Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 17) Part - 2
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 17) Part - 2
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
” تم ؟ ” عنایہ نے ساتھ بیٹھے کیف کو حیرانگی سے دیکھا تھا۔
” ہاں میں ” کیف نے آرام سے کہا۔
” یہاں کیوں بیٹھے ہو ؟ ” تیکھے لہجے میں استفسار کیا۔
” تو اور کہاں جاؤں ؟ ” کیف نے الٹا پوچھا۔
” جہاں بھی جاؤ لیکن میرے پاس سے اٹھو فوراً “
” او ہیلو ! یہ تمہاری اپنی پرسنل بس نہیں ہے جو مجھے حکم دے رہی ہو اور مجھے کوئی شوق نہیں تمہارے ساتھ بیٹھنے کا۔۔۔۔۔وہ تو اور کہیں سیٹ نہیں تھی اس لیے مجبوراً ” کیف نے لٹھ مار انداز میں کہا۔
عنایہ نے اسکی بات پر تھوڑا سا اوپر ہو کر پوری بس میں نظر دوڑائی تھی۔ وہ صحیح کہہ رہا تھا واقعی میں کہیں اور جگہ نہیں تھی۔ عنایہ واپس ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ کیف ایک نظر اس پر ڈال کر اپنے فون کو استعمال کرنے لگا۔ جبکہ عنایہ کافی غصے میں تھی۔ ایک دم خیال آیا تو دوسری طرف بیٹھے عمر کو آواز دینی چاہی لیکن وہ تو خود کانوں میں ایئر فون لگا کر بیٹھا تھا۔
” افف کہاں پھنس گئی میں ؟ ” عنایہ بڑبڑائی۔
” یہ ڈائیلاگ تو میرا ہونا چاہیے ” کیف کی آواز پر عنایہ نے تیز نظروں سے اسے گھورا تھا۔
” عمر سے کہو یہاں آکر بیٹھے یا زینب کو یہاں بھیجے اور تم وہاں جاؤ “
” میں ایسا نہیں کرنے والا ” کیف نے صاف انکار کیا۔
” تم نہیں کرو گے تو میں کروں گی ” عنایہ نے دو ٹوک کہہ کر اپنا فون نکالا۔
” اگر ایسے ہی کرنا تھا تو پہلے کیوں نہیں بیٹھی وہاں؟ اب دونوں کو ساتھ رہنے کا موقع دے ہی دیا تو یہ سب کرنے کا فائدہ ؟ ” کیف نے فون سے نظریں ہٹا کر اسکی اور دیکھ کر کہا۔ اس کی بات پر عنایہ سوچ میں پڑ گئی۔ اور حیران بھی تھی کہ کیف سب جانتا ہے۔ یعنی عمر اسے سب بتاتا ہے۔ عنایہ نے سوچا۔
” مجھے کیا پتا تھا اس نیکی کا صلہ مجھے اس صورت میں ملے گا ” عنایہ اکتاہٹ آمیز نظر کیف پر ڈال کر بولی۔
” اتنا حسین صلہ ملا ہے تمھے۔۔۔۔۔۔مارا تو میں گیا ہوں مفت میں ” کیف نے بھی بدلہ پورا لیا۔
” تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” عنایہ کے تو تن بدن میں آگ لگی تھی۔
” میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت ہینڈسم ہوں پتا ہے ” کیف نے اسی کے انداز مزے سے جواب دیا۔ عنایہ تو ضبط کرکے رہ گئی تھی۔ کوئی جواب دینے کی بجائے اپنا چہرہ موڑ کر باہر دیکھنے لگی۔ جانتی تھی کچھ بھی کہے گی وہ آگے سے اس سے بھر پور جواب دے گا۔ اس لیے اس نے یہ کڑوا گھونٹ پینے میں ہی بہتری سمجھی۔
********************
دوسری طرف نتاشہ آگے فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی، اسکے ساتھ انگلش لٹریچر کی میم شازیہ موجود تھیں۔ نتاشہ نے ان کو دیکھ کر برا سا منہ بنایا تھا۔ کیونکہ یہ سیٹ اس نے کیف کیلئے رکھی تھی۔ میم شازیہ کو دوسری بس میں جگہ نا ملی تو وہ اس بس میں آگئیں تھیں۔ ڈرائیور کے ساتھ آگے ایک مینیجر بھی موجود تھا۔ اور انکی سیٹ کے پیچھے اس بزنس ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ پروفیسر بھی تھے۔ میم شازیہ کے بعد کیف بس میں داخل ہوا تھا جب اس نے خالی سیٹ کیلئے پوری بس میں نظر دوڑائی تھی اور جہاں خالی سیٹ ملی اس کے ساتھ بیٹھی ہستی کو دیکھ ناجانے کیوں کیف کے دل میں سکون سا اترا تھا۔ وہ آگے بڑھ کر اس کے پاس جا بیٹھا۔
********************
عنایہ یوں ہی اپنا سر کھڑکھی پر ٹکا کر آنکھیں موندے بیٹھی تھی جبکہ کیف اپنے فون پر عمر سے میسجز پر بات کررہا تھا اور ساتھ ساتھ پاس بیٹھی عنایہ پر نظر بھی ڈال رہا تھا۔ ویسے تو ایک لمبے عرصے سے کیف عنایہ کو اگنور کررہا تھا لیکن آج اتنے پاس دیکھ کر دل کو عجیب سی خوشی ہورہی تھی جسے کیف سمجھ نہیں پارہا تھا۔ اس نے اپنی تمام سوچوں کو جھٹکا اور عمر کو میسج لکھا۔
” کمینے تیری یہ عاشقی کے چکر میں، میں بری طرح پھنسا ہوں “
” کیوں کیا ہوا ؟ ” عمر کا میسج واٹس ایپ پر فوراً آیا تھا۔ کیف نے میسج سین کیا اور سوچا کہ اب اسے کیا جواب دے کہ کیا ہورہا ہے اس کے ساتھ ؟ اپنی حالت وہ خود سمجھنے سے قاصر تھا۔
” تم دونوں پلیز یہاں مت جھگڑنے لگ جانا ” اس کے جواب نا دینے پر عمر کا اگلا میسج آیا تھا۔
” ہاں تیری ناؤ پار لگ جائے بس باقی جائیں بھاڑ میں “
” تو میرے یار اسی کو دوستی کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔ایک دو گھنٹے کی بات ہے سہہ لے میرے لیے “
” اس کا بدلہ پورا لوں گا تجھ سے وقت آنے پر ” کیف نے لکھ کر بھیجا۔
” جان حاضر ہے بھائی تیرے لیے ” عمر کے اس میسج پر کیف مسکرایا تھا اور نظر ساتھ بیٹھی عنایہ ہر ڈالی تھی جو اس سے کافی فاصلہ بنائے بالکل کھڑکھی کے ساتھ جڑ کر بیٹھی تھی۔ سر شیشے سے ٹکا کر آنکھیں موندے لیکن وہ ہر ایک منٹ بعد ہلکی سی آنکھ کھول کر کیف کو بھی دیکھتی تھی اور جب اس بار اس نے آنکھ کھولی تو کیف کو دیکھتا پا کر گڑبڑا کر فوراً آنکھ بند کر لی۔ کیف کو اس کی اس حرکت پر ہنسی آئی جو وہ ضبط کرگیا تھا۔
********************
مری کا سفر سر سبز پہاڑوں، گھنے جنگلات اور دوڑتے رقص کرتے بادلوں کے حسیں نظاروں سے بھرپور گزر رہا تھا۔ سب سٹوڈنٹس خوش گپیوں میں لگے ہوئے تھے۔ بس ایک عنایہ تھی جو نیند کی وادیوں میں گم تھی اور سوتے ہوئے اسکا سر کیف کے کندھے پر ڈھلک گیا۔ کیف جو سر سیٹ سے ٹکائے آنکھیں موندے ہینڈ فری لگائے گانے سن رہا تھا اس اچانک ہونے والی افتاد پر آنکھیں کھولیں اور عنایہ کی طرف چہرہ موڑ کر دیکھا جو بڑے مزے سے اس کے کندھے پر سر رکھے ہوئے تھی۔ وہ جو پہلے ہی اس کے وجود سے خود کو لاتعلق ظاہر کرنے کی نا کام کوشش کررہا تھا اب کی بار بری طرح پھنسا تھا۔ وہ اس کی ساری توجہ کھینچ چکی تھی۔ اس کے چہرے پر آئے بال کیف نے اپنا ہاتھ بڑھا کر ہٹائے تھے۔ وہ اس کے نقوش کا جائزہ لینے لگا۔ بے اختیاری میں اس نے اپنا چہرہ مزید اس کے چہرے کے قریب کیا تھا۔ لیکن دل میں ابھرنے والی خواہش سے کیف نے خود کو ملامت کی اور تیزی سے پیچھے ہوا تھا۔ اس کے یوں پیچھے ہونے پر عنایہ کی نیند میں خلل پڑا تو اس نے آنکھیں کھولیں۔ وہ ایسے ہی اس کے کندھے پر سر رکھے یہ سمجھنے کی کوشش کررہی تھی کہ وہ کہاں ہے ؟ جیسے ہی اپنے اتنے پاس کیف پر نظر پڑی تو فوراً سیدھی ہوئی تھی۔ اپنی اسے حرکت پر عجیب شرمندگی ہونے لگی تھی عنایہ کو۔
” پتا نہیں کیا سوچتا ہوگا ” اس نے اپنے بال ٹھیک کرتے ہوئے سوچا۔
” شکر ہے میرے کندھے کو بھی تھوڑا آرام نصیب ہوا ” کیف نے جان بوجھ کر ایسے ظاہر کیا جیسے وہ بہت غیر آرام دہ تھا۔
” تم نے مجھے اٹھایا کیوں نہیں ؟ ” عنایہ نے منہ پھولائے کہا۔
” لو اتنا تو اٹھایا لیکن تم تو جیسے بھنگ پی کر سوئی تھی ” کیف نے پھر ایک تیر چھوڑا۔
” تمھے تمیز نہیں ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں مان ہی نہیں سکتی کہ تم نے مجھے اٹھایا ہو اور میں نا اٹھی ہوں۔۔۔۔۔میں کبھی اتنی گہری نیند نہیں سوئی ” وہ بضد تھی(ایسا کیسے ہوسکتا تھا کے کوئی اسے جگائے اور وہ اٹھے نا)۔
” خاصی خوش فہم ہو اپنی نیند کو لے کر ” کیف کچھ پل پہلے والی نزدیکی کا سوچتے ہوئے بولا۔
” تم منہ بند رکھ لو تو بہتر ہے ورنہ مجھے مجبوراً یہاں سے جانا پڑے گا ” عنایہ نے تیکھے لہجے میں دھمکی دی۔
” بہت بڑا احسان کرو گی ” کیف نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا۔
” افف ” عنایہ نے غصے سے اپنا سر پیچھے سیٹ کی پشت پر مارا تھا۔
******************
نتھایہ گلی میں سٹوڈنٹس کی رہائش کا بندوست ہوا تھا۔ وہاں پہنچ کر سب ہی فریش ہونے کی غرض سے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔ ایک گھنٹے بعد لنچ کیلئے نکلنا تھا۔ کچھ لڑکے تو ابھی سے ہی باہر سیر کیلئے نکل گئے تھے۔ عنایہ زینب اور دو لڑکیاں ایک ہی کمرے میں رکیں تھیں۔ زینب تو آتے ہی بیڈ پر ڈھیر ہوگئی تھی جبکہ عنایہ فریش ہونے کیلئے واشروم جا چکی تھی۔
دوسری طرف کیف اپنے کمرے کے باہر کے خوبصورت نظارے سے لطف اندوز ہورہا تھا۔ ہوٹل کی بیک سائیڈ پر جنگل تھا ہر طرف درخت لگے تھے۔ کیف ریلنگ پر ہاتھ ٹکائے کھڑا تھا جب عمر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
” کیسا گزرا سفر ؟ ” عمر بھی اس کے ساتھ ریلنگ ہر ہاتھ ٹکائے کھڑا ہوگیا۔ کیف نے ایک نظر اس کو دیکھ کر واپس نظریں سامنے ٹکا لیں۔
” یہ سوال تو میرا ہونا چائیے ؟ کہ عمر صاحب کیسا گزرا سفر اپنی محبوبہ کے سنگ ؟” کیف نے چڑ کر کہا تھا۔ عمر نے اس کی بات پر قہقہ لگایا تھا۔
” تھینک یو میرے یار ” عمر پورا اس کی اور مڑ کر بولا تھا۔
” تھینکس کو چھوڑ یہ بتا کوئی پروگیس ؟ “
” نہیں ابھی کہاں لیکن انشاء اللہ اس ٹرپ پر دل مل ہی جائیں گے ” عمر نے شوخ انداز میں کہا تھا۔ کیف نے بس ایک مسکراتی نظر اس پر ڈالی تھی۔
******************
اگلے دن مری میں خوبصورت سی صبح تھی۔ کل رات سب لوگ زیادہ نتھایہ گلی میں ہی گھومتے رہے تھے پھر رات کو کمروں میں جا کر اپنی سفر کی تھکان اتاری تھی۔ آج مال روڈ کشمیر پوائنٹ اور پنڈی پوائنٹ کیلئے نکلنا تھا۔ کیف بلیک جینز پر پر بلیو جیکٹ پہنے تیار کھڑا تھا۔ عنایہ کمرے کے باہر کھڑی زینب کا انتظار کررہی تھی جو ناجانے کتنا وقت لے چکی تھی تیار ہونے میں۔ عنایہ بلیک جینز پر بلیک لونگ کوٹ پہنے ہوئے تھی۔ بال اس نے سٹریٹ کیے کھلے چھوڑے تھے۔ چہرے پر بالکل ہلکا سا نیچرل میک اپ کیا تھا۔
” زینب اب اگر تم ایک منٹ میں نا نکلی تھی تو میں جارہی ہوں ” عنایہ نے دروازے کے پاس کھڑے ہی ہانک لگائی تھی۔
” آگئی بس ” زینب نے بھی اونچی آواز میں جواب دیا۔ اور ایک منٹ سے پہلے ہی کمرے سے نکل آئی۔ زینب نے بلیو جینز پر میرون رنگ کا لانگ کوٹ پہنا تھا۔
“سب کب سے انتظار کررہے ہیں ہم دونوں کا، تمہاری وجہ سے اتنا لیٹ ہوگئے ” عنایہ نے ساتھ چلتی زینب کی خبر لی تھی۔
” او ہو اتنا بھی لیٹ نہیں ہوئے ” زینب نے بالکل ریلکیس انداز میں کہا اور تیز تیز چلنے لگی۔
*******************
کشمیر پوائنٹ پر سیاحوں کا خاصا رش تھا۔ سبھی سٹوڈنٹس ٹولوں کی صورت میں یہاں وہاں پھیلے خوب انجوائے کررہے تھے۔ اکتوبر کے شروع کے دن تھے اس لیے موسم کافی حد تک سرد تھا۔ کیف عمر اور ان دونوں کے ہمراہ نتاشہ ایک گھوڑے والے کے پاس کھڑے گھوڑ سواری کا پوچھ رہے تھے۔ وہیں دوسری طرف عنایہ اور زینب تصویریں لینے میں مصروف تھیں۔ کیف نے یہاں آنے کے بعد بھول کر بھی عنایہ کو ایک بار بھی نہیں دیکھا تھا۔ شاید آخری بار اسے ہوٹل پہنچ کر دیکھا تھا۔ اس کے بعد سے کیف کوشش کررہا تھا اس سے کم ہی سامنا ہو۔ نتاشہ اور کیف گھوڑے پر سوار تھے اور عمر نے دونوں سے معزرت کرلی تھی جس پر کیف نے عمر کو ایک گھوری سے نوازا تھا۔ عمر اس کی گھوری پر مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے کان پکڑ کر وہاں سے جا چکا تھا۔ عمر تیز تیز چلتے ہوئے یہاں وہاں نظریں گھماتا زینب کو ڈھونڈ رہا تھا اور وہیں قریب میں وہ دونوں دکھ گئی تھیں۔
” کیا پلان ہے پھر ؟ پیکچرز ہی لینی ہیں بس ؟ ” عمر نے زینب کو نظروں کے حصار میں رکھے استفسار کیا۔
” نہیں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔تم گئے نہیں اپنے دوستوں کے ساتھ ؟ ” عنایہ نے اس کی بات کا جواب دے کر پوچھا۔
” ارے نہیں میرا موڈ نہیں تھا “
“عنایہ وہ دیکھو سامنے بھوت بنگلہ ” زینب نے ایک دم خوشی سے چہکتے ہوئے کہا تھا۔
” ہاں نظر آرہا ہے زینب “
” آو نا جا کر دیکھتے ہیں، بڑا مزہ آئے گا ” زینب نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا۔
” زینب بچوں کیلئے ہوتا ہے “
” ارے سب دیکھ سکتے ہیں ” زینب بضد تھی۔ عمر اسکی بچوں والی فرمائش پر مسکرایا تھا۔
” چلو نا عنایہ چلتے ہیں ” اب کی بار عمر نے کہا تھا۔
” دیکھو وہ بھی تیار ہے جانے کیلئے اور تم ” زینب نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے خفگی سے کہا تھا۔
” اچھا میری ماں چلو ” عنایہ نے حامی بھری تو وہ تینوں چل دیے۔
******************
چاندنی رات تھی اور نتھایہ گلی میں رات کے اس پہر سردی اپنے عروج پر تھی۔ کچھ سٹوڈنٹس ہوٹل کی بیک سائیڈ والے گارڈن ایریا میں موجود تھے اور کچھ منچلے باہر گھومنے کیلئے گئے تھے۔ ہوٹل والوں نے ان کیلئے یہاں آگ جلا کر ایک خوبصورت سا ماحول بنا کر دے دیا تھا۔ آس پاس بینچ رکھے تھے۔
” یار اس ماحول کو تھوڑا اور مزے دار کرتے ہیں ” یہ انہی کے ڈیپارٹمنٹ کا لڑکا فراز تھا جو کھڑے ہو کر سب سے مخاطب ہوا تھا۔
” اچھا کیا کریں ؟ ” عمر نے پوچھا۔
” کوئی گیم کھیلتے ہیں ” فراز نے مشورہ دیا۔
” کیف کو دیکھا ہے کسی نے ؟ ” نتاشہ نے اسے وہاں نا پا کر پوچھا۔ عمر نے بھی اسکو کافی دیر سے نہیں دیکھا تھا۔ عنایہ کو بھی یاد آیا جب سے یہاں آئے ہیں کیف اسے دکھا ہی نہیں تھا۔ وہ بھی یہاں وہاں اسے ہی تلاش کرنے لگی تھی۔
” میں کیوں ڈھونڈ رہی ہوں ؟ مجھے کیا جہاں بھی ہو ” عنایہ نے ایک دم سوچا تھا۔
” میں دیکھتا ہوں ” عمر کہہ کر وہاں سے اٹھ گیا۔
” ارے یار کیف کا گانا ہونا چاہیے ” فراز نے فوراً کہا۔
” پہلے وہ مل تو جائے ” یہ آواز نتاشہ کی تھی۔ عمر تھوڑی دور کھڑا کیف کو کال کررہا تھا لیکن یہاں سگنل بہت کم ہونے کی وجہ سے کال ملی ہی نہیں رہی تھی۔ عمر خود ہی آگے بڑھ کر اسے ڈھونڈنے لگا۔ اور وہ اسے پاس ہی درختوں کے پیچ کھڑے سیگریٹ پیتا نظر آگیا تھا۔
” کیا ہے کیف کب سے ڈھونڈ رہا ہوں ؟ ” عمر نے اس کے پاس جا کر کہا تھا۔
” کیوں ؟ ” کیف نے سیگریٹ کا دھواں ہوا میں چھوڑتے ہوئے پوچھا تھا۔
” ابے چل وہاں کیا رومنٹک ماحول بنا ہے اور تو یہاں فضول کام میں لگا ہے “
” میرا کیا لینا دینا ایسے ماحول سے ؟ “
” یار تیرا نہیں ہے باقیوں کا تو ہے نا ایسے ماحول میں تیرا گانا ہو تو مزہ آ جائے “
” کوئی حال نہیں ” کیف نے آدھی ہی سیگریٹ اچھال کر پھینکی تھی۔
” اچھا کوئی موقع کی مناسبت سے اچھا سا گیت سنا ” ساتھ چلتے عمر نے فرمائش ظاہر کی تھی۔
وہاں پہنچ کر فراز جلدی سے اپنے ایک دوست کا گیٹار لایا تھا اور کیف کو تھما دیا۔ نتاشہ جلدی سے آکر کیف کے ساتھ بیٹھ گئی تھی۔ عنایہ اور زینب آگ کی دوسری طرف رکھے بینچ پر بیٹھی تھیں۔ عمر ان دونوں کے ساتھ بیٹھ گیا۔
نیلے نیلے امبر پر چاند جب آئے
پیار برسائے ہمکو ترسائے
ایسا کوئی ساتھی ہو ایسا کوئی پریمی ہو
پیاس دل کی بجھا جائے۔
نیلے نیلے امبر پر چاند جب آئے
پیار برسائے ہمکو ترسائے
ایسا کوئی ساتھی ہو ایسا کوئی پریمی ہو
پیاس دل کی بجھا جائے۔
عنایہ تو اسکی آواز کے سحر میں کھو سی گئی تھی۔ جبکہ عمر چہرہ موڑ زینب کے چہرے پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ زینب کی اچانک نظر عمر پر گئی تو یوں عمر کو اپنی طرف متوجہ دیکھ سٹپٹا گئی۔ اس نے جلدی سے واپس سامنے دیکھنا شروع کردیا لیکن دل کی دھڑکن ایک دم تیز ہوئی تھی۔
اوہ اونچے اونچے پروت جب چومتے ہیں امبر کو
پیاسا پیاسا امبر جب چومتا ہے ساگر کو
اونچے اونچے پروت جب چومتے ہیں امبر کو
پیاسا پیاسا امبر جب چومتا ہے ساگر کو
پیار سے کسنے کو باہوں میں بسنے کو
دل میرا للچائے کوئی تو آ جائے
ایسا کوئی ساتھی ہو ایسا کوئی پریمی ہو۔
پیاس دل کی بجھا جائے
کیف نے گیٹار پر ٹیون بجاتے نگاہ اٹھا کر سامنے عنایہ کو دیکھا تو دل نے ایک بیٹ مس کی تھی لیکن کیف نے فوراً سے پہلے اپنی نظروں کا زوایہ بدلا تھا۔
اوہ ٹھنڈے ٹھنڈے جھونکے جب بالوں کو سہلائیں
تپتی تپتی کرنیں جب گالوں کو چھو جائے گا۔
ٹھنڈے ٹھنڈے جھونکے جب بالوں کو سہلائیں
تپتی تپتی کرنیں جب گالوں کو چھو جائے گا۔
سانسوں کی گرمی کو ہاتھوں کی نرمی کو
میرا من ترسائے کوئی تو چھو جائے
ایسا کوئی ساتھی ہو ایسا کوئی پریمی ہو۔
پیاس دل کی بجھا جائے۔
نیلے نیلے امبر پر چاند جب آئے
پیار برسائے ہمکو ترسائے
کیف نے گیت ختم کیا تو وہاں موجود سب ہی مسرور ہوئے تھے۔ زینب نے ترچھی نظر سے عمر کی طرف دیکھا وہ اب بھی ایسے ہی اسے دیکھ رہا تھا جس سے زینب گھبرا گئی۔
” افف اسے کیا ہوگیا ہے ” زینب نے بے اختیار سوچا۔
” واؤ کیف i just loved it ” نتاشہ کی آواز پر عمر ہوش میں آیا تھا اور فوراً سیدھا ہوا تھا۔
” سچ کیف بڈی واٹ آ پرفامنس ” فراز نے کھڑے ہو کر تالی بجاتے ہوئے اسے داد دی تھی۔ زینب نے ایک بار پھر عمر کی طرف دیکھا جو اب سامنے دیکھ رہا تھا۔ زینب کو اب اس کی پہلی والی حالت پر ایک دم ہنسی آئی تھی کیونکہ وہ لگ ایسا رہا تھا اسے دیکھتے ہوئے۔ عنایہ اور عمر دونوں نے ایک ساتھ اسکی طرف دیکھا تھا۔
” کیا ہوا ؟ ” عمر نے اسے ہنستے دیکھ پوچھا تھا۔
” کچھ بھی نہیں ” زینب نے مسکراہٹ ضبط کی۔
” تو ہنس کیوں رہی ہو ؟ ” عنایہ نے پوچھا۔
” ایسے ہی ” زینب نے کندھے جھٹک کر کہا۔ دونوں کو زینب کا یہ انداز عجیب لگا تھا لیکن پھر وہ ادھر ادھر کی باتوں میں مگن ہوگئے۔
********************
رات کا ایک بج رہا تھا۔ جب عمر اور کیف کے کمرے کا دروازا ناک ہوا۔ عمر تو گہری نیند میں جا چکا تھا لیکن کیف کی ابھی آنکھ لگی ہی تھی۔ کیف بد مزہ سا ہوا تھا۔ اپنے گرم بستر کو چھوڑ کر اس نے دروازہ کھولا تو سامنے ہی پریشان سی زینب کھڑی تھی۔ اسے رات کے اس پہر دیکھ کر کیف حیران ہوا تھا۔
” کیا ہوا ؟ is everything okay ” کیف نے پوچھا۔
” عمر کہاں ہے ؟ اسے جلدی سے بلا دو پلیز ” زینب نے روہانسی آواز میں کہا تھا۔
” لیکن کیا ہوا ہے ؟ “
” کیف وہ عنایہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
” عنایہ کیا ؟ ” زینب کا یوں عنایہ کا نام لے کر چپ ہوجانے پر کیف نے تیزی سے پوچھا تھا۔
” وہ میں اور عنایہ ایسے ہی باہر واک کررہے تھے۔ باتوں ہی باتوں میں ہم تھوڑا اندر جنگل میں کب نکلے پتا نہیں چلا “
” ہاں تو ؟ ” کیف نے بے چینی سے پوچھا تھا۔
” میں یوں ہی آگے تھی اور عنایہ میرے پیچھے لیکن جب میں پلٹی تو عنایہ وہاں نہیں تھی “
” واٹ ؟؟؟؟ زینب کیا مطلب عنایہ نہیں تھی وہاں ؟ “
” میرا مطلب وہ میرے ساتھ ہی تھی ہم باتیں کررہے تھے وہ میرے پیچھے چل رہی تھی۔۔۔۔۔میں بہت آگے جا کر پلٹی تو وہاں نہیں تھی۔۔۔میں نے اتنی آوازیں دیں لیکن وہ نہیں ملی تو میں پریشانی میں واپس ہوٹل کی طرف آگئی مجھے لگا عنایہ مجھے ڈرانے کیلئے میرے ساتھ مذاق کررہی ہوگی وہ مجھے وہاں چھوڑ کر خود روم میں ہوگی لیکن جب میں واپس آئی وہ روم میں بھی نہیں تھی اور ہوٹل میں بھی میں چیک کر چکی ہوں وہ کہیں نہیں ملی” زینب نے ساری بات بتائی۔
” تم نے کسی اور کو تو نہیں بتایا ؟ ” کیف نے جلدی سے پوچھا۔
” نہیں ابھی میں نے سوچا عمر کو بتاتی ہوں۔۔۔۔میں خود بہت پریشان ہوں ” زینب بس رو دینے کو تھی۔
” زینب اٹس اوکے ریلکس یہیں رکو میں آتا ہوں ” کیف اسے تسلی دیتا جلدی سے واپس کمرے میں آیا اپنی جیکٹ اور فون اٹھا کر زینب کے ساتھ کمرے سے نکل گیا۔
زینب اسے وہ راستہ دیکھانے لگی جہاں پر وہ دونوں گئی تھیں۔
” زینب ! تم واپس روم میں جاؤ، میں عنایہ کو ڈھونڈتا ہوں جا کر اور ہاں ابھی کسی سے بھی اس بات کا ذکر مت کرنا۔۔۔۔۔اگر میں ایک گھنٹے میں واپس نا آیا تو تم ہوٹل کی مینجمنٹ کو انفارم کر دینا۔۔۔۔ٹھیک ہے ؟ ” کیف نے اسے ہدایت کی۔
” ہاں میں سمجھ گئی “
” گڈ ! اب تم جاؤ “
” لیکن وہ مل جائے گی نا ؟ ” زینب نے ڈبڈبی آنکھوں سے تصدیق چاہی۔
” مل جائے گی آئی پرامس ” کیف نے ایک عظم سے کہا تھا اور جنگل کی جانب چل پڑا۔
********************
” زینب زینب ! کہاں مر گئی ” عنایہ یہاں وہاں زینب کو آواز دیتے ہوئے اسے تلاش کررہی تھی۔
” یار اتنی رات ہو گئی ہے سمجھ نہیں آرہا واپس جانے کا راستہ کونسا ہے ؟ مجھے لگتا ہے زینب کی بچی ہوٹل واپس چلی گئی ہے ” خود سے باتیں کرتی وہ مزید جنگل کے اندر چلتی جا رہی تھی۔ آج پورا چاند نکلا تھا اس لیے ہر سو اسکی روشنی پھیلی تھی کیونکہ یہ جنگل گہرا نا تھا اس لیے اسے ہر چیز صاف دکھ رہی تھی۔
” اچھی بھلی میرے سامنے سے کہاں غائب ہو گئی ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔میں بھی پاگل ہوں جگنو نظر آگئے اور میں وہیں ان کو دیکھنے کیلئے رک گئی اور وہاں زینب غائب۔۔۔۔۔۔۔ایک منٹ ” عنایہ چلتے چلتے رسانیت سے بولتے ہوئے رکی تھی۔
” ہائے کہیں یہاں کوئی بھوت جن چڑیل تو نہیں ؟۔۔۔۔۔۔جو زینب کو ساتھ لے گئے ہوں ” عنایہ نے تھوک نگلا اور یہاں وہاں سہمی نظروں سے دیکھنے لگی۔
” نہیں نہیں اللہ رحم کرے گا کوئی نہیں ہے یہاں عنایہ۔۔۔۔۔۔۔be brave کچھ نہیں ہوگا ” خود کو تسلی دیتی وہ پھر سے چلنے لگی تھی جب اسے اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی۔ عنایہ وہیں فریز ہوگئی اور آنکھیں بند کرکے آیت الکرسی پڑھنے لگی۔
” ہائے اللہ جی آج بچا لیں آئندہ کبھی اکیلے کہیں نہیں جاؤں گی ” دھیرے سے بولتے ہوئے وہ پلٹی تھی۔ اس کے پیچھے اسی علاقے کا شلوار قمیض پہنے ایک آدمی کھڑا تھا۔ عنایہ نے گہری سانس خارج کی۔
” سنیں میں یہاں پھنس گئی ہوں۔۔۔۔کیا آپ بتا سکتے ہیں یہاں جو پاس میں ہوٹل ہے اس کا راستہ کس طرف ہے ؟” اس نے جلدی سے سامنے کھڑے اس شخص سے پوچھا۔ اس آدمی نے سر سے پیر تک عنایہ کو جن نظروں سے دیکھا تھا عنایہ کو لگا وہ بہت بری طرح پھنس چکی ہے۔
********************
کیف مسلسل چلتا ہوا عنایہ کو آوازیں لگاتا آگے بڑھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات تھے۔ رات کے اس پہر عنایہ کا اس جگہ پر اکیلے ہونا خطرے سے خالی نا تھا اور کیف کو یہ ہی بات پریشان کررہی تھی۔ ایک جگہ پر رک کر اس نے چاروں اور نظر گھمائی تھی جب اسے چیخ کی آواز آئی تھی۔
” عنایہ! عنایہ ! ” کیف اس طرف بھاگتے ہوئے گیا تھا جہاں سے آواز آرہی تھی۔
*****************
” دیکھو میرے قریب مت آنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔مم۔۔۔۔۔۔مجھے جانے دو پلیز ” وہ درخت کے ساتھ لگی کھڑی تھی اور وہ شخص بالکل اسے گھیرے کھڑا تھا۔ اس آدمی نے اپنا ہاتھ اس کی جانب بڑھایا تھا جب عنایہ آنکھیں بند کرکے چیخنے لگی۔ اس آدمی نے جلدی سے عنایہ کو بازوہ سے تھاما اور اسے گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے جانے لگا۔
” کوئی ہے پلیز بچاؤ ” عنایہ اونچی آواز میں چلانے لگی تھی۔
” اے لڑکی چپ ” وہ آدمی ایک دم پلٹ کر عنایہ کو کرہت آواز میں بولا تھا۔ عنایہ سہم گئی۔ جب ہی کیف کو عنایہ اس آدمی کے ساتھ نظر آگئی۔ کیف تیزی سے بھاگتے ہوئے اس طرف آیا تھا۔
” اوئے چھوڑ لڑکی کا ہاتھ ” کیف ماتھے پر بل ڈالے بالکل ان کے قریب آچکا تھا۔ اور عنایہ نے کیف کو دیکھا تو اسکی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے اللہ کا شکر ادا کیا تھا جس نے اس کی عزت بچانے کیلئے کیف کو بھیجا تھا۔ وہ آدمی اپنے سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھ ایک دم پریشان ہوا تھا۔ اس نے تو سوچا تھا یہ لڑکی یہاں اکیلی ہوگی۔ اس آدمی نے عنایہ کو دھکا دیا اور وہاں سے بھاگنے لگا۔
کیف بھی اس کے پیچھے بھاگا تھا اور اس آدمی کو ایک جست میں ہی پکڑ چکا تھا۔ کیف نے آؤ دیکھا نا تاؤ اسے بری طرح پیٹنا شروع کردیا۔
” تیری ہمت کیسے ہوئی اسے چھونے کی ؟ ” کیف بے حد غصے میں زمین پر پڑے اس آدمی کو پیٹ رہا تھا۔ عنایہ وہاں بھاگ کر آئی تھی اور اس آدمی کو لہو لہان دیکھ کر اس نے اپنے ہاتھ منہ پر رکھ لیے تھے۔
” کیف ! کیا کررہے ہو چھوڑ دو اسے ” عنایہ نے چلا کر کہا تھا لیکن کیف مسلسل اسے مارتا چلا جارہا تھا۔
” کیف وہ مر جائے گا ” عنایہ نے ایک بار پھر چلا کر کہا تھا۔
” مار دوں گا اسے۔۔۔۔۔۔اس کی ہمت کیسے ہوئی تمھے چھونے کی ” کیف ہزیانی انداز میں بولتا اس آدمی کا سر پکڑ کر اسے پاس رکھے پتھر پر مارنے ہی والا تھا جب عنایہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے روکا تھا۔کیف اس کے روکنے پر غصے میں اٹھ کر اس کی طرف پلٹا تھا۔ اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر عنایہ ڈر گئی تھی۔ زمین پر پڑا وہ آدمی کیف کی توجہ دوسری طرف دیکھ جلدی سے اٹھ کر بھاگ گیا تھا۔ کیف نے اسے بھاگتے دیکھا تو غصے میں اپنی مٹھیاں بھینچ لیں اور زیر لب دو انگلش گلیاں نکالی تھیں۔
” ویسے تو بڑی طرم خان بنتی پھرتی ہو ہاں لیکن اس آدمی کو کوئی چیز اٹھا کر نہیں مار سکتی تھی ” کیف اب اپنا غصہ عنایہ پر نکالنے کیلئے تیار کھڑا تھا۔
” میں کیسے کرتی؟ ” عنایہ نے چہرے پر مظلومیت سجائے کہا۔
” اچھا کیسے کرتی ؟ میری دفع تو بہت ہاتھ چلتے ہیں تمہارے “
” کیا ہے تم مجھ پر کیوں چلا رہے ہو ؟ ” اس کی بات پر کیف نے آگے بڑھ کر اسے دونوں بازوؤں سے تھاما تھا۔
” اگر میں نا آتا تو ؟ اگر تمہارے ساتھ کچھ ہو جاتا تو ؟ کہاں جاتا میں ہاں ” کیف اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر غصے سے کہہ رہا تھا۔
جبکہ عنایہ پریشان سی اس کے رویے سے الجھ کر رہ گئی تھی۔
” مجھے درد ہو رہا ہے ” عنایہ روہانسی آواز میں منمنائی تو کیف ہوش میں آیا اور اسے چھوڑ کر دو قدم دور ہوا۔
” چلو اب یہاں سے زینب ہمارا انتظار کررہی ہوگی ” کیف نے خود کو سمبھالا تھا۔ اسے اندازہ نہیں ہوا وہ غصے میں عنایہ کے سامنے کیا بولے چلا جارہا تھا۔ کیف کہہ کر آگے چلنے لگا تو عنایہ بھی جلدی سے اسکے پیچھے ہو لی۔ ابھی تھوڑی آگے ہی گئے تھے جب عنایہ اس کے پیچھے چلتے ہوئے پوچھنے لگی۔
” زینب نے بتایا تمھے میرا ؟ ” کیف نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
” کتنی بد تمیز ہے زینب کی بچی مجھے اکیلا چھوڑ کر بھاگ گئی ” عنایہ نے خفگی سے کہا تھا۔
” بھاگی نہیں تھی تمھے کافی دیر تلاش کرتی رہی یہاں لیکن غلطی اس کی نہیں تمہاری ہے ” کیف بنا رکے آگے چلتے ہوئے بول رہا تھا۔
” اچھا ! ” عنایہ نے منہ بنایا تھا۔
” ویسے محترمہ بتانا پسند کرو گی کہ اس وقت تم دونوں کو کیا سوجھی تھی اور یہ کوئی گھر کا لان تھا جہاں ٹہلنے نکلی تھیں “
” ارے نہیں ہم پاس ہی میں تھے ایسے ہی باتوں میں پتا ہی نہیں چلا ہمیں۔۔۔۔۔۔زینب میرے آگے چل رہی تھی اور میں پیچھے تھی مجھے جگنو نظر آئے اور میں ادھر ہی رک کر انھیں دیکھنے لگی اور جب میں زینب کو بتانے کیلئے اٹھی تو وہ میرے سامنے سے غائب ہوگئی ” عنایہ کو ایک دم سانس چڑھ گیا تو رک گئی۔ کیف اس کی طرف پلٹا تھا وہ گھٹنوں کے بل جھکی ہوئی تھی۔
” پلیز میرے ساتھ آگے چلو یہ نا ہو پھر کچھ دکھ جائے تو رک کر دیکھنے لگو۔۔۔۔۔تمہاری وجہ سے مزید خوار نہیں ہو سکتا میں ” کیف نے اسے ڈپٹ کر کہا تھا۔
” ہاں ہاں چل تو رہی ہوں ” عنایہ تو ایک دم اس کے بدلے رویے سے منہ بنا کر رہ گئی تھی۔ لیکن وہ بہت مشکل سے چل پا رہی تھی۔ اس کے پاؤں بھی درد کرنے لگے تھے لیکن وہ اسے بتا نہیں پارہی تھی کہ کہیں پھر سے ڈانٹ ہی نا دے۔ کیف مسلسل چلتا جارہا تھا پھر اپنے جینز کی پاکٹ سے موبائل نکال کر ٹائم دیکھا جہاں دو بجنے میں بیس منٹ باقی تھے۔
” میں تھک گئی ہوں اور نہیں چل سکتی ” آخر کار ہمت ہارتے ہوئے وہ روہانسی ہوئی تھی۔
” تو میڈم عنایہ ! آپ حکم کریں تو گود میں اٹھا کر لے چلوں ؟ ” کیف نے طنز کیا۔
” انتہائی مغرور انسان ہو تم۔۔۔۔۔۔ذرا کو تمھے خیال ہو کے میں انسان ہوں اور تھک چکی ہوں ” وہ وہیں پاس ایک پتھر پر بیٹھ گئی۔
” صحیح کہا اگر تم نا بتاتی تو میں تمھے چڑیل ہی سمجھا تھا ” کیف نے یہاں وہاں نظر ڈوراتے ہوئے رستے کا اندازہ لگانا چاہا۔ اسکی بات پر عنایہ کے تو تن بدن میں آگ لگی تھی لیکن فلحال وہ کوئی جواب نہیں دے سکتی تھی کیونکہ اس وقت وہ اس کے ہی رحم و کرم پر تھی۔ عنایہ نے غصے سے اسکی پشت کو گھورا اور منہ بگاڑا تھا اور اسی وقت کیف پلٹا تھا اور اس کا منہ بگاڑنا دیکھ چکا تھا۔ عنایہ نے گڑبڑا کر یہاں وہاں دیکھنا شروع کردیا۔ کیف چلتا ہوا اس کے قریب آیا تھا۔
” یہاں زیادہ دیر رکنا سیو نہیں ہے عنایہ۔۔۔۔۔کم اون تھوڑی ہمت کرو ہم نزدیک ہی ہیں ” اس کی بات پر عنایہ نا چاہتے ہوئے بھی وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی لیکن ایسے اٹھنے سے اسکا پاؤں مڑا تھا۔ اسکے منہ سے کراہ نکلی تھی اور وہ وہیں واپس بیٹھ گئی۔
” تم ٹھیک ہو ؟” کیف پریشانی سے وہیں اسکے پاس بیٹھ کر اسکا پاؤں دیکھنے لگا۔
” میرا پاؤں بہت درد کررہا ہے ” درد کے اثار اس کے چہرے پر نمایاں تھے۔ کیف نے اس کا شوز اتار کر اسکے پاؤں کا معائنہ کیا۔ عنایہ اپنے پاؤں کو ہاتھ سے دبانے لگی تھی۔
” زیادہ درد ہے ؟ چل پاؤ گی یا نہیں ” کیف نے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” پتا نہیں کوشش کرتی ہوں ” وہ شوز پہن رہی تھی جب کیف نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے پھیلایا۔ عنایہ اسے تھام کر اٹھ کھڑی ہوئی لیکن جیسے ہی پاؤں پر وزن پڑا اسکی چیخ نکل گئی۔
” ہائے میرا پاؤں ” آنکھیں نمکین پانی سے بھر گئی تھیں۔ وہ بالکل کیف کے قریب اس کا ہاتھ تھامے بہت مشکل سے ایک پاؤں اٹھائے کھڑی تھی۔
” تم نہیں چل پاؤ گی اور یہاں سے نکلنا ہے۔۔۔۔۔ ہمیں دو بجے ہر حال میں ہوٹل پہنچنا ہے عنایہ۔۔۔۔۔اس لئے میں اب جو کروں گا اس پر پلیز شور نہیں مچانا ” کیف کہہ کر جھک کر اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا چکا تھا۔ عنایہ کو تو چپ سے لگ گئی تھی۔ کیف اسے اٹھائے چل رہا تھا اور عنایہ اتنے قریب سے اسکا چہرہ دیکھنے میں مگن تھی۔
” نور صحیح کہتی ہے یہ واقعی میں بہت ہینڈسم ہے ” اسکے پاس سے آتی کلون کی خوشبو عنایہ کے حواسوں میں چھانے لگی تھی۔
” اللہ نے ساری خوبصورتی اسے ہی دینی تھی ” ایک دم اسے نے منہ پھولا کر سوچا۔ آہستہ آہستہ اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں تھی اور وہ کیف کے چہرے کو دیکھتے ہوئے اس کے کندھے پر سر رکھ کر سو چکی تھی۔ ہوٹل کے قریب پہنچ کر کیف نے سکھ کا سانس خارج کیا اور عنایہ کو دیکھا جو چہرے پر ڈھیروں معصومیت سجائے سو رہی تھی۔
” عنایہ ہم آگئیں ہیں ” کیف نے اسے اٹھانا چاہا لیکن وہ ٹس سے مس نا ہوئی۔ کیف نے دو بار اسکا نام پکارا تھا وہ سوتے ہوئے مسکرائی تھی۔
” میڈم کہتی ہے میری نیند گہری نہیں ” کیف بڑبڑایا۔
” عمر میرے روم میں نا ہوتا تو تمھے بالکل نا اُٹھاتا اور وہاں لے جاتا لیکن آئی ایم سوری ” کیف بول کر اسے زور سے ہلایا تھا۔ عنایہ ہڑبڑا کر اٹھی تھی۔
” کیا ہوا ؟ ” نیند سے بھری آنکھوں سے اس نے کیف سے پوچھا۔
” ہوٹل آگیا ہے “
” اوہ اچھا تو پھر ہم یہاں کیوں کھڑے ہیں چلو نا ” کیف نے اس کی بات پر اسے ایسے دیکھا تھا جیسے جاننا چاہ رہا ہو کہ وہ ابھی بھی نیند میں ہے کیا؟
” تم نیچے اترو اور چلو ایسے لے جاؤں گا کیا ؟ “
” اوہ ایم سوری ” شرم سے اسکا چہرہ لال ہوا تھا۔ کیف نے اسے نیچے اتارا تھا اور اسکا ہاتھ تھام کر چلنے لگا۔
********************
