Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 17) Part - 1
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 17) Part - 1
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
عمر ان کے قریب آرکا اور ٹکٹکی باندھ زینب کو دیکھے گیا۔ دونوں نے بیک وقت اسکی طرف دیکھا۔ عنایہ نے اسے بلایا لیکن وہ تو زینب کے چہرے کے نقوش میں کھو سا گیا۔ زینب نے اچنبھے سے عمر کو دیکھا پھر عنایہ کی طرف سوالیہ آئی برو اچکائی۔ عنایہ نے مسکراہٹ ضبط کی پھر آگے بڑھ کر عمر کے بازو پہ چٹکی بھری۔
” افف ” عمر ہوش میں آیا اور اپنا بازو سہلاتے ہوئے عنایہ کو گھور کر دیکھا۔
” عمر کہاں کھوئے ہو ؟ ” عنایہ نے آنکھوں سے ذینب کی طرف اشارہ کیا تھا تو عمر کو فوراً سمجھ آیا۔ اس نے زینب کو دیکھا جو عجیب طرح سے مسکرا کر دیکھ رہی تھی جیسے عمر کی اس حرکت کو ناسمجھی ہو۔ وہ ابھی تک اپنا بازہ سہلا رہا تھا۔
” وہ میں۔۔۔۔۔۔۔۔میں اصل میں تم ہنس رہی تھی تو تمہاری ہنسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
” میری ہنسی ؟ ” عمر سے کچھ بن نہیں پارہا تھا کہ اپنی اسے بے اختیاری کی کیا وجہ بتائے جب زینب نے پوچھا۔
” تمہاری ہنسی بالکل پاگلوں والی ہے ” اس نے جلدی سے کہا۔
” کیا ؟؟؟؟؟؟؟؟” زینب کو تو گویا صدمہ ہوا تھا جبکہ عنایہ نے قہقہہ لگایا تھا۔
” ہاں نا عجیب انداز سے ہنستی ہو ” عمر کو فلحال خود کی چوری چھپانے کیلئے یہ ہی طریقہ ملا تھا اس لیے جو منہ میں آیا بول گیا۔
” تمھے تو میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” زینب نے اپنے ہاتھ میں پکڑی کتاب سے اسے مارنا چاہا تو عمر ہنستا ہوا اس سے دور ہوا۔
” زینب کم ان پکڑو اسے اور لگاؤ دو ہاتھ ” عنایہ وہیں کھڑی مزے سے انکی لڑائی دیکھ رہی تھی۔ عمر آگے آگے بھاگ رہا تھا اور زینب اسکے پیچھے غصے میں اسے صلواتیں سنا رہی تھی۔
*******************
مرتضیٰ مینشن کے عالیشان کچن میں اس وقت منال موجود تھی۔ وہ آج کوکیز بیک کرنے کیلئے یہاں آئی تھی جب بھی اسے فری ٹائم ملتا وہ بیکنگ کرتی تھی کیونکہ یہ اسکی ہابی تھی۔ ایک ملازمہ اسکے دائیں طرف کھڑی تھی اور دوسری اسکے بائیں جانب۔ وہ ان کو جو جو کہتی وہ جلدی سے نکال کر باہر کچن کاؤنٹر پر رکھ دیتیں۔ وہ کافی اچھی بیکنگ کرتی اور اب تو اسے خاصی پریکٹس بھی ہوگئی تھی۔ رابعہ بیگم ملازمہ کو کب سے آوازیں دے رہی تھیں جب وہ نا آئی تو خود کچن میں آگئیں۔ سامنے اپنی بیٹی کو یوں کچن میں کام کرتے دیکھ وہ حیران ہوئی تھیں۔
” یہ کیا ہو رہا ہے یہاں ؟ ” رابعہ بیگم کی آواز پر منال پلٹی تھی۔ جبکہ رابعہ بیگم نوری اور بشرہ (ملازماؤں) کو گھور رہی تھیں۔
” وہ بیگم صاحبہ منال بی بی کچھ بنا رہی ہیں ” نوری اپنی بیگم صاحبہ کے تیور سے ڈرتے ہوئے بولی تھی۔ رابعہ بیگم کے تاثرات ایک دم نرم پڑے تھے۔ وہ آگے بڑھی تھیں اور کاونٹر پر پڑی چیزوں کو دیکھا پھر پلٹ کر منال کو دیکھا جو کنفیوژ سی کھڑی تھی۔ رابعہ بیگم نے اسکے چہرے پر آئے بالوں کو اسکے کان کے پیچھے اڑسا۔
” میری بیٹی کیا بنا رہی ہے ؟ ” انھوں نے مسکرا کر پیار سے پوچھا تھا۔
” مام۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔۔میں وہ کوکیز بنا رہی تھی ” منال تو شاک تھی اپنی ماں کا یہ رویہ دیکھ کر کیونکہ کتنے عرصے بعد انھوں نے اسے یوں مخاطب کیا تھا۔
” اچھا تو تمھے بیکنگ آتی ہے ؟ “
” جی۔۔۔۔۔۔۔آپ کھائیں گی ؟ ” منال کے پوچھنے پر وہ افسردگی سے مسکرائیں۔
” ہاں کیوں نہیں میری بیٹی بنا رہی ہے تو ضرور کھاؤں گی ” ان کے جواب پر منال کو تو جیسے زندگی مل گئی۔
” ابھی بنا کر لاتی ہوں ” وہ جوش سے بول کر دوبارہ اپنے کام میں مگن ہوگئی۔ رابعہ بیگم اسکی اتنی سے بات پر خوش ہونے پر جتنا حیران ہوتی کم تھا۔ انھیں احساس ہوا کے اپنے بچوں کو خود سے دور رکھ کر انھوں نے ان کے ساتھ کتنی زیادتی کی تھی۔ وہ وہیں رکھے میز کے پاس رکھی ایک کرسی پر بیٹھ کر اسے کام کرتا دیکھتی رہیں۔
*********************
” نور کی بچی وہاں بیٹھ کر آئی پیڈ پر گیمز کھیلنے کی بجائے میری مدد کروا دو ” عنایہ نے اپنے پیچھے بیڈ پر لیٹی نور کو ڈپٹ کر کہا۔ کل یونیورسٹی کی ٹرپ جانی تھی اسی لیے وہ پیکنگ کرنے میں لگی ہوئی تھی۔
” اونہوں آپی یار کوئی تو کام میری مدد کے بنا کرلیا کریں ” بنا آئی پیڈ سے نظریں ہٹائے اس نے عنایہ کو جواب دیا تھا۔
” زیادہ بنو مت۔۔۔۔تمھے پتا ہے میں نہیں جارہی تھی تم ہی پیچھے پڑی تھیں میرے ” عنایہ نے اسے یاد دلانا ضروری سمجھا۔ نور ہونز ویسے ہی لیٹی رہی۔ منہ میں ڈالی ہوئی ببل گم چباتے چباتے اس نے ایک دم پھولا کر بڑا سا ببل بنایا اور پھر ٹھاہ کی آواز کمرے میں گونجی۔ اس نے آئی پیڈ بیڈ پر رکھا اور پھر اٹھ کر بیڈ سے نیچے اتری۔
” جی میڈم عنایہ میں کیا خدمت کرسکتی ہوں آپکی ؟ ” عنایہ کے سامنے جا کھڑی ہوئی اور ایک ہاتھ سینے پر رکھ کر سر جھکا کر گویا ہوئی۔ اس کے انداز پر عنایہ ہنسی اور پھر اسے اپنے کپڑے الماری سے نکال کر دیتی گئی جو نور تہہ لگا کر سوٹ کیس میں رکھتی گئی۔
” وہ بھی جارہا ہے کیا ٹرپ پر ؟ ” نور نے کپڑے تہہ کرتے ہوئے سرسری سا پوچھا۔
” کون ؟ ” عنایہ نے ڈریسنگ ٹیبل سے اپنے ساتھ لے جانے والا ضروری سامان اٹھاتے ہوئے پوچھا۔
” وہ ہینڈسم کیف ” اس نے گہری سانس بھرتے ہوئے بتایا۔ کیف کے ذکر پر عنایہ ایک دم رکی پھر نور کی جانب پلٹی تھی۔
” اس منحوس کا نام لینا ضروری تھا ؟ ” عنایہ نے تیکھے انداز میں کہا۔
” ہائے ویسے کتنا مزہ آئے گا نا آپ اور وہ دونوں پہاڑوں کے بیچ۔۔۔۔۔۔۔” اس سے پہلے نور اپنا خیالی پلاؤ مزید پکاتی۔ عنایہ نے ہاتھ میں پکڑا ہیر برش اسکی طرف پھینکا تھا جو سیدھا نور کے بازو پر لگ کر زمین بوس ہوگیا۔ نور نے چیخ مار کر عنایہ کی جانب دیکھا تھا۔
” نور کی بچی کوئی فضول بکواس کی تو مار کھاؤ گی مجھ سے” عنایہ نے غصے سے کہا تھا۔
” اچھا سوری ” نور نے بازو سہلاتے ہوئے مظلوم سی شکل بنا کر کہا اور واپس سے اپنے کام پر لگ گئی۔
*******************
اگلے روز چمکتے سورج کی کرنیں ہر سو پھیلیں تھیں۔ عنایہ رات کو دیر سے سوئی تھی جس کی وجہ سے وہ یونیورسٹی کیلئے کافی لیٹ ہوگئی تھی۔ ابھی وہ اپنے بھیگے بال آئینے کے سامنے کھڑی خشک کرنے میں لگی تھی۔
دوسری طرف یونیورسٹی کے باہر چار بسوں کا ارینج تھا۔ سب ہی سٹوڈنٹس تقریباً پہنچ چکے تھے۔ زینب کا بھائی اسے ڈراپ کرکے گیا تو وہ یہاں وہاں نظریں گھمائے عنایہ کو تلاش کرنے لگی۔ اپنا بیگ لئے وہ ایک بس کی جانب گئی اور اپنا بیگ رکھوایا۔ بیگ رکھ کر اس نے جلدی سے عنایہ کو کال کی۔ بیل مسلسل جا رہی تھی لیکن دوسری جانب سے فون اٹھایا نہیں گیا۔ زینب نے چڑ کر نور کے نمبر پر کال ملائی جو دوسری بیل پر ہی اٹھا لی گئی۔ نور نے اسے بتایا کے عنایہ بس گھر سے نکلنے ہی لگی ہے۔ زینب نے شکر کا سانس خارج کیا اور جلدی سے بس کے اندر جا کر بیٹھ گئی۔
کیف اپنی گاڑی میں یونیورسٹی آیا تھا اور عمر بھی اسکے ساتھ تھا۔ گاڑی اس نے یونیورسٹی کے اندر پارک کی تھی۔ دونوں جب گاڑی سے نکلے تو دوسرے ڈپارٹمنٹ کی کچھ لڑکیاں کیف کو دیکھ کر جلدی سے اس کے پاس آئیں اور اسے گھیرے میں لئے کھڑی ہوگئیں۔ عمر نے دوسری طرف سے یہ منظر دیکھا تو نفی میں سر ہلاتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔ وہ جانتا تھا اب کچھ دیر تک تو کیف ادھر ہی پھنسا رہے گا۔
*********************
نتاشہ اس ٹرپ کیلئے کچھ زیادہ ہی خوش تھی۔ اس نے سوچ لیا تھا اس ٹرپ پر وہ زیادہ سے زیادہ وقت کیف کے ساتھ گزارے گی اور اس طرح وہ دونوں مزید قریب آ سکیں گے۔ وہ اپنا سوٹ کیس رکھوا کر کیف کو تلاش کرتے ہوئے یونیورسٹی کے اندر آئی جب وہ سامنے ہی لڑکیوں کے پاس دکھ گیا۔ وہ مسکرائی تھی اسے دیکھ کر اسے فخر محسوس ہوتا تھا کہ جسے وہ چاہتی ہے اسے ساری یونیورسٹی کی لڑکیاں چاہتی ہیں لیکن وہ ان سب کو باور کرواتی رہتی تھی کے کیف اسے پسند کرتا ہے اور وہ اس کا ہے۔جس سے اکثر دوسری لڑکیاں نتاشہ کی قسمت پر رشک کرتی تھیں اور کچھ اس سے حسد محسوس کرتی تھیں۔ نتاشہ چلتی ہوئی ان کی جانب آئی۔
” تمہاری آنکھیں بہت خوبصورت ہیں ” نتاشہ نے کیف کو سنا تھا جو اپنے پاس ہی کھڑی لڑکی سے بول رہا تھا۔ اور وہ لڑکی اس تعریف پر بلش کر گئی تھی۔
” کیف میں کب سے تمھے ڈھونڈ رہی تھی ” نتاشہ نے اس کے قریب آکر اسکے بازو سے تھام لیا۔ انداز ایسا تھا جیسے کیف پر صرف اسکا حق ہے۔ کیف نے مسکرا کر اس کے چہرے پر نظر ڈالی تھی۔
” میں باہر ہی آرہا تھا ” کیف نے کہہ کر سامنے کھڑی لڑکیوں سے ایکسکیوز کیا تھا اور پھر دونوں ایک ساتھ وہاں سے باہر کی طرف چل دیے۔ کیف نے نتاشہ کے ساتھ چلتے وقت اپنا بازو اس کے ہاتھ سے نکال لیا تھا۔ وہ ان لڑکیوں کے سامنے یہ کرسکتا تھا لیکن وہ نہیں چاہتا تھا کہ نتاشہ کو برا لگے۔
*******************
عمر نے بس کے اندر جا کر جائزہ لیا تو زینب اسے پیچھے ہی بیٹھی فون پر مصروف نظر آئی۔ وہ اکیلی تھی عنایہ اسے نظر نہیں آئی۔ عمر واپس باہر آیا تو کیف کی طرف گیا جو سامنے سے نتاشہ کے ساتھ چلتے ہوئے آرہا تھا۔
” کب تک نکلنا ہے ؟ ” کیف نے اسے دیکھتے ہی پوچھا تھا۔
” ہاں بس دس منٹ میں نکل رہے ہیں ” عمر کہہ کر بس کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔
” نتاشہ تم اندر جا کر بیٹھو ہم آ رہے ہیں ” کیف نے اسکا یوں سڑک پر کھڑا ہونا مناسب نا سمجھا تھا اس لیے اسے بس میں بیٹھنے کا کہا۔ باہر ویسے بھی ایک دو میل پروفیسر اور چند سٹوڈنٹس تھے۔ لڑکیاں سب اندر بیٹھ چکی تھیں۔ وہ اسکی بات مانتے ہوئے جا چکی تھی۔
” یار میں چاہ رہا تھا زینب کے ساتھ بیٹھوں ” نتاشہ کے جاتے ہی عمر گویا ہوا۔
” کمینے شرم کر کیوں بچاری لڑکی کا سفر خراب کرنا ہے “
” سالے تیرے ساتھ بیٹھنے سے بہتر ہے اسکے ساتھ بیٹھوں ” عمر نے بھی بھرپور جواب دیا تھا۔
” اچھا اب دوست سے زیادہ وہ لڑکی ہوگئی ہے ” کیف نے منصوعی افسردگی سے کہا تھا۔
” ابے چل ڈرامے نا کر۔۔۔۔۔۔۔میں ویسے ہی اسکے ساتھ وقت گزرنا چاہتا ہوں اور یہ سفر Best opportunity ہے “
” بہانے جو تلاش کرتا ہے صاف صاف بول دے اسے ” کیف نے مشورہ دیا تھا۔
” ایسے ہی اتنی جلدی کہہ دوں ؟ تھوڑا احساس کرواؤں گا اسے۔۔۔۔۔۔پھر اس کے احساسات کیا ہیں مجھے لے کر وہ بھی تو نہیں پتہ نا “
” اس لیے کہتا ہوں یہ عشق مشعوقی سب بکواس ہوتا ہے” کیف جینز کی جیب میں ہاتھ ڈالے اسکے ساتھ ہی ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔ اسکی بات پر عمر نے تاسف سے اسے دیکھا تھا۔
” اور سن کیسے کرے گا ؟ وہ اس کی سہیلی تو ہر وقت اس کے ساتھ ہوتی ہے ” کیف نے سر سری سا کہا۔
” پتا نہیں عنایہ آئی تو نہیں۔۔۔۔۔میرے خیال میں وہ نہیں چل رہی ورنہ اب تک آجاتی “
” نہیں آئی ؟ ” کیف نے حیرت سے پوچھا۔
” ابھی تک تو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔اور آ بھی گئی تو وہ جانتی ہے سب ” عمر نے کندھے اچکا دیے۔ کیف نے یہاں وہاں نظریں گھمائیں(شاید آنکھیں کسی کو تلاش کررہی تھیں)۔ اس کی اس ٹرپ سے دلچسپی ایک پل میں ختم ہوئی تھی۔
” اچھا میں اندر جا کر دیکھتا ہوں تو ابھی نا آئیں ” عمر اسے تاکید کیے اندر جا چکا تھا۔ کیف بھی واپس یونیورسٹی کے اندر چلا گیا۔
*******************
عمر مسکراتا ہوا زینب کے پاس جا بیٹھا جو کب سے عنایہ کو میسیجز کررہی تھی۔ زینب نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تھا۔
” کیا ہے یار ویسے ہی بیٹھا ہوں ” عمر نے جلدی سے اسکی سوالیہ نظروں کا جواب دیا تھا۔
” نہیں میرا مطلب تھا یہ سیٹ میں نے عنایہ کیلئے رکھی تھی “
” اچھا ؟ مجھے لگا وہ نہیں چل رہی ۔۔۔۔۔۔آئی کیوں نہیں ابھی تک ؟ “
” راستے میں ہی ہے کہہ رہی ٹریفک میں پھنس گئی تھی”
” چلو اچھا ہے نکل گئی وہاں سے۔۔۔۔۔بس بھی چلنے ہی والی ہے “
” اچھا ؟ اگر وہ نا پہنچ سکی ٹائم پر تو پھر ؟ ” اسکے لہجے میں خدشہ تھا کہیں عنایہ رہ ہی نا جائے۔
” ارے ارے ریلکیس ابھی ہے ٹائم۔۔۔۔اگر زیادہ دیری ہو بھی گئی تو اسکا انتظار کرلیں گے ” عمر نے اسے تسلی دی۔ اسکے کہنے پر زینب پرسکون ہوئی اور مسکراتی نظر اس پر ڈال کر دوبارہ فون پر جھک کر پھر سے عنایہ کو میسج بھیجا۔
*******************
عنایہ یونیورسٹی پہنچی تو سامنے بس کے پاس ہی اس ٹرپ کے مینیجر نظر آئے۔ عنایہ نے اپنا نام لکھوا کر بیگ رکھوایا اور بس کے اندر داخل ہوئی۔ زینب اسے پیچھے ہی بیٹھی دکھ گئی تھی لیکن اس کے ساتھ عمر بھی تھا۔
” اب بھی نا آتی ؟ ” زینب کی نظر عنایہ پر پڑی تو فوراً طنز کیا۔ عنایہ مسکرائی اسکی بات پر۔
” تھینک گاڈ تم آگئی ورنہ یہ تو بس رونے کو تھی ” عمر بول کر اپنی سیٹ سے اٹھا۔ اسکی بات پر زینب نے گھورا تھا عمر کو۔
” ارے ارے یہیں بیٹھ جاؤ ” عنایہ نے جلدی سے عمر کو کہا۔
” کیوں ؟ ” زینب نے پوچھا۔
” یار زینب تمھے ونڈو سائڈ والی سیٹ ہر بیٹھنا پسند ہے اور مجھے بھی اس لیے میں پیچھے جا رہی ہوں ” عنایہ نے کہا اور عمر کی طرف دیکھا انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہی ہو کیا یاد کرو گے۔ عمر نے تشکر آمیز مسکراہٹ عنایہ کی طرف اچھالی اور واپس بیٹھ گیا جبکہ زینب منہ کھولے یہ سب دیکھ رہی تھی۔
عنایہ دوسری جانب ان کی سیٹ سے ایک سیٹ پیچھے جا کر بیٹھی جو دونوں خالی تھیں۔ زینب نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا۔ وہ اسے کہنا چاہتی تھی تم بیٹھ جاؤ ونڈو والی سائڈ پر میں نہیں بیٹھتی لیکن پھر عمر برا نا مان جائے اس لیے چپ چاپ واپس سیدھی ہوکر بیٹھ گئی۔ عمر نے فون نکالا اور عنایہ کو تھینکس کا میسج بھیجا۔ عنایہ نے بھی مسکرا کر ویلکم لکھ کر بھیجا اور کھڑکھی سے سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔ بس سٹارٹ ہوئی اور پھر چل پڑی جب کوئی اس کے پاس آ کر بیٹھا۔ عنایہ نے بند آنکھیں کھول کر دیکھا اور ساتھ بیٹھے شخص کو دیکھ کر اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
*********************
