222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 7)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

” اس کیف کے بچے کو دیکھنا میں کیسا مزہ چکھاؤں گی خود کو پتا نہیں کیا سمجھتا ہے ؟……ایک تو یونیورسٹی میں ہر لڑکی نے اسے سر پر چڑھا رکھا ہے کیف نا ہوا پرنس چارلس ہوگیا اور میں بھی کتنی گدھی ہوں کیا ضرورت تھی بھلا اسے حیدر کا بتانے کی الٹا اپنا ہی مذاق بنوا لیا میں نے “

وہ کچن میں کھڑی رات کے کھانے کیلئے بریانی بنا رہی تھی اور ساتھ ساتھ خود سے باتیں بھی جاری تھیں۔

” آپی آپی !!! کب تک فارغ ہوگی مجھے میتھز کا یہ ایک سوال سمجھ نہیں آرہا ” نور کچن میں ہاتھوں میں کتاب لئے آئی.

” ہاں کونسا دکھاؤ مجھے ” عنایہ نے ایک نظر اس کے ہاتھ میں تھامی کتاب پر ڈالی۔

” او نور بہت آسان ہے “

” آپ کیلئے آسان ہے۔ میرے لئے نہیں، مجھے یہ ایک سمجھا دو باقی میں خود کرلوں گی۔ “

” اچھا میں بس یہ دم پر رکھ کر آتی ہوں تم چلو ” نور باہر نکلی تو عنایہ بھی جلدی جلدی کام ختم کرنے لگی۔

********************

” ہے گرلز ! کیا پلان ہے آجکا ؟ ” حیدر لاونج میں داخل ہوا تو عنایہ اور نور سے بولا جو اپنی اپنی کتابیں لیے بیٹھی تھیں۔

” بھائی مووی دیکھنے چلیں ” نور نے اپنا آیڈیا پیش کیا۔

” بس پڑھنا نا ان سب کیلئے تیار رہنا ” صوفے پر بیٹھی عنایہ نے پیچھے سے اس کے سر پر تھپڑ لگایا تھا۔

” او ہو آپی ! بھائی اس بار صرف تین دن کیلئے آئے ہیں، تو صرف دو دن ہوں گے ہمارے پاس انجوائے کرنے کے کیلئے “

” تین دن ؟ مجھے کیوں نہیں بتایا ؟ ” عنایہ نے سامنے بیٹھے حیدر کو نا سمجھی سے دیکھا۔ یہ پہلی بار تھا کہ وہ کتنے کم سمے کیلئے لوٹا تھا۔

” جب جاتا تب پتا چل ہی جانا تھا تم کو بھی ” حیدر نے کندھے جھٹک کر کہا۔ عنایہ ایسے ہی اسے آنکھیں چھوٹے کیے دیکھے گئی۔

” تم کہو تو نہیں جاؤں گا ” وہ مسکرایا۔ اس پر عنایہ ہنس دی۔ عنایہ نے اپنی کتابیں سمیٹی اور اپنے بیڈروم کی طرف بڑھی۔ حیدر اسکے کمرے میں غائب ہونے تک اسی پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔

*******************

عنایہ آج لیمن کلر کے کرتے پچامے میں ملبوس تھی۔ ہم رنگ شیفون کا ڈوپٹہ کندھے پر ڈالے ہوئے آج وہ معمول سے زرا ہٹ کر تیار ہوئی۔ بالوں کو کیچر میں باندھے تھی لیکن دو آوارہ لیٹیں اسکے چہرے کو چوم رہی تھیں۔ وہ یونیورسٹی پہنچی تو نظریں زینب کو تلاش کررہی تھیں جو اسکو سدرہ وغیرہ کے پاس ہی کھڑی دیکھ گئی۔

” او ہو آج تو بڑی پیاری لگ رہی ہو کوئی خاص وجہ؟” زینب نے اسے دیکھتے ہی شرارت بھرے انداز میں کہا۔ پاس کھڑی سدرہ اور ہما نے بھی اسکی تعریف کی تو عنایہ مسکرا دی۔ تھوڑی دیر باتوں کے بعد سدرہ اور ہما ان کے پاس سے گئیں تو زینب نے پھر سے اسے آج الگ دکھنے پر چھیڑا تھا۔

” کچھ بھی نہیں یار، بس آج ذرا یونیورسٹی کے بعد حیدر کے ساتھ لنچ کرنا تھا تو سوچا یہ ڈریس پہن لیتی ہوں “

” او او حیدر ہاں۔۔۔۔۔آئی سی ” زینب معنی خیز انداز میں بولی۔

” تم بس فضول ہی سوچنا وہ واپس جا رہا ہے شام کو اسی لئے ” عنایہ نے وضاحت دی۔ دونوں اب چلتے ہوئے باتیں کررہی تھیں جب سامنے سے کیف بھی اسی طرف نتاشہ سے باتیں کرتے ہوئے آرہا تھا۔ دونوں کی نظر ملی تو عنایہ نے ناگواری سے اسے دیکھا تھا جبکہ کیف نے اپنے لبوں کو دانتوں میں دبا کر اپنی مسکراہٹ ضبط کی اور عنایہ کو آنکھ ماری۔ عنایہ نے پھٹی ہوئی آنکھوں سے اسکی یہ حرکت دیکھی تھی۔

” چھچھورا کہیں کا ” اس نے اپنا غصہ ضبط کیا۔

” کون ؟ ” زینب نے ادھر ادھر دیکھا۔ عنایہ نے آنکھوں سے ایک طرف اشارہ کیا تھا جہاں کیف اور نتاشہ کھڑے تھے۔

” ہائے ! نا کہا کرو ایسا۔۔۔۔۔ہماری کلاس ہی کیا۔۔۔۔ہمارا ڈپارٹمنٹ تو کیا وہ پوری یونیورسٹی کا سب سے ہینڈسم بندہ ہے۔۔۔۔اور قسمے کیا گاتا ہے نا؟ ۔۔۔۔ہی از گریٹ سنگر۔۔” زینب نے کیف کی شان میں قصیدے پڑھے۔ عنایہ نے کوفت زدہ نظروں سے اسے دیکھا تھا۔

” تمھے ہی لگتا ہوگا مجھے تو بندر لگتا ہے ” عنایہ نے منہ بنایا تھا۔

” ہاں تمہے کہاں اچھا لگے گا؟ تمہارے پاس تو اپنے گھر میں الریڈی ایک ہینڈسم بندہ موجود ہے ” زینب نے مسکراتے ہوئے اسے کہنی ماری تھی۔

” بہت فضول ہو اور بولتی بھی فضول ہو ” عنایہ اسے وہیں چھوڑ آگے بڑھ گئی زینب بھی ہنستے ہوئے اس کے پیچھے چل دی۔

******************

” اچھا پھر آج تم اور میں ساتھ ڈنر کریں گے ” نتاشہ چمکتی آنکھوں سے سامنے کھڑے کیف سے بولی جو فون پر اب گیم کھیل رہا تھا۔

” عمر کیوں نہیں ؟ “

” عمر کے ساتھ تو کرتے رہتے ہیں۔۔۔ لیکن میں آج صرف تمہارے ساتھ اکیلے میں وقت گزارنا چاہتی ہوں ” نتاشہ نے کیف کے بازو کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھاما۔ کیف نے ایک نظر نتاشہ کے ہاتھوں کو دیکھا پھر نظر اٹھا کر نتاشہ کو دیکھا اور مسکرا کر بڑے پیار سے اسکے ہاتھوں سے اپنا بازو نکالا تھا۔

” ہم تینوں دوست ہیں نا تو تینوں ہمیشہ کی طرح ساتھ ہی ڈنر کریں گے ” کیف نے جس انداز سے کہا نتاشہ نے برا نہیں مانا بلکہ اسکے کہتے ہی مسکرا کر سر کو خم دیا۔ وہ تو کبھی اسے انکار ہی نہیں کرسکتی تھی۔

********************

عنایہ اور زینب آج بالکل کیف کی پیچھے والی سیٹ پر بیٹھیں تھیں۔ سر اقبال کا لیکچر شروع ہی ہونے والا تھا۔ لیکن کیف کلاس میں بیٹھا بیٹھا اکتا گیا تو عمر کے ساتھ باہر نکل گیا۔ اس نے سوچا سر کے آنے سے پہلے تھوڑی تھکاوٹ دور ہو جائے کیونکہ آج انھوں نے مسلسل دو لیکچر ایک ساتھ اٹینڈ کیے تھے۔ نتاشہ دوسری طرف بیٹھی لڑکیوں سے اپنی باتوں میں مگن تھی۔کیف جیسے ہی باہر نکلا عنایہ تیزی سے آگے اسکی سیٹ کی طرف جھکی اور کیف کی اسائنمنٹ اٹھا لی۔

” یہ کیا کررہی ہو ؟ ” زینب اسکی حرکت پر حیران ہوئی تھی۔

” بدلہ ۔۔۔۔۔۔۔” عنایہ نے مسکرا کر کیف کی اسائنمنٹ اپنے بیگ میں رکھ لی۔

” عنایہ پاگل ہو گئی ہو ؟ سر اقبال کا پتا ہے نا ؟ کیوں اس بیچارے کے ساتھ یہ کر رہی ہو ؟ “

” تم میری دوست ہو کہ اسکی ؟ ” عنایہ نے اسے گھورا تھا۔

” یار تم بھی نا “

” اب آئے گا مزہ خود کو بہت کول، سمارٹ ،ہینڈسم اور پتا نہیں کیا کیا سمجھتا ہے۔۔۔۔۔آج سب کے سامنے سر سے جب ڈانٹ پڑے گی تو اسکی شکل دیکھنے لائق ہوگی ” عنایہ تصور کرتے ہوئے ابھی سے مزے لینے لگی۔ جبکہ پاس بیٹھی زینب کو کیف کیلئے ابھی سے برا لگنے لگا تھا۔

” ہائے بیچارا کیف۔۔۔۔۔۔۔” زینب افسردہ ہوئی تھی۔

” آج جائے گا کام سے۔۔۔۔۔۔۔ ” عنایہ نے زینب کو دیکھا اور مسکرا کر کہا۔

*******************

سر اقبال نے لیکچر ختم کیا اور پھر سب سے باری باری اسائنمنٹ ڈائس پر آکر رکھنے کا کہا۔ زینب اپنی اسائنمنٹ رکھ کر آئی تو اگلی باری کیف کی تھی جو اپنی اسائنمنٹ ادھر ادھر تلاش کررہا تھا۔ یہاں تک کہ اپنی چیئر کے نیچے بھی دیکھ چکا تھا۔ سر اقبال نے اسے کھڑا کیا تو کیف نے عمر کی اسائنمنٹ اٹھائی۔

” اوئے میری چھوڑ ” عمر نے اپنی اسائنمنٹ اسکے ہاتھ سے واپس کھینچ لی۔

” ویر از یور اسائنمنٹ کیف ؟ سر اقبال نے کیف سے پوچھا۔

” سر پتا نہیں کہاں گئی صبح تک تو یہیں تھی ” کیف نے اپنے سر کے پیچھے ہاتھ رکھے ادھر ادھر ایک بار پھر دیکھا تھا۔

” یو مین ٹو سے آپکی اسائنمنٹ خود کہیں چل کر چلی گئی ہے ” سر اقبال کی بات پر کلاس میں سب ہی کے قہقے گونجے تھے۔

” نہیں میرا مطلب۔۔۔۔میں نے بنائی تھی سر لیکن اب مل نہیں رہی ” کیف نے وضاحت دی۔ پیچھے بیٹھی عنایہ یہ سین بہت انجوائے کررہی تھی۔

” اچھا بہانہ ہے یہ لیکن پرانہ ہو چکا ہے۔۔۔۔کل یہ ہی اسائنمنٹ آپ ففٹین ٹائمز کرکے لائیں گے ” سر اقبال نے ذرا سخت لہجے میں کہا۔ کیف جو پندرہ دفعا کا سن کر احتجاج کرنا چاہتا تھا لیکن سر اقبال کے چہرے کی سختی دیکھ کر چپ ہی رہ گیا۔ مبادا کہیں پندرہ کی جگہ پچاس دفعا نا دے دیں۔

” نیکسٹ ” سر اقبال نے عمر کو دیکھا تو وہ فوراً اٹھا تھا اور اپنی اسائنمنٹ ڈائس پر رکھ کر آیا۔ کیف نے اسے گھوری سے نوازا تھا جیسے ساری غلطی ہی عمر کی ہو۔ عمر نے اسکی حالت پر اپنی ہنسی ضبط کی اور جا کر اپنی جگ پر بیٹھ گیا۔

*********************

” یار سمجھ نہیں آرہا میری اسائنمنٹ جا کہاں سکتی ہے ؟ “

” سر نے کہا تو تھا خود ہی کہیں چلی گئی ” عمر نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا تھا۔ کیف نے ایک مکا اس کے پیٹ پر مارا تھا۔

” تم نے ٹھیک سے چیک کرنا تھا کلاس روم میں ” نتاشہ نے کہا۔ وہ تینوں کیفے ٹیریا میں موجود کیف کی گم شدہ اسائنمنٹ پر بات کررہے تھے۔

” کیا تھا پہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” کیف بات کرتے کرتے رکا۔ کیونکہ سامنے عنایہ اسکی اسائنمنٹ اپنے چہرے کے اگے کیے کھڑی تھی۔ پھر اس نے سیٹی بجاتے ہوئے بالکل کیف کے انداز میں ہی اسکی اسائنمنٹ ٹیبل پر رکھی۔

” ٹھیک سے دیکھ لو میں نے کچھ بھی نہیں کیا اس کے ساتھ ” عنایہ نے تمسخر مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور آگے بڑھ گئی۔

” او مائے ہاؤ کین شی دو ڈس ؟ ” نتاشہ کو غصہ آیا عنایہ کی حرکت پر۔ کیف ہونقوں کی طرح وہاں بیٹھا رہ گیا۔

” بہت ہوگئی تیرے ساتھ ” عمر نے قہقہہ لگایا تھا۔

” شٹ اپ عمر ” نتاشہ نے عمر کو کہا پھر کیف کی طرف دیکھا جو تب سے ابھی تک ویسے ہی بیٹھا تھا۔

” کیف تم نے اسے کچھ کہا کیوں نہیں ؟ ” نتاشہ کو کیف کا یوں چپ رہنا بالکل پسند نہیں آیا۔

” ڈونٹ وری میں دیکھ لوں گا ” کیف اپنے محصوص انداز میں مسکرایا اور کچھ سوچتے ہوئے کافی کا کپ اپنے لبوں سے لگا گیا۔

******************

” ماننا پڑے گا ویسے ” عنایہ لائبریری سے نکلی تھی کہ پیچھے سے کیف کی آواز پر پلٹی۔ کیف ایک ہاتھ اپنی جینز کی پاکٹ میں ڈالے کھڑا تھا۔ پھر چلتا ہوا عین اسکے سامنے آ رکا۔

” آئی ایم امپریسڈ باسکٹ۔۔۔۔پہلی بار کوئی کیف مرتضیٰ کو ٹف ٹائم دے رہا ہے۔۔۔۔ورنہ کسی میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کے مجھ سے الجھنے کی سوچے بھی “

” چلو تم نے مانا تو صحیح کہ میں تمھے ٹف ٹائم دے رہی ہوں ” عنایہ کتاب سینے سے لگائے مسکرا کر بولی۔

” لیکن یہ سب کرکے تم صرف پچھتاؤ گی۔۔۔۔اس لئے وارننگ دے رہا ہوں “

” کیوں تم ڈر گئے ؟ ” عنایہ نے مسکراتی آنکھوں سے پوچھا۔

” میں نے تو تمہارے بھلے کیلئے ہی کہا ہے۔۔۔اس لیے سوچ لو” کیف نے شانے جھٹکے۔

” تم میری نہیں اپنی فکر کرو۔۔۔۔۔۔یہ نا ہو تمھے پچھتانا پڑے”

” اوکے دیکھتے ہیں پھر کون پچھتاتا ہے ” کیف نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے چیلنجنگ انداز میں کہا۔

” ہاں دیکھ لیں گے ” عنایہ نے بھی اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا اور جانے کیلئے پلٹ گئی۔

” میری شکایت تو نہیں کرو گی پھر اپنے فوجی سے ” کیف نے پیچھے سے طنز کیا۔

” مائنڈ یو ! تمہارے لیے میں اکیلی ہی کافی ہوں ” عنایہ نے پلٹ کر انگلی اسکی طرف اٹھائے تیکھے انداز میں کہا۔

اسے شدت سے احساس ہوا کیف کے سامنے یہ بات کرکے اس نے غلطی کردی۔

” او رئیلی ؟؟؟؟ ” کیف نے مزے سے کہا۔

” خود کو بہت سمارٹ سمجھتے ہو نا ؟ “

” پہلے بھی کہا ہے سمجھتا نہیں میں سمارٹ ہوں “

” تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دیکھ لوں گی تمھے ” عنایہ کو سمجھ نہیں آیا کیا کہے۔

” دیکھ لو بہت ہینڈسم ہوں ” کیف مسکرا کر اسکی طرف جھک کر آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔

” ہونہہ ہینڈسم۔۔۔۔۔بندر لگتے ہو بندر کہیں کے ” عنایہ نے منہ بنا کر زبان دکھاتے ہوئے کہا اور پلٹ کر چلی گئی۔ جبکہ کیف اسکے ایسے کرنے پر بے احتیار مسکرایا تھا۔

********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *