222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 43)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

گاڑی آفس کی عالیشان بلڈنگ کے سامنے آکر رکی تھی۔

گاڑی سے اتر کر اس نے ایک نظر کلائی پر بندھی گھڑی پر ڈالی پھر شاہانہ چال چلتا اندر کی طرف بڑھ گیا۔ سارہ سٹاف اس کے آنے پر الرٹ ہوچکا تھا۔ وہ بنا کسی کی طرف دیکھتا سیدھا اپنے کیبن کی طرف بڑھ رہا تھا جب اس کی سیکریٹری نے اسے دیکھتے ہی اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگی اور اسے آج ہونے والی میٹنگ کے بارے میں آگاہ کرنے لگی۔

” سر نئے ڈیزائنز تیار ہو کر آچکے ہیں فائل آپ کے ٹیبل پر موجود ہے آپ فائنل کرلیں تو میگزین کیلئے آج ہی بھجوا دیں گے۔ اور آج آپ کی علی برادرز کیساتھ دو بجے کی میٹنگ فکس ہے، اس کے بعد رات کو آٹھ بجے خلیل صاحب کیساتھ ڈنر بھی ہے ” وہ دونوں اس کے کیبن میں آچکے تھے۔ کیف اپنے کوٹ کے بٹن کھولتا اسے اتار کر ہینگ کرتا اپنی کرسی پر جا بیٹھا۔

” ہم راولپنڈی کس وقت تک نکلیں گے ؟ ” وہ اب نوٹ پیڈ اور پین تھامے اس کی منتظر کھڑی تھی۔

” ہمممم ! میٹنگ دو بجے کی ہے تو ہم آدھا گھنٹہ پہلے ہی نکلیں گے کیونکہ پنڈی میں ٹریفک بہت ذیادہ ہوتی ہے ” وہ سرسری سا کہتا فائل اٹھا کر اب ڈیزائن دیکھنے لگا۔

” اور تیاری مکمل ہے میٹنگ کی ؟ ” کیف نے پوچھا۔

” جی سر ! ” اس نے نوٹ پیڈ پر ٹائم نوٹ کرتے جواب دیا تھا۔ وہ ہر چیز نوٹ کرکے رکھتی تھی کیونکہ اس کے باس کو ہر چیز پرفیکٹ اور ٹائم پر چاہیے ہوتی تھی۔ کوئی بھی چیز آگے پیچھے یا زرا بھی اونچ نیچ ہو تو سٹاف کو اچھی خاصی جھاڑ سننے کو ملتی تھی۔

” گڈ ! چیک بک ساتھ رکھ لینا میں آج ہی سب مکمل کرکے اس کو نمٹانا چاہتا ہوں ” فائل میں رکھے ڈھیروں ڈیزائنز کو وہ بس ایک نظر دیکھ رہا تھا۔ اس کی سیکریٹری نے تاسف سے ان ڈیزائنز کو دیکھا جو اتنی محنت سے بنے تھے لیکن ان کا باس بس ایک نظر دیکھ رہا تھا اور وہ جانتی کے ان ڈھیروں میں سے کوئی دو اسے اچھے لگیں گے اور باقی سارے ریجیکٹ ہوں گے۔

**********************

کھڑے مغرور تنے تنے سے نقوش سرخی سفید رنگت گھنا

شیو جو اس کے چہرے کو اور بھی ہینڈسم بنا رہا تھا۔ بھنچے ہوئے لب، سفید ڈریس شرٹ میں کف فولڈ کئیے وہ سامنے کھڑے مینجر سے بریفننگ لے رہا تھا۔ وہ بڑھتی عمر کیساتھ پہلے سے بھی زیادہ پرکشش ہوگیا تھا۔ آج بھی لڑکیاں اسے دیکھتے اپنا دل ہار جاتی تھیں لیکن کیف مرتضیٰ کو اب فرق نہیں پڑتا تھا۔

وہ اس وقت پنڈی والی کمپنی میں موجود تھا۔ ڈیل فائنل ہوگئی تھی اور کیف مرتضیٰ اس کمپنی کو خرید چکا تھا۔ سارے سٹاف سے انٹروڈکشن بھی ہوچکا تھا۔ کیف بزنس کی دنیا میں اپنا نام منوا چکا تھا۔ ان پانچ سالوں میں وہ مرتضیٰ اینڈ سنز کمپنی کو اونچائی پر لے گیا تھا۔ پچھلے سال اسے انگلینڈ میں بزنس مین آف دا ائیر کے ایورڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ مرتضیٰ صاحب اس کی کامیابی پر بے حد مسرور ہوئے تھے انھوں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ کیف یوں ان کا نام روشن کرے گا۔ان کو کیف پر فخر تھا۔

**********************

ایک فارم ہاؤس پر تھوڑی دیر پہلے ریڈ پڑی تھی۔ جہاں منشیات کی سمگلنگ کی ایک بہت بڑی ڈیل ہونے جارہی تھی جو کہ حیدر کی ٹیم نے بروقت اپنی ریڈ سے ناکام بنا دی تھی۔ منشیات تو ساری حراست میں لے لئی گئی تھیں لیکن ایک لڑکی کے سوا کوئی اور پکڑا نہیں جاسکا تھا۔ سب ہی سب فرار ہوچکے تھے۔ حیدر اپنے آفس میں کھڑا سامنے کھڑے آفسر سے ریڈ کے مطلق تفصیلات سن رہا تھا۔

” سر باقی سب تو وہاں سے فرار ہوگئے لیکن ایک لڑکی پکڑی گئی ہے آپ چاہیں تو تفتیش کر سکتے ہیں اس سے ” اس کے ساتھی آفسر نے اسے تفصیل دیتے ہوئے ریڈ کے دوران پکڑی گئی لڑکی کے بارے میں آگاہ کیا۔

” کہاں ہے وہ ؟ ” حیدر نے پوچھا۔

” باہر ہی ہے سر “

” بھیجو اسے اندر ” وہ کہہ کر اپنی ٹیبل کی جانب بڑھ گیا۔ وہ سلوٹ کرتا اس کے کمرے سے نکل گیا۔ حیدر ایک فائل ہاتھ میں تھامے اسے پڑھنے میں مصروف تھا جب کوئی دروازہ ناک کرتا اندر داخل ہوا۔ حیدر نے فائل پڑھتے پڑھتے سرسری سا دروازے کی سمت دیکھا اور واپس سے فائل کی جانب متوجہ ہوگیا لیکن پھر وہ رکا دوبارہ سے نگاہیں اٹھا کر دیکھا۔ ایک کم عمر دبلی سی گوری رنگت والی لڑکی سہمی نظروں اور پھولے لال گالوں سے اسے گھور رہی تھی۔ کھلے بال سامنے سے پکڑ کر پن اپ کیے ہوئے تھے اور جینز کے اوپر گھٹنوں تک آتی مردانہ جیکٹ پہنے وہ اول جلول حلیے میں کھڑی تھی۔ حیدر نے سر سے پیر دیکھتے ہوئے اسکا جائزہ لیا تھا۔ پھر اسے نظروں سے کاؤچ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔ وہ چپ چاپ کاؤچ پر جا بیٹھی تھی۔ حیدر فائل بند کرتا اپنی میز کے پاس رکھی کرسی اٹھا کر اس لڑکی کے بالکل سامنے رکھتا اس پر بیٹھ چکا تھا۔

” نام کیا ہے ؟ ” حیدر نے اپنی نگاہیں اس کے چہرے پر مرکوز کیے سرد لہجے میں استفسار کیا۔ لڑکی نے اس کی سرد نگاہوں پر تھوک نگلا تھا۔ اسے لگ رہا تھا وہ بہت بری طرح پھنس چکی ہے۔

” آمنہ ! ” دھیمے سے اس نے جواب دیا۔

” اصلی نام ؟ “

” جی ؟؟ ” لڑکی کی آنکھیں پھیل گئی۔ اسے کیسے پتا چلا کہ اس نے جھوٹا نام بتایا ہے۔

” دیکھو اپنا اور میرا وقت ضائع مت کرو چپ چاپ جو پوچھوں گا ٹھیک ٹھیک سے بتا دو اس کے بعد تمھے یہاں سے جانے دوں گا۔۔۔۔از ڈیٹ کلیر ؟ ” حیدر نے اب کی بار تھوڑا نرمی سے کہا تھا۔ اس نے فوراً ہی بچوں کی طرح دو بار سر کو جنبش دی تھی۔

” نام ؟ “

” حورین “

” پورا نام “

” حورین امتیاز ” وہ جو جو پوچھ رہا تھا اب وہ سیدھے سیدھے نارمل روٹین کے ہر سوال کا جواب دینے لگی۔

” ہممم تو تم وہاں کیا کررہی تھی ؟ ” حیدر تھوڑا اس کی سمت جھکے پوچھنے لگا۔

” قسم لے لیں سر جو مجھے پتا ہو وہاں کیا ہو رہا ہے ” حورین اب کی بار مارے خوف جھنجھلا کر بولی تھی۔

” دیکھیں ! میری سہیلی مجھے وہاں پارٹی کا کہہ کر لے گئی تھی مجھے تو پتا بھی نہیں تھا وہاں اندر اس کمرے میں ایسی کوئی ڈرگ ڈیلنگ ہورہی تھی۔ اب آپ خود دیکھیں اگر میں ان کے ساتھ شامل ہوتی تو وہاں رکتی ہی کیوں میں بھی ان سب کے ساتھ بھاگ نا جاتی” ڈرامائی انداز میں اس نے وضاحت دی تھی۔

” اچھا تو میں کیسے مان لوں کہ تم سچ کہہ رہی ہو ہوسکتا کے تمھے بھاگنے کا موقع ہی نا ملا ہو ” حیدر نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور ہاتھ سینے پر باندھ کر بولا۔

” کیا مطلب ہے آپکا ؟ سچ کی کوئی قدر ہے کہ نہیں؟ میں کیوں جھوٹ بولوں گی ” حورین کو اب غصہ آیا تھا۔

” تمھارا حلیہ بھی تو ایسا ہے کہ مجھے تمہاری باتوں پر یقین نہیں آرہا اور تم اپنے گھر والوں کا نمبر بھی نہیں بتا رہی ” اس نے اس کی حالت پر چوٹ کی تھی۔

” آپ سمجھ کیوں نہیں رہے ؟ میرے ماما بابا کو اگر یہ سب پتا چلا تو وہ کیا سوچیں گے ؟ وہ پریشان ہو جائیں گے پلیز میرا یقین کریں میں نے کچھ نہیں کیا ” وہ اس کی منتیں کرنے لگی تھی۔

” تو ایسے کام کرتے ہی کیوں تم آجکال کے بچے جو بعد میں ماں باپ کی شرمندگی کا باعث بنے ” وہ ٹیک چھوڑتا دوبارہ سے اس کی اور جھک کر بولا۔

” آپ ایسے کیسے مجھ پر الزام لگا سکتے ہیں ؟ میں آپ کو سب سچ سچ بتا چکی ہوں اگر نہیں یقین کرنا تو بھاڑ میں جائیں ” وہ غصے میں چلائی تھی۔ اس کی ہرنی جیسی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں۔

” تمیز سے بات کرو تمھارے سامنے کوئی عام شخص نہیں ہے اندر لاک اپ میں ڈلوا دوں گا ” حیدر نے تنبیہ کرنے والے انداز میں دھمکی دی۔ حورین نے اس کی دھمکی سے ڈرتے ہوئے اپنے تنے عصاب ڈھیلے چھوڑے تھے۔

” تم جانتی بھی ہو تمہاری اس دوست کی وجہ سے تم کس مصیبت میں پھنس سکتی تھی ؟ ” وہ اب اس کی اس حرکت کے نتائج بتانے لگا۔ حیدر کو اس کی باتوں اور اور اسکی باڈی لینگویج سے یقین تھا کہ وہ سچ کہہ رہی ہے۔

” کیسی مصیبت ؟ ” حورین آئی برو اچکاتے ہوئے تجسس لیے سنجیدہ سا پوچھنے لگی۔ اس کے اسطرح کرنے پر حیدر کو بے اختیار ہنسی آئی تھی جو وہ ضبط کرگیا تھا۔

” وہ وہاں تمھے ضرور کسی غلط نیت سے لائی تھی ورنہ اگر تمھاری سچی دوست ہوتی تو کبھی تمھے یوں چھوڑ کر نا بھاگتی۔۔۔۔۔۔اس لیے آئندہ کبھی بھی کسی پر بھی یقین کرکے یوں کہیں نہیں جانا اوکے ؟ ” حیدر نے اسے حقیقت سے روشنائی کراتے ہوئے نصیحت کی تھی۔ حورین نے سمجھ کر سر ہاں میں ہلایا۔

” باہر اپنا بیان نوٹ کروا دو اور میرے آفس کا نمبر اپنے پاس رکھ لو جب بھی تمھاری اس دوست نے تم سے دوبارہ رابطہ کیا یا اس نے تم سے ملنے کی کوشش کی تو تم فوراً پہلے مجھے اطلاع دو گی “

” آفس کا نمبر کیوں ؟ آپ اپنا نمبر دیں، یہ نا ہو میں آپ کے آفس فون کرتی رہ جاؤں اور آپ یہاں نا ہوئے تو ؟ ” حیدر کو اس سے اتنی سمجھداری وال بات کی امید نا تھی۔ اس لیے اسے حیرت ہوئی تھی۔

” ضرورت نہیں میں یہاں نا بھی ہوں تب بھی کوئی نا کوئی فون ضرور اٹھا لے گا ” وہ کہہ کر کرسی سے اٹھ گیا۔ حورین بھی اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور ناک چڑھا کر کمرے سے نکل گئی۔

**********************

رات کا ایک بچ رہا تھا اور وہ اپنی گود پر لیپ ٹاپ رکھے ابھی تک کام کرنے میں مصروف تھا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو مٹھیوں کی طرح بھینچ کر کھولا۔۔۔۔۔ایک بار۔۔۔۔دو بار۔۔۔۔۔۔۔پھر اپنی آنکھوں کو انگلیوں کی پوروں سے مسلا۔۔۔۔بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائے، اپنی ٹانگوں کو ہلکا سا ہلاتا وہ پھر سے کام کرنے کیلئے تازہ دم ہوگیا تھا۔ دفعتاً اس کے کمرے کا دروازا کھلا تو رابعہ بیگم دروازے کے پیچھے سے نمودار ہوئیں۔ کیف نے مسکراتی نظر ان پر ڈالی۔

” تمہارے لیے کافی لائی ہوں ” کافی کا مگ اس کی سمت بڑھاتے ہوئے انہوں نے بتایا۔

” تھینک یو ! مجھے اس کی سخت ضرورت تھی ” کیف نے مگ اٹھا کر کہا۔ رابعہ نے ٹرے وہیں سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی اور اس کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گئیں۔ کیف کی نظریں لیپ ٹاپ پر جمی تھیں۔ ایک ہاتھ سے وہ مگ لبوں سے لگا گیا اور دوسرے ہاتھ سے وہ ٹائپنگ کررہا تھا۔ رابعہ بیگم افسردہ نظروں سے اسے دیکھتی رہیں۔

” سب ٹھیک ہے؟ ” کیف نے لمحہ بھر کو رک کر نگاہیں لیپ ٹاپ سے ہٹا کر اپنی ماں سے پوچھا تھا۔

” کیف ! کیوں خود کو سزا دے رہے ہو ؟ “

” کیسی سزا ؟ ” وہ دوبارہ سے اپنے کام میں مگن ہوتے ہوئے بولا۔ اس نے اس سوال پر کوئی خاص تاثر نہیں دیا تھا کیونکہ یہ سوال پچھلے کئی سالوں سے پوچھ رہی تھیں۔

” یہ سب۔۔۔۔۔۔ہر وقت مشین کی طرح کام کرنا “

” ایسا نہیں ہے بس خود کو مصروف رکھنا چاہتا ہوں ” اور ہر بار کی طرح اس نے صاف گوئی سے وہی جواب دیا جو کہ سچ ہی تھا۔

” اور کب تک چلے گا ایسے ؟ اسے ڈھونڈتے کیوں نہیں ہو اب ؟ ” وہ اس کے چہرے کے تاثرات کو بھانپتے ہوئے بولیں۔ کیونکہ پچھلے تین سالوں سے اس نے عنایہ کی تلاش ترک کردی تھی۔

” ڈھونڈا انھیں جاتا ہے جو کھو جائیں جو خود کہیں اپنا آپ چھپا لیں وہ کہاں ملتے ہیں ؟ ” وہ تھوڑا دکھی لہجے میں بولا۔اس نے لیپ ٹاپ بند کرکے سائیڈ پر رکھا اور کافی کا مگ بھی سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اپنی ماں کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا۔

” آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں موم ؟ میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔آپ کے پاس ہوں “

” ہاں لیکن تمہارے بابا وہ کہہ رہے تھے عنایہ کے گھر جائیں گے۔۔۔۔۔۔”

” اس بات کو ہم پہلے بھی ڈسکس کر چکے ہیں بابا کو کوئی ضرورت نہیں ہے وہاں جانے کی اور کوئی بھی بات کرنے کی ” اس نے بیچ میں ہی ان کو ٹوک کر کہا تھا۔

” لیکن کیف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

” موم پلیز اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوگی اب۔۔۔۔۔آپ بس دعا کیا کریں وہ جہاں بھی ہو ٹھیک ہو ” اس کی ہر بار کی جانے والی درخواست پر رابعہ نے مسکرا کر سر ہلایا۔ کیف نے ان کے ہاتھوں کو چوما تھا اور اسی وقت کیف کا فون بجا۔ کیف نے فون سکرین پر جگمگاتا عمر کا نام دیکھا۔

” عمر کی کال ہے ” اس نے فون اٹھاتے ہوئے بتایا۔ رابعہ بیگم اس کے بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔

” تم بات کرو میں چلتی ہوں اور ہاں اس کے بعد سو جانا ” وہ تاکید کرتے ہوئے اس کے کمرے سے جا چکی تھیں۔ کیف نے کال ریسیو کی اور فون کان سے لگایا۔

***********************

یہ انگلینڈ میں ایک چھوٹے اور بے حد خوبصورت گھر کا منظر تھا جہاں زینب اوپن کچن میں کھڑی رات کا کھانا تیار کررہی تھی اور عمر اپنے بیڈ روم میں کیف سے کال پر بات کررہا تھا۔

” مجھے پتا تھا تو جاگ رہا ہوگا ” عمر فون کو کان اور کندھے کے بیچ رکھے بات کررہا تھا اور ساتھ ساتھ اپنے وارڈروب کی ڈرا سے کچھ تلاش بھی رہا تھا۔

” ہاں ایک نئی کمپنی لی ہے بس اسی پر تھوڑا کام جاری تھا ” دوسری طرف کیف نے اسے جواب دیا۔

” او ہو مبارک ہو “

” خیر مبارک ! اور بتا کیا چل رہا ہے گھر میں سب ٹھیک ؟ ” کیف اپنے ٹیرس پر کھڑا بات کررہا تھا۔

” ہاں سب ٹھیک! خالہ سے بات ہوئی تھی شام کو ” عمر نے عام سے انداز میں کہا۔

” اوہ ! تو اسی لیے وہ مجھے تم سے بات کرنے کا کہہ کر گئیں ہیں اور ضرور میری کوئی شکایت کی ہوگی”

” ہاں ! پریشان تھیں وہ بہت کیف۔۔۔۔۔۔۔کیوں تو نے خود کو روبوٹ بنا لیا ہے ؟ ہر وقت کام ضروری نہیں ہوتا “

” تو اور کیا کروں ؟ فارغ رہوں گا تو ہر وقت دماغ میں اسی کا خیال رہے گا۔۔۔۔۔تو انھیں سمجھا یار کہ میں ایسے ٹھیک ہوں وہ بے وجہ پریشان ہوتی ہیں “

” میں انھیں کیا سمجھاؤں ؟ وہ تیرے ساتھ رہتی ہیں تیری حالت دیکھ کر وہ دکھی ہو جاتی ہیں “

” جسم کے نشان اکثر دیکھ جاتے ہیں، پر روح کے زخم دیکھاؤں کیسے ؟

اک داستاں تھی اس کے ہونے میں ایک پل میں اسے بتاؤں کیسے ؟ ” کیف نے اس کی بات کے جواب میں کہا تو عمر کے لبوں کو اداس سی مسکان نے چھوا۔

” شادی کیوں نہیں کرلیتا ؟ ” ایک دم عمر بولا۔

” واٹ ؟؟؟ ” کیف کو شاک لگا تھا۔ لیکن پھر ہنسا تھا جیسے عمر کی بات کو مذاق میں اڑایا ہو۔

” میں سیریں ہوں۔ بھول جا اسے اور اپنی زندگی میں آگے بڑھ جا کیونکہ وہ کبھی لوٹ کر نہیں آئے گی ” اس کے لہجے کی سنجیدگی سے کیف کو اندازہ ہوا وہ مذاق نہیں کررہا۔

” بکواس بند رکھ اور جا کے اپنے سر پر ٹھنڈا پانی ڈال ” کیف بول کر کال کاٹ چکا تھا لیکن اس کے ماتھے پر پڑی سلوٹیں بتا رہی تھیں کہ عمر کی بات اسے ہرگز پسند نہیں آئی تھی۔

*********************

عمر جیسے ہی فون رکھ کر پلٹا تھا زینب دونوں ہاتھ کمر پر دھرے اسے گھور رہی تھی۔

” واٹ ؟؟؟؟؟ ” عمر نے اس کے یوں گھورنے پر استفسار کیا۔

” کیا مشورہ دے رہے تھے اسے ؟ ” زینب تھوڑا سخت لہجے میں گویا ہوئی۔

” کچھ بھی تو نہیں ” وہ صاف مکر کر ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھ گیا۔

” میں سب سن چکی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیسے تم یہ کہہ سکتے ہو ہاں ؟ کیسے میری دوست کا سہاگ اسے چھینے کی بات کر سکتے ہو ؟ ” عمر نے اس کے ڈرامائی انداز میں آنکھیں گھمائی تھیں۔

” بیگم شاید آپ بھول چکی ہیں شادی کی پہلی رات آپ نے مجھے منانے کیلئے کتنے وعدے کیے تھے کہ اب کبھی کیف اور عنایہ کو لے کر تم مجھ سے جھگڑا نہیں کرو گی ” وہ آئینے کے سامنے بال برش کرتا ہوا اسے یاد کروا رہا تھا۔

” ہاں ! کہا تھا لیکن مجھے نہیں پتا تھا کہ تم اتنے بے حس ہو گے کیسے تم نے بے دردی سے کہا ہے کہ عنایہ کبھی واپس نہیں آئے گی ” زینب جزباتی انداز میں کہتے ہوئے آخر میں آبدیدہ ہوگئ۔

” میں نے جو کہا ہے وہی حقیقت ہے۔ عنایہ کو اگر زرا بھی کیف سے محبت ہوتی تو وہ اب تک لوٹ کر آ جاتی اور کتنی سزا دے گی وہ اسے ہاں ؟ ہم نہیں جانتے وہ کہاں ہے لیکن وہ تو واپس آ سکتی ہے نا ؟ ” وہ اب اس کے سامنے کھڑا کہہ رہا تھا۔

” زینب! کیف بہت تکلیف میں ہے اسکا اندازہ تم نہیں کر پاؤ گی کیونکہ میں جانتا ہوں عنایہ اس کیلئے کیا ہے۔ وہ اس سے بات کیے بغیر اسے دیکھے بغیر دو دن نہیں رہ سکتا تھا اور کہاں اس نے پانچ سال گزار دیے اور میں نہیں چاہتا اسکا انتظار لاحاصل رہے اور اسے مزید دکھ ہو تو بہتر یہ ہی ہے وہ سب بھول جائے اور اپنی زندگی میں آگے بڑھ جائے “

” اور عنایہ کا کیا ؟ تم تو اپنی بہنوں جیسا سمجھتے تھے نا اسے” وہ آنسو بہاتے ہوئے اپنے سنگ دل شوہر سے شکوہ کررہی تھی۔

” میں عنایہ کو بہت سلجھی ہوئی سمجھدار لڑکی سمجھتا تھا مجھے اس سے اس بے وقوفی کی بالکل امید نہیں تھی ” عمر نے آگے بڑھ کر زینب کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا اور اس کے آنسو صاف کیے۔

” آئی ایم سوری میں نے تمھے ہرٹ کیا ” عمر نے اس کے ماتھے کو اپنے لبوں سے چھوا۔

” زینب! مجھے اگر کیف کی فکر ہے تو عنایہ کی بھی ہے میں بھی چاہتا ہوں وہ واپس آ جائے۔۔۔۔۔ میں تو بس خالہ کی پریشانی کی وجہ سے اپ سیٹ تھا اس لیے یہ سب بول گیا ” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وضاحت دینے لگا۔ زینب نے اپنا سر اس کے سینے پر رکھا تو عمر نے دونوں ہاتھ اس کے گرد باندھے لیے۔

**********************

وہ آج ایک ماہ کے بعد آفس آئی تھی۔ پریل رنگ کا سوٹ زیب تن کیے ہوئے بالوں کو کیچر میں باندھے ڈوپٹہ سکاف کی طرح گلے میں ڈالے وہ جیسے ہی اپنے کیبن میں جانے لگی تھی کہ سامنے روبینہ اسکا نام چیختے ہوئے اس کے پاس آئی اور اسے گلے سے لگایا۔ وہ اسی کیساتھ پچھلے چار سالوں سے یہاں نوکری کررہی تھی۔

” کیا ہوا تم اتنا چہک کیوں رہی ہو؟ ” عنایہ نے تجسس سے پوچھا۔

” اندر چلو بتاتی ہوں ” وہ اسکا ہاتھ تھام کر اس کے کیبن کا دروازہ دھکیلتی اندر آگئی۔ عنایہ نے اپنا بیگ ٹیبل پر رکھا اور اپنی کرسی پر بیٹھ گئی۔ روبینہ اس کے سامنے ہی ٹیبل پر بیٹھی۔

” اب بتا بھی دو کیا بات ہے ؟ “

” پہلے تم بتاؤ کیسی ہو ؟ ” وہ اپنی خوشی کے چکر میں بول ہی گئی تھی۔

” پہلے سے بہتر ہوں اب ” عنایہ نے دھیمے سے جواب دیا۔

” گڈ ! آنٹی کا بہت افسوس ہوا ہے لیکن عنایہ زندگی کسی کے جانے سے رکتی نہیں ہے ” وہ اس سے نادیہ آنٹی کا ایک بار پھر سے افسوس کرتے ہوئے اسے دلاسہ دینے لگی۔ نادیہ آنٹی کا پچھلے ماہ انتقال ہوگیا تھا۔ عنایہ نے بوجھل دل سے سر ہلایا۔ روبینہ ٹیبل سے اٹھ کر اس کے سامنے جھکی اور اسکا ہاتھ تھام کر اسے تسلی دی۔

” اچھا اب سنو میری خوشی کہ وجہ ” وہ ایک بار پھر لبوں بھر پور مسکان سجائے گویا ہوئی۔

” یار ہمارے نئے باس آئیں ہیں مطلب یہ کمپنی بک چکی ہے اور جس بندے نے اسے کمپنی کو خریدا ہے نا افف عنایہ اتنا ہینڈسم ہے نا کہ نا پوچھو “

” کیا ؟ ” عنایہ کو شاک لگا تھا۔

” ہاں ! “

” لیکن کیسے اور کیوں ؟ ” اسے نہیں معلوم تھا اس کی غیر موجودگی میں یہ سب ہو جائے گا۔

” ارے پتا تو ہے دونوں بھائیوں کی اپنی اپنی بیویوں کی وجہ سے بنتی نہیں تھی بس پھر کیا انھوں نے جائیداد کا بٹوارا کیا اور سب بیچ کے آپس میں بانٹ لیا” وہ اسے اپنے پرانے باس کی کتھا سنانے لگی۔

” اوہ ” عنایہ کے لبوں پر بے ساختہ جنبش ہوئی۔

” ہائے عنایہ کیا بتاؤں افف اتنا خوبصورت پر کشش اتنی شاندار پرسنالٹی والا بندہ میں نے پہلی بار دیکھا ہے ” وہ پھر کیف کو خیالوں میں سوچتے ہوئے بتانے لگی۔ عنایہ اس کے انداز پر ہنس دی۔

***********************

کیف آج اپنے اسلامآباد والے آفس نہیں گیا تھا۔ بلکہ آج فیکڑی کا ایک چکر لگاتا وہ راولپنڈی والی اپنی نئی کمپنی میں آگیا تھا۔ کچھ عرصہ اسے اب اس کمپنی کو وقت دینا تھا اور نئے اور اپنے طریقے سے یہاں کام شروع کرنا تھا۔ وہ اپنے کیبن کی جانب جارہا تھا کہ اس کے قدم تھمے تھے کسی جانے انجانے احساس کے تحت۔ اس نے اپنی نگاہیں چاروں سمت ڈورائی تھیں۔ اور پھر اس کیبن کی ونڈو سے نظر آتے وجود کو دیکھ کر وہ ٹھٹھک گیا۔ آنکھیں ساکت ہوئی تھیں۔ دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔ وقت جیسے تھم گیا ہو۔ وہ ٹیبل پر جھکے کچھ لکھنے میں مگن تھی۔ اس بات سے بے خبر کے جس شخص سے وہ خود کو اتنے عرصے چھپائے ہوئے تھی وہ اسے اس وقت دیکھ رہا ہے۔ کیف ںے یقینی کے عالم میں کھڑا تھا۔ کیا یہ وہی تھی۔ ہاں وہی تو تھی۔ نہ کوئی قیاس نہ گماں یہ اس کی عنایہ ہی تھی۔ وہ جو محویت کے عالم میں یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا مینجر کی آواز میں ہوش میں آیا تھا۔ مینجر کب سے اسکا انتظار کررہا تھا اسے وہیں کھڑا دیکھ وہ اب اسے بلانے کی غرض سے آیا تھا۔ کیف نے بر وقت خود کو سنبھالا اور مینجر کو مخاطب کیا۔

” یہ لڑکی یہاں کام کرتی ہے ؟ ” اس نے عنایہ کی طرف اشارہ کیا تھا۔

” جی سر یہ ہماری مارکیٹنگ اور سیلز ڈیپارٹمنٹ کی ہیڈ ہیں۔ کل آپ سے انکا انٹروڈکشن نہیں ہوسکا کیونکہ یہ ایک ماہ کی لیو پر تھیں ” مینجر نے اسے بتایا۔

” مجھے ان کا سارا بایو ڈیٹا چاہیے یہ کہاں رہتی ہیں کس کے ساتھ ہوتی ہیں اور کب سے یہاں جاب کررہی ہیں سب جاننا ہے ابھی اسی وقت اور ان کی سی وی میرے ٹیبل پر ہو ” عنایہ پر نظریں مرکوز کیے اس نے حکم صادر کیا تھا۔ مینیجر سر ہلاتا ہوا وہاں سے جا چکا تھا۔

” سو مس عنایہ احمد آخر کار تم مجھے مل ہی گئی۔ میرا انتظار ختم ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔ ویلکم بیک ! ” کیف مسکراتی نظروں سے بڑبڑایا اور پھر وہاں سے ہٹ گیا اور قدم اپنے کیبن کی سمت بڑھا دیے۔ اور وہاں سے اپنے کیبن تک اس کے لبوں پر جاندار مسکراہٹ تھی۔

*********************

آفس کا ٹائم ختم ہونے سے پہلے اس نے اپنے نئے باس سے کچھ پیپرس پر سائن لینے تھے وہ جلدی سے اپنے کیبن سے نکلی تھی۔ باس کے آفس سے نکلتے مینجر سے اس نے باس کے اندر موجودگی کا پوچھا تھا۔ انہوں نے اندر ہونے کا بتایا تو وہ اپنا دوپٹہ درست کرتی ڈور ناک کرتی اندر داخل ہوئی۔ سامنے رکھی بڑی سے میز کے پیچھے راکنگ چئیر پر وہ پراجمان تھا۔ لیکن کرسی کی پشت عنایہ کی جانب تھی وہ کرسی دوسری سمت کیے ہوئے تھا۔

” سر کچھ پیپرز پر آپ کے سائن چاہیے تھے ” وہ دھیرے سے اپنے آنے کی وجہ بتانے لگی۔ دوسری طرف کیف اس کی آواز پر آنکھیں بند کرگیا۔ اس آواز کو وہ پانچ سال بعد سن رہا تھا۔ دل میں ایک سکون سا اترتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ اس کی طرف جواب نا ملنے ہر عنایہ نے پھر سے اسے مخاطب کیا تو اسی وقت کیف گھما تھا۔ اور عنایہ نے جوں ہی اسے دیکھا اس کی آنکھوں کی پتلیاں خیرت سے پھیل گئیں۔ کیف اسے سر تا پیر گہری اندر تک اترتی نظروں سے دیکھنے لگا۔ وہ بے یقینی کے عالم میں ساکن وجود لیے کھڑی رہی۔ بنا پلکیں جھپکائے وہ یک ٹک سامنے کرسی پر بیٹھے اپنے نئے باس کو دیکھ رہی تھی۔ اس خاموش لمحے کو اندر آتی اس کی سیکرٹری کی آواز نے توڑا تھا۔ وہ اسے میٹنگ کا کہنے آئی تھی۔ وہ اپنی کرسی سے اٹھتا اپنا کوٹ ٹھیک کرتا اس کے پاس سے گزر کر باہر نکل گیا اور پیچھے وہ کتنے ہی لمحے وہاں بت بنی کھڑی رہی۔

***********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *