222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 29)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

رات کا سایہ ہر سو پھیل چکا تھا۔ کیف عنایہ کو اس کے گھر خود چھوڑ کر آیا تھا اور تب سے وہ یہیں عمر کے گھر تھا۔ دونوں اوپر ٹیرس پر موجود تھے۔ منڈیر سے ٹیک لگائے کھڑے تھے۔ دونوں کے درمیان منڈیر پر ایک سگریٹ کا پیک اور لائٹر رکھا تھا۔

” اب آگے کا کیا سوچا ہے ؟ ” عمر نے پوچھا۔

” فلحال تو کچھ نہیں ” اس نے لبوں سے جلتا سگریٹ نکالا اور دھواں ہوا میں چھوڑا۔

” خالہ اور خالو کو پتا چلا تو تیری خیر نہیں “

” وہ بعد کی بات ہے۔۔ دیکھا جائے گا لیکن اس وقت مجھے صرف عنایہ کی فکر ہے “

” تو نے کال کی اسے ؟ ” عمر نے اس کے چہرے کی جانب دیکھا۔

” نہیں! میں جانتا ہوں وہ بات نہیں کرے گی ” کیف نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

” ویسے کیف مجھے لگتا پے تو اگر جلد بازی نا کرتا تو کوئی اور حل نکل ہی آتا “

” کوئی اور راستہ نہیں تھا عمر میں پوری رات سوچتا رہا۔۔۔۔۔جو بھی ہو کہیں نا کہیں میرا دل نہیں مان رہا تھا کہ میں اس سب کو ایزی لوں۔۔۔۔میں اسے کھونے کا تصور بھی نہیں کرسکتا ” وہ ایک جذب سے کہہ رہا تھا اور عمر کیلئے کیف کا یہ روپ نیا تھا۔

” تو کیف ہی ہے نا ؟ ” عمر ایک دم اس کے سامنے ہو کر منصوعی سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔ کیف نے مسکرا کر ختم ہوا سگریٹ ہاتھ سے جھٹکا۔

” تجھے کیا لگتا ہے ؟ ” کیف نے الٹا سوال کیا۔

” میں نے تو کہا تھا تیرے جیسے جب عشق میں پڑتے ہیں تو پھر بڑی بڑی پریم کہانیاں بنتی ہیں “

” کیا فضول فلمی ڈائیلاگ ہے ” کیف نے آنکھیں گھمائی تو عمر ہنس دیا۔

” تیرا حال انہی فلموں کے ہیرہ جیسا ہی تو ہے پہلے پیار محبت سب بکواس لگتا تھا اور اب کیسے عنایہ کے عشق میں مبتلا ہے ” کیف نے سر کو خم دیا جیسے اس کی بات کو تسلیم کیا۔

*********************

عنایہ آج ایک دن کے بعد یونیورسٹی آئی تھی۔ کیف کو جب کل پتا چلا وہ یونیورسٹی نہیں آئی تو اسکا حال ایسا تھا جیسے بن پانی مچھلی۔ اس نے کتنی ہی کالز اور میسجیز کیے تھے اسے لیکن عنایہ نے پہلے تو کوئی رساپنس نہیں دیا اور پھر فون بھی آف کردیا۔ اور آج بھی وہ کیف کو اگنور کر رہی تھی۔ ابھی وہ کتابیں سینے سے لگائے لائبریری سے نکل کر نیچے آئی تو کیف بالکل اس کے سامنے آکر اسکا راستہ روک چکا تھا۔ عنایہ نے اسے دیکھا اور پاس سے گزر کر جانا چاہا تو کیف پھر سے اس کے آگے ہوا۔ تھوڑے ہی فاصلے پر نتاشہ چبھتی نظروں سے یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ اس کے ساتھ کھڑی نتاشہ کی فرینڈ بھی یہ سب دیکھ رہی تھی۔

” نتاشہ کیا چل رہا ہے یہ سب ؟ ” اس لڑکی نے پوچھا۔

” کیا مطلب ؟ ” نتاشہ اسی جانب دیکھ رہی تھی۔

” کہیں ان دونوں کے درمیان کچھ چل تو نہیں رہا ؟ ” اس کی بات پر نتاشہ غصے سے اس کی طرف مڑی تھی۔

” شٹ یور ماوتھ ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔کیف کسی کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔۔۔وہ صرف میرا ہوگا ” وہ غصے سے کہتی وہاں سے چلی گئی۔

*********************

کیف عنایہ کو اسی خالی کلاسروم میں لے آیا جہاں اکثر وہ اسے بات کرنے کیلئے لاتا تھا۔ اسے بند دروازے کے ساتھ لگائے وہ بھی اس کے قریب کھڑا تھا۔

” کیوں کررہی ہو یہ میرے ساتھ ؟ ” کیف نے شکوہ کیا۔ عنایہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں کیف سے بھی زیادہ ڈھیروں خفگی اور شکوے تھے۔

” کیا مجھے ناراض ہونے کا بھی حق نہیں ؟ ” عنایہ نے پوچھا۔

” ناراض ہونے کا حق ہے لیکن مجھے اگنور کرنے کا نہیں” عنایہ نے کچھ نہیں کہا بس اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی۔

” کیا میں نے ہمارے اس محبت کے رشتے کو حقیقی رشتے میں بدل کر غلط کیا ہے ؟ کیا مجھے اس محبت کے رشتے میں اتنا بھی حق حاصل نہیں ؟ ” اب کی بار کیف نے پوچھا۔

” میں نے کہا تھا مجھے ایک بار بات کرنے دو لیکن تم نے میری نہیں سنی صرف اپنی کی “

” اور اگر تمہارے بات کرنے سے بھی کچھ نا ہوتا تو ؟ “

” تم ایسے کیسے کہہ سکتے ہو ؟ تم نے ایک موقع بھی نہیں دیا اور جو دل میں آیا کرلیا “

” عنایہ میں نے کہا ہے نا اس بارے میں کسی کو کچھ نہیں پتا چلے گا۔۔۔میں سب ٹھیک کر دوں گا ” کیف اس کے سر سے اپنا سر ٹکائے یقین دلانے لگا۔

*******************

زینب اور عمر کیفے ٹیریا میں بیٹھے تھے۔ زینب اپنے آگے رکھے سینڈوچ کھانے میں مگن تھی اور عمر اسے دیکھنے میں مگن تھا۔

” ویسے زینب میں سوچ رہا تھا تم اور میں منگنی کی بجائے نکاح کرلیتے تو کیا ہی تھا ؟ ” عمر نے حسرت سے کہا۔ زینب نے آنکھیں سکیڑے عمر کو دیکھا۔

” یاد مت کرواؤ مجھے تمہاری وجہ سے میری منگنی اتنی سادہ سی ہوئی ” اس نے کھاتے ہوئے غمزدہ لہجے میں کہا۔

” مجال ہے کہ تم تھوڑی سی بھی رومینٹک ہو عجیب لڑکی ہو یار منگنی کا رونا لیے بیٹھی ہو میں یہاں نکاح کی بات کررہا ہوں ” عمر نے تاسف سے کہا تو زینب نے ٹیبل پر آدھی رکھی پانی کی بوتل اٹھا کر اس کی اور پھینکی جو عمر نے کیچ کرلی اور فاتحانہ مسکرایا۔

” مجھ سے بات مت کرنا اب ” زینب نے منہ بنایا۔

” میں سوچ رہا ہوں منگنی تم سے کرلی ہے نکاح کسی اور سے کرلیتا ہوں ” عمر نے اسے تنگ کرنا چاہا تو وہ منہ کھولے اسے دیکھے گئی۔ عمر نے اپنی مسکراہٹ ضبط کی جسے دیکھ کر زینب کو غصہ آیا۔

” میں تمہارا منہ توڑ دوں گی ” وہ چلائی تو آس پاس کے کچھ سٹوڈنٹس ان کی اور متوجہ ہوگئے۔

” پاگل تو نہیں ہو ” عمر نے سب کو یہاں دیکھتے پایا تو اب کی بار سنجیدگی سے بولا۔ زینب نے اسے جواباً گھوری سے نوازا تھا۔

*****************

یہ کچھ دن بعد کی بات تھی جب عنایہ اور نور شاپنگ کیلئے گئی تھیں۔ آج سنڈے تھا اور خان بابا چھٹی پر اپنے گاؤں گئے تھے۔ عنایہ خود ہی ڈرائیو کررہی تھی ورنہ وہ بہت کم ڈرائیونگ کرتی تھی جب ضرورت ہوتی بس تب ہی۔۔۔۔اور ڈرائیونگ اسے حیدر نے ہی سکھائی تھی۔ شاپنگ سے واپسی پر نور نے منال کے گھر جانے کا کہا۔

” وہاں کیا کرنا ہے ؟ ” عنایہ نے فوراً پوچھا۔

” آپی مجھے نوٹس چائیے منال سے وہی لینے ہیں ” اس نے بتایا۔

” ابھی رہنے دو نور شام ہونے کو ہے۔۔۔۔ہم لیٹ ہو جائیں گے، میں تمھے وہاں نہیں لے جا سکتی تم ایسا کرنا رات کو ماموں کے ساتھ آکر لے جانا “

” ہاہ میرا پیپر ہے۔۔۔۔۔اب گھر سے نکلے ہیں تو لے کر ہی جاؤں گی نا ” وہ بضد تھی۔

” افف نور تم مجھے پہلے نہیں بتا سکتی تھی ؟ “

” کیوں اگر پہلے بتا دیتی تو آپ اور اچھے سے تیار ہو کر آتی ؟ ” نور نے مسکراہٹ دبائے اسے چھیڑا۔

” ویسے اپنے سسرال جارہی ہیں اس میں کیا ہے ؟ ” وہ مزید بولی۔

” نور ” عنایہ نے جواباً تنبیہ کی۔ عنایہ نور کو اپنے اور کیف کے نکاح کے بارے میں بتا چکی تھی۔ اسے لگا تھا وہ اس سے خفا ہوگی ناراض ہوگی لیکن نور کا الٹا ہی حساب تھا وہ تو اس سے خوش ہوئی بلکہ اس نے عنایہ اور کیف کی لو سٹوری کو کسی فینٹسی ناول کی سٹوری سے تشبیہ دے ڈالی۔ نور کو سب بتانے سے عنایہ کا دل کا بوجھ کچھ تو کم ہوا تھا۔ گاڑی مرتضیٰ مینشن کے سامنے رکی تو نور نے عنایہ کو بھی ساتھ چلنے کا کہا لیکن اس نے صاف انکار کردیا اور اسے جلدی آنے کی تاکید کی۔

**********************

کیف عمر اور کچھ دوستوں کے ساتھ باہر جارہا تھا۔ وہ تیار ہو کر نیچے آیا اور جیسے ہی لاونج کا ڈور کھولا سامنے سے ہی نور آتی نظر آئی۔ کیف اسے یوں اچانک یہاں دیکھ کر حیران ہوا۔ بے شک ان کی ایک ہی ملاقات ہوئی تھی لیکن وہ نور کو اچھے سے پہنچاتا تھا۔

” آپ۔۔۔۔۔یہاں ؟ ” کیف نے پوچھا۔

” اسلام وعلیکم! کیسے ہیں ؟ ” نور نے مسکرا کر کہا۔

” وعلیکم السلام! میں ٹھیک آپ کیسی ہیں ؟ ” کیف تو اس کے سلام اور حال پوچھنے پر شرمندہ سا ہوا۔

” میں دراصل منال سے نوٹس لینے آئی تھی ” اس نے بتایا۔

” اوہ شیور کم ان! آئی ایم سوری یوں اچانک دیکھا تو منہ سے نکل گیا۔۔۔۔۔میرے مائنڈ سے نکل گیا تھا کہ آپ مانو کی دوست ہیں ” کیف نے مسکرا کر اندر آنے کی دعوت دی اور معذرت بھی کی۔ نور اس کے پیچھے ہی اندر داخل ہوئی۔

” میں اور آپی شاپنگ پر نکلے تھے تو سوچا واپسی پر منال سے نوٹس لیتی جاؤں ” نور نے ساتھ چلتے ہوئے جان بوجھ کر عنایہ کا ذکر کیا تو کیف عنایہ کا سن کر وہیں تھم گیا۔ نور نے کیف کو دیکھ کر مسکراہٹ ضبط کی۔ کیف کو احساس ہوا تو ایک دم سنبھلا اور نور کو بیٹھنے کا کہا۔

” وہ اندر کیوں نہیں آئی ؟ ” کیف نے پوچھا۔

” یہ تو آپ خود جا کر ان سے پوچھ لیں ” نور نے جس انداز میں کہا کیف اسے دیکھنے پر مجبور ہوگیا(کیا وہ سب جانتی ہوگی)۔

” میں منال کو بھیجتا ہوں ” کیف کہہ کر جلدی سے ملازمہ کے ہاتھ منال کو پیغام بھجوایا اور خود لاونج سے باہر نکل گیا۔

********************

عنایہ ڈرائیونگ سیٹ پر اجمان تھی۔ اس نے ایک نظر اس گیٹ پر ڈالی تھی۔ یہاں وہ پہلی بار آئی تھی لیکن دل ناجانے کیوں سو کی رفتار سے ڈھڑک رہا تھا۔ کہی سوچیں ذہن میں چل رہی تھیں۔ وہ اسے اپنے یہاں ہونے کا بتائے کیا؟ وہ گھر پر ہوگا کہ نہیں ؟ نور کہیں میرا ذکر ہی نا کردے اور وہ مجھے لینے ہی نا آجائے۔۔۔۔۔۔یہ سوچ آتے ہی وہ ایک دم سامنے فرنٹ پر لگے ڈرائیونگ مرر میں خود کو دیکھنے لگی۔

” اوفف میں بھی نا ” اپنی حرکت پر ایک دم وہ خجل سی ہوئی۔ دفعتاً دوسری طرف کا شیشے ناک ہوا تو عنایہ اس طرف متوجہ ہوئی۔ عنایہ نے بٹن پش کرکے شیشہ نیچے گرایا تو کیف جھک کر اسے دیکھنے لگا۔

” وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے، کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں ” کیف نے شعر کہا تو عنایہ نے اچنبھے سے اسے دیکھا۔

” آئی نو cringe ہے لیکن اس situation میں یہ ہی فٹ بیٹھتا ہے ” کیف نے ہلکے سے شانے اچکائے کہا تو وہ دھیمے سے ہنس دی۔

” اندر کیوں نہیں آئی ؟ ” کیف نے پوچھا۔

” نور کو بس نوٹس پک کرنے تھے آتی ہی ہوگی ” وہ اب سامنے دیکھ رہی تھی۔

” اپنا گھر نہیں دیکھو گی ؟ ” کیف لبوں پر مسکان سجائے بولا۔ عنایہ اسکی بات پر سر جھکائے مسکائی۔

” میں تو منال کو کہنے والا تھا تمہاری بھابھی باہر آئی ہیں ” وہ اب اسے چھیڑ رہا تھا۔ عنایہ کیلئے مشکل ہو رہا تھا۔وہ اس کی نظروں سے کنفیوز ہورہی تھی۔

” اگر تم اندر آنے میں شرما رہی ہو تو میں گاڑی کے اندر آجاؤں ” کیف نے مسکراہٹ دبائے کہا۔

” نن۔۔۔۔۔۔نہیں ” اس بات پر فوراً ردعمل آیا تھا۔ اس نے گردن موڑ کر کیف کی جانب دیکھا۔ ایک لمحے کیلئے دونوں کی نظریں ملی تھیں۔ کیف نے آنکھ دبائی تو عنایہ دوبارہ سے سر جھکا گئی۔

” کیف پلیز ” اس نے دھیمے سے کہا۔ کیف مزید کچھ کہتا کہ پیچھے سے آنے والی منال اور نور کی آواز پر وہ سیدھا ہوگیا۔ منال اب عنایہ سے اندر نا آنے پر شکوہ کررہی تھی۔

***********************

عنایہ کا فون مسلسل بج رہا تھا۔ نور جو پیپر کی تیاری کررہی تھی جلدی سے اٹھ کر سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھایا۔ کیف کی کال دیکھ کر اسکی آنکھیں چمکیں۔ وہ تیزی سے کمرے کے دروازے کی جانب آئی اور سر باہر نکال کر جھانکا۔ پھر دروازہ بند کیا اور کال پک کی۔

” کہاں تھی کب سے کال کررہا ہوں ” کال ریسیو ہوئی تو کیف بولا۔ دوسری طرف نور خاموش ہی رہی۔

” سویٹ ہارٹ کچھ بولو گی نہیں ؟ ” کیف نے اسکے خاموش رہنے پر پوچھا۔ اس کے سویٹ ہارٹ کہنے پر نور کو ہنسی آئی جو اس نے لبوں پر ہاتھ رکھے دبائی۔

” عنایہ ؟ ” کیف نے پکارا۔

” آپی کچن میں ہیں کیف بھائی ” نور نے زیادہ تنگ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

” مم۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔بعد میں کال کرتا ہوں ” کیف کو سمجھ نہیں آیا کہا کہے۔ یہ لڑکی اسے خامخواہ ہی شرمندہ کر دیتی ہے۔ اس کے سویٹ ہارٹ کہنے پر ناجانے وہ کیا سوچتی ہوگی۔

” نہیں آپی آ گئی ہیں ” نور نے عنایہ کو اندر آتے دیکھا تو اسے آگاہ کیا۔ کیف نے کچھ نہیں کہا۔ عنایہ نے آنکھوں کے اشارے سے پوچھا تو نور نے شرارت سے مسکراتے ہوئے فون اس کی اور بڑھا دیا۔ عنایہ نے فون سکرین کی طرف دیکھا تو نور کو گھورا پھر جلدی سے فون کان سے لگایا اور اپنے کمرے سے واپس باہر نکل آئی۔

” سوری میں کچن میں تھی ” عنایہ کی آواز سنی تو کیف نے شکر کیا۔

” عنایہ نور کیا کچھ جانتی ہے ہمارے بارے میں ؟ ” کیف نے پوچھا۔

” ہاں! “

” ہمارے نکاح کے بارے میں بھی ؟ “

” ہاں وہ سب جانتی ہے ” وہ اوپر ٹیرس پر آگئی تھی۔ کیف اور وہ مزید اس بارے میں بات کرنے لگے تھے۔

” میں نے کال کی تھی کچھ پوچھنے کیلئے ” تھوڑی دیر بعد کیف اپنے کام کی بات پر آیا۔

” کیا ؟ ” عنایہ نے پوچھا۔

” میرے ساتھ ڈیٹ پر چلو گی ؟ ” کیف شوخی سے بولا۔

” واٹ ؟ ” عنایہ چلتے چلتے رکی۔

” ہاں! تم میں ڈیٹ پر۔۔۔۔۔ہمارے پاس تو لیگل لائسنس بھی ہے ” کیف نے نکاح کی طرف اشارہ کیا۔

” نہیں! تم مجھے یہ حوالہ دو گے تب بھی میری طرف سے انکار ہے ” عنایہ نے کہہ کر لب دانتوں تلے دبائے۔

” اوہ کم ان یار! ڈنر ہی تو کرنا ہے۔۔۔۔۔یقین مانو میرا صرف کینڈل لائٹ ڈنر کا ہی ارادہ ہے ” آخری جملہ کیف نے گھمبیر آواز میں کہا تو عنایہ اس کے معنی خیز لہجے پر گھبرائی۔

” جی نہیں! اپنے خواب میں کرنا ڈنر ” اپنی گھبراہٹ کو قابو کرنے کے چکر میں جو منہ میں آیا بول گئی۔

” اچھا ؟۔۔۔۔۔خواب میں تو پھر میں صرف ڈنر ہی نہیں اور بھی بہت کچھ کروں گا ” کیف نے مسکراہٹ دبائی۔ اس کی بات ہر عنایہ کانوں تک سرخ ہوئی۔

” کیف!!! ” عنایہ نے احتجاجاً کہا۔

” کیا خیال ہے ؟ تم اجازت دے رہی ہو مجھے خواب میں” خواب پر خاصا زور دیا۔ وہ اسے تنگ کررہا تھا اور عنایہ یہ جانتی تھی۔

” مجھے نیند آ رہی ہے ” عنایہ کو اسکی باتوں سے فرار کا یہ ہی راستہ نظر آیا تو جلدی سے بولی۔ دوسری طرف کیف کا قہقہہ گونجا تو عنایہ نے کال بند کردی۔ اپنا ہاتھ دل کے مقام پر رکھا اور جو اسکی اتنی بے باک گفتگو پر تیزی سے ڈھرک رہا تھا۔

**********************

نور اور منال کے پیپرز ختم ہو چکے تھے اور حیدر بھی چھٹی پر گھر واپس آچکا تھا۔ آج حیدر انہیں باہر گھومانے لے جارہا تھا۔ حیدر گاڑی سے ٹیک لگائے فون استعمال کررہا تھا۔ خاکی جینز پر وائٹ ڈریس شرٹ پہنے آنکھوں پر کالا چشمہ لگائے، بال جیل سے سیٹ کیے وہ وجیہہ لگ رہا تھا۔ فون کرتے کرتے اس نے نظریں اٹھائیں تو پلکیں جھپکنا بھول گیا۔ عنایہ پیرٹ گرین رنگ کا سوٹ زیب کیے ہوئے تھی۔ پرنٹڈ لان کے سوٹ میں بنا میک اپ کے سادگی میں بھی وہ حیدر کے دل کے تاڑ چھیڑ گئی۔ ہوش میں تو وہ نور کی آواز پر آیا جو عنایہ کے پیچھے ہی آرہی تھی۔

” چلیں ؟ ” عنایہ نے کہا تو حیدر نے سر ہلایا۔

**********************

اسلامآباد کے مشہور شاپنگ مال سینٹورس پر اچھا خاصا رش تھا۔ کیف اور عمر اسی مال میں موجود تھے۔ زینب کا برتھڈے آرہا تھا اور عمر اس کیلئے کوئی اچھا سا گفٹ لینے آیا تھا اور اپنے ساتھ زبردستی کیف کو بھی اٹھا لایا۔ دونوں ایک گھنٹے سے مختلف شاپز پر جا چکے تھے لیکن عمر کو زینب کیلئے کچھ اچھا ہی نہیں لگ رہا تھا۔ ایک جیولری شاپ پر دونوں کھڑے تھے جب کیف کو گھر سے کال آنے لگی۔ وہ عمر سے ایکسکیوز کرتا شاپ سے باہر نکلا اور کال پک کی۔ دوسری طرف منال اس سے کچھ کہہ رہی تھی اور کیف مسکرا کر سن رہا تھا۔ کیف کی نظر اچانک آس پاس گھومتی ایک جگہ تھم گئی۔ وہ عنایہ ہی تھی۔ وہ کسی بات پر ہنس رہی تھی۔ کیف فون کان سے لگائے تھوڑا آگے بڑھا تھا۔ کیونکہ اسے یہاں سے ساتھ بیٹھا شخص نظر نہیں آرہا تھا۔ دوسری طرف منال مسلسل بات کررہی تھی لیکن کیف کا دھیان سارا اس ساتھ بیٹھے شخص پر تھا اور اس پر نظر پڑتے ہی کیف اسے پہچان گیا تھا۔ یہ وہ ہی تھا عنایہ کا کزن۔۔۔۔۔ان دونوں کو یوں ساتھ دیکھ کر کیف نے اپنے ہاتھ کی مٹھی بے اختیار بھنچ لی۔ وہ کوئی بات کررہا تھا اور عنایہ مسکراتی جارہی تھی۔ کیف کال کاٹ چکا تھا اور اسکے قدم ان کی طرف بڑھنے لگے۔

***********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *