Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 47)
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 47)
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
صبح صادق کے وقت سورج بادلوں کی اوٹ سے جھانکتا پورے آسمان کو روشن کررہا تھا۔ پورے فارم ہاؤس میں خاموشی چھائی تھی۔ کیف کے کمرے پر نظر ڈالیں جہاں پردوں سی آتی ہلکی ہلکی روشنی پورے کمرے میں پھیلی تھی۔ اسی روشنی کے باعث کیف نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں تو نظر اپنے اتنے قریب سوئی عنایہ پر پڑی۔ وہ ابھی تک اس کے حصار میں پرسکون سا سو رہی تھی۔ اس کا ایک بازہ عنایہ کے سر کے نیچے تھا۔ کیف نے بہت آرام سے اپنا بازو اس کے نیچے سے نکالا۔
” میری نیندیں اڑا کر خود کتنے مزے سے سو رہی ہے ” کیف کہنی کے سہارے لیٹا اب غور سے عنایہ کا چہرہ دیکھنے میں مگن تھا۔ متورم سرخ چہرہ، گلابی لب، سیاہ پلکوں کی جھکی جھالر، اس کے بال جو کچھ تکیے اور کچھ بستر پر بکھرے تھے۔ ایک عجیب سا احساس کیف کے اندر بیدار ہوا تھا۔ دل کہہ رہا تھا یہ وقت یہیں تھم جائے اور وہ ایسے ہی اسے دیکھتا رہے۔ وہ اس کی گردن پر جھکا تھا اور ایک گہرہ سانس بھرا۔
” کتنا مس کیا تھا اس خوشبو کو ” دھیمے سے کہا اور پھر نظر اس کے لبوں پر ٹھہر سے گئی۔
” کیوں صبح صبح مار کھانی ہے کیف ” وہ خود کو ڈپٹتا اپنے جذبات پر قابو پاتا اس کے پاس سے اٹھ گیا۔
**********************
وہ فریش ہو کر نیچے آیا تو فون ملا کر کان اور کندھے کے درمیان رکھ کر خود کچن میں اپنے لیے کافی بنانے لگا۔ دوسری طرف سے عمر نے پہلی ہی بیل پر کال پک کرلی تھی۔
” تم کال کررہے تھے رات کو خیریت ؟ ” کیف نے اس کے اٹھاتے ہی پوچھا۔
” ہاں تو نے میسج کیا تھا کہ مجھے کال کرو اور جب میں نے کال کی تو سالے تو نے کہا تھا میں مصروف ہوں بعد میں بات کرتا ہوں اور پھر تو غائب۔۔۔چکر کیا کے ہاں ؟ ” کیف کافی بیٹ کرتا ہوا زیر لب مسکرایا تھا۔ پھر اس نے ساری بات عمر کو تفصیل سے بتائی تھی کہ رات اس کی کال آئی تو کیف کھانے کی میز پر سے اٹھ کر باہر آیا اور اس نے اپنی گاڑی کے ٹائر کی ہوا نکالی۔ پھر اس نے اپنی ملازمہ سے باقی کے دونوں کمرے لاک لگا کر چابی اپنے پاس رکھنے کو کہا تھا تاکہ عنایہ اور وہ رات ایک ساتھ یہیں رک سکیں۔
” اوہ مائی گاڈ سیریسلی سب ٹھیک ہوگیا ؟ تم اور وہ ایک ساتھ تھے رات بھر ” کیف کی بات سن کر عمر حیران ہوتے ہوئے بولا۔
” ایسا تو کچھ نہیں “
” کیسے نہیں ہاں ؟ بتاؤں خالہ اور خالو کو آپ کا لاڈلا رات کو اپنی بیوی کی رخصتی کروا لایا ” عمر نے شوخ لہجے میں کیف کی ٹانگ کھینچنی چاہی۔
” بکواس نا کر ایسا کچھ نہیں ہے ” کیف نے کافی کا مگ لبوں سے لگایا لیکن اس کے چہرے پر ایک الگ سی چمک تھی جیسے عمر کی بات نے اسے لطف دیا تھا۔
” چل اب ڈرامے نا کر۔۔۔۔۔مجھ سے کیا چھپانا ؟ “
” میں نے کہا نا ایسا کچھ نہیں ہے اور تو جیسے عنایہ کو جانتا نہیں ہے۔۔۔۔۔میں ایسا سوچوں کا بھی تو وہ میرا قتل کردے گی ” کیف کو ایک دم اس کا کل رات والا روپ یاد آیا تھا۔ کیسے وہ اس پر چڑھ دوڑی تھی۔
” چچ چچ کیف مرتضیٰ اپنی بیوی سے کتنا ڈرتا ہے ” عمر نے اسکا مزاق اڑایا۔ کیف مسکرایا۔
” ڈرتا نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔مجھے بھلا کوئی آج تک کسی چیز سے روک پایا ہے ؟ میں خود ابھی یہ نہیں چاہتا ” کیف نے صاف گوئی سے کہا۔
” ہاں ہاں جانتا ہوں ” عمر نے آنکھیں گھمائی تھیں۔ دونوں میں مزید دو منٹ بات ہوئی اور اس کے بعد کیف فون بند کرتا کچن سے باہر نکل آیا۔
***********************
کیف بیڈروم میں واپس آیا تو وہ ابھی بھی اپنی نیند کے مزے لے رہی تھی۔
” لگتا ہے بہت عرصے بعد میڈم سکون کی نیند سو رہی ہیں ” کیف کہتا ہوا بیڈ کی جانب گیا اور اپنی پہلی والی پوزیشن میں بیٹھا پھر سے عنایہ کو دیکھنے لگا۔ ذہن کے پردے میں کل والا منظر ابھرا جب وہ اچانک سے یہاں آگئی تھی جو کہ اس کیلئے بھی حیران کن بات تھی۔
” اچھے سے جانتا ہوں تم یہاں کیوں آئی تھی۔ فون تو صرف بہانہ تھا ” وہ دھیمے لہجے میں بات کرنے لگا۔
” اتنا جلتی کیوں ہو ؟ ” اب کی بار وہ مسکرایا۔
” ویسے تم سے ایسے بات کرنا کتنا آسان ہے۔ کچھ بھی کر لو کچھ بھی کہہ لو آگے سے خاموشی۔۔۔کوئی منہ توڑ جواب نہیں کوئی غصے والے ایکسپریشن نہیں ” اس نے اپنا دائیاں ہاتھ بڑھایا اور عنایہ کے گالوں کو چھوا۔ وہ نیند میں ہی مسکرائی۔ کیف کی نظریں ایک بار پھر اس کے لبوں پر تھمی تھیں۔ وہ بے خود ہوتا جھکا ہی تھا کہ عنایہ نے کسمسا کر اپنی آنکھیں کھول دیں۔ اور پھٹی آنکھوں سے اپنے اوپر اتنے قریب جھکے کیف کو دیکھ کر وہ فوراً بدک کر دور ہوتی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا گئی۔ کیف ایک ہاتھ پر اپنا سر دھرے لیٹا رہا۔
” کک۔۔۔۔۔کیا کررہے تھے ؟ ” عنایہ نے اسے گھورتے ہوئے استفسار کیا۔
” کیا کررہا تھا ؟ ” کیف نے الٹا پوچھا۔
” زیادہ بنو مت۔۔۔۔۔۔۔اچھے سے جانتی ہوں کیا کررہے تھے”
” اچھا ! ” کیف اٹھ بیٹھا اور اس کے قریب ہوا۔
” پتا ہے تو بتاؤ کیا کررہا تھا ؟ ” وہ اس کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا۔ عنایہ نے بھی ایک پل کو اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔
” کہو تو کرکے بتا دوں کہ کیا کرنے والا تھا ؟ ” کیف معنی خیز سا بولا۔ عنایہ دونوں ہاتھوں سے اسے دھکیلتی سیدھی بیڈ سے اتر گئی۔
” میں تمہارا منہ توڑ دوں گی ” وہ حلق کے بل چلائی تھی۔ کیف نے قہقہہ لگایا۔ وہ بیڈ سے تھوڑے فاصلے پر کھڑی خونخوار نظروں سے اسے گھورنے لگی۔
” بعد میں گھورنا مجھے۔۔۔۔۔ جانتا ہوں بہت ہینڈسم ہوں۔۔۔۔۔ ابھی جاؤ جا کر میرے لیے ناشتہ بناؤ” کیف نےدونوں ہاتھ باہم ملا کر سر کے نیچے رکھے اور حکم صادر کیا تھا۔
” کیوں تمہاری ملازمہ ہوں ؟ اور ویسے بھی مجھے دیر ہو رہی ہے مجھے جانا ہے ” وہ کہتی واشروم میں بند ہوگئی۔ تھوڑی دیر بعد جب وہ باہر نکلی تو اپنے رات والے کپڑوں میں ملبوس تھی۔
” آج سنڈے ہے آفس سے چھٹی تو کہاں جانے کیلئے دیر ہو رہی ہے ؟ ” کیف نے پوچھا۔
” تم سے مطلب ؟ میری کوئی پرسنل لائف بھی ہے ” اسے نے دوبدو جواب دیا اور کمرے سے نکل گئی۔ کیف بھی جلدی سے اس کے پیچھے گیا۔
**********************
نور لاونج میں رکھے صوفے پر نیم دراز تھی۔ اس کی گود میں لیپ ٹاپ تھا جس پر وہ اپنی اور عنایہ کے تصویریں دیکھ رہی تھی۔ جیسے جیسے وہ ان تصویروں کو دیکھ رہی تھی اس کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔ حیدر لاونج میں داخل ہوا تو نظر سیدھا نور پر گئی۔
” یار نور ایک کپ کافی تو پلا دو ” وہ ابھی ابھی باہر سے آیا تھا۔
” جی بھائی ” وہ اپنی آنکھیں صاف کرتی بولی تو حیدر کا دھیان اس پر گیا۔ اس نے لیپٹاپ بند کرکے ٹیبل پر رکھا اور صوفے سے اٹھی۔ وہ اس کے پاس سے گزر کے جانے لگی تو حیدر نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے روکا۔
” تم روئی ہو ؟ ” حیدر نے تشویش لیے پوچھا۔
” نہیں بس آپی کی یاد آرہی تھی ” وہ کہتے ہوئے حیدر کے سینے سے لگ گئی۔
” بھائی آپی کہاں چلی گئی ہیں ؟ کتنے سال گزر گئے۔ وہ کیوں واپس نہیں آرہی ؟ انھیں تو بابا کے بارے میں بھی نہیں پتا ہوگا ” وہ روتے ہوئے کہنے لگی۔
” نور ! عنایہ جانتی ہے بابا کے بارے میں انفیکٹ میں جانتا ہوں وہ کہاں ہے ” حیدر نے نا چاہتے ہوئے بھی نور کو بتا دیا تھا۔
” کیا ؟ ۔۔۔۔۔۔۔آپ۔۔۔۔۔جانتے ہیں ؟ ” نور نے اپنا سر اٹھا کر بے یقینی سے حیدر کو دیکھا۔ حیدر نے اثبات میں سر ہلایا۔
” تو آپی کہاں ہیں بھائی ؟ آپ انھیں اپنے ساتھ کیوں نہیں لائے ؟ ” وہ سوال در سوال کررہی تھی۔
” میں تمھے سب بتا دوں گا لیکن فلحال تم یہ کسی کو نہیں بتاؤ گی ” حیدر نے اسے تاکید کرنی چاہی۔
” کیا نہیں بتانا اور کسے نہیں ؟ ” نور نے ناسمجھی سے پوچھا۔
” تمہاری وہ دوست کیف کی بہن کو۔۔۔۔اسے ہرگز نہیں بتانا کہ ہم جانتے ہیں عنایہ کہاں ہے اوکے ؟ “
” لیکن کیوں بھائی ؟ “
” تم سے جتنا کہا ہے اتنا کرو سوال نہیں کرو ” حیدر کہتے ساتھ اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔ پیچھے نور ناسمجھی سے اس کی پشت کو دیکھتی رہی۔
*********************
یہاں شام اتری اور ساتھ ہی بارش شروع ہوگئی۔ موسم مزید سرد ہوگیا۔ کیف دوپہر کو سٹیلا کیساتھ لنچ کرنے کے بعد سے گھر آچکا تھا۔ تھوڑی دیر پہلے ہی اس نے رابعہ بیگم کو کال کی اور پھر آدھا گھنٹہ لندن میں سب سے بات کرنے میں ہی گزر گیا۔ فون بند ہوا تو اسے کافی کی طلب ہونے لگی۔ وہ نیچے کچن میں آیا اور اپنے لیے کافی بنا کر واپس اپنے بیڈروم میں آگیا۔ کافی کا مگ ٹیبل پر رکھ کر اس نے اپنا فون اٹھایا۔ کانٹیکٹ لسٹ میں شروع میں ہی A پر کلک کیا اور اسے ایڈٹ کرکے A کی جگہ جنگلی بلی لکھ دیا اور سیو کردیا۔ ایسا کرتے ہوئے اس کے چہرے پر شرارت سے بھرپور مسکان سجی تھی۔ اب وہ اسے کال کررہا تھا۔ دوسری طرف بیل جانے لگی۔ کیف نے کافی کا مگ اٹھا کر لبوں سے لگا لیا۔
” ہیلو! ” دوسری جانب عنایہ نے کال اٹھاتے ساتھ ہی کہا۔
” پرسنل لائف سے فری ہوگئی ہو ؟ ” کیف نے طنز کیا۔
” تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
” ہاں میں! میرے علاؤہ اور کون ہوسکتا ہے “
” کیا مسئلہ ہے کیوں کال کی ؟ ” عنایہ نے سیدھے سے وجہ پوچھی۔
” پہلے تو یہ بتاؤ یہ کیا تم، تو لگا رکھا ہے ؟ میں تمہارا باس ہوں آپ، سر کہا کرو سمجھی “
” باس ہوگے تم آفس میں یہاں میرے سے کوئی توقع نہیں رکھنا ” عنایہ نے ناک چڑھا کر کہا۔
” آفس میں بھی تم کونسا لحاظ کرتی ہو “
” دیکھو میرا وقت ضائع نہیں کرو جو بکواس کرنی ہے کرو میں مصروف ہوں “
” ایسی کون سی مصروفیت ہے ؟ میں بھی جاننا چاہتا ہوں ” کیف نے تجسس سے پوچھا۔
” مائنڈ یو ! آفس کے حوالے سے بات کرنی ہو تو بات کرو ورنہ میں کال بند کررہی ہوں “
” ہاں ! یہ کہنا تھا صبح آف جلدی پہنچ جانا بہت کام ہے”
” یہ کہنے کیلئے کال کی تھی ؟ ” عنایہ نے غصے میں کہا۔
” ہاں ” کیف نے ہنسی ضبط کی۔۔
” دفع ہو جاؤ اور آئندہ کال مت کرنا ” عنایہ نے چلا کر کہا اور فون بند کردیا۔
” کمینہ جان بوجھ کر ستا رہا ہے ” عنایہ روہانسی ہوئی۔ دوسری طرف کیف اسے مس کررہا تھا اسی لیے بہانے سے اسے کال کی تھی۔ اب جب وہ مل گئی تھی تو کتنا مشکل تھا کہ وہ پاس ہو کر بھی اس سے دور تھی۔ دل چاہ رہا تھا وہ بس اس کی آنکھوں کے سامنے رہے چاہے لڑے جھگڑے لیکن اس کے آس پاس ہو۔ اس نے سرد سانس ہوا کے سپرد کی اور اپنی کافی ختم کرنے لگا۔
***********************
اگلے روز عنایہ کیف سے اپنا بدلہ لینے کیلئے اس کے کہنے کے باوجود جان بوجھ کر آفس دیر سے آئی تھی۔ لیکن اس دیری پر اس نے اپنا سر پیٹا تھا۔ کیونکہ اسے آتے ہی پتا چلا تھا آج سٹیلا صبح سے ہی کیف کے کیبن میں آ بیٹھی ہے اور تب سے دونوں باہر ہی نہیں نکلے۔ اس کے غصے کا گراف مزید بڑھا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ یہ کیسی کلائنٹ ہے جو اس کے سر پر ہی سوار رہتی ہے۔ وہ اپنے کیبن میں بیٹھی انتظار کرنے لگی۔ اسکی پیشانی کی رگیں تنی ہوئی تھیں۔ تھوڑی دیر مزید گزری اور اسکا ضبط جواب دے گیا تو وہ غصے سے بپھری اٹھی اور اس کے کیبن میں جا پہنچی جہاں وہ دونوں بیٹھے شاید اپنا کام ہی ڈسکس کررہے تھے۔ کیف نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
” وہ آپ نے کہا تھا صبح جلدی آنا کام ہے ” اس نے اس کی سوالیہ نظروں کا جواب دیا۔ کیف نے اپنی کلائی میں بندھی رسٹ واچ کو دیکھا پھر عنایہ کو۔ انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہا ہو بہت جلدی نہیں آگئی۔
” وہ میں ٹریفک میں پھنس گئی تھی اسی لیے دیر ہوگئی ” اس نے وضاحت دی۔ کیف اسے کچھ کہے بنا واپس سے سٹیلا کی جانب متوجہ ہوگیا اور عنایہ اسکا منہ تکتی رہ گئی۔ وہ کتنے ہی لمحے کھڑی رہی جب وہ دونوں اٹھے تھے۔ وہ اس کے پاس سے گزرا تو عنایہ کو اس کے پرفیوم کی خوشبو اتنی تیزی محسوس ہوئی تھی کہ وہ حیران ہوئی۔ وہ اب سٹیلا کے پاس جا کھڑا ہوا تھا۔ اور اس کی کسی بات پر مسکرایا۔ جس سے اس کے گال پر پڑتا ڈمپل نمایاں ہوا۔ عنایہ کی نظریں اس کے ڈمپل پر پڑی تو اس نے فوراً اپنی نظروں کا زاویہ بدلا۔ کیف سٹیلا کو سی آف کرنے کیلئے جارہا تھا۔
” اتنا تیز پرفیوم لگا کر آیا ہے جیسے شادی ہے اس کی چھچھورا انسان اور اوپر سے جب ایسے مسکرا مسکرا کر لڑکیوں سے باتیں کرے گا وہ تو پیچھے پڑیں گی ہی نا ” اس کے جاتے ہی وہ بڑبڑائی تھی۔
جب کیف واپس آیا تو وہ اسی طرح منہ بنائے کھڑی تھی۔ کیف زیر لب مسکرا کر اپنی نشت پر جا بیٹھا اور اسے کام سمجھانے لگا۔
” اور ہاں دھیان سے کام کرنا اور بالکل پرفیکٹ پریزنٹیشن ہونی چاہیے” جب وہ اسے ڈکٹیٹ کر چکا تھا تو آخر میں اس نے تلقین کی۔ وہ جو پہلے ہی غصے میں تھی اس بات پر اسے مزید تپ چڑھی تھی۔ یہ شخص خود کو سمجھتا کیا تھا۔
” تم زیادہ آور سمارٹ مت بنا کرو سمجھے۔۔۔۔۔۔۔۔شاید بھول گئے ہو تم سے ہر چیز میں آگے رہی ہوں یہاں تک کہ میری پریزینٹیشن تم سے زیادہ پروفیسرز کو پسند آتی تھیں اور ٹاپ بھی میں نے ہی کیا تھا اور تم اس کمپنی کو چلا رہے ہو تو سمجھتے ہو مجھ سے زیادہ بہتر ہو تو محض خوش فہمی ہے تمہاری ” وہ اس کے ٹیبل پر ہاتھ مار کر چلائی تھی۔
” واؤ ویری نائس ” کیف داد دینے والے انداز میں اپنی نشت سے اٹھ کر اس تک آیا تھا۔
” ڈارلنگ ! وہ کیا ہے نا کلاس میں کون کیا تھا میٹر نہیں کرتا۔۔۔۔بات یہ ہے کہ اس وقت میں کس پوزیشن پر ہوں اور تم کہاں پر ہو ” کیف نے آخری الفاظ اسے سر تا پیر دیکھتے ہوئے کہے تھے۔
” ہاں ! تم نے کونسا اپنے بل بوتے پر یہ کمپنی کھڑی کی ہے ؟ اپنے باپ کے بزنس کو اپنا بنا کر یہ ظاہر کررہے ہو کہ تم نے اپنے خون پسینے کی محنت سے کیا ہے ” اس کی بات پر وہ کہاں چپ رہنے والی تھی اسی وقت حساب چکتا کیا تھا۔
” جیسے بھی ہے اس وقت تم سے اوپر تو میں ہی ہوں ” ٹیبل سے ٹیک لگا کر سینے پر ہاتھ باندھ کر وہ اسے زچ کرتے ہوئے بولا۔
” واٹ ایور ! ” کوئی جواب نا بن پایا تو وہ کہتی باہر جانے لگی۔
” آہ ! ” ایک دم اس کے کراہنے کی آواز پر وہ پلٹی تھی۔
” کیا ہوا ؟ ” اسے دل پر ہاتھ رکھے دیکھ وہ پریشان ہوئی۔
” کچھ نہیں” وہ جس تکلیف سے بولا تھا عنایہ اس کے چہرے پر تکلیف کے تاثرات واضح دیکھ سکتی تھی۔
” کیسے نہیں تم ٹھیک نہیں لگ رہے ہو ” وہ فکرمند نظر آنے لگی۔
” میں وہ۔۔۔۔۔۔کیسے کہوں بات ہی اتنی بڑی ہے۔ جب تم چلی گئی تھی مجھے ہارٹ اٹیک ہوا تھا ” کیف نے اپنے لہجے کو سنجیدہ رکھتے ہوئے کہا۔
” واٹ ؟ ” عنایہ شاک میں چلائی۔ کیف نے سر اثبات میں ہلایا۔
” تم نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے بتایا کیوں نہیں ؟ ” وہ اسے پوچھنے لگی۔
” کیسے بتاتا ؟ تم نے موقع ہی نہیں دیا ” کیف اس سے رخ مڑ کر کھڑا ہوگیا۔ اس کے چہرے پر اب شرارت بھری مسکان رقصاں تھی۔ عنایہ پریشانی سے اس کی پشت کو دیکھ رہی تھی۔
” کیسے ہوا یہ ؟ اور ڈاکٹر نے کیا کہا ” وہ ایک دم گھبرائی تھی۔
” سموکنگ کی وجہ سے۔۔۔۔۔اور ڈاکٹر نے کہا ہے زیادہ سٹریس نہیں لینا اور میڈیسن پر بھی لگا دیا ہے ” وہ واپس اس کی اور پلٹ کر اداسی سے بولا۔
” تو تم۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں کرتے ہو سموکنگ ؟ اور اس رات بھی تم یہ جانتے ہوئے بھی کہ تمہاری طبیعت نہیں ٹھیک پھر بھی سموکنگ کررہے تھے “
” ڈاکٹر نے کہا ہے کوئی ٹینشن نہیں لینی ورنہ اب کی بار مشکل ہے میرا بچنا ” وہ اس کی بات کے جواب پر اپنی ہی مزید کہہ رہا تھا۔ مقصد صرف اس کی توجہ حاصل کرنا تھی۔ عنایہ نے ہاتھ بڑھا کر ایک تھپڑ اس کے منہ پر مارا تھا۔ تھپڑ ہلکا سا تھا لیکن کیف اس کی تواقع نہیں تھی۔
” کیا بکواس کی ہے؟ ایسے کیسے کچھ ہوگا ” عنایہ کی آنکھوں میں نمی چمکی تھی۔ وہ بے اختیار اس کے سینے سے جا لگی۔ کیف نے دونوں ہاتھ اس کے گرد باندھے تھے۔ وہ مسکرانے لگا تھا۔
*************************
