Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 23)
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 23)
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
رابعہ بیگم نائٹ گاؤن میں ملبوس اپنے بیڈروم میں یہاں سے وہاں ٹہل رہی تھیں۔ مرتضیٰ صاحب جو کسی کتاب کا مطالعہ کررہے تھے ساتھ ساتھ ان پر بھی نظر ڈالتے تھے جو بار بار روم میں لگی وال کلاک کو بھی دیکھتیں۔
” آخر ہوا ہے کیا ہے آپ کو ؟ ” انھوں نے پوچھ ہی لیا۔ وہ ان کی آواز پر ایک دم رکیں پھر ان کر طرف دیکھا جو نظر کی عینک لگائے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بڑے ریلکیس بیٹھے تھے۔ رابعہ کو ان کر لاپرواہی پر ایک دم غصہ آیا تھا۔
” آپ کو پتا ہے کیف ابھی تک گھر نہیں آیا ؟ “
” جی پتا ہے ” ان کے اتنے آرام سے یہ کہہ دینے پر وہ جتنا حیران ہوتی کم تھا۔
” تو آپ کو کوئی فکر نہیں اس کی وہ کہاں ہے کس کے ساتھ ہے کیا کررہا ہے ؟ وقت دیکھیں رات کا ایک بج رہا ہے اور یہ تو اسکا معمول بن گیا ہے میں بہت عرصے سے یہ دیکھ رہی ہوں ” انھوں نے تیز تیز کہا تھا۔ وہ سچ میں فکر مند تھیں۔ جبکہ مرتضیٰ صاحب تو دم سادھے بیٹھے انھے دیکھتے رہے۔ یہ تو ان کیلئے نیا تھا۔
” آپ کو کب سے پروا ہونے لگی بچوں کی ؟ ” مرتضیٰ صاحب کا یہ کہنا رابعہ بیگم طنز لگا تھا۔ اور دل میں کہیں ملال بھی ہوا۔ لیکن انہوں نے گہری سانس لی اور پھر گویا ہوئیں۔
” مرتضیٰ میں مانتی ہوں مجھ سے غلطی ہوئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مجھے اپنے بچوں سے محبت نہیں ہے انکی پروا نہیں ہے۔۔۔۔۔میں ہمیشہ سے اس چیز کا خیال رکھتی تھی کہ وہ ٹھیک ہیں کہ نہیں(وہ لمحے بھر رکیں اور پھر اپنے قدم ان کی اور بڑھائے اور جا کر ان کے پاس بیڈ پر بیٹھ گئیں) کیا آپ مجھے اس کیلئے معاف نہیں کرسکتے ؟ کیا میری یہ غلطی اتنی بڑی ہے کہ مجھے اس کو سدھارنے کا ایک موقع بھی نا دیا جائے؟ ” وہ بہت امید سے انکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھ رہی تھیں۔
” رابعہ میں آپ سے کبھی ناراض نہیں تھا۔ یہ آپ کا حق تھا کی آپ اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزاریں۔ بس ایک چیز تھی جسکا دکھ تھا اور وہ یہ کہ جس عمر میں بچوں کو اپنی ماں کی مامتا، اس کی محبت اس کی توجہ کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ آپ ہمارے بچوں کو وہ ہی نہیں دے پائیں ” انہوں نے شکوہ کیا تو رابعہ بیگم کی آنکھیں پانیوں سے بھر گئیں۔
” آپ خود کو ہلکان مت کریں مجھے خوشی ہے کے آپ کو اس بات کا احساس ہوگیا اور میری طرف سے آپ بے فکر رہیں۔۔۔۔۔۔ مسئلہ صرف کیف کا ہے۔۔۔۔آپ جانتی ہیں وہ کیسا ہے، سب سے زیادہ کوئی ہرٹ ہے تو وہ کیف ہے ” اس بات پر رابعہ بیگم نے سر اثبات میں ہلایا۔ مرتضیٰ صاحب نے ان کے آنسو اپنی انگلیوں کی پوروں سے صاف کیے۔
*********************
” یہ اچھی مصیبت ہے ؟ سر ایسا کیسے کر سکتے ہیں ؟ ” عنایہ اور زینب کلاس روم سے لیکچر لے کر باہر نکلیں جب عنایہ نے زینب کے سامنے بے بسی سے کہا تھا۔ عمر اور کیف بھی ان کی جانب آگئے تھے۔
” تمہیں کیا ہوا ؟ ” عمر نے عنایہ سے پوچھا جو منہ بنائے کھڑی تھی۔ کیف نے بھی اس کی طرف دیکھا تھا۔
” ہونا کیا ہے ؟ وہ ہی جو سر نے کیا ہے ” عنایہ کی بجائے زینب نے جواب دیا تھا۔
” اب سر کیا کرتے عنایہ نئے سرے سے سب کی جوڑیاں بناتے ؟ اس لیے انھوں نے کہہ دیا جن لوگوں نے پچھلی بار ساتھ میں کام کیا تھا وہی ہی لوگ اس پراجیکٹ پر ساتھ کام کریں گے ” عمر نے اسے سمجھنا چاہا۔
” اوہ ! اس لیے منہ بنا ہے ” کیف نے دھیمے سے کہا تھا لیکن تینوں سن چکے تھے۔ عنایہ نے خشمگیں نگاہوں سے اسے گھورا تھا۔
” کیف اس بار بی سیرئیس ” عمر نے اسے تنبیہ کی۔
” اوکے فائن ! ” کیف نے اپنے ہاتھ کھڑے کرکے کہا۔
*******************
” اب سر نے ہمیں ساتھ یہ پراجیکٹ دے ہی دیا ہے تو میں چاہتی ہوں ہم دونوں کا سب سے بیسٹ ہو ” وہ دونوں لائبریری سے نکلے تھے۔
” اچھا ! وہ کیوں ؟ ” کیف نے اس سے پوچھا۔
” کیا مطلب کیوں ؟ سر نے لاسٹ ٹائم ہماری پریزینٹیشن کو سب سے زیادہ پسند کیا تھا تو اس بار بھی ہمیں ویسا ہی اپنا بیسٹ دینا چاہیے ” وہ چلتے چلتے بولی تھی۔
” یو مین تمہاری اور میری ٹیم بہترین ہے ” کیف نے پیچھے سے لقمہ دیا۔
” ہاں کہہ سکتے ہیں اگر تم (وہ کہہ کر رکی اور اسکی طرف پلٹی تھی) دھیان سے بنا کسی شرارت کے سیرئیس ہو کر کام کرو گے۔۔۔۔۔۔کرو گے نا ؟ ” عنایہ نے تائید چاہی۔
” کہا تو ہے ” کیف نے اس کی بے یقینی پر آنکھیں گھمائی تھیں۔ عنایہ مسکرا کر پھر سے چلنے لگی۔ دونوں باہر گراؤنڈ کی طرف آئے تھے جہاں عمر اور زینب نیچے گھاس پر بیٹھے تھے۔ کیف اور عنایہ بھی ان کے پاس جا کر نیچے بیٹھ گئے۔
” ویسے باسکٹ اس پراجیکٹ میں سب سے زیادہ خوش پتا کون ہے ؟ ” کیف نے شرارت بھرے انداز میں استفسار کیا۔ وہ تینوں اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔
” کون ؟ ” عنایہ نے پوچھا۔
” یہ دونوں لو برڈز ” کیف نے عمر اور زینب کی جانب اشارہ کیا تو زینب جھینپ گئی۔
” میں آتی ہوں مجھے کوئی کام تھا ” زینب سرخ چہرہ لیے جلدی سے وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔ جبکہ عمر نے تیز نظروں سے کیف کو گھورا تھا۔ کیف کے لبوں پر شرارتی مسکان تھی۔
” تو انتہائی کمینہ انسان ہے ” عمر بھی زینب کے پیچھے گیا۔
” دیکھو دیکھو ایک پل بھی جدا نہیں رہ سکتے کیسے جلدی سے اس کے پیچھے جا رہا ہے ” کیف نے پیچھے سے ہانک لگائی۔
” تجھے میں دیکھ لوں گا ” عمر جاتے جاتے پلٹ کر اسے دھمکی دے کر گیا۔ کیف زور سے ہنسا تھا۔ عنایہ نے اسے یوں ہنستے دیکھا تو تاسف سے سر ہلایا۔
” کبھی سیرئیس بھی ہو جایا کرو “
” اگر سیرئیس ہو جاؤں تو ہسپتال میں پڑا ملوں ” فوراً جواب آیا تھا۔
” میں آج تک تم جیسے انسان سے نہیں ملی ” عنایہ نے چہرہ موڑ کر اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
” ملو گی بھی نہیں ” کیف نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ایک جذب سے کہا تھا۔ دونوں ایک لمحے کیلئے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے بنا پلکیں جھپکائے۔ کیف کا دل کیا کہ یہ وقت یہیں تھم جائے اور وہ یوں ہی اس کی آنکھوں میں ڈوبا رہے۔ لیکن دل کی کہاں پوری ہوا کرتی ہے۔ آس پاس سے آتی آوازوں پر عنایہ نے اپنی نظریں فوراً پھیریں تھیں اور کیف کو اسکا نظریں پھیرنا اچھا نہیں لگا تھا۔
*********************
شام کو عنایہ کچن میں گئی جہاں نور بی بی پھر سے آج کچھ بنانے نکلی تھی۔
” کیا بنا رہی ہو ؟ ” عنایہ نے کچن کا یہ حال دیکھا تو دل کیا نور کو کچن سے نکال دے۔
” کیک بیک کررہی ہوں بھائی کیلئے ” وہ مصروف سا بولی۔
” تمہارے ہاتھ کا کیک وہ اگر آتے ہی کھائے گا تو واپس چلا جائے گا ” عنایہ ہلکے سے بڑبرائی اور کچن سمیٹنے لگی۔
” آپی وہ میری دوست ہے نا ؟ منال۔۔۔۔وہ جس سے آپ کو ایک بار شاپنگ مال میں ملوایا تھا “
” ہاں کیا ہوا اسے ؟ ” عنایہ نے سارے دھونے والے برتن اٹھا کر سینک میں رکھے۔
” ہوا کچھ نہیں ہے لیکن وہ اتنی اچھی بیکنگ کرتی ہے نا کہ کیا بتاؤں اتنا مزے کا کیک اس دن وہ ہمارے لیے بنا کر لائی تھی “
” اچھا تو یہ شوق تمھے اسی کی وجہ سے چڑھا ہوگا “
” ہاں ! آپ کو نہیں پتا شی از ویری ٹیلنٹڈ۔۔۔۔۔اور بہت سمجھدار بھی ہے میں تو اسے دادی ماں کہہ کر چھیڑتی ہوں جب وہ مجھے شرارتوں سے روکتی ہے ” نور نے ہنس کر بتایا تھا۔
” ہاں تو یہ اچھی بات ہے، تمھے اس سے سیکھنا چاہیے “
” سیکھ تو رہی ہوں یہ بیکنگ “
” ہاں وہ چیز سیکھنا جس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑتا ہے” عنایہ نے برتن دھوتے ہوئے اسے ڈپٹا تھا۔
” یار اب ہر بندہ ایک جیسا تو نہیں نا ہوسکتا سب کی اپنی نیچر ہوتی ہے اپنی پرسنالٹی ہوتی ہے۔۔۔۔اب منال ایسی ہے تو اسکا بھائی بالکل اس کے برعکس ہے ” وہ انڈے پھینٹتے ہوئے بولے جاری تھی جبکہ کیف کے ذکر پر عنایہ کے ہاتھ ایک پل کیلئے تھمے تھے اور دل بے اختیار ڈھڑکا تھا۔
” اسی طرح میرے اور آپ میں بھی ایسے ہی ہے ” وہ مزید گویا ہوئی۔ عنایہ اب چپ چاپ برتن دھوتے ہوئے نور کی نا ختم ہونے والی باتیں سنتی رہی۔
***********************
” کافی ” حیدر نے اسے کپ تھمایا۔ وہ رات کو نو بجے کے قریب گھر پہنچا تھا۔ عنایہ نے مسکرا کر اس سے کپ لیا۔ وہ دونوں ہمیشہ کی طرح چھت پر موجود تھے۔ نومبر کا آخر چل رہا تھا۔ سردی بھی اپنے عروج پر تھی۔ عنایہ شال اوڑھے ہوئے تھی اور حیدر نے جیکٹ پہنی ہوئی تھی۔
” کیسی جا رہی ہے یونی ؟ ” حیدر نے کافی کا ایک گھونٹ بھر کے پوچھا۔
” بہت اچھی ” عنایہ نے مسکرا کر جواب دیا۔ یہ اس کی دل کی بات تھی کیونکہ آجکل وہ واقعی بہت خوش رہتی تھی اور وجہ وہ شخص تھا جسے وہ بالکل پسند نہیں کرتی تھی لیکن آج نا چاہتے ہوئے بھی اسے تسلیم کرنا پڑا تھا کیف کے ساتھ اسے سب اچھا لگتا تھا۔ وہ اپنی سوچوں سے نکلی تو دیکھا حیدر اس سے کچھ کہہ رہا تھا۔
**********************
یہ منظر لائبریری کا ہے جہاں عنایہ اور کیف آمنے سامنے بیٹھے اپنے پراجیکٹ پر رسرچ ورک کررہے ہیں۔ کیف کے سامنے ٹیبل پر لیپ ٹاپ رکھا تھا اور عنایہ کتاب اور پیپر لیے بیٹھی تھی۔
” مل گیا ” عنایہ کی چہکتی آواز کیف کے کانوں سے ٹکرائی تو اس نے اپنی نگاہیں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا۔
” آ ہاں ! ” کیف نے بس اتنا ہی کہا۔
” ہاں بند کرو اسے میں تمھے بتاتی ہوں کہ اس پر اب ہم کیسے کام کریں گے ” اس نے کیف اور اپنے درمیان رکھے لیپ ٹاپ کو بند کیا۔ اور پھر وہ اسے سارا بتانے لگی جبکہ کیف اسکا چہرہ اپنی نظروں کے حصار میں لیے اسے دیکھتا رہا۔ اس کا چاند جیسا روشن چہرہ، جھیل جیسی آنکھیں، گھنی پلکیں جو وہ بار بار جھپکا رہی تھی، اور اسکے ہلتے لب سب ہی کیف کو اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔
” اوفف ! یہ کچھ ایسا ویسا نا کروا دے مجھ سے ” کیف نے اپنے دل میں ابھرتے جذباتوں پر بے اختیار سوچا۔
********************
وہ کیفے میں بیٹھی زینب کا انتظار کررہی تھی جب کیف اس کے سامنے آ بیٹھا۔ دونوں چھوٹے سے ٹیبل کے آر پار بیٹھے تھے۔
” سو باسکٹ پراجیکٹ تو ہوگیا اور ویسا ہی ہوا جیسا تم نے بتایا تھا سر کافی ایمپریسڈ نظر آرہے تھے ” کیف نے داد دینے والے انداز میں کہا۔
” میں نے تو کہا ہی تھا ہماری ٹیم بیسٹ ہے ” عنایہ نے شانے جھٹک کر کہا تھا۔
” ہاں یہ تو ہے ” کیف ٹیک چھوڑ سیدھا ہوا تھا۔
” ویسے میں سوچ رہی تھی اب یہ پراجیکٹ تو ہوگیا سو اب میں کچھ بھی کر سکتی ہوں ” دونوں ہاتھوں کی پشت پر اپنا چہرہ ٹکائے وہ آنکھوں میں شرارت لیے بولی۔
” کیا مطلب ؟ ” کیف نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
” مطلب اب میری ٹرن ہے۔۔۔۔۔یاد ہے نا لاسٹ ٹائم تم نے میرا مذاق اڑایا تھا ” عنایہ نے اسے اپنی برتھڈے والے دن کا حوالہ دیا(صاف وارننگ دی کہ وہ کچھ بھولی نہیں ہے اور اپنا بدلہ ضرور لے گی) کیف مسکرایا تھا۔
” اوہ ! ( کیف ٹیبل پر سے اس کی جانب جھکا) مجھے انتظار رہے گا ” دلکشی سے کہتا وہ اپنی نشست سے اٹھا پھر ایک گہری نظر اس بار ڈال کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ جبکہ عنایہ اچنبھے سے اس کی پشت کو دیکھتی رہ گئی۔
********************
عنایہ کچن میں کھڑی کافی بنا رہی تھی اور سوچوں کا مرکز کیف تھا۔ وہ کیف کے رویے پر جتنا حیران ہوتی کم تھا۔ اس نے اسے سر اقبال سے اتنی ڈانٹ پروائی لیکن اس نے آگے سے کوئی ریکیاٹ ہی نہیں کیا اور پھر کیفے میں بھی اس نے سب کے سامنے اسکا مذاق اڑایا جس پر وہ صرف مسکراتا رہا۔
” کہیں یہ اس کی کوئی سازش تو نہیں؟ ” عنایہ ایک دم ہاتھ روکے بولی۔
” ہمممم ہو بھی سکتا ہے اور یہ نا ہو ان سب کے بدلے ایک دم سے کوئی حملہ کردے مجھ پر ” پھر سے کافی بیٹ کرتے ہوئے اس نے سوچا۔
” اوئے کافی نہیں بنی ؟ ” کچن میں آتے حیدر نے پوچھا۔ حیدر کی آواز پر اس نے اپنی سوچوں کو جھٹکا۔
” ہاں بس بن گئی ” کپ میں دودھ ڈالتے ہوئے اس نے بتایا۔
” میں نے سوچا تھا ہم باتیں کریں گے لیکن نور نے آج ہمیں مووی دکھا کر ہی دم لینا ہے ” حیدر نے کہا تو عنایہ مسکرائی۔
” نور تمہیں بہت مس کرتی تھی۔ وہ روز پلان بناتی تھی بھائی آئیں گے تو ہم یہ کریں گے وہ کریں لیکن تم تو اس بار چھٹی کے ساتھ ساتھ کام میں بھی مصروف ہو ” عنایہ نے کافی کے کپ ٹرے میں رکھے۔
” یار سیریسلی اس بار لمبی چھٹی اس لیے ملی ہے مجھے کہ یہاں ایک کام بھی کرنا پڑے گا پہلے کسی اور کو چنا گیا تھا لیکن میں نے ریکوسٹ کی تو وہ مان گئے، دیکھو نا فائدہ میرا ہی ہے کام کے ساتھ ساتھ گھر تو آ جاتا ہوں نا ” حیدر نے اسے تفصیل سے بتایا۔ دونوں اب کچن سے باہر لاونج میں آ چکے تھے جہاں نور ایل سی ڈی پر مووی لگا چکی تھی۔
*********************
عنایہ اور زینب لائبریری کی سیڑھیوں پر بیٹھی تھیں جب ان کی ایک کلاس فیلو بھی وہاں آکر بیٹھ گئی۔
” یار ایک بات تو بتاؤ ” اس لڑکی نے دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
” کیا ؟ ” زینب نے آئی برو اچکائے پوچھا۔
” کیف تم دونوں کا دوست ہے کیا ؟ “
” ہاں کیوں ؟ ” زینب نے کہا۔
” کیسے یار ؟ مجھے بھی کوئی آئیڈیا دو میں بھی اس سے دوستی کرنا چاہتی ہوں ” اس نے اشتیاق سے کہا جس پر زینب تو ہنسی تھی جبکہ عنایہ نے عجیب نظروں سے اس لڑکی کو دیکھا تھا۔
” ہم سے کیا پوچھ رہی ہو ؟ جیسے باقی لڑکیاں اس کے اردگرد منڈلاتی ہیں تم بھی یہ ہی کرو۔۔۔دیکھنا خود با خود تمہاری طرف متوجہ ہو جائے گا ” اس کا لہجہ ایسا تھا کہ زینب بھی اس کی طرف دیکھنے لگی۔ اور وہ لڑکی عنایہ کے خامخواہ یوں غصہ کرنے پر منہ بنا کر وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔
” تمھے کیا ہوا ہے ؟ ” زینب پوچھے بنا نا رہ سکی۔
” کچھ بھی نہیں ” اس نے آرام سے کہا تھا لیکن چہرے کے تاثرات ابھی بھی خفت لیے ہوئے تھے جیسے اس لڑکی کا کیف کے بارے میں بات کرنا اسے ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔
********************
” کیف ! ” عنایہ نے اسے پکارا جو بینچ پر بیٹھا اپنے فون پر گیم کھیل رہا تھا۔ اس کی آواز پر کیف نے اپنا سر فون سے اٹھا کر سامنے دیکھا۔
” ہائے ! ” کیف نے مسکرا کر کہا تو عنایہ اس کے پاس بیٹھ گئی۔
” وہ مجھے تم سے کچھ پوچھنا تھا ؟ ” کیف فون چھوڑ کر جی جان سے اس کی جانب متوجہ ہوا تھا۔
” وہ تم آجکل میرے ساتھ اتنے نارمل کیوں ہو ؟ ” عنایہ آنکھیں سکیڑ اس کے چہرے کے تاثرات بھی دیکھ رہی تھی۔ کیف اس کے یوں دیکھنے پر اندر ہی اندر مسکرایا تھا۔
” کیوں تمھے اچھا نہیں لگ رہا ؟ ” کیف نے اس کے سوال پر سوال کیا۔
” نہیں ! ہاں۔۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے مجھے لگ رہا جیسے تم کچھ سوچ رہے ہو میرے خلاف “
” ڈونٹ وری سویٹ ہارٹ ایسا کچھ نہیں ہے ” وہ کہتے ہوا بینچ سے اٹھ کر چلنے لگا۔ عنایہ بھی اس کے پیچھے ہی اٹھی تھی اور ساتھ چلنے لگی۔ آج اس نے فیصلہ کر ہی لیا تھا کہ وہ اتنے دنوں سے اپنے ذہن میں پلتا سوال اس سے پوچھ کے ہی رہے گی۔
” تم اتنے اچھے نہیں ہو سمجھے اچھی طرح جانتی ہوں میں تمھے ” عنایہ نے کہا تو کیف رک کر اسے دیکھنے لگا۔
” اچھا مجھے جانتی ہو تو بتاؤ ؟ ” کیف نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا۔ عنایہ نے اپنی نظروں کا زاویہ بدلا تو کیف پھر سے چلنے لگا۔ جبکہ عنایہ وہیں کھڑی رہی پھر کچھ سوچ کر اس کے پیچھے گئی۔ وہ یونیورسٹی کی بیک سائیڈ پر آگیا تھا۔
” ہاں مجھے پتا ہے جو میں نے کیا ہے تمہارے ساتھ اسکا بدلا تم لو گے اور ضرور تمہارے دماغ میں کچھ نا کچھ چل رہا ہوگا ” وہ اپنے دھیان میں چل رہی تھی جب کیف اسکا ہاتھ تھام کر وہاں موجود خالی کلاسزز میں سے ایک کلاس میں لے آیا۔ کیف نے پلٹ کر کلاسروم کا دروازا بند کیا اور اس کے ساتھ ہی عنایہ کو لگا کر اسکے سامنے کھڑا ہوگیا۔ عنایہ کو تو اس نے سمجھنے کا موقع بھی نہیں دیا تھا وہ پھٹی آنکھوں سے اسکا یہ عمل دیکھ رہی تھی۔ کیف مسکرا کر تھوڑا قریب ہوا۔
” تم۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سب کیوں۔۔۔۔۔میرا مطلب ” وہ اسکے نزدیک آنے پر بات بھی نہیں کر پارہی تھی۔
” جاننا چاہتی ہو میں کیوں ایسے ریایکٹ کررہا ہوں ؟ ” اس کے پوچھنے پر اس نے دو بار سر کو ہاں میں ہلایا۔ وہ مزید اسکے قریب ہوا اور اسکے چہرے پر آئے بالوں کو اپنی انگلی سے ہٹایا۔
” تمہارے اس خوبصورت چہرے نے مجھے پاگل کردیا ہے،
تمہاری ان آنکھوں نے مجھے دیوانہ بنا دیا ہے( اس نے اپنی انگلی کی پور سے اسکی پلکوں کو دھیرے سے چھوا تو عنایہ اپنی سانس روک گئی) تمہاری وجہ سے میں۔۔۔۔ میں نہیں رہا ” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے گھمبیر آواز میں کہہ رہا تھا اور عنایہ اپنے چہرے پر اسکی سانسوں کی تپش سے لرز گئی۔ وہ بے اختیار اپنی آنکھیں میچ گئی۔ اس کی بند آنکھوں کو دیکھ کر کیف کے لبوں پر مسکان بکھر گئی۔ اسے وہ لمحہ یاد آیا جب ویلکم پارٹی پر بھی وہ اس کے ایسے قریب ہوا تھا۔ کچھ لمحے سرکے جب عنایہ کو مزید اسکے بولنے کی آواز نا آئی تو اس نے اپنی بند آنکھیں کھول کر دیکھا۔ وہ اب آنکھوں میں شرارت لیے مسکراہٹ دبائے اسے دیکھ رہا تھا۔
” کیا ؟ ” عنایہ نے اسکے بدلتے انداز پر پوچھا۔
” تمہیں کیا لگا تھا کچھ ایسا ویسا کہوں گا تم سے ؟ “
” کیا مطلب ؟ ” عنایہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔
” مطلب یہ کہ تمھے تو میرا پتا ہے میں کبھی سیریس تو ہوا نہیں ” کیف نے شانے جھٹک کر کہا۔ اس کی بات کا مطلب سمجھ کر عنایہ کے اندر غصے کی لہر ڈوری۔
” تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ تلملا اٹھی۔
” میں ؟ ” وہ ڈھٹائی سے مسکرایا۔
” میں تمہارا خون پی جاؤں گی ” وہ غصے سے بھری اس پر چیخی تھی۔
” اچھا ؟ پیو ” کیف نے اپنی گردن آگے کی تو وہ بدک کر پیچھے ہوئی۔
” آہ ! ” زمین پر پاؤں مار کر وہ تن فن کرتی کلاس روم سے نکل گئی۔ کیف نے پیچھے سے قہقہہ لگایا تھا۔
**********************
