222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 42)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

نور اور منال نے ایف اے کے بعد آگے ایک ہی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا تھا۔ پیپرز ختم ہونے کے بعد سے دونوں میں بس فون پر ہی رابطہ رہا تھا۔ لیکن پھر نور کے بابا کے انتقال کا جب منال کو پتا چلا وہ اس کے گھر افسوس کرنے کیلئے گئی تھی۔ نور کو تو سب پتا تھا کیف اور عنایہ کے حوالے سے لیکن منال بے خبر تھی۔ آج انکا یونیورسٹی میں پہلا دن تھا۔ دونوں پوری یونیورسٹی گھوم کر اب کیفے ٹیریا میں بیٹھی سینڈوچ کھانے میں مگن تھیں۔ نور ایک دم کھاتے کھاتے منال کو پر سوچ نگاہوں سے دیکھنے لگی۔

” تمہارے بھائی کیسے ہیں ؟ ” اس نے زرا ہچکچا کر پوچھا تھا۔

” بھائی بالکل ٹھیک! ” منال نے جواب دیا۔ نور نے سر کو ہلایا۔

” کیوں کیا ہوا ؟ ” منال نے کولڈ ڈرنک کا سپ لیتے ہوئے پوچھا۔

” پتا نہیں یار مجھے سمجھ نہیں آرہا تم سے یہ بات کرنی چاہیے یا نہیں۔ کیونکہ میں جانتی ہوں تمھے کچھ نہیں پتا اس بارے میں پر میں بات بھی کرنا چاہ رہی ہوں تم سے بلکہ بہت کچھ پوچھنا بھی چاہتی ہوں لیکن۔۔۔ ” نور ایک ہی سانس میں بولتی چلی گئی۔

” کیا کہہ رہی ہو؟ ” منال کے تو اوپر سے گزر گئی اس کی باتیں۔

” ٹھیک ہے منال تو سنو تمہارے کیف بھائی میری عنایہ آپی سے نکاح کر چکے ہیں ” وہ اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولی۔

” واٹ ؟؟؟؟؟ ” منال چیخی تھی۔ پھر نور اسے ساری بات بتانے لگی۔

*********************

عنایہ گھر کے صحن میں گم سم بیٹھی تھی۔ غیر مروی نقطہ کو دیکھتے ہوئے وہ گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔ صحن میں ہی تھوڑے فاصلے پر موجود رکھی چارپائی پر نادیہ بیٹھی مٹر نکال رہی تھیں۔ ان کی نظریں سامنے کھڑکی کے پاس ٹیک لگائے بیٹھی عنایہ پر مرکوز تھیں۔ جب سے اسے اپنے ماموں کے انتقال کا علم ہوا تھا تب سے وہ بوکھلائی بوکھلائی پھیرتی تھی۔ گھنٹوں ایک ہی جگہ بیٹھی وہ سوچوں میں غرق رہتی تھی۔ اس کی حالت دیکھ کر نادیہ کو افسوس ہوتا تھا۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے چارپائی سے اٹھیں اور چلتے ہوئے عنایہ کے سامنے نیچے فرش پر بیٹھ گئیں۔ عنایہ اتنی کھوئی ہوئی تھی کہ اسے ان کے آنے کا علم تک نا ہوا۔ نادیہ نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ اپنے خیالوں سے باہر آتی ان کی طرف متوجہ ہوئی۔

” عنایہ بیٹا کب تک یوں ہی رہو گی ؟ ” انھوں نے پوچھا۔

” میں خود نہیں جانتی آنٹی۔ میں ایک گلٹ میں مبتلا ہوں۔ نہیں جانتی کب تک خود کو سنبھال پاؤں گی اور آپ جانتی ہیں مجھے کتنا خوف آتا ہے یہ سوچ کر مجھے بھی آپ کی طرح تنہا زندگی گزارنی پڑ گئی تو میں کیا کروں گی ؟ آپ تو بہت با ہمت ہیں لیکن میں نہیں ہوں ” وہ اتنے دنوں سے دل میں پلتے وسوسے اور اندیشوں سے انھیں آگاہ کررہی تھی۔

” اللہ نا کرے بیٹا کہ تمھے میری طرح زندگی گزارنی پڑے۔ تم کسی کے نکاح میں ہو اور مجھے یقین ہے ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اگر وہ کبھی لوٹ کے آئے تو اسے موقع ضرور دینا، ہوسکتا ہے جیسا تم نے دیکھا سنا ہو وہ سچ نا ہو ” نادیہ کو عنایہ کی بتائی ہوئی ساری بات پر کہیں نا کہیں لگتا تھا کہ اسے ضرور غلط فہمی ہوئی ہے اور اسے کیف کی بات بھی سننی چاہیے تھی۔ جزبات میں آکر اسے یہ قدم نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔

” نہیں! ہرگز نہیں ” وہ ایک دم غصے میں آئی تھی۔

” وہ سب سچ ہو یا نا ہو اس نے مجھے دھوکہ دیا ہو یا نا دیا ہو مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر فرق پڑتا ہے تو صرف ایک چیز سے کہ میرے ماموں آج اس دنیا میں نہیں رہے اور اسکا ذمہدار میں صرف کیف کو سمجھتی ہوں اور میں اس کیلئے کبھی اسے معاف نہیں کروں گی ” اس نے دو ٹوک کہا تھا۔ نادیہ آگے سے کچھ نہیں کہہ پائی تھیں۔ جانتی تھیں اسے ابھی سمجھانا اتنا آسان نہیں۔

**********************

اور بلا آخر شادی کا دن بھی آ ہی گیا تھا۔ یہ ایک وسیع خوبصورت مارکی تھی جہاں اس وقت مہندی کا فنکشن جاری تھا۔ سٹیج پر رکھے جھولے کو رنگیں پھولوں سے سجایا ہوا تھا جس پر اس وقت عمر اور زینب پراجمان تھے۔ زینب نے نارنجی رنگ کا کامدار لہنگا زیب تن کیا ہوا تھا جس کی چولی سفید رنگ کی تھی۔ پھولوں کا زیور پہنے وہ بہت پیاری نظر آرہی تھی جبکہ عمر نے سفید رنگ کا کرتا پاجامہ پہنا تھا جس پر پیلے رنگ کی ویس کوٹ پہنے وہ وجیہ نظر رہا تھا۔ زینب زبردستی مسکرا رہی تھی جبکہ اندر سے دل خفا خفا سا تھا۔ وہ اپنے ساتھ بیٹھے انسان جو کہ اس کا شوہر تھا سے سخت نالاں تھی۔ دوسری طرف عمر بھی مصنوعی مسکان لبوں پر سجائے ہوئے تھا۔ اسے زینب پر بے حد غصہ تھا۔ جب سے انکا نکاح ہوا تھا وہ عمر سے سیدھے منہ بات تک نہیں کررہی تھی۔

” میری پیاری دوست کا کچھ اتا پتا نہیں ہے اور میں یہاں اپنی مہندی پر دلہن بنی بیٹھی ہوں ” زینب کی کزن اسے مہندی لگاتی جیسے ہی سٹیج سے اتری اس نے ہلکے سے بڑبڑا کر کہا۔ پاس بیٹھا عمر سن چکا تھا اور وہ یقیناً اسے سنانے کیلئے ہی بولی تھی۔

” میرا بھی بھائی اس وقت تکلیف میں ہے اور میں یہاں دولہا بنا بیٹھا ہوں ” عمر نے بھی دوبدو جواب دیا۔

” ہاں! سارا کیا دھرا اسی کا ہے تو اب بھگتے ” زینب نے سامنے دیکھتے ہوئے غصے میں کہا تھا۔ عمر نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

” پتا نہیں کہاں ہوگی اور کیسی ہوگی وہ؟ اور میری زندگی کا اتنا بڑا دن ہے اور وہ میرے ساتھ نہیں ہے ” زینب کی آواز میں اب دکھ صاف جھلکا تھا۔

” زینب! ساری غلطی صرف کیف کی نہیں ہے۔ اگر تمہاری دوست کو ذرا بھی احساس ہوتا تو وہ یہ نا کرتی۔ ٹھیک ہے اسے جانا تھا چلی جاتی لیکن یہ کیا طریقہ تھا کہ اپنا فون نہیں لے کر گئی اور یوں سب سے رابطہ ختم کرلیا اور تم۔۔۔۔۔۔۔۔تم تو اسکی سب سے اچھی دوست تھی ایٹ لیسٹ وہ تمہارے ساتھ رابطے میں رہتی لیکن نہیں اسے تو بس کیف سے دور جانا تھا اور اسے اس کی غلطی کی سزا دینی تھی جو اس نے کی ہی نہیں ” عمر جو اتنے عرصے سے چپ بیٹھا تھا آج بول اٹھا۔ زینب نے گردن موڑ کر عمر کو دیکھا تھا۔

” تم صرف کیف کو ہی قصور وار سمجھتی ہو جبکہ دیکھا جائے یہاں اور بھی بہت لوگ ہیں جنہوں نے غلط کیا ہے جیسے کہ نتاشہ اگر ہی سب نا کرتی تو یہ نا ہوتا اور اگر عنایہ کا کزن اپنے گھر والوں سے کچھ نا کہتا تو وہ یوں بے گھر نا ہوتی، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ کیف کی کوئی غلطی نہیں ہے۔۔۔وہ بھی غلط ہے لیکن اگر تم صرف اسے قصوروار سمجھو گی تو تم غلط کررہی ہو، اس پوری صورتحال کو مدنظر رکھا جائے تو یہاں ہر ایک نے غلطی کی ہے کسی ایک نے دماغ سے نہیں سوچا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ بس سب جزبات میں بہہ کر وہی کرتے گئے جو وہ کرنا چاہتے تھے ” وہ بنا رکے ایک ہی سانس میں بول گیا۔ زینب کو احساس ہوا کہ وہ صحیح کہہ رہا ہے۔ اس نے کچھ کہنے کیلئے لب وا کیے ہی تھے کہ منال کو سٹیج ہر آتے دیکھ وہ چپ ہو گئی۔ منال عمر کے ساتھ ہنستی مسکراتی باتیں کرنے لگی اور پھر دونوں کیساتھ سیلفی لے کر نیچے اتر گئی۔

” لیکن اس میں سب سے زیادہ لاس عنایہ کا ہی ہوا ہے” منال کے جاتے ہی وہ دھیمے لہجے میں گویا ہوئی۔

” میں مانتا ہوں اس بات کو، وہ اپنے گھر سے اور اپنوں سے جدا ہوگئ اور اپنے ماموں کو بھی کھو دیا لیکن زینب یہ سب ایسا ہی ہونا لکھا تھا سو ہوگیا ” وہ کہہ کر چپ ہوگیا۔

” لیکن مجھے اس بات نے بہت ہرٹ کیا کہ تم نے شادی سے انکار کیا اور یہ ہی نہیں مجھ سے بات تک نہیں کی اتنے عرصے اور کیا تم ہمیشہ عنایہ اور کیف کو لے کر مجھ سے جھگڑتی رہو گی ؟ اس سب میں میرا کیا ہاں ؟ ہمارے رشتے کا کیا ؟ ” وہ اس کی طرف رخ کیے سوال کررہا تھا۔ زینب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو وہ اپنے لب بھینچ گئی۔ عمر جواب طلب نظروں سے اسے دیکھتا رہا لیکن زینب کے پاس اپنی غلطی کی کوئی وضاحت نا تھی۔ عمر وہاں سے اٹھ کر سٹیج سے اتر گیا اور زینب کی بے بس نظروں نے دور تک اسکا پیچھا کیا تھا۔

**********************

سب نصیحتیں بجا مگر

ہے خبر جو ہم نے ہارا ہے؟

چار دن کی چاندنی پر ہم

سمجھے چاند ہی ہمارا ہے

کب ہٹا میں راہ مجنوں سے

جان کر بھی کہ خسارا ہے

کیف نیلے رنگ کی شیروانی زیب تن کیے ہوا تھا۔ وہ نکھرہ نکھرہ سا ہمیشہ کی طرح سب کے دل دھڑکا گیا تھا۔ اس کے کلین شیو چہرے پر ایک دکھ کا تاثر تھا۔ وہ سٹیج پر بیٹھے عمر اور زینب کو دیکھ رہا تھا۔ آج ان کی بارات تھی۔ زینب نے مہرون رنگ کا بے حد شاندار لہنگا پہنا ہوا تھا اور عمر کالے رنگ کی شیروانی میں ملبوس تھا۔ دونوں ساتھ بیٹھے مسکراتے بہت اچھے نظر آرہے تھے۔ کیف کی نظر ان دونوں پر جمی تھی اور اپنے خیالوں کی دنیا میں وہ خود کو اور عنایہ کو اس جگہ فرض کرنے لگا۔ اگر آج وہ یہاں ہوتی تو وہ دونوں بھی ایک ہو جاتے۔ اس کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی چمکنے لگی۔ عمر کی نظر کیف پر پڑی تو وہ زینب سے ایکسیوز کرتا وہاں سے اٹھتا کیف کی طرف آگیا۔

” کہاں گم ہے ؟ ” عمر نے اس کے پاس آتے پوچھا۔ کیف نے خود کو سنبھالا اور اپنی آنکھیں جھپکتا اپنے آنسوؤں کو بہنے سے روکا تھا۔ عمر سے یہ منظر مخفی نا رہا تھا۔

” کچھ نہیں بس ایسے ہی ” کیف سامنے ہی دیکھتا ہوا بولا تھا۔ عمر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دبایا تھا جیسے تسلی دی ہو۔ وہ جانتا تھا کیف کس کرب سے گزر رہا ہے۔

” کیف یہ اتنا آسان نہیں ہے کیوں خود کو اذیت دے رہا ہے ؟ بھول جا سب ” کیف اس کی بات پر طنزیہ مسکرایا تھا۔

” اک سمندر ہے جو میرے قابو میں ہے، اور اک قطرہ ہے جو مجھ سے سنبھالا نہیں جاتا۔۔۔۔۔۔ اک عمر ہے جو بیتانی ہے اس کے بغیر اور اک لمحہ ہے جو مجھ سے گزرا نہیں جاتا۔۔۔۔۔۔۔” اس نے عمر کی طرف دیکھتے ہوئے شعر کہا تھا۔ عمر بس اسے دیکھتا رہا تھا۔

*********************

پانچ سال بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقت کا کام ہے چلتے رہنا ،نہ وقت کسی کے لیے رکا ہے نہ

رکے گا۔۔۔۔۔۔نہ ان چاہا رکتا ہے نا من چاہا رکتا ہے۔

یہ یونہی بہتی ندی کے پانی کی طرح رواں دواں رہتا

ہے اور ساتھ ساتھ ہماری زندگیوں کو بھی بہا کے لےجاتا ہے ۔ اللہ تعالٰی نے وقت کی فطرت میں یہ خاصیت رکھ دی ہے کہ وہ گزرتا رہتا ہے۔ وقت کسی کیلئے نہیں ٹھہرتا۔ ان پانچ سالوں میں ان سب کی زندگی بدل چکی تھی اور سب آگے بڑھ چکے تھے۔ عمر اور زینب کی شادی کے سات دن بعد عمر اپنی فیملی کے ہمراہ انگلینڈ چلا گیا تھا اور اس سفر میں زینب بھی اس کیساتھ تھی۔ وہاں وہ ایک بہت بڑی ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کررہا تھا۔ زینب نے بھی شروع کے دو سال جاب کی لیکن پھر اس نے اپنی ساس کا ہاتھ بٹھانا شروع کردیا جن کا ایک بوتیک تھا لیکن جب سے اسے ماں بننے کی خوشخبری ملی تھی اس کی ساس نے اسے کوئی بھی کام کرنے سے روک دیا تھا اور اب وہ زیادہ تر گھر میں ہی رہتی تھی۔ یہ عمر اور زینب کا مشترکہ فیصلہ تھا کہ پہلے عمر سیٹل ہو جائے پھر وہ دونوں فیملی پلاننگ کریں گے اور اب وہ وقت آن پہنچا تھا۔ حیدر نے مستقل اپنی پوسٹنگ اسلامآباد میں کروالی تھی کیونکہ اپنے بابا کے بعد وہ اپنی ماں اور بہن کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ اس لیے وہ یہیں ہوتا تھا اور اپنی ڈیوٹی کیساتھ وہ اپنے بابا کا شوروم کا کام بھی سنبھال رہا تھا۔ نور اور منال نے گریجویشن ایک ساتھ کیا تھا اور اس کے بعد اپنی اپنی فیلڈ کے حساب سے وہ آگے پڑھ رہی تھیں۔ نور فیشن ڈیزائینگ میں ماسٹرز کررہی تھی جو کہ آخری سال میں تھا جبکہ منال نے انگلش لیٹریچر میں ماسٹرز کیا تھا اور اب وہ اپنے بیکنگ کے شوق کی خاطر اس کے مختلف کورسز کررہی تھی۔

***********************

یہ منظر ایک اونچی بلڈنگ کا تھا۔ جہاں وہ اپنے آفس کی بڑی سی بند کھڑکی کے سامنے کھڑا باہر برستی بارش کو دیکھ رہا تھا جو وقفے وقفے سے برس کر موسم سرد کر گئی تھی۔ اس کے اندر کے موسم کے برعکس باہر کاموسم سرد تھا۔ انگلیوں میں تھامے سگریٹ کو ہونٹوں میں دبا کر اس نے گہرا کش لیا تھا۔ دوسرے ہاتھ میں پکڑے اپنے آئی فون پر ایک بار پھر اس کی تصویر کو دیکھا تھا۔ یہ چہرہ اپنی تمام تر خوبصورتی اور دلکشی سمیت اس کے دل میں بسا تھا جسے پانچ سالوں سے وہ اب صرف تصویروں میں ہی دیکھتا آرہا تھا۔ اس کی سیکرٹری ڈور ناک کرتی اندر داخل ہوئی تھی۔

” باس ! آج شام کی میٹنگ آپ کے کہنے مطابق کینسل کردی ہے اور جس کمپنی کو آپ خریدنا چاہتے ہیں اس کی ساری ڈیٹیلز کے مطلق یہ فائل تیار کردی ہے۔ آپ ایک بار اسے دیکھ لیں ” اس نے اپنے ہاتھ میں تھامی اپنی نوٹ پیڈ کے نیچے سے فائل نکال کر اس کے ٹیبل پر رکھی۔ کیف جو کب سے ویسے ہی کھڑا تھا اب کی بار پلٹا اور اپنی کرسی پر آ بیٹھا۔ فون کو ٹیبل پر رکھا اور سگریٹ کو ایش ٹرے میں مسلتا اس نے سامنے پڑی فائل اٹھا لی اور سرسری سا دیکھنے لگا۔

” گڈ ! کل دوپہر کی میٹنگ رکھ لو ” اس نے فائل بند کرتے ہوئے واپس ٹیبل پر رکھ دی تو اس کی سیکرٹری نے جلدی سے نوٹ پیڈ پر نوٹ کیا اور باہر نکل گئی اب اسے اس کمپنی میں کال کرکے کل کی میٹنگ فکس کرنی تھی۔

***********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *