Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 35) Part - 1
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 35) Part - 1
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
یوں ایسے فون بند ہونے پر عنایہ کو عجیب لگا۔ اس نے کال بیک کی تو اب کیف کا فون آف جارہا تھا۔
” کون تھی یہ ؟ ” عنایہ نے سوچا۔ کتنی ہی دیر وہ یوں بیٹھی سوچتی رہی لیکن کچھ سمجھ نہیں آیا۔ اس نے دوبارہ کال بیک کی تو ابھی بھی اس کا فون آف تھا۔ عنایہ نے گھڑی کی طرف وقت دیکھا جو رات کا ایک بجا رہی تھی۔ اسے لگا کافی دیر ہوگئی ہے اب سونا چاہیے پھر اس نے فوج سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور خود سونے کیلئے لیٹ گئی۔ لیکن بار بار ذہن میں ایک ہی آواز گونج رہی تھی۔
” شاید میں نے یہ آواز پہلے بھی سنی ہے لیکن یاد نہیں آرہا کہاں” وہ آنکھیں کھولے سوچنے لگی۔
” افف میں کچھ زیادہ سوچ رہی ہوں ضرور کیف کی بہن ہی ہوگی ” جھنجھلا کر کہتی وہ آنکھیں بند کیے اب سونے کی کوشش کرنے لگی اور تھوڑی ہی دیر وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔
*********************
دوسری طرف کیف کو اپنا فون ملا تو اس نے فون اون کیا اور باہر نکل گیا۔ گارڈ کو ہدایت دیتا وہ گاڑی میں جا بیٹھا اور اپنا فون ساتھ والی سیٹ پر رکھ کر گاڑی سٹارٹ کی۔ گاڑی جیسے ہی گیٹ سے باہر نکلی اسے عنایہ کا خیال آیا۔ اسے آج کال نہیں کی اور وہ انتظار کررہی ہوگی۔ گھر پہنچ کر پہلا کام یہ ہی سوچ کر اس نے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی۔
********************
نتاشہ اپنے کمرے میں آئی اور اپنا بیگ بیڈ پر پھینکا اور خود بھی مسکراتی ہوئے وہیں بیٹھ گئی۔ وہ جو چاہتی تھی وہ اتنی آسانی سے ہو چکا تھا۔ اب کیف اگر عنایہ سے بات بھی کرلے یا اسے بتا بھی دے کچھ اسے فرق نہیں پڑتا تھا۔ کیونکہ عنایہ کے دل میں شک پیدا کرنے کیلئے اتنا ہی کافی تھا باقی تو وہ کیف کو بہت آرام سے غلط ثابت کردے گی۔ وہ پیچھے بیڈ پر گرنے والے انداز میں لیٹی اور ایک گہری سانس لی۔
” اب کیف صرف میرا ہوگا ” آنکھیں موندے اس نے لبوں پر مسکان سجائے خود سے کہا۔
********************
کیف واشروم سے فریش ہو کر نکلا اور اپنا فون اٹھا کر چیک کیا۔ نتاشہ پہلے ہی عنایہ کی کال لاگ کلیر کر چکی تھی۔ کیف نے وقت دیکھا تو رات کے دو بج رہے تھے۔ اسے اس وقت کال کرنا مناسب نہیں لگا۔ یقیناً وہ سو چکی ہوگی اور ویسے بھی کل ڈنر پر ملاقات ہونی ہی تھی۔ یہ ہی سوچ کر وہ بھی لائٹ آف کرکے سونے کیلئے لیٹ گیا۔
*********************
یونیورسٹی کی طرف سے فیئر ویل ڈنر اسلامآباد کے ایک بڑے خوبصورت مقامی ہوٹل میں منعقد تھا۔ عنایہ زینب کیساتھ ہی یہاں آئی تھی۔ عنایہ نے مہرون رنگ کا فراک پہنا ہوا تھا جس کے گلے اور گیرے پر نیلے اور سلور رنگ کی لیس لگی تھی۔ بال کرل کیے اور ہلکے میک اپ کیساتھ وہ بے حد پیاری لگ رہی تھی۔ جبکہ زینب بھی ہرے رنگ کا فراک پہنے ہوئے تھی۔ اس نے پارٹی میک اپ کیا ہوا تھا اور بالوں کو سٹریٹ کھلا چھوڑا ہوا تھا۔ عنایہ نے زینب کو سب بتا دیا تھا کہ ماموں کیف کیلئے مان گئے ہیں اور یہ کہ کل جب حیدر واپس آئے گا تو وہ ممانی اور حیدر سے خود بات کریں گے۔
” تم نے کیف کو بتا دیا ؟ ” زینب نے چہکتے ہوئے پوچھا۔ وہ بہت خوش نظر آرہی تھی کیونکہ عنایہ خوش تھی۔
” نہیں رات کو کال کی تھی لیکن بات ہی نہیں ہو پائی اور آج دن بھر وقت ہی نہیں ملا ابھی آئے گا تو بتاؤں گی ” اس نے جواب دیا۔
” ہائے۔۔۔۔۔ عنایہ شکر ہے یہ مسئلہ حل ہوگیا اب تمہاری بھی شادی ہوگی ” زینب نے مسکرا کر کہا تو عنایہ بھی مسکرا دی۔ سامنے سے آتی نتاشہ نے اچھے سے اسکی مسکراہٹ نوٹ کی تھی جو کہ اس کی نظر میں عنایہ کی آخری مسکراہٹ ہے۔
” ہائے گرلز ” نتاشہ بالکل ان کے پاس آکر کھڑی ہوچکی تھی۔ کالے رنگ کی نیٹ کی فل سلیوز میکسی میں بالوں کا جوڑا بنائے لبوں پر لال رنگ کی لپسٹک لگائے وہ اس شام کا حسین حصہ لگ رہی تھی۔ عنایہ نے تو منہ بنایا تھا اسے دیکھ کر۔ زینب بھی اسے گھور رہی تھی۔ دونوں میں سے کسی نے اسے منہ نا لگایا۔ انہیں لگا وہ خود ہی چلی جائے گی لیکن وہ وہیں ڈھیٹ بنی کھڑی رہی۔
” شادی کی تیاری کیسی چل رہی ہے زینب ؟ ” نتاشہ نے ہی بات کا آغاز کیا۔
” بہت اچھی ” زینب نے جبرا مسکرا کر کہا تھا۔
” یقیناً تم مجھے شادی پر انوایٹ نہیں کرو گی لیکن میں پھر بھی آؤں گی کیونکہ عمر کی اور میری دوستی کے بارے میں تم جانتی ہی ہو نا ” وہ آگ لگانے والے انداز میں بولی تو زینب نے اپنے دانت پسے تھے۔ نتاشہ نے اس کے تاثرات دیکھ کر اپنی مسکراہٹ دبائی تھی۔ دفعتاً زینب کو کال آنے لگی تو وہ ایکسکیوز کرتی وہاں سے جا چکی تھی۔ عنایہ نے بھی بہانہ بنا کر جانا چاہا لیکن نتاشہ اسے روک چکی تھی۔
” تم نے کل رات کال کی تھی ہماری بات نہیں ہو پائی” وہ عنایہ کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولی۔ اس کی بات پر عنایہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
” کیا تمہیں پتا نہیں چلا تھا ؟ ” وہ اس کے ناسمجھی کے تاثرات دیکھ مصنوعی خیرت دیکھا رہی تھی۔
” کل رات میں اور کیف ایک ساتھ تھے جب تم نے کال کی ” وہ عنایہ کے چہرے کو فوکس میں رکھے کہہ رہی تھی۔
” وہ اصل پلان تو ہمارا ڈنر کا تھا ساتھ لیکن پھر کب ہم اتنے نزدیک آئے اور پھر وہ نزدیکی قربت میں بدلی ” وہ معنی خیز سا کہہ کر چپ ہوگئی۔
” کیا بکواس کررہی ہو ؟ ” عنایہ دبا دبا سا غرائی تھی۔
” وہ ہی جو تم سن رہی ہو۔۔۔۔۔۔میں نے تو پہلے ہی کہا تھا تم سے کہ کیف کو عادت ہے تم جیسی لڑکیوں سے دل لگانے کی ورنہ حقیقت میں وہ صرف مجھے چاہتا ہے” عنایہ کا چہرہ سرخ انگارہ ہوچکا تھا۔
” جھوٹ بول رہی ہو تم ” عنایہ نے تیز آواز میں کہا۔
” ابھی بھی یقین نہیں ہے ؟ کل رات تم نے کیف کو کال کی تھی تو اسکا فون کس نے اٹھایا تھا ؟ میں نے۔۔۔۔۔۔۔” وہ پل بھر کو رکی اور پھر گویا ہوئی۔
” خود سوچو اتنی دیر گئے رات میں کیف کا فون سن رہی ہوں اسکا کیا مطلب ہوسکتا ہے ؟ ” عنایہ بے یقینی سے اسے تکے گئی۔ تو وہ آواز نتاشہ کی تھی تبھی اسے آواز جانی پہچانی لگ رہی تھی۔ نتاشہ نے عنایہ کے تاثرات سے بھانپ لیا تھا کہ کیف اور عنایہ کی رات بات نہیں ہوئی تب ہی وہ ایسے حیران تھی۔
” گڈ ” وہ زیر لب بڑبڑائی تھی۔ اسکا کام مزید آسان ہوگیا تھا۔
” تمہیں کیا لگتا تھا کیف تم سے محبت کرتا ہے ؟ ” وہ اس کے گرد ایک چکر کاٹ کر بالکل اس کے مقابل کھڑی ہوئی۔
” جانتی ہو کیف نے مجھ سے شرط لگائی تھی کہ تم بھی باقی لڑکیوں کی طرح اس کے آگے پیچھے نظر آؤ گی اور اس ہی شرط کو جتنے کیلئے اس نے تم سے یہ سارا محبت کا کھیل کھیلا ” عنایہ نے اس کی طرف دیکھا تھا۔ اسے اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
” تم چاہو تو کیف سے خود پوچھ سکتی ہو کہ اس نے شرط لگائی تھی یا نہیں ” عنایہ کا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا تھا۔
” اچھا میں چلتی ہوں انجوائے دا پارٹی ” نتاشہ کو جب لگا کہ عنایہ کو یقین آگیا ہے تو وہ اس نے وہاں سے جانا مناسب سمجھا۔ وہ جاچکی تھی لیکن عنایہ وہیں کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔
********************
” بھائی what a pleasant surprise ” یہ چہکتی ہوئی آواز نور کی تھی۔ حیدر تھوڑی دیر پہلے ہی گھر لوٹا تھا۔
” آپ نے بتایا کیوں نہیں آپ کل نہیں آج ہی آرہے ہیں ” وہ حیدر کیساتھ صوفے ہر بیٹھی استفسار کررہی تھی۔
” اگر بتا دیتا تو سرپرائز کیسے رہتا ” اس نے پانی پی کر گلاس واپس رکھتے ہوئے اسے جواب دیا۔ صائمہ بیگم اس سے مل کر اب کچن میں کھانے کا انتظام دیکھنے گئی ہوئی تھیں اور فیصل صاحب ابھی اپنے دفتر سے لوٹے نہیں تھے۔
” عنایہ نظر نہیں آرہی ؟ ” حیدر نے اس نا پا کر پوچھا تھا۔
” ارے آپی تو یونیورسٹی کے ڈنر پر گئی ہوئی ہیں “
” اچھا ؟ کب تک واپسی ہے ؟ “
” پتہ نہیں زینب آپی کیساتھ گئی ہیں جب وہ فری ہوں گی وہ ڈراپ کردیں گی ” حیدر کچھ سوچتے ہوئے اٹھا تھا۔
” اچھا میں اسے لے آتا ہوں جا کر “
” ہیں کیوں ابھی تو ڈنر شروع ہوا ہوگا ” وہ حیران ہوتے ہوئے اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی۔
” کوئی بات نہیں ہم ڈنر ساتھ کریں گے ” حیدر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا اور گاڑی کی چابی لے کر نکلا تھا جب نور بولی۔
” میں بھی چلتی ہوں “
” نہیں! مجھے عنایہ سے کچھ بات کرنی ہے اس کے بعد ہم آئیں گے تو تم ریڈی رہنا پھر باہر چلیں گے ڈنر پر اوکے ” وہ مسکرا کر کہہ رہا تھا۔ نور نے اپنے کندھے اچکا دیے۔
” ماما کو کیا کہنا ہے بھائی جو آپ کیلئے سپیشل کھانا بنانے گئی ہیں ” حیدر لاونج کا داخلی دروازہ عبور کررہا تھا جب نور نے پیچھے سے ہانک لگائی تھی۔
” تم انہیں بتا دینا کہ میں عنایہ کو لینے گیا ہوں پھر آکر انہیں خوشخبری دوں گا ” وہ کہہ کر جاچکا تھا لیکن نور کے تو کچھ پلے ہی نہیں پڑا۔
*********************
عنایہ ہوٹل سے باہر نکل رہی تھی جب عمر اسے اندر آتے ہوئے دکھا۔ عنایہ جلدی سے اس کے پاس گئی اور کیف کے بارے میں پوچھا۔
” وہ پارکنگ میں گاڑی پارک کرکے ادھر ہی آرہا ہے ” عمر نے بتاتا تو عنایہ تیزی سے اس کے پاس سے گزر کر پارکنگ کی طرف چلی گئی۔ عمر نے پلٹ کر حیرانی سے اسے دیکھا تھا۔
عنایہ پارکنگ کی جانب اپنے قدم بڑھا ہی رہی تھی جب کیف سامنے سے چلتا ہوا آرہا تھا۔ عنایہ کو یہاں دیکھ کر وہ مسکرایا تھا۔ عنایہ نے بھی اسی وقت نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔ نتاشہ کی کہی ساری باتیں اس کے کانوں میں بازگشت کرنے لگی تھیں۔ کیف اس کے قریب آکر رک چکا تھا۔
” مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔تم سے بات کرنی ہے ” عنایہ نے ہمت کرتے ہوئے کہا تھا۔
” یہیں بات کرنی ہے یا کہیں اور چلیں ” کیف بولا تو عنایہ نے گردن گھما کر دیکھا تھا یہ قدرے سنسان جگہ تھی۔ آس پاس کوئی نہیں تھا سوائے اندر سے آتی آوازوں کے۔ کیف تو اسے نرم نرم نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ آج اس کی جھپ ہی نرالی تھی۔
” ادھر ہی ٹھیک ہے ” عنایہ نے کہا۔
” ویسے میں سوچ رہا ہوں اس بورنگ ڈنر کو رہنے دیتے ہیں اور ہم کہیں اور چلتے ہیں ” کیف کا دل اسے دیکھتے ہی آج بغاوت کرنے پر تل گیا تھا۔ بے اختیاری میں اس نے اپنا چہرہ عنایہ کے چہرے کے قریب کرنا چاہا جو عنایہ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے روکا تھا۔
” کل رات تم کہاں تھے ؟ ” وہ پوچھ رہی تھی۔ کیف کیلئے یہ سوال غیر متوقع تھا۔ اسے لگا کل ان کی بات نہیں ہوئی شاید اسی وجہ سے وہ پوچھ رہی تھی۔
” سوری یار کل ذرا فارم ہاؤس پر میں اور عمر نتاشہ ڈنر کررہے تھے پھر وہاں ٹائم گزرنے کا پتا ہی نہیں لگا ” کیف نے گال کھجاتے ہوئے وضاحت دی۔
” تم دونوں اکیلے تھے کیا پوری رات ؟ ” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں استفسار کرنے لگی۔ کیف ٹھٹکا تھا۔
” نہیں! ہم تینوں ساتھ تھے پھر عمر کو ایک کام تھا وہ نکل گیا۔۔۔۔۔۔اس کے بعد میں اور نتاشہ وہاں تھوڑی دیر رکے تھے اور کافی پینے کے بعد نتاشہ بھی واپس چلی گئی تھی “
” وہ واپس نہیں گئی تھی۔۔۔۔۔عمر کے جانے کے بعد تم دونوں ایک دوسرے کے نزدیک آئے اور ” عنایہ سے کہا بھی نہیں گیا۔ کیف کی پیشانی پر شکن پڑے تھے۔
” کس نے بتایا تمہیں یہ ؟ ” کیف نے پوچھا۔
” کیوں تمہیں لگا تھا مجھے کبھی پتا نہیں چلے گا ؟ “
“عنایہ ہوا کیا ہے ؟ “
” کیوں کیا یہ کیف ؟ ” عنایہ نے اس کا گریبان اپنے ہاتھوں میں پکڑا تھا۔
” کیوں دیا مجھے دھوکہ کیسے کر سکتے ہو تم میرے ساتھ یہ سب ہاں ” اب کی بار اس کی آواز ذرا اونچی ہوئی۔ کیف نا سمجھی سے یہ دیکھ رہا تھا۔
” تمھے شرم نہیں آئی یہ سب کرتے ہوئے کیسے تم نتاشہ کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” عنایہ کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا۔ اور کیف اس کی بات کا مطلب سمجھ کر جتنا حیران ہوتا کم تھا۔ وہ اس پر کیا الزام لگا رہی تھی۔
” کیا بکواس کررہی ہو تم ہاں ؟ ” کیف نے اس کے ہاتھوں سے اپنا کالر چھوڑوایا تھا۔
” تم اس قدر گھٹیا نکلو گے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی” اس کی آنکھیں پانیوں سے بھر گئی تھیں۔ دل پھٹنے والا ہوگیا تھا۔ جبکہ اس کے منہ سے یہ الفاظ سن کر کیف کو طیش آیا تھا۔
*********************
