Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 49) 2nd Last Episode

222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 49) 2nd Last Episode

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

وہ سب کچھ بھولے اس کے سینے سے لگ کر کھڑی تھی۔ اس کی پشت پر مضبوطی سے ہاتھ باندھے تھے جیسے اس کے دور ہونے کا ڈر ہو۔

” کیوں تنگ کرتے ہو مجھے اتنا ؟ ” وہ بند آنکھوں سے مدہم آواز میں اس سے شکوہ کرنے لگی۔

” تم نے بھی تو پانچ سال مجھے ستایا ہے ” اس کے شکوے کے جواب میں وہ اپنا شکوہ کرنے لگا۔ عنایہ نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں اور اس سے دور ہوئی۔ وہ جینز پر پورے آستین والی وائٹ شرٹ اور بلیک جیکٹ پہنے ہوا تھا۔ کیف اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ عنایہ نے اپنی نظروں کا زاویہ بدلا تھا۔ وہ نہیں چاہتی تھی ایک بار پھر وہ ان میں کھو جائے۔ وہ جلدی سے کچن میں گئی اور گلاس بھر کر پانی پینے لگی۔ کیف بھی اس کے پیچھے ہی آیا تھا۔ وہ اس اوپن کچن کے باہر کھڑا آنکھوں میں دل لئے اس کے سراپے کی بلائیں لے رہا تھا۔ عنایہ اس کی نظروں سے گھبرانے لگی۔

” تم۔۔۔۔۔۔۔۔تم اندر کیسے آئے ؟ ” اس کا خود پر سے دھیان ہٹانے کیلئے گویا ہوئی۔

” سیدھی طرح سے تو تم آنے نا دیتی۔۔۔۔۔۔اسی لیے تمہارے بیگ سے ڈپلیکیٹ کیز نکال لی تھیں ” شان بے نیازی سے کہتا وہ اسے جھٹکا دے گیا۔

” کیا۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تم نے میرا بیگ کھولا ؟ ” عنایہ کو جیسے شاک لگا تھا۔

” کب اور میں کہاں تھی ؟ ” وہ ابھی بھی حیران ہوتی سوال کررہی تھی۔

” مجھے کیا پتا کہاں تھی ؟ میں تو اپنے کام سے جارہا تھا جب تمہارے کیبن میں تمہاری غیر موجودگی دیکھ کر وہاں آگیا۔ پھر کیا تھا میں نے بیگ کھولا اور کیز نکال لیں ” کیف نے لاپرواہی سے شانوں کو جنبش دی۔

وہ اس کے جواب پر ٹکر ٹکر اسے دیکھتی رہ گئی۔ مطلب اس بندے کو زرا بھی خیال نہیں کہ پرائیویسی نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے اور ایسے کسی لڑکی کا بیگ کھولنا غیر اخلاقی حرکت ہوتی ہے۔ لیکن وہ بھی کس شخص سے اخلاق کی توقع کررہی تھی۔ اس نے سر جھٹکا۔

” اور تم یہاں کیا کرنے آئے ہو ؟ ” کچن سے باہر آکر اس نے پوچھا۔ لیکن کیف کی آنکھوں سے جھلکتے جزبات دیکھ کر عنایہ کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اس نے بامشکل تھوک نگلا تھا اور تیزی سے اس کے پاس سے گزر کر اندر اپنے کمرے میں آگئی۔ کیف بیڈ روم میں آیا تو وہ اس سے رخ موڑ کر کھڑی تھی۔ کیف نے پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے تھوڑی اس کے کندھے پر ٹکائی تو وہ ںے ساختہ اپنی آنکھیں موند گئی۔

” میرا گھر پر من نہیں لگ رہا تھا ” اس کے کان کے قریب خماری میں ڈوبی آواز میں جواب دیا۔

” ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں تو ؟ ” لڑکھڑاتی آواز میں پوچھا۔

” تو میں سوچ رہا تھا صبح جو ادھورا رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ آج اپنی اور اس کے درمیان نزدیکی کا حوالہ دیتے ہوئے بھاری جذبات سے لیس آواز میں بولا۔ اس کی ادھوری بات کا مفہوم سمجھ کر عنایہ کی جان پر بن آئی تھی۔

کیف نے عنایہ کا رخ اپنی طرف موڑا اور اپنے بے حد قریب کرتے ہوئے اسکے گرد اپنا بازو حمائل کیا۔

” میں تمھے بتانا چاہتا ہوں کہ ان پانچ سالوں میں تمہارے لیے کتنا تڑپا ہوں۔

I miss you deeply, unfathomably, senselessly, terribly.”

اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکائے وہ دھیمے سے کہہ رہا تھا۔

” جب جب سانس لیتا تھا تم یاد آتی تھی ” کیف کی قربت عنایہ کو حواس باختہ کررہی تھی۔ دل کی دھڑکنیں بے ہنگم سی شور مچانے لگیں۔

” تمہاری خوشبو مجھے پاگل کرتی ہے ” اس کی گال پر ناک رگڑتا بولا تو عنایہ کانپ اٹھی۔

” کیف۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز سٹاپ اٹ ” بڑی دقت سے کہتے ہوئے عنایہ نے اس کے حصار سے آزاد ہونے کی کوشش کرنی چاہی لیکن کیف نے جیسے اس کی بات سنی ہی نہیں تھی۔ کیف نے ہاتھ بڑھا کر اس کے بالوں کا بندھا جوڑا کھول دیا جس سے بال کھلتے اس کے چہرے اور پشت پر بکھر گئے۔

” تم میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے۔ ” وہ منمنائی تھی۔ اسے اپنے حواس منجمد ہوتے ہوئے محسوس ہوئے۔

” کیوں نہیں کرسکتا ؟ بیوی ہو تم میری” دوسری طرف کیف ڈھٹائی سے بولا۔ اس کے بیوی کہنے پر ایک دم ہر چیز جیسے اسے یاد آئی تھی۔ اس نے زور لگاتے ہوئے خود کو اس کی گرفت سے آزاد کیا تھا۔ اس سے دو قدم پیچھے ہوتی وہ سختی سے اپنے لب بھینچ گئی۔ دل میں اٹھتے اشتعال کو اس نے بامشکل قابو کیا تھا۔ کیف ناسمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا۔

” تم کیا سمجھتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سب کرکے، میرے قریب ہوکر، مجھے یوں ڈرا کر میری بے بسی کا فائدہ اٹھا کر سب ٹھیک کرلو گے ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر تمھے ایسا سوچ رہے ہو تم غلط ہو ” وہ روانی میں کہہ رہی تھی۔

” میں تم سے نفرت کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔میری زندگی میں اب تم کہیں نہیں ہو ” اس نے یہ کیف سے زیادہ خود کو یقین دلایا تھا۔ اس کی بات پر کیف استہزایہ مسکرایا تھا۔

” اچھا ؟ ” کیف نے بھونیں اچکائی تھیں۔ عنایہ نے نحوست سے منہ پھیر لیا۔ کیف چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔

“لیکن تمہاری آنکھوں میں مجھے آج بھی صرف اپنا عکس نظر آتا ہے ” عنایہ نے واپس سے اسے دیکھا تھا اس کا انداز اسے مذاق اڑاتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ عنایہ کو اس وقت خود پر غصہ آیا تھا۔ اسے لگ رہا تھا ساری غلطی اس کی اپنی ہے کیا ضرورت تھی اتنا بے خود ہونے کی۔۔۔۔۔۔ اور ابھی بھی وہ جیسے اس کے سینے سے جا لگی تھی اسے تو شہہ ملنی تھی۔

” آنکھوں پر مت جاؤ یہ جھوٹ بولتی ہیں۔۔۔۔دل کی بات کرو جہاں اب تم کہیں نہیں ہو ” کیف اس کے جھوٹ پر مسلسل مسکرا رہا تھا اور عنایہ کو زہر لگ رہا تھا۔

” اگر اس دنیا میں تم نے کسی شخص کو ٹوٹ کر چاہا ہے تو وہ صرف میں ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرتی ہو تم مجھ پر، میرے قریب آنے سے تمہاری دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں۔ آج بھی میرے آس پاس کسی لڑکی کو دیکھتی ہو تو جل جاتی ہو ” وہ پل بھر کو رکا۔ پھر نرمی سے اسکا ہاتھ پکڑا۔

” اور یہ انگوٹھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری دی ہوئی انگوٹھی اب تک کیوں پہنی ہے؟ ” وہ استفسار کرنے لگا۔ عنایہ نے اس کے ہاتھ میں تھاما اپنا ہاتھ دیکھا۔ وہ خوبصورت سادا سی ڈائمنڈ کی رینگ اس کی انگلی میں دمک رہی تھی۔

” افف اتنی بڑی غلطی کیسے ہوگئ وہ انگھوٹھی اُتارنا کیسے بھول گئی” عنایہ نے بے اختیار سوچا۔

” یہ وہ انگھوٹھی نہیں ہے ” کسی بھی صورت جب کوئی بہتر جواب تراش نا پائی تو اس نے انکار کردیا۔ کیف ہنسا تھا۔

” میں نے دی تھی میرے سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ یہ وہ ہی انگھوٹھی ہے اور میں جب سے تم سے ملا ہوں انفیکٹ پہلے دن سے ہی تمھارے ہاتھ میں دیکھ رہا ہوں” عنایہ نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالا تھا اور پھر غصے میں انگھوٹھی اپنے ہاتھ سے نوچنے والے انداز میں نکالی اور اس کی طرف پھینکی تھی جو کیف کے جوتوں کے پاس جا گری۔

” لو اتار دی ! دیکھ لو کوئی وقعت نہیں میری نظر میں اس کی مجھے تو یہ تک یاد نہیں تھا کہ یہ تمہاری دی ہوئی انگوٹھی ہے اگر یاد ہوتا تو کب کا اتار پھینکتی ” وہ غصے میں چلائی تھی۔ کیف ویسے ہی پرسکون کھڑا رہا۔ وہ ایک دم آگے بڑھی تھی اس کا گریبان اپنے ہاتھ میں دبوچا۔

” کیسے اتنے پرسکون ہو سکتے تم ہاں ؟۔۔۔۔۔۔۔۔میری زندگی برباد کردی۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے اتنا بڑا دھوکہ دیا اور اب کس حق سے مجھے اپنی بیوی کہہ رہے ہو ؟ ” اس کا چہرہ غصے سے لال بھبھوکا تھا۔ وہ تنک مزاجی سے اس سے سوال کررہی تھی ۔ کیف نے کچھ نہیں کہا وہ چاہتا تھا وہ آج اپنے دل کا سارا غبار نکال دے۔ اس کی آنکھوں میں گلابی سی نمی ابھری۔ عنایہ اس سے دور ہٹی۔

” میرے ماموں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” ایک دم اپنے ماموں کا ذکر کرتے ہی اس کی آنکھیں برسنے لگیں۔

” میرے ماموں مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔ مجھے معافی مانگنے کا موقع دیے بنا۔۔۔۔۔میں کتنا کچھ کہنا چاہتی تھی ان سے، اپنی اس غلطی کا اعتراف کرنا چاہتی تھی لیکن وہ ایسے ہی چلے گئے ” وہ ایسے بلک بلک کر کہتی کیف کو تڑپا گئی۔

” تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ پھر سے اس کے قریب گئی اور اس کے گریبان کو اپنے ہاتھوں میں تھاما۔

” صرف تمہاری وجہ سے۔۔۔۔۔۔۔یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے کیف، میں نے اپنے ماموں کو کھو دیا۔۔۔میں اپنے گھر سے نکالی گئی، صرف اور صرف تمہاری وجہ سے۔۔۔۔۔۔ میں تمھے کبھی معاف نہیں کروں گی ” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی بولی۔ اور پھر اسی کے سینے پر اپنا ماتھا ٹکا کر روتی چلی گئی۔ جس سے شکوے شکایت تھے اسی کے سینے سے لگ کر اپنے دکھ رو رہی تھی۔ کیف نے اس کے گرد حصار باندھا اور اسے دلاسہ دینے لگا۔

” آئی ایم سوری فار واٹ آئی ہیو ڈن ! تمھے ہمیشہ ہرٹ کرتا ہوں جبکہ میں ایسا کبھی نہیں چاہتا ” کیف اپنا گال اس کے سر پر ٹکاتا دھیمے لہجے میں بولا۔ عنایہ نے اپنا آنسوؤں سے تر چہرہ اٹھا کر کیف کو دیکھا۔

” میں سب ٹھیک کردوں گا، اپنی ساری غلطیوں کا ازالہ کروں گا ” کیف نے ہاتھ بڑھا کر اس کے آنسو صاف کیے تھے پھر اس کے ماتھے پر اپنی محبت کی پہلی مہر ثبت کی تو عنایہ اپنی آنکھیں موند گئی۔

” میں چاہتا ہوں ہمارے درمیان ہی دوریاں اب ختم ہو جائیں” وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتا مزید بولا تو عنایہ ہمیشہ کی طرح اس کی آنکھوں میں کھو گئی تھی۔ وہ ہمیشہ اس شخص کے سامنے کمزور پڑ جاتی تھی۔ اور آج اس کا دل بغاوت پر اتر آیا تھا۔ اس کا دل اس کی سنتا ہی کہاں تھا ؟ وہ اس کے سینے میں دھڑکتا تو ضرور تھا لیکن اس کا دل اس کے قابو میں نا تھا۔ اس دل پر صرف کیف مرتضیٰ کی حکمرانی تھی۔ وہ اپنے دل کو لاکھ جھٹلائے کیف سے لڑتی، جھگڑتی، نفرت کا اظہار کرتی لیکن آخر میں ہوتا وہ ہی تھا جو اس کا دل چاہتا تھا۔ کیف نے دھیرے سے اس کے کندھے سے بال ہٹائے تھے اور جزم کے عالم میں اس کے کندھے پر جھکتا عنایہ کی دنیا ہلا چکا تھا۔ عنایہ نے اپنی آنکھیں زور سے میچ رکھی تھیں۔ یکدم اس ذہن کے پردے میں ممانی کی کہی باتیں باز گشت کرنے لگیں تو وہ جیسے ہوش کی دنیا میں آئی تھی۔ اس سے پہلے کیف مزید پیش قدمی کرتا عنایہ بدک کر اس سے دور ہوئی تھی۔

” افف یہ وہ کیا کرنے جارہی تھی ” وہ اپنے دل میں بولی۔ چہرہ کیف سے موڑ رکھا تھا۔ اس میں اتنی ہمت نا تھی کہ کیف کی جانب دیکھ سکے۔ کیف بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

” کیف ! پلیز تم جاؤ یہاں سے ” وہ ہمت کرتے ہوئے بولی۔ نظریں ابھی بھی نا ملائی تھیں۔

” کیوں ؟ ” کیف چلتا ہوا اس کے قریب آنے لگا تو عنایہ گھبرا کر دو قدم پیچھے ہوئی۔

” پلیز میرے قریب مت آنا ” اس نے ہاتھ اٹھا کر اسے وہیں رکنے کا اشارہ کیا۔ اس کی بات پر کیف کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔

” میں کہیں نہیں جارہا اور آج رات تو بالکل بھی نہیں ” کیف کی سنجیدہ آواز پر عنایہ کے دل کی دھڑکن جیسے تھم گئی تھی۔

” مم۔۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔۔۔” عنایہ کے پاس الفاظ ہی نہیں تھے کہ وہ اسے کیا کہے۔

” ہاں آج رات صرف میں اور تم ” وہ اس کی نا مکمل بات کو اپنی مرضی کا رنگ دے کر گھمبیر لہجے میں بولا تو عنایہ نے سہمی نظروں سے کیف کو دیکھا تھا۔

” نن۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں ” اس کے لبوں سے بامشکل نکلا تھا۔ کیف نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے حصار میں لینا چاہا تو عنایہ بھینچی ہوئی آواز میں چلائی تھی۔

” کیف ! اگر تم یہاں سے نا گئے تو میں چیخ چیخ کر آس پاس کے فلیٹ میں موجود لوگوں کو اکٹھا کر لوں گی ” اس کی بات پر کیف کی کنپٹی کی رگ تھرکی تھی۔

” اور کیا کہو گی ان سے ؟ ” اس کے سوال پر وہ لاجواب ہوئی تھی۔ یہ تو سوچا ہی نہیں تھا۔ اس نے تو اسے یہاں سے بھیجنے کیلئے محض دھمکی دی تھی ورنہ ایسا تو وہ کبھی نہیں کرسکتی۔

” دیکھو تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ یہاں سے چلے جاؤ “

” نا جاؤں تو ؟ ” دوسری طرف سے فوراً سوال ہوا تھا۔ کیف کی نظریں جو پہلے خماری میں ڈوبی ہوئی تھی اب ان میں غصے کا عنصر نمایاں تھا۔

” تو میں سچ میں شور مچاؤں گی ” عنایہ نے تیکھے انداز میں کہا۔ اس نے سوچ لیا تھا اس کے سامنے وہ اب بالکل نرم نہیں پڑے گی بلکہ سختی سے بات کرے گی تبھی وہ یہاں سے جائے گا۔ اس کی بات پر کیف نے اپنے اندر اُٹھتے ابال کو ہاتھ کی مٹھی سختی سے بھنچ کر ضبط کیا تھا۔

” یو نو واٹ ؟ تم کچھ بھی نہیں کرسکتی۔ میں چاہوں تو لمحے میں یہ فاصلہ ختم کرکے تمھے اپنی پناہوں میں لے سکتا ہوں اور تم چاہ کر بھی مجھے روک نہیں پاؤ گی۔۔۔۔۔۔۔لیکن اب میں یہ نہیں چاہتا

So….. to hell with you “

یہ کہہ کر وہ وہاں رکا نہیں تھا۔

اچانک اتنے زور سے بند ہونے والے دروازے پر عنایہ ڈر کر اچھلی تھی۔ پھر مرے مرے قدم اٹھاتی باہر لاونج میں آئی تھی اور داخلی دروازہ لاک کرتی وہیں اپنی پشت دروازے سے لگائے کھڑی رہی۔ اس کی آنکھوں سے ایک بار پھر اشک بہہ نکلے۔ وہ اسے کیا بتاتی کہ جو الزام لگا کر اسے گھر سے نکالا گیا تھا اس کے اس قدم سے وہ سب سچ ثابت ہو جاتے اور ویسے بھی وہ اسے معاف نہیں کرنا چاہتی تھی تو کیوں اس رشتے کو آگے بڑھائے۔ وہ وہیں نیچے بیٹھ کر کتنی ہی دیر روتی رہی۔ اس کا دل کچھ کہتا تھا اور دماغ کچھ۔ وہ ان دونوں کے درمیان الجھ کر رہ گئی تھی۔

***********************

اگلے روز وہ آفس آئی تو اس کی آنکھیں گزری رات کی بے خوابی کا پتہ دے رہی تھیں۔ وہ اپنے کیبن میں اداس سی بیٹھی تھی جب روبینا اس کے پاس آئی۔

” تم پھر سے آنٹی کو یاد کرکے روئی ہو نا ؟ ” روبینا نے اس کی حالت دیکھی تو یہ ہی تصور کیا۔

” نہیں بس ایسے ہی۔۔۔۔۔۔۔آؤ بیٹھو تم ” عنایہ نے روبینا سے کہا تو وہ اس کے پاس ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔

” یار عنایہ تم کب تک تنہا رہو گی ؟ مجھے لگتا ہے تمھے شادی کر لینی چاہیے” اس نے خالص دوست کی طرح مشورہ دیا تھا اور وہ اس کیلئے فکر مند بھی تھی۔ اس کے مشورے پر عنایہ نے بے تاثر نظریں لیپ ٹاپ کی کھلی سکرین پر مرکوز کیں تھی۔

” یہ ہی تو نہیں کرسکتی میں ” وہ دھیمے میں بڑبڑائی۔

” کیا کیوں نہیں کرسکتی ؟ ” روبینا نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا وہ اس کی بڑبڑاہٹ سن چکی تھی۔ عنایہ چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔

” چھوڑو ان باتوں کو تم اپنی بتاؤ ” وہ اس کا دھیان ہٹاتی بولی تو پھر روبینا جو شروع ہوئی تو کتنی دیر باتیں کرتی رہی دونوں۔

*********************

وہ آج صبح سے نظر نہیں آیا تھا۔ لاشعوری طور پر وہ انتظار کررہی تھی کہ وہ کب اسے اپنے کیبن میں کسی کام سے بلائے گا لیکن اب تک ایسے کوئی آثار نظر نا آئے۔ وہ اپنے کام میں مصروف ہونے کی کوشش کررہی تھی جبکہ اس کا دل کیف کو دیکھنے کیلئے مچل رہا تھا۔ اس نے خود کو کوسا تھا۔ پھر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ اٹھ کر اپنے کیبن سے باہر نکل آئی۔ کیف کے کیبن کی طرف جاتے ہوئے وہ کوئی بہانہ تلاشنے لگی۔ لیکن جیسے ہی وہاں پہنچی پیچھے سے آتی آواز پر وہ مڑی تھی۔

” عنایہ! ” آفس میں کام کرتے ایک کولیگ نے اسے پکارا تھا۔

” باس کے کیبن میں کیا کرنے جا رہی ہو ؟ “

” وہ مجھے ایک چیز سمجھ میں نہیں آرہی تھی وہ ہی پوچھنے کیلئے” اس نے جھٹ سے جواب دیا تھا۔

” لیکن باس آج آئے ہی نہیں ” وہ اور کچھ بھی کہہ رہا تھا لیکن عنایہ کا دماغ تو اسی بات پر اٹک گیا تھا۔

وہ اپنے کیبن میں آکر گم سم سی بیٹھی رہی۔ وہ کیوں نہیں آیا ؟ کیا اب وہ نہیں آئے گا ؟ ایسے کتنے ہی سوال اس کے دل میں آرہے تھے۔ دوسری طرف کیف آج اپنی اسلامآباد والی مین کمپنی میں موجود تھا۔ کتنے ہی دن سے وہ یہاں ٹائم نہیں دے پایا تھا اس لیے آج وہ یہیں چلا آیا اور ویسے بھی کل رات کے بعد وہ عنایہ کو دیکھنا بھی نہیں چاہتا تھا۔ سٹیلا کی کمپنی کیساتھ ڈیل فائنل ہوگئی تھی اور آج رات وہ واپس بھی جارہی تھی۔

***********************

رات کے گیارہ بج رہے تھے اور وہ ابھی تک جاگ رہی تھی۔ لاونج میں لگی چھوٹی ایل ای ڈی پر وہ کوئی ڈرامہ لگا کر بیٹھی تھی جس پر اسکا دھیان بالکل نہیں تھا۔ صوفے پر نیم دراز وہ بس کیف کو سوچ رہی تھی۔ پورا دن آج آفس میں اسکا اداس گزرا تھا۔ اپنی اس بے بسی پر اسے رونا آیا تھا۔ انھی سوچوں میں وہ گم تھی جب سامنے میز پر رکھا اسکا فون تھرتھرایا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا اور کال پک کی دوسری طرف روبینا تھی جس نے اسکا حال احوال پوچھنے کیلئے کال کی تھی۔ وہ آج پورا دن اسے ٹھیک نہیں لگی تھی اس لیے روبینا کو اس کی فکر تھی۔ عنایہ اسے تسلی دینے لگی کہ وہ اب ٹھیک ہے۔ باتوں باتوں میں روبینا نے اسے بتایا کہ وہ اپنی فیملی کیساتھ آج باہر گئی تھی تو اس ریسٹورنٹ میں کیف سٹیلا کیساتھ ڈنر کررہا تھا۔ یہ سنتے ہی وہ لیٹے سے اٹھ بیٹھی تھی۔

” یار مجھے پورا یقین ہے دونوں کا کوئی چکر چل رہا ہے ایسے مسکرا مسکرا کر باتیں کررہے تھے ” وہ مزید اسے بتانے لگی۔ عنایہ کے دل کو یہ بات چبھی تھی۔

” روبی ! میں بہت تھک گئی ہوں اور ویسے بھی کافی ٹائم ہوگیا ہے کل بات کرتے ہیں ” عنایہ نے کٹھاک سے فون بند کیا تھا۔

” ہیں اسے کیا ہوا ؟ ” دوسری طرف روبینا نے فون کو دیکھتے ہوئے سوچا پھر کندھے اچکاتی سونے کیلئے لیٹ گئی۔

**********************

آج کیف پنڈی والی کمپنی میں ہی موجود تھا لیکن اس نے صوفیا سے صاف کہا تھا کمپنی کا کوئی بھی ایمپلائے اس کے کیبن میں نا آئے۔ عنایہ کو بھی اس کے آنے کا پتہ چل چکا تھا۔ وہ فائل اٹھاتی اپنے کیبن سے نکل کر کیف کے کیبن کی طرف جا ہی رہی تھی کہ بیچ راستے میں صوفیا اسے مل گئی اور اسے جانے سے روک دیا۔

” لیکن فائل میں کچھ corrections کروانی تھیں ” عنایہ نے منہ لٹکا کر کہا۔

” تو مجھے دے دو میں کروا لاتی ہوں لیکن باس نے منع کیا کے کہ کوئی بھی انہیں ڈسٹرب نا کرے ” صوفیا نے بتایا تو عنایہ ہونق کھڑی اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ پھر فائل اسے تھما کر مایوس ہوتی واپس کیبن میں آگئی۔

*********************

اگلے دو دن بھی ایسے ہی گزرے تھے۔ وہ ایک دن پنڈی والی کمپنی اور ایک دن اسلامآباد والی کمپنی میں ہوتا۔ اور جب یہاں ہوتا تو عنایہ کو اچھے سے محسوس ہورہا تھا وہ جان بوجھ کے اسے اگنور کررہا تھا۔ آج بھی جب اس نے کسی کام سے اس کے پاس جانا چاہا تو اس نے اندر آنے ہی نہیں دیا تھا جبکہ باقی سب جا رہے تھے۔ لیکن آج کسی کام سے وہ جلدی آفس سے نکل گیا تھا اور یوں عنایہ کو چار دن بعد اس کی ایک جھلک دیکھنا نصیب ہوئی تھی جب وہ اس کے کیبن کے باہر سے گزر کر گیا تھا۔ لیکن اس نے بھی سوچ لیا تھا اس سے دو ٹوک بات کرکے رہے گی۔

*********************

وہ غصے سے بپھری اس کے کیبن میں جا پہنچی۔

” اگر اتنی ہی بری لگ رہی ہوں تو نکال کیوں نہیں دیتے مجھے ؟ لیکن یہ کیا طریقہ ہوا کہ مجھے کام کیلئے بھی تم اگنور کر رہے ہو،

Sorry to say this is not professionalism “

اس کے سر پر کھڑی وہ بولی۔

” میں اسی لیے تمہیں آج بلوانے ہی والا تھا ” کیف نے ںے حد آرام سے کہا تو عنایہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔

” تمھے یہاں اب تین ماہ تک رکنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نیکسٹ ویک تمہاری پوسٹ کیلئے جو زیادہ eligible ہوگا اسے ہم رکھ لیں گے لہذا تمہارا resignation میں قبول کررہا ہوں اور جو شرائط اس پر لکھی تھیں وہ تمھے پورا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اور تمہاری اس ماہ کی تنخواہ بھی تمھے دی جائے گی اور نیکسٹ ویک تمہارا آخری ویک ہوگا اس کمپنی میں۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد سے تم جاسکتی ہو ” وہ بات کررہا تھا اور عنایہ منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔ مطلب اس نے سچ میں اسے نکال دیا تھا۔ وہ بے یقین سے کھڑی تھی۔

” ناؤ ایکسکیوز می ! ” اسے وہیں جمے کھڑے دیکھ وہ خود ہی ایکسکیوز کرتا اپنے کیبن سے نکل گیا۔

**********************

یہ ایک شاندار سے حال کا منظر تھا جہاں کیف کی جانب سے پارٹی تھرو کی گئی تھی۔ پنڈی کے عالی شان سے مقامی ہوٹل کے تیسری منزل پر پارٹی جاری تھی۔ سب ایمپلائز کو پارٹی میں انوائیٹ کیا گیا تھا۔ عنایہ بھی موجود تھی۔ وہ تو آنا ہی نہیں چاہتی تھی لیکن روبینہ اسے زبردستی تیار کرکے اپنے ساتھ لے آئی تھی۔ اس دن کے بعد سے اس کا کیف سے سامنا ہی نہیں ہوا تھا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ عجیب سی ہوگئی تھی۔ آج بھی وہ اداس سی تھی کیونکہ تین دن بعد وہ آفس نہیں جائے گی۔ عنایہ کو یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے یوں جانے کا کہہ دے گا۔ ایسا بھی کیا غصہ تھا۔ عنایہ کو بھرے ہال میں ایک دم سانس گھٹتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ اس نے یہاں وہاں نظریں گھمائی تھیں سب ہی خوش گپیوں اور کھانے پینے میں مصروف تھے۔ روبینہ ان کے آفس کی ایک کولیگ کیساتھ کھڑی نظر آئی تو عنایہ اس کے پاس گئی اور اسے واپس جانے کیلئے کہنے لگی۔

” یار کیا ہوگیا ہے ؟ ابھی تو آدھی پارٹی باقی ہے کچھ کھا پی تو لو “

” میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لیے میں جا رہی ہوں” وہ بس کسی نا کسی طرح یہاں سے نکلنا چاہتی تھی۔

” یار رات کے دس بج رہے ہیں یوں اکیلے جانا صحیح نہیں ہے۔۔۔۔۔رکو میں بھی چلتی ہوں ” اپنے ہاتھ میں تھاما کولڈ ڈرنک کا گلاس رکھتی بولی۔

” نہیں میں کوئی بچی تھوڑی ہوں اور ویسے بھی یہاں سے تو پاس میں ہی ہے گھر۔ تم پارٹی انجوائے کرو میں نے رائیڈ منگوا لی ہے ” عنایہ کو اچھا نہیں لگا کہ اس کی وجہ سے وہ پارٹی چھوڑ کر آتی۔

” آر یو شیور ؟ ” روبینہ نے تصدیق چاہی۔ عنایہ نے سر اثبات میں ہلایا۔

” اوکے مجھے گھر پہنچتے ہی کال کر دینا ” اس کے گلے ملتے ہوئے اس نے تاکید کی تھی اور پھر عنایہ ہال سے نکل آئی۔

**********************

لفٹ کے پاس کھڑی وہ لفٹ کا انتظار کررہی تھی جب لفٹ نیچے آئی تو اس کے کھلتے ہی اندر کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ چونک گئی۔ وہ کیف تھا جو ٹیرس سے اب نیچے گراؤنڈ فلور پر جارہا تھا۔ عنایہ کو لگا تھا وہ جا چکا ہے۔ کیونکہ تھوڑی دیر پہلے ہی وہ اس کے سامنے نکل کر گیا تھا۔ وہ سوچوں میں غرق تھی جب لفٹ کا ڈور بند ہونے لگا تو کیف نے بٹن دبا کر اسے روک دیا۔

” آنا ہے کہ نہیں ؟ ” کیف کی آواز پر وہ ہوش میں آئی تھی اور بنا کچھ کہے وہ اندر آگئی۔

” گراؤنڈ فلور کیف نے پوچھا؟ ” عنایہ نے سر اثبات میں ہلایا تو کیف نے بٹن دبا دیا۔ وہ اس کے دائیں جانب بالکل فاصلے پر کھڑی تھی جب ایک دم لفٹ بند ہوگئی۔ کیف نے ہاتھ بڑھا کر دو تین بٹن دبائے لیکن کام نہیں کیے۔

” کیا ہوا ؟ ” عنایہ نے خوف زدہ ہوتے ہوئے پوچھا۔

” لگتا ہے لائٹ چلی گئ ہے ” کیف نے بتایا۔

” کیا ؟ ” وہ ایک دم چلائی تھی۔ کیف نے اس کے چلانے پر اسے گھورا تھا۔

” کھولو! ” وہ ایک دم آگے بڑھ کر لفٹ کے دروازے کو اپنے ہاتھوں سے بجانے لگی تھی۔ کیف ناسمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا کہ اسے ہوا کیا ہے۔

” عنایہ ! سٹاپ اٹ ابھی چل جائے گی ” کیف نے پیچھے سے کہا۔ لیکن وہ سنی ان سنی کرتی پاگلوں کی طرح دروازہ پیٹتی رہی۔

” کھولو پلیز مجھے سانس نہیں آرہا” اس کی آواز میں خوف تھا۔ کیف نے اس کی کہنی سے پکڑ کر اس کا رخ اپنی جانب موڑا تھا۔

” ریلکیس میں مینجمینٹ کو کال کرتا ہوں ” اس نے کہتے ساتھ ہی کال کی تھی لیکن دوسری جانب اسے بتایا گیا کہ لائٹ تو گئی ہی نہیں یقیناً کسی فنی خرابی کی وجہ سے لفٹ بند ہوئی تھی۔ اس کے فون بند ہونے پر عنایہ نے منتظر نظروں سے اس کی سمت دیکھا۔

” لائٹ نہیں گئی لفٹ خراب ہوگئی ہے ” کیف کے بتانے پر وہ گہرے گہرے سانس لینے لگی۔

” مجھے۔۔۔۔۔۔سانس نہیں آرہا ” وہ ایک دم روہانسی ہوئی تھی۔

” ریلکیس کچھ نہیں ہوگا میں ہوں نا یہاں” کیف نے اسے دلاسہ دیا۔ وہ دوبارہ سے گھبراتی لفٹ کے دروازے کو کھولنے کی کوشش کرنے لگی۔ کیف صحیح معنوں میں اب فکر مند ہوا تھا۔

” عنایہ یہاں دیکھو میری طرف” کیف نے اسے اپنے حصار میں لیا تھا۔ وہ اب بھی زور زور سے سانس لے رہی تھی۔

” میں مرنے لگی ہوں”

” شٹ اپ! کچھ بھی نہیں ہوگا تھوڑی دیر کی بات ہے۔ یہ کھل جائے گی پھر ہم باہر ہوں گے ” کیف نے دونوں ہاتھ اس کے چہرے پر رکھے تھے۔ پھر جلدی سے اپنے کوٹ کی جیب سے فون نکالا اور مینجمنٹ پر برس پڑا۔

” اگر پانچ میں لفٹ نا چلی تو میں تم لوگوں کا ہوٹل بند کروا دوں گا ” کیف دھمکی دیتا فون بند کرچکا تھا اور واپس سے اس کی جانب متوجہ ہوا۔ جو اب رونا شروع ہوچکی تھی۔

” ادھر آؤ یہاں بیٹھو” کیف نے اسے نیچے بٹھایا اور خود بھی ساتھ بیٹھ گیا۔ وہ اس کے حصار میں تھی۔

” کک۔۔۔۔۔۔۔۔کیف میرا۔۔۔۔۔۔۔سانس بن۔۔۔۔۔۔۔۔بند ہورہا ہے ” وہ گہرے سانس لیتی بامشکل بولی تھی۔

” تم اس طرف دھیان نہیں دو کچھ اور سوچو اور اپنی آنکھیں بند کرو ” کیف نے کہا تو وہ اس کی بات مانتی آنکھیں بند کرگئی۔

” اب کچھ اچھا اچھا سا سوچو ” کیف اس کا دھیان یہاں سے ہٹانا چاہتا تھا جس پر وہ کامیاب بھی ہوچکا تھا۔ وہ اب اسے نارمل لگ رہی تھی۔ دونوں لفٹ کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ چند ثانیے یوں ہی گزر گئے۔

” تم ٹھیک ہو ؟ ” کیف نے پوچھا جس پر عنایہ نے سر ہاں میں ہلایا وہ ابھی بھی آنکھیں بند کیے ہوئے تھی۔

” سب ٹھیک ہوگیا ہے کیف۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم ساتھ ہیں۔۔۔میں خوش ہوں۔۔۔۔۔۔اب ہم کبھی” وہ بولتے بولتے رکی تھی۔ کیف اس کی بات پر چونکا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آیا وہ کیا کہنا چاہ رہی ہے۔ شاید کیف نے اسے کچھ اچھا سوچنے کا کہا تو وہ اپنے اور اس کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ عنایہ نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھول دیں۔

” ہم کبھی دور نہیں ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ سب جھوٹ تھا ہے نا ؟ تم مجھے کبھی دھوکہ نہیں دے سکتے نا ؟ وہ بچوں کی طرح سوال کررہی تھی۔ کیف نے سر نفی میں ہلایا۔

” تم صرف مجھ سے پیار کرتے ہو نا ؟ ” کیف کو یوں اچانک اس سوال کی توقع نہیں تھی۔

” صرف تم سے “

” ہم اب کبھی دور تو نہیں ہوں گے نا ؟ “

” کبھی نہیں”

” پتا ہے مجھے کتنا خوف آتا ہے اکیلے رہنے سے ؟” وہ اسے بالکل معصوم سے بچے کی طرح بتا رہی تھی۔

” تم مجھے اب رلاؤ گے تو نہیں ؟ ” ایک اور یقین دہانی چاہی۔

” نہیں! ” کیف نے جواب دیا۔ وہ پھر سے سانس بھرنے لگی۔ کیف جلدی سے اس کے قریب ہوا تھا۔

” میں۔۔۔۔۔۔مرنے والی ہوں ” وہ رونے والا منہ بنائے کہہ رہی تھی۔

” کہا نا کچھ نہیں ہوگا ” کیف کہتا اپنے پاس نیچے رکھے فون کو اٹھا کر دوبارہ کال کی تھی تو بتایا گیا کہ لفٹ صحیح کرنے والے اپنا کام کر رہے ہیں۔ کیف نے سکون کا سانس لیا تھا۔

” تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے مرنے کے بعد اس سٹیلا کی بچی۔۔۔۔۔۔۔سے شادی تو۔۔۔۔۔نن۔۔۔۔۔۔نہیں کرو گے نا ؟ ” اس سیچویشن میں بھی وہ سٹیلا کو نہیں بھولی تھی۔ کیف اس کی جیلسی پر بے اختیار مسکرا اٹھا۔ کیف نے لب دانتوں میں دبا کر سر نفی میں ہلایا تھا۔ عنایہ نے سر اس کے شانے پر رکھا تھا۔

” ہاں۔۔۔۔۔۔۔اس کو چھوڑ۔۔۔۔۔۔کر کسی سے بھی۔۔۔۔۔۔کر لینا” وہ بے ربط الفاظ میں بولتی جارہی تھی۔

” نہیں! ” ایک دم اس نے سر اٹھایا تھا۔

” کسی سے۔۔۔۔۔۔۔بب۔۔۔۔۔بھی نہیں کر۔۔۔۔۔۔نی ” اس نے آنکھوں سے گھور کر تنبیہ کی تھی ۔ کیف نے بھونیں اچکائی تھیں۔ وہ دوبارہ سے سر اس کے کندھے پر رکھ چکی تھی۔ عنایہ نے ایک گہرا سانس بھرا تھا۔ کیف مسلسل مسکراتا جارہا تھا۔

” کیوں۔۔۔۔۔۔کیونکہ تت۔۔۔۔۔۔۔تم میرے ہو ” یہ کہہ کر وہ بالکل چپ ہوگئی تھی۔ کیف کو لگا وہ ویسے ہی خاموش ہے لیکن ایک منٹ تک وہ نا بولی تو کیف کو تشویش لاحق ہوئی۔ کیف نے چہرہ اٹھا کر دیکھا تو وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔

” شٹ ! ” کیف کے منہ سے نکلا تھا اور ساتھ ہی لفٹ چل پڑی تھی۔ کیف نے جلدی سے عنایہ کو اپنی بازؤں میں اٹھایا تھا اور جیسے ہی لفٹ کا درواز کھلا تو ہوٹل کا مینیجر اور دو تین بندے کھڑے تھے۔ کیف نے مینجر سے عنایہ کا بیگ اٹھا کر لانے کا کہا تھا جو لفٹ کے فرش پر ہی پڑا تھا اور خود اسے لے کر باہر اپنی گاڑی تک آگیا تھا۔ مینیجر پیچھے بھاگتا ہوا آیا تھا۔

” سر ڈاکٹر کو کال کردی ہے۔ آپ میڈیم کو ہمارے ہوٹل کے روم میں لے آئیں ” مینجر نے تجویز دی۔

” ضرورت نہیں! میرے کوٹ کی جیب سے چابی نکالو اور گاڑی ان لاک کرو ” کیف نے سرد آواز میں کہا تھا۔ مینجر نے فوراً حکم کی تعمیل کی تھی۔ کیف عنایہ کو گاڑی میں بٹھا چکا تھا اور میجر کی طرف مڑا جس کے ہاتھ میں پانی کی بوتل اور عنایہ کا پرس تھا۔ کیف نے دونوں چیزیں اس سے پکڑ لی تھیں۔

” تمھے اور تمہارے ہوٹل کو میں کل دیکھتا ہوں” کیف نے سرد مہری سے کہا اور اسے جانے کا اشارہ کیا تھا۔ مینیجر فوراً نو دو گیارہ ہوا تھا۔ کیف عنایہ کی طرف متوجہ ہوا اور پانی کی بوتل سے چند قطرے پانی لے کر اسے ہوش میں لانے لگا۔ عنایہ نے آنکھیں کھولیں تو کیف نے اسے پانی پلایا۔ جو محض دو گھونٹ پی کر اس نے منہ پھیر لیا تھا۔ کیف نے گاڑی کا دروازا بند کیا تھا اور چلتا ہوا ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا۔

*********************

پندرہ منٹ بعد کیف کی گاڑی مرتضیٰ مینشن میں داخل ہوئی تھی۔ کیف نے گاڑی بند کی اور عنایہ کو دیکھا جو آنکھیں موندے شاید سو چکی تھی۔ کیف اتر کر اس طرف آیا تھا اور اسے جگایا۔

” گھر آگیا ہے ” وہ اٹھی تو کیف نے اسے بتایا۔

” ہم گھر ہیں ؟ ” عنایہ نے پوچھا۔ کیف نے سر کو جنبش دی۔

” تم ٹھیک ہو ؟ اگر کہو تو ڈاکٹر پاس چلیں ؟ ” کیف نے ہاتھ اس کے گال پر رکھ کر فکرمندی سے پوچھا تھا۔

” نہیں میں ٹھیک ہوں ” کہہ کر وہ گاڑی سے اترنے لگی تو کیف نے اسے سہارا دیا تھا۔ وہ اسے لیے آگے بڑھ گیا۔ عنایہ ناسمجھی سے یہاں وہاں دیکھ رہی تھی۔ جیسے ہی وہ لاونج میں داخل ہوئے تو اس کے قدم وہیں رکے تھے۔

” یہ ہم کہاں آئے ہیں؟ ” اس نے لاونج میں یہاں وہاں دیکھتے ہوئے پوچھا۔ دماغ پر زور ڈالنے پر بھی اسے یاد نہیں آرہا تھا کہ کس کا گھر ہے ؟ آتا بھی کیسے وہ پہلی بار مرتضیٰ مینشن آئی تھی۔ کیف نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھاما تھا اور اسے لیے آگے بڑھ گیا۔

” یہ ہمارا گھر ہے ” وہ آگے آگے چلتا بولا تھا اور عنایہ اس کے ساتھ کھینچی چلی گئی۔ کیف اسے اپنے بیڈروم میں لایا تھا اور دروازہ بند کرتا اسی دروازے کیساتھ عنایہ کو لگایا تھا۔ اور خود وہ اسے کے سامنے دیوار بنا کھڑا تھا۔ عنایہ نے سر ترچھا کرکے کیف کے پیچھے دیکھا تھا جہاں سامنے ہی کیف کا بڑا کینگ سائز بیڈ تھا۔ پھر واپس سے کیف کو دیکھا تھا۔ اس نے لبوں کو وا کیا تھا کچھ کہنے کیلئے لیکن کیف نے اسے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا تھا۔

********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *