رہی تھی۔ عنایہ نے کال ریسیو کی۔
” ہیلو! ” عنایہ نے کہا تو دوسری طرف کیف کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی۔
” ہیلو! ” کیف نے بھاری لہجے میں جواباً کہا۔
” کون ؟ ” عنایہ نے ٹھٹک کر پوچھا۔ آواز وہ پہچان گئی تھی لیکن پھر بھی کنفرم کیا۔
” کون ہوسکتا ہے ” کیف نے مزے سے پوچھا۔
” کوئی بھی چھچھورا جو آدھی رات کو کالز کرکے لڑکیوں کو پریشان کرتا ہے ” عنایہ نے کہہ کر مسکراہٹ دبائی۔
” چھچھورا تو نہیں ہاں لیکن کسی کا من چاہا شخص ضرور ہوسکتا ہے ” عنایہ نے اپنی آنکھیں میچی تھی اس بات پر(افف)۔
” نمبر کہاں سے لیا میرا؟ ” وہ بیڈ سے اٹھ گئی تھی۔ نور نے گردن موڑ کر اسے دیکھا اور اشارے سے پوچھا بھائی ہے کیا؟ عنایہ نے گردن نا میں ہلائی۔
” تمھے لگتا ہے تمہارا نمبر لینا مشکل کام تھا ؟ “
” عمر سے مجھے یہ امید نہیں تھی ” عنایہ نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا۔ نور بیڈ سے اٹھ کر عنایہ کے پاس آچکی تھی اور کان فون کے پاس لے جاکر سننے لگی۔ عنایہ نے اسے آنکھیں دیکھائیں تھی۔
” میرے علاوہ کسی اور سے امید رکھو گی تو یہ ہی ہوگا” کیف بیڈ پر نیم دراز ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھے کہہ رہا تھا۔
” کون ہے ؟ ” نور نے دھیمے سے پوچھا۔
” کیف! ” عنایہ نے لبوں کو جنبش دے کر بنا سرگوشی کہ کہا جسے سمجھ کر نور نے منہ کھولا(بات یہاں تک آگئی تھی اور وہ بے خبر رہی)۔ نور دوبارہ سے عنایہ کے ساتھ چپک کر کھڑی ہوگئی۔ اس کی بات پر عنایہ خاموش ہی رہی تھی۔
” کیا کررہی تھی ؟ ” کیف نے اسکے چپ رہنے پر پوچھا۔
” پتنگ اڑا رہی تھی ” عنایہ نے آنکھیں گھما کر کہا تو نور کی ہنسی چھوٹ گئی۔ عنایہ نے اسے گھورا اور چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ کیف بھی اس بات پر ہنسے بنا نہیں رہ سکا۔
” واؤ باسکٹ میرے ساتھ رہ کر تمہارا sense of humor کافی بہتر ہوگیا ہے “
” کیوں کال کی تھی ؟ ” عنایہ نے اسکی بات نظر انداز کی۔
” نیند نہیں آرہی تھی تو سوچا تم سے باتیں کرلوں “
” میں تم سے کیوں باتیں کرنے لگی” عنایہ نور کو اشارے سے وہیں رکنے کا کہہ کر خود کمرے سے باہر آگئی تھی۔
” یہ تو اپنے دل سے پوچھو ” کیف نے آنکھیں بند کیے کہا۔
” میرا دل کہہ رہا ہے فضول میں ایسے ویسے لوگوں سے باتیں کرنے سے بہتر ہے جا کر سو جاؤں “
” اچھا ؟ “
” ہاں! گڈ نائٹ ” وہ فون کان سے ہٹانے لگی تھی جب اس نے روکا۔
” اچھا سنو “
” اب کیا ہے ؟ ” عنایہ نے کہا۔ کیف ایک پل خاموش رہا۔
” سونے سے پہلے میرے بارے میں سوچنا نیند اچھی آئے گی ” مسکرا کر کہتا وہ کال کاٹ چکا تھا۔ عنایہ نے فون کان سے ہٹا کر گھورا تھا پھر مسکرا کر واپس کمرے میں چلی گئی جہاں نور اس کے انتظار میں ڈھیروں سوال لیے تفتیش کرنے کیلئے کھڑی تھی۔
**********************
عمر عنایہ اور زینب کیفے ٹیریا میں بیٹھے باتیں کررہے تھے۔ عمر اپنے اور کیف کے کالج کے دن کے قصے سنا رہا تھا۔ جو وہ دونوں ہی بیٹھے انجوائے کررہے تھے۔ عمر نے کیف کو آتے دیکھا تو اس کو ایک شرارت سوجھی۔
” پتا ہے کیا کیف کو ایک لڑکی بہت پسند تھی کالج میں ” عنایہ جو مسکرا رہی تھی اس بات پر مسکراہٹ غائب ہوئی تھی۔ کیف بھی ان کی طرف آگیا تھا اور کرسی کھینچ کر بیٹھ چکا تھا۔
” کیا باتیں ہورہی ہیں ؟ ” کیف نے عنایہ پر بھر پور نگاہ ڈالی تھی جو اسے نہیں عمر کو دیکھ رہی تھی۔
” میں انہیں ہمارے کالج کے زمانے کے قصے سنا رہا تھا اور ابھی میں بتانے ہی لگا تھا سب سے مزے کا قصہ کہ تم آگئے “
” کونسا ؟ ” کیف نے مشکوک نظروں سے عمر کو دیکھا تھا۔
” یار وہ ہی جس لڑکی کے ساتھ تمہارا افیئر تھا ” عمر نے شیطانی مسکان لبوں پر سجائی۔ کیف ایک دم کھانسنے لگا۔ عنایہ نے اس کے کھانسنے پر اسے گھوری سے نوازا تھا جبکہ زینب کو ہنسی آئی جو وہ ضبط کرگئی۔ وہ عمر کی شرارت سمجھ گئی تھی۔
” ہاں عمر بتاؤ ہم سب سن رہے ہیں ” عنایہ نے کیف پر ایک چبھتی نظر ڈالی تھی(فلرٹ جھوٹا مکار) ایسے کہیں القابات سے وہ من ہی من اسے نواز چکی تھی۔
” ہاں تو وہ کیف جس لڑکی کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔” اپنی بات وہ مکمل کرتا اس سے پہلے ہی کیف ٹیبل کے نیچے سے اسے زور سے ٹانگ ماری تھی جس سے عمر چیخا تھا۔آس پاس سبھی لوگ ان کی اور متوجہ ہوچکے تھے۔ عمر غصے سے کیف کو دیکھنے لگا(کمینہ)۔
” عمر تمہاری یاداشت شاہد کمزور ہے وہ میری نہیں تمہاری گرل فرینڈز تھی ” کیف نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے اشارہ کرتا الٹا پھنسا چکا تھا اور زینب ایک دم سیدھی ہو بیٹھی۔ عمر نے کیف کو گھورا تھا۔ کیف عمر کی طرف جھک کر سرگوشیانہ لہجے میں بات کرنے لگا تو سامنے بیٹھی دونوں لڑکیاں انھیں مشکوک نظروں سے دیکھنے لگیں۔
” بیٹا باز آجا اگر میں ڈوبا تو تجھے بھی لے ڈوبوں گا ” کیف نے وارننگ دی۔
” بات کو یہیں سنبھال لے ورنہ اپنی ساری گرل فرینڈز کو تیرا بتا کر زینب کے سامنے تیرا کردار مشکوک کردوں گا ” کیف نے دانت پس کر کہا۔
عمر سیدھا ہو بیٹھا۔ اس نے غلط شخص سے پنگا لیا تھا۔ وہ کبھی بھی کیف سے نہیں جیت سکتا ہمیشہ سے وہ ایسا ہی کرتا آرہا تھا۔ عمر کو بے اختیار غصہ آیا۔
” ہاں وہ لڑکی میری گرل فرینڈز نہیں تھی بس وہ کیف کو لائک کرتی تھی جس کی وجہ سے اس نے مجھ سے دوستی کی ” عمر انہیں بتانے لگا۔ لیکن اندر ہی اندر دل کررہا تھا ابھی سب سچ بتا دے اس کے کرتوت(سالا سب کو ستاتا ہے تنگ کرتا ہے جب ہم کریں تو بھی باز نہیں آتا)۔ کیف فاتحانہ مسکرایا اور پھر نظریں عنایہ کے چہرے پر مرکوز کیں۔ جو ابھی بھی مشکوک نظروں سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
********************
کیف کچھ لڑکوں کے سنگ کھڑا باتیں کررہا تھا جب نتاشہ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی۔ کیف نے اسے دیکھا تو لڑکوں سے ایکسکیوز کرتا نتاشہ کی جانب آگیا۔ وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی۔
” کیا بات ہے ہینڈسم آجکل تمہارے پاس میرے لیے ٹائم ہی نہیں ہوتا ؟ ” وہ پیار بھری نظروں سے دیکھتی اسے شکوہ کررہی تھی۔
” ایسی تو کوئی بات نہیں، ابھی پرسوں رات ہم تینوں نے ایک ساتھ ڈنر کیا تھا ” کیف نے اسے یاد کروایا۔
” ہاں ہم تین تھے اکیلے تو نہیں ” اس کی بات پر کیف نے بس مسکرا کر اسے دیکھا تھا۔ وہ جانتا تھا نتاشہ اسے پسند کرتی ہے۔
” اور بتاؤ کیا چل رہا ؟ وہ عنایہ تو ابھی تک تمہارے اردگرد منڈلاتی نظر نہیں آرہی۔۔۔۔۔ کیف مجھے ڈر ہے کہیں تم شرط ہار نا جاؤ” وہ ایک ادا سے اس پر طنز کررہی تھی۔ کیف بھی جواباً استہزایہ مسکرایا۔
” مائے ڈیر نتاشہ ایسا ہو نہیں سکتا کہ کیف کا جادو نا چلے تم شرط ہار چکی ہو ” کیف نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ اس کی بات پر نتاشہ کی آنکھیں چمکیں۔
” سیریسلی she is in love with you ” وہ بے ساختہ بولی۔ کیف نے جواباً شانے اچکا دیے۔
” لیکن میں کیسے مان لوں ؟ ” وہ ایک دم اشتیاق سے پوچھنے لگی۔
” تمھے مجھ پر یقین نہیں ؟ “
” ہے۔۔۔۔۔۔تم پر ہی تو ہے لیکن شرط کے پیشِ نظر تمھے مجھے دیکھانا ہوگا “
” اوکے فائن! میں ابھی اسے میسج کروں گا کہ یونیورسٹی کی بیک سائیڈ پر مجھے ملے اور تم دیکھنا وہ وہاں آئے گی ” کیف نے چیلنجنگ کہتے اپنا فون نکالا اور نتاشہ کے سامنے اسے میسج کیا۔ نتاشہ دمکتے چہرے سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔
” میں چلتا ہوں ” کیف کہتا یونیورسٹی کی بیک سائیڈ کی طرف چل دیا۔
” اوہ سو سیڈ مس عنایہ! ” نتاشہ نے سوچا۔ اس نے یہ سب اس لیے کیا تھا کیونکہ وہ عنایہ کو مزہ چکھانا چاہتی تھی کیونکہ جب سے وہ اس یونیورسٹی میں آئی تھی تب سے کیف عمر اور اسکی دوستی جیسے رہی ہی نہیں تھی۔ پہلے عمر اور پھر کیف دونوں ہی ان دونوں سے دوستی کیے بیٹھے تھے۔
” اب جب اسے پتا چلے گا کہ کیف اسکے ساتھ کھیل کھیلا رہا تھا بیچاری کا دل ٹوٹ جائے گا چچ چچ۔۔۔۔۔اور اسکی وہ دوست زینب اس کیلئے بھی اپنی دوست کی یہ حالت کافی ہوگی ” وہ کہتی کیف کے پیچھے یونیورسٹی کی بیک سائیڈ چل دی۔
***********************
” ہاں کہو کیوں بلایا ہے ؟ ” عنایہ ہاتھ باندھے اسکے سامنے کھڑی تھی۔ چہرے پر ناراضگی کے تاثرات واضح تھے۔ کیف اس کے تاثرات دیکھ کر مسکرایا۔
” تم عمر کی بات کو سیریس سمجھ رہی ہو۔۔۔ وہ مذاق کررہا تھا ” کیف نے وضاحت دی۔
” او ہیلو! تمھے کس نے کہا ہے کہ میں عمر کی بات کو لیے بیٹھی ہوں ؟ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ” اس نے اکڑ کر کہا تھا۔
” اچھا تو پھر اتنا غصہ کیوں ہو ؟ “
” میں تو نہیں غصہ اور تم سے کیوں ہوں گی ؟ ” وہ شانے اچکائے بڑے ریلکیس سے انداز میں کہہ رہی تھی۔ کیف آنکھیں سکیڑے اسے دیکھ رہا تھا جو بے نیاز سی کھڑی تھی جیسے واقعی میں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن کیف جانتا تھا وہ ناراض تھی۔ کیف کی نظر عنایہ کے پیچھے گئی جہاں دیوار کے ساتھ نتاشہ کھڑی تھی۔ کیف نے فلحال نتاشہ کو یقین دلانا تھا اس لیے اس بات کو نظر انداز کیے عنایہ کے قریب ہوا تھا۔ وہ اسکے قریب آنے پر ایک دم پیچھے گرتی کہ کیف نے اسکی کمر پر ہاتھ ڈالے اسے گرنے سے بچایا۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے تھے۔ کیف کو لگا مزید ان آنکھوں میں دیکھتا رہا تو ڈوبنے کا خدشہ تھا۔ یہ لڑکی ہمیشہ اسے hypnotized کر دیتی تھی۔ اس نے نظریں ہٹائیں اور عنایہ کو سیدھا کیا۔ عنایہ بھی ایک دم ہوش میں آئی تھی اور فوراً سے اس کے پاس سے گزر کر وہاں سے جاچکی تھی۔ کیف اس کی پشت کو دیکھتا رہا۔
” واؤ واٹ آ رومینٹک مومنٹ ” نتاشہ تالی بجاتی کیف کے سامنے آئی تھی۔ کیف نے خود کو سنبھالا اور نتاشہ کی طرف دیکھا جو اب اسکی تعریف کررہی تھی۔
” مان گئی کیف ” اس کے کہنے پر کیف مسکرایا تھا۔
” لیکن اب مجھے برا لگ رہا ہے جب اسے سچ پتا چلے گا بیچاری کا دل ٹوٹ جائے گا ” اس بات پر کیف کی مسکراہٹ پل بھر میں غائب ہوئی تھی۔
***********************
