222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 31)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

گاڑی اپنی منزل پر گامزن تھی۔ حیدر گاڑی چلا رہا تھا اس کے ساتھ عنایہ بیٹھی آنسو بہا رہی تھی اور نور پچھلی سیٹ پر اجمان تھی۔ وہ ان دونوں کی طرف آگے کو جھکی عنایہ سے رونے کی وجہ پوچھ رہی تھی۔ حیدر جو غصے میں تھا عنایہ کے مسلسل رونے سے سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور اب غصے کی جگہ پریشانی نے لے لی تھی۔

” عنایہ پلیز یار رونا تو بند کرو ” حیدر نے بے بسی سے کہا تھا۔

” بھائی ہوا کیا ہے آپی کو ؟ آپی پلیز مت روئیں ” اس نے حیدر سے پوچھا اور ساتھ عنایہ سے التجا کی۔ دونوں بہن بھائی کی تو جیسے جان پر بن آئی تھی اسے روتا دیکھ۔

” کچھ ہوا ہے مجھے کیا ؟ میں بالکل صحیح سلامت ہوں” حیدر کو یہ ہی وجہ لگی تھی کہ وہ ان دونوں کے جھگڑے کی وجہ سے شاید رو رہی ہے۔ عنایہ ایسے ہی سر جھکائے آنسو بہاتی رہی تھی۔

” لیکن بھائی ہوا کیا ہے ؟ مجھے تو کچھ بتائیں نا “

” نور! تم آج کے بعد منال کے گھر نہیں جاؤ گی اور نا وہ ہمارے گھر آئے گی ” حیدر نے بیک مرر سے نور کو دیکھتے ہوئے تنبیہ کی۔

” ہیں ہیں کیوں ؟ ” نور جو پیچھے ٹیک لگا کر ابھی ہی بیٹھی تھی واپس سے آگے کو ہوئی۔ حیدر کی اس بات پر عنایہ کو مزید رونا آیا۔

” بس کہہ دیا نا ؟ جو بھی ہو تم یہ دوستی کالج کی حد تک رکھو گی۔۔۔۔۔ یا اگر زیادہ ضروری ہو تو باہر مل لو کیونکہ میں نہیں چاہتا اس کا بھائی آج کے بعد ہمارے گھر کے آس پاس بھی نظر آئے ” اس نے دو ٹوک کہا تو نور کا پوری بات سن کر منہ ہی کھل گیا اور عنایہ کی سسکی چلتی گاڑی میں گونجی تھی۔

” اوکے بھائی ” نور نے خفا سے لہجے میں کہا اور واپس پیچھے ٹیک لگا لی لیکن دماغ میں مختلف سوچوں نے ڈھیرا جما لیا تھا۔

” بھائی نے ایسا کیوں کہا؟ کیا کوئی بات ہوئی ہے جس سے وہ لاعلم ہے۔۔۔۔۔ہمممم بھائی آپ اتنے بھولے ہیں آپ کو نہیں پتا وہ ہمارے گھر کے داماد بن گئے ہیں نظر تو ساری عمر آنا ہے انہوں نے ” اس نے تاسف سے سوچا تھا۔

*********************

کیف کی گاڑی کی رفتار تیز تھی۔ ذہن میں بار بار ایک ہی منظر ابھر رہا تھا۔ کیسے وہ اتنے حق سے اسکا بازو تھام کر اسے وہاں سے لے گئی تھی۔ اور وہ اس کے ایک بار کہنے پر چلا گیا۔ یہ ہی بات کیف کو مار رہی تھی۔ اسکی گرفت سٹیرنگ پر مزید سخت ہوئی۔

” محبت ہے وہ میری ” یہ جملہ اس کے کانوں میں بازگشت کرنے لگا۔ کیف کی گاڑی کی سپیڈ مزید تیز ہوئی۔ سرخ انگارہ آنکھیں روڑ پر جمیں تھیں لیکن دماغ کہیں اور تھا۔ اور پھر گاڑی اس کے کنٹرول سے باہر ہو گئی۔

*********************

” نور تم کمرے میں جاؤ مجھے عنایہ سے بات کرنی ہے ” گھر پہنچ کر حیدر نے نور کو حکم دیا تو وہ فوراً غائب ہوئی۔ عنایہ جو سر جھکائے کھڑی تھی بھیگی پلکیں اٹھا کر حیدر کو دیکھا جو کافی سنجیدہ نظر آرہا تھا۔ وہ عنایہ کا ہاتھ تھامے اسے لان میں بنے بینچ پر لے آیا اور اسے بٹھا کر خود بھی ساتھ بیٹھ گیا۔ عنایہ کو لگا وہ اب سانس نہیں لے پائے گی۔ کیا کہے گی کہ کیوں اس نے اتنا بڑا قدم اٹھایا؟ کیا جواز دے گی اس نکاح کا ؟ کیا کہے گی کہ کیوں اس نے ہم میں سے کسی سے بات نہیں کی ؟ ایسی کہیں سوچیں اس کے ذہن میں گردش کرنے لگیں اور آنکھیں مزید بھیگنے لگیں۔

” عنایہ! میں یہ سب بالکل نہیں چاہتا تھا لیکن وہ لڑکا بکواس کررہا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔” وہ کہہ بھی نہیں پارہا تھا۔ عنایہ نے اس کے رکنے پر اپنی آنکھیں میچ لیں۔

” کہ وہ تم سے محبت کرتا ہے جس پر مجھے غصہ آگیا ” عنایہ نے چونک کر آنکھیں کھولیں۔

” اب میرے سامنے کوئی میرے گھر کی عزت پر نظر رکھے گا تو مجھے غصہ تو آئے گا نا؟ ” وہ مزید کہہ رہا تھا۔ اور عنایہ بس اسکا منہ تک رہی تھی (مطلب کیف نے نکاح کا نہیں بتایا، وہ تب سے یہ ہی سوچ کر روئے جارہی تھی)۔

” تم پلیز اس لڑکے سے دور رہو گی ” وہ اب اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر کہہ رہا تھا۔

” آئی نو میں کچھ زیادہ ہی ریایکٹ کررہا ہوں لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے جو میں تمہیں ابھی نہیں بتا سکتا ” اس کی بات پر عنایہ نے بھی اب کی بار نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔

” کیا ؟ ” اتنی دیر میں پہلا لفظ تھا جو اس نے کہا تھا۔ وہ مسکرا دیا۔

” بتاؤں گا بس ایک ضروری کام سے فارغ ہو جاؤں پھر لمبی چھٹی پر آؤں گا تب ” اس کے چہرے پر الگ سی چمک تھی۔ لیکن عنایہ کو سمجھ نہیں آیا وہ کس بارے میں بات کررہا ہے۔

” تم میری بات مانو گی نا ؟ پلیز اس لڑکے سے دور رہنا اور اگر کوئی بھی پروبلم ہو تو مجھے ضرور بتانا ” عنایہ نے فقط سر ہلا دیا۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا لیکن پھر کچھ یاد آنے پر پلٹا تھا۔

” کیا تم جانتی تھی اس بارے میں؟ ” عنایہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔

” کس بارے میں ؟ ” اس نے غائب دماغی سے پوچھا۔

” کہ وہ لڑکا تم میں interested ہے ؟ کیا اس نے تم سے کبھی کہا ؟ ” عنایہ اس بات پر ٹکر ٹکر اسکا چہرہ دیکھتی رہی۔

” کیا وہ بتا دے حیدر کو ” اس نے بے اختیار سوچا۔

” حیدر مم۔۔۔۔۔۔۔میں وہ۔۔۔۔۔نہیں میں نہیں جانتی تھی ” اس کی ہمت ہی نا ہوئی کہنے کی۔ اس نے سر جھکا دیا۔

” اوکے! چلو تم بھی آجاؤ اندر اب ” وہ کہہ کر جانے لگا تو عنایہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔

**********************

اسکی بامشکل آنکھ لگی ہی تھی کہ فون پر آنے والی کال سے اسکی نیند خراب ہوئی۔ وہ بازو کے بل اٹھی تھی اور سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھا کر دیکھا۔ عمر کا نام سکرین پر دیکھ کر وہ حیران ہوئی۔ اس نے جلدی سے کال پک کی تھی۔

” عنایہ! ” عمر کی آواز سپیکر سے سنائی دی۔

” ہاں عمر خیریت ؟ ” عنایہ نے تشویش سے پوچھا۔

” عنایہ وہ کیف کا ایکسیڈینٹ ہوگیا ہے ” بنا کسی لگی لپٹی کہ عمر نے اسے بتایا تو عنایہ کا دل ڈوبا۔ وہ جلدی سے سیدھی ہو بیٹھی۔

” کیسے ؟ وہ ٹھیک تو ہے ؟ ” پریشانی اس کی آواز میں صاف محسوس کی جاسکتی تھی۔

” یہاں سے جانے کے بعد وہ بہت غصے میں نکلا تھا مجھے بھی ہسپتال سے کال آئی ہے ابھی میں وہیں جارہا ہوں اسکی کنڈیشن کے بارے میں نہیں پتا لیکن تم پریشان مت ہونا میں وہاں پہنچ کر تمہیں کال کروں گا “

” عمر! وہ ٹھیک تو ہوگا نا ؟ ” اس کی آواز بھر آئی۔

” انشاللہ ” اس نے کہہ کر کال کاٹ دی۔ عنایہ کے دل میں ایک دم بے چینی بڑھی وہ جلدی سے بیڈ سے اتری۔

” پلیز اللّٰہ وہ ٹھیک ہو ” وہ کمرے میں چکر کاٹنے لگی۔ آنکھوں سے آنسو پھر سے بہنے لگے۔

” سب میری غلطی ہے ” اس کی سسکیاں پورے کمرے میں گونجنے لگی۔ نور جو سو چکی تھی رونے کی آواز پر اس نے مندی مندی آنکھیں کھولیں اور نظر کمرے میں دوڑائی۔ عنایہ کی سائیڈ ٹیبل کا لیمپ جل رہا تھا جس سے دوسری طرف ہلکی ہلکی روشنی پھیلی تھی۔ اس نے عنایہ کو کمرے کے بیچوں بیچ چہرے پر دونوں ہاتھ رکھے روتے دیکھا تو وہ فوراً سے اٹھ بیٹھی۔

” آپی کیا ہوا ؟ ” نور پریشان سی اس کی آور آئی تھی۔ عنایہ نے اپنے ہاتھ چہرے سے ہٹائے تو اسکا چہرہ آنسو سے بھیگا ہوا تھا۔

” نور۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیف کا ایکسیڈینٹ ہوگیا ہے۔۔۔۔۔۔پتا نہیں وہ کیسا ہوگا مجھے بہت فکر ہورہی ہے ” وہ ہچکیوں میں اسے بتا رہی تھی۔

” اوفف اللّٰہ کیسے ہوا یہ ؟ آپ آئیں یہاں بیٹھیں ” نور نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بیڈ پر بٹھایا اور جلدی سے دوسری طرف سائیڈ ٹیبل پر رکھے جگ سے پانی گلاس میں انڈیلا اور لا کر عنایہ کو پلانا چاہا لیکن عنایہ نے انکار کردیا۔

” آپی پلیز پانی تو پیئں ” عنایہ نے سر نا میں ہلایا۔

” مجھے اس کے پاس جانا ہے لیکن میں کیسے جاؤں؟ ” وہ روتے ہوئے کہنے لگی۔ نور اسے تسلی دے رہی تھی کہ اسکے فون پر کال آنے لگی۔

*********************

عمر نے کال پر عنایہ کو کیف کی حالت کے بارے میں آگاہ کردیا تھا۔ وہ ٹھیک تھا گاڑی درخت سے ٹکرائی تھی۔ اسے چوٹیں آئی تھیں لیکن خطرے والی کوئی بات نہیں تھی۔ عنایہ بہت مشکل سے مانی تھی لیکن اس نے کیف سے بات کرنے کا جب کہا تو عمر نے پاس ہی بیڈ پر ٹیک لگائے کیف کی طرف دیکھا اس نے آنکھیں موند رکھی تھیں۔ عمر نے کیف کا سونے کا بتایا اور اسے مزید پریشان نا ہونے کی تاکید کرکے کال بند کردی۔ جیسے ہی اس نے فون جینز کی جیب میں رکھا کیف نے اپنی آنکھیں کھول کر اسکی سمت دیکھا۔ وہ لوگ ہسپتال کے پرائیویٹ روم میں موجود تھے۔

” کیا ضرورت تھی اسے بتانے کی ؟ ” کیف نے خشک لہجے میں پوچھا تھا۔

” اسے چھوڑ۔۔۔۔۔۔تو مجھے بتائے گا کہ تیرے ساتھ مسئلہ کیا ہے آخر ؟” عمر چلتا ہوا بالکل بیڈ کے سامنے آیا تھا۔

” کونسا مسئلہ ؟ ” کیف انجان بنا۔

” کیوں تیرے اور عنایہ کے کزن کے بیچ ہاتھا پائی تک بات پہنچی تھی ؟ ہاں ؟ ” یقیناً عنایہ یہ وجہ ہوگی ؟ ” وہ استفسار کرنے لگا۔ کیف نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اور واپس سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند گیا۔

” ہیلو مسٹر ادھر میں پوچھ رہا ہوں کچھ ؟ ” عمر اسکے جواب نا دینے پر اُکْھڑا تو کیف نے دوبارہ آنکھیں کھول کر اسے دیکھا جو اب تھوڑا غصے میں لگ رہا تھا۔ کیف اسے ساری بات بتانے لگا جو عمر سینے پر بازہ لپیٹے بڑے غور سے سن رہا تھا۔

” تو پاگل ہے ؟ اسے یہ بتانے کی ضرورت کیا تھی ؟ “

” بس مجھے لگا اسے بتا دوں کہ وہ میری ہے “

” کمینے ! یہ ہی جتلانا چاہتا تھا تو سیدھا نکاح کا کہتا نا ” عمر نے طنز کیا۔ اسے اس کی منطق کی رتی برابر سمجھ نہیں آئی تھی ۔

” سوچا تو یہ ہی تھا لیکن عنایہ کیلئے کوئی مشکل نہیں چاہتا تھا “

” واہ کیا بات ہے تیری ” عمر نے گھورا تھا اسے۔

” کیف! تو نے یہ سب بے وجہ ہی کیا ہے۔۔ تجھے بھلا ضرورت ہی کیا تھی ؟ عنایہ تجھے چاہتی ہے، نکاح بھی تو کر چکا ہے تو کیوں فضول میں تماشہ لگایا اور اب ایکسیڈینٹ بھی کروا کہ بیٹھا ہے اپنا “

” اچھا! اگر کل کو تجھ سے کوئی کہے کہ وہ زینب سے محبت کرتا ہے تب تو کیا کرتا ؟ “

” بکواس نہیں کر ” عمر نے اب کی بار تھوڑا تیز آواز میں کہا تھا۔

” برا لگا نا ؟ یہ ہی چیز ہے وہ۔۔۔۔۔کوئی اسے چاہے بھی تو کیوں ؟ وہ میری محبت ہے، کوئی اس کے بارے میں ایسا سوچے بھی کیوں ؟ ” عمر کو وہ یہ سب کہتا بالکل الگ کیف لگ رہا تھا۔ وہ اس حد تک عنایہ کیلئے پوزیسیو ہوگا اس نے سوچا نہیں تھا۔

*********************

عنایہ ہسپتال آئی تو عمر کو کال کی تو وہ اسے لینے باہر آیا۔ وہ خان بابا کے ساتھ یونیورسٹی کیلئے نکلی تھی لیکن راستے میں انہیں ہسپتال اپنی دوست کی عیادت کا بتایا۔

” تم جاؤ اندر میں ذرا ڈسچارج کا پتا کرلوں ” عمر اسے دروازے پر چھوڑ کر جا چکا تھا۔ عنایہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو نظر سامنے کیف پر پڑی جو ٹیک لگائے بیٹھا سامنے دیوار کو گھوری جارہا تھا۔ اس کے سر پر پٹی بندھی تھی اور بائیں بازہ پر پلستر چڑھا تھا۔ عنایہ کے دل میں درد سا اٹھا۔ اسے اس حال میں دیکھ کر تکلیف ہوئی۔ دوسری طرف کیف نے اسے دیکھا تو ایک پل کیلئے تھم گیا لیکن پھر فوراً نظریں پھیر لیں (اسے یقین نہیں تھا وہ یہاں آئے گی)۔ عنایہ آگے بڑھی اور اس کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گئی۔

” کیف! تم ٹھیک ہو ؟ ” اس نے دھیمے سے پوچھا۔

” یہاں کیوں آئی ہو ؟ ” وہ اس سے چہرہ موڑ کر بیٹھا تھا۔ عنایہ نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کا چہرہ اپنی سمت کرنا چاہا تو کیف نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔

” کیا ہوا ایسے کیوں ہو ؟ ” وہ اس بات سے لاعلم تھی کہ وہ اس سے غصہ ہے اس لیے پوچھ بیٹھی۔ کیف طنزیہ مسکرایا۔

” یہ تو تم بتاؤ نا مس عنایہ ؟ اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے تو پھر اپنے کزن کی اتنی پروا کیوں ہے ؟ ” وہ اب باقاعدہ اس کی جانب چہرہ موڑ کہہ رہا تھا۔

” کیا مطلب اس بات کا ؟ “

” مطلب۔۔۔۔۔ کل دیکھا میں نے کیسے تم اسے مجھ سے بچا کر لے گئی تھی کتنی پروا ہے نا اس کی اور وہ کیسے تمہارے ایک بار کہنے پر چل پڑا واہ۔۔۔۔” کیف نے استہزایہ لہجے میں کہا۔ جبکہ عنایہ حیران ہوئی تھی وہ خود سے کیا مطلب نکال بیٹھا تھا۔ ناراضگی تو اس کی بنتی تھی کہ کیف نے حیدر نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے ایک بار بھی نہیں سوچا تھا کہ اس سے اسے کتنی مشکل ہوسکتی ہے لیکن یہاں الٹا حساب تھا وہ اپنی ناراضگی لیے بیٹھا تھا۔ لیکن وہ اس حال میں نا تھا کہ وہ اس سے کوئی شکوہ کرتی۔

عنایہ نے ایک بار پھر ہاتھ بڑھا کر اس کے گال پر رکھا۔ اور کیف نے اس بار اسکا ہاتھ نہیں جھٹکا بس ماتھے پر شکنیں لیے جواب طلب نظروں سے اسے دیکھتا رہا۔

” کیف! اگر میں نے اسے بچانا ہوتا تو تمہارے پاس آکر تمہیں روکتی۔۔۔۔میں نے اسے روکا کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی وہ تمھے کوئی چوٹ پہنچائے، مجھے تمہاری پروا تھی کیف لیکن اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں یہ چاہتی تھی کہ اسے کوئی تکلیف پہنچے، میری زندگی میں صرف دو چار رشتے ہیں ” وہ لمحہ بھر کو رکی۔

” پہلے میں تم سے محبت کرتی تھی پھر تم نے مجھ سے نکاح کیا تو میں تم سے عشق کر بیٹھی کیونکہ یہ رشتہ ہی ایسا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔تم مجھے سب سے عزیر ہو کیونکہ تم سے میرا روح کا رشتہ ہے ” وہ دھیمے لہجے میں کہہ رہی تھی اور کیف کے ماتھے پر پڑی شکنیں کم ہوئیں اور آنکھوں میں چمک در آئی۔ وہ کتنی معصوم لگ رہی تھی اپنی محبت کا یوں اظہار کرتے ہوئے۔

” ماموں ممانی حیدر اور نور سے میرا دل کا رشتہ ہے انھوں نے مجھے سہارا دیا جب میرا کوئی نہیں تھا۔۔۔۔۔اگر ان کے اور تمہارے درمیان کسی بھی بات کو لے کر کوئی بھی اختلاف ہوگا تو تکلیف مجھے ہی ہوگی نا ” اس نے اسے سمجھایا تاکہ وہ دوبارہ کبھی ایسا نا سوچے۔

” یہ سب کیسے ہوا ؟ ” وہ اب اس سے پوچھ رہی تھی۔ کیف نے نفی میں سر ہلا دیا لیکن کہا کچھ نہیں۔ عنایہ آسودہ سا مسکرائی اور مزید اس کے قریب ہوئی اور ہلکے سے اس کے گال کو اپنے لبوں سے چھوا۔ کیف کیلئے اسکا یہ ردعمل غیر یقینی تھا۔ عنایہ دور ہوئی لیکن یوں ہی اس کے گال کے قریب اپنی آنکھیں میچ گئی جبکہ کیف کل سے اب آکر مسکرایا تھا۔ وہ واپس پیچھے ہوئی اب کی اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔

” میں یونیورسٹی کے لیے لیٹ ہورہی ہوں تم اپنا خیال رکھنا ” وہ جلدی سے کہہ کر وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی لیکن کیف نے بھی پھرتی سے اپنے دائیں ہاتھ میں اسکی کلائی تھام لی۔ عنایہ کی دھڑکن تیز ہوئی۔

” کیا تھا یہ ؟ ” کیف نے مسرور سا پوچھا۔

” کیا تھا ؟ ” وہ واپس پلٹی تھی، لبوں پر شرمیلی سی مسکان تھی۔

Heyyy that’s not fair “

مجھے کچھ بھی کرنے کی اجازت نہیں ہے اور تم میری اس حالت کا پورا فائدہ اٹھا رہی ہو ” وہ خفیف سا کہتا دانتوں تلے لب دبا کر اپنی مسکراہٹ ضبط کرنے لگا۔ عنایہ اس کی بات پر جھنپ گئی اور اسی وقت عمر ناک کیے کمرے میں داخل ہوا تو عنایہ نے جلدی سے اپنا ہاتھ چھوڑوایا جو کیف نے فوراً چھوڑ دیا۔

” لگتا ہے غلط وقت پر اینٹری مار دی میں نے ” عمر نے شرارتاََ کہا۔

” بہت غلط وقت پر ” کیف نے عنایہ پر نظریں جمائے کہا۔

********************

عمر کیف کو گھر لایا تو رابعہ بیگم اور منال کتنا پریشان ہوئیں کیف کو اس حالت میں دیکھ کر۔ عمر نے رات انہیں ایکسیڈینٹ کا نہیں بتایا تھا۔ مرتضیٰ صاحب اس وقت آفس میں موجود تھے۔ عمر انہیں ساری تفصیل بتاتا شام کو پھر چکر لگانے کا کہتا جا چکا تھا۔ وہ تینوں نفوس اس وقت کیف کے کمرے میں موجود تھے۔

” مانو میں ٹھیک ہوں بالکل ” کیف نے اسے پریشان دیکھا تو اسے تسلی دی۔

” ہاں نظر آرہا ہے تم کتنے ٹھیک ہو ” رابعہ بیگم خفت بھرے لہجے میں بولیں۔ ان کے بولنے پر کیف نے کوئی خاص رسپانس نہیں دیا۔

” اچھا یار جاؤ کچھ کھانے کو تو لاؤ مجھے جلدی سے ٹھیک ہونا ہے “کیف ابھی سے تنگ آچکا تھا اپنی اس حالت سے۔

” منال تم فروٹس لے آؤ فلحال پھر میں خود جا کر کچھ لائٹ سا بناؤں گی ” رابعہ بیگم نے کہا تو منال سر ہلا کر جا چکی تھی۔ کیف کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیوں نہیں یہاں سے جارہی تھیں۔ رابعہ بیگم آگے بڑھیں اور اس کے پاس بیڈ پر جگہ سمبھالی۔

” کیف! ” انہوں نے پیار سے پکارا تھا۔

” پلیز میں ریسٹ کرنا چاہتا ہوں ” وہ کچھ کہتیں اس سے پہلے ہی کیف بول اٹھا۔ انہوں نے حسرت بھری نگاہ سے اسے دیکھا جو سپاٹ چہرہ لیے بنا ان کی طرف دیکھے کہہ کر آنکھیں موند چکا تھا۔ بیٹے کی اتنی بے اعتنائی پر ان کا دل بھر آیا۔

*********************

کیف نے پورا ایک ہفتہ گھر پر ریسٹ کیا تھا۔ رابعہ بیگم نے اس کی خوب تیمارداری کی تھی۔ جس سے وہ کافی چڑ جاتا۔ وہ نہیں چاہتا تھا وہ اس کیلئے فکرمند ہوں لیکن اس نے کہا کچھ نہیں کیونکہ وہ بہت پریشان تھیں اور وہ مزید انہیں دکھ نہیں دینا چاہتا تھا۔ دوسری طرف عنایہ نے بھی خاص تاکید کی تھی کہ جب تک وہ پوری طرح سے ٹھیک نہیں ہو جاتا یونیورسٹی نہیں جائے گا جبکہ کیف نے ضد لگائی رکھی تھی کہ وہ اتنے لمبے عرصے تک اسے دیکھے بنا نہیں رہ سکتا لیکن عنایہ اسے منا چکی تھی۔ حیدر واپس اپنی ڈیوٹی پر جا چکا تھا۔ لیکن اس بار جانے سے پہلے صائمہ بیگم نے اس سے عنایہ کے حوالے سے پوچھ چکی تھیں جس ہر حیدر نے اگلی چھٹی تک انتظار کرنے کو کہا لیکن وہ اس رشتے کیلئے ان کے سامنے حامی بھر چکا تھا۔

********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *