Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 50) Last Episode (Part - 1)

222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 50) Last Episode (Part - 1)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

سورج کی روشنی ہر سو پھیلی صبح ہونے کا پتہ دے رہی تھی۔ روشنی کی کرنیں مرتضیٰ مینشن پر پڑتی ایک خوبصورت منظر پیش کررہی تھیں۔ کیف کے کمرے میں نظر ڈالیں جہاں عنایہ بیڈ پر ایک ہاتھ گال کے نیچے رکھے کروٹ کے بل سو رہی تھی۔ تھوڑی دیر مزید گزری جب عنایہ بیدار ہوئی اور سیدھی ہوتی اب وہ چت لیٹی غائب دماغی سے اوپر لگے بند پنکھے کو دیکھ رہی تھی۔ پھر اس نے یہاں وہاں نظر گھمائی تو خود کو انجان جگہ پاہ کر وہ ایک دم چونک کر اٹھ بیٹھی۔ لیکن جیسے ہی حواس بحال ہوئے تو گزری شب کے سارے مناظر ذہن کے پردے پر اجاگر ہوئے۔ کیف کا لمس اس کی سرگوشیاں، جسارتیں یاد کرتے ہی دل بے ہنگم سا ہوگیا۔

” افف یہ میں کیسے کرسکتی ہوں” دونوں ہاتھ سر پر رکھے وہ پشیمان نظر آنے لگی۔ دونوں ٹانگوں کے گرد بازوؤں کا حلقہ بنائے بیٹھی اب وہ اس سب کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ پھر اس نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا جب نظر سامنے دروازے کے پاس رکھے کاؤچ پر پڑی جہاں اس کا ڈوپٹہ آدھا کاؤچ اور آدھا فرش پر گرا پڑا تھا۔ وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھتی دروازے تک گئی اور دھیرے سے دروازہ کھولتی اس نے سر نکال کر باہر جھانکا تھا۔ لیکن کوئی نہیں نظر آیا تو اس نے دروازا واپس بند کردیا۔ اس بات کا احساس تو ہوگیا تھا کہ وہ کمرے میں نہیں ہے لیکن شاید واشروم میں ہو۔ یہ سوچتے ہی اس نے دائیں جانب واشروم کی طرف قدم بڑھائے اور ہینڈل پر ہاتھ رکھے اسے کھولا اور وہ کھل گیا۔ مطلب وہ واشروم میں بھی نہیں تھا۔ اس نے پلٹ کر پورے کمرے میں نظر ڈالی تھی۔ ڈریسنگ روم کا دروازا تو پہلے ہی کھلا تھا تو اس سے ظاہر تھا وہ وہاں بھی نہیں ہے۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے باہر جائے یا نا جائے ؟ لیکن وہ اب کمرے میں بیٹھی تو نہیں رہ سکتی تھی لیکن باہر اگر کیف کے گھر والوں میں سے کوئی ہوا تو وہ کیا کرے گی ؟ اور خود وہ کہاں چلا گیا تھا۔ عنایہ اس بات سے ناواقف تھی کہ کیف کی فیملی گھر پر نہیں ہے۔ اسے جھجھک سی محسوس ہورہی تھی۔ عنایہ نے وال کلاک دیکھی جو دن کے بارہ بجا رہی تھی۔ پھر کچھ سوچ کر وہ واشروم کی جانب بڑھی تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ فریش ہو کر باہر نکلی۔ اور گیلے بال لیے ڈریسنگ روم میں داخل ہوئی۔ پہلے اپنے بال برش کیے پھر خود پر پرفیوم کیا۔ آئینے میں اپنے حلیے پر نظر ڈالی اور پھر ہمت کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل آئی۔

***********************

صائمہ بیگم، حیدر اور نور ڈائنگ ٹیبل پر ناشتہ کررہے تھے۔ صائمہ بیگم کچھ پریشان نظر آرہی تھی۔ انہوں نے حیدر کی طرف دیکھا جو ناشتہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے فون پر مصروف تھا۔

” حیدر مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی ” انہوں نے گفتگو کا آغاز کیا۔

” جی ! میں سن رہا ہوں” اس نے فوراً اپنا فون ہاتھ سے رکھا تھا۔

” نور تم ذرا دیکھو چائے بن گئی ہے تو لے آؤ ” صائمہ بیگم نے کہا تو نور سر اثبات میں ہلا کر ڈائنگ سے اٹھ گئی۔

” کل طیبہ بھابھی کی کال آئی ہوئی تھی، میری ان سے گھنٹہ بھر بات ہوتی رہی باتوں باتوں میں وہ تمہاری شادی کا پوچھنے لگی تھیں” ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی حیدر بول اٹھا۔

” تو ؟ ” حیدر بدمزہ ہوا تھا۔

” پہلے میری بات مکمل ہونے دو ” انہوں نے تھوڑا سختی سے کہا تھا۔

” وہ اس لیے پوچھ رہی تھیں کیونکہ وہ حسن کیلئے نور کو پسند کرتی ہیں اور رشتہ لانا چاہتی ہیں لیکن تمہاری وجہ سے وہ رکی ہوئی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں جب تک تمہاری نہیں ہوگی میں نور کا سوچ بھی نہیں سکتی ” انہوں نے بات مکمل کی تو حیدر بالکل چپ بیٹھا کچھ سوچنے لگا۔

” ماں ! یہ بہت اچھا رشتہ ہے آپ میری وجہ سے رکیں نہیں ان کو بلوا لیجیے” حیدر نے کہا تو صائمہ بیگم کا دل چاہا اپنا ماتھا پیٹ لیں۔

” نہیں تم بتا دو کیا چاہتے ہو آخر ؟ “

” میں کیا چاہتا ہوں ؟ ” اس نے کندھے اچکا کر پوچھا۔

” حیدر! تم نور سے بڑے ہو پہلے تمہاری ہوگی پھر میں کچھ نور کا سوچوں گی ” انہوں نے دو ٹوک کہا تھا۔

” اور ایسا فلحال نہیں ہوسکتا ” اپنا ناشتہ ختم کرتا وہ مکمل فون میں مصروف ہوچکا تھا۔ نور بھی چائے لے آئی تھی۔ اس کی بات پر صائمہ بیگم بے حد غصے میں آئی تھیں۔ اسی وجہ سے وہ پریشان تھیں۔ یہاں نور کی شادی کی عمر ہوگئی تھی اور اس لڑکے کو کوئی پرواہ نہیں۔ کیسے سمجھائیں اسے کہ پہلے اس کی ہوگی تو نور کی شادی میں آسانی ہوگی۔ اور اب تو کتنے ہی ان کے جاننے والے ان سے پوچھتے رہتے تھے کہ حیدر ماشاللہ سے بتیس کا ہوگیا ہے اس کی شادی کب کرنے کا ارادہ ہے۔ اور وہ یہ کہہ کر بات بدل دیتیں کہ وہ اپنے کام کی وجہ سے مصروف ہوتا ہے۔ اور اب انھیں پریشانی اس بات کی لاحق تھی کہ کہیں حیدر کی وجہ سے طیبہ بھابھی حسن کی شادی کہیں اور نا کردیں۔ طیبہ فیصل صاحب کے بہت ہی پرانے اور قریبی دوست اکرام صاحب کی زوجہ تھیں۔ ان کی یہ دوستی اتنی گہری تھی کہ گھر آنا جانا لگا رہتا تھا۔ فیصل صاحب کے جانے کے بعد بھی ان دونوں خاندانوں میں سب پہلے جیسا ہی تھا۔ حسن کی دو بڑی بہنیں تھیں جن کی شادی ہو چکی تھی۔ اور اب اکرام صاحب اور طیبہ بیگم حسن کی شادی کا ارادہ رکھتے تھے۔ حسن ایک بہت اچھا لڑکا تھا۔ ان کی نظر کے سامنے پلا بڑا تھا۔ان کا کپڑوں کا کاروبار تھا جو کافی اچھا چل رہا تھا اور حسن اپنے بابا کیساتھ ہی اس کام کو آگے بڑھا رہا تھا۔ یہ نہیں تھا کہ نور کو کوئی اور رشتہ نہیں مل سکتا تھا ۔ بات یہ تھی کہ اکرام بھائی سے فیملی جیسا تعلق تھا اور وہ ان کو انکار نہیں کرنا چاہتی تھیں اور نا ہی حسن جیسے لڑکے کو وہ ہاتھ سے جانے دے سکتی تھیں، بے شک وہ نور کیلئے بہترین انتخاب تھا۔ حیدر اپنی چائے کا کپ لیے صوفے پر جا بیٹھا تھا۔ نور نے صائمہ بیگم کے سامنے ان کی چائے رکھی تھی لیکن وہ اٹھ کر حیدر کے پیچھے چلی گئیں۔

***********************

عنایہ نے تقریباً سارا گھر چھان مارا تھا لیکن اسے کوئی نظر نہیں آیا۔ کوئی ملازم تک نہیں تھا۔ اسے عجیب لگا۔ شاید کہیں گئے ہوں گے تبھی تو وہ اسے گھر لے آیا تھا ورنہ نا لاتا۔ یہ ایک طرح سے ٹھیک ہوگیا تھا ورنہ وہ کبھی کسی کو یوں فیس نا کر پاتی۔ لیکن اب اسے کیف کے آنے سے پہلے یہاں سے جانا چاہئے۔ لاونج میں کھڑی وہ سوچ رہی تھی۔ اور ویسے بھی اب تو وہ بالکل بھی یہاں نہیں رک سکتی تھی۔ وہ چلتی ہوئی داخلی دروازہ عبور کرکے باہر نکل گئی لیکن تین چار منٹ بعد ہی اندر واپس آگئی تھی۔ اس کے چہرے کے تاثرات بگڑے ہوئے تھے۔ کمر پر دونوں ہاتھ دھرے وہ غصہ ضبط کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ باہر کھڑا گارڈ اسے جانے ہی نہیں دے رہا تھا۔ عنایہ نے کتنی کوشش کی وہ اسے یہاں سے جانے دے لیکن وہ تو ٹس سے مس نہیں ہوا تھا۔ یقیناً اسے کیف نے کہا ہوگا۔ وہ وہیں کھڑی کوئی ترکیب سوچنے لگی جب کیف اسے سیڑھیاں اترتا نظر آیا۔ بلیک ٹراؤزر پر گرے فل سلیوس شرٹ ماتھے پر بال بکھرے وہ اتنے عام سے حلیے میں بھی اتنا وجیہہ لگ رہا تھا۔ عنایہ اسے دیکھ کر چونک گئی۔ اسے لگا وہ گھر پر نہیں تھا لیکن شاید اس نے صحیح سے دیکھا نہیں تھا کیونکہ کیف سب سے اوپر والی منزل پر بنے جم میں موجود تھا۔ وہ مسکراتا ہوا اس کے قریب آرہا تھا۔

” گڈ مارننگ ! ” مخمور لہجے میں کہتا وہ اس کے بالکل قریب تر ہوا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آج الگ ہی چمک تھی۔ عنایہ بت بنی کھڑی اسے دیکھتی رہی۔ کیف نے ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے پر آتے بالوں کو ہٹایا تو وہ ہوش میں آتی اس سے دور ہوئی۔ وہ اس سے نظریں چراتی یہاں وہاں دیکھنے لگی۔ کیف نے اپنے لب دانتوں تلے دبائے تھے۔

” ناشتہ کرو گی ؟ ” اس نے خود ہی بات کا آغاز کیا تھا۔

” مجھے گھر جانا ہے ” اس نے الٹ ہی جواب دیا۔

” کیوں؟ ” کیف نے اسے اپنی نظروں کے حصار میں رکھتے ہوئے پوچھا۔ اس کے کیوں کہنے پر عنایہ نے اسے دیکھا تھا۔

” بس جانا ہے ” وہ پھر سے اپنی نظروں کا زاویہ بدل گئی۔ اس کی خمار سے بھرپور آنکھوں میں دیکھنے کی سکت نا تھی۔

” اچھا ! آؤ پہلے بریک فاسٹ کرتے ہیں پھر چلی جانا ” وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے کچن میں لے جانے لگا۔

” نہیں مجھے نہیں کرنا بریک فاسٹ ” عنایہ نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالا تھا۔ کیف نے اسے گھور کر دیکھا پھر لاونج میں رکھے انٹر کام تک گیا اور سرونٹ کوارٹر سے کک کو بلوایا۔ مرتضیٰ مینشن کے سارے ملازم اپنی فیملیز کیساتھ بیک سائیڈ پر بنے کوارٹرز میں رہتے تھے۔ چونکہ کیف ان دنوں گھر اکیلا تھا اس لیے وہ صرف یہاں تب آتے جب کیف انھیں خود کسی کام کیلئے بلواتا۔ کیف چلتا ہوا واپس اس کے سامنے آرکا۔

” یہاں سے جانا ہے نا ؟ ” کیف نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ جس کے جواب پر عنایہ نے فوراً گردن ہاں میں ہلائی۔

” تو ٹھیک ہے ناشتہ کرلو پھر پکا جانے دوں گا ” عنایہ نے نا چاہتے ہوئے بھی اس کی بات مان لی تھی۔

***********************

حیدر ٹی وی اون کرتا صوفے پر بیٹھا چائے پینے لگا تھا جب صائمہ بیگم اس کے سر پر آن پہنچی۔

” حیدر! تم چاہتے کیا ہو ؟ ” انہوں نے صاف صاف پوچھا تھا۔ حیدر نے ٹی وی کی آواز میوٹ کی اور ان کی طرف متوجہ ہوا۔

” کس بارے میں ؟ “

” اپنی شادی کے بارے میں اپنی زندگی کے بارے میں “

” ماں آپ اچھے سے جانتی ہیں میں عنایہ کے علاوہ کسی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ” اس نے دو ٹوک کہہ کر چائے کا کپ لبوں سے لگایا تھا۔

” تو ٹھیک ہے اگر اسی سے کرنی ہے تو اسے گھر کیوں نہیں لاتے ؟ ” ان کی بات وہ اس بار چپ ہی رہا تھا۔ نور بھی ڈائننگ سے اٹھتی وہیں آگئی تھی۔ صائمہ بیگم اب سامنے والے صوفے پر بیٹھ چکی تھیں۔

” میں اس سے بات کروں گا اور پھر وہ اس لڑکے سے ڈایورس لے گی تو ہم شادی کرلیں گے ” وہ سینٹر ٹیبل پر پرسوچ نگاہیں جمائے بولا تھا۔ اس کی بات نور کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھیں۔

” اتنا آسان ہے یہ سب ؟ ” صائمہ بیگم نے کسی خدشے کے تحت پوچھا تھا۔

” شاید نہیں! لیکن ایسا ہی ہوگا ” حیدر پورا ارادہ کیے ہوا تھا۔

” بھائی یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ ” اب کی بار نور بولی تھی۔ اس کی آواز پر دونوں ماں بیٹے نے اس کی جانب دیکھا تھا۔

” آپ جانتے بھی ہیں آپ کیا بول رہے ہیں؟ آپ کو کیا لگتا ہے کیف بھائی آپی کو چھوڑ دیں گے ؟ “

” کیوں نہیں چھوڑے گا ؟ ” حیدر نے ماتھے پر بل ڈالے کہا تھا۔

” کیونکہ وہ آپی سے بے حد محبت کرتے ہیں اور مجھے نہیں لگتا وہ انہیں کبھی بھی خود سے الگ کریں گے “

” اس کی محبت گئی بھاڑ میں۔۔۔۔۔۔اور ویسے بھی محبت زبردستی کسی کو بلیک میل کرکے اس سے نکاح کرکے حاصل نہیں ہوتی “

” اور آپ کو لگتا ہے آپی کیف بھائی سے محبت نہیں کرتیں تو آپ غلط ہیں۔۔۔۔۔۔۔وہ ان سے بے انتہا محبت کرتی ہیں ” حیدر بے یقینی سے اپنی بہن کو دیکھا۔

” بے شک وہ ان سے اس طرح نکاح نہیں کرنا چاہتی تھیں لیکن انہوں نے ہاں بھی تو کیف بھائی کی خاطر کی تھی کیونکہ وہ اس وقت مجبور تھیں کہیں نا کہیں انھیں لگتا تھا وہ جو کہہ رہے تھے وہ کر گزریں گے ” وہ مزید بولی۔ حیدر کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اسے ایک پل کو دکھ ہوا۔ لیکن اسے یہ کہنا ہی تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کا بھائی ایک سراب کے پیچھے اپنی زندگی برباد کرے۔

صائمہ بیگم نے ترحم بھری نظروں سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا جو ساکن وجود لیے اس وقت بالکل ٹوٹا ہوا لگ رہا تھا جیسے کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح۔ وہ اس کا دکھ سمجھ سکتی تھیں۔ حیدر اپنا کپ ٹیبل پر رکھتا اٹھا تھا اور وہاں سے جانے کیلئے پلٹا ہی تھا کہ صائمہ بیگم تڑپ کر پکارتی اس کے پیچھے اٹھی تھیں۔

” حیدر میرے بچے ” وہ آبدیدہ ہوگئیں۔ وہ ان کی بھیگی آواز پر تھما تھا اور واپس پلٹ کر انھیں دیکھا تھا۔

” ماں ! آپ پریشان مت ہوں میں ٹھیک ہوں ” وہ جلدی سے ان تک آتا انھیں تسلی دینے لگا کیونکہ اپنی ماں کو یوں دیکھ کر اسکا دل پسیج گیا تھا۔ وہ روتی چلی گئی تھیں۔ نور بھی ان کے پاس آئی ماں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انھیں دلاسہ دینے لگی۔

” ماں مجھے وقت لگے گا لیکن میں سنبھل جاؤں گا اور آپ فکر نہیں کریں آپ جب چاہیں گی جہاں چاہیں گی میں وہاں شادی کروں گا ” اس نے دل سے کہا تھا کیونکہ اپنی ماں کو وہ مزید دکھ نہیں دینا چاہتا تھا لیکن اس سے پہلے ایک بار عنایہ سے خود بات کرنے کا بھی سوچ چکا تھا۔

***********************

کیف اور عنایہ جیسے ہی ناشتے سے فارغ ہوئے تھے کیف کو اپنی مام کی کال آگئی اور پھر وہ کتنی ہی دیر ان سے بات کرتا رہا تھا۔ عنایہ کب سے کال بند ہونے کا انتظار کررہی تھی لیکن اس کی باتیں ہی نہیں ختم ہورہی تھی اوپر سے کیف کی بار بار اس پر اٹھتی گہری نظروں سے اسے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ اتنے میں کک کچن کے کام ختم کرتا واپس جا چکا تھا۔ جیسے ہی کال بند ہوئی وہ فوراً سے اس کے سر جا پہنچی۔

” اپنے گارڈ سے کہو مجھے جانے دے ” اس کی بات کا کیف نے کوئی اثر نہیں لیا اور وہیں صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے اپنے فون پر مصروف رہا۔

” میں کچھ کہہ رہی ہوں” عنایہ نے ضبط کرتے ہوئے کہا تھا۔ اس وقت وہ یہاں سے ہر حال میں نکلنا چاہتی تھی اور یہ شخص اس کیلئے اتنا ہی یہ کام مشکل بنا رہا تھا۔

” میں نے سنا نہیں” کیف فون چھوڑتا اٹھ کھڑا ہوا۔

” تم۔۔۔۔۔۔۔نے کہا۔۔۔۔۔۔تھا مجھے جانے دو گے ” وہ بامشکل بول پائی تھی۔ کیونکہ وہ بالکل قریب کھڑا تھا۔

” نا جانے دوں تو ؟ ” کیف نے ہاتھ بڑھا کر اس کے گال پر اپنی انگلی کی پشت پھیری تھی جس پر عنایہ دم سادھ گئی تھی۔

” مم۔۔۔۔۔میں جاؤں گی ” اس نے ہمت کرتے ہوئے کہا تھا۔

” اچھا جا کہ بتاؤ” کیف نے چیلنچ کرنے والے انداز میں کہا تھا۔ عنایہ کو اس کی ہٹ دھرمی پر اب غصہ آنے لگا تھا۔

” ٹھیک ہے جارہی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ کون مجھے روکتا ہے ” وہ بھی اپنے پہلے والے انداز میں واپس آتی کہہ کر پلٹی ہی تھی کہ کیف اس کی کلائی تھام کر اسے واپس سے کھینچ چکا تھا وہ سیدھا اس کے سینے سے آ لگی تھی۔

” تم کہیں نہیں جاؤ گی اب یہیں رہو گی میرے ساتھ” کیف عنایہ کی کلائی اس کی پشت سے لگاتا بولا۔ عنایہ کو اپنی سنگین غلطی کا احساس ہونے لگا۔ اسے رات کو یہاں اس کے ساتھ آنا ہی نہیں چاہیے تھا اس نے خود کو کوسا تھا۔

” تم ایسا نہیں کرسکتے ” عنایہ نے مزاحمت کی۔

” کرسکتا ہوں ” کیف اس کی آنکھوں میں جھانکتا اسے بے بس کررہا تھا۔ اس سے پہلے کی وہ اسے مکمل بے بس کرتا عنایہ فوراً سے سنبھل کر اپنا چہرہ موڑ گئی اور خود کو چھوڑوانے کیلئے کوشش کرنے لگی۔

” ویسے کل رات کا نشہ ابھی اترا نہیں ہے میرا ” کیف نے خماری میں ڈوبی آواز میں کہا تھا۔ عنایہ نے چہرہ واپس اس کی طرف گھمایا تھا اور پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔ کیف اس کے تاثرات دیکھ زیر لب مسکرایا۔ وہ کچھ اور سمجھ رہی تھی۔

” شراب یا ڈرگز کے نشے کی بات نہیں کررہا تمہارے نشے کی بات کررہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔تم بھی تو ایک نشہ ہو ” کیف نے جھک کر اس کے کان میں سرگوشی کی تھی۔ عنایہ کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا۔ کیف کی قربت اس کی جان لیوا باتیں اسے پاگل کررہی تھیں۔ وہ بہت بری طرح سے پھنس چکی تھی۔ کیف نے جھک کر اسے اپنے بازوؤں میں اٹھایا۔

” کک۔۔۔۔۔۔۔کیا کررہے ہو نیچے اتارو مجھے ” اس نے فوراً احتجاج کیا تھا لیکن دوسری طرف پروا کسے تھی۔ وہ اسے لیے آگے بڑھنے لگا۔ وہ زور زور سے ٹانگیں مارتی اس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کررہی تھی لیکن بے سود رہا۔ کیف سیڑھیاں چڑھتا اپنے روم میں جارہا تھا۔

” میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی کیف ” اب کی بار وہ اپنے ہاتھ کے مکے اس کے سینے پر مارتی زور سے بولی تھی۔ کیف اس کی بات پر ہنسا تھا۔ عنایہ نے اس کے سر کے بال اپنے ہاتھ کی مٹھی میں لیے کھینچے تھے۔

” افف جنگلی بلی ! تمھے ذرا سیدھا کرتا ہوں تاکہ آج کے بعد مجھ پر ہاتھ اٹھانے سے پہلے سو بار سوچو ” عنایہ کی رنگت اڑی تھی۔

***********************

دوبارہ عنایہ کی آنکھ کھلی تو شام کے سائے ہر سو پھیل چکے تھے۔ وہ کیف کے سینے پر سر رکھے سو رہی تھی اس نے اپنا سر اٹھایا تو پہلی نظر اس کے چہرے پر پڑی تھی جو پرسکون سا سو رہا تھا۔

” کمینہ” اسے گھورتی وہ بڑبڑائی تھی۔ اس کی حرکت پر اسے رہ رہ کر غصہ آرہا تھا۔ آہستہ سے وہ اس سے دور ہوئی تھی اور پھر اپنا دوپٹہ جو آدھا اس کے نیچے تھا آرام سے نکالا تھا تاکہ وہ اٹھ نا جائے۔ ڈوپٹہ لیے وہ روم سے نکل کر بھاگتی ہوئے نیچے آئی تھی۔ اسے ہر حال میں کیف کے جاگنے سے پہلے یہاں سے نکلنا تھا۔ جیسے ہی وہ باہر نکلی ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اس سے ٹکرایا تھا۔ جاتی سردیاں تھی لیکن شامیں ابھی بھی اکثر ایسی ہی ٹھنڈی رہتی تھیں۔ وہ اپنا دوپٹہ پھیلا کر خود پر اوڑھ چکی تھی۔ گیٹ کے پاس آئی تو گارڈ اسے تالا لگاتا نظر آیا۔ تھوڑی دیر گارڈ سے بحث کرکے آخر کار وہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوچکی تھی۔ اور یہ اتنا آسان نہیں تھا عنایہ نے اسے پولیس کی دھمکی تھی کہ اگر وہ اسے جانے نہیں دے گا تو وہ پولیس کو کال کرے گی اور پھر وہ اسے اور اس کے صاحب دونوں کو لے جائیں گے اور گارڈ واقعی میں اس بات سے ڈر کر مان گیا تھا۔ اس کے جانے کے بعد بھی گارڈ پریشان رہا کیونکہ اس کے صاحب نے اسے بتایا تھا کہ بی بی ان کی بیوی ہے اور اسے کسی بھی حال میں گھر سے باہر جانے نہیں دینا۔ لیکن وہ بھی بیچارہ بری طرح پھنسا تھا۔

***********************

رات کے آٹھ بجے کے قریب کیف کی آنکھ کھلی تھی۔ اُٹھتے ساتھ ہی اس نے عنایہ کو دیکھنا چاہا لیکن وہ بیڈ پر نہیں تھی۔

” عنایہ” اس کا نام پکارتا وہ اٹھ بیٹھا۔ اس نے بند کھلتی آنکھوں سے پورے کمرے میں نظر دوڑائی تھی۔ بیڈ سے اٹھتا وہ اسے باتھ روم ڈریسنگ روم اور اپنے کمرے سے منسلک ٹیرس پر بھی دیکھ چکا تھا وہ کہیں نہیں تھی۔

” شاید نیچے ہوگی ” کیف خود سے کہتا جلدی سے کمرے سے نکلا تھا نیچے آکر وہ اسے ہر جگہ دیکھ چکا تھا وہ کہیں نہیں تھی۔ کہیں اپنے فلیٹ تو نہیں چلی گئی۔ یہ خیال آتے ہی کیف طیش میں آیا تھا۔ وہ جلدی سے باہر نکلا تھا اور گارڈ کے پاس جا کر اس سے عنایہ کا پوچھا تھا۔ گارڈ نے ڈرتے ڈرتے ساری بات بتائی تو کیف نے اسے خوب جھڑکا تھا۔

” یو آر گوئنگ ٹو پے فار اٹ عنایہ ” کیف نے اپنے ہاتھ کی مٹھی بھینچی تھی۔ اس کا چہرہ اس وقت غصے سے لال ہورہا تھا۔ وہ جلدی سے واپس اندر گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ فریش ہوتا اپنی گاڈی نکالتا مینشن سے نکل چکا تھا۔

**************************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *