Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 35) Part - 2

222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 35) Part - 2

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

کیف نے سختی سے اسکے شانوں کو تھاما تھا۔ اس کی انگلیاں عنایہ کو اپنے اپنے جسم میں پیوست ہوتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔

” تم اسطرح کیسے پوری رات نتاشہ کیساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے گھن آرہی ہے خود سے کہ میں نے تم سے محبت کی ” اس نے اپنا چہرہ پھیر لیا۔ کیف کی کنپٹی کی رگیں اُبھریں۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ اپنے سامنے کھڑی اس لڑکی کی جان لے لیتا جو اس سے محبت کے دعوےدار تھی لیکن اسے ایسا سمجھتی تھی۔

” تم اتنی آسانی سے کسی کی بھی بات پر اعتبار کرلو گی ؟ ” وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال غرایا تھا۔

” ٹھیک ہے مان لیتی ہوں کہ یہ سچ نہیں ہے ” عنایہ نے کہا تو کیف نے اسے چھوڑا تھا۔ ایک منٹ کیلئے دونوں کے درمیان خاموشی آن ٹھہری تھی۔ تبھی کیف کا فون رنگ ہوا تھا۔ عمر کی کال آرہی تھی۔ یقیناً وہ اندر اس کی راہ تک رہا تھا۔ کیف نے کال ریسیو کی اور اسے کہا کہ وہ اور عنایہ تھوڑی دیر تک آئیں گے کیونکہ کیف یہ بات ابھی کلیر کرنا چاہتا تھا۔ کیف نے فون بند کرکے اپنی جیب میں رکھا اور عنایہ کی جانب دیکھا جو سرد نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

” کیا تم نے نتاشہ سے مجھ پر شرط لگائی تھی ؟ ” اس نے سخت لہجے میں پوچھا تھا۔ کیف کے گلے میں گلٹی ڈوب کر ابھری تھی۔

“مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ وضاحت دیتا اس سے پہلے ہی عنایہ اسے ٹوک گئی تھی۔

” صرف ہاں یا ناں میں جواب چاہیے” کیف نے اس کی طرف دیکھا تھا۔ وہ اسے کسی صفائی کسی وضاحت کا موقع دینے کے موڈ میں نظر نہیں آرہی تھی۔ کیف نے سر ہاں میں ہلایا تو عنایہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا تھا۔ مطلب وہ مان رہا تھا۔ عنایہ کا ہاتھ اٹھا تھا اور کیف کے گال پر تھپڑ کا نشان چھوڑ چکا تھا۔ کیف نے اپنی مٹھیاں سختی سے بھینچ لیں۔

” سب جھوٹ تھا سب۔۔۔میں کتنی بے وقوف تھی جو یہ سمجھ نہیں سکی ” وہ اپنا سر تھام کر روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ کیف بس چپ چاپ کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ روتے روتے ایک دم نکاح کا خیال اس کے دماغ میں آیا تھا۔ وہ اس حد تک جا سکتا تھا وہ سوچ نہیں سکتی تھی کہ اپنی شرط کی خاطر وہ اس سے نکاح بھی کر چکا تھا۔ نتاشہ نے جو جھوٹ کی بنیاد رکھی اور کیف کی شرط کی بات پر اعتراف نے اسے مزید بد گمان کردیا کہ وہ اس نکاح کو بھی جھوٹ سمجھنے لگی۔ اس کے دماغ میں بہت کچھ آرہا تھا۔ بروقت اس نے خود کو سنبھالا تھا جو بھی ہوچکا تھا اسے اب سب ختم کرنا تھا۔ وہ کیف کے قریب گئی۔

” کیف ! میں سب بھول جاؤں گی۔۔۔ٹھیک ہے تم نے جو کرنا تھا کرلیا لیکن اب یہ سب ختم کرنا ہے، مجھے اس رشتے سے آزادی چاہیے، تم مجھے ابھی اسی وقت طلاق دو ” وہ دو ٹوک بولی تھی۔ کیف نے بے یقینی سے اسے دیکھا تھا۔ وہ یہ رشتہ ختم کررہی تھی۔ ذرا سی بات پر بنا اسے صفائی کا موقع دیے بغیر۔ کیف کو مزید غصہ آیا۔

” پلیز کیف مجھے طلاق دے دو ورنہ میں کیا جواب دوں گی سب کو پلیز ” وہ روتے ہوئے التجاء کرنے لگی تھی۔ کیف کا دل ایک پل کو رکا تھا۔ اسے لگا تھا وہ بدگمان ہے ابھی غصے میں ہے جب سنبھلے گی وہ اس سے بات کرے گا۔۔۔۔اسے وضاحت دے گا لیکن وہ تو سرے سے سب ختم کرنا چاہتی تھی۔ اسکی آنکھیں سرخ انگارہ ہوئی تھیں۔

” اگر نا دوں تو کیا کرلو گی ” کیف نے ضبط کرتے ہوئے پوچھا تھا۔

” تم ایسا نہیں کرسکتے جب یہ سب جھوٹ تھا پھر کیوں ہم اس رشتے میں بندھے رہیں ؟ “

” رائٹ سب جھوٹ تھا ” کیف استہزایہ ہنسا تھا۔

” طلاق چاہیے تمہیں ظاہر ہے آگے تم نے زندگی بھی تو گزارنی ہے رائٹ ؟ ” کیف نے خود سوال کرکے خود ہی جواب دیتے سر کو جنبش دی۔

” اگر ایسا ہے تو جاؤ میں تمھیں اجازت دیتا ہوں تم نکاح پر نکاح کرسکتی ہو لیکن میں تمہیں اپنے جیتے جی کبھی طلاق نہیں دوں گا ” کیف نے سرد آواز میں کہا تو عنایہ کا ہاتھ ایک بار پھر اٹھا تھا۔ اسے غصہ آیا تھا کہ اس کی ایسی گری ہوئی بات پر۔ اب کی بار اس کے تھپڑ مارنے پر کیف کے تو تن بدن میں آگ لگی تھی۔ وہ غصے سے اس کی طرف بڑھا تو عنایہ ایک پل کو سہم گئی۔ کیف نے غصے میں اس کے دونوں بازوؤں سے اسے تھاما تھا۔

” ہاؤ ڈیر یو ؟ ” کیف اس پر چیخا تھا۔

” تم خود کو سمجھتی کیا ہو ؟ تمہاری اتنی جرت کے تم مجھے پر ہاتھ اٹھاؤ ” کیف نے دانت پر دانت جمائے تھے۔ عنایہ خود کو اس کی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگی۔ کیف کی گرفت مزید سخت ہوئی تھی۔ وہ شعلہ بار نظروں سے اسے گھورتا رہا اور پھر ایک دم اسے چھوڑا تھا اور وہاں سے جانے لگا۔ عنایہ نے اسے جاتے دیکھا تو اس کے پیچھے بھاگی۔

” تم ایسے نہیں جا سکتے کیف پلیز میری بات سنو ” وہ اس کے پیچھے چلتے ہوئے پکار رہی تھی لیکن کیف کو زرا پروا نہیں تھی۔ وہ پارکنگ کی طرف گیا اور اپنی گاڑی میں جا بیٹھا۔ عنایہ اس کی گاڑی کے قریب آئی اور اسکا شیشہ اپنے ہاتھوں سے کھٹکھٹانے لگی۔ کیف گاڑی سٹارٹ کرتا وہاں سے گاڑی نکالنے لگا۔ عنایہ وہیں کھڑی اسے جاتا دیکھ رہی تھی۔ وہ چلانا چاہتی تھی چیخنا چاہتی تھی لیکن وہ یہ سب نہیں کرسکی۔

********************

کیف ہوٹل سے گاڑی لیے باہر نکلا ہی تھا کہ سامنے روڈ سے آتی گاڑی بالکل اسکی گاڑی کے قریب آئے رکی تھی۔ کیف کا چونکہ دھیان نہیں تھا اس لیے وہ سامنے سے آتی گاڑی سے ٹکراتا ٹکراتا بچا تھا۔ سامنے والی گاڑی میں حیدر تھا جو ہوٹل کی طرف جا رہا تھا لیکن سامنے سے آتی دوسری گاڑی کا ڈرائیور ناجانے ہوش میں تھا یا نہیں۔ اگر وہ بروقت بریک نا لگاتا تو یقیناً دونوں گاڑیاں ٹکرا جاتیں۔ کیف جو گاڑی ریورس کرکے نکالنے ہی والا تھا سامنے والی گاڑی سے نکلتے شخص کو دیکھ کر رک گیا تھا۔ حیدر اس آدمی کی کلاس لینے کی غرص سے باہر نکلا تھا۔ کیف بھی اپنی گاڑی سے باہر نکلا۔ حیدر کیف کو دیکھ کر چونکا تھا۔

” اوہ تو تم ہو۔۔۔۔۔۔۔۔خیریت ؟ واپس جارہے ہو، ڈنر ختم ہوگیا کیا ؟ ” حیدر نے اس سے پوچھا۔ کیف بنا کوئی جواب دیے پلٹ کر جانے لگا لیکن حیدر کی اگلی بات وہ رکا تھا۔

” میں عنایہ کو پک کرنے آیا تھا اصل میں ہم۔۔۔۔۔۔۔” اس نے بات ادھوری چھوڑی تو کیف اس کی جانب واپس پلٹا تھا۔ اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا۔ حیدر مسکراتے ہوئے اس کے قریب آیا تھا۔

” ہم شادی کرنے والے ہیں ” حیدر کا انداز اسے باور کرواتا ہوا تھا کہ دیکھ لو وہ میری محبت ہے اور ہم ایک ہورہے ہیں۔ کیف نے اپنے ہاتھ کی مٹھی سختی سے بھنچ لی تھی۔

” تم اس کے دوست ہو شادی پر ضرور آنا ” وہ استہزایہ بولا تھا۔ جواباً کیف مسکرایا تھا۔

” اچھا ؟ شاید تمہیں پتا نہیں ہے عنایہ کا نکاح ہوچکا ہے” اب کی بار کیف کا انداز مذاق اڑاتا ہوا تھا۔

” کیا بکواس کررہے ہو ؟ ” حیدر نے اسے گھورا تھا۔

” یہ ہی کہ تم جس سے شادی کے خواب دیکھ رہے ہو وہ آلریڈی میرے نکاح میں ہے “

” تم جھوٹ بول رہے ہو ” حیدر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

” اگر مجھ پر یقین نہیں ہے جاؤ اپنی بہن نور سے پوچھ لو وہ جانتی ہے سب ” حیدر کو وہ پر اعتماد نظر آرہا تھا لیکن اسکا دل یہ ماننے کو تیار نا تھا۔ حیدر ایک پل کو کچھ بول نہیں سکا۔ کیف ایک مسکراتی نظر اس پر ڈال کر واپس اپنی گاڑی کی جانب پلٹ گیا۔ وہ کب گاڑی نکال کر چلا گیا حیدر کو اندازہ ہی نہیں ہوا۔ وہ وہیں شاک میں کھڑا تھا۔ پیچھے سے آتی گاڑی کے ہارن پر وہ ہوش میں آیا اور جلدی سے اپنی گاڑی میں جا بیٹھا اور گاڑی واپس اپنے گھر کی جانب موڑ لی۔

*********************

حیدر گھر کے اندر داخل ہوا تھا اور چلا چلا کر نور کو پکارنے لگا۔ فیصل صاحب اور صائمہ بیگم وہیں لاونج میں بیٹھے تھے حیدر کو ایسے دیکھ کر حیران ہوئے تھے۔ وہ سیڑھیاں عبور کرتا عنایہ اور نور کے مشترکہ کمرے میں داخل ہوا جہاں نور کوئی ناول لیے بیٹھی تھی۔ حیدر کو یوں دیکھ کر وہ صوفے سے اٹھ بیٹھی تھی۔ حیدر کا چہرہ سرخ تھا۔

” کیا ہوا ہے بھائی ؟ ” نور تو پہلی بار اپنے بھائی کو یوں دیکھ رہی تھی جو اتنی اونچی آواز میں اسکا نام پکار رہا تھا۔

” نور! عنایہ اور اس لڑکے کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ رک گیا۔ بہت اذیت دہ تھا یہ سب پوچھنا۔

” کیا وہ دونوں نکاح کر چکے ہیں ؟ ” آخر کار ہمت جتاتے اس نے پوچھ ہی لیا۔ نور سمجھ گئی تھی کی بھائی کو سب پتا چل گیا ہے۔ اس نے تھوک نگلا تھا۔ فیصل صاحب اور صائمہ بیگم بھی اس کے پیچھے کمرے میں آچکے تھے۔

” میں کچھ پوچھ رہا ہوں نور ” اس کے جواب نا دینے پر وہ غصے میں چلایا تھا۔ نور ڈر کر پیچھے ہوئی تھی۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا تو حیدر جہاں تھا وہیں تھم گیا۔

” کیا ہوا ہے حیدر ؟ ” صائمہ بیگم پریشانی سے کہتے ہوئے اس کے قریب آئی تھیں۔ حیدر نے خالی خالی نظروں نے انہیں دیکھا تھا پھر تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔ فیصل صاحب نے اسے روکنا چاہا تھا لیکن وہ نیچے جا کر خود کو اپنے کمرے میں بند کر چکا تھا اور یہاں صائمہ بیگم نور سے پوچھتی رہیں کہ کیا ہوا ہے لیکن وہ کچھ نا بولی اور آنسو بہانے لگی۔ صائمہ بیگم اسے چھوڑ کر نیچے گئی تھیں۔ جہاں فیصل صاحب پریشانی میں ٹہل رہے تھے۔ دفعتاً حیدر کے کمرے کا دروازا کھولا تھا جہاں وہ اپنا سفری بیگ لیے کھڑا تھا۔ صائمہ بیگم جلدی سے اس کے پاس گئی تھیں۔

” کیا ہوا ہے حیدر ؟۔۔۔۔۔۔اور تم کہاں جارہے ہو ؟ ” وہ ضبط سے کھڑا رہا۔ وہ مرد تھا رونا نہیں چاہتا تھا جبکہ اس وقت اس کا جی کررہا تھا کہ اپنی ماں کے سینے سے لگ کر خوب روئے۔

” امی۔۔۔۔۔۔۔مجھے جانا ہے ” بس اتنا ہی کہہ پایا تھا۔

” لیکن حیدر ہوا کیا ہے تم کچھ بتاتے کیوں نہیں ؟ ” فیصل صاحب نے پوچھا۔ ان کے سوال پر حیدر نے کی طرف دیکھا تھا۔

” یہ تو آپ اپنی پیاری بھانجی سے پوچھیے گا بابا ” اس نے کرب سے جواب دیا تھا۔

” اس سے کیوں ؟ ” صائمہ بیگم تیزی سے بولیں تھیں۔

” کیونکہ امی وہ اپنی یونیورسٹی کے ایک لڑکے سے نکاح کر چکی ہے ” حیدر نے مٹھی بھنچ کر ضبط کرتے ہوئے کہا تھا۔ وہاں موجود سبھی نقوش پر سکتا طاری ہوگیا تھا۔ حیدر مزید ایک پل نہیں رکا تھا اور داخلی دروازہ عبور کرتا گھر سے نکل گیا۔

**********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *