Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 4)
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 4)
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
عنایہ اپنی وارڑروب کے سامنے کھڑی آج ویلکم پارٹی پر پہن کر جانے کیلئے کپڑے دیکھ رہی تھی۔
” افف کچھ اچھا نہیں ہے پہننے کو ” وہ جھنجلاہٹ سے بولی۔ (وہ ہی لڑکیوں والا مسئلہ الماری بھری پڑی ہوتی ہے کپڑوں سے لیکن ان کے پاس کچھ اچھا نہیں ہوتا)۔
” ارے ارے کیوں نہیں ہے؟ ” نور جو صوفے پر لیٹی آئی پیڈ پر گیم کھیل رہی تھی عنایہ کی آواز سن کر تیزی سے آئی پیڈ کو صوفے پر پھینک کر اسکی طرف آئی۔
” یہ کیا ہے پھر ؟ ” نور نے ایک ایک سوٹ نکال کر بیڈ پر اچھالا۔
” افف نور یہ کیا طریقہ ہے؟ یہ سب اچھے نہیں ہیں یار بہت لاوڈ ہیں، میں کچھ سمپل سا پہننا چاہ رہی ہوں “
” اللہ اللہ آپی ! آپ پارٹی پر جاری ہیں کسی کے چہلم پر نہیں “
” نور کی بچی کیا اول فول بول رہی ہو ” عنایہ نے اسے ڈپٹا تھا۔
” اچھا چھوڑیں یہ دیکھیں یہ پہنیں گی آپ ” اس نے ایک شیفون کا گہرے نیلے رنگ کا فراک اس کے ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔
” یہ صحیح رہے گا کیا ؟ ” عنایہ نے فراک کو آئینے کے سامنے لے جاتے ہوئے اپنے ساتھ لگایا۔
” ہاں بالکل جل پری لگیں گی ” نور نے آنکھیں پٹپٹاتے کہا۔ عنایہ اسکی بات پر نفی میں سر ہلاتے ہوئے مسکرائی۔
” اچھا سنیں آپی میں اور حیدر بھائی آپکو پارٹی ختم ہونے کے بعد پک کرنے آئیں گے اوکے ؟ “
” او ہاں آج تو حیدر بھی آرہا۔۔۔میں تو بھول ہی گئی تھی” عنایہ نے بیڈ پر پڑے سارے ڈریس اٹھا کر واپس وارڑروب میں ہینگ کیے۔
” ہاں ! اور ہم آپکو لے کر پھر گھومنے جائیں گے۔۔۔ہائے کتنا مزہ آئے گا نا ” نور نے اپنا پلان بتایا۔
” اچھا میری ماں ! چلیں گے فلحال مجھے تیار ہونے دو ” عنایہ نے فراک اٹھایا اور واشروم میں بند ہوگئی۔
********************
سورج غروب ہو رہا تھا ملگجا سا اندھیرا پھیلنا شروع ہو چکا تھا۔ عنایہ یونیورسٹی پہنچی تو سامنے ہی ذینب دکھ گئی۔ عنایہ نے اسے آواز دے کر روکا تھا۔
” واہ واہ آج تو خوب لگ رہی ہو ” زینب نے اسکی تعریف کی۔ فراک پر کھلے بال ہلکے سے کرل کیے ایک کندھے پر ڈالے، دوپٹہ گلے میں ڈالے،آنکھوں میں بھر بھر کاجل لگائے، ہونٹوں پر گلابی لپ گلو لگائے وہ حسین لگ رہی تھی۔
” تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو ” عنایہ نے مسکرا کر کہا۔ زینب نے سفید رنگ کا کامدار گلے والا فراک زیب تن کیا ہوا تھا وہ بھی کم نا لگ رہی تھی۔ باتوں باتوں میں دونوں گراؤنڈ کی طرف بڑھی جہاں آج کی شام کیلئے انتظامات کیے ہوئے تھے۔
ہر طرف سٹوڈنٹس کی چہل پہل تھی۔ فیری لائٹس سے گراؤنڈ میں موجود درختوں اور پودوں کو سجایا گیا تھا۔ سامنے بڑا سا سٹیج بھی لگایا گیا تھا جس پر ایک ڈائس موجود تھا۔ میوزک کی آواز پوری یونیورسٹی میں گونج رہی تھی۔
کیف اور عمر سٹیج کے پاس کھڑے باتوں میں لگے تھے جب عمر کی نظر سامنے سے آتی عنایہ اور زینب پر پڑی وہ ٹکٹکی باندھ ادھر ہی دیکھتا رہا۔
” نتاشہ نہیں آئی ؟ ” کیف نے پوچھا لیکن عمر کی طرف سے کوئی جواب نا پا کر کیف نے اسکی اور دیکھا تو اسے کھوئے ہوئے انداز نیں سامنے دیکھتا پایا۔ کیف نے بھی اسکی نگاہوں کی سمت دیکھا تو وہ دونوں سامنے سے آرہی تھیں۔ کیف نے عمر کے کندھے ہر ہاتھ رکھا اور اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔
” کیا چکر ہے میرے بھائی ؟ ” عمر کیف کی بات سن کر ہوش میں آیا اور اپنی نظروں کا زاویہ بدلا۔
” کئی تیرا دل تو نہیں آگیا باسکٹ پر ” کیف نے شرارتی مسکان لبوں پر سجائے پوچھا۔
” کیا بکواس کر رہا ہے تو؟ اور یہ کیا باسکٹ باسکٹ لگا رکھی ہے تو نے اسکا نام ہے عنایہ،۔۔۔۔وہ لیا کر سیدھا سیدھا” عمر نے اپنی چوری پکڑے جانے پر خفیف سا ہوا۔
” او میرے یار اتنی لڑکیاں ہر وقت تیرے بھائی کے آگے پیچھے رہتی ہیں ایسے میں سب کے نام نہیں یاد رہتے ایسے میں جسکو دیکھ کر جو نام زہن میں آتا ہے تو پھر وہ اسی نام سے یاد رہتی ہے مجھے” کیف نے تفصیل سے بتایا۔
” اور عنایہ کو باسکٹ کہنے کی وجہ وہ پہلی ملاقات ہوگی یقیناً جس پر اس نے بال سیدھا نیٹ میں تھرو کی اور تو ایمپریس ہوگیا اس سے “
” کورایکشن۔۔۔۔ایمپریس نہیں ہوا تھا حیران ہوا تھا ” کیف نے اسکی تصنیح کی۔
” ہاں ہاں اب تو یہ ہی کہے گا ” عمر نے آنکھیں گھمائیں۔
*******************
خشگوار ماحول میں پارٹی جاری تھی۔ جب نتاشہ وہاں آئی تو سب کی نظریں اسکی طرف اٹھی تھیں۔ بیلک سلیف لیس پاؤں کو چھوتی میکسی پہنے وہ وہاں سب سے منفرد لگ رہی تھی۔ بالوں کا جوڑا بنا تھا جس سے اسکی گردن واضح ہورہی تھی۔ وہ سہج سہج چلتی ہوئی سیدھا کیف کی طرف آئی تھی۔ وہ ہمیشہ ایسے ہی فنکشنز پر دیر سے آتی تھی تاکہ جب وہ آئے تو ہر کوئی اسکی طرف متوجہ ہو اور ہر نظر اسے ہی دیکھے۔
” ہے گائز ! ” نتاشہ دونوں کی طرف آتے ہوئے ہاتھ لہرایا۔
” لوکنگ گارجییس ” کیف نے اسے سراہا اور نتاشہ تو اس تعریف پر نہال ہی ہوگئی تھی۔ وہ جی جان سے مسکرائی تھی۔ تبھی کیف ان دونوں سے ایکسکیوز کرکے وہاں سے جانے لگا۔
” او بھائی کدھر ؟ تیری پرفارمینس ہے ابھی ” عمر نے اسے کہا۔
” ہاں ہاں آیا بس ” کیف کہہ کر نکل گیا۔
” ضرور سگریٹ پینے گیا ہوگا ” عمر نے نفی میں سر ہلایا اور نتاشہ کے ساتھ باتوں میں مشغول ہو گیا۔
*******************
” یار میں بہت ایکسائٹد ہوں ” سدرہ نے چہکتے ہوئے کہا۔ وہ اور ہما عنایہ اور زینب کے پاس کھڑی تھیں۔ ہما اور سدرہ انھی کی کلاس میں پڑھتی تھیں۔ اس لیے انکی آپس میں کافی دوستی ہوگئی تھی۔
” کیوں بھئی؟” زینب نے سدرہ سے پوچھا۔
” ارے تمھے نہیں پتا کیف آج پرفارم کرنے والا ہے اور قسم سے کیا گاتا ہے وہ ” سدرہ نے دلفریب انداز میں کہا۔
” ہیں سچی افف پھر تو میں واقعی بہت مزہ آئے گا ” زینب بھی پرجوش ہوئی۔ جبکہ عنایہ کیف کا نام سن کر ہی بدمزہ ہوئی(ایسا بھی کیا ہے اس میں کہ یہ سب اسکے پیچھے دیوانی ہیں)اس نے سوچا۔ تھوڑی دیر بعد سب سٹیج کے پاس جمع ہوگئے کیونکہ کیف پرفارم کرنے والا تھا۔ سدرہ اور ہما بھی تیزی سے آگے بڑھ گئیں۔
” چلو بھی ” زینب نے عنایہ سے کہا جو وہیں ہاتھ باندھے کھڑی تھی۔
” تم ہی جاؤ مجھے نہیں شوق۔۔۔۔ ” عنایہ نے چڑ کر کہا۔
” پاگل ہو تم ؟ ادھر پیچھے اکیلے کیا کرو گی ؟ چلو نا یار بہت مزہ آئے گا ” زینب نے اسکے بازو سے پکڑا اور آگے بڑھنے لگی۔
” اس فضول انسان کا گانا سننے کیلئے پارٹی دی تھی ہمیں ” عنایہ نے پھر سے منہ بنا کر کہا۔
” افف عنایہ چھوڑ بھی دو اب۔۔۔۔کیوں بیچارے کے پیچھے پڑی ہو؟ “
” ایکسکیوز می ! میں اور اس چھچھورے کے پیچھے۔۔۔۔۔۔ہونہہ۔۔۔اور وہ بیچارہ کہاں سے لگتا ہے ؟ ” عنایہ نے منہ بگاڑ کر پوچھا۔
” بیچارہ نا سہی ہینڈسم تو ہے نا ” زینب اور وہ دونوں سٹیج سے ذرا فاصلے پر کھڑی بحث کررہی تھیں۔
” ہونہہ ہینڈسم نہیں بندر لگتا ہے پورا ” اس سے پہلے زینب اسے کچھ کہتی کیف کی آواز مائک میں ہر سو گونجی۔ وہ سٹیج کے بجائے نیچے آکر سب سٹوڈنٹس کے بیچ گانے لگا۔
کہیں زلف کا بادل او ہو
کہیں رنگین آنچل آ ہا
کہیں ہونٹ گلابی او ہو
کہیں چال شرابی آ ہا
کہیں آنکھ میں جادو او ہو
کہیں جسم کی خوشبو آ ہا
کہیں نرم نگاہیں او ہو
کہیں گوری باہیں آ ہا
وہ ایک ایک لائن الگ الگ لڑکیوں کے پاس جا کر گا رہا تھا۔ لڑکیوں کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نا تھا۔
” ہاں یہاں قدم قدم پر لکھوں حسینائیں ہیں “
اس لائن پر لڑکیوں کی ہوڈنگ بے ساختہ تھی۔ کیف کی نظر ہجوم میں کھڑی عنایہ پر گئی جو برے برے منہ بناتی وہاں موجود سب لڑکیوں سے واحد تھی جسے یہ سب زہر لگ رہا تھا۔ کیف نے آہستہ آہستہ قدم اسکی طرف لیتے ہوئے اگلی لائن گائی تھی۔
ہم مگر یہ دل کا تحفہ دینے اسے آئے ہیں۔
وہ لڑکی جو سب سے الگ ہے
وہ لڑکی جو سب سے الگ ہے
عنایہ نے کیف کو اسکے گرد گول چکر لگاتے ہوئے گھور کر دیکھا تھا۔ مگر کیف پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ ایک منٹ کیلئے کیف رک کر اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا عنایہ بھی اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی تو کیف نے مسکرا کر آنکھ ماری اور دوسری سمت بڑھ گیا۔
وہ لڑکی جو سب سے الگ ہے
وہ لڑکی جو سب سے الگ ہے
کیف نے گانا مکمل کیا تو سب نے تالیاں بجا کر بھر پور سراہا اسے۔ سب لڑکیاں کیف کو گھیرے کھڑی تھیں۔ عمر اور نتاشہ بھی فاصلے میں کھڑے یہ سب دیکھ رہے تھے۔
” اب مشکل ہے کہ یہ سب کیف کو جانے دیں ” عمر نے تبصرہ کیا۔
” ہاں ! ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا ہے ” نتاشہ نے بھی مسکرا کر کہا۔
ان سے دور عنایہ سدرہ زینب اور ہما کھڑی تھیں۔ وہ بھی کیف اور لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے باتیں کررہی تھیں۔
” افف یار کیف کتنا کمال کا گاتا ہے نا ؟ ” سدرہ نے ان تینوں کو دیکھتے ہوئے تائید چاہی۔
” ہاں نا ! میرا دل کر رہا تھا بس وہ گاتا رہے اور میں سنتی رہوں ” زینب نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا۔ اسکے انداز پر باقی تو ہنس دیں لیکن عنایہ نے نفی میں سر ہلایا۔
” اتنا بھی اچھا نہیں گاتا جیسے خود چھچھورا ہے ویسا ہی چیپ گانا گایا ہونہہ ” عنایہ کلس کر بولی۔
” افف عنایہ تم بھی نا ” زینب نے اسے آنکھیں دیکھائی تھیں۔
” ویسے عنایہ کیف تمہارے گرد بھی تو چکر لگا رہا تھا کیا بات ہے ہاں ” سدرہ نے اسے ہنستے ہوئے چھیڑا تھا۔
” ہاں کہیں تمھے پسند تو نہیں کرنے لگا ” ہما نے جان بوجھ کر اسے چھیڑا۔ زینب اور سدرہ نے اپنی مسکراہٹ دبائی۔
” پسند مائے فٹ ” عنایہ کو تو انکی باتوں سے آگ ہی لگ گئی۔
” ارے ارے ریلیکس یار ہم مذاق ہی کررہے ہیں بس ” زینب نے اسکے تیور دیکھتے ہوئے جلدی سے کہا۔
” تم لوگ باتیں کرو میں آتی ہوں ” عنایہ کہہ کر یونیورسٹی کی دوسری سائیڈ پر جانے لگی۔
” یار ہمیں اس سے ایسا مذاق نہیں کرنا چاہیے تھا وہ برا مان گئی ہے ” سدرہ نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔
” نہیں نہیں وہ ایسی ہی ہے۔۔۔۔ برا نہیں مانا ابھی آجائے گی ڈونٹ وری ” زینب نے وضاحت دی۔
*********************
عنایہ نے کینٹن سے پانی کی بوتل لے کر پانی کے دو گھونٹ پیئے۔ اسے کیف کا یوں کرنا ایک آنکھ نا بھایا تھا۔
اسکی وجہ سے سب اسے بھی باتیں کریں گے جیسے ابھی سدرہ وغیرہ نے کیں۔ وہ بینچ پر بیٹھی یہ ہی سب سوچ رہی تھی۔ جب اسے کیف تھوڑے فاصلے پر کسی سے فون ہر بات کرتا ہوا نظر آیا۔
” اسکو تو ابھی بتاتی ہوں ذرا ” عنایہ نے کیف کو دیکھتے ہوئے سوچا اور اٹھ کر اسکی سمت بڑھ گئی۔ عنایہ اس کے پیچھے کھڑی اب اسکے فون بند ہونے کا انتظار کرنے لگی۔
” ہاں ہاں میری جان بس تھوڑی دیر میں آرہا ہوں ” کیف نے فون کی دوسری طرف موجود شخص کو کہا۔
” چھچھورا کہیں کا۔۔۔۔پتا نہیں کس کس کو پھنسا رکھا ہے” عنایہ بڑبڑائی لیکن اسکی بڑبڑاہت بھی اتنی اونچی تھے کہ کیف سن کر پلٹا تھا۔ کیف سوالیہ انداز میں آئی برو اچکائی جیسے پوچھ رہا ہو کیا کام ہے۔ کیف نے آرہا ہوں کہہ کر فون بند کردیا۔
” باسکٹ تم یہاں میرے پیچھے خیریت ؟ ویٹ آ منٹ تم بھی میرا گانا سن کر تعریف کرنے آئی ہو نا ” کیف نے شوخی سے کہا۔
” خوش فہمی ہے تمہاری میں باقی لڑکیوں کر طرح بیوقوف نہیں ہوں جو ہر وقت تمہارے آگے پیچھے منڈلاتی رہتی ہیں ” عنایہ کی بات پر کیف کی ساری شوخی اڑن چھو ہوئی۔
” پھر کیا ہے ؟ ” کیف نے پوچھا۔
” تم کیا کررہے تھے وہاں سب کے سامنے “
” کیا کررہا تھا ؟ ” کیف انجان بنا۔
” زیادہ سمارٹ مت بنو سمجھے۔۔آئندہ اس طرح میرے ساتھ مت کرنا اوکے ؟ میں باقی لڑکیوں کی طرح تمہاری ان چھچھوری حرکتوں سے خوش نہیں ہوتی۔۔۔میں نہیں چاہتی کوئی بھی تمہارے ساتھ کسی بھی حوالے سے میرا نام جوڑے ” عنایہ نے تفصیل سے بتایا۔
” اور کچھ ؟؟ ” کیف ایسے ہی کھڑا رہا جیسے اسکی بات سے کوئی فرق نا پڑا ہو۔ عنایہ اسکی طرف سے کوئی جواب نا پا کر حیران ہوئی تھی۔ اسے لگا تھا وہ ضرور کچھ کہے گا لیکن وہ ویسے ہی پرسکون کھڑا رہا۔ عنایہ نے عجیب نظروں سے اسے دیکھا اور پلٹ گئی۔ لیکن ابھی وہ ایک قدم ہی آگے بڑھی تھی کہ اسکا دوپٹہ پاس ہی پودے کی جھاڑ میں اٹکا تھا۔ عنایہ کو لگا کیف نے پیچھے اسکا دوپٹہ پکڑا ہے اور یہ خیال آتے ہی اسکو طیش آیا تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی بوتل کا ڈھکن کھولا اور پلٹ کر کیف کے منہ پر پانی پھینکا۔ جبکہ کیف اسکے یوں رکنے پر اسکے دوپٹے کی طرف ابھی متوجہ ہی ہوا تھا کہ اس افتاد پر ششدر رہ گیا۔
” ہاؤ ڈیر یو ؟؟ ” عنایہ نے غصے سے لال چہرہ لیے کہا۔ کیف نے اپنے ہاتھ کی مٹھی بھینچ کر اپنا غصہ کنٹرول کیا۔ کیف نے اپنی آنکھیں جھکا کر پودے کی طرف دیکھا جہاں عنایہ کا دوپٹہ اٹکا تھا۔ عنایہ نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ پھر اس نے نگاہیں اٹھا کر دوبارہ کیف کو دیکھا۔ وہ اب ماتھے پر بل لئے اسے گھور رہا تھا۔ پانی کی خالی بوتل عنایہ کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گری اور عنایہ نے اپنے دونوں ہاتھ منہ پر رکھ لئے۔
” ہائے عنایہ یہ کیا کردیا تو نے ؟ یہ تو اب تجھے کچا ہی چبا جائے گا ” عنایہ ڈرتے ڈرتے خود سے بڑبڑائی۔ کیف کو ہلتے نا دیکھ عنایہ نے جھک کر تیزی سے اپنا دوپٹہ چھوڑوایا تھا۔
” مم۔۔۔۔مجھے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” ابھی وہ کچھ کہتی اس سے پہلے ہی کیف بول پڑا۔
” تمھے لگا میں نے کسی غلط نیت سے تمہارا دوپٹہ پکڑا ہے؟” کیف اسکی طرف ایک قدم اٹھایا۔
” نن۔۔۔۔ نہیں وہ مجھے لگا۔۔۔۔۔۔وہ میں۔۔۔۔۔۔۔۔آئی ایم سوری ” عنایہ نے کچھ بن نا پایا تو اپنی جان بچانے کیلئے جلدی سے معافی مانگ لی۔
” بڑا شوق ہے نا تمھے بدلہ بدلہ کھیلنے کا۔۔۔۔میری ہر چیز کا منہ توڑ جواب دیتی ہو۔۔۔اب یہ جو تم نے کیا اسکا بدلہ لینے کی میری باری ہے ” کیف نے اسے گھورتے ہوئے ایک قدم مزید اسکی سمت بڑھایا تو عنایہ اسکے آگے آنے پر پیچھے ہوئی۔
” ویسے یہاں کوئی نہیں ہے اس وقت صرف تم اور میں تنہا اکیلے۔۔۔ ” کیف نے مزید کہتے ہوئے اسکی طرف ایک اور قدم اٹھایا تو عنایہ پیچھے دیوار کے ساتھ لگ گئی۔
” اگر تم چیخو گی،چلاو گی تو اتنے شور میں کوئی سن بھی نہیں پائے گا تمہیں ” وہ اسکے آگے دیوار بنا کھڑا کہہ رہا تھا۔
” دیکھو تم۔۔۔۔۔۔۔” عنایہ کے الفاظ ہونٹوں سے ادا بھی نا ہوئے تھے کہ کیف نے اپنا چہرہ اسکے چہرے کے بالکل قریب تر کرلیا تھا۔ عنایہ نے گھبرا کر اپنی آنکھیں میچ لیں۔ کیف نے اسکی بند آنکھوں کو دیکھا تو اس کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا۔ وہ ایسے لرزتی پلکوں سے گھبرائی سی اسے کافی پیاری لگی تھی۔ ایک دم سے اس نے جھرجھری لی(یہ کیا سوچ رہا تھا وہ)۔ کیف فوراً سے پہلے اس سے دور ہوا تھا جبکہ عنایہ ابھی بھی ویسے ہی کھڑی تھی۔
کیف نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا اور دوبارہ سے اسکی طرف دیکھا تو اسکو یوں دیکھ کر اس نے قہقہہ لگایا۔ اسکی ہنسی سن کر عنایہ نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولیں۔
” کیا ہوا ؟ اب کیوں بھیگی بلی بن گئی ویسے تو بڑی شیرنی بنی پھیرتی ہو ” کیف نے ہنستے ہوئے طنز کیا۔
” دیکھ لوں گی تمھے ” عنایہ پیر پٹختے ہوئے وہاں سے جانے لگی۔
” ہاں باسکٹ دیکھ لینا میرے جیسا ہینڈسم کہاں دیکھا ہوگا تم نے ” کیف نے شرارتی انداز میں پیچھے سے آواز لگائی لیکن عنایہ اسکی سنی ان سنی کرتے جلدی ںسے وہاں سے نکل گئی۔
*******************
