222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 40)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

عمر بوتل لیے کچن تک گیا اور ساری بوتل سینک میں انڈیل کر باہر واپس آیا جہاں وہ اب آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا۔ عمر اس کے سامنے والے صوفے پر دونوں ہاتھ سر پر رکھ کر بیٹھ گیا۔ اس کا دماغ بالکل کام کرنا بند کر چکا تھا۔

” غلطی ہوگئی مجھ سے جو تجھے اکیلا چھوڑ دیا ” وہ تاسف سے بولا۔ کیف نے اپنی بند آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔

” کیا کہوں خالہ سے کہ تو کہاں ہے ؟ اور بتاؤں ان کو ان کا راج دلارا یہاں نشے میں ہے ” عمر نے دانت پیسے تھے۔

” ایک تو تمہاری۔۔۔۔۔۔۔خالہ کو ناجانے میری اتنی پروا کب سے۔۔۔۔۔۔۔ہونے لگی ؟ ” وہ بے ربط جملوں میں بولا۔

” کیف میرا دماغ گھوما ہوا ہے اس وقت۔۔۔۔دل تو کرتا ہے تجھے جان سے مار دوں اس حرکت پر ” عمر کا غصہ سوا نیزے پر تھا۔

” تو کیا مارے گا مجھے ؟ مار تو وہ گئی ہے ” دکھی لہجے میں وہ بولا تو عمر کا دل کٹا تھا۔

” کیف ! اگر وہ نہیں ملے گی تو ایسے ہی کرتا رہے گا کیا۔۔۔۔۔۔ تیرے لیے وہ ہی سب تھی کیا ہم کچھ نہیں ہیں ؟ مرتضیٰ انکل، خالہ، مانو میں۔۔۔۔۔۔۔کیوں ہمیں تکلیف دینا چاہتا ہے ؟ نہیں دیکھا جاتا تیرا یہ حال ” اس کی باتوں کے جواب میں کیف خاموش ہی رہا تھا۔ عمر کے فون پر آنے والی کال نے اس خاموشی کو توڑا تھا۔

” خالہ کال کررہی ہیں کیا کہوں ان سے کیف ؟ وہ تمہارا گھر پر انتظار کررہی ہوں گی ” اس نے کہتے ساتھ ہی کال پک کی تھی۔ دوسری طرف سے رابعہ بیگم کیف کا پوچھ رہی تھیں۔

” کیف ٹھیک ہے ہم فارم ہاؤس پر ہیں۔ اپ پریشان مت ہوں۔ رات بہت ہوگئی ہے آپ اب آرام کریں ” عمر نے اپنی طرف سے انھیں بے فکر کرنا چاہا تھا۔ لیکن دوسری طرف ان کی بات سن کر بے ساختہ اس نے سامنے کیف کو دیکھا تھا جو ویسے ہی صوفے سے ٹیک لگائے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

” خالہ میں سوچ رہا تھا ہم رات یہیں رک جاتے ہیں ” وہ کہہ کر اب ان کی سننے لگا۔

” جی جی ائیرپورٹ بھی چلا جاؤں گا ” عمر نے دو انگلیوں سے اپنا ماتھا مسلا تھا۔

” میں وہاں سے آکر یہیں پر آجاؤں گا ” دوسری طرف وہ بالکل راضی نہیں ہوئی تھیں۔

” میں کہہ رہا ہوں نا وہ ٹھیک ہے ” رابعہ بیگم بضد تھیں کہ کیف گھر آئے۔ ان کی طرف سے کی جانے والی بات پر اب وہ ہنسا تھا۔

” جی جی ٹھیک ہے ” اس نے فون بند کردیا۔

” کمینے انسان بری طرح پھنسایا ہے تو نے مجھے “

” کیا کہتی ہیں ؟ ” کیف نے پوچھا۔

” حکم ملا ہے کہ تم سیدھا گھر آؤ اور میں ائیرپورٹ کیلئے جاؤں۔۔۔۔۔ افف کیسے لے جاؤں تجھے گھر اس حالت میں ؟ یہاں چھوڑ بھی نہیں سکتا اکیلے اور مجھے ایئرپورٹ کیلئے بھی ٹائم سے نکلنا ہے “

” بھائی آڈر ہے باس آف دا ہاؤس کا۔۔۔۔۔جانا تو پڑے گا”

” تیرا دماغ صحیح ہے ؟ جانتا ہے کیا ہوگا جب تجھے اسے حال میں دیکھیں گے ؟ “

” کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔ہوگا میں خود کو سنبھال لوں گا ” کیف کہہ کر لڑکھڑاتا ہوا صوفے سے کھڑا ہوا تھا۔ عمر نے اٹھتے دیکھا تو خود بھی اٹھ کر اسے سہارا دینے کیلئے اس کے پاس گیا تھا۔

” کھڑا ہوا جا نہیں رہا اور خود کو سنبھال لے گا ” عمر نے اسے پکڑ کر سیدھا کیا تھا۔

” چھوڑ مجھے ” کیف نے خود کو چھوڑوایا۔

” کیف خدا کا واسطہ ہے چپ کر کے یہاں بیٹھ جا اور مجھے کچھ سوچنے دے “

” نہیں! مجھے گھر جانا ہے بس ” وہ ضدی لہجے میں بولا۔

” سالے دو گھونٹ پیے تھے یا آدھی بوتل اتنی چڑھی ہے تجھے” عمر کے منہ بنانے پر کیف نے قہقہ لگایا تھا۔

” اچھا ہے اسکا نشہ چڑھ رہا ہے تب ہی تو اس سنگ دل کا نشہ اترے گا ” وہ کہتے ہوئے چلنے لگا۔ عمر بھی اسکا ایک بازو تھام کر ساتھ ہوا تھا۔

” تیرے یہ دونوں ہی نشے خطرناک ہیں ” عمر نے اپنی آنکھیں گھمائی تھیں۔

*********************

گاڑی مرتضیٰ مینشن رکی تو عمر اپنی نگاہیں ساتھ بیٹھے کیف پر مرکوز کیں جو ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔

” کیف ابھی بھی وقت ہے سوچ لے اندر جانا ٹھیک نہیں ہے ” عمر نے اسے خبردار کرنا چاہا جو پوری ضد لگا کر واپس آیا تھا کہ اسے گھر جانا ہے۔ عمر نے بہت کوشش کی اسے سمجھانے کی لیکن کیف نے ایک نہیں سنی۔

” تو جا واپس میں چلا جاؤں گا ” کیف نے سیٹ بیلٹ کھولنی چاہی جو اس سے کھول ہی نہیں رہی تھی۔ عمر نے قریب ہو کر اس کی سیٹ بیلٹ کھولی تھی۔

” اچھا ایک کام کرتے ہیں میں اندر جاتا ہوں دیکھتا ہوں کون کون جاگ رہا ہے آئی ہوپ سب اپنے رومز میں ہوں پھر موقع ملتے ہی میں تجھے تیرے کمرے میں چھوڑ آؤں گا بنا کسی کو پتا چلنے دیے”

” کیا یار تو مجھے چوروں کی طرح۔۔۔۔۔میرے ہی گھر لے جا رہا ہے “

” کیف پلیز منہ بند رکھو اور یہاں سے ہلنا نہیں جب تک میں آتا نہیں ” عمر اسے تنبیہ کرتا گاڑی سے نکل چکا تھا۔

********************

اندر کی ساری صورتحال وہ جانچ آیا تھا کیونکہ رات کا ایک بج چکا تھا۔ تقریباً سبھی سونے کیلئے جا چکے تھے۔ عمر نے لاونج کی ساری لائٹس آف کردی تھیں تاکہ اندھیرے میں ہی وہ کیف کو اسکے کمرے تک چھوڑ دے۔ جیسے ہی وہ کیف کو سہارا دے کر اندر داخل ہوا تھا ایک دم لاونج کی لائٹس اون ہوئی تھیں۔ عمر نے کیف کا ایک بازو اپنے کندھے سے گزار کر تھاما ہوا تھا اور دوسرا ہاتھ کیف کی کمر پر تھا اور کیف کا سر اس کے کندھے پر ڈھلکا ہوا تھا۔ روشنی جلنے سے جہاں عمر کو خطرے کی گھنٹی بجھتی ہوئی محسوس ہوئی تھی وہیں کیف کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ عمر نے نظر دوڑائی تو کچن کے باہر رابعہ بیگم نائٹ گاؤن میں ملبوس سینے پر ہاتھ باندھے انھیں ہی دیکھ رہی تھیں۔

**********************

عمر کیف کو اس کے بیڈ پر لیٹا چکا تھا۔ رابعہ بیگم بھی وہیں موجود تھیں۔

” کیا ہے یہ سب ؟ ” انھوں نے عمر سے پوچھا جو سر جھکائے کھڑا تھا۔

” عمر تیری ساری۔۔۔پلانگ ضائع ہوگئی ” عمر کی بجائے کیف کی استہزایہ آواز کمرے میں گونجی تھی۔ اس کے بولنے پر رابعہ بیگم ٹھٹکی تھیں۔

” یہ۔۔۔۔۔۔کیف ؟ ” وہ بے یقینی سے بول بھی نہیں پائیں۔

” خالہ میں آپ کو سب بتاتا ہوں “

” میں بتاتا ہوں ” کیف لیٹے سے اٹھ بیٹھا تھا۔ عمر نے گھور کر اسے دیکھا تھا۔

” میں پی کر آیا ہوں ” وہ بول کر رکا۔ پھر زرا توقف کے بعد بولا۔

” کافی نہیں شراب ” کیف نے قہقہ لگایا تھا۔ رابعہ بیگم کی آنکھیں پھیلی تھیں۔

” خالہ یہ سب ” عمر نے وضاحت دینی چاہی تھی لیکن رابعہ بیگم نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا تھا۔

” تم سے میں کل بات کروں گی ابھی تم جاسکتے ہو میں نہیں چاہتی ائیرپورٹ پر تمہارا انتظار کرتے رہیں ” رابعہ بیگم نے تھوڑا سخت لہجے میں حکم صادر کیا تھا۔ عمر سر ہلاتے ہوئے وہاں سے نکل گیا۔ انھوں نے اب کیف کی جانب دیکھا جو بیڈ سے اٹھنا چاہ رہا تھا لیکن اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔ رابعہ بیگم فوراً اس کے قریب گئی تھیں۔ اس نے ابھی قدم اٹھایا ہی تھا کہ وہ لڑکھڑا گیا اور اسی وقت رابعہ بیگم نے اس کے بازو سے تھام کر اسے گرنے سے بچایا۔

” چھوڑیں مجھے آپ کی۔۔۔۔۔۔مدر کی ضرورت نہیں ہے ” اس نے ان کا ہاتھ جھٹکنا چاہا۔

” کیف ! ” انھوں نے سختی سے اسے یہ کرنے سے ٹوکا۔ وہ بیڈ پر واپس سے بیٹھ گیا۔ اسے چکر آرہے تھے۔ رابعہ بیگم نے اس کے بال ماتھے سے ہٹائے۔ کیف نے رخ موڑ کر ساتھ بیٹھی اپنی ماں کو دیکھا۔

” کیا آپ مجھ سے۔۔۔۔۔۔محبت کرتی ہیں ؟ نہیں کرتی ناں ؟ “

” کیف میرے بیٹے میں تم سے بے حد محبت کرتی ہوں “

” میں نہیں مانتا ” وہ بول کر ان سے واپس سے رخ موڑ گیا۔ رابعہ بیگم کا دل کٹا تھا۔

” کیف یہ تم نے کیا حال بنا لیا ہے ؟ کیوں کیا یہ ؟ ” وہ ہنسا تھا۔

” آپ کو کیا فرق پڑتا ہے ؟ میں جو مرضی کروں “

” کیوں فرق نہیں پڑتا ؟ تم کیسے اس حد تک گئے ہاں ؟ تمھے لگا تھا میں تمھے کچھ نہیں کہوں گی ؟ ” وہ اب سختی سے بولیں۔

” آپ کو میری کبھی فکر نہیں رہی۔۔۔۔۔۔جانتی ہیں کتنا تڑپا ہوں سارا بچپن آپ کیلئے ؟ ” اس کے لہجے میں دکھ ہی دکھ تھا۔

” کیف ! مجھے معاف کردو ” وہ ایک دم آبدیدہ ہوئی۔ کیف کو تکلیف ہوئی ان کے آنسو دیکھ کر۔

” آپ روئیں نہیں پلیز ” کیف نے ان کے آنسو صاف کیے۔ رابعہ بیگم نے اسکے ہاتھ تھام لیے۔ کیف نے انکا ہاتھ چوما تھا۔

” کیا میں آپ کی گود میں سر رکھ لوں ؟ ” رابعہ بیگم نے فوراً بہتی آنکھوں سے سر ہاں میں ہلایا۔ کیف نے اپنا سر ان کی گود میں رکھ کر آنکھیں موند گیا۔ رابعہ بیگم مسکاتی اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگیں۔

” مجھے چھوڑ کر چلی گئی” وہ بند آنکھوں سے بولا۔

” کون ؟ ” وہ چونکی تھیں۔

” باسکٹ۔۔۔۔۔۔عنایہ میرے ساتھ یونیورسٹی میں تھی” کیف نے آنکھیں وا کیں۔

” کیوں چھوڑ گئی ؟ ” رابعہ بیگم نے پوچھا۔

” مجھے دھوکے باز سمجھتی ہے۔۔۔۔۔میں گرا ہوا انسان ہوں جس نے ایک لڑکی کیساتھ ناجائز تعلق بنایا ” اپنی ہی بات کہہ کر وہ ہنسا تھا۔

” میری محبت جھوٹی لگی اسے۔۔۔۔۔۔۔مجھ پر یقین نہیں کیا مام اس نے ” اس نے ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔

” مجھے صفائی کا موقع تو دیتی ” اس کی آنکھوں کے کنارے بھیگے۔

” بس چھوڑ دیا مجھے۔۔۔۔جانتی ہے وہ میں اس کے بنا نہیں رہ سکتا اس لیے یہ ہی سزا دی مجھے “

” آئی ہیٹ ہر فار دس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ مجھ سے محبت کرتی ہیں نا ؟ مجھے چھوڑیں گی تو نہیں ؟ ” اس نے اپنا ہاتھ اٹھا کر ان کے چہرے پر رکھ کر پوچھا۔ وہ بچوں کی طرح ڈرا ہوا تھا جیسے اس کی ماں اسے چھوڑ دے گی۔

” کیف میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں ” انھوں نے پیار بھرے لہجے میں کہا۔

” پھر وہ کیوں مجھے چھوڑ گئی؟۔۔۔۔۔۔۔کیا اسے مجھ سے محبت نہیں ہے”

” وہ واپس آجائے گی ” انھوں نے اسے تسلی دی۔

” نہیں آئے گی شی ڈونٹ لائک می۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسے تو وہ۔۔۔۔” وہ بولتے بولتے رکا۔

” وہ فوجی۔۔۔۔۔۔۔اسکا کزن۔۔۔۔۔وہ ہی اچھا ہے اس کیلئے۔۔۔کالم اینڈ کمپوز۔۔۔۔۔۔۔۔مجھ جیسا انسان وہ deserve نہیں کرتی ” رابعہ بیگم اس کی باتوں سے کچھ سمجھ نہیں پارہی تھیں۔

” لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آئی ہیٹ ہیم۔۔۔۔۔۔اسے بول دیں عنایہ صرف میری ہے ” اس نے اپنی ماں کو انگلی اٹھا کر ماتھے پر بل ڈالے کہا۔ وہ کبھی کچھ کہہ رہا تھا کبھی کچھ۔

” کیف تم سو جاؤ اب، صبح بات کریں گے “

” مجھے نیند نہیں آتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب سے وہ گئی ہے سو نہیں پایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مام کیا میں اتنا برا ہوں ؟ “

” نہیں میرا بیٹا تو سب سے اچھا ہے ” وہ مسکرا دیا۔

” نہیں میں اچھا نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔میں نے اس سے زبردستی نکاح کیا “

” کیف ؟ ” رابعہ بیگم تو شاک ہوئی تھیں۔ کیا کیا چل رہا تھا ان کے بیٹے کی زندگی میں جس سے وہ لاعلم تھیں۔

” سوری۔۔۔۔۔۔۔میں مجبور تھا۔۔۔۔۔۔وہ تو نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔جانتی ہیں میں نے کیسے منایا اسے ؟ ” رابعہ بیگم نے سر نا میں ہلایا۔

” دھمکی دی۔۔۔۔۔۔بلیک میل کیا۔۔۔۔میں نے کہا اگر نکاح نہیں کرو گی میں اپنی جان دے دوں گا ” رابعہ بیگم کو بے حد افسوس ہوا۔ لیکن کیف کے اس حال کی کہی نا کہی ذمہدار وہ خود تھیں۔

” میں نے گن نکالی اور اس کے ہاتھ میں تھما دی، اسے کہا میری جان لے لو۔۔۔۔۔۔وہ اتنا سہم گئی تھی ” کیف نے آنکھیں بند کرکے وہ منظر یاد کیا۔

” مام سوری میں نے یہ سب کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ ناراض نہیں ہونا مجھ سے پلیز “

” نہیں ہوں ناراض” کیف پرسکون ہوتا اپنی آنکھیں بند کرگیا۔ رابعہ بیگم نے جھک کر اسکا ماتھا چوما تھا۔ ان کے دماغ میں کیف کی کہی ساری باتیں بازگشت کررہی تھیں۔ بہت سارے سوالوں کے جواب انھیں چاہیے تھے جو صرف ایک انسان دے سکتا تھا اور وہ ہے عمر۔

********************

عنایہ دھلے ہوئے کپڑے چھت سے اتار کر لائی تھی اور انہیں صحن میں بچھی چار پائی پر رکھ کر اپنے اور آنٹی کے کپڑے الگ الگ کررہی تھی۔ دماغ مسلسل کسی سوچ میں مبتلا تھا۔ نادیہ آنٹی کچن سے اسے پکارتی باہر آئی تھیں۔

” عنایہ بیٹا ” انھوں نے اس کے کندھے پر ہاتھ کر اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ وہ ایک دم اپنی سوچوں کے تسلسل سے باہر آئی تھی۔

” جی آنٹی ؟ “

” میں کب سے تمھے آوازیں دے رہی ہوں “

” اوہ سوری میں نے سنا نہیں”

” کیا ہوا میرے بچے ؟ صبح سے دیکھ رہی ہوں تم بہت پریشان سی ہو اور کھوئی کھوئی نظر آرہی ہو ” انھوں نے اس کی ٹھوڑی پر ہاتھ رکھ کر پیار بھرے لہجے میں استفسار کیا۔

” آنٹی میں بہت پریشان ہوں، اتنے دن ہوگئے اور ماموں ابھی تک نہیں آئے جبکہ انھوں نے کہا تھا وہ آئیں گے میرے پاس اور کل رات میں نے بہت عجیب خواب دیکھا اور اب مجھے بار بار ماموں کا خیال آتا ہے” اس نے اپنی پریشانی کی وجہ بتائی۔

” کوئی بات نہیں پریشان نہیں ہو، میں پتا کرواتی ہوں” انھوں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔

” میرا فون تو خراب ہے ورنہ اپنے فون سے کال کرتی۔ تم ایسا کرو فیصل بھائی کا نمبر مجھے ایک کاغذ پر لکھ دو وہ جو کونے میں دکان ہے نا وہاں عادل اپنا ہی بچا ہے اسے کہوں گی تو کال کروا دے گا اور ساتھ اپنا فون بھی ٹھیک کروانے کیلئے دے دوں گی ” وہ اسے ہدایت دیتی ہوئیں اپنے کمرے سے چادر اٹھا لائیں۔ عنایہ نے بھی جلدی سے ایک کاغذ پر فیصل صاحب کا اور دوسرا گھر کا نمبر بھی لکھ دیا۔

” آنٹی یہ ماموں کے ساتھ میں نے گھر کا نمبر بھی لکھ دیا ہے اگر ماموں سے رابطہ نا ہوسکے تو آپ گھر کال کرکے پوچھ لیجیے گا ” اس نے پرچی تہہ کرکے انھیں پکڑائی تھی۔

” ٹھیک ہے تم دروازہ اندر سے بند کرلو ” وہ کہہ کر گیٹ عبور کرگئیں۔ عنایہ نے گیٹ بند کردیا اود خود اندر آکر چارپائی پر پڑے سارے کپڑے سمیٹنے لگی۔

**********************

کیف گہری نیند میں تھا جب رابعہ بیگم اس کے کمرے میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے آگے بڑھ کر پردے ہٹائے تو کیف کا پورا کمرہ سورج کی روشنی سے نہا گیا۔ وہ خود اسے اٹھانے آئی تھیں ورنہ منال تو تیار بیٹھی تھی لیکن رابعہ بیگم نے اسے بہانہ بنا کر منع کردیا تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ وہ کیف کو اس حال میں دیکھے اور خود کیلئے بھی وہ دل ہی دل میں ڈری ہوئی تھیں۔ رات کو تو وہ نشے میں تھا لیکن پتا نہیں آج وہ ان سے کیسے پیش آئے گا۔ وہ اس کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گئیں اور پیار سے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔

” کیف میری جان صبح ہوگئی ہے اٹھ جاؤ ” کیف کسما کر کروٹ بدل گیا۔ رابعہ بیگم نے مسکرا کر پھر سے اسے اٹھانے لگیں۔ کیف نے ہولے سے آنکھیں کھولیں تھی اور واپس سے کروٹ لی اور اپنی ماں کو دیکھا۔

**********************

واپسی پر وہ پورا راستہ روتے ہوئے آئی تھیں۔ بار بار اپنی چادر سے وہ اپنے آنسو پونچھ رہی تھیں لیکن آنسو تو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ وہ گھر واپس آئیں تو عنایہ نے دروازہ کھولا اور ان کو یوں دیکھ کر وہ پریشان ہوگئی۔

” آنٹی کیا ہوا آپ ٹھیک ہیں ؟ ” عنایہ نے پوچھا وہ کچھ نا بولیں۔ کیا کہتیں کیا بتاتیں کہ کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ عنایہ جلدی سے کچن میں گئی اور پانی کا گلاس ان کیلئے لائی۔ انھوں نے پانی پیا۔

” کیا ہوا آنٹی آپ رو کیوں رہی ہیں ؟ ” عنایہ نے ان کے پانی پیتے ہی پھر سے پوچھا۔

” میری بچی ” انھوں نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرا۔

” فیصل بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں رہے۔۔۔۔۔۔تمہارے سر سے باپ کا سایہ ایک بار پھر اٹھ گیا ہے ” وہ روتے ہوئے اسے بتا رہی تھیں۔ عنایہ بالکل شاک آنکھیں پھیلائے یک ٹک انھیں دیکھتی رہی۔ اس کے حواس سن ہونے لگے۔

” کیا کہا آپ نے ؟ “

” فیصل بھائی کا انتقال ہوگیا ہے “

” نہیں! یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ آنٹی ؟ ” عنایہ نے انھیں کندھوں سے تھاما تھا۔ اس نے غلط سنا تھا شاید۔

” میری بچی فیصل بھائی ہمیں چھوڑ گئے ہیں” انھوں نے ایک بار پھر سے دہرایا۔

” نہیں! ایسا نہیں ہوسکتا” وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔ اس کا دل یہ ماننے کو تیار نہیں تھا۔ وہ ان کے قریب سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

” ماموں۔۔۔۔۔۔۔ ” اس کے لبوں سے آہستہ سے نکلا تھا اور پھر وہیں ہوش وحواس سے بے گانہ ہو کر زمین پر گر گئی۔

*********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *