Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 46) Part - 2
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 46) Part - 2
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
عنایہ کیف کا فون لیے اپنے فلیٹ آگئی۔ اور دوسری طرف کیف کا ڈرائیور جسے صوفیا سے فون لانے کا حکم ملا تھا وہ کمپنی کے باہر صوفیا کا انتظار کرتا رہا اور جب گارڈ نے بتایا کہ صوفیا جا چکی ہے تو وہ بھی ناچار واپس چلا گیا۔ عنایہ اپنے بیڈ روم میں ہاتھ کمر میں رکھے یہاں سے وہاں ٹہل رہی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے۔ وہاں کیف کا ڈرائیور بھی فون لینے کے لیے آیا ہوگا۔
” افف کیا ضرورت تھی صوفیا سے فون لینے کی ؟ ” وہ خود کو ڈپٹ رہی تھی۔
” اب کیا کروں کیا کروں ؟ ” اپنی ناخن چباتی وہ اسکا کوئی حل تلاش کررہی تھی۔
” ایسا کرتی ہوں جا کر اسے خود فون دے آتی ہوں ” ایک پل کو رک کر اس نے سوچا۔
” لیکن اگر اس نے پوچھا تو کیا کہوں گی اور اس نے کوئی غلط مطلب نکال لیا تو ؟ ” وہ خود سے بولتی چلی جارہی تھی۔
” اس میں کیا غلط ہے میں صرف فون دینے جارہی ہوں اور بس پھر میں واپس آجاؤں گی ” خود کو جھوٹے دلاسے دیتی وہ اپنے دل کو جھٹلا رہی تھی جسے اس فارن لڑکی کا کیف کیساتھ وہاں ہونا برداشت نہیں تھا۔
***********************
اسلام آباد میں آج شام سے ہی ٹھنڈی ہواؤں کا بسیرا تھا جس کی وجہ سردی بے حد بڑھ گئی تھی۔ آٹھ بجے کے قریب عنایہ کیف کے فارم ہاؤس پہنچی تو پورا فارم ہاؤس روشنیوں میں نہایا ہوا تھا۔ وہ اپنے صبح والے کپڑوں میں ملبوس تھی لیکن اب سردی زیادہ ہونے کی وجہ سے اس نے اوپر سیاہ کوٹ پہننا ہوا تھا۔ وہ راہدری سے گزرتے ہوئے اندر لیونگ ایریا میں داخل ہوئی جب آنکھوں کے سامنے پرانی یادیں کسی فلم کی طرح چلنے لگیں۔ اس جگہ سے بہت خوبصورت یادیں جڑی تھی۔ جب کیف نے پہلی بار یہاں اسے ڈرایا تھا، جب اس نے پہلی بار اپنی محبت کا اظہار کیا تھا اور جب دونوں پہلی بار ایک دوسرے کے قریب آئے تھے۔ کتنے ہی لمحے وہ وہیں کھڑی رہی لیکن پھر کچن سے آتی برتنوں کی آواز پر وہ ہوش میں آئی تھی۔ اس نے ایک گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا اور خود کو کمپوز کیا۔ کچن سے نکلتے خانساماں کی نظر اس پر پڑی تو وہ اس کی جانب آیا۔
” آپ بھی کیف صاحب کی مہمان ہیں ؟ ” خانساماں نے پوچھا۔
” جی ! میں ان کے آفس میں کام کرتی ہوں اور کام کے سلسلے میں آئی تھی۔ سر کہاں ہیں ؟ ” اس نے جواب دیتے ہوئے یہاں وہاں متلاشی نگاہوں سے دیکھا۔
” کیف صاحب نیچے بیسمنٹ میں ہیں آئیے میں آپ کو چھوڑ آتا ہوں “
” نہیں کوئی بات نہیں میں خود چلی جاؤں گی ” خانساماں سر ہلا کر چلا گیا تو عنایہ بیسمنٹ کو جاتی سیڑھیوں کی طرف بڑھی۔
***********************
نیچے بیسمنٹ میں کیف اور سٹیلا سنوکر کھیل رہے تھے۔ سٹیلا مسکرا کر کیف کی بات کا کوئی جواب دے رہی تھی اور کیف سنوکر ٹیبل پر جھکا چھڑی ہاتھ میں پکڑے ایک آنکھ بند کیے نشانہ بنا رہا تھا جب اس کی نظر سامنے سیڑھیوں سے اترتے وجود پر پڑی۔ کیف سیدھا ہوا اور سر سا پیر اسے دیکھا۔ وہ اسے یہاں دیکھ کر حیران ہوا تھا۔ وہ یہاں کیا کررہی تھی اسے تجسس ہوا۔ دوسری طرف عنایہ کی نظریں سٹیلا پر جمی تھیں۔ وہ تو اس کے پہناوے کو دیکھ رہی تھی۔ وہ بلیک کاکٹیل ڈریس میں ملبوس تھی جو کہ سلیولیس اور گھٹنوں سے تھوڑا نیچے تک تھا۔ عنایہ تو حیران تھی کہ اتنی سردی میں وہ کیا پہن کر کھڑی تھی۔ جبکہ کیف مسلسل اسے سٹیلا کو گھورتا پا کر سب سمجھ گیا تھا۔ وہ زیر لب مسکرایا۔ کیف نے گلا کنکھارا تو عنایہ اس کی طرف متوجہ ہوئی۔ کیف نے بھونیں اچکائے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
” وہ۔۔۔۔۔۔۔میں یہ فون ” اس نے فون کیف کی طرف بڑھایا۔
” تم اپنا فون بھول گئے تھے وہ ہی دینے آئی تھی ” عنایہ نے اپنے آنے کی وجہ بتائی۔
” لیکن میں نے اپنے ڈرائیور سے کہا تھا۔ تم کیسے ؟ “
” ہاں وہ صوفیا جلدی میں تھی اس نے مجھے کہا تھا کہ تمہارا ڈرائیو آئے تو اسے فون دے دوں لیکن وہ آیا ہی نہیں میں نے بہت انتظار کیا تو پھر میں گھر چلی گئی لیکن صوفیا نے مجھے کال کی تمھے فون ضروری چاہیے۔ اس لیے میں دینے آگئی ” اس نے کندھے اچکاتے ہوئے بہانہ بنایا۔
کیف کے لب اوہ میں سکڑے۔ چونکہ ان کی باتیں اُردو میں تھی جو سٹیلا کو سمجھ نہیں آرہی تھی۔ وہ خود ہی کیف سے عنایہ کے بارے میں پوچھنے لگی تو کیف نے عنایہ کا ہی جواب مختصر کرکے اسے بتایا۔
” آ ڈیٹس سو سویٹ یہ اتنی دور تمہارا فون دینے آئی ہے، تم بھی ہمارے ساتھ ڈنر کرو نا ” کیف سے کہہ کر اس نے عنایہ کو آفر کی۔ کیف نے دوبارہ عنایہ کی جانب دیکھا تو اس نے فوراً ہی ہاں میں سر ہلا کر حامی بھرلی تو کیف اس کے اتنی جلدی مان جانے پر لب دبا کر مسکرایا۔
**********************
ڈائنگ ٹیبل پر کھانا کھاتے ہوئے دونوں ہی مسلسل باتیں کررہے تھے۔ پورے لیونگ ایریا میں سٹیلا کی ہنسی گونج رہی تھی اور عنایہ کو اس کا ذرا ذرا سی بات پر یوں ہنسنا ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا۔ کھانا تو وہ برائے نام کھا رہی تھی۔ بار بار وہ ان دونوں کو گھور کر دیکھتی اور منہ بناتی۔ کیف باتوں باتوں میں ترچھی نظروں سے اسے دیکھتا اس کے چہرے کے تاثرات سے محظوظ ہورہا تھا۔ کیف کا فون بجا تو وہ ایکسکیوز کرتا وہاں سے اٹھا۔ سٹیلا نے کوک کا سپ لیتے ہوئے عنایہ کو دیکھا تو مسکرا اسے مخاطب کیا۔ اور وہ اس سے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگی۔
” تم سنگل ہو ؟ ” سٹیلا نے عنایہ سے پوچھا۔ ایک پل کو عنایہ نے اس کے چہرے کو دیکھا پھر دل کیا اسے بتا دے کہ جس سے ہنس ہنس کر باتیں کررہی تھی وہ میرا شوہر ہے اور تم جو خواب سجائے بیٹھی ہو نا وہ کبھی میں پورے نہیں ہونے دوں گی۔ اس نے تیکھی نظروں سے سٹیلا کو گھورا اور محض سر ہلانے میں اکتفا کیا۔
***********************
ڈنر کے بعد انہوں نے کافی پی اور سٹیلا واپس ہوٹل جانے کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
” کیا وہ یہاں نہیں رہنے والی ؟ ” عنایہ نے سوچا۔ کیف کی ملازمہ اس کا سٹالیش سا سٹالر لائی جو اس نے اپنے گرد لپیٹا اور وہ باہر نکل گئی۔ کیف بھی اس کے ہمراہ ہوا۔ عنایہ بھی جلدی سے اپنا کافی کا مگ ٹیبل پر رکھتی ان کے پیچھے گئی۔ وہ باہر پہنچی تو وہ کیف کے گال سے اپنا گال مس کرتی مسکرائی۔ عنایہ نے اپنے دانت پسے تھے۔ سٹیلا اپنی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوچکی تھی۔ کیف پلٹا تو عنایہ پر نظر پڑی۔ وہ اس کے پاس سے گزر کر جانے لگا جب عنایہ کی آواز پر رکا۔
” ہمیں بھی چلنا چاہیے اب “
” ہاں تو جاؤ ” کیف کہہ کر واپس اندر جانے لگا۔
” کیسے جاؤں ؟ “
” جیسے آئی تھی ” وہ آرام سے کہتا سامنے صوفے پر جا بیٹھا۔
” اس وقت کوئی رائیڈ نہیں ملے گی۔ اس لیے تم مجھے خود چھوڑ آؤ ” عنایہ نے سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا۔
” میں تو اس وقت بہت تھک چکا ہوں۔اتنی لمبی ڈرائیو کرکے میں پہلے تمھے پنڈی چھوڑ کر آؤں اور پھر واپس اسلامآباد آؤں ؟ “
” ہاں تو ؟ میں بھی تو تمہارا فون دینے آئی تھی “
” میں نے نہیں کہا تھا ” کیف نے بے نیازی سے کہا۔ عنایہ کا تو منہ کھل گیا۔ وہ اسے گھورنے لگی تو کیف منہ بنا کر اٹھ کھڑا ہوا۔ دونوں باہر آئے تو کیف جب گاڑی میں بیٹھنے لگا تو اس کی نظر پنکچر ٹائر پر گئی۔
” اوہ نو ” کیف کی آواز پر عنایہ نے اس کی سمت دیکھا۔
” کیا ہوا ؟ “
” گاڑی کا ٹائر پنکچر ہے” کیف نے بتایا۔
” کیا ؟؟ عنایہ چلائی تھی۔
” اب کیا ہوگا ؟ ” ٹائر کو دیکھتے اس نے کیف سے پوچھا۔
” اب تو کچھ نہیں ہو سکتا ” کیف نے افسوس کرتے ہوئے کہا۔
” کیا مطلب کچھ نہیں ہوسکتا ؟ تم ٹائر چینج کرو ” عنایہ پریشانی سے بولی۔
” سوری میری گاڑی میں ایکسٹرا ٹائر نہیں ہے “
” کیا ؟ تم۔۔۔۔۔۔۔اتنی بڑی گاڑی ہے لیکن گاڑی میں ایکسٹرا ٹائر نہیں رکھا ؟ “
” تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے تم ہمیشہ اپنی گاڑی میں ٹائر رکھتی ہو ” کیف آنکھیں گھماتا واپس پلٹا۔ واپس اندر جاتے ہوئے کیف کے چہرے پر مسکان تھی۔
**********************
” تم اپنے ڈرائیور سے کہو وہ کوئی دوسری گاڑی لے آئے”
” وہ اپنے گھر واپس جا چکا ہوگا اور میں اس وقت کسی کو ڈسٹرب نہیں کرسکتا ” کیف ہاتھ میں ریموٹ تھامے سامنے لگے ٹی وی پر چینل سرفنگ کررہا تھا۔
” تو تم کسی دوست سے کہو کوئی تو ہوگا جو گاڑی بھیج دے ” کیف ایسے ہی سکون سے بیٹھا رہا۔ عنایہ کو تو اس کے اتنے ریلکیس ہونے پر تپ چڑھی تھی۔ کیف نے نا میں سر ہلا دیا جس کا مطلب تھا کہ کوئی دوست بھی نہیں ہے۔
” تو اب ہم کیا کریں گے ؟ “
” کرنا کیا ہے میرا کمرہ اوپر ہے۔ میں چلا جاؤں گا سونے تم اپنا دیکھ لو ” وہ بے نیازی سے بولا۔ عنایہ تو اس کی اس قدر لاپرواہی پر خار کھا کر رہ گئی تھی۔ مطلب وہ جائے بھاڑ میں اس شخص کو کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا۔
” میں کیا کروں ؟ ” وہ بھی ساتھ والے صوفے پر جا بیٹھی۔
” تم بھی رات یہیں رک جاؤ ” اس کی بات پر عنایہ نے اس کی طرف دیکھا جو سامنے نیوز چینل میں گم تھا۔ عنایہ دو تیں منٹ مشکوک نظروں سے اسے دیکھتی رہی لیکن اس کی بے نیازی صاف ظاہر تھی۔ اسے ڈھونڈنے پر بھی ایسا کوئی تاثر نا ملا جو وہ اس پر شک کرتی۔ اس نے اپنا کوٹ اتار دیا کیونکہ اندر ہیٹر کی وجہ سے اسے اب گرمی لگنے لگی تھی۔ کیف ابھی بھی سامنے ٹی وی کی جانب متوجہ تھا۔
**********************
کیف اب صوفے پر نیم دراز ہوگیا۔ ملازم سارے اپنا کام ختم کرتے سرونٹ کوارٹرز میں جا چکے تھے۔ ٹی وی دیکھتے دیکھتے کیف گاہے بگاہے عنایہ پر بھی نظر ڈالا لیتا جو ساتھ والے صوفے پر بیٹھی بور ہو رہی تھی۔
” ویسے سٹیلا اچھی لڑکی ہے۔ ہے نا ؟ ” کیف کی آواز پر وہ سیدھی ہوئی۔
” شی از بولڈ اینڈ بیوٹی فل اور اتنا بڑا بزنس بھی سنبھال رہی ہے “
” ہاں تو ” عنایہ نے کوشش کی کہ خود کو نارمل رکھے۔
” مطلب تمھے بھی اچھی لگی ؟ “
” ہاں بس ٹھیک تھی ” عنایہ نے منہ بنا کر کہا۔
” بس ٹھیک تو نہیں کہو شی از۔۔۔۔۔۔ففففف ڈیم گڈ ” کیف مزے سے بولا۔ عنایہ کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔ اس نے پاس رکھا کشن اٹھا کر کیف کے منہ پر دے مارا۔
” تمھے شرم نہیں آتی کسی لڑکی کے بارے میں ایسے ریمارکس دیتے ہوئے ” وہ غصے سے تلملاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
” ویسے یہاں کی لڑکیوں میں وہ بات ہی نہیں ” کیف نے کشن سائیڈ پر رکھتے ہوئے مزید اسے چھیڑا۔
” تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم انتہائی بے شرم انسان ہو ” عنایہ کا چہرہ دھواں دھواں ہوا تھا۔
” اب تم خود کو ہی دیکھ لو۔۔۔۔۔۔ ” وہ بات ادھوری چھوڑتا دھیرے سے صوفے سے اٹھا تھا۔ اپنے ذکر پر وہ ٹھٹھک کر اس کی اور متوجہ ہوئی۔
” بالکل خونخوار چڑیل لگتی ہو ” کہہ کر وہ وہاں سے بھاگ گیا۔
” یو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” عنایہ نے پیچھے سے کتنے ہی کشن اٹھا کر اس کی پشت پر پھینکے تھے جو ایک بھی کیف کو نہیں لگا تھا۔
************************
وہ اسے ڈھونڈتی ہوئی باہر آئی تھی۔ ہر جگہ دیکھنے کے بعد وہ پول سائیڈ پر آئی جہاں وہ پول کے پاس کھڑا سگریٹ پینے میں مصروف تھا۔ اسے سگریٹ پیتے دیکھ اس کا منہ بنا تھا۔ وہ ابھی بھی سگریٹ پیتا تھا۔ عنایہ کے دماغ میں ایک خیال آیا جس سے اس کی آنکھیں چمکیں۔ وہ دھیمے دھیمے قدم اٹھاتی اس کے قریب گئی۔ کیف کی پشت اس کی طرف تھی وہ اسے دیکھ نہیں سکا۔ عنایہ نے مسکراتے ہوئے اسے دھکا دیا تو کیف بیلنس برقرار نہیں رکھ پایا اور سیدھا پول میں جا گرا۔عنایہ دونوں ہاتھوں کو جوڑ وہ پاگلوں کی طرح ہنس رہی تھی۔ کیف اس کی حرکت پر اسے گھور کر رہ گیا تھا۔ وہ بالکل کنارے پر کھڑی تھی۔
” مزہ آیا کیف سر ” وہ اس کا مذاق اڑانے لگی۔ کیف نے اسے مسلسل ہنستے دیکھا تو اس کے چہرے بھی شیطانی مسکان آن ٹھہری۔ عنایہ بالکل غافل کھڑی ہنس رہی تھی جب کیف نے تھوڑا پول سے باہر ہوتے اس کی کلائی اپنی گرفت میں لی تھی۔ عنایہ کی ہنسی تھمی۔
” کیف۔۔۔۔۔۔۔۔کیا کررہے ہو چھوڑو میرا ہاتھ ” وہ پریشان ہوتی اپنا ہاتھ چھوڑوانے لگی۔ کیف کی آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں۔
” تم ایسا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ اپنی پات مکمل کرتی اس سے پہلے ہی کیف اسے اندر کھینچ چکا تھا اور وہ چھپاک کی آواز سے پول کے اندر تھی۔
” اہہہہ کیف” وہ پانی میں غوطہ کھاتی دونوں ہاتھوں سے کیف کے کندھے کو تھام گئی۔ کیف اس کی کمر ہاتھ ڈال کر اسے اوپر کرتا اپنے قریب کرگیا۔
دونوں ایک دوسرے کے بے حد قریب تھے۔ اتنی سردی میں عنایہ تو کانپنے لگی تھی۔
” اب مزہ آیا ؟ ” کیف نے ہنستے ہوئے کہا۔ عنایہ نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر خود کو اس سے دور کیا تھا۔
” کیف کے بچے میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی ” وہ حلق کے بل چلائی تھی۔
” اچھا اتنی تم۔۔۔۔” کیف نے اسکا مذاق اڑایا اور سوئم کرتا باہر نکل گیا۔
” کہاں جارہے ہو ؟ ” وہ اسے باہر نکلتا دیکھ فوراً بولی تھی۔
” ڈارلنگ سردی بہت ہے اور مجھے اتنی جلدی مرنے کا شوق بالکل نہیں ہے “
” کس قدر کمینے ہو تم مجھے یہاں مرنے کیلئے چھوڑ رہے ہو” اسے تو صدمہ ہوا تھا۔
” تو تمھے کس نے کہا ہے اندر رہنے کو باہر آجاؤ ” کیف اپنے گیلے بالوں پر ہاتھ پھیرتا بولا۔
” کیسے آجاؤں میرے کپڑے سارے بھیگ چکے ہیں اور تمھے یہ حرکت کرتے ہوئے ذرا خیال نہیں آیا اس چیز کا”
” تو شروع بھی تم نے کیا تھا اب بھگتو” وہ کہہ کر اندر جا چکا تھا۔ پیچھے عنایہ اسے کوستی رہ گئی۔
*********************
کیف واپس باہر آیا تو اس کے ہاتھ میں باتھ روب تھا۔ عنایہ بھی پول سے باہر نکل آئی تھی۔ اپنے گرد بازہ لپیٹے وہ بری طرح کانپ رہی تھی۔ کیف نے باتھ روب اسے تھمایا جو اس نے تھام کر جلدی سے پہن لیا۔
” اوپر میری وارڈروب میں کچھ بھی مناسب دیکھ کر چینج کرلو ورنہ سردی لگ جائے گی ” کیف کہتا ہوا پلٹ گیا۔ عنایہ نے مکا بنا کر ہوا میں لہرایا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ بتاتی اس کو۔
**********************
وہ فریش ہو کر باہر نکلی جب کیف کی نظر اس پر پڑی اور پلٹنا بھول گئی۔ اس کی لال رنگ کی فل سلیوس سویٹ شرٹ اور نیچے سیاہ ٹراؤزر پہننے وہ کتنی خوبصورت لگ رہی تھی۔ کیف کے کپڑے اسے بڑے اور کافی لوز بھی تھے۔ تولیے سے اپنے بال خشک کرتی وہ کیف کی نظروں سے لاعلم تھی۔
” میں کہاں رہوں گی ؟ ” عنایہ نے اس سے پوچھا۔ اس کی آواز پر کیف ہوش میں آیا۔
” یہیں اور کہاں ” کیف کہتا ہوا اس کے پاس سے گزر کر واشروم میں جا چکا تھا۔
” کیا۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟” پیچھے وہ شاک میں چلائی۔
*************************
وہ واشروم کے باہر مارچ کرتی کیف کا انتظار کرنے لگی۔ پورے فارم ہاؤس میں اس بیڈ روم کے علاوہ دو اور کمرے تھے جو لاکڈ تھے۔ وہ جا کر دیکھ آئی تھی۔ کیف فریش ہوتا باہر نکلا تو عنایہ اس کے سر جا پہنچی۔
” دوسرے رومز کی کیز کہاں ہیں ؟ ” اس نے پوچھا۔
” میرے پاس نہیں ہیں” کیف قد آور آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
” کیا مطلب نہیں ہیں ؟ ” وہ اس کے پیچھے گئی۔
” مطلب مجھے نہیں پتہ کہاں ہیں۔ کیونکہ لاسٹ ٹائم مام کی پارٹی تھی یہاں اس لیے مجھے اس حوالے سے کچھ نہیں معلوم “
” اوکے ! تو تم نیچے لیونگ روم میں جا کر سو جاؤ میں یہاں رہوں گی ” اپنے گرد بازو باندھتے اس نے حکم صادر کیا۔
” سیریسلی ؟ میرا فارم ہاؤس میرا بیڈروم اور میں لیونگ روم میں جاؤں واہ ” کیف نے بھونیں اچکا کر طنزیہ کہا۔
” تو اور کیا میں جاؤں ؟ “
” ہاں جاؤ اگر تمھے اکیلے ڈر نہیں لگتا تو “
” ڈر کیوں لگے گا ؟ “
” ویسے میں بتانا نہیں چاہتا تھا لیکن تم نے پوچھ لیا ہے تو بتا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔اس فارم ہاؤس میں کچھ عجیب چیزیں ہیں “
” کک۔۔۔۔۔کیسی چیزیں ” اس نے ڈرتے ہوئے پوچھا۔
” گارڈ نے ایک دو دفعہ یہاں کچھ دیکھا ہے لیکن میں نہیں مانتا یہ سب فضول کی باتیں ہیں تم جاؤ نیچے جا کر آرام سے سو جاؤ ” کیف بھرپور اداکاری کرتے ہوئے بولا۔
“مم۔۔۔۔۔۔۔میں کیوں جاؤں ؟ میں تو نہیں جارہی” وہ صاف انکاری ہوئی۔
” اوکے فائن یہاں رک جاؤ ” کیف نے کندھے جھٹکے۔ تھوڑے پل خاموشی کے نظر ہوئے تھے۔ عنایہ نے اس کی طرف دیکھا تو اسی وقت کیف نے بھی اسے دیکھا۔ کیف نے شرارت بھرے انداز میں آنکھوں سے بیڈ کی جانب اشارہ کیا تو وہ سٹپٹائی۔ چہرہ پل بھر میں سرخ ہوا تھا۔
” تم کمینے انسان سوچنا بھی مت ” اس نے تنبیہ کی۔
” کیا ؟ ” کیف انجان بنا۔ عنایہ نے دانت کچکچائے۔
” تم سامنے کاؤچ پر جاؤ “
” اوہ ہیلو اس کاؤچ پر چھوٹا بچا بھی نہیں سو سکتا ” کیف کہہ کر بیڈ پر جا لیٹا۔ عنایہ نے غصے سے اسے دیکھا تھا۔ عنایہ وہیں بیڈ کے پاس چکر لگاتی رہی۔ وہ اس وقت خود کو بے بس محسوس کررہی تھی۔ اس نے غلطی کی تھی یہاں آکر۔ نیند سے برا حال تھا اور سمجھ نہیں آیا کیا کرے۔ اس نے کیف کو دیکھا جو آنکھیں بند کیے مزے سے لیٹا تھا۔
” کیوں فضول میں خود کو ہلکان کررہی ہو یہاں آکر سو جاؤ”
” کبھی نہیں” اس نے غرا کر کہا۔
” پاگل مت بنو۔ میں اس طرف ہوں تم دوسری طرف آرام سے سو جاؤ ” کیف نے اسے قائل کرنا چاہا۔ عنایہ نے دیکھا بیڈ کافی بڑا تھا۔ ایسے بیچ میں کافی فاصلہ تھا اور اب اتنی نیند آرہی تھی اسے کوئی اور حل نظر نہیں آیا۔
” ٹھیک ہے ! تم اپنی جگہ پر رہنا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ” وہ انگلی اٹھا کر وارن کررہی تھی۔ دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ عنایہ نے منہ بگاڑا اور لائٹ بند کرتی بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی۔ اس نے چہرہ موڑ کر دیکھا وہ ابھی بھی آنکھیں بند کیے ہوا تھا۔ اس کے سائیڈ ٹیبل پر رکھے لیمپ سے ہلکی ہلکی روشنی کمرے میں بکھری ہوئی تھی۔ عنایہ دھیرے سے کمبل اوڑھ کر لیٹ گئی۔ ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی جب کیف دھیرے سے قریب ہوتا اپنا بازو اس کی کمر کے گرد حمائل کرتا اپنے حصار میں لے چکا تھا۔ عنایہ اس اچانک افتاد پر ہڑبڑائی تھی۔
” تمھے تو میں چھوڑوں گی نہیں” وہ چلائی۔
” میں بھی یہ ہی چاہتا ہوں کہ تم مجھے بالکل نہیں چھوڑو” کیف نے شوخی سے کہا۔ عنایہ نے اپنی کہنی اس کے سینے پر زور سے ماری تو کیف کی گرفت ڈھیلی پڑتے ہی وہ جلدی سے اس سے دور ہوئی۔
“تم چھچھورے بے شرم کہا تھا نا میرے قریب مت آنا ” اپنا تکیہ اٹھا کر وہ اسے مارنا شروع ہو چکی تھی۔
کیف ہنستا چلا گیا۔
” بیگم سردی بہت ہے اس لیے قریب کیا تھا تاکہ دونوں سکون سے سو سکیں ” کیف شرارت بھرے لہجے میں بولا۔
” ابھی سلاتی ہوں تمھے ” عنایہ نے تکیہ پھینک کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے بالوں پر حملہ کرنا چاہا تو کیف نے فوراً سے اس کی دونوں کلائیاں اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لیتے اسے اپنے اوپر جھکایا۔
” اس سے پہلے کہ میں اپنے ہوش کھو بیٹھوں چپ کرکے ایسے سو جاؤ ورنہ دوسری صورت میں تم صرف پچھتاؤ گی ” کیف کی خمار میں ڈوبی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تو ہار مانتے ہوئے اس نے سر کیف کے سینے پر گرایا تھا۔ کیف نے مسکراتے ہوئے اس کی گرد اپنا حصار باندھا تھا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ اس کے سینے پر سر رکھے مزے سے سو رہی تھی۔
*************************
