Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 46) Part - 1

222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 46) Part - 1

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

دروازے پر ہونے والی دستک پر کیف نے اسے چھوڑا اور واپس اپنی کرسی پر جا بیٹھا جبکہ عنایہ نے گہرا سانس بھرا تھا۔ مینجر اندر داخل ہوا اور کیف سے بات کرنے لگا۔ عنایہ کیف کے ٹیبل کا سہارا لیے کھڑی تھی۔ مینیجر کے واپس جاتے ہی کیف نے واپس سے نظریں عنایہ پر ٹکائی تھیں۔ عنایہ نے بھی نگاہیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تھا لیکن اس کی آنکھوں سے نکلتے شعلے یہ بتانے کیلئے کافی تھے کہ وہ کیف کو آنکھوں سے ہی بھسم کردے گی۔ کیف مسکرایا تھا۔ وہ بنا کچھ کہے پلٹ گئی اور باہر جانے لگی۔

” سنو ! ” اس کے پکارنے پر وہ رکی تھی لیکن پلٹی نہیں تھی۔

” صوفیا(کیف کی سیکرٹری) سے کہنا میری کافی بھیجوا دے ” عنایہ نے دانت پسے تھے۔ یہ کہنے کیلئے روکا تھا۔ وہ باہر نکلی اور اپنے غصے کا اظہار زور سے کیف کے کیبن کا دروازہ بند کرکے کیا تھا۔

***********************

عنایہ اپنے کچن میں کھڑی رات کا کھانا بنا رہی تھی لیکن سوچوں کا رخ کیف کی جانب تھا۔ کیسا کھیل کھیلا تھا اس نے کہ وہ ابھی تک حیران تھی۔

” ہائے۔۔۔۔۔۔اس ماہ کہ سیلری نہیں ملے گی تو میں کیسے گزارہ کروں گی ؟ ” سب چیزیں چھوڑ اب وہ روہانسی نظر آرہی تھی۔ نادیہ آنٹی کا وہ گھر جو عنایہ کے ماموں نے ہی دلایا تھا اسے بیچ کر جو پیسے ملے تھے ان سے اس فلیٹ کا ایڈوانس اور تھوڑا بہت فرنیچر لے لیا تھا۔ اور جو تھوڑے بہت باقی بچے تھے وہ بینک میں سیونگ تھی جو آنٹی نے خاص تاکید کی تھی کہ کسی مشکل وقت میں استعمال کرنا۔

” خیر اس سے بڑی کیا مشکل ہوگی ؟ جینا حرام کر رکھا ہے اس شخص نے میرا” وہ اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے لگی۔ لیکن ایک بات تو تہہ تھی وہ ہار نہیں مانے گی۔ اس کے ہر وار کا کرارا جواب دے گی۔

“میں یہ جاب چھوڑ کر جاؤں یا نا جاؤں لیکن تم ضرور یہ کمپنی چھوڑ جاؤ گے ” کمر پر ہاتھ دھرے آنکھوں کو چھوٹی کیے وہ سوچنے کے انداز میں کھڑی تھی۔

” ایسا حال کروں گی تمہارا کہ تمھے نانی یاد آ جائے گی” وہ تصور میں کیف کا چہرہ دیکھتے ہوئے عزم سے بولی۔

***********************

اگلے دن وہ آفس پہنچی تو کیف نے اسے اپنے کیبن میں بلوا کر اس کی بنائی پریزینٹیشن پر کچھ چینجز کرنے کو کہا تاکہ وہ جلد سے جلد کلائنٹ کو بھجوا سکیں لیکن کیف نے یہ کام اسے اپنے سامنے بیٹھ کر کرنے کو کہا جس پر عنایہ ہتھے سے اکھڑ گئی۔

” میرے پاس میرا کیبن موجود ہے میں وہاں کام کروں گی ” وہ دو ٹوک بولی۔

” بالکل بھی نہیں میں خود تمھے ڈکٹیٹ کروں گا اس لیے تمہارا میرے سامنے رہنا ضروری ہے اور ویسے بھی تم مجھے انکار نہیں کرسکتی یہ تمہاری جاب کا حصہ ہے۔ ” کیف بھی اپنی ضد پر اڑا رہا۔

” ایسی کونسی جاب میں یہ ہوتا ہے کہ باس کے سامنے بیٹھ کر ہی کام ہوگا ہاں ؟ ” وہ تڑخ کر بولی۔

” واچ یور ٹون ” کیف نے تنبیہ کی۔ عنایہ ناک چڑھا کر کیبن سے نکلنے ہی لگی تھی کہ کیف کی بات نے اس کے قدم جکڑے۔

” اگر یہاں سے نکلو گی تو تو کل سے تم ایک مہینے تک آورٹائم بھی کرو گی اور سیلری تو ویسے بھی نہیں ملنی اس ماہ تو سچ لو ” عنایہ تو منہ کھولے اس کی سمت دیکھ رہی تھی۔ وہ جا کر اپنی نشت پر بیٹھ چکا تھا اور وہ وہیں دروازے کے پاس کھڑی تھی جب کیف نے آنکھوں سے اپنے سامنے میز کی دوسری طرف رکھی کرسی کی جانب اشارہ کیا۔ وہ غصے سے اپنے ہاتھ کی مٹھی بھینچتی اس کے سامنے والی چئیر پر چپ چاپ بیٹھ چکی تھی۔ کیف اسے اب ڈکٹیٹ کررہا تھا اور وہ پین پکڑے نوٹ پیڈ پر لکھنے لگی۔

” اتنی چھوٹی چھوٹی چیزیں ٹھیک کروا رہا اور وہ بھی ںے معنی سی ” اس کے چپ ہونے پر وہ بڑبڑائی۔ تھوڑی دیر تک دونوں میں خاموشی چھائی رہی پھر کیف سیٹی ہر کوئی دھن بجانے لگا۔

” تم سے مل کر دل کا ہے جو حال کیا کہیں۔۔۔۔۔۔۔ ہوگیا کیسا یہ کمال کیا کہیں ” کیف گنگنا رہا تھا انداز شرارت بھرا تھا۔ وہ اپنے دل کی آواز گانے کے ذریعے اس تک پہنچا رہا تھا۔

عنایہ کو زہر لگ رہا تھا وہ اس وقت گنگناتا۔ وہ ایسے ہی کام کرتی رہی۔ کیف کی نظریں اسی پر ٹکی تھیں۔ کھلے بال کان کی ایک طرف اڑسے تھے اور دوسری طرف سے بال سر جھکا کر لکھنے سے میز کیساتھ لگ رہے تھے۔ چہرے پر کوفت بھرے تاثرات سجائے وہ اپنے کام میں مگن تھی جب پھر سے اس کے گنگنانے کی آواز کیبن میں گونجی۔

” تیرا مکھڑا حسین جادو کرگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دل لے گیا میری جان” ایک پل کو عنایہ لکھتے لکھتے تھمی۔ دل کی دھڑکن نے ایک بیٹ مس کی۔

” میں نے دیکھی ہیں بڑی لڑکیاں سونیاں۔۔۔۔۔تیری جیسی ملی کوئی نا۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ جو ایک پل کو کھو سی گئی تھی اگلے ہی لمحے اپنے دل پر لعنت بھیجی تھی۔ اس نے نگاہیں اٹھا کر گھورا تھا۔ کیف کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔

” چھچھورا فلرٹ چیپ انسان” وہ دانت پیستے ہوئے بولی اور دوبارہ سے اپنے کام میں لگ گئی۔

***********************

کیف کے کیبن سے جب وہ کام ختم کرکے نکلی تو کیف کی سیکرٹری کو فون پر کیف کی کافی آڈر کرتے سنا جو وہ باہر کسی کافی شاپ سے منگوا رہی تھی کیونکہ کیف کو یہاں کینٹین کی کافی پسند نہیں تھی۔

” اوہ تو باس کو یہاں کی کافی پسند نہیں ہے ” وہ استہزایہ بڑبڑائی۔ پھر ایک خیال کے تحت اس کی آنکھیں چمکیں۔ وہ اپنے کیبن میں گئی اور اپنے ہاتھ میں تھامی نوٹ پیڈ ٹیبل پر رکھی اور لیپٹاپ اون کرکے اپنا کام کرنے لگی اور ساتھ ساتھ اس کی نظر اپنے کیبن کے کھلے دروازے کی طرف تھی جو وہ خود کھول کر آئی تھی تاکہ جب پیون کافی لے کر آئے تو عنایہ کو دکھ جائے۔ ابھی پانچ منٹ ہی گزرے تھے جب وہ اسے کافی ہاتھ میں تھامے لے جاتا نظر آیا۔ عنایہ جلدی سے اٹھی اور اسے آواز دے کر روکا۔

” اظہر بھائی (پیون) یہ کافی کس کی ہے ؟ ” عنایہ نے ان سے پوچھا جیسے اسے پتا ہی نا ہو۔

” یہ بڑے صاحب کی ہے ” پیون نے اسے بتایا۔

” اچھا ! تو لائیں مجھے دیں میں دے آتی ہوں ” اس نے ہاتھ بڑھا کر کافی پکڑنی چاہی۔

” ارے میں سر کے کیبن میں ہی جارہی ہوں دے دوں گی انھیں آپ فکر نہیں کریں ” اس نے کافی نا پکڑائی تو عنایہ پھر سے بولی۔ انھوں نے کافی تھما دی اور خود واپس پلٹ گئے۔ عنایہ نے پہلے انہیں جاتے دیکھا پھر یہاں وہاں نظر گھمائی اور پھر کافی کے کپ کو دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایک کمینی سی مسکان در آئی۔

***********************

وہ اپنے کیبن میں بیٹھا کچھ میلز پڑھ رہا تھا جب وہ دروازہ ناک کرکے اندر داخل ہوئی۔

” یہ کیا طریقہ ہے تم کس کی اجازت سے اندر آئی ہو ؟

” ناک کیا تو تھا میں نے “

” اچھا ؟ لیکن میں نے اندر آنے کی اجازت نہیں دی”

” تو ؟؟ میری مرضی”

” اوہ تمہاری مرضی؟؟ اور کس حق سے اپنی مرضی چلا رہی ہو ؟ ” کیف پیچھے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے اب آرام سے پوچھ رہا تھا۔ عنایہ نے دانت پسے تھے۔ اس بات کا کیا جواب دیتی۔

” میں بس یہ کافی دینے آئی تھی ” اس نے آگے بڑھ کر کافی اس کے سامنے ٹیبل پر رکھ دی۔ کیف نے ایک نظر کافی کو پھر واپس سے اس کو دیکھا۔

” وہ اظہر بھائی کو کوئی کام تھا تو انھوں نے مجھ سے کہا کہ میں کافی دے دوں ” اس کے سوالیہ انداز پر عنایہ نے فوراً سے وضاحت دی تھی۔ کیف نے کافی کا کور ہٹا کر مشکوک نظروں سے اندر جھانکا پھر جیسے ہی اس ایک گھونٹ بھرا کافی سیدھا اس کے منہ سے باہر تھی۔ اس کے منہ کا ذائقہ اتنا کڑوا ہوا کہ وہ فوراً سے اٹھا اور اپنے کیبن میں موجود واشروم کی طرف بڑھ گیا۔ عنایہ اب مزے سے اپنے ناخنوں کو دیکھ رہی تھی۔ چہرے پر سکون بھری مسکان سجی تھی۔ کیف ٹشو سے اپنا منہ صاف کرتا باہر نکلا تو نظر سیدھا اس چڑیل پر گئی جس نے اس کی کافی میں ڈھیر سارا نمک ملا دیا تھا۔

” یہ کیا حرکت تھی ؟ ” کیف اس کے سر پر کھڑا غصے سے چلایا۔

” کونسی حرکت ؟ ” عنایہ انجان بنی۔

” زیادہ سمارٹ مت بنو جانتا ہوں یہ فضول حرکت تمہاری تھی “

” جانتے ہو تو پوچھا کیوں ؟ “

” لگتا ہے آور ٹائم لگانے کا بہت شوق ہے ” کیف نے دھمکی دی۔

” آور ٹائم کرتی ہے میری جوتی ” وہ بگڑ کر بولی۔

” شاید تم بھول گئی ہو کہ میں اس کمپنی کا اونر ہوں اور اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو نقصان تمہارا ہی ہوگا ” وہ اب پرسکون سا سینے پر ہاتھ باندھے کہہ رہا تھا۔

” کیا کرلو گے ہاں ؟ میں تمہاری پوری کمپنی الٹ کر رکھ دوں گی اگر اب مزید تم نے مجھے پریشان کیا تو۔۔۔۔۔سنا تم نے ؟ ” وہ اپنی انگلی اٹھائے اسے وران کررہی تھی۔

” اوہ میں تو ڈر گیا ” کیف کا انداز مذاق اڑانے والا تھا۔ عنایہ کے تو تن بدن میں آگ لگی تھی۔ وہ دو قدم آگے بڑھی اور زور سے اپنا ہیل والا جوتا کیف کے شوز پر رکھ دیا۔ کیف درد سے بلبلا اٹھا تھا اور وہ ناک چڑھاتی اس کے کیبن سے نکل گئی۔

” آہ چڑیل ” وہ اپنی ایک ٹانگ اٹھائے چلایا تھا۔

***********************

وہ کل کے پیپر کی تیاری کررہی تھی لیکن پڑھائی میں اس کا دل ہی نہیں لگ رہا تھا۔ منہ بناتی وہ تکیے پر سر گرا کر چت لیٹ گئی۔ پھر کسی خیال کے تحت اس نے اپنا فون اٹھایا اور حیدر کو کال ملا دی۔ دوسری جانب حیدر جو ٹیرس پر کھڑا کافی پی رہا تھا اپنے تھرتھراتے فون کو ٹراؤزر کی جیب سے نکالا۔ فون سکرین پر جگمگاتا کوئی ان ناون نمبر تھا۔ حیدر نے کال پک کی تو حورین نے کی آواز اس کے سماعتوں سے ٹکرائی۔

” اسلام وعلیکم! ” حورین ذرا ہچکچا رہی تھی۔

‘”وعلیکم السلام ! جی کون ؟ ” حیدر نے پوچھا۔ حورین نے فون کان سے ہٹا کر چیک کیا کہ آیا حیدر کو ہی کال ملائی تھی کہ کسی اور کو مل گئی لیکن وہ ہی تھا۔ حورین کو حیرانی ہوئی اس نے نا اسکا نمبر سیو کیا ہوا تھا اور نا وہ اس کی آواز پہچان سکا۔

” میں۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔حورین بات کررہی ہوں “

” حورین ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔اوہ ہاں سوری میں نے پہچانا نہیں۔۔۔خیریت تم نے اس وقت کال کی؟ ” پہلے تو حیدر نے پہچانا نہیں تھا لیکن پھر ایک دم یاد آیا۔

” جی میں ویسے ہی پوچھنا چاہ رہی تھی کیا آپ نے اس لڑکی کو پکڑ لیا ؟ ” وہ بول کر اپنی زبان دانتوں تلے دبا گئی۔ حیدر کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔

” تم نے رات کے اس وقت یہ پوچھنے کیلئے مجھے کال کی ہے ؟ ” حیدر کا لہجا روکھا تھا۔ حورین کو برا لگا۔

” ہاں وہ میں ” حورین کو سمجھ نہیں آیا کہ اب کیا کہے۔

” دیکھو جہاں تک تمہارا کام تھا وہ ہوگیا۔ اس کے آگے ہمارا کام ہے وہ تمہارا کنسرن نہیں۔ اب تم اسے معاملے سے دور رہو اور سٹاپ کالنگ می لائک دس۔ ایسے اچھا لگتا کے کہ تم آدھی رات کو کسی انجان کو کال کررہی ہو۔ ” اس کی باتوں سے حورین کی آنکھیں بھیگنے لگی۔ اس نے بنا کچھ کہے کال کاٹ دی۔

” ایڈیٹ” اس کے فون بند کرنے پر حیدر بڑبڑایا اور پھر مگ لیے واپس نیچے چل دیا۔ کیونکہ سردی اب کافی زیادہ بڑھ گئی تھی۔

***********************

اگلے دن آفس میں معمول سے بڑھ کر چہل قدمی دیکھ کر عنایہ حیران ہوئی تھی۔ جب اس نے روبینا سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ باس کا کوئی کلائنٹ فرانس سے آیا ہوا ہے۔ جس کیساتھ میٹنگ آج یہیں ہونی ہے۔ اسی وجہ سے سب تیاری میں مصروف ہیں کیونکہ یہ کلائنٹ بہت خاص ہے جس کیساتھ باس کی کمپنی پچھلے چار سالوں سے کام کررہی ہے۔ وہ دونوں باتیں ہی کررہی تھی جب اسے کیف کا پیغام ملا کہ اس کے کیبن میں آئے۔ تھوڑی دیر بعد وہ اس کے کیبن میں موجود تھی جہاں وہ اپنی نشت پر بیٹھا تھا۔ عنایہ کے علاوہ کیف کی سیکرٹری اور منیجر بھی موجود تھے۔

” مس عنایہ یہ ٹیندر میرے لیے بہت اہم ہے کیونکہ پچھلے چار سالوں سے یہ ہماری کمپنی کو ہی ملتا آرہا ہے اور میں چاہوں گا اس سال بھی یہ ہمیں ہی ملے۔ آئی ہوپ آپ بہت اچھی پریزینٹیشن بنائیں گی ” کیف سنجیدہ سا اس کی اور دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔

” یس سر ” عنایہ نے زبردستی مسکرا کر حامی بھری۔

” گڈ ” کیف اب مینجر کی جانب متوجہ ہوچکا تھا۔

” اب کیا ہوا باس میں تو کالج گوئنگ گرل کی طرح کام کرتی ہوں نا اور اب اتنا بڑا کام مجھے سونپ دیا ” وہ من ہی من میں طنزیہ کیف سے مخاطب ہوئی۔ اس کی منافقت پر اس کا دل چاہا اس کا سر پھاڑ دے کیسے اس نے دو دن اس کو ذلیل کیا تھا۔

کیف نے اب ان کو جانے کا کہا تو اس سے پہلے وہ کیبن سے نکلتے ایک لڑکی اندر داخل ہوئی۔

” تو تم یہاں ہو ؟ ” بنا آگے پیچھے کی پروا کیے وہ کیف کی جانب بڑھی۔

” سٹیلا ! ” کیف اسے دیکھ کر فوراً مسکرا کر کھڑا ہوا تھا۔ اور وہ چلتی سیدھا کیف کے قریب گئی اور اس کے گال سے اپنا گال مس کیا۔ عنایہ تو دنگ کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی۔ مینجر اور سیکرٹری دونوں ہی اب باہر نکل گئے تھے۔ وہ اب اپنے انگلش لب ولہجہ میں کیف سے ہنس ہنس کر باتیں کرنے لگی۔ جبکہ عنایہ اس لڑکی کو دیکھنے میں گم تھی۔ بلیک پینٹ پر وائٹ ڈریس شرٹ پہنے، کھلے گولڈن بال، گوری دمکتی رنگت، گلے میں باریک سلور چین نیچے بلیک ہی ہائی ہیل جوتا پہنے وہ کوئی ماڈل لگ رہی تھی۔ کیف نے اسے بیٹھنے کا کہا اور خود بھی بیٹھنے لگا جب اس کی نظر عنایہ پر گئی۔ وہ اب تک یہیں تھی اسے پتہ پی نہیں چلا۔ کیف نے عنایہ کو کافی بھجوانے کا کہا تو وہ ہوش میں آتی باہر نکلی۔ اپنے کیبن میں آکر اس نے زور سے نوٹ پیڈ اور پین کو پٹخا تھا۔ دونوں ہاتھ کمر پر دھرے وہ کڑھ رہی تھی۔

***********************

کافی کا آڈر دے کر وہ کیف کی سیکرٹری سے اس لڑکی کے بارے میں دریافت کررہی تھی جس پر اس نے بتایا کہ وہ ہی کیف کی فرانس والی کلائنٹ ہے۔

” یار کتنی خوبصورت ہے ” یہ آواز روبینا کی تھی۔ عنایہ کے ناک کی نتھیں پھول گئیں۔

” سنگل ہے کیا ؟ ” روبینا نے صوفیا سے پوچھا۔

” ہاں ! لیکن باس پر فدا ہے ” صوفیا نے انکشاف کیا۔ عنایہ کے چہرے کا رنگ بدلا تھا۔

” ہائے نا کرو یار۔۔۔۔۔۔جب باس کی کلائنٹ اتنی خوبصورت ہوگی تو وہ ہم جیسی لڑکیوں کو کیا دیکھیں گے ” روبینا نے دکھ کا اظہار کیا۔ صوفیا اس کی تاثرات دیکھ کر ہنسی تھی۔

” ویسے یار تم باس کیساتھ اتنے عرصے سے ہو۔ تمھے ان پر کرش نہیں آیا کبھی ؟ ” روبینا معنی خیز سا صوفیا سے پوچھ رہی تھی۔

” کیا بتاؤں شروع میں تو بہت بڑی فین تھی میں باس کی لیکن وہ بہت سخت مزاج کے ہیں۔ صرف کام سے مطلب ہوتا ہے ان کو۔۔۔۔۔۔۔۔پھر میں کیا کرتی ؟ اور اب تو میرا نکاح ہوگیا ہوا ” صوفیا بھی اپنی اداس داستان سنا رہی تھی۔ جبکہ عنایہ ان دونوں کی شکلیں دیکھ کر رہ گئی۔ ایک کی منگنی ہوئی تھی اور دوسری کسی کے نکاح میں تھی اور دونوں بیٹھی کسی اور مرد کے نا ملنے کا غم منا رہی تھیں۔

” ارے میں باتوں میں لگ گئی ہوں مجھے یاد آیا میں کانفرنس روم میں آخری بار میٹنگ سے پہلے ساری ارینجمینٹ دیکھ لوں اور ہاں عنایہ ایک کام کردو ” صوفیا اپنی نشت سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

” یار پیون کافی لائے گا تو تم خود جا کر دے آنا پلیز میں خود جاتی لیکن مجھے اب پہلے یہ کام کرنا ہے اور باس کے کلائنٹ کیلئے میں ہی لے جاتی ہوں کافی ” اس نے ریکویسٹ کی تو عنایہ انکار نہیں کر پائی۔

***********************

عنایہ کافی لے گئی تو دونوں ابھی تک باتیں کرنے میں مصروف تھے۔ کیف اس کو کافی لاتا دیکھ حیران ہوا تھا لیکن اندر ہی اندر اسے ڈر تھا کہیں پھر سے کوئی حرکت نا کی ہو اس نے۔

” باتیں تو ایسے کررہے ہیں جیسے بچپن کے بچھڑے اب ملے ہوں ” وہ کافی سرف کرتی بڑبڑائی جو کیف کے کانوں نے خوب سنا تھا۔ اپنے لبوں پر امڈ آنے والی ہنسی کو کیف نے بروقت ضبط کیا تھا۔

” آج رات کا ڈنر ساتھ کریں گے اور تم ہوٹل میں کیوں رکی ہو ؟ میرے فارم ہاؤس پر سٹے کرو ” کیف نے جان بوجھ کر کہا اور نظریں باہر جاتی عنایہ کی پشت پر جمی تھیں۔ اس کی بات پر عنایہ کے باہر جاتے قدم تھمے تھے۔ مطلب وہ اسے خود دعوت دے رہا تھا۔

” سو سویٹ آف یو اینڈ شیور ڈنر ہر بار کی طرح تمہارے ساتھ ہی کروں گی ” سٹیلا کی چہکتی آواز سن کر اس کا وہاں ایک پل بھی رکنا محال ہوا تھا اور وہ فوراً وہاں سے نکلی تھی۔

************************

اپنے کیبن میں آکر وہ جلے پاؤں کی بلی کی طرح یہاں سے وہاں ٹہلنے لگی۔ اپنے ہاتھ کی مٹھیوں کو وہ کبھی کھولتی کبھی بند کرتی۔ دل میں عجیب سے وہم اور اندیشے سر اٹھانے لگے تھے۔ وہ لڑکی رات کو کیف کیساتھ ڈنر کرنے والی تھی اور وہ اسے وہاں رہنے کا بھی کہہ چکا تھا۔ وہ کیسے یہ کرسکتا تھا۔ یہ تو وہ جانتی تھی کہ ان کے فارن سے آئے کلائنٹ اس کے فارم ہاؤس پر ہی سٹے کرتے ہیں لیکن وہ ایک لڑکی تھی۔

” مجھے کیا جو مرضی آئے کرے ” ایک دم وہ رک کر خود سے بولی۔

” ہاں مجھے کیوں فرق پڑ رہا ہے ” وہ شانے جھٹک کر اپنی نشت پر جا بیٹھی۔

” مجھے صرف اپنے کام پر فوکس کرنا چاہیے” خود کو لاعلم ظاہر کرتی وہ لیپ ٹاپ کھولے اپنا کام کرنے لگی۔

***********************

میٹنگ ختم ہونے کے بعد سٹیلا اپنے سٹاف کیساتھ واپس ہوٹل روانہ ہو چکی تھی۔ اس کے جانے کے بعد کیف بھی نکل گیا تھا۔ باقی سب کا بھی ڈیوٹی ٹائم ختم ہوچکا تھا۔ عنایہ اپنا کام ختم کرتی بیگ اٹھا کر اپنے کیبن سے نکلی جب اس کی نظر کیف کے کیبن سے نکلتی صوفیا پر پڑی۔

” صوفیا سنو ” عنایہ نے اسے روکا۔

” ہاں بولو ؟ “

” وہ آج رات کو کیف۔۔۔۔۔۔میرا مطلب باس کا ڈنر ہے تو تم بھی وہاں ہوگی اور کون کون ہوگا ؟ ” وہ آنکھیں چھوٹی کیے تفتیش کرنے والے انداز میں گویا ہوئی۔

” میں کیوں ہوں گی ؟ اور باقی بھی کیوں ہوں گے یار یہ بزنس ڈنر نہیں ہے۔ باس اور سٹیلا میم میں کوئی فارمیلٹی نہیں ہوتی وہ دونوں ایک ساتھ ایسے ہی آوٹنگ اور ڈنر کرتے رہتے ہیں ” صوفیا نے اسے تفصیل سے بتایا۔

” اچھا تو وہ دونوں وہاں اکیلے ہوں گے ؟ ” عنایہ نے حیرت سے پوچھا۔

” ہاں ! اور مجھے دیر ہو رہی ہے۔ باس اپنا سیل فون بھی بھول گئے ہیں مجھے یہ بھی بھجوانا اور پھر گھر بھی جانا ہے ” وہ جلدی سے کہتی جانے لگی تھی جب عنایہ اسے پھر سے روک گئی۔

” تم مجھے دے دو میں بھجوا دیتی ہوں” عنایہ نے حامی بھری۔

” ارے باس کا ڈرائیور آتا ہی ہوگا۔ مجھے بس اسے فون ہینڈاور کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔میں کرلوں گی “

” تمھے دیر ہو رہی ہے نا تو تم جاؤ میں ڈرائیور کو دے دوں گی “عنایہ بضد ہوئی اور اس کے ہاتھ سے فون پکڑ لیا۔ صوفیا حیران ہوئی لیکن پھر اس نے کندھے اچکا دیے۔

” یاد سے دے دینا اوکے ” وہ کہہ کر جا چکی تھی۔ پیچھے عنایہ کیف کے فون کو دیکھنے لگی۔

*************************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *