222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 45)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

وہ غصے سے بپھری اپنے کیبن میں واپس آچکی تھی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ کیف کا سر ہی پھاڑ دیتی۔ کیسے وہ اس کی اتنی محنت سے بنائی پریزینٹیشن کو ایک عام کالج سٹوڈنٹ کی اسائمنٹ کہہ رہا تھا۔ ابھی اسکا غصہ ٹھنڈا ہوا ہی نہیں تھا کہ ایک اور بم اس کے سر پر پھٹنے کو آگیا تھا۔ کیف کی سیکرٹری اس کے کیبن میں آئی اور وہ فائل جو وہ کیف کے کیبن میں چھوڑ آئی تھی وہ اس کے سامنے رکھی۔

“باس نے کہا ہے کہ کل صبح تک اس پر کام مکمل ہو جانا چاہیے “

” کیا کل تک ؟ ” وہ ایک دم چلا کر چیئر سے اٹھی تھی۔

” جی کل تک اور آپ کو ہمارے اسلامآباد والی کمپنی کے مارکیٹنگ ہیڈ کی بنائی ہوئی پریزینٹیشن بھی تھوڑی دیر میں مل جائے گی۔ باس نے کہا ہے آپ اسے دیکھیں اور سیکھیں کے کام کیسے ہوتا ہے۔” وہ کہہ کر وہاں سے جاچکی تھی۔ پیچھے عنایہ اسے اور اس کے باس دونوں کو صلواتیں سنانے لگی۔

*********************

وہ روبینا کے کیبن میں بیٹھی اسے ساری روداد سنا رہی تھی۔

” اوہ باس تو بہت سٹریکٹ ہیں ” روبینا نے اس کی بات سننے کے بعد تبصرہ کیا تھا۔

” یار کیسے کروں گی میں ؟ پہلے ہی ایک ویک کا کام میں نے تین دن میں مکمل کیا تھا اور اب ایک دن میں کیسے کروں گی ؟ ” عنایہ روہانسی ہوئی تھی۔

” مجھے تو اپنی فکر لگ گئی کہیں میرا کام بھی انھیں پسند نہ آیا تو ؟ ” روبینا کو تو اپنی پڑ گئی۔ عنایہ نے اس کی بات پر منہ بنایا تھا۔ اس پتہ تھا وہ صرف یہ سب اس کے ساتھ کررہا ہے۔ باقی سٹاف کیساتھ تو وہ کبھی یہ سب نا کرے۔

” کہاں پھنس گئی۔۔۔۔۔ ” اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گرا کر وہ بڑبڑائی تھی۔

**********************

شام کو آفس ٹائمنگ ختم ہونے کے بعد عنایہ آفس کی بلڈنگ کے باہر کھڑی اپنی رائیڈ(کریم کار سروس)کا انتظار کررہی تھی۔ جب وہ شاہانہ چال چلتا ہوا باہر نکلا اور اس کے قریب سے گزر کر جانے لگا تو عنایہ کی نظر اس پر پڑی۔ صبح کی ڈانٹ بھولائے وہ پھر سے اسے بیچ راستے میں روک چکی تھی۔ لیکن اس کے پاس واحد ایک ہی حل تھا ایک دفعہ اس سے بات کرکے دیکھ لے۔

” سر ! یہ پریزنٹیشن ایک دن میں تیار نہیں ہوگی پلیز آپ مجھے دو دن کا ہی وقت دے دیں ” وہ التجاء کرنے لگی۔ کیف نے سر تا پیر اسے گھورا تھا۔

” رات کس لیے ہوتی ہے مس ؟ آپ کے پاس پورے بیس گھنٹے ہیں۔ کل صبح تک پریزنٹیشن مکمل ہو جانی چاہیے۔ کلائنٹ مزید انتظار نہیں کرسکتا ” وہ کہہ کر مڑ گیا۔

” لیکن سر ” وہ پیچھے سے پھر پکار بیٹھی لیکن کیف سنی ان سنی کرتا جا چکا تھا۔ عنایہ گال پھولائے غصے سے اس کی پشت کو گھورتی رہ گئی۔

***********************

عمر کیف کی باتیں سن کر مسلسل ہنستا چلا جارہا تھا۔

” بھئی خیال رکھیں یہ نا ہو تجھے لینے کے دینے پڑ جائیں جانتا ہے نا وہ عنایہ ہے۔ وہ ہی عنایہ جو یونیورسٹی میں بھی تجھے تگنی کا ناچ نچاتی رہی ہے اور تیرے تو پسینے چھوٹ جاتے تھے ” عمر نے جان بوجھ کر تیلی لگائی تھی۔

” ایکسکیوز می!!! میرے پسینے چھوٹ جاتے تھے؟ ” کیف تو اس کی اس بات پر آئی برو اچکائے خیرت سے پوچھ رہا تھا۔ دونوں اس وقت آئی پیڈ پر ویڈیو کال پر بات کررہے تھے۔

” تو اور نہیں کیا ؟ یاد نہیں کیسے چڑتا تھا تو کہ وہ کیف دی گریٹ کو آگے سے جواب دیتی کیوں ہے ” عمر نے اپنی مسکراہٹ ضبط کی۔

” ہا ہا ویری فنی ” کیف نے ناک سے مکھی اڑائی تھی۔

” پھر بھی کیف دھیان رکھنا مجھے لگتا ہے وہ یہ جاب چھوڑ نا دے یا پھر سے کہیں چلی نا جائے ” عمر اب سنجیدگی سے اپنا خدشہ ظاہر کررہا تھا۔

” نہیں جائے گی “

” تو اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتا ہے ؟ ” عمر سوالیہ نظروں سے پوچھنے لگا۔

” کیونکہ میں اسے جانتا ہوں اگر اسے جانا ہی ہوتا تو وہ آج آفس آتی ہی نہیں نا ہی اس پریزنٹیشن کو دوبارہ بنانے پر اتنا ہلکان ہوتی اور اگر ایسا کچھ کرنے کی کوشش بھی کرے گی تو میں نے سب پلان کیا ہوا ہے، اتنی آسانی سے تو اسے خود سے اب کی بار دور جانے نہیں دوں گا ” کیف بے حد سکون سے بولا تھا۔

*********************

یہ منظر عنایہ کے فلیٹ کا تھا۔ لاونج میں صوفوں کے درمیان رکھے سینٹر ٹیبل پر فائلز اور کتنے ہی صفحے ٹیبل پر اور نیچے فرش پر بکھرے پڑے تھے۔ وہ ایک صوفے پر گود میں لیپ ٹاپ رکھے مسلسل ٹائپنگ کر رہی تھی۔ بالوں کا جوڑا باندھے اپنے گرد شال لپیٹے ہوئے تھی۔ کیونکہ جنوری کے شروع کے دن چل رہے تھے تو سردی اپنے عروج پر تھی۔ ذرا کو تھکان محسوس ہوئی تو اس نے اپنا سر پیچھے گرا دیا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا سب چھوڑے اور جا کر پرسکون نیند لے۔ بھاڑ میں جائے یہ کام اور بھاڑ میں جائے کیف لیکن وہ مجبور تھی۔ لیکن پھر خیال آیا زیادہ سے زیادہ کیا کرے گا اگر میں نا کروں تو ؟ نوکری سے نکال دے گا تو نکال دے۔ لیکن نہیں یہ اس نے اس کی تذلیل کی تھی۔ وہ یہ پریزنٹیشن دوبارہ تیار کرے گی اور بہترین کرے گی۔

” پھر اس کے منہ پر ماروں گی ” آخری بات وہ بڑبڑائی تھی۔ اور خود کو تازہ دم رکھنے کیلئے وہ کافی بنانے کی غرض سے اٹھ گئی۔

**********************

گھڑی تین کا ہندسہ عبور کر چکی تھی اور وہ انگڑائیاں لیتی ابھی تک اپنے کام میں لگی تھی۔ اب تک خود کو فریش رکھنے کیلئے وہ تین کپ کافی پی چکی تھی۔ اب تو اس کی آنکھیں بھی بند ہونے کو تھی۔ لیپٹاپ پر نظریں جمائے وہ بند کھلی آنکھوں سے ٹائپ کررہی تھی لیکن پھر وہ ایک دم اپنا سر کیپیڈ پر گرا گئی۔ لیکن فوراً ہی وہ اٹھی تھی اور آس پاس دیکھتی آنکھوں کو پورا کھولنے کی کوشش کرنے لگی۔ ٹیبل پر رکھے پانی کے گلاس کو جلدی سے اٹھا کر وہ گٹاگٹ پی گئی۔ شاید اس سے اسے ہوش رہتا۔ گہری سانس بھرتی وہ اب دوبارہ سے لیپٹاپ پر شروع ہوچکی تھی لیکن اب کی بار ساتھ ساتھ کیف کو کوستی جارہی تھی۔

دوسری طرف کیف کے کمرے میں جھانکے تو وہ اوندھے منہ بیڈ پر لیٹا تھا۔ آنکھیں بند تھیں لیکن لب مسکرا رہے تھے۔ اس کی نیند اڑا کر آج وہ خود مزے سے سو رہا تھا بالکل ویسے جیسے اس رات وہ نہیں سو پایا تھا جب اسے عنایہ کے گھر سے جانے کا پتا چلا تھا۔

***********************

حورین ریسٹورنٹ میں بیٹھی حیدر کا انتظار کررہی تھی۔ جب وہ اسے ریسٹورنٹ کے اندر آتے نظر آیا۔ اپنی آنکھوں سے سن گلاسز اتار کر وہ نظریں گھما کر اس بلا کو تلاش کررہا تھا جس نے اسے ارجنٹ کال کرکے یہاں بلایا تھا۔ کارنر ٹیبل پر وہ اسے نظر آئی تو حیدر جلدی سے جا کر اس کے سامنے والی نشست سنبھال چکا تھا۔ وہ کچھ کہتی اس سے پہلے ہی حیدر بول پڑا۔

” میرا نمبر کہاں سے لیا تم نے ؟ ” اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر حورین کو ہنسی آئی جو اس نے فوراً ہی ضبط کی لیکن حیدر دیکھ چکا تھا اس لیے اس نے اسے گھورا تھا۔

” وہ آپ کے بندوں نے ہی تو دیا تھا ” وہ بامشکل اپنی مسکان روک کر بولی تھی۔

” میں نے تمھے ان سے میرے آفس کا نمبر لینے کو کہا تھا ” حیدر دانت پیستے ہوئے بولا۔

” ہااااا کیسی باتیں کررہے ہیں ؟ ایسے کیسے آفس کا نمبر لیتی اب دیکھیں نا آپ کے پرسنل نمبر پر کال کی تو کیسے آپ فوراً سے آگئے ؟ “

” فضول کی بات چھوڑو اور کام کی بات کرو “

” ہاں یہ ہی کام کی بات کریں نمبر کہاں سے لیا کہاں سے نہیں اسے دفعہ کریں ” اس کی فضول بات پر حیدر نے غصے سے اسے گھورا تھا۔

” جی جی بتا رہی ہوں ” اس کی تاثرات دیکھ کر وہ فوراً سے بول اٹھی۔

” اس کی کال آئی تھی مجھ سے معافی مانگ رہی تھی کہ وہ اس رات ڈر کر وہاں سے بھاگ گئی مجھے چھوڑ کر اور پوچھ رہی تھی کہ میں نے آپ لوگوں کو کیا انفارمیشن دی ہے میں نے جھٹ سے انکار کردیا کہ میں نے کچھ نہیں بتایا تو اس نے مجھے داد دی “

” آئی نیو اٹ وہ لڑکی بھی اس میں شامل تھی پھر کیا ہوا ؟” حیدر نے اپنا اندازہ صحیح ثابت ہونے پر کہا۔

” پھر کیا ہونا تھا اس نے مجھے کہا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتی ہے لیکن یونیورسٹی سے کہیں باہر وہ تو کوئی اپنی جگہ بتا رہی تھی کہ وہاں آؤ لیکن میں اتنی بدھو تھوڑی ہوں کہ اس کی بتائی ہوئی جگہ پر مان جاتی میں نے اسے کہا میں یہاں ملوں گی ” وہ گردن اکڑا کر فخر سے کہہ رہی تھی۔ حیدر نے بھونیں اچکا کر اسے دیکھا انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہا ہو لائک سیریسلی۔ حیدر نے خود اسے اس لڑکی کے غلط ارادے سے آگاہ کیا تھا اور اب یہ خود کو سمارٹ سمجھ رہی ہے۔ اگر اتنی عقلمند ہوتی تو کبھی بھی کسی انجان لڑکی کیساتھ رات کے وقت کہیں نہیں جاتی۔

” میں نے تم سے کہا تھا نا وہ لڑکی اس رات تمھے کسی غلط مقصد کیلئے اپنے ساتھ لے گئی تھی اب دیکھ لو “

” اب کیا کریں گے ؟ ” وہ آنکھیں پٹپٹا کر پوچھنے لگی۔

” پہلے یہ بتاؤ وہ تم سے یہاں ملنے کیلئے راضی کیسے ہوئی؟ “

” میں نے کہا یہ جگہ میرے گھر کے پاس ہے اور میں زیادہ دور نہیں جاسکتی۔۔۔۔۔وہ مان گئی ” حورین نے شانے اچکا کر کہا۔

” گڈ ! اب سنو جیسے ہی وہ آئے گی تم اسے کہنا میں کب سے انتظار کررہی تھی تمہارا اور پھر واشروم کا بہانہ کرکے چلی جانا اوکے ؟ میرے آدمی یہیں ہیں وہ اس کا چہرہ دیکھ لیں اس کے بعد ہم دیکھ لیں گے ” وہ کہہ کر جلدی سے اٹھا لیکن پھر نظر بھر کر اس کی جانب دیکھا۔ وہ آج بھی جینز ٹاپ کے اوپر مردانہ جیکٹ پہنے ہوئی تھی جو کہ اسے عجیب لگ رہا تھا۔ کیونکہ اس نے کہاں آج تک کسی لڑکی کو یوں پبلک پلیس پر ایسے دیکھا تھا۔

” یہ تم کیا بن کر گھومتی رہتی ہو ؟ ” بے ساختہ اس نے پوچھ لیا۔

” کیوں ؟ “

” مطلب یہ جیکٹ تھوڑی بڑی نہیں تمہارے سائز سے ؟ ” اس وقت کوئی حیدر کا جاننے والا آس پاس ہوتا تو ضرور غش کھا جاتا کہ حیدر اور یوں کسی لڑکی سے بات کررہا ہے۔

” میرے بھائی کی ہے ” حورین منہ بنا کر بولی۔ اسکا اس کی ہائٹ کو لے کر ٹانٹ اسے اچھا نہیں لگا تھا۔ وہ ایسا سوچ رہی تھی جبکہ حیدر نارمل انداز میں کہہ رہا تھا۔

” اف آئی ایم ناٹ رانگ تم نے تو بتایا تھا تمہاری فیملی میں صرف تم تمہارے بابا اور امی ہیں۔ اب یہ بھائی کہاں سے آگیا ؟ ” حیدر مشکوک انداز میں استفسار کرنے لگا۔

” میرے بھائی نہیں ہیں اب ” وہ ایک دم اداس ہوگئی۔ اپنے بھائی کے ذکر پر اکثر وہ ایسے ہو جایا کرتی تھی۔

” کیا ہوا انھیں ؟ “

” دشمنوں نے مار دیا۔ آرمی میں تھے وہ۔ ایک مشن کے دوران وہ شہید ہوگئے” وہ سر جھکائے بول رہی تھی شاید خود کو رونے سے روکنے کیلئے۔ حیدر کو اس چھوٹی سی لڑکی سے ہمدردی ہوئی۔

” مجھے وہ بہت یاد آتے ہیں اس لیے میں ان کی جیکٹ پہتی ہوں کیونکہ مجھے اس سے ان کی خوشبو آتی ہے اور ان کا اپنے ساتھ ہونے کا احساس ہوتا ہے ” حیدر نے ٹشو کا ڈبہ اٹھا کر اس کے سامنے رکھا۔ حورین نے جلدی سے دو تین ٹشو نکال کر بھر آئی ہوئی آنکھوں کو صاف کیا اور خود کو کمپوز کیا۔

” کیا نام تھا ان کا ؟ “

” کیپٹن اشعر امتیاز ” وہ اب خود کو سنبھال چکی تھی۔

” اوہ !! میں جانتا ہوں انھیں ایک دو بار ملاقات بھی ہوئی تھی ” حیدر کو یاد آیا کہ وہ کتنا بہادر جنگجو تھا۔

” سچ ؟ آپ بھائی سے ملیں ہیں ؟ ” وہ ایک دم بچوں کی طرح خوش ہوئی تھی۔ حیدر نے سر ہلانے میں اکتفا کیا تھا۔

” مجھے لگتا ہے کافی ٹائم ہوگیا ہے وہ آتی ہی ہوگی ” وہ دوبارہ سے اٹھ چکا تھا۔

” تم ٹھیک ہو ؟ ” حیدر نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ حورین نے سر کو جنبش دی۔

” میں یہیں ہوں تم ڈرنا مت اوکے جیسا کہا ہے ویسا کرنا تم اسے کہہ کر واشروم جانے کی بجائے وہاں بیک سائیڈ پر کچن کے پاس آجانا میں وہیں تم سے ملوں گا ” وہ اسے تاکید کرتا ہوا جا چکا تھا۔

**********************

صبح آفس آتے ہی وہ ساری پریزنٹیشن کے پرنٹ آوٹ نکال چکی تھی۔ آخری بار ساری پریزنٹیشن پر نظر ڈال کر اب وہ پرسکون تھی اور خوش بھی کہ رات بھر جاگ کر اس کی اتنی محنت سے بنائی گئی پریزنٹیشن کافی اچھی بن گئی تھی اب بس انتظار تھا تو اس بدتمیز کا جو ابھی تک آیا ہی نہیں تھا۔ اسکا انتظار کرتے کرتے اس کی آنکھ لگ گئی اور وہ اپنے کیبن میں ہی ٹیبل پر دونوں بازوؤں پر سر رکھ کر سو گئی تھی۔ ابھی اسے سوئے پندرہ منٹ بھی نا ہوئے تھے جب اسکے کیبن میں رکھا فون بجنے لگا۔ عنایہ نے نیند سی بھری آنکھوں سے فون اٹھایا تو دوسری طرف کیف تھا۔

” آپ کی نیند پوری ہوگئی ہو تو فائل لے کر میرے کیبن میں آنے کی زحمت کردیں۔ ” اس کی آواز سن کر اس کی نیند فوراً اڑی تھی۔ اپنی بات کہہ کر وہ فون بند کر چکا تھا۔ وہ آفس آگیا تھا اور یقیناً اس کے کیبن کے سامنے سے گزرتے ہوئے اسے سوتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔ عنایہ جلدی سے اٹھی تھی فاشروم سے فریش ہوکر وہ فائل لیے کیف کی کیبن کی جانب بڑھ گئی۔

***********************

کیف سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا جب وہ اندر آئی۔ اپنے ہاتھ میں تھامی ایک فائل اس نے کیف کے سامنے رکھی۔

” یہ آپ کی کمپنی کے ان ہیڈ کی فائل جس سے آپ نے مجھے مدد لینے کیلئے کہا تھا۔ اور واقعی میں ان کی پریزنٹیشن بہت شاندار تھی لیکن۔۔۔۔۔۔”وہ ذرا توقف بھر کو رکی۔ کیف بے حد اطمینان سے اس کی بات سن رہا تھا۔

“وہ میرے سے بہت زیادہ experienced ہیں۔ آپ کی سیکرٹری کے مطابق وہ آپ کے بابا کے ٹائم سے اس پوسٹ پر ہیں اور آپ چاہتے تھے کہ میں۔۔۔۔۔۔۔جسے ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا اس پوسٹ پر وہ ان جیسا کام کرے ” وہ استہزایہ انداز میں کہہ رہی تھی۔

” یہ رہی میری پریزینٹیشن ” اب اس نے دوسری فائل اس کے سامنے رکھی تھی۔

” آپ چاہتے تھے میں ان جیسا کام کروں تو یہ لیں ” وہ گردن اکڑا کر بولی۔ کیونکہ عنایہ کی نظر میں اس نے درحقیقت میں ایسا کام کیا تھا جو کوئی بھی نہیں کرسکتا تھا۔ لیکن بات تو ساری یہ تھی کہ مقابل کو اسکا کام کیسا لگتا ہے اور وہ تو ٹھہرا عنایہ کا دشمن۔ کیف نے اس کی بنائی فائل اٹھائی اور اسے کھول کر دیکھنے لگا۔ وہ صفحے پلٹ رہا تھا اور عنایہ فخریہ مسکا رہی تھی۔

” ہممممم ناٹ بیڈ بٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی بھی بہت کمی ہے ” کیف نے فائل بند کرکے اس کے سامنے پھینکے والے انداز میں رکھی۔ عنایہ کے مسکاتے لب سکڑے۔

” یو آر رائٹ آپ جیسی جسے اس کام کا بلکل بھی experience نہیں ہے وہ یہ کیسے کرے گی ؟ غلطی میری تھی جو میں نے آپ کو یہ کام دوبارہ سونپا۔۔۔۔۔۔۔۔چچ چچ۔۔۔۔۔۔۔کوشش کے باوجود بھی آپ نہیں کر پائیں اور یہ پریزنٹیشن کلائنٹ کو دیکھانے کے بالکل قابل نہیں ہے ” عنایہ منہ کھولے اپنی بے عزتی سن رہی تھی۔ مطلب اتنی محنت سے رات بھر جاگ کر اس نے کام کیا اور یہ آدمی ابھی بھی مطمئن نہیں تھا۔ اسے ایک دم غصہ عود آیا۔ اس نے تیکھی نظروں سے کیف کو گھورا تھا۔ پھر اپنے سامنے رکھی فائل کو اٹھایا اور صحفے پھاڑنا شروع کردیے۔

” اچھا تو یہ بکواس ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔۔اس کا یہ ہی حال کروں گی ” سارے صفحے وہ غصے میں پھاڑتی چلی گئی۔ کیف پرسکون بیٹھا اسے دیکھتا رہا۔

” تم خود کو سمجھتے کیا ہو ہاں ؟ یہ ڈرامہ جو تم کررہے ہو سب سمجھ رہی ہوں میں ” فائل ہوا میں اچھالتی وہ اس کے ٹیبل پر ہاتھ مار کر غصے سے غرائی تھی۔

” اچھی ایکٹنگ کرتے ہو ویسے جیسے مجھے پہچانا نہیں اور یہ سب کرکے تم مجھ سے بدلے لے رہے ہو اور مجھے جیسے پتا ہی نہیں چلے گا ہونہہ ” وہ اب کی بار سینے پر ہاتھ باندھ کر طنزیہ ہوئی۔ کیف تھوڑی کے نیچے ہاتھ ٹکائے مزے سے سن رہا تھا۔

” تمہارا کھیل ختم کیف مرتضیٰ۔۔۔۔۔دی اینڈ۔۔۔۔ کیونکہ مجھ سے بہتر تمھے کوئی نہیں جانتا اور تم کیا سمجھتے ہو ؟ میں چپ چاپ تمہارے یہ ستم سہتی رہوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔تو تم غلط ہو۔۔۔بھاڑ میں گئی یہ پریزنٹیشن بھاڑ میں جاؤ تم اور بھاڑ میں گئی یہ نوکری۔ آئی ریزائن۔۔۔۔۔”

غصے میں چلانے سے اسکا چہرہ سرخ اور گردن کی رگیں پھول گئی تھیں۔

” صبح آپ کا ریزگنیشن لیٹر میرے ٹیبل پر موجود ہونا چاہیے ناؤ گیٹ آوٹ ” عنایہ کا تو منہ ہی کھل گیا۔ اسے اس ریایکشن کی توقع نہیں تھی۔ مطلب اسے کوئی فرق ہی نہیں پڑا تھا۔ وہ خود تو غصے میں نوکری چھوڑنے کا کہہ چکی تھی بے شک اسکا ارادہ نہیں تھا لیکن اسے یہ کہاں معلوم تھا وہ بھی اسے نکال دے گا۔ اس نے کیف کی جانب دیکھا جو اپنے فون میں مصروف ہوچکا تھا۔ وہ منہ بنا کر وہاں سے نکل آئی۔

**********************

حورین نائٹ سوٹ میں ملبوس اپنے بیڈ پر نیم دراز تھی۔ اس کی سوچوں کا رخ آج ریسٹورنٹ میں ہوئے واقع کی طرف تھا۔ سب پلان کے مطابق ہوا تھا۔ حورین کے جانے کے بعد وہ لڑکی حورین کی اتنی دیر واپس نا آنے تک اسے ڈھونڈنے کی غرض سے واشروم میں گئی تھی اور اسے وہاں نا پا کر وہ غصے میں ریسٹورنٹ سے چلی گئی تھی۔ اس کے بعد اس کیساتھ کیا ہوا تھا یہ تو نہیں پتا تھا لیکن حیدر اسے خود گھر ڈراپ کرنے آیا تھا۔ اور پورے راستے حورین چور نظروں سے اسے دیکھتی رہی تھی۔ وہ اسے کافی خاموش طبعیت اور الگ لگا تھا۔ اس نے گھر چھوڑ کر اسے ڈھیروں نصیحتیں کیں تھیں کہ آئندہ گھر سے اکیلے نہیں نکلنا کسی انجان سے دوستی نا کرنا وغیرہ۔ اسکا اتنا خیال کرنا اسے ناجانے کیوں اتنا اچھا لگا تھا۔ اس کے لبوں پر شرمگیں مسکان آن ٹھہری تھی اور حیدر کے بارے میں سوچتے سوچتے وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔

**********************

کیف اپنے محصوص انداز میں سٹی بجاتا لاونج میں داخل ہوا۔ وہ ابھی ابھی آفس سے گھر لوٹا تھا۔

” واہ واہ کوئی بہت خوش نظر آرہا ہے ” کچن میں جاتی منال نے اسے اندر آتے دیکھ تبصرہ کیا تو کیف نے اپنے بازو پر ڈالا کوٹ اس کے سر پر اچھال دیا۔

” بھائی!!!!! ” منال نے کوٹ منہ سے ہٹایا تو کیف کی حرکت پر احتجاج کیا۔ کیف مسکراتا ہوا صوفے پر جا بیٹھا۔ اپنے کف لینکس کھولتا وہ آستین موڑ کر صوفے کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔ منال نے ناراضگی سے اپنے بھائی کی طرف دیکھا پھر اسکا کوٹ لے کر وہیں سامنے والے صوفے پر جا بیٹھی۔ رابعہ بیگم بھی کچن سے نکل کر آئیں اور اپنے لخت جگر کو دیکھ کر مسکرا اٹھیں۔ نگینہ(ملازمہ) کو کیف کیلئے پانی کا کہہ کر وہ اس کے پاس جا کر بیٹھ گئیں۔

” اتنی لیٹ ہوگئے آج ؟ ” رابعہ نے پوچھا۔

” آپ کو پتا تو ہے نئی کمپنی کو زیادہ ٹائم دینا پڑتا ہے ” ملازمہ سے پانی کا گلاس تھام کر کیف نے جواب دیا اور پھر گلاس لبوں سے لگایا۔

” افف تم اور تمہارا بزنس ” وہ خفگی سے بولیں۔

” آپ بتائیں پیکنگ کمپلیٹ ہوگئی اور ڈیڈ نظر نہیں آرہے ؟ ” کیف نے پانی پی کر پوچھا۔

” سب ہوگیا ہے لیکن تمہارے ڈیڈ کو دیکھو اپنے دوست سے ملنے چلے گئے جبکہ پتا بھی ہے کہ ایئرپورٹ کیلئے گھر سے دو گھنٹے پہلے نکلنا پڑتا ہے “

” آتے ہی ہوں گے “

” پہلے تم بتاؤ ذرا۔۔۔۔۔ساتھ کیوں نہیں چلتے ہمارے ؟ فیملی ہالیڈے پر جارہے ہیں لیکن تم ساتھ نہیں ہوگے تو کیسی ہالیڈے ؟ ” وہ اداسی سے گویا ہوئیں۔

” میں چلا گیا تو یہ سب کون دیکھے گا ؟ اور ویسے بھی آپ اپنی بہن کے گھر جارہی ہیں کسی ہالیڈے پر نہیں “

” ہاں میں بھی یہ کہہ رہی تھی کہ موم یہ کیسی ہالیڈے ہوئی لوگ ہالیڈے پر دبئی جاتے ہیں مالدیپ جاتے ہیں اور ہم اپنی خالہ کے گھر جارہے ہیں ” فون میں مصروف منال فوراً منہ بنا کر بولی تھی۔ کیف نے قہقہ لگایا تھا۔ رابعہ بیگم بھی ہنس دیں۔

***********************

عنایہ اپنا ریزگنیشن لیٹر لیے اس کے کیبن میں داخل ہوئی تو کیف وہیں اپنی سیکرٹری سے آج کی میٹنگ کے بارے میں ڈسکس کر رہا تھا۔ اسے آتا دیکھ دونوں ہی خاموش ہوگئے۔ عنایہ نے اپنا ریزگنیشن لیٹر اس کے سامنے رکھا۔ کیف نے لیٹر کی جانب دیکھا تک نہیں تھا وہ بس اس پر ہی نظریں ٹکا کر بیٹھا تھا۔ وہ ہاتھ باندھ کر کھڑی تھی جب وہ گویا ہوا۔

” سو مسز عنایہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” ان دو دنوں میں پہلی بار اس نے نام لیا تو عنایہ نے فوراً ٹوک دیا۔

” مس۔۔۔۔۔۔عنایہ ” اس نے دانت پیستے ہوئے تصنیح کی۔ کیف کے لب اوہ میں سکڑے۔

” یہ کچھ رولز ہیں جن کو فالو کرنا لازمی ہے اور یہ آپ کے کنٹریکٹ پر بھی لکھے ہیں جہاں آپ کے سائن بھی ہیں جن کے مطابق آپ کی آٹھ ماہ پہلے پرموشن ہوئی تھی جس سے آپ کی سیلری بھی بڑھی تھی لیکن اس کنٹریکٹ کے مطابق آپ جاب سے ریزائن کرنے سے تین ماہ پہلے کمپنی کو آگاہ کریں گی اور ان تین ماہ کے دوران آپ کام کرتی رہیں گی تاکہ اس دوران کمپنی آپ کا متبادل کا بندوست کرسکے اور پھر تین ماہ پورے ہوتے ہی آپ جاسکتی ہیں” کیف رسانیت سے بولا۔ جبکہ عنایہ اس نئی بات پر اسے گھورے جا رہی تھی۔ کیف نے اپنی سیکرٹری کو مخاطب کیا اور اسے اس پوسٹ کیلئے اشتہار دینے کو کہا تو وہ سر ہلاتی کیبن سے نکل گئی۔ اس نے دونوں پیروں کی قینچی بنا کر میز پر رکھی اور نظریں دوبارہ سے عنایہ پر جمائیں۔

” سو سویٹ ہارٹ تم یہاں سے کہیں نہیں جا سکتی اور اگر جانے کی کوشش کرو گی تو تمہارا بینک اکاؤنٹ فریز کردیا جائے گا اور ہاں اس ماہ کی سیلری بھی نہیں ملے گی جو کہ میرے ساتھ کل کی بدتمیزی کی سزا ہے ” اس کی بات سن کر عنایہ ہکا بکا رہ گئی۔

” کل تم نے کہا تھا کہ تم سے بہتر مجھے کوئی نہیں جانتا تو بالکل صحیح کہا تھا مجھے تم سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا ” کیف کے چہرے پر دھیمی مسکان تھی۔

” تم میرے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہو؟ ” عنایہ کو تو جیسے صدمہ ہوا تھا۔

” بالکل کرسکتا ہوں کیونکہ میں اس کمپنی کا اونر ہوں” کیف نے شانے جھٹک کر جواب دیا۔

” سو ریزائن تو تمہارا کینسل ہوگیا اس لیے اب سے تم وہی کرو گی جو میں کہوں گا، جیسا کہوں گا کرو گی انکار کی کوئی گنجائش نہیں سویٹ ہارٹ اور ویسے بھی اتنی آسانی سے کیسے تمھے جانے دے سکتا ہوں ؟ تم سے تو اور بھی بہت حساب نکلتے ہیں”۔ وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ عنایہ ایک پل کو گھبرائی تھی۔

” تم۔۔۔۔۔۔ایسے کیسے۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔” وہ بے ربط جملوں سے بولنے کی کوشش ہی کررہی تھی لیکن کیف کو اپنی جگہ سے اٹھتے دیکھ اس کو چپ لگی۔ وہ چلتا ہوا اس کے قریب آنے لگا۔ وہ اس کے بالکل قریب آچکا تھا عنایہ دو قدم پیچھے ہوئی تو کیف نے ہاتھ بڑھا کر اپنے قریب کھینچ لیا۔ وہ بالکل قریب تھی لیکن بیچ میں ابھی بھی فاصلہ تھا۔ عنایہ سہمی نظروں سے کیف کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔

” مسز عنایہ کیف ” کیف نے جھک کر اس کے کان کے قریب گھمبیر لہجے میں سرگوشی کی۔ عنایہ کے گلے میں گلٹی ڈوب کر ابھری تھی۔ وہ اسے باور کروانا چاہتا تھا کہ اس کا ریلیشن شپ سٹیٹس کیا ہے۔ کیف کی نظریں اس کے چہرے کا طواف کررہی تھیں اور ہاتھ اس کی کمر پر حرکت کررہا تھا۔ اور اس نے رہا سہا فاصلہ ختم کیا اور اسے مزید اپنے قریب تر کرلیا تھا۔

” تم بدتمیزی کررہے ہو ” وہ کڑھتے ہوئے بولی تھی۔ عنایہ کا چہرہ اس کے اتنے قریب ہونے پر دہکنے لگا تھا۔

” بدتمیزی تو میں نے ابھی شروع بھی نہیں کی ” اس کے لبوں کو فوکس کیے کیف شوخ مسکان لبوں پر سجائے بولا تھا۔ جبکہ اس کی نظریں اپنے لبوں پر مرکوز پا کر وہ اسکے حصار میں مچلی اور خود کو چھوڑوانے کی تگ و دو کرنے لگی لیکن ناکام ٹھہری۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید آگے بڑھتا عنایہ نے گھبرا کر آنکھیں میچ لیں۔ اس کی اس ادا پر وہ مسکرا اٹھا۔ وہ دن یاد آیا جب وہ پہلی بار یونیورسٹی میں ایسے اس کے قریب ہوا تھا تب بھی وہ اپنی آنکھیں میچ گئی تھی۔

**********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *