Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 41)
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 41)
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
کیف اٹھ کر پیچھے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ کتنے ہی پل خاموشی کے نظر ہوئے تھے۔ کیف نے کچھ نہیں کہا تو رابعہ بیگم افسردہ ہوئی یقیناً وہ اب ان سے پہلے والا برتاؤ ہی رکھے گا۔ کل رات تو محض نشے میں وہ ان کے پاس آیا اور اپنے دل کی باتیں کیں ورنہ ایک لمبے عرصے سے وہ ان کو مخاطب تک نا کرتا تھا۔ کیف نے ان کی اور دیکھا جہاں وہ آنکھیں جھکائے اداس سی نظر آئیں۔ کیف نے بیڈ پر دھرے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔ رابعہ بیگم نے پہلے اپنے ہاتھ پر رکھے اس کے ہاتھ کو دیکھا اور پھر خوش گوار خیرت لیے نظریں اٹھا کر کیف کو دیکھا۔
” میں جانتا ہوں آپ کیا سوچ رہی ہیں۔ میں آپ سے ناراض نہیں ہوں مام، آئی ایم سوری اتنے عرصے آپ سے ناراض رہا “
” کیف میرے بیٹے تمہاری غلطی نہیں ہے مجھے معاف کردو ” وہ آبدیدہ ہوتی اس کے قریب ہوئی اور اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں بھر لیا۔
” آئی لو یو مام ” اس نے مسکرا کر کہا تو رابعہ بیگم بھی بھیگی آنکھوں سے مسکرا دیں۔
” میں کل رات کیلئے بھی۔۔۔۔۔۔میں پینا نہیں چاہتا تھا لیکن میرے بس میں نہیں تھا پتا نہیں کیسے یہ ہوگیا لیکن میرا یقین کریں یہ پہلی بار ہوا ہے، اس سے پہلے میں نے کبھی اس حرام شہ کو ہاتھ تک نہیں لگایا ” وہ شرمندہ سا وضاحت دینے لگا۔
” جانتی ہوں کہ تم نے جان بوجھ کر نہیں کیا اور اس کے پیچھے کے وجہ بھی جان گئی ہوں ” کیف چونکا تھا۔کیا وہ رات کو نشے میں سب ان کو بتا چکا تھا۔ اس نے سوچا۔
” مام میں وہ۔۔۔۔۔۔۔۔” کیف کے پاس الفاظ نہیں تھے۔ رابعہ بیگم نے کچھ کہنا چاہا اس سے پہلے ہی مرتضیٰ صاحب کیف کے کمرے میں داخل ہوئے۔
” کیا ہوا برخوردار ؟ میں نے سنا ہے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ” وہ اس کے سر کھڑے بولے۔
” ٹھیک ہوں ڈیڈ ” اس نے مسکرا کر جواب دیا۔
” تو پھر کیا پلان ہے ؟ ایم بی اے تو ہوگیا تمہارا اب جاؤ ہالیڈے پر کہیں گھوم پھر آؤ اور اس کے بعد سٹریٹ ٹو آفس ” انھوں نے اسے آگے کا پلان تجویز کیا۔
” نہیں! میں کل سے ہی آفس جوائن کروں گا ” دونوں نے ہی خیرت سے اسے دیکھا تھا۔
” یہ بھی ٹھیک ہے! چلیں بیگم میرے ریٹائر ہونے کا ٹائم آگیا ہے۔ آپ کا لاڈلا اگر اتنا ہی سنجیدہ ہے تو پھر آپ اور میں ہی کہیں گھوم آتے ہیں ” رابعہ بیگم ان کی بات پر ہنس دیں۔
” آجائیں اب نیچے بیٹے کے چکر میں مجھے بھی بھوکا رکھیں گی کیا ؟ ” وہ کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئے۔
” کیا ہوا ؟ ” کیف نے ماں کی نظریں خود پر مبذول پا کر پوچھا تھا۔
” یہ سب کیا ہے ؟ کل سے ہی آفس ؟ ” وہ آنکھیں چھوٹی کیے کہنے لگیں۔
” جی ! اور کیا کروں گا؟ ویسے بھی بہت چیزیں خراب کرچکا ہوں اب سب ٹھیک کرنا چاہتا ہوں “
” گڈ! اور آئی ہوپ کل رات والی حرکت دوبارہ نہیں ہوگی” انہوں نے اس کے نشے والی حالت پر اشارہ کیا۔ کیف شرمندہ ہوا۔
” موم آئی پرامس نیکسٹ یہ حرکت نہیں کروں گا۔ آپ ڈیڈ کو تو نہیں بتائیں گی نا ؟ ” اس نے کسی خدشے کے تحت پوچھا۔ رابعہ بیگم نے مسکراہٹ دبائی۔
” دیکھوں گی اگر تم اپنے وعدے پر قائم رہے تو ” وہ کہہ کر وہاں سے اٹھ گئی۔
” پکا نہیں ہوگی ” اس نے یقین دلایا۔
” اور سموکنگ ؟ ” انہوں نے پلٹ کر پوچھا۔
” ارے وہ کیوں ؟ “
” کیا مطلب کیوں ؟ بری چیز ہے وہ بھی اور مجھے سموکنگ بالکل نہیں پسند” انہوں نے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کمرے سے باہر نکل گئیں۔ پیچھے کیف کو اس جملے سے عنایہ کی یاد آئی تھی۔ وہ رات یاد آئی جب وہ اس کے اتنے قریب تھی۔ کاش وہ وقت واپس لا سکتا۔
********************
عنایہ کو جب سے ہوش آیا تھا تب سے اس نے رو رو کر خود کو ہلکان کرلیا تھا۔ نادیہ آنٹی کیلئے تو اس کو سنبھالنا تک مشکل ہوگیا تھا۔ وہ خود کو کوستی جارہی تھی۔ آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ بڑی مشکل سے آنٹی نے اسے پانی پلایا تب جا کر کہیں وہ چپ ہوئی تھی لکین اشک آنکھوں سے یوں ہی بہتے گئے۔ وہ صحن میں موجود ایک کھڑکی کیساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ اپنے اور ماموں کیساتھ گزارے کتنے ہی لمحے یاد آئے تھے۔ نادیہ آنٹی نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ یادوں سے باہر نکلی۔
” عنایہ اٹھو شاباش کھانا کھا لو ” عنایہ نے سر نا میں ہلایا۔ وہ اس کے سامنے ہی نیچے بیٹھ گئیں۔
” میں جانتی ہوں یہ غم بہت بڑا ہے بچی لیکن اسی کا نام زندگی ہے۔”
“میں ماموں کا انتظار کرتی رہ گئی اور وہ مجھے چھوڑ کر ہی چلے گئے۔ مجھے آخری بار ان کو دیکھنا بھی نا نصیب ہوا ” وہ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے گویا ہوئی۔ آنکھوں کے پپوٹے زیادہ دیر روتے رہنے کی وجہ سے سوجھ چکے تھے۔
” سب میری وجہ سے ہوا ہے۔ میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گی ” وہ مزید کہہ رہی تھی۔
” میرے بیٹے اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔ زندگی اور موت اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے۔ فیصل بھائی اتنا ہی وقت لکھوا کر آئے تھے ” وہ اسے سمجھا رہی تھیں۔
” آنٹی ! ” اس نے چہرہ موڑ کر ان کی سمت دیکھا اور ان کے قریب ہوئی۔
” ماموں مجھ سے ناراض ہوں گے اور وہ ایسے ہی ناراض چلے گئے۔ مجھے کچھ کہنے کا موقع بھی نہیں دیا۔ میں ان سے معافی مانگنا چاہتی تھی۔ انہوں نے کہا تھا وہ آئیں گے میرے پاس اور مجھے لے جائیں گے۔ لیکن اب وہ نہیں آئیں گے اور میرا انتظار انتظار ہی رہے گا آنٹی۔ ” وہ کہتے ہوئے ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تو نادیہ آنٹی نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔
*********************
آج زینب کے گھر عمر اور کیف کی فیملی کا ڈنر تھا جہاں ان کی شادی کی ڈیٹ فائنل ہونی تھی۔ کیف آفس جوائن کر چکا تھا۔ دوسری طرف اپنے ایک خاص بندے کے ذریعے وہ عنایہ کو بھی تلاش کررہا تھا۔ رابعہ بیگم عمر سے سارا معاملہ بھی پتا کروا چکی تھیں۔ لیکن انھوں نے کیف سے اس حوالے سے فلحال کوئی بات نا کی۔ کیف اب پہلے سے کافی بہتر تھا یا شاید وہ بن رہا تھا۔ عمر کیف سے ملنے اس کے آفس آیا ہوا تھا جب اسے زینب کی کال آئی عمر کیف اسے ایکسکیوز کرتا ایک کونے میں جا کر زینب سے بات کرنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد فون بند ہوا لیکن عمر وہیں کسی سوچ میں کھڑا رہا۔
” کیا ہوا پریشان کیوں ہے ؟ ” کیف نے اس کے پیچھے سے کہا تھا تو اس کی آواز عمر چونک کر مڑا تھا۔
” زینب ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی کہہ رہی ڈیٹ فائنل کرنے نا آئیں ہم “
” واٹ لیکن کیوں ؟ ” کیف نے خیرت لیے پوچھا۔
” کہتی ہے جب تک عنایہ واپس نہیں آ جاتی وہ شادی نہیں کرے گی ” عنایہ کے ذکر پر کیف اپنے لب بھینچ گیا۔
” وہ بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن ماما بابا کو کیا جواب دوں گا ؟” عمر آنکھیں چھوٹی کیے پر سوچ انداز میں بولا۔
” تو پاگل ہے کیا ؟ وہ تو ناسمجھ ہے۔ تیرے پیرنٹس بار بار پاکستان تو نہیں نا آسکتے ؟ اور یقیناً زینب کے گھر والے بھی نہیں مانیں گے “
” صرف یہ مسلئہ نہیں ہے ماں چاہتی ہیں ہم شادی کے بعد ان کیساتھ ہی واپس جائیں لیکن میں تجھے چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا کم سے کم اس وقت تو بالکل نہیں جب تجھے سب سے زیادہ میری ضرورت ہے ” کیف اس کی فکرمندی پر مسکرایا تھا۔
” کیوں مجھے کیا ہے ؟ اچھا بھلا تو ہوں ” کیف نے اپنے بازو کھول کر کہا۔
” ہاں جانتا ہوں تو کتنا ٹھیک ہے۔ یہ سب آفس آنا، شام تک خود کو مصروف رکھنا اور پھر جا کر سب کے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنا یہ سب اس لیے ہے نا کہ تجھے اس کی یاد نا آئے ؟ اور رات بھر کمرے میں سگریٹ پھونکتا رہتا ہے۔۔۔سب پتا ہے مجھے ” عمر نے اس کی حقیقت بتائی تو کیف لمحے بھر کو خاموش رہا اور پھر گویا ہوا۔
” ایسا کچھ نہیں ہے۔ اور تو کب تک میرے ساتھ رہے گا ؟ خالہ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں تمھے ان کے ساتھ ہی واپس جانا چاہیے۔ اور ہاں تو نے جاب کے لیے باہر اپلائی کیا ہوا تھا اس کا کیا بنا ؟ ” کیف کو یاد آیا تھا عمر نے ایگزامس سے پہلے انگلینڈ کی کہی کمپنیوں میں جاب کیلئے آپلائی کیا ہوا تھا۔
” ہاں دو کمپنیوں نے انٹرویو کیلئے ڈیٹ دیں ہیں لیکن ۔۔۔۔۔۔۔”
” کیا لیکن تو نے مجھے بتایا کیوں نہیں ؟ ” کیف کو اس کی اتنی بے مروتی پر تاؤ آیا تھا۔
” اس وقت عنایہ چلی گئی تھی کیسے بتاتا ؟ “
” جو بھی ہے عمر تو جائے گا اور زینب سے میں بات کرتا ہوں”
” تو رہنے دے بھائی تیرے پر تو وہ آگے بگڑی ہوئی ہے ” کیف ہنس دیا لیکن اس بات پر دل بوجھل سا ہوگیا۔
********************
عمر اور زینب کی شادی کی تیاری شروع ہوچکی تھی اور زوروشور سے جاری تھی۔ زینب تو عمر سے ناراض ہوگئی تھی۔ عمر نے تو کہا تھا کہ وہ کوشش کر چکا ہے لیکن اس کا اب کوئی حل نہیں، اگر تمھے اعتراض ہے تو اپنے گھر والوں سے کہہ کر دیکھ لو وہ مانتے ہیں تو مجھے کوئی مسلئہ نہیں۔ اس بات پر زینب کو تو غصہ آیا تھا لیکن اس میں اتنی ہمت نا تھی کہ وہ اپنے گھر والوں سے بات کر سکے۔ اسی لیے وہ خاموش ہی رہی۔
شادی کی ڈیٹ چونکہ ڈیڑھ ماہ بعد کی تھی اس لیے انکا نکاح آج ہونا طہ پایا تھا تاکہ شادی ہونے تک زینب کے ویزے کا پراسیس مکمل ہوسکے۔ زینب کے گھر ہی سادگی سے انکا نکاح ہوگیا تھا۔ دونوں نکاح جیسے خوبصورت بندھن میں بندھ چکے تھے۔
*********************
” بھائی ؟ ” نور نے حیدر کے کمرے میں جھانکا۔
” ہاں آجاؤ! ” حیدر نے اندر آنے کا کہا۔ وہ پورا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔
” آپ کی کافی ” اس نے صوفے پر نیم دراز حیدر کو مگ تھمایا۔
” بھائی آپی کا کچھ پتا چلا ؟ “
” نہیں! ابھی تک تو نہیں”
” تم نور ٹھیک سے یاد کرو بابا نے کوئی نام نہیں تھا لیا عنایہ کی آنٹی کا ؟ ” اس نے صوفے سے پاؤں نیچے اتارے اور نور کی طرف دیکھا جو ساتھ ہی کھڑی تھی۔
” نہیں! انھوں نے بس کہا وہ اپنی آنٹی کی گھر گئی ہیں اور جب میں نے پوچھا کہ وہ کون ہیں تو انھوں نے نہیں بتایا کیونکہ اس وقت آپی کے زینب آپی کے گھر نا جانے پر وہ پریشان سے لگے تھے مجھے ” اس نے ساری بات بتائی۔
” ہمممم ! میں نے بابا کے فون پر کنٹیکٹس لسٹ میں بھی چیک کرلیا ہے لیکن ایسا کوئی نہیں ملا “
” آپ نے ماما سے پوچھا شاید انھیں پتا ہو ” نور نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
” پوچھ چکا ہوں انھیں بھی کچھ نہیں پتا، بابا نے کبھی ذکر ہی نہیں کیا ” اس نے کافی کا مگ لبوں سے ہٹا کر کہا۔
” اب ہم کیا کریں گے ؟ آپی کو کہاں سے ڈھونڈیں گے؟” وہ افسردہ سا بولی۔
” فکر نہیں کرو۔ ہم انشاللہ عنایہ کو ڈھونڈ لیں گے ” حیدر نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
*********************
