Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 11) Part - 2

222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 11) Part - 2

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

یہ ایک خوبصورت وسیع و عریض فارم ہاؤس کا باغیچہ تھا جہاں کیف مرتضیٰ کی پارٹی چل رہی تھی۔ یہ فارم ہاؤس آبادی والے علاقوں سے تھوڑا دور تھا۔ یہاں ایک دو ہی فارم ہاؤسز بنے تھے اور باقی چاروں طرف ہریالی ہی ہریالی نظر آتی تھی۔ یہ فارم ہاؤس مرتضیٰ صاحب کی ملکیت تھا یہاں اکثر ان کے بزنس سے ریلیٹڈ پارٹیز اور انٹرنیشنل کلائنٹز وغیرہ کا سٹے ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ رابعہ بیگم بھی اپنی چیریٹی کے فنکشن کبھی کبھار یہیں منعقد کرتی تھیں۔

تقریباً سبھی لوگ یہاں موجود تھے سوائے زینب اور عنایہ کے۔ نتاشہ بلیک جینز پر بلیک سلک کا ٹاپ پہنے بڑھ چڑھ کر سارے انتظامات دیکھ رہی تھی جیسے یہ پارٹی اسکی طرف سے ہو۔ یہ اسکی عادت تھی وہ کیف کی ہر چیز پر ایسے ہی حق جتاتی تھی۔

کیف اور عمر ایک طرف کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ کیف بلیک جینز پر وائٹ شرٹ پہنے ہوئے تھا جبکہ عمر نے بلیو جینز پر گرے شرٹ پہنی تھی۔

” یار یہ دونوں ابھی تک آئی کیوں نہیں؟ ” کیف نے عمر سے پوچھا وہ کب سے بار بار اینٹرس کی طرف دیکھ رہا تھا لیکن وہ دونوں اب تک نہیں آئی تھیں۔

” پتا نہیں یار پارٹی کا ٹائم تو یہ ہی بتایا تھا سب کی طرح دونوں کو ” عمر نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالی۔

” تو نے ٹھیک سے انکی باتیں سنی تھیں ؟ کہ وہ آرہی ہے” کیف نے عمر کی طرف دیکھ کر پوچھا۔

” ہاں یار !

” نا آئی نا تو تیری خیر نہیں ” کیف نے اسے دھمکی دی۔

” ویسے فضول ہے تیرا یہ سب کرنا۔۔۔۔ اب بس بھی کردے کیوں بچاری لڑکی کے پیچھے پڑ گیا ہے ” عمر کا لہجہ فکرمندی لیے ہوئے تھا۔

” یہ سب مجھ سے پنگے لینے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔۔۔۔وہ مجھ سے خوفزدہ کیوں نہیں ہوتی ؟ وہ اپنی زبان بند کیوں نہیں رکھتی ؟ میرے ہر وار کا منہ توڑ جواب کیوں دیتی ہے ؟ “

” تو جن ہے جس سے خوفزدہ ہو وہ ؟ ” عمر جھنجھلا گیا۔

” نہیں تجھے کیا مسئلہ ہے ؟ ہم پہلے بھی بہت بار سب کے ساتھ ایسے پرینک کر چکے ہیں نا ؟ تب تو تجھے کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔۔۔۔اس باسکٹ کیلئے بڑی فکر ہوتی ہے ” کیف نے آنکھیں چھوٹے کیے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھنے چاہے۔

” ابے جا کچھ بھی ” عمر کہہ کر دوسری طرف کھڑے لڑکوں کی جانب چلا گیا۔

” بیٹا کب تک چھپاؤ گے۔۔۔۔۔۔میں بھی تیرا دوست ہوں پتا چلا ہی لوں گا تیرے دل کا حال۔۔۔۔۔۔” کیف اسکی پشت کو دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا۔

*******************

” اتنی دور ہے یہ جگہ۔۔۔۔۔تم مجھے پہلے بتا دیتی تو میں آتی ہی نہیں ” عنایہ گاڑی سے اترتے ہوئے خفگی سے ذینب کو بولی۔ عنایہ ہلکے گلابی رنگ کا سوٹ پہنے ہوئے تھی

نیٹ سے بنی گھٹنوں تک آتی شرٹ اور نیچے کیپری، ڈوپٹہ ایک طرف کندھے پر ڈالا تھا، بال کھلے ایک طرف کان کے پیچھے اڑسے ہوئے، کانوں میں چھوٹے ڈائمنڈ کے ایرنگز چمک رہے تھے۔

” بس بھی کر دو اب پورے راستے میرے کان کھاتے آئی ہو ” زینب دوسری طرف سے اتری تھی۔ زینب نے وائٹ ٹراؤزر پر گہرے نیلے رنگ کا کرتا پہنا ہوا تھا۔ سلک کا دوپٹہ کندھے کی ایک طرف، بال کھلے چھوڑے۔۔۔۔ وہ آج کافی پیاری لگ رہی تھی۔

” اپنے ڈرائیور کو کہہ دیا نا کہ یہیں رہے ہمارے واپس آنے تک ؟ ” عنایہ نے ساتھ چلتی زینب سے پوچھا۔ وہ دونوں اب فارم ہاؤس کے اندر جا رہی تھیں۔

” ہاں میری ماں کہہ دیا ہے ” زینب نے تڑ کے جواب دیا۔ وہ تو تنگ ہی آگئی تھی عنایہ کی باتوں سے۔ پورے راستے وہ اسے یہ ہی کہتی آئی کہ کیا ضرورت تھی اس شخص کی پارٹی پر جانے کی ؟ کیا ضرورت تھی اس سے دوستی کرنے کی؟ مجھے اس پہ یقین نہیں۔۔۔۔۔ یا میں کچھ زیادہ سوچ رہی ہوں۔۔۔۔ جبکہ زینب اسکی باتوں پر اپنا ماتھا پیٹتی۔

*******************

پارٹی زور وشور سے جاری تھی۔ اس فارم ہاؤس کے باغیچے میں ایک خوبصورت سما بندھا ہوا تھا۔ دو دونوں اندر آئیں تو ادھر ادھر نظر گھما کر اس ماحول کو دیکھ رہی تھیں۔ زینب کی نظروں میں ستائش جبکہ عنایہ کی آنکھیں بے تاثر تھیں جیسے وہ یہاں پر آنے پر زیادہ خوش نا تھی۔ کیف کی نظر ان دونوں پر پڑی تو لبوں پر ایک جاندار مسکراہٹ آئی وہ جلدی سے انکی طرف آیا۔

” ہائے ! ” کیف انکے قریب آیا۔

” ہیلو ! ” زینب نے مسکرا کر جواب دیا۔ جبکہ عنایہ بس دھیمے سے مسکرا دی۔

” کوئی مشکل تو نہیں ہوئی آنے میں ؟ ” کیف نے پوچھا۔

” نہیں نہیں ہم بہت آرام سے آگئے ” زینب نے جواب دیا۔

” گڈ ! آپ لوگ انجوائے کریں۔۔۔کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دینا ” کیف کہہ کر وہاں رکا نہیں۔

*******************

کیف عمر کے ساتھ کھڑا سارا پلان ایک بار پھر ڈسکس کررہا تھا جب نتاشہ چلتی ہوئی اسکے قریب آئی اور اسکا بازو اپنے ہاتھوں میں تھاما۔ کیف بر وقت چپ ہوا تھا اور مسکرا کر نتاشہ کو دیکھا۔

” کیف پارٹی تو کافی اچھی ہے لیکن تمہارے گانے کہ بنا ادھوری ہے ” نتاشہ نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔

” ہاں یار ایک گانا ہو جائے ” عمر نے بھی فرمائش کی۔

” شیور ! ” کیف نے سر کو خم دیا۔

تھوڑی دیر بعد نتاشہ نے دو گلاس آپس میں ٹکراتے ہوئے سب کو اپنی طرف مخاطب کیا۔ کیف ایک چیئر پر بیٹھ چکا تھا۔ عمر اندر سے اسکا گٹار لایا اور اسے تھمایا۔ سب کیف کے اردگرد جمع ہو چکے تھے۔ عنایہ اور زینب بھی وہیں تھیں۔ کیف نے سب پر ایک نظر دوڑائی تو تھوڑے ہی فاصلے پر وہ بھی دکھ گئی۔ کیف نے مسکرا کر گٹار کے تار چھیڑے۔

سانسوں کو سانسوں میں ڈھلنے دو ذرا

دھیمی سی دھڑکن کو بڑھنے دو ذرا

لمحوں کی گُزارش ہے یہ، پاس آ جائیں۔۔۔۔۔

ہم، ہم تم، تم، ہم تم

آنکھوں میں ہمکو اترنے دو زرا

باہوں میں ہمکو پگھلنے دو ذرا

لمحوں کی گزارش ہے…ہم تم

وہاں موجود سب ہی اسکی محصور کن آواز کے سحر میں کھوئے ہوئے تھے۔ جب کیف نے گانا ختم کیا تو سب نے تالیاں بجا کر داد دی۔ کیف نے عنایہ کو دیکھا جو ابھی بھی اسکی آواز کے سحر میں جکڑی ہوئی تھی۔ دونوں کی نظریں ملی تو کیف نے ابرو آچکا کر پوچھا کہ کیسا لگا ؟ عنایہ ایک دم گڑبڑا گئی اسے شرمندگی ہوئی جبکہ کیف اسکی حالت سے محظوظ ہوا۔

” اوفف کیا سوچ رہا ہوگا وہ ” عنایہ بڑبڑائی اور وہاں سے ہٹ گئی۔

********************

وہ ایک خاموش گوشے کی طرف آکر کھڑی ہوگئ تھی اور بار بار اپنی حرکت پر خود کو ملامت کررہی تھی۔ ایسا بھی کیا تھا کہ وہ کھو سی گئی تھی۔ اسے ابھی کھڑے ہوئے ایک منٹ ہی ہوا تھا جب خیال آیا کہ وہ زینب کو بنا بتاۓ یہاں آگئی ہے اور وہ اسے ڈھونڈ رہی ہوگی۔ وہ پلٹی تھی تو پیچھے کھڑے کیف سے ٹکرائی۔ کیف کے ہاتھ میں پکڑا جوس اسکے دوپٹے پر گرا۔

” اوہ ایم رئیلی سوری ! مجھے نہیں پتا تھا تم اسی وقت پلٹو گی ” کیف نے اسے دیکھ کر شرمندہ سا کہا۔

” نہیں اٹس اوکے تمہاری غلطی نہیں ہے ” عنایہ اپنے دوپٹے کو پھیلا کر دیکھ رہی تھی جب اسے شرمندہ دیکھ کر بولی جو بھی تھا اس نے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا۔

” تم اسے صاف کرلو۔۔۔۔۔آؤ میں تمھے واشروم دکھا دیتا ہوں” اسکی بات پر اس نے سر اثبات میں ہلایا اور اس کے آگے چل دی۔ کیف پیچھے اپنے پلان کامیاب ہونے پر طنزیہ مسکرایا۔ وہ جان بوجھ کر اسکے پیچھے کھڑا ہوا تھا اور جب وہ پلٹی تو کیف نے بہت دھیان سے اسکے دوپٹے پر جوس گرایا تھا۔

*******************

وہ سیڑھیوں کی طرف کھڑے تھے جو نیچے بیسمنٹ میں جاتی تھیں۔ کیف آگے ہو کر نیچے جانے لگا تو عنایہ بھی اسکے پیچھے چل دی۔ نیچے بیسمنٹ کافی بڑا تھا۔ ایک طرف بڑی سی ایل سی ڈی لگی تھی جس کے سامنے بیش قیمت نفیس سے صوفے رکھے تھے۔ دوسری جناب خوبصورت لال اور گولڈن کمبینیشن کے پردے لگے تھے۔ سیڑھیوں سے نیچے آؤ تو وہیں سائڈ پر ایک بڑا سا برٹش سٹائل اسنوکر ٹیبل موجود تھا۔ اس جگہ کو کافی خوبصورت آرائشی سامان کے ساتھ سجایا گیا تھا۔ عنایہ نظریں گھما کر اس جگہ کا جائزہ لے رہی تھی۔ جب کیف نے کونے میں ایک دروازے کی طرف اشارہ کیا وہ سمجھ کر اندر جا چکی تھی۔ اسکے فاشروم جاتے ہی کیف بھی وہاں سے دو نو گیارہ ہوگیا۔

*******************

زینب ہما اور سدرہ کے ساتھ کھڑی باتیں کررہی تھی پھر وہ ان دونوں سے ایکسکیوز کرتی وہاں سے ہٹ گئی۔ اب وہ یہاں وہاں عنایہ کو ڈھونڈ رہی تھی۔ اسے لگا وہ یہں کہیں کسی کہ پاس ہوگی لیکن کافی دیر سے وہ اسے دکھی نہیں۔

” ہیلو ! ” اسے اپنے عقب سے آواز آئی تو وہ پلٹی۔

” کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ؟ ” عمر نے پوچھا۔

” نہیں تھینک یو ! ” وہ دھیما سا مسکرا کر واپس سے یہاں وہاں عنایہ کو دیکھنے لگی۔

” آپ نے مجھے پہچانا نہیں؟ ” عمر نے بات بڑھانے کیلئے ایک فضول سا سوال پوچھا۔

” ہم پہلی بار مل رہے ہیں کیا ؟ ” زینب نے اچنبھے سے اسے دیکھا تھا۔

” نہیں وہ۔۔۔۔۔ ایم سوری ظاہر ہے ایک ہی کلاس میں پڑھتے ہیں تو تم جان پہچان تو ہے ہی۔۔۔۔۔اصل میں پہلے کبھی ہماری بات نہیں ہوئی اسی لئے ” عمر نے کان کھجاتے ہوئے وضاحت دی۔

” ہاں یہ تو ہے ” زینب نے تائید کی۔ اسکی آنکھیں ابھی بھی عنایہ کو تلاش کررہی تھیں اور عمر پہلی بار اتنے قریب سے اسکے چہرے کے نقوش دیکھ رہا تھا۔ لیکن فلحال اس نے اپنی نظریں قابو کیں کیونکہ ابھی اس نے زینب کو اندر جانے سے روکنا تھا۔

” آپ نے کچھ کھایا ؟ ” زینب نے دوبارہ مڑ کر اسے دیکھا۔

” نہیں میں عنایہ کو ڈھونڈ رہی تھی پتا نہیں کہاں چلی گئی ” اس کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات ابھرے اور عمر کا دل چاہا کیف کا قتل کردے۔ جسکی وجہ سے وہ بچاری یہاں پریشان ہونے لگی تھی۔

” ارے فکر نہیں کرو یہیں کہیں ہوگی۔۔۔۔۔تم آؤ کچھ کھاؤ پیو ریلکیس کرو ۔۔۔۔۔” عمر نے اسے تسلی دی۔

” نہیں پہلے عنایہ مل جائے ” اس نے انکار کیا اور وہاں سے جانے لگی۔

” ارے سنو تو ” عمر جلدی سے اسکے پیچھے گیا تھا۔

*******************

عنایہ ڈوپٹہ صاف کرکے باہر نکلی تو ہر سو اندھیرا پھیلا تھا۔ اتنا اندھیرا تھا کہ اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔

” یہ لائٹ کو کیا ہوا ؟ ” وہ بڑبڑائی اور دوبارہ پیچھے واشروم کے دروازے کو کھولا تو اندر کی لائٹ بھی اب آف تھی۔

” اوفف۔۔۔۔۔۔۔کیف۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ ” عنایہ نے اسے آواز دی۔ لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ وہ دھیرے دھیرے چلنے لگی۔ وہ ہاتھوں کو اٹھائے یہاں وہاں سہارے کیلئے کوئی چیز تلاش کرنے لگی۔

” کیف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔زینب ؟ ” اس نے اب زینب کو پکارا تھا۔ ایک دم چلتے چلتے وہ رکی تھی اسے اپنے پیچھے قدموں کی آواز سنائی دی تھی۔

” کون ہے ؟ ” اب کی بار وہ گھبرائی تھی۔ پھر ایک دروازہ کھلنے کی چرچراہٹ اور بند ہونے کی آواز پر عنایہ کو لگا کچھ تو غلط ہے۔

” کوئی ہے ؟؟؟؟ ” اس بار وہ تھوڑا اونچا چلائی تھی۔ اسے نہیں پتہ تھا وہ چلتے چلتے کس طرف آئی تھی۔

” میاؤں میاؤں۔۔۔ ! ” بلی کی آواز سے وہ اپنی جگہ سے اچھلی تھی۔

” یہ۔۔۔۔۔ب۔۔۔۔۔بلی یہاں ” عنایہ نے ڈرتے ڈرتے خود سے کہا۔

” کہاں پھنس گئی ؟ ” وہ اب روہانسی ہوئی تھی۔ اس نے ہوا میں اپنے ہاتھ مارنا شروع کردیے اور پھر آخرکار ایک دیوار پر اسکا ہاتھ لگا تو وہ خوش ہوکر جلدی سے دیوار کے قریب ہوئی۔ اس وہاں کوئی سوئچ بورڈ تلاش کرنا تھا۔ لیکن دیوار پر ایک جگہ اسے کچھ گیلا گیلا محسوس ہوا۔ اسکے ہاتھ پر کچھ لگا تھا اس نے فوراً اپنے ہاتھ ہٹا لیے۔ اس نے اندھیرے میں اپنے ہاتھ کو ناک کے قریب کرکے سونگھنا چاہا۔ لیکن کچھ محسوس نہیں ہوا تھا۔ اس نے دوبارہ سے دیوار کا سہارا لے کر چلنا شروع کیا اور پھر وہ رکی۔

” یہ ضرور پردہ ہوگا ” دیوار پر کپڑا محسوس کرتے ہی اس نے تیزی سے پردے کو ہٹایا۔ پردے کے پیچھے بڑی سے کھڑکی لگی تھی جو فل بند تھی۔کھڑکی سے بہت ہلکی سی روشنی اندر آرہی تھی۔ لیکن وہ اتنی زیادہ نا تھی کہ وہ ٹھیک سے دیکھ پاتی۔ اس نے اپنا ہاتھ کھڑکھی کے قریب کیا یہ دیکھنے کیلئے کہ ہاتھوں میں کیا لگا تھا۔ اور ہاتھ پر نظر پڑتے ہی اسکی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔

” خخ۔۔۔۔۔۔خون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” عنایہ کی آواز لڑکھڑا گئی۔ وہ جلدی سے وہاں سے ہٹی تھی۔ اب صحیح معنوں میں اسے ڈر محسوس ہوا تھا۔

” زینب زینب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ تیز تیز وہیں کھڑی اب شور مچانے لگی۔ ایک دم دیوار پر لگی ایل ای ڈی اون ہوئی۔ عنایہ پلٹی تو سکرین پر نظر آنے والے منظر سے اسکے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ وہ کسی ہارر مووی کا سین تھا جس میں ایک آدمی بری طرح کلہاڑی سے لڑکی پر وار کررہا تھا۔ عنایہ چیختے ہوئے بھاگی تھی۔ اور سامنے کھڑے وجود سے بری طرح ٹکرائی تھی۔ کسی وجود کو اندھیرے میں محسوس کرکے وہ بے تحاشہ چیخیں مارنے لگی۔ سامنے کھڑے وجود نے بر وقت اسکے منہ پر ہاتھ رکھ اسکی چیخوں کا گلا گھونٹا تھا۔ عنایہ کو لگا وہ ابھی گر کے مار جائے گی۔ ایک دم ساری لائٹس اون ہوئیں تھی۔

کیف کو اپنے سامنے دیکھ کر اسکی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے وہ ایک دم اسکے سینے سے لگ گئی۔ اسے بالکل ہوش نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے اور کیا کررہی ہے۔ اسے بس اس وقت سامنے کھڑا شخص فرشتہ لگا۔ کیف تو اسکی حرکت پر دم بخود رہ گیا۔ وہ اسکے سینے سے لگی کھڑی تھی اور کیف کو لگا دنیا رک سی گئی ہو۔ ایک انجانے احساس نے اسے ان گھیرا تھا۔ دل عجیب انداز میں دھڑک اٹھا۔ اسکے پاس سے آتی خوشبو کیف کو اتنی اچھی لگی کہ اس نے اپنا چہرہ اسکے بالوں سے ہلکا سا مس کیا اور آنکھیں بند کرکے اس خوشبو کو محسوس کرنے لگا۔

کچھ پل ہی گزرے تھے جب اس نے اپنی بند آنکھوں کو کھولا۔ وہ ابھی بھی اسی طرح کھڑی تھی۔ کیف کو سمجھ نہیں آیا۔۔۔۔۔ایک پل میں کیا سے کیا ہوگیا۔

” بچاؤ بچاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” کیف چلانے لگا۔ عنایہ اسکی آواز سن کر فوراً سے پہلے اس سے دور ہوئی تھی۔ گھبرائے چہرے کے ساتھ وہ عجیب نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

” کیوں چلا رہے ہو ؟ ” عنایہ نے خود کو کمپوز کرتے ہوئے پوچھا۔

” تم یہاں میرے اکیلے ہونے کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہو ؟ ” کیف نے اپنی شرٹ ٹھیک کرتے ہوئے مصنوعی روہانسی آواز میں کہا۔

” کیا بکواس کر رہے ہو ؟ ” عنایہ نے چلا کر کہا اور وہاں سے جانے لگی۔ کیف نے اپنی مسکراہٹ دبائی اور اسکے پیچھے گیا۔

******************

وہ اوپر آئی اور جلدی سے باہر نکلی لیکن وہاں وہ پارٹی میں جانے کی بجائے لمبی راہداری کی طرف گئی جو مین گیٹ کی طرف جاتی تھی۔

” باسکٹ۔۔۔۔۔رکو۔۔۔۔۔۔” کیف اسے پیچھے سے آوازیں دے کر روک رہا تھا لیکن وہ بالکل رکنے کے موڈ میں نا تھی۔

” کہاں جارہی ہو یار ؟ ” کیف جلدی سے اسکے سامنے آرکا تھا۔

” کیا تکلیف ہے ؟ ہٹو سامنے سے ” عنایہ ہانپتی کانپتی آواز میں چلائی تھی۔

” یار پاگل ہوگئی ہو کدھر جارہی ہو ؟ “

” تم سے مطلب ؟ تم تو خوش ہوگئے ہو نا اپنا بدلہ لے کر ” عنایہ اس پر چیخی تھی۔ نیچے بیسمنٹ سے لے کر یہاں تک کے سفر میں اسے ساری سمجھ آگئی تھی کہ یہ کیف کا کیا دھرا تھا۔

” اوکے اوکے فائن ” کیف نے سرنڈر کرنے کے انداز میں اپنے ہاتھ اٹھائے تھے۔

” چلو اب واپس ” کیف اسے چپ دیکھے آرام سے پارٹی میں جانے کیلئے کہا۔

” بالکل نہیں ! میں تمہارے ساتھ کہیں نہیں جاؤں گی مجھے گھر جانا ہے ابھی اسی وقت ” وہ ضدی انداز میں بولی۔ چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔

” اچھا ؟ کیسے جاؤ گی ؟ تم زینب کے ساتھ آئی تھی وہ اندر ہے چلو شاباش اندر چلو ” کیف نے آرام سے قائل کرنا چاہا۔ اسے خیال آیا زینب تو کافی دیر سے اسے ڈھونڈ رہی ہوگی۔ ایک تیز نظر اس نے کیف پر ڈالی اور پھر پلٹ کر واپس اندر چل دی۔

********************

وہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر برستی بارش دیکھ رہا تھا۔ انگلیوں میں جلتا سیگریٹ تھاما ہوا تھا۔ جسکا وہ وقفے وقفے سے کش لیتا۔ ذہن کے پردے پر بار بار وہ ہی منظر چل رہا تھا جب وہ اسکے سینے سے لگی تھی۔

” اوفف کیا فضول سوچ رہا ہوں میں ؟ ” اس نے اپنی سوچوں پر لعنت بھیجی۔

” نک چڑھی کہیں کی۔۔۔۔۔۔۔کتنی ضدی ہے۔۔۔۔۔پاگل۔۔۔۔۔۔اچھا ہوا میں اسکے پیچھے چلا گیا تھا۔۔۔۔۔ نہیں تو لینے کے دینے پڑ جاتے۔۔۔۔۔ ” وہ اسکے اس وقت فارم ہاؤس سے اکیلے نکل جانے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اسکا غصے والا چہرہ یاد کرکے اسکے لبوں پر مسکراہٹ در آئی۔ نفی میں سر ہلاتے ہوئے اس نے سیگریٹ باہر پھینکی اور کھڑکی بند کرکے پلٹ کر بیڈ پر آکر لیٹ گیا۔

*******************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *